12th-May-2026

خبرنامہ نمبر3965/2026
کوئٹہ، 12 مئی ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشنل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی بورڈ کا 10واں اجلاس یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں مشیر برائے محنت و افرادی قوت سردار غلام رسول عمرانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں ادارہ جاتی اصلاحات، کارکردگی، مالی نظم و ضبط اور سالانہ مالی امور سے متعلق مختلف ایجنڈا نکات کی منظوری دی گئی اجلاس میں بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشنل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کو فعال، موثر اور دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اس موقع پر صوبے کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ بیسڈ ٹریننگ پروگرامز متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تکنیکی تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے جاری پروگرامز میں جدت لانے پر بھی زور دیا گیا اجلاس میں ماہرین کی مشاورت سے فنی تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے جامع اور قابلِ عمل پلان متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے فنی تربیت کے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کرکے انہیں بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم ہر سال غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے جبکہ ہر فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کرنا ممکن نہیں اس لیے تکنیکی تعلیم و تربیت کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے اجلاس میں بلوچستان میں جاری اوورسیز یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پروگرام میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والی فرمز کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے بیرون ملک بھجوائے گئے بعض نوجوانوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کیا انہوں نے شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والی فرمز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ ہنر مند نوجوانوں کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ بلوچستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہتر مستقبل حاصل کرسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3966/2026
کوئٹہ، 13 مئی۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا ہے کہ صوبے کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہےانہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہےجبکہ صوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کا انحصار محکمہ کی موثر کارکردگی پر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیااجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سمیت تمام زونز کے چیف انجینئرز آفیسران نے شرکت کی اجلاس کو جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو مزید موثر اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترقیاتی منصوبوں پر کام تسلی بخش انداز میں جاری ہے تاہم اس رفتار کو مزید تیز کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے تمام چیف انجینئرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ زونز کے باقاعدہ دورے کریں اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کو یقینی بناتے ہوئے اپنی وزٹ رپورٹس ارسال کریں تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں مزید بہتری اور تیزی لائی جا سکےانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے میں جاری اہم نوعیت کے میگا منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے چیف انجینئرز کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور باقاعدگی سے پروگریس رپورٹس پیش کریں صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام کو جدید اور معیاری سہولیات کی فراہمی خواہ وہ روڈ سیکٹر سے متعلق ہوں یا بلڈنگ سیکٹر سے محکمہ مواصلات و تعمیرات کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھانا ہی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3967/2026
کوئٹہ12 مئی ۔ سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی حکومت بلوچستان عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت ڈیپارٹمنٹل سب کمیٹی برائے ڈویلپمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے جاری ترقیاتی منصوبوں، پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت جاری اسکیموں، اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ بلدیات و دیہی ترقی ایوب قریشی، ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد لطیف کھتران، چیف آف سیکشن سب المجید لانگو، ایگزیکٹو انجینئر فقیر محمد، سیکشن آفیسر عطاء محمد سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، بلدیاتی اداروں کی فعالیت اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کو مزید تیز کیا جائے تاکہ منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیموں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو یقینی بنانا محکمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیکرٹری بلدیات نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں بلدیاتی اداروں کو فعال، موثر اور عوام دوست بنانے کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ شہریوں کو صفائی، نکاسی آب، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔عبدالروف بلوچ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کو شفاف انداز میں بروقت بلکہ مقررہ وقت سے قبل مکمل کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں موجود رہ کر منصوبوں کی نگرانی یقینی بنائیں اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔اجلاس میں مختلف جاری ترقیاتی اسکیموں پر پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے فوری حل سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا جبکہ متعلقہ حکام کو منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرنے کیلئے ضروری ہدایات جاری کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3968/2026
کوئٹہ12 مئی ۔کوئٹہ: ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے محکمہ تعلقات عامہ کے ضلعی دفتر لورالائی کے فوٹوگرافر محمود بلوچ کی شاندار کارکردگی، محنت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی احسن انداز میں انجام دہی کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی سند اور نقد انعام سے نوازا۔اس موقع پر ڈی جی پی آر بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ محکمہ تعلقات عامہ میں محنت، دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ فرائض سرانجام دینے والے افسران اور اہلکاروں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہلکار کسی بھی ادارے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی بہترین کارکردگی دیگر ملازمین کے لیے بھی مثال بنتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ محکمانہ امور میں کوتاہی، غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی، جبکہ فرائض میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران و اہلکاروں کو ہر ممکن طور پر سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ڈی جی پی آر نے مزید کہا کہ محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان میں کارکردگی، میرٹ اور احتساب کے اصولوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ادارے کی مجموعی استعداد کار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔محکمہ تعلقات عامہ کے افسران و اہلکاروں نے ڈی جی پی آر بلوچستان کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ملازمین کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا روایت قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3969/2026
قلات 12مئی ۔ بلوچستان میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ریجنل آفس قلات نے فاصلاتی نظام تعلیم سے آن لائن ایجوکیشن کلاسز کی سمت اہم تعلیمی سفر کاآغازکیا ہے وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت بلوچستان کے 9اضلاع کے طلباء وطالبات میں لیپ ٹاپ کی تقسیم شروع کردی گءہے علامہ اقبال یونیورسٹی ریجنل آفس قلات میں اس سلسلے میں پروقارتقریب کاانعقادکیا گیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ اورڈپٹی ریجنل ڈائریکٹرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی حمل بلوچ نے طلبائ وطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیئےوزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تقریب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ اور ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی حمل بلوچ نے خطاب کرتے ہوے کہاکہ وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم نوجوانوں کو جدید تعلیم، تحقیق، اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کی ایک بہترین کاوش ہے ہم حکومتِ پاکستان اور اعلیٰ حکام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے نوجوان نسل کو ٹیکنالوجی سے جوڑنےکے لیے یہ انقلابی اقدام اٹھایاآج کا دور علم، تحقیق، اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے وہ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے لیس کرتی ہیں۔طلباءقوم کا قیمتی سرمایہ اور قوم کا روشن مستقبل ہیں آج آپ کو جو سہولت فراہم کی جارہی ہےاس کا مقصد صرف تعلیم نہیں بلکہ آپ کو خودمختار، باصلاحیت، اور بااعتماد بنانا ہے ہمیں امید ہے کہ آپ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 09اضلاع کے 26 طلباءوطالبات کو لیپ ٹاپ دیئے گئے ہیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نےتقریب سے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں اگرانہیں مناسب مواقع اوروسائل فراہم کیے جائیں تو وہ زندگی کے ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ چیف سیکرٹری شکیل قادرخان اوروزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، اور ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے اور یہ اسکیم اسی وڑن کا حصہ ہے۔طلباءو طالبات کو چاہیے کہ وہ اس لیپ ٹاپ کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کے بجائے اپنی توجہ تعلیم، تحقیق، پردیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3970/2026
کوئٹہ12مئی ۔ ایڈیشنل آئی جی پی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے آج بروز منگل 12 مئی 2026 کو ہیڈکوارٹر بدر لائن کی نئی عمارت میں قائم جدید ڈسپنسری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں بلوچستان کانسٹیبلری کے سینئر افسران، میڈیکل اسٹاف اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے ڈسپنسری کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈسپنسری میں جدید طبی آلات، ابتدائی طبی امداد، روزمرہ طبی معائنہ، ادویات کی فراہمی اور دیگر بنیادی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کو بروقت، معیاری اور مو¿ ثر علاج معالجے کی سہولت میسر آ سکے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے کہا کہ فورس کے جوان ملک و قوم کی خدمت میں شب و روز مصروف عمل ہیں، لہٰذا ان کی صحت، فلاح و بہبود اور علاج معالجے کے بہترین انتظامات کرنا ادارے کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور صحت کے معاملات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کی قیادت جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی و ذہنی صحت کو بھی خصوصی اہمیت دیتی ہے، کیونکہ ایک صحت مند فورس ہی بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈسپنسری میں ادویات، طبی آلات اور عملے کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ جوانوں کو علاج معالجے کے سلسلے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔تقریب کے اختتام پر جوانوں نے جدید ڈسپنسری کے قیام کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے بلوچستان کانسٹیبلری کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ جوانوں کا کہنا تھا کہ اس سہولت سے انہیں بروقت طبی امداد اور بہتر علاج معالجے کی سہولت میسر آئے گی جس سے ان کے حوصلے اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3971/2026
کوئٹہ:12مئی۔ٹیم لیڈ آف آ ر بی ڈبلیو آر پی RBWRP جیلی بیکما نے گزشتہ روز نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ میں 46ویں مڈکیر منیجمنٹ کورس کے شرکائ کو لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اس وقت پانی کی شدید قلت، موسمیاتی تبدیلیوں اور زیرِ زمین پانی کی تیزی سے کم ہوتی سطح جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور موثر حکومتی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، تاہم روایتی طریقہ? کاشت کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں جدید زرعی تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرِپ اریگیشن، واٹر مینجمنٹ سسٹمز اور جدید زرعی مشینری کے استعمال سے نہ صرف پانی کی بچت ممکن ہے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔۔جیلی بیکما نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو جدید زراعت کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلائے اور انہیں تکنیکی سہولیات اور تربیت فراہم کرے تاکہ وہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق اپنی زرعی سرگرمیوں کو بہتر بنا سکیں۔انہوں نے کہاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز اور واٹر اسٹوریج سسٹمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیرِ زمین پانی کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔بریفنگ کے اختتام پر جیلی بیکما نے کورس کے شرکائ کے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیے۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل نیپا ڈاکٹر سید علی رضا شاہ نے جیلی بیکما کو ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3972/2026
نصیرآباد12مئی ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت 18 مئی سے 21 مئی تک شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں ڈویژنل ٹاسک فورس کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار، اسسٹنٹ کمشنرز بہادر خان کھوسہ، محمد طحہ جمالی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نصیر آباد ڈاکٹر ایاز جمالی، ڈاکٹر ظاہر عمرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے، جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے نصیرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں انسداد پولیو مہم کے انتظامات، تیاریوں، مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی تربیت، مانیٹرنگ اور عوامی آگاہی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ہدایت کی کہ 18 مئی سے 21 مئی تک جاری رہنے والی پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور تمام اضلاع میں انتظامی و طبی حکام اس قومی فریضے کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے حوالے سے سستی یا غفلت پائی جا رہی ہے وہاں متعلقہ افسران فوری طور پر اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور خصوصی طور پر مائیکرو پلان پر توجہ مرکوز کریں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاوکے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیو ٹیموں کی موثر ٹریننگ، فیلڈ مانیٹرنگ اور سکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ کمشنر نے ضلع استا محمد میں پولیو وائرس کے ماحولیاتی نمونوں کے مثبت آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے، لہٰذا ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر استا محمد اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے نہ صرف انسداد پولیو مہم بلکہ ای پی آئی پروگرام پر بھی خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے، کیونکہ بچوں کو مختلف موذی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کمشنر نے بتایا کہ ای پی آئی پروگرام کی بہتری اور مانیٹرنگ کے لیے ڈویژنل سطح پر جدید ای پی آئی پورٹل بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انتظامیہ، محکمہ صحت، متعلقہ اداروں اور والدین کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نصیرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع میں پولیو مہم کو بھرپور انداز میں کامیاب بنا کر ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3973/2026
کوئٹہ 12مئی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو کی مجموعی کارکردگی اور ویکسینیشن سے متعلق ڈویڑنل ٹاسک فورس ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی کوا رڈینیٹر ای او سی انعام الحق، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈی ایچ اوز، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، ای پی آئی نیشنل پروگرام اور دیگر متعلقہ اداروں و پارٹنرز کے افسران موجود تھے۔جبکہ ڈپٹی کمشنر پشین،قلعہ عبداللہ اور چمن اور دیگر ضلعی افسران نے ان لائن اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو گزشتہ انسدادِ پولیو مہمات، ٹیموں کی کارکردگی، ویکسینیشن کی صورتحال ،درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ بلاک پولیو وائرس کی نقل و حرکت کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے۔ جنوری 2025 سے اب تک حاصل کیے گئے تقریباً 64 سیمپلز میں سے 31 مثبت پائے گئے، جبکہ وائرس کی منتقلی کی بڑی وجوہات میں آبادی کی نقل و حرکت شامل ہے۔ بتایا گیا کہ کوئٹہ بلاک میں پولیو وائرس سندھ اور افغانستان سے منتقل ہو رہا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گزشتہ مہمات کے دوران زیرو ڈوز بچوں کی کوریج میں بہتری آئی ہے، تاہم بعض یونین کونسلوں میں کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹیم کوریج اور مانیٹرنگ کے نظام میں بہتری کے باعث اہداف کے حصول میں پیش رفت ہوئی ہے،جبکہ آئندہ مہمات میں بھی مو¿ثر اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غیر حاضر اور ڈیفالٹر ویکسینیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت دی کہ غیر فعال مراکز صحت کو فوری طور پر فعال بنایا جائے اور انسدادِ پولیو مہم کے دوران مانیٹرنگ کے عمل کو مزید سخت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹنر ادارے بھی غیر حاضر ویکسینیٹرز کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی پلان اور مانیٹرنگ پلان پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ زیرو ڈوز بچوں اور ڈیفالٹر کیسز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران اور دیگر پارٹنرز کو مراکز صحت کے مسلسل دورے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر فعال مراکز اور غیر حاضر عملے کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ روٹین ویکسینیشن کوریج کو بہتر بناتے ہوئے حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام اضلاع میں اگر ڈیفالٹر ویکسینیشن کے کیسز سامنے آئیں تو متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے تناظر میں بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ واپس بھجوانے والے افغان مہاجرین کو روانگی سے قبل لازمی طور پر پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلائے جائیں تاکہ وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیموں کی رسائی اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر مانیٹرنگ اور کوریج کو موثر بنائیں۔حساس یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور والدین کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے آمادہ کرنے کے اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ بلوچستان کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3974/2026
خضدار:12مئی ۔ میں جاری دو روزہ جھالاوان سمر فیسٹیول میں تین مخلص خواتین نے اپنے شاندار اسٹالز اور انتظامات کی بدولت پورے فیسٹیول کی رونق دوبالا کر دی۔مس زیب النساء سٹی اسکول خضدار فیض بی بی بازیگر اسکول خضدار نے روایتی علاقائی لذیذ کھانوں کے منفرد اسٹالز کے ساتھ ساتھ قدیم اوطاق گدان اور دیگر اشیاء کے خوبصورت اسٹالز لگائے۔ ان خواتین کے رنگارنگ اور خوشبو دار اسٹالز نے فیسٹیول میں چار چاند لگا دیے۔ لوگوں کی بڑی تعداد ان اسٹالز کی طرف کھنچی چلی آئی، جس سے ماحول میں خوبصورت رونق اور جوش و خروش پیدا ہوا۔ جب کہ روبینہ کریم شاہوانی کی جانب سے بہتر و ذمہ دارانہ انتظامات نے بھی کافی حدتک متاثر کیا۔ اس شاندار کارکردگی پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ اور ایگزیکٹو آفیسر پی ایچ ای خضدار انجینئر عبدالروف قمبرانی نے تینوں خواتین کو تعریفی اسناد پیش کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے خاص طور پر ان خواتین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت، بہتر مینجمنٹ اور تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے فیسٹیول میں دوگنی رونق آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین مقامی ثقافت اور روایات کو نئی نسل تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ان خواتین نے ثابت کر دیا کہ جب خواتین آگے آتی ہیں تو کوئی بھی پروگرام کامیابی کی نھج تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کی کاوشوں نے نہ صرف فیسٹیول کو یادگار بنایا بلکہ مقامی ثقافت کو بھی خوب اجاگر کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3975/2026
خضدار :12مئی۔خضدار میں منعقد دو روزہ جھالاوان سمر فیسٹیول نے شہریوں کو خاصا اپنی طرف متوجہ کیا۔فیسٹیول کے اہم حصے بک فیئر میں کتابوں کی فروخت 20 لاکھ روپے سے زائد ہوگئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آج بھی کتابوں سے محبت اور علم کی پیاس تروتازہ ہے۔عام طور پر موسم گرما میں تفریحی سرگرمیوں تک محدود رہنے والے پروگراموں کے برعکس، جھالاوان سمر فیسٹیول نے علم، ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کا بھرپور اہتمام کیا۔ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے بڑھ چڑھ کر کتابیں خریدیں۔ مقبول ناولز، تعلیمی کتب، بچوں کی کہانیوں کی کتابیں اور مقامی ادب اور تاریخ سے وابستہ کتابوں سمیت ہر قسم کے شائقین کے لیے مواد دستیاب تھا۔کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ ، ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور ایجوکیشن آفیسران دن رات محنت اور ذاتی دلچسپی نے فیسٹیول کو علم و ادب کا مرکز بنادیااس فیسٹیول کی کامیابی میں ضلعی انتظامیہ کا کلیدی کردار رہا۔ کمشنر صاحب، ڈپٹی کمشنر خضدار اور ایجوکیشن آفیسرز نے نہ صرف فعال نگرانی کی بلکہ فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے طلباء ، اساتذہ اور مقامی نوجوانوں کو بڑی تعداد میں شرکت کی دعوت دی، جس سے بک فیئر میں ریکارڈ رش دیکھنے میں آیا۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ نوجوان نسل میں کتاب خواندگی کو فروغ دینا ہے۔ جھالاوان سمر فیسٹیول اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ 20 لاکھ سے زائد کی کتابیں فروخت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ لگن اور شوق آج بھی زندہ ہے یہ فیسٹیول صرف دو دن کا نہیں بلکہ علم کی مسلسل تحریک بن کرتاریخ میں نام کماچکا ہے۔ طلباء نے تعلیمی کتابوں کی بھرپور خریداری کی۔ نوجوانوں میں پڑھنے کے رجحان میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔مقامی ناظرین اور کتاب فروشوں کو بھی اچھا کاروبار ملا۔حکام نے فیسٹیول کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اسے مزید بڑے پیمانے پر منعقد کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوسکیں۔جھالاوان سمر فیسٹیول نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگر درست سمت میں اہتمام کیا جائے تو تفریح کے ساتھ ساتھ علم کی روشنی بھی پھیلائی جاسکتی ہے۔ خضدار کے لوگوں کا یہ جوش و جذبہ دیکھ کر لگتا ہے کہ کتابیں اب بھی ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3976/2026
قلات 12مئی ۔ضلعی انتظامیہ نے ضلع کی حدودسے مال مویشی باہر لے جانے پر پابندی عائد کردی ہے ڈپٹی کمشنر قلات کی جانب سے جاری کردہنوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے ک خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائیگا.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3977/2026
تربت: 12 مئی ۔ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت نے بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز خان بگٹی کے وژن اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی خصوصی نگرانی میں بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت ضلع کیچ سمیت پورے صوبے میں عوام کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ غریب اور مستحق مریضوں کو بروقت اور بہتر علاج کی سہولت میسر آسکے۔انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہیے کہ ہیلتھ کارڈ کی سہولیات سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ہمراہ قومی شناختی کارڈ جبکہ نابالغ بچوں کے علاج کے لیے بی فارم کی کاپی ضرور لائیں تاکہ علاج کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ایم ایس نے مزید بتایا کہ جلد اور دانتوں کے امراض کے علاوہ دیگر تمام بیماریوں کا علاج بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے تحت ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق ہیلتھ کارڈ کی سہولت صرف داخل مریضوں (Indoor Patients) کے لیے مختص ہے جبکہ او پی ڈی مریض اس سہولت میں شامل نہیں ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اور حکومت بلوچستان کی عوام دوست پالیسیوں کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3978/2026
گوادر/اورماڑہ: 12مئی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع بھر میں صحت عامہ کی سہولیات کو موثر، معیاری اور عوام دوست بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ آر ایچ سی اورماڑہ اور ایم این سی ایچ سینٹر اورماڑہ کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، جن میں او پی ڈی، میل و فیمیل وارڈز، ڈینٹل یونٹ، ای پی آئی سینٹر، ایکسرے روم اور دیگر طبی سہولیات شامل تھیں۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور عملے کی حاضری کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انچارج آر ایچ سی ڈاکٹر علی اکبر لال نے اسپتال کو درپیش مسائل، طبی سہولیات اور جاری امور سے متعلق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر یاسر طاہر نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بی اینڈ آر کے ایس ڈی او جنید کاشانی کو اسپتال کی مرمتی و بحالی سے متعلق ضروری کاموں کی فوری نشاندہی کرتے ہوئے جلد از جلد اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو صفائی ستھرائی، ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد، طبی آلات کی فعالیت اور ڈاکٹرز و عملے کی پابندیِ اوقات یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔بعدازاں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ایم این سی ایچ سینٹر اورماڑہ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق فراہم کی جانے والی سہولیات، طبی عملے کی کارکردگی اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو فوری بہتری کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3979/2026
دکی مئی ۔ معرکہ حق “بنیان مرصوص” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر ایف سی سکول اینڈ کالج میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان، کرنل شاہد بلال، ایس پی منصور احمد بزدار اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں طلبا نے ملی جذبے سے سرشار تقاریر پیش کرتے ہوئے پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی، دفاع اور استحکام کی ضامن ہے، جبکہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطنِ عزیز کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ ہم سب کے دلوں میں موجود ہے اور نوجوان نسل میں حب الوطنی، اتحاد اور قومی یکجہتی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، استحکام اور شہدائ کے بلند درجات کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3980/2026
کوئٹہ12مئی ۔ ڈائریکٹوریٹ آف لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن بلوچستان نے صوبے بھر میں قائم اے ایل پی اور اے ایل سی مراکز کی کارکردگی جانچنے کے لیے مختلف کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) متعارف کرائے، جن میں آگاہی مہمات، اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کے لیے سروے، مراکز کی مانیٹرنگ، طلبہ کو پڑھنے لکھنے کا مواد فراہم کرنا، حاضری اور طلبہ کی مستقل شمولیت، این ایف ای ایم آئی ایس پر ڈیٹا کی بروقت دیکھ بھال اور ڈائریکٹوریٹ کو پیش رفت رپورٹس کی فراہمی شامل ہیں۔ان اشاریوں کی بنیاد پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر سیکریٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان عصمت اللہ نے ضلع خضدار کی سپروائزر نان فارمل ایجوکیشن مس صبیحہ کو تعریفی سند اور 50 ہزار روپے نقد انعام سے نوازا۔ڈائریکٹوریٹ آف لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن بلوچستان نے اس کامیابی کو ضلعی سطح پر نان فارمل تعلیم کے فروغ اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ڈائریکٹوریٹ نے تمام ڈسٹرکٹ لٹریسی آفیسرز اور سپروائزرز پر زور دیا ہے کہ وہ اسی جذبے اور محنت کے ساتھ ادارے کے اہداف کے حصول اور او او ایس سی بچوں کی معاونت کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں۔ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے سیکریٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان عصمت اللہ کی وڑنری قیادت، مسلسل رہنمائی اور بھرپور تعاون پر خصوصی شکریہ بھی ادا کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta12;May:The Directorate of Literacy and Non-Formal Education, Balochistan has established numerous ALP/ALC centers across the province. To assess district-level performance, the Directorate developed the following Key Performance Indicators (KPIs):- Awareness Campaigns – Survey for Identification of Out-of-School Children (OOSC) – Monitoring of Centers – Provision of Reading and Writing Material – Attendance and Retention of Learners – Data Maintenance on NFEMIS – Progress Reporting to the Directorate Based on performance against these KPIs, the Worthy Secretary, Social Welfare Department, Government of Balochistan, has awarded a Letter of Appreciation and a cash prize of Rs. 50,000 to Miss Sabiha, Supervisor, Non-Formal Education, District Khuzdar.The Directorate further expects continued dedication from all District Literacy Officers and Supervisors in advancing the Directorate’s objectives and supporting OOSC in Balochistan.The Directorate of Literacy and Non-Formal Education extends special thanks to the Worthy Secretary Mr. Asmat Ullah Sahib for his visionary leadership, continuous guidance and support.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3981/2026
کوئٹہ 12مئی ۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میرے آج پاک جاپان کلچرل سینٹر کا دورہ اور جاپانی کیلنڈر کی نمائش کا افتتاح نہ صرف یکجہتی کا اظہار ہے بلکہ گزشتہ مشکل حالات اور قدرتی آفات کے دوران صوبے کے غریب عوام کیلئے جاپان کی گرانقدر خدمات کا اعتراف بھی ہے۔ آج کی تقریب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں جاپانی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ وہ بھی دستیاب منافع بخش مواقع سے مستفید ہو سکیں۔ پاکستان میں تعینات جاپانی سفیر اور قونصل جنرل کو کوئٹہ کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملنے ملانے سے باہمی احترام میں اضافہ ہوتا ہے اور دوست ممالک کے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہو جاتے ہیں۔ آج پاک جاپان کے کلچر سینٹر کا دورہ دراصل ایک مضبوط شراکت داری کا اعادہ ہے جو پاکستان اور جاپان دونوں کیلئے امید، ترقی اور مشترکہ کامیابی کو یقینی بناتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پاک جاپان کلچر سینٹر کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، اعزازی قونصل جنرل سید ندیم شاہ، ڈائریکٹر پاک جاپان کلچر سینٹر اسرار عدیل، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، بیرسٹر امیرخان مندوخیل، چیرمین بی آر ایس پی ملک انور سلیم کاسی ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، سینئر جرنلسٹ سلیم شاید اور سید علی شاہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے جاپانی کلینڈر نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا اور نمائش میں لگائے گئے جاپانی کیلنڈرز، ثقافتی اور تاریخی فن پاروں میں خصوصی دلچسپی لی۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان روز اول سے دوستانہ اور خوشگوار تعلقات قائم و دائم ہیں اور ہم سب جاپانی قوم کیلئے اپنے دلوں میں عزت و احترام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبے میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے جاپان کی مہارت اور ٹیکنالوجی کو بھی دیکھتے ہیں۔ جاپانی انڈسٹریز اور بلوچستان کی سرکاری یونیورسٹیوں کے درمیان اسکالرشپ اور شراکت داری کے ذریعے، ہم تعلیمی ترقی اور اقتصادی ترقی دونوں کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ جاپان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور مشکل حالات میں مسلسل انسانی امداد فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کو اس تعاون سے براہ راست فائدہ ہوا ہے۔ ہم آئندہ بھی جاپان سے بھرپور تعاون اور رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3982/2026
کوئٹہ: 12مئی ۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے عالمی شہرت یافتہ کک باکسر شاہزیب رند کو ان کی شاندار کامیابی پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہزیب رند نے اپنی انتھک محنت اور بے پناہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا نام بھی عالمی سطح پر روشن کیا ہے اپنے جاری کردہ بیان میں وزیر داخلہ بلوچستان میرضیائ اللہ لانگو نے کہا کہ شاہزیب رند کی کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ اگر لگن، محنت اور مستقلی مزاجی کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو عالمی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے شاہزیب رند جیسے باصلاحیت کھلاڑی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی کامیابیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں حکومت ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں سمیٹ کر پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں کامیابیاں امن، یکجہتی اور مثبت سوچ کو فروغ دیتی ہیں، اور شاہزیب رند کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے نوجوان کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہیں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3983/2026
کوئٹہ 12 مئی ۔ ناقص و مضر صحت اشیاءخوردونوش کے مکمل خاتمے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں کاروائیاں جاری ہیں۔ مختلف اضلاع میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کریک ڈاون کرتے ہوئے متعدد فوڈ پوائنٹس کے خلاف کارروائیاں کیں، اس دوران مجموعی طور پر 4 یونٹس سیل، 25 فوڈ بزنس یونٹس جرمانہ جبکہ 39 بہتری نوٹسز جاری کیے گئے۔کوئٹہ میں بی ایف اے ٹیموں نے ایئرپورٹ روڈ، سبزل روڈ، میزان روڈ، علمدار روڈ، سریاب روڈ، سرکی روڈ اور گوردت سنگھ روڈ پر کارروائیاں کرتے ہوئے بیکریز، ریسٹورنٹس، جنرل اسٹورز، پیزا پوائنٹس، آئسکریم یونٹس اور ٹریڈر گوداموں کا معائنہ کیا۔ کارروائیوں کے دوران زائدالمعیاد کولڈ ڈرنکس، اسنیکس، کیکس، سوپس، ممنوعہ چائنیز نمک، ناقص مصالحہ جات اور مضر صحت خوراک برآمد ہوئی۔مزید برآں سوشل میڈیا پر موصول ہونے والی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے خراب و ایکسپائرڈ کیک فروخت کرنے والے ایک سپر اسٹور پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ غیر معیاری کولڈ ڈرنکس کی تصدیق ہونے پر ایک ٹریڈر کا گودام سیل کردیا گیا۔ اسی طرح سنگین حفظانِ صحت خلاف ورزیوں پر ایک پیزا پوائنٹ بھی سیل کیا گیا جہاں کھلی اشیاء خورونوش، کچن میں حشرات، ناقص اسٹوریج اور مضر صحت اشیاء پائی گئیں۔علاوہ ازیں کارروائیوں میں بیکنگ یونٹس، ریسٹورنٹس اور جنرل اسٹورز کو ناقص صفائی، زنگ آلود ریفریجریٹرز، غیر معیاری آئل، پیسٹ کنٹرول نہ ہونے، ایکسپائرڈ اشیاء اور بغیر لیبل مصنوعات فروخت کرنے پر جرمانے کیے گئے۔ ایک آئسکریم مینوفیکچرنگ یونٹ میں خام مال غیر محفوظ حالت میں رکھنے، پروسیسنگ ایریا میں کچا چکن موجود ہونے اور صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اسی طرح گوادر میں زونل فوڈ سیفٹی ٹیم نے جاوید کمپلیکس ایئرپورٹ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے ایک کیفے اور 4 جنرل اسٹورز کو جرمانہ کیا۔ معائنے کے دوران ایکسپائرڈ مصالحہ جات، شیرخرما مکس، ٹیٹرا پیک دودھ، کیکس، کنفیکشنری آئٹمز اور ممنوعہ چائنیز نمک، گٹکا و ماوا برآمد کیا گیا جنہیں ضبط کرکے تلف کردیا گیا۔خضدار میں دوران معائنہ زائدالمعیاد بسکٹس اور دیگر کنفیکشنری آئٹمز فروخت کرنے والے 4 ہول سیل ڈیلرز کو جرمانہ کیا گیا جبکہ تمام مضر اشیائ موقع پر تلف کردی گئیں۔ڈیرہ مراد جمالی میں مختلف فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کے دوران 2 کریانہ اسٹورز سے ممنوعہ گٹکا اور چائنیز سالٹ برآمد کیا جبکہ ایک بیکری کو ناقص صفائی اور جعلی لیبلنگ پر جرمانہ کیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران مختلف فوڈ بزنس آپریٹرز کو فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، صفائی کے بہتر انتظامات اور لائسنسنگ پراسیس مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں جبکہ مختلف اشیائ کے نمونے لیبارٹری تجزیہ کیلئے بھی حاصل کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3984/2026
کوئٹہ12مئی ۔ بلوچستان میں خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے موثر انداز میں نمٹنے، ہنگامی حالات میں بروقت ردِعمل کی استعداد بڑھانے اور بین الادارہ جاتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے تعاون سے “ٹیبل ٹاپ سیمولیشن ایکسرسائز” کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان اصغر علی جمالی تھے۔ اس موقع پر اینٹی سیپٹری اسپیشلسٹ ایف اے او روئیداللہ، پروگرام اسسٹنٹ ڈبلیو ایف پی اسد اللہ، یونائیٹڈ آرگنائزیشن کے ریجنل کوآرڈینیٹر بلوچستان ریحانہ خلجی سمیت وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندگان، ماہرین اور سماجی اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ورکشاپ کا بنیادی مقصد خشک سالی کے ممکنہ اثرات کا پیشگی جائزہ لینا، متعلقہ اداروں کے مابین موثر ہم آہنگی کو فروغ دینا اور بروقت و مو¿ثر ردِعمل کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔ اس دوران مختلف فرضی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں ادارہ جاتی تیاریوں، وسائل کی دستیابی، رابطہ کاری اور امدادی اقدامات کا عملی جائزہ لیا گیا۔شرکاءکو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وڑن کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے روایتی “ری ایکٹو” طرزِ عمل کے بجائے جدید اور موثر “پرو ایکٹو” حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔اس موقع پر کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہمیشہ صوبے کے جغرافیائی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔ انہی ہدایات کی روشنی میں پی ڈی ایم اے بلوچستان کو جدید ڈیٹا اینالیسز، پیشگی انتباہی نظام اور عالمی معیار کی ٹیکنالوجی سے مزید موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ورکشاپ میں محکمہ موسمیات، زراعت، لائیو اسٹاک، آبپاشی، صحت، اطلاعات و دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ سیشن کے دوران ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل، نقصانات میں کمی، متاثرہ علاقوں تک امدادی وسائل کی شفاف اور بروقت ترسیل، اور ضلعی انتظامیہ و صوبائی کنٹرول روم کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوو¿ں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے اصغر علی جمالی نے کہا کہ اس نوعیت کی مشقیں بلوچستان کو ایک “ڈیزاسٹر ریزیلینٹ” صوبہ بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں صوبائی حکومت اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے کسانوں، مالداروں اور عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان اور پی ڈی ایم اے اپنے تمام بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3985/2026
گوادر/اورماڑہ: 12مئی ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت اورماڑہ میں ایک بڑی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ضلعی انتظامیہ، سول و عسکری اداروں کے افسران، منتخب نمائندگان، سماجی و سیاسی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ خواتین کی بھرپور شرکت اس عوامی فورم کی نمایاں خصوصیت رہی۔کھلی کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنر طارق بلوچ، تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ، آرمی کے کرنل ثاقب علی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ، چیئرمین میونسپل کمیٹی اورماڑہ محفوظ، ایس ڈی او بی اینڈ آر جنید کاشانی، ای ٹی او ایکسائز مقبول احمد، سابق ڈسٹرکٹ چیئرمین معیار جان نوری، ڈپٹی ڈی ای او محمد حنیف، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز عبدالرزاق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات طارق بلوچ، ایکسین ایریگیشن بیبگر بلوچ، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ صلاح الدین، چیف آفیسر من دوست، ڈی ایس پی پولیس ملک احمد سمیت مختلف محکموں کے افسران شریک ہوئے۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے شدید گرمی کے باوجود بھرپور شرکت پر شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہ راست رابطے کو موثر بنانا ہے۔کھلی کچہری میں شہریوں نے تعلیم، صحت، کھیلوں، ماہی گیری، پینے کے صاف پانی، سیوریج، صفائی، ٹرانسپورٹ، فیول کی قلت، منشیات کی روک تھام، تجاوزات کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق متعدد مسائل پیش کیے۔تعلیمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے شرکا نے اورماڑہ میں گرلز اور بوائز ڈگری کالجز کے قیام، اسکولوں میں پینے کے پانی کی فراہمی، گورنمنٹ مڈل اسکول جعفری کی نامکمل عمارت کی تکمیل، اضافی کمروں کی تعمیر، گرلز اسکول کی طالبات کے لیے بس اور گورنمنٹ بوائز اسکول کے طلبہ کے لیے ہاسٹل کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ ان تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا اور بی ایس ڈی آئی کے تحت ترقیاتی اسکیموں میں شامل کیا جائے گا۔کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے ایک کھلاڑی کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر نے کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے ساونڈ سسٹم فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے پبلک کلب اورماڑہ کی خستہ حالی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی مرمت کا مطالبہ کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی کے تحت بحالی کے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ماہیگیروں نے جیٹی (گودی) کی تعمیر کا مطالبہ پیش کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اورماڑہ میں جیٹی کے قیام کے لیے بی ایس ڈی آئی کے تحت باقاعدہ تجویز ارسال کی جائے گی۔ اسی طرح ٹرالنگ کے مسئلے، مساجد کی سولرائزیشن اور ساحلی علاقوں میں ترقیاتی ضروریات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شہریوں نے اورماڑہ اور پسنی میں منشیات جیسے ناسور لعنت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موثر کارروائی کا مطالبہ کیا، جس پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے انسدادِ منشیات مہم مزید مو¿ثر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔کھلی کچہری میں میونسپل کمیٹی کے خاکروبوں کی کم تنخواہوں کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے لیبر قوانین کے مطابق تنخواہوں میں بہتری لانے کی ہدایت دی۔عوام نے لوکل سرٹیفکیٹس کے اجرا میں تاخیر، ناجائز تجاوزات، سرکاری اراضی واگزار کرانے اور اورماڑہ کی سیٹلمنٹ کے معاملات بھی پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطہ جاری ہے اور جلد عملی پیش رفت سامنے آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورماڑہ کو سب ڈویژن کا درجہ دلانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو انتظامی امور کے لیے دور دراز سفر نہ کرنا پڑے اور مقامی سطح پر ہی سہولیات میسر آسکیں۔فیول کی قلت اور گاڑیوں کی بندش کے مسئلے پر شہریوں کی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے موقع پر ہی اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مسئلے کے فوری حل کے لیے اقدامات کی ہدایت جاری کی۔صحت کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے بتایا کہ آر ایچ سی اورماڑہ کے بیشتر مسائل حل کر دیے گئے ہیں جبکہ بی ایس ڈی آئی کے تحت مرمتی اور بہتری کے کام جلد شروع کیے جائیں گے۔کھلی کچہری کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اورماڑہ کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3986/2026
کوئٹہ 12مئی۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے آج ہیں اولڈ ایج ہوم کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے وہاں مقیم بزرگ اور لاچار خواتین سے ملاقاتیں کیں، ان کی خیریت دریافت کی اور مسائل سنے۔ڈپٹی کمشنر نے اولڈ ایج ہوم کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا اور انتظامیہ سے سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ اولڈ ایج ہوم میں جس قسم کے بھی مسائل یا ضروریات درپیش ہوں، ان کی فوری نشاندہی کی جائے تاکہ حکومت کی جانب سے انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے اور رہائشیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اولڈ ایج ہوم میں موجود ایک معذور لڑکے سے بھی ملاقات کی، اس سے بات چیت کی اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے وہاں موجود خواتین سے انفرادی طور پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے مسائل اور ضروریات کے بارے میں دریافت کیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ معاشرے کے کمزور اور بے سہارا طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور ایسے اداروں کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3987/2026
حب 12 مئی .: ڈپٹی کمشنر حب جمعداد خان مندوخیل کی زیر صدارت ضلعی صحت کمیٹی کا ماہوار اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت کی کارکردگی، ڈاکٹروں اور عملے کی حاضری سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (MS) اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) سے تمام غیر حاضر ملازمین کی فہرست طلب کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ تمام غیر حاضر ملازمین کو فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں جبکہ غیر حاضر رہنے والے ملازمین کی تنخواہیں کم سے کم 24 سے 29 دنوں کی تنخواہیں بھی کاٹنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلع حب میں تمام ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے کیونکہ صحت ایک نہایت اہم شعبہ ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا رعایت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے دوران ضلعی صحت کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ اب ہر ماہ دو اجلاس منعقد کیے جائیں اور ان اجلاسوں کی کارکردگی رپورٹ باقاعدگی سے ڈپٹی کمشنر آفس میں پیش کی جائے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3988/2026
حب 12 مئی ۔: ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تمام ڈی ڈی اوز، ڈسٹرکٹ آفیسرز میل و فیمیل اور محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کے تعلیمی نظام، اسکولوں کی کارکردگی اور اساتذہ کی حاضری سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ضلع بھر کے تمام فنکشنل اور نان فنکشنل اسکولز کا مکمل ریکارڈ اور تازہ ترین ڈیٹا طلب کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ اسکولوں کی موجودہ صورتحال، اساتذہ کیتعیناتی، طلبہ کی تعداد اور بنیادی سہولیات سے متعلق تفصیلات جلد از جلد فراہم کریں۔ اس کے علاوہ تمام غیر حاضر ملازمین اور اساتذہ کی فہرستیں بھی طلب کر لی گئیں تاکہ ان کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم ایک نہایت اہم شعبہ ہے اور بچوں کے مستقبل سے وابستہ اس ادارے میں کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا غیر حاضری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غیر حاضر ملازمین اور اساتذہ کے خلاف فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کرنے اور مسلسل غیر حاضر رہنے والوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام اسکولوں کی نگرانی مزید مو¿ثر بنائی جائے اور ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے جو محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ضلع حب کے تمام سرکاری اسکولوں کو فعال بنایا جائے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/3989
کوئٹہ12مئی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے نرسنگ ہاسٹل، نرسنگ کالج اور لیڈیز پردہ کلب کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بلڈنگ سٹی ڈویژن بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے نرسنگ کالج میں زیر تعمیر نئے کلاس رومز، ہال، واش رومز اور دیگر ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے نرسنگ ہاسٹل کے نئے تعمیر شدہ سیکشنز کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار کو چیک کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لیڈیز پردہ کلب کا بھی معائنہ کیا جہاں جاری تعمیراتی و ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے مجموعی طور پر تعمیراتی کام کے معیار کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ خصوصاً طالبات کو بہتر، معیاری اور جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3990
کوئٹہ 12مئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے گورنمنٹ گرلز کالج میں نئے تعمیر ہونے والے بلڈنگ اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بلڈنگ و متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کالج میں زیر تعمیر و مکمل ہونے والے مختلف سیکشنز، کلاس رومز، ہالز، دفاتر اور دیگر سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دوران ایکسین بلڈنگ نے منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے تعمیراتی کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور طالبات کو معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3991
کوئٹہ 12 مئی: ـپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین ولی محمد نورزئی، زابد علی ریکی، غلام دستگیر بادینی، محمد خان لہڑی، رحمت صالح بلوچ اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی،اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ڈائریکٹر آڈٹ قدیم آغا، اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال بھی موجود تھے۔اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان کی جانب سے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (TBTTP) فیز ون اور گرین پاکستان پروگرام کی خصوصی آڈٹ رپورٹ 2019 تا 2022 کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں، اندرونی کنٹرول کی کمزوریوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور منصوبے کے اہداف حاصل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک ارب سے زائد پودے لگانے کا ہدف پورا نہ ہوسکا اور مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف ایک کروڑ پچیس لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے۔ رپورٹ میں ماحولیاتی اثرات کے جائزے میں ناکامی، پی سی ون اہداف پر عملدرآمد نہ ہونا، ریکارڈ فراہم نہ کرنا، مانیٹرنگ و ایویلیوایشن نہ کرنا، مشکوک و بے ضابطہ اخراجات، اوپن ٹینڈر سے بچنے کے لیے اخراجات کی تقسیم، نامکمل کاموں کی ادائیگیاں اور جعلی تکمیلی رپورٹس سمیت متعدد سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے منصوبے کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے مگر بیشتر علاقوں میں اس کے اثرات نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے منصوبے کی شفافیت اور نگرانی پر سوالات اٹھائے۔رکن کمیٹی زابد علی ریکی نے کہا کہ واشک میں شجرکاری نہ ہونے کے برابر ہے اور عوام کو منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کی کارکردگی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔رکن کمیٹی غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور ناقص منصوبہ بندی نے پورے پروگرام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔رکن کمیٹی محمد خان لہڑی نے کہا کہ نصیر آباد میں عملی طور پر کوئی شجرکاری نظر نہیں آتی، نہ پودے لگائے گئے اور نہ ہی زمین پر منصوبے کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلاتی اراضی پر قبضے بھی لمحۂ فکریہ ہیں۔ اجلاس کے دوران محکمانہ مؤقف پر انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے پاس ہزاروں ایکڑ اراضی موجود ہے تاہم ان پر قبضے ہوچکے ہیں، جس پر کمیٹی اراکین نے قبضہ شدہ اراضی فوری واگزار کرانے کی ہدایت کی۔رکن کمیٹی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پنجگور میں ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا اور تمام دعوے صرف کاغذوں تک محدود رہے۔رکن کمیٹی صفیہ بی بی نے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی منصوبہ صرف اعلانات اور فائلوں تک محدود رہا جبکہ عوام کو اس منصوبے کے ثمرات کہیں نظر نہیں آئے چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے منٹس فوری طور پر پی اے سی کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ 2018 کی آسامیوں کا اعلان اب کیوں کیا گیا اور اس میں اتنی غفلت کیوں برتی گئی۔اجلاس کے دوران اراکین نے سوال اٹھایا کہ جب مویشی پودے کھا جاتے ہیں تو محکمہ ان کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ وہ خود مختلف اضلاع کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام اراکین نے مشترکہ طور پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تمام پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جبکہ دوروں کے بعد مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے.

خبر نامہ نمبر 2026/3989
کوئٹہ12مئی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے نرسنگ ہاسٹل، نرسنگ کالج اور لیڈیز پردہ کلب کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بلڈنگ سٹی ڈویژن بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے نرسنگ کالج میں زیر تعمیر نئے کلاس رومز، ہال، واش رومز اور دیگر ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے نرسنگ ہاسٹل کے نئے تعمیر شدہ سیکشنز کا دورہ کیا اور جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار کو چیک کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لیڈیز پردہ کلب کا بھی معائنہ کیا جہاں جاری تعمیراتی و ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے مجموعی طور پر تعمیراتی کام کے معیار کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ خصوصاً طالبات کو بہتر، معیاری اور جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3990
کوئٹہ 12مئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے گورنمنٹ گرلز کالج میں نئے تعمیر ہونے والے بلڈنگ اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بلڈنگ و متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کالج میں زیر تعمیر و مکمل ہونے والے مختلف سیکشنز، کلاس رومز، ہالز، دفاتر اور دیگر سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دوران ایکسین بلڈنگ نے منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے تعمیراتی کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور طالبات کو معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3991
کوئٹہ 12 مئی: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین ولی محمد نورزئی، زابد علی ریکی، غلام دستگیر بادینی، محمد خان لہڑی، رحمت صالح بلوچ اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی،اسپیشل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ڈائریکٹر آڈٹ قدیم آغا، اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال بھی موجود تھے۔اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان کی جانب سے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام (TBTTP) فیز ون اور گرین پاکستان پروگرام کی خصوصی آڈٹ رپورٹ 2019 تا 2022 کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں، اندرونی کنٹرول کی کمزوریوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور منصوبے کے اہداف حاصل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک ارب سے زائد پودے لگانے کا ہدف پورا نہ ہوسکا اور مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف ایک کروڑ پچیس لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے۔ رپورٹ میں ماحولیاتی اثرات کے جائزے میں ناکامی، پی سی ون اہداف پر عملدرآمد نہ ہونا، ریکارڈ فراہم نہ کرنا، مانیٹرنگ و ایویلیوایشن نہ کرنا، مشکوک و بے ضابطہ اخراجات، اوپن ٹینڈر سے بچنے کے لیے اخراجات کی تقسیم، نامکمل کاموں کی ادائیگیاں اور جعلی تکمیلی رپورٹس سمیت متعدد سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے منصوبے کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے مگر بیشتر علاقوں میں اس کے اثرات نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے منصوبے کی شفافیت اور نگرانی پر سوالات اٹھائے۔رکن کمیٹی زابد علی ریکی نے کہا کہ واشک میں شجرکاری نہ ہونے کے برابر ہے اور عوام کو منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کی کارکردگی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔رکن کمیٹی غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور ناقص منصوبہ بندی نے پورے پروگرام کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔رکن کمیٹی محمد خان لہڑی نے کہا کہ نصیر آباد میں عملی طور پر کوئی شجرکاری نظر نہیں آتی، نہ پودے لگائے گئے اور نہ ہی زمین پر منصوبے کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلاتی اراضی پر قبضے بھی لمح? فکریہ ہیں۔ اجلاس کے دوران محکمانہ مؤقف پر انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے پاس ہزاروں ایکڑ اراضی موجود ہے تاہم ان پر قبضے ہوچکے ہیں، جس پر کمیٹی اراکین نے قبضہ شدہ اراضی فوری واگزار کرانے کی ہدایت کی۔رکن کمیٹی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پنجگور میں ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا اور تمام دعوے صرف کاغذوں تک محدود رہے۔رکن کمیٹی صفیہ بی بی نے کہا کہ ٹین بلین ٹری سونامی منصوبہ صرف اعلانات اور فائلوں تک محدود رہا جبکہ عوام کو اس منصوبے کے ثمرات کہیں نظر نہیں آئے چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے منٹس فوری طور پر پی اے سی کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ 2018 کی آسامیوں کا اعلان اب کیوں کیا گیا اور اس میں اتنی غفلت کیوں برتی گئی۔اجلاس کے دوران اراکین نے سوال اٹھایا کہ جب مویشی پودے کھا جاتے ہیں تو محکمہ ان کی حفاظت کیسے یقینی بناتا ہے۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ وہ خود مختلف اضلاع کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے۔چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام اراکین نے مشترکہ طور پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تمام پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جبکہ دوروں کے بعد مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے.

خبر نامہ نمبر 2026/3992
کوئٹہ 12 مئی:۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت میٹرک امتحانات کے حالیہ رزلٹس پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رزلٹس کی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین بی بی آئی ایس ای محمد اسحاق نے میٹرک رزلٹس کے اعداد و شمار پیش کیے، جن میں صوبے بھر میں 434 امتحانی مراکز قائم کیے گئے مراکز میں 185 طلباء اور 115 طالبات کے امتحانی سینٹرز تھے اور ان میں 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد اُمیدواروں نے حصہ لیا جبکہ 81 فیصد امیدوار پاس ہوئے اور مجموعی طور اطمینان بخش نتائج تھے۔ پہلی مرتبہ میٹرک کے نتائج دو مہینے پہلے اعلان کیا گیا۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کئی گورنمنٹ اسکولوں نے متوقع سے بہتر نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ بعض اضلاع کے سکولوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ چیف سیکرٹری نے رزلٹس کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی انتظامیہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے گورنمنٹ اسکولوں اور متعلقہ اساتذہ کی فوری حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ بہترین نتائج حاصل کرنے والے اسکولوں کو انعامات اور اعزازات دیے جائیں گے تاکہ دیگر ادارے بھی اسی طرح کی جدوجہد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم صوبے کی ترقی کی بنیاد ہے اور میٹرک جیسے بنیادی امتحانات میں بہتری سے اعلیٰ تعلیم تک معیار بلند ہوگا۔ مزید برآں، چیف سیکرٹری نے آئندہ امتحانات کے لیے جامع اقدامات کی ہدایت دی۔ ان میں امتحانی مراکز کی نگرانی کو سخت کرنا، دھوکہ دہی کے واقعات روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور طلبہ کی تیاری کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنا شامل ہیں۔ اجلاس بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جو طلبہ کی مستقبل کی کامیابیوں کی ضمانت دے سکتا ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ امتحانی مراکز کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ چیف سیکرٹری نے امتحانات کے لیے سپروائزری عملے کی تقرری اور ایگزامنرز کی تربیت کے عمل کو سراہا
خبر نامہ نمبر 2026/3993
گوادر/اورماڑہ12مئی :۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تعلیمی شعبے میں سہولیات کی فراہمی اور طلبہ کو بہتر سفری سہولتیں مہیا کرنے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے دورہاورماڑہ کے موقع پر گورنمنٹ بوائز انٹر کالج اورماڑہ کے لیے نئی بس کا افتتاح کردیا۔ اس اقدام سے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل میں نمایاں مدد ملے گی۔افتتاحی تقریب کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ گوادر تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بس کے لیے سرکاری سطح پر فیول اور مینٹیننس کی باقاعدہ منظوری نہیں ملتی، ضلعی انتظامیہ گوادر عارضی طور پر بس کے فیول اور دیکھ بھال کے اخراجات برداشت کرے گی تاکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا کر طلبہ کے لیے سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3994
ضلع چمن 12مئی :۔بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے نمائندوں کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن، فدا بلوچ سے ملاقات۔ ملاقات کے دوران ضلع چمن میں صحت کے شعبے کی بہتری، طبی مراکز کی نگرانی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا اس موقع پر اے ڈی سی چمن نے کہا کہ محکمہ صحت کی تمام ہسپتالوں اور طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور سٹاف کی حاضریاں اور وقت کی پابندی انتہائی ضروری ہے اور تمام طبی یونٹس میں ایمرجنسی ادویات، آلات اور اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنا محکمہ صحت اور صوبائی حکومت کی اولین ذمہداریوں میں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ اہمیت طبی مراکز میں مریضوں کی بروقت علاج و معالجہ اور موجود ادویات اور دیگر ضروری سامان اور مشینری کا صحیح استعمال ہے لہٰذا مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3995
گوادر12مئی :۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے کلانچی پھاڑا کے علاقوں میں سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور، منظم اور فیصلہ کن آپریشن کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی ڈھانچے مسمار کر دیے اور قیمتی سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی۔آپریشن کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر طارق بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر سرفراز رحمدل نے کی، جبکہ کارروائی میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ سیل نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر ختم کیا گیا، جبکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق کلانچی پھاڑا میں بعض عناصر طویل عرصے سے سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے اور تعمیرات میں ملوث تھے، جن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری املاک پر کسی بھی قسم کا غیر قانونی قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہیں گی۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی ہدایات اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے سرکاری اراضی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات میں ملوث عناصر کے خلاف نہ صرف فوری آپریشن کیا جائے گا بلکہ سخت قانونی کارروائی، مقدمات کے اندراج اور دیگر قانونی اقدامات بھی عمل میں لائے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد، شہری نظم و ضبط اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے ادا کر رہی ہے، جبکہ قبضہ مافیا اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا تجاوزات سے گریز کریں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 2026/3996
تربت12مئی : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کے وژن اور صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی کی خصوصی کاوشوں سے غلام فاروق میموریل ہسپتال بلیدہ باقاعدہ طور پر فعال ہو گیا ہے، جہاں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ہسپتال اپنی خدمات دیہی مرکزِ صحت میناز کی عمارت میں انجام دے رہا ہے، جبکہ ہسپتال کی نئی عمارت کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے جو جلد مکمل ہونے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق ہسپتال کیلئے ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور دیگر ضروری عملے کی تقرری بھی مکمل کر دی گئی ہے تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ہسپتال کے فعال ہونے کے بعد ابتدائی دنوں میں ہی مریضوں کی بڑی تعداد نے رجوع کیا، جہاں صرف جمعہ اور پیر کے روز چار سو سے زائد مریضوں کا بیرونی مریض شعبہ میں معائنہ کیا گیا۔ اس امر سے علاقے میں معیاری طبی سہولیات کی ضرورت اور عوامی اعتماد کا واضح اظہار ہوتا ہے۔عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں نے غلام فاروق میموریل ہسپتال کے قیام اور طبی خدمات کے آغاز کو بلیدہ اور گردونواح کے عوام کیلئے صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے فعال ہونے سے مقامی مریضوں کو علاج معالجے کی غرض سے دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، جس سے نہ صرف وقت بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات، وزیر صحت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں ادویات، جدید طبی آلات اور مزید ماہر ڈاکٹروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مکمل، معیاری اور جدید طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3997
کوئٹہ 12مئی۔وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کے وژن کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی کے جاری کاموں کا جائزہ لینے کے لیے مختلف اسکولوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نوہہ کلی اور گورنمنٹ گرلز اسکول بشیرآباد کا دورہ کیا جہاں جاری ترقیاتی و سہولتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں تعلیمی معیار اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3998
کوئٹہ 12 مئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی نگرانی میں اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ (سٹی) محمد امیرحمزہ نے ایم ڈی ڈاکٹر ارباب کے ہمراہ نئے ٹراما سینٹر اسپنی روڈ کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ٹراما سینٹر کی سائٹ، مختلف شعبہ جات اور نئے قائم ہونے والے وارڈز کا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے جاری تعمیراتی و انتظامی امور، طبی سہولیات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی نے صفائی، سیکیورٹی، طبی آلات اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹر کے فعال ہونے سے ایمرجنسی صورتحال میں شہریوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *