خبرنامہ نمبر4038/2026
کوئٹہ 14 مئی۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے ضلع کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جاہزہ اجلاس کی صدارت کی اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی کے علاوہ ضلع کوئٹہ کے انجینئرز آفیسران بھی موجود تھے اجلاس کو انجینئر آفیسران نے اپنے اپنے ڈویژن میں جاری روڈ اور بلڈنگ سیکٹر میں منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی کارکردگی کو مذید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے محکمہ کے جتنے بھی تیکنیکی مسائل ہیں انھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے میعار پر کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کوالٹی کنٹرول کے حوالے سے تمام آفیسران کو سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ جو منصوبہ ہو اس کے لیبارٹری ٹیسٹ کروائیں اور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اسکے کے معیار کی جانچ پڑتال کا بغور جائزہ لینے کے بعد متعلقہ محکمے کے حوالے کریں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی جاری ترقیاتی منصوبے ہیں ان نگرانی کے حوالے سے اپنے سب انجنیئرز کو سختی سے ہدایات دیں کہ وہ ان منصوبوں کی نگرانی کے لئے سائٹ پر موجود رہے تاکہ کوالٹی پر زرہ برابر بھی سمجھوتہ نہیں نا ہو اسی طرح اگر ٹھیکداران بھی غفلت یا ناقص میٹریل کے استعمال کا مرتکب پائے گئے تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ چیف انجینئرز اور ایس ای جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جاہزہ لینے خود جاہیں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ تمام جاری منصوبوں پر معیار کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ معیار کے حوالے سے ایک فیصد بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ میں خود بھی کر رہا ہوں اور تمام آفیسران بھی یہ یقینی بناہے کہ جاری اسکیمات کی مانیٹرنگ مسلسل بنیادوں پر ہو صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صوبے کے عوام کو جدید سہولیات چاہے روڈز سیکٹر ہو یا بلڈنگ سیکٹر میں ہوں انہیں فراہم کرنا محکمہ مواصلات و تعمیرات کی زمہ داری ہے اور اس زمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4039/2026
کوئٹہ14 مئی۔ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں میں زیروایکس پینڈ یچر کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئر آفیسران ایس ایز ایگزیکٹو انجینئر آفیسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کو مختلف اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر زیروایکس پینڈ یچر کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی متعلقہ افسران نے منصوبوں میں تاخیر اور فنڈز کے استعمال نہ ہونے کی وجوہات درپیش تکنیکی مسائل اور دیگر انتظامی رکاوٹوں سے آگاہ کیا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جن اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر زیروایکس پینڈ یچرکی شرح زیادہ ہے وہاں فوری طور پر تکنیکی اور انتظامی مسائل کو حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سست روی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد پہنچ سکیں اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور فنڈز کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4040/2026
نصیرآباد14مئی۔ ڈپٹی کمشنر نصیر آباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر 18 مئی سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ایم ایس ڈاکٹر حبیب پندرانی، ڈاکٹر ظاہر حسین عمرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کے آغاز میں حصہ لیا، جبکہ ڈرگ انسپکٹر اعجاز احمد منیر احمد گرانی آفس سپرنٹینڈنٹ محمد قاسم ڈومکی ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی اور صدام حسین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر انسداد پولیو مہم کے حوالے سے کیے گئے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، تربیت اور دیگر ضروری اقدامات پر ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ ضلع نصیر آباد میں 18 مئی سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے لیے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تمام پولیو ٹیموں کی تشکیل اور تربیت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، اور مہم کے دوران ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی تاکہ کوئی بھی بچہ اس قومی مہم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے والدین کا تعاون انتہائی ضروری ہے، اس لیے تمام والدین اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں اور ضلع انتظامیہ و محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع نصیر آباد کو پولیو فری بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت جاری کی کہ پولیو مہم کے دوران تمام ٹیموں کی کارکردگی کی موثر مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے، کسی بھی علاقے کو نظر انداز نہ کیا جائے، جبکہ ٹیموں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پولیو ٹیموں کے ساتھ پولیس کے جوان تعینات کیے جائیں گے جو بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہوئے ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے تاکہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہو اور ضلع نصیر آباد سے پولیو کے مکمل خاتمے کے قومی مقصد کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4041/2026
سبی، 14 مئی۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق خواتین کی معاشی اور ڈیجیٹل بااختیاری کو یقینی بنانے کے لیے کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے محکمہ سماجی بہبود اور وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ای لرننگ سے متعلق ایک روزہ ورکشاپ میں شرکت کی۔ ورکشاپ کا انعقاد کمشنر آفس سبی کے آئی ٹی ایکسپرٹ اور ماسٹر ٹرینرز نے متعلقہ محکموں کے اشتراک سے کیا۔واضح رہے کہ کمشنر سبی ڈویڑن اسداللہ فیض کی جانب سے ڈویڑنل پبلک اسکول سبی میں “بااختیار خواتین سینٹر” قائم کیا گیا ہے۔ اس سینٹر کا بنیادی مقصد گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو ایک جامع سہولت مرکز فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی مصنوعات کو ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مارکیٹ میں فروخت کر سکیں، کاروباری روابط استوار کر سکیں اور معاشی طور پر خود کفیل بن سکیں۔سینٹر میں خواتین کو فری لانسنگ، ویب ڈیزائننگ اور انٹرپرینیورشپ کے حوالے سے مفت تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ ماسٹر ٹرینرز اور انسٹرکٹرز خواتین کو فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی مصنوعات کی آن لائن مارکیٹنگ اور فروخت کے طریقہ کار سے آگاہ کریں گے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سینٹر میں ابتدائی طور پر 14 کمپیوٹرز پر مشتمل لیب قائم کی گئی تھی، جسے اب توسیع دے کر 30 کمپیوٹرز تک بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ سہولت ہفتے کے ساتوں دن، 24 گھنٹے خواتین کے لیے مکمل طور پر مفت دستیاب ہوگی۔اس موقع پر کمشنر سبی ڈویڑن اسداللہ فیض نے کہا کہ گھروں میں کام کرنے والی اور مالی معاونت کی ضرورت رکھنے والی خواتین کو بلا سود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سینٹر خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جبکہ مستقبل میں اس منصوبے میں مزید سہولیات کا اضافہ بھی کیا جائے گا تاکہ سبی کی خواتین ڈیجیٹل دور میں موثر اور فعال کردار ادا کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4042/2026
کچھی 14مئی ۔ کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی گزشتہ روز ضلع کچھی کے علاقے میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے شہید ہونے والے پاک فوج کے جون کے بہادر جوان غلام فرید ڈومکی کے گھر پہنچ گئے جہاں انہوں نے شہید کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ اور سپرنٹنڈنٹ عبدالصمد کھوسہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کمشنر نے شہید غلام فرید ڈومکی کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی خصوصی دعا کی۔ انہوں نے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید غلام فرید ڈومکی نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ دے کر بہادری، جرات اور قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈکیتی جیسے افسوسناک واقعے میں شہادت پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے اور شہید کے اہل خانہ کے غم میں حکومت اور انتظامیہ برابر کی شریک ہے۔ کمشنر نصیر آباد صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ شہدائ کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، غلام فرید ڈومکی کی بہادری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ شہید کے خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ لواحقین نے کمشنر نصیر آباد ڈویژن اور ضلعی انتظامیہ کی آمد، ہمدردی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4043/2026
سبی، 14 مئی۔کمشنر سبی ڈویژن، اسداللہ فیض نے ضلع بھر کے مختلف بوائز و گرلز سکولوں کا دورہ کیا اور تعلیمی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران بوائز اینڈ گرلز ہائی سکول دہپال خورد، ریلوے گرلز ہائی سکول، غریب آباد گرلز ہائی سکول (پرائمری و ہائی سیکشن)، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول عظیم خان گہرامزئی اور ڈویژنل پبلک سکول کا معائنہ کیا گیا۔کمشنر اسداللہ فیض نے ان سکولوں کی نشاندہی کی جہاں عمارتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں، کلاس رومز خستہ حالت میں ہیں یا اضافی کمروں کی اشد ضرورت ہے۔ اس سروے کا مقصد جاپان کی ایک این جی او کے تعاون سے ضلع سبی کے تقریباً 20 سکولوں کی مکمل ازسرِ نو تعمیر کے لیے موزوں تعلیمی اداروں کا انتخاب کرنا ہے۔نشاندہی کے عمل کی تکمیل کے بعد منتخب سکولوں کی فہرست متعلقہ حکام کو ارسال کی جائے گی، جس کے بعد باضابطہ تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت پرانی اور بوسیدہ عمارتوں کو مسمار کرکے جدید طرز کے نئے تعلیمی بلاکس تعمیر کیے جائیں گے۔اس موقع پر کمشنر اسداللہ فیض نے کہا کہ جاپان کی فنڈنگ سے سبی کے 20 سکولوں کی نئی تعمیر ضلع کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف طلبہ کو بہتر اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آئے گا بلکہ خصوصاً گرلز سکولوں کی بہتری سے بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4044/2026
جعفرآباد14مئی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں جاری تدریسی عمل، تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، اساتذہ کی حاضری، تعلیمی معیار کی بہتری اور اسکولوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، ایگزیکٹو انجینئر عرفان علی راجپوت، محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، تدریسی معیار کو مزید موثر بنانے، اساتذہ کی ذمہ داریوں اور جاری ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومتِ بلوچستان تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع بھر میں تدریسی عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ بچوں اور بچیوں کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا، غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ سرکاری فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں کے مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت مختلف اسکولوں کی نئی عمارتوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ بہتر ہوگا بلکہ طلبہ و طالبات کو تعلیم کے حصول میں درپیش مشکلات کا بھی موثر خاتمہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور رفتار پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع جعفرآباد میں تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط، فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4045/2026
کوئٹہ 14 مئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیرِ صدارت 18 مئی سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈپٹی ڈی ایچ او، آغا خان ٹیم کے اراکین، ڈی ای او سی اور ای او سی ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلا کر باقاعدہ مہم کا افتتاح کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع کوئٹہ میں جاری مہم کے دوران 4 لاکھ 27 ہزار 612 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہم کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیلئے 1420 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ رہ جانے والے بچوں کی سو فیصد کوریج یقینی بنانے کیلئے خصوصی حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے، جبکہ اسکولوں میں فکسڈ سائٹس قائم کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک رسائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ مہم کی کامیابی کیلئے سخت مانیٹرنگ پلان ترتیب دیا گیا ہے اور تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں گے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ علمائ کرام، عمائدین، قبائلی مشران اور دیگر بااثر افراد سے رابطے بڑھا کر والدین میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ ہر بچے کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود پولیو ٹیموں کو ہر ممکن فوری معاونت فراہم کریں گی تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4046/2026
تربت 14مئی ۔ جامعہ تربت نے اپنے گریجویٹ پروگراموں میں معیار تعلیم اور انٹرنل کوالٹی ایشورنس کو یقینی بنانے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے پی ایس جی 2023 فریم ورک کے تحت پروگرام ریویو فار ایفیکٹیونیس اینڈ انہانسمنٹ (PREE) سائیکل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں 8 اور 9 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاسوں کے اختتام پر سائٹ وزٹس کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں مختلف تعلیمی و تحقیقی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔مختلف ریویو پینلز نے دو پی ایچ ڈی پروگراموں سمیت سات گریجویٹ پروگراموں کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیا۔ ہر پینل تین اراکین پر مشتمل تھا، جن میں ایک ایکسٹرنل ماہر بھی شامل تھا۔ جامعہ گوادر کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر محمد ارشاد بلیدی نے تمام ریویو پینلز میں ایکسٹرنل ماہر کے طور پر شرکت کی۔سائٹ وزٹس کے دوران ریویو پینلز نے سیلف اسیسمنٹ رپورٹس، پروگرام اور کورس فائلز، اسکالر فائلز، پروگراموں کے گورننس اور نگرانی کے نظام، لیبارٹری اور لائبریری سہولیات سمیت دیگر تعلیمی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پینلز نے تدریسی و تعلیمی عمل کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے فیکلٹی ممبران اور اسکالرز سے بھی ملاقاتیں کیں۔وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار اور ڈائریکٹر کیو ای سی کے ساتھ منعقدہ اختتامی اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے ریویو پینلز کے ارکان نے مجموعی طور پر تعلیمی و تدریسی معیار کو اطمینان بخش قرار دیا اور ان میں مزید بہتری لانے کے لیے اہم تجاویز اور سفارشات بھی پیش کیں۔ ان تجاویز میں گریجویٹ پروگراموں میں داخلہ کے طریقہ کار کو مزید منظم بنانا، ڈگریوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا، اسکالر ریکارڈز کی موثر دیکھ بھال، ایسے شعبہ جات میں نئے گریجویٹ پروگراموں کا آغاز جہاں پی ایچ ڈی فیکلٹی دستیاب ہو، گورننس اور تعلیمی نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانا اور ڈاکومنٹیشن کے طریقہ کار میں بہتری لانے کے علاوہ لیبارٹری، لائبریری اور ڈیجیٹل و انٹرنیٹ سہولیات کو مزید بہتر بنانا شامل تھے۔وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے ریویو پینلز کی جانب سے پیش کی جانے والی تعمیری تجاویز کو سراہتے ہوئے ان پر عمل درآمد کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ڈاکٹر ریاض احمد نے تعلیمی سال 2025-26 کے دوران انٹرنل کوالٹی ایشورنس کو یقینی بنانے کے لیے PREE(پری) سائیکل کی کامیاب تکمیل میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ PREE (پری)سائیکل کی کامیاب تکمیل، معیاری تعلیم کے فروغ، انٹرنل کوالٹی ایشورنس کے نظام کو مضبوط بنانے اور اس میں مزید بہتری لانے کے لئے جامعہ تربت کے عزم کی عکاس ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4047/2026
قلات 14 مئی ۔ نیشنل ہائیوےاتھارٹی(NHA) کی زیر نگرانی تعمیر ہونیوالی 800 کلومیٹر دورویہ شاہراہ پرتعمیراتی کام تیزی سے جاری ہےیہ منصوبہ کراچی کوئٹہ اورچمن کوبراستہ قلات آپس میں جوڑ دے گاجوصوبے کے اہم ترین ٹرانسپورٹ کوریڈور کی صورت میں سے ایک بنائے گاڈی سی قلات منیراحمددرانی کے زیرصدارت نیشنل ہائی وے این 25 کو دورویہ کرنےکیلئےسروے میں رہ جانے والوں کومعاوضوں کی ادائیگی اراضیات ٹیوب ویلز درختوں کو شامل کرنے سےمتعلق اہم جائزہ اجلاس منعقدہوا۔اجلاس میں منصوبے کی پیشرفت اورمتاثرہ زمینداروںکے درخواستوں کاجائزہ لیکر اہم فیصلے کئے گئےاجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی ایس ڈی او پبلک ہیلتھ ہدایت اللہ بلوچ رینج فاریسٹ آفیسر حبیب لہڑی ظفراللہ این ایچ اے کے قانون گو قلات اورخالق آباد کے پٹواریوں نے شرکت کی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہا کہ درخواست گزاروَں کےجائز مسائل کے حل کے لیئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں اس سلسلے میں این ایچ اے اور محکمہ ریونیو مشترکہ سروے کرکے ایک جامع رپورٹ پیش کریں اس سلسلے میں کسی کیساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیجائیگی قلات کے عوامی حلقوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہےکہ 450 بلین لاگت کا روڈپراجیکٹ وزیراعظم شہباز شریف اورچیف سیکرٹری بلوچستان کی خصوصی توجہ کے بعد کوئٹہ کراچی روڈمنصوبہN-25 بلوچستان میں اقتصادی سرگرمیوں اور علاقائی روابط دونوں میں معاونت کرے گاجوپائیدار بنیادوں پر سماجی ومعاشی ترقی کی بنیادثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4048/2026
کوئٹہ 14مئی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمر دشتی نے ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں قائم ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سیکشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے انہیں کوئٹہ میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم، اراضی کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ریکارڈ کی شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اقدامات پر آگاہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے عوام کو تیز، شفاف اور آسان خدمات کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے جبکہ ریکارڈ کی حفاظت اور رسائی میں بھی بہتری آئی ہے۔سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمر دشتی نے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سیکشن کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی سہولیات کی بہتری اور نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4049/2026
ہرنائی 14مئی ۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں دو انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد ہوئے۔ ان اجلاسوں میں ضلع بھر میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کی مجموعی کارکردگی، عملے کی حاضری، اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔طبی مراکز میں اصلاحات اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے فیصلے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ضلع بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت (BHUs) کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور دیگر طبی حکام نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں ادویات کی مفت اور مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بامقصد حاضری کو مانیٹر کیا جائے غیر حاضر عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی -طبی مراکز میں صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنا کر مریضوں کو باعزت ماحول فراہم کیا جائے۔تعلیمی معیار کی بلندی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کی حکمت عملی اسی روز منعقدہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس میں محکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا محور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی اور اساتذہ کی حاضری رہا۔ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہتعلیمی اداروں میں تدریسی عمل میں تعطل کسی صورت قبول نہیں۔سکولوں میں پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔متعلقہ افسران باقاعدگی سے سکولوں کے فیلڈ وزٹ کریں تاکہ تعلیمی معیار کی حقیقی مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔انتظامی عزم اور عوامی شکایات کا ازالہ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے تمام محکمہ جاتی سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور فرض شناسی سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کا اولین مقصد عوام کے بنیادی مسائل کا ان کی دہلیز پر حل نکالنا ہے۔ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مانیٹرنگ کے عمل کو مزید سخت کرنے اور اداروں کی فعالیت کو موثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4050/2026
موسیٰ خیل14 مئی ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اچانک تحصیل کنگری کی یونین کونسل راڑہ شم کے مختلف مراکزِ صحت کا معائنہ کیا اس دوران انہوں بی ایچ یو اسحاق شاہ بی ایچ یو راڑہ شم بی ایچ یو شم اور سی ڈی راڑہ شم کا اچانک معائنہ کیا۔اس اچانک معائنے کا بنیادی مقصد صحت مراکز میں عملے کی حاضری کو یقینی بنانا، ادویات کی دستیابی کا جائزہ لینا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانا تھا۔انہوں نے موقع پر موجود اسٹاف کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کریں تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس موقع پر انہوں نے ادویات کے اسٹاک، صفائی ستھرائی اور مریضوں کے لیے بنیادی سہولیات کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ڈاکٹر صاحب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے نظام میں بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایسے اچانک دورے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4051/2026
پنجگور۔ 13 مئی ۔: مکران یونیورسٹی پنجگور میں بی آر ایس پی رائز پروگرام کے زیر اہتمام جمعرات کے روز ڈیجیٹل دور میں فروغِ خواندگی کے عنوان سے ایک اہم سیمینار میں منعقدہ کیا گیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ گرلز انٹر کالج تسپ پنجگور کی پرنسپل، عملہ اور طالبات سمیت دیگر مکاتب فکر کے لوگوں نے بھی شرکت کی ۔منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں ماہرین تعلیم کے پینل کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی اور طالبات نے سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا۔ اس موقع پر مقررین نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے جدید تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ نئی ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کرکے اور اپنی تعلیمی تحقیق و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے خود کو ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھالیں۔پروگرام کا اختتام روایتی خواندگی اور موجودہ دور کے تکنیکی تقاضوں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔ یونیورسٹی کی سطح کے اس پروگرام میں کالج کی شرکت طالبات کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی جس نے انہیں ڈیجیٹل دنیا میں اپنے مستقبل کے تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4052/2026
کوئٹہ 14مئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے احکامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق کی زیر صدارت لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع بھر کے تمام سب ڈویژنز کے تحصیلداران، ریونیو اہلکاران، متعلقہ پرائیویٹ کمپنی لمیٹڈ کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران و ممبران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو آن لائن کیے گئے وارڈز اور موضع جات کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جبکہ مختلف علاقوں میں جاری کام کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں ان موضع جات اور وارڈز کا بھی جائزہ لیا گیا جہاں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں مختلف نوعیت کی مشکلات اور رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے فوری اور موثر حل کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بروقت اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن حکومت بلوچستان کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد عوام کو جدید، آسان اور شفاف سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں تمام متعلقہ افسران کو باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4053/2026
کوئٹہ 14مئی:۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے ۔کہ معیشت انسانی معاشرے کی اساس ہے اور حکومت کے تعاون سے ہم تجارت اور صنعت کی بنیادوں کو مستحکم بنائیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی آمدنی کا 90 فیصد سے زائد حصہ تاجروں اور صنعت کاروں کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے جس سے ان کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ تجارت کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ بحیثیت گورنر میں نے آپ کے مسائل وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر متعلقہ حکام تک پہنچا دیئے ہیں جن میں سے کچھ حل ہو چکے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔ بہت جلد میں آپ کی موجودہ تجاویز و شکایات وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال کو پیش کرونگا تاکہ حکومتی تعاون سے ایک پائیدار حل نکالا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے دن کوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے دورے کے موقع پر منقعدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے کیا۔ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے پیٹرن ان چیف جمعہ خان نورزئی، صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن ملاخیل، عبدالرحیم زیارتوال، پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند، رکن صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ، وفاقی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر غلام سرور براہوئی، اور کوئٹہ صنعت و تجارت کے صدر محمد ایوب میریانی سمیت بلوچستان کی صعنت و تجارت سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے احاطے میں نئے کانفرنس ہال کا افتتاح کیا۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تجارت اور اسمگلنگ کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ہمارے صوبے کے تاجر حضرات اپنی جائز تجارت کرتے ہیں اور ٹیکس بھی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ آج کی تقریب کا انعقاد بالکل بروقت اور مناسب ہے.اگرچہ پاکستان میں ایگریکلچر سیکٹر بھی بہت اہم ہے لیکن اس کے بعد صنعت اور تجارت آتے ہیں جو بیک وقت ترقی اور روزگار دونوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ایک دفعہ پھر ہم تاجر برادری میں عالمی وباءکورونا وائرس پھر بارڈرز کی بندش اور موجودہ خطے کی کشیدہ صورتحال سے تاجر برادری سب سے زیادہ متاثر ہو چکی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط اور مستحکم بنائیں۔ ہم باہمی مشاورت اور مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتے ہیں۔ نئی تجارتی پالیسیاں تشکیل دیتے وقت تاجروں اور صنعتکاروں کو ضرور اعتماد میں لیا جائے اور ان کی شکایات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بزنس کمیونٹی کیلئے نئی معاشی سرگرمیاں پیدا کرنا اور دیگر ممالک کی تجارتی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری میں کامیاب تقریب کے انعقاد پر تمام منتظمین اور شرکاء کے کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب کا اختتام مہمانان گرامی میں شیلڈز تقسیم کرنے پر ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4054/2026
کوئٹہ 14 جون ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیرِ آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے ضلع بارکھان کے علاقے نوشم میں سیکیورٹی فورسسز کے آپریشن کے دوران جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کے افسران اپنے سپاہیوں کے ہمراہ کئی عشروں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس جنگ میں اب تک ہزاروں فوجی جوانوں نے ملکی دفاع اور امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ میجر توصیف احمد بھٹی سمیت دیگر چار جوانوں نے قیام امن اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے خود کو قربان کرکے وہ شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنی بیرونی آقاوں کی ایماء پر صوبے کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جس میں انہیں کھبی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ سیکورٹی فورسسز اور دیگر شہداءکی عظیم قربانیوں سے انشاءاللہ جلد وطن عزیز میں ترقی، خوشحالی اور امن و امان کا روشن سورج طلوع ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4055/2026
کوئٹہ 14مئی ۔ صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی زمرک خان اچکزئی کی زیر صدارت اسمبلی کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین محمد خان لہڑی، مولوی نور اللہ اور صفیہ بی بی نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری، اسپیشل سیکرٹری کمیٹیز عبدالرحمٰن اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران بلوچستان کنٹرول منشیات (نشہ آور اشیائ) بل 2026ءپر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد منشیات کی روک تھام کا شعبہ صوبوں کے سپرد کیا گیا، جس کے تحت بلوچستان گورنمنٹ رولز آف بزنس 2012 میں ترمیم کرکے یہ ذمہ داری محکمہ ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس کو سونپی گئی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مجوزہ بل کا بنیادی مقصد منشیات، ممنوعہ اشیاء اور ان کی پیداوار، پراسیسنگ، اسمگلنگ اور ترسیل کی روک تھام کے لیے موثر قانونی نظام وضع کرنا ہے تاکہ صوبے میں منشیات سے جڑے جرائم اور سماجی برائیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ ایکسائز میں حال ہی میں کاونٹر نارکوٹکس ونگ قائم کیا گیا ہے جبکہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشنز کے قیام کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔حکام کے مطابق مجوزہ قانون کے ذریعے منشیات کے استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کو مزید منظم اور موثر بنایا جائے گا، جس کے لیے مضبوط صوبائی قانون سازی ناگزیر ہے۔اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ منشیات ایک ناسور ہے جو نوجوان نسل اور معاشرے کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ منشیات فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ صوبے کو اس خطرناک لعنت سے پاک کیا جا سکے۔چیئرمین نے مزید کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، علمائ کرام اور سماجی حلقوں پر زور دیا کہ نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تاکہ ایک صحت مند اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔اجلاس کے دوران مولوی نور اللہ نے کہا کہ اسلام ہر قسم کی منشیات اور نشہ آور اشیاء کی سختی سے ممانعت کرتا ہے کیونکہ یہ انسان کی عقل، صحت اور معاشرتی زندگی کو تباہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کے لیے دینی و اخلاقی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4056/2026
تربت14مئی ۔ کمشنر مکران ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت ڈویژنل ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مکران ڈویژن میں محکمہ صحت سے متعلق امور، درپیش مسائل اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ اور ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالکبیر زرکون نے بذریعہ آن لائن شرکت کی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور ہیلتھ کمیٹی کے دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران نو تشکیل شدہ ضلع تمپ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوروز یعقوب نے ضلع تمپ میں صحت عامہ کی صورتحال، جاری طبی سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے کمشنر مکران ڈویژن کو تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے اجلاس میں ضلع تمپ سے متعلق متعدد اہم تجاویز اور سفارشات پیش کیں، جن میں رورل ہیلتھ سینٹر تمپ کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں اپگریڈ کرنے، رورل ہیلتھ سینٹر سورو مند کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا درجہ دینے، طویل عرصے سے فنڈنگ کے منتظر تین کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی ملازمتوں میں توسیع، اور ہیلتھ پروفیشنلز بالخصوص ڈاکٹروں کے ہیلتھ پروفیشنل الاونس کو بی گریڈ سے بڑھا کر ڈی گریڈ میں شامل کرنے کی سفارشات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت سے متعلق دیگر اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمشنر مکران ڈویژن قادر بخش پرکانی نے ڈاکٹر نوروز یعقوب کی جانب سے پیش کردہ مسائل اور تجاویز کو اہم اور قابلِ توجہ قرار دیتے ہوئے انہیں اجلاس کے منٹس کا حصہ بنانے کی ہدایت کی، جس پر اجلاس کے تمام شرکاء نے اتفاق کیا۔اجلاس کے دوران کمشنر مکران ڈویژن نے ڈاکٹر نوروز یعقوب کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ اسی جذبے، دیانتداری اور خلوص کے ساتھ فرائض کی انجام دہی سے مکران ڈویژن، خصوصاً ضلع تمپ میں محکمہ صحت کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آئیں گی۔بعد ازاں کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران سے ان کے اضلاع میں صحت کی صورتحال کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا اور ان کے اضلاع کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے حوالے سے واضح حمکت عملی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4057/2026
تربت۔14 مئی ۔: ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن اسکولز مکران ڈویژن صابر علی کی صدارت میں ضلع کیچ کے میل اور فی میل کلسٹر ہیڈز کا ایک اہم اجلاس گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈویژنل ڈائریکٹر مکران صابر علی دانش، ڈی ای او تمپ منظور احمد، ڈی او ای میل کیچ ڈاکٹر اصغر علی اور ضلع بھر کے ڈپٹی ڈی او ایز نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد چیئرپرسن نے مختصر نوٹس پر تمام افسران کی بروقت آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کے دوران مالی سال 25–2024 کے کلسٹر بجٹ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی اور مالی سال 26–2025 کے بجٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایجوکیشن نے شرکائکو خریداری کے طریقہ کار، ضروری دستاویزات کی تیاری اور تمام قانونی ضوابط کو پورا کرنے کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔بعد ازاں ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن نے کلسٹر ہیڈز کے ساتھ درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ اجلاس چیئرپرسن کی جانب سے شکریہ کے کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4058/2026
کوئٹہ، 14 مئی۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے آج بروز جمعرات ایڈیشنل آئی جی آپریشن شہزاد اکبر کے ہمراہ ہیڈ کوارٹر بدر لائن کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری مرمت، تزئین و آرائش اور دفتری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران متعلقہ افسران نے انہیں جاری ترقیاتی سرگرمیوں، تعمیراتی معیار، سہولیات کی بہتری اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ایڈیشنل آئی جی پی نے مختلف شعبہ جات، دفاتر اور زیرِ تعمیر حصوں کا جائزہ لیتے ہوئے کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے کہا کہ ادارے کے دفاتر اور بنیادی سہولیات کی بہتری سے نہ صرف دفتری امور میں مزید بہتری آئے گی بلکہ افسران و اہلکاروں کو بہتر اور سازگار ماحول بھی میسر ہوگا۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ جاری مرمتی اور تزئین و آرائش کے تمام کام اعلیٰ معیار، مضبوط تعمیراتی اصولوں اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیے جائیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کو تاکید کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور کام کے ہر مرحلے میں معیار پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ادارے کی پیشہ ورانہ ضروریات کے مطابق بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ایڈیشنل آئی جی آپریشن شہزاد اکبر نے بھی جاری کاموں کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تمام تعمیراتی و انتظامی امور کو مربوط انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ ہیڈ کوارٹر بدر لائن کو جدید اور فعال دفتری سہولیات سے آراستہ کیا جاسکے۔دورے کے اختتام پر افسران نے متعلقہ عملے کو ہدایت دی کہ صفائی، نظم و ضبط، تعمیراتی معیار اور حفاظتی اقدامات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں احسن انداز سے مکمل ہوسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4059/2026
جعفرآباد14مئی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر عبدالغفار سولنگی، محکمہ صحت کے افسران، ڈاکٹرز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کو ضلع بھر میں شروع کی جانے والی انسداد پولیو مہم کے حوالے سے کیے گئے انتظامات، ٹیموں کی تعیناتی، سیکیورٹی اقدامات اور بچوں تک رسائی کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ آنے والی نسل کو ہمیشہ کے لیے معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی اور اس دوران کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ہر علاقے میں سو فیصد کوریج یقینی بنائی جائے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر پولیو کا خاتمہ ممکن نہیں، اس لیے شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسداد پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ افتتاحی تقریب کے اختتام پر ضلع بھر سے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4060/2026
کوئٹہ 14مئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے ائیرپورٹ روڈ کا ہنگامی دورہ کیا۔ دورے کے دوران کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر عابد علی اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ امیر حمزہ کے علاوہ دیگرافسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نے ائیرپورٹ روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں، نالیوں کی تعمیر، صفائی کی صورتحال اور تجاوزات کے خاتمے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ کنٹریکٹر سے ملاقات کرکے جاری منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی اور کام کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے برج کی تعمیر اور دیگر ضروری امور کے حوالے سے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کرنے کے احکامات بھی دیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ائیرپورٹ روڈ کو ہر صورت صاف، کشادہ اور تجاوزات سے پاک بنایا جائے تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں سہولت میسر آسکے اور شہر کا مثبت تشخص برقرار رہے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ صفائی، نکاسی آب اور تجاوزات کے خاتمے کے عمل میں مزید تیزی لائی جائے اور جاری ترقیاتی کام بروقت مکمل کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4061/2026
بارکھان: 14 مئی۔ ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور، بند اسکولوں کو فعال بنانے، طلبہ اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے، تعلیمی معیار بہتر بنانے اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، اسسٹنٹ کمشنر حسام الدین کاکڑ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل مسز بشرہ بخاری، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر طارق محمود، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر فیمیل مس شبانہ علی اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر آر ٹی ایس ایم محمد نسیم کھیتران سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بند اسکولوں کو جلد فعال بنا کر بچوں کو تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اساتذہ اور طلبہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے اور غیر حاضر عملے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں مختلف تعلیمی منصوبوں، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا جبکہ افسران نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق بریفنگ دے ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4062/2026
زیارت14 مئی ۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے گورنمنٹ پرائمری اسکول سسنک منہ کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے اسکول کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور اساتذہ و طلباء سے ملاقات کی۔ڈپٹی کمشنر نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ڈیوٹی پوری ذمہ داری، دیانتداری اور پابندی کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ طلبائ کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اساتذہ قوم کے معمار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، حاضری اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے طلبائ کو محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4063/2026
زیارت 14 مئی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں یونین کونسل منہ کے کلی سسنک منہ میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید طلال شاہ، حاجی راز محمد دمڑ،(UT) اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ کاشانی، مختلف ضلعی افسران اور دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے متعدد درخواستیں پیش کیں۔ جن مسائل کا تعلق ضلعی انتظامیہ سے تھا، ان پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے واضح احکامات ہیں کہ عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور عوام کی دہلیز پر جا کر ان کے مسائل سن کر فوری اقدامات کیے جائیں۔کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے بی ایس ڈی آئی فیز تھری اسکیمات کے تحت سسنک منہ کے لیے واٹر سپلائی منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سسن منہ کے لیے بی ایسڈی آئی سکیمات فیز تھری میں بشارت کاریز چشمہ محمد سلیم اور دیگر واٹر سپلائی اسکیمات کی منظوری کا بھی اعلان کیا تاکہ علاقے میں پانی کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جا سکیں۔انہوں نے گورنمنٹ مڈل اسکول سسنک منہ میں اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ علاقے میں مواصلاتی سہولیات بہتر بنانے کے لیے یوفون ٹاور کی منظوری کے سلسلے میں یوفون کمپنی کے حکام سے بات چیت کرنے کا بھی یقین دلایا۔ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ عوام کو زندگی کی تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، پانی، مواصلات اور دیگر شعبہ جات کی بہتری کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مسائل براہ راست سن کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے تاکہ عوام کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جن مسائل کا حل دفاتر میں ممکن ہوگا انہیں فوری طور پر حل کیا جائے گا، جبکہ اجتماعی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی مشکلات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر4064/2026
کوئٹہ،14 مئی: جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام پلانٹ سائنس اور زرعی و حیاتیاتی تنوع کے لیے خشک علاقوں کے انتظام: پائیدار ترقی کی جانب ایک قدم کے عنوان سے دوسری بین الاقوامی کانفرنس 18 اور 19 مئی 2026 کو ہائبرڈ موڈ میں منعقد ہوگی۔کانفرنس میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین بطور کلیدی مقرر شرکت کریں گے۔ قومی مقررین میں ڈاکٹر سرفراز احمد (PARC & IWMI)، ڈاکٹر ایم اسلام (PARC & ICARDA)، ڈاکٹر خیر محمد کاکڑ (حکومت پاکستان)، ڈاکٹر محمد اعظم کاکڑ (FAO، کوئٹہ)، پروفیسر ڈاکٹر خالد سیف اللہ خان (PMAS)، پروفیسر ڈاکٹر علی اکبر (یونیورسٹی آف سوات)، پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر مسعود احمد (AUP) اور پروفیسر ڈاکٹر رحمت اللہ قریشی (PMAS) شامل ہیں۔ جبکہ بین الاقوامی مقررین میں ڈاکٹر سید شجاعت علی زیدی (یونیورسٹی آف ٹیکساس، امریکہ)، پروفیسر ڈاکٹر جوآن ویلن (میک گل یونیورسٹی، کینیڈا)، پروفیسر ڈاکٹر عمران علی (ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چین) اور ڈاکٹر ہارونا جی یعقوبو (یونیورسٹی آف کیپ کوسٹ، گھانا) شامل ہیں۔کانفرنس میں 100 سے زائد محققین اور ماہرین اپنی تازہ تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے، جن میں نباتاتی علوم، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، زراعت، خشک علاقوں کے انتظام، موسمیاتی چیلنجز اور بلوچستان میں ادویاتی پودوں کی معاشی اہمیت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔کانفرنس کا مقصد تحقیقاتی تعاون کو فروغ دینا، علمی روابط کو مضبوط بنانا اور پاکستان بالخصوص بلوچستان کو درپیش ماحولیاتی اور زرعی چیلنجز کے پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔ اس بین الاقوامی فورم کے ذریعے ماہرین اور محققین کے درمیان علم و تجربات کے تبادلے سے مستقبل کی پالیسی سازی اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
خبر نامہ نمبر4065/2026
گوادر/جیوانی14مئی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن، ریاستی رٹ کے استحکام اور شہری مسائل کو اُن کی دہلیز پر حل کرنے کی پالیسی کے تحت بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کا تفصیلی جائزہ لینے اور فیز تھری میں عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اہم ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کے سلسلے میں تحصیل جیوانی میں ایک بھرپور کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کھلی کچہری ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف محکموں کے افسران، عوامی نمائندوں، معززین علاقہ، ماہی گیروں، نوجوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں عوام نے اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کے سامنے پیش کیے، جبکہ افسران نے مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زائد حسین، چیئرمین میونسپل کمیٹی جیوانی اکرم شہزادہ، تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی، ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز مشتاق احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز سب ڈویژن جیوانی بشیر کاکڑ، ڈی ایس پی پولیس زائد حسین، انجینیئر پبلک ہیلتھ ساجد سخی، انجینیئر بی اینڈ آر احسان بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ دوست محمد بلوچ، سینئر ایکسائز آفیسر مقبول بلوچ،سابق چیئرمین ایم سی گوادر شریف میاں داد، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی جیوانی عبید بلوچ، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، عسکری نمائندوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔کھلی کچہری میں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، بجلی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، اسکولوں اور ہسپتالوں کو درپیش مسائل، ماہی گیروں کے تحفظات، منشیات جیسے ناسور لعنت کی روک تھام، نوجوانوں کے لیے کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ، سیلاب سے متاثرہ بندات کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی بہتری سمیت اہم عوامی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔شرکاء نے آر ایچ سی جیوانی کی عمارت کی فوری مرمت، اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر، خستہ حال تعلیمی عمارتوں کی بحالی، جیوانی بائی پاس روڈ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ شہریوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت اسکولوں اور کالجوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے فلٹریشن اور آر او پلانٹس نصب کیے جائیں تاکہ آلودہ پانی کے باعث بچوں میں پھیلنے والی بیماریوں کا سدباب ممکن بنایا جا سکے۔ماہی گیروں اور مقامی شہریوں نے غیر قانونی ٹرالنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ فشریز سے مطالبہ کیا کہ سمندری حیات کے تحفظ اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے لیے ٹرالنگ کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔کھلی کچہری میں اسکولوں کی سولرائزیشن، طلبہ و طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ سہولیات اور بسوں کی فراہمی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری، اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق دیگر ترقیاتی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی واضح ہدایات کے مطابق ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا، مسائل کو براہِ راست سننا اور فوری حل کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر4066/2026
نصیرآباد/اُستامحمد14 مئی:ڈی جی کموڈٹی مینجمنٹ شجاعت علی کھوسو کی سربراہی میں فلور ملز، رائس ملز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال اور ڈائریکٹر سی ایم ڈی نثار احمد مستوئی نے بھی شرکت کی اجلاس کے دوران شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ حکومتِ بلوچستان نے گندم کی دوسرے صوبوں کو ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ صوبے میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے حکام کے مطابق حکومت نے محکمہ کموڈٹی مینجمنٹ کو نجی ایگریگیٹرز کے ذریعے 5 لاکھ بوری گندم خریدنے کا ہدف دیا ہے، جبکہ سرکاری سطح پر گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہیاجلاس میں فلور ملز، رائس ملز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری کے نمائندوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گندم کی خریداری کے عمل میں تاخیر کے باعث سندھ اور خیبرپختونخوا سے آنے والے خریدار بڑی مقدار میں گندم خرید کر لے گئے۔ مزید یہ کہ دفعہ 144 کے نفاذ میں بھی تاخیر ہوئی، جس کے باعث غیر قانونی ترسیل کو بروقت روکا نہ جا سکا شرکاء نے نشاندہی کی کہ بعض عناصر غیر معروف راستوں کے ذریعے گندم کی دوسرے صوبوں میں منتقلی جاری رکھے ہوئے ہیں جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایس پی اُستامحمد کو صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ بارڈرنگ پوسٹس پر نگرانی سخت کی جا سکے اور گندم کی غیر قانونی ترسیل کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے حکام نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر فلور ملز، رائس ملز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ محکمہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور حکومت کے گندم کے اسٹریٹیجک ریزرو کے ہدف کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں۔
خبر نامہ نمبر4067/2026
اسلام آباد، 14 مئی:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور ہدایات کے مطابق بلوچستان کو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (BBoIT) کے زیر اہتمام، پاکستان-چین اکنامک اینڈ کلچرل کونسل (PCECC) کے اشتراک سے“بلوچستان انویسٹمنٹ کانفرنس 2026”کامیابی کے ساتھ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا عنوان“سرمایہ کاری کا فروغ، صلاحیتوں کو خوشحالی میں تبدیل کرنے کا عزم”تھا، جس میں وفاقی و صوبائی حکام، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، سفارتی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے خطاب میں بلوچستان کی ترقی، سی پیک منصوبوں، علاقائی روابط اور قومی اقتصادی استحکام میں بلوچستان کی کلیدی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک بلوچستان اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے نئی راہیں کھول رہا ہے جبکہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جو سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات، توانائی، زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، سیاحت اور صنعتی شعبوں میں صوبے کی غیر معمولی استعداد سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت، آسان کاروباری ماحول اور مؤثر پالیسی سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات کو تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جا سکیں اور انہیں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ سی پیک منصوبے بلوچستان کو علاقائی تجارت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ گوادر پورٹ مستقبل میں عالمی تجارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور خصوصی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان-چین اکنامک اینڈ کلچرل کونسل کے صدر بایزید کاسی نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور دوطرفہ سرمایہ کاری کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے اپنے خطاب میں بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، سرمایہ کاری دوست پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ کانفرنس کے دوران“سی پیک اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ذریعے بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا”کے موضوع پر خصوصی پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی، جس میں ماہرین نے معدنیات، توانائی، انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی، تجارت، سیاحت اور خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔
خبر نامہ نمبر4068/2026
کوئٹہ 14 مئی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوہٹہ مہراللہ بادینی نے نیو ٹراما سینٹر اسپنی روڈ کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، انتظامات اور مختلف شعبہ جات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ایمرجنسی وارڈ، ٹراما یونٹ، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، طبی آلات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مختلف شعبوں کی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ بھی لی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال میں صفائی، نظم و ضبط اور ایمرجنسی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
خبر نامہ نمبر4069/2026
سبی/بختیارآباد، 14 مئی:۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات پر بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تیسرے مرحلے کے آغاز اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی سربراہی میں بختیارآباد گورنمنٹ بوائز ہائی سکول میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔شرکاء نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے ابتدائی دو مراحل میں ضلع بھر میں متعدد نمایاں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے، جن سے زیرِ التوا عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی۔ عوام کا کہنا تھا کہ کئی دیرینہ منصوبوں کی منظوری اور تکمیل سے بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوئی اور علاقے میں ترقی کا نیا عمل شروع ہوا۔کھلی کچہری میں شہریوں نے بجلی کے ٹرانسفارمرز کی فراہمی، گیس و بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے، گیس پریشر میں اضافے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سرکاری سکولوں کی سولرائزیشن، شیلٹر لیس سکولوں کی تعمیر، سکولوں کی چار دیواری، لائبریری کے قیام اور پکی گلیوں کی تعمیر سمیت متعدد مطالبات پیش کیے۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے آر ایچ سی لہڑی کے لیے تین اضافی کمروں کی تعمیر اور پروٹیکشن بند سمیت متعدد منصوبے فوری طور پر منظور کیے، جبکہ متعلقہ افسران کو بعض منصوبوں کے سائٹ سروے کے احکامات بھی جاری کیے۔ سکولوں میں واش رومز کی تعمیر کے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔پانی کی کمی کے مسئلے پر انہوں نے متعلقہ افسران سے فوری رابطہ کرتے ہوئے مسئلے کے جلد حل کے احکامات جاری کیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار ہے اور کوئی بھی جائز مسئلہ حل کیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے علاقے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں سے نہ صرف عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ رہی ہیں بلکہ تیسرے مرحلے میں مزید فلاحی اسکیموں کی شمولیت سے ترقی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔آخر میں شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ پرانے اور دیرینہ مسائل کے عملی حل کی امید پیدا ہوئی ہے اور علاقے میں واضح مثبت تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر4070/2026
کوئٹہ14مئی:ہائی کورٹ بلوچستان کے احکامات کی روشنی اور وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایت پر میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کچلاک اور مغربی بائپاس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 5 غیر قانونی کرش پلانٹس کو سیل جبکہ 6 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی کرش پلانٹس ماحولیاتی آلودگی، انسانی صحت کو لاحق خطرات اور سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے تھے، جن کے خلاف ہائی کورٹ کی ہدایات پر سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کچلاک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ کارروائیوں کے دوران 2 غیر قانونی کرش پلانٹس کو سیل کیا گیا جبکہ موقع پر موجود 2 افراد کو گرفتار کرکے متعلقہ تھانے منتقل کردیا گیا۔ انتظامیہ نے پلانٹس میں استعمال ہونے والی مشینری اور دیگر سامان کا بھی جائزہ لیا۔دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزئی نے مغربی بائپاس کے علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 غیر قانونی کرش پلانٹس کو سیل کردیا۔ کارروائی کے دوران 4 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق مذکورہ پلانٹس بغیر اجازت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر چلائے جا رہے تھے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی کاروبار، ماحولیاتی آلودگی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکام کے مطابق آئندہ بھی ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو محفوظ اور صاف ماحول فراہم کیا جا سکے۔
HANDOUT NUMBER 2026/4071
Quetta: May, 14, 2026: The 2nd International Conference on“Plant Science and Management of Drylands for Agriculture & Biodiversity: A Step towards Sustainable Development”will be held on May 18–19, 2026 at the University of Balochistan in hybrid mode. The conference will feature national (Dr. Sarfraz Ahmad, PARC & IWMI; Dr. M. Islam PARC & ICARDA; Dr. Khair M. Kakar, Govt of Pakistan; Dr. M. Azam Kakar, FAO, Quetta; Pro. Dr. Khalid Saifullah Khan, PMAS; Pro. Dr. Ali Akbar, University of Swat ; Prof. Dr. M. Arif, AUP; Dr. Masood Ahmed, AUP; Pro. Dr. Rahmatullah Qureshi, PMAS and international (Dr. Syed Shujaet Ali Zaidi, University of Texas, USA; Professor Dr. Joann Whalen, McGrill University, Canada; Professor Dr. Imran Ali, Southwest University of Sc. And Technology. China; Dr. Harunna G. Yakubu, University of Cape Coast, Ghana) keynote speakers and more than 100 presenters sharing their latest research on plant sciences, biodiversity conservation, agriculture, dryland management, climate challenges, and the economic potential of medicinal plants in Balochistan. The conference aims to promote research collaboration, academic networking, and sustainable solutions for environmental and agricultural challenges facing Pakistan, particularly Balochistan.
HANDOUT NUMBER 2026/4072
Islamabad, May 14, 2026:In line with the vision and directives of Chief Minister Balochistan, Mir Sarfraz Bugti, an important step towards transforming Balochistan into a hub for domestic and foreign investment was taken through the successful organization of the “Balochistan Investment Conference 2026” by the Balochistan Board of Investment & Trade (BBoIT) in collaboration with the Pakistan-China Economic and Cultural Council (PCECC) at a local hotel in Islamabad.The conference was held under the theme “Fostering Investment, Transforming Potential into Prosperity” and was attended by federal and provincial officials, investors, business leaders, diplomatic representatives, and distinguished personalities from various sectors.Federal Minister for Planning, Development and Special Initiatives, Mr. Ahsan Iqbal, attended the event as the Chief Guest. In his address, he highlighted the significance of Balochistan in the country’s development, CPEC projects, regional connectivity, and national economic stability. He invited investors to capitalize on the vast opportunities available in Balochistan and assured them of the government’s full support.He stated that CPEC provides a pathway for the development of both Balochistan and Pakistan, adding that the federal government is utilizing all available resources to ensure the province’s progress and prosperity.Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment & Trade, Mr. Bilal Khan Kakar, stated that Balochistan is Pakistan’s largest and resource-rich province, offering immense investment opportunities. He emphasized that the province possesses extraordinary potential in minerals, energy, agriculture, livestock, fisheries, tourism, and industrial sectors.He further noted that the Government of Balochistan is providing investors with one-window facilitation, a business-friendly environment, and effective policy support. In this regard, a Business Facilitation Center has also been established to ensure that investors and business communities receive all necessary services under one roof without unnecessary hurdles.Mr. Bilal Khan Kakar added that CPEC projects are playing a vital role in transforming Balochistan into a center of regional trade and international investment, while Gwadar Port holds the potential to emerge as a major global trade hub in the future. He further highlighted that Special Economic Zones (SEZs) are being developed with investor-friendly incentives and facilities, while enhancing the confidence of local and foreign investors remains a top government priority.President of the Pakistan-China Economic and Cultural Council, Mr. Bayazeed Kasi, stressed the importance of further strengthening economic cooperation between Pakistan and China and promoting bilateral investment partnerships.Chief Executive Officer of the Balochistan Board of Investment & Trade, Mr. Qaim Lashari, highlighted Balochistan’s strategic geographic importance, natural resources, investor-friendly policies, and facilitation measures being provided to investors. He also briefed participants about the objectives and operational framework of the Business Facilitation Center.He stated that Balochistan possesses immense potential to play a key role in Pakistan’s economy and that the government is taking all possible measures to promote investment in the province.A special panel discussion titled “Unlocking Balochistan’s Economic Potential through CPEC & Strategic Investments” was also held during the conference. Experts discussed extensive investment opportunities in minerals, energy, infrastructure, industrial development, trade, tourism, and Special Economic Zones (SEZs).
خبر نامہ نمبر 2026/4073
گوادر/جیوانی 14 مئی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن اور صحت عامہ کے شعبے کی بہتری کے لیے جاری عملی اقدامات کے تحت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر کے ہمراہ رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) جیوانی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، طبی عملے کی کارکردگی اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے آر ایچ سی جیوانی کے مختلف شعبہ جات، جن میں او پی ڈی، ایمرجنسی سینٹر، لیبارٹری، فارمیسی اور ڈینٹل سیکشن شامل ہیں، کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے موجود تھا۔ حکام نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی کی صورتحال، ادویات کی دستیابی اور طبی آلات کی فعالیت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ظہور احمد بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت عوام کو معیاری، بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور بہتر علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مقامی سطح پر معیاری طبی خدمات میسر آسکیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، ڈاکٹرز کی تعیناتی، ادویات کی فراہمی اور جاری طبی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت گوادر محدود وسائل کے باوجود عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے اور دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے راشد بن مکتوم تحصیل ہسپتال جیوانی کی تکمیل شدہ عمارت کا بھی دورہ کیا۔ حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذکورہ ہسپتال فعال ہونے کے بعد جیوانی اور گردونواح کے عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔دورے کے دوران ڈاکٹر شیر دل بلوچ، آر ایچ سی انچارج ڈاکٹر ادریس بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
خبر نامہ نمبر 2026/4074
بارکھان، 14 مئی :ـڈپٹی کمشنر بارکھان جناب سعیدالرحمن کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور، بند اسکولوں کی بحالی، اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تعلیمی معیار کی بہتری اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، اسسٹنٹ کمشنر حسام الدین کاکڑ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل مسز بشرہ بخاری، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر طارق محمود، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر فیمیل مس شبانہ علی، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر آر ٹی ایس ایم محمد نسیم کھیتران سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ نے کہا کہ بند اسکولوں کو جلد از جلد فعال بنا کر بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اساتذہ اور طلبہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے اور غیر حاضر عملے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے تمام کلسٹر ہیڈز کو ہدایت جاری کی کہ ہر اسکول کو اس کی ضروریات کے مطابق بروقت اور منصفانہ بنیادوں پر سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی۔ مزید برآں ایسے اساتذہ جو اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا نہیں کر رہے، ان کے خلاف بھی ضابطے کے مطابق کارروائی اور تنخواہ میں کٹوتی کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
اجلاس کے دوران ان تعلیمی اداروں کی نشاندہی بھی کی گئی جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ جبکہ اساتذہ کی کمی ہے۔ اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے اسکولوں میں فوری طور پر اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنائی جائے گی تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں مختلف تعلیمی منصوبوں، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا جبکہ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق بریفنگ دی۔
خبر نامہ نمبر 4075/2026
ضلع چمن 14 مئی:ـاے ڈی سی چمن فدا بلوچ کی زیر صدارت 18 مئی سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ڈی سی کمپلیکس ہال میں آگاہی تقریب منعقد کیا گیا تقریب میں معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء کو پولیو کے نقصانات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فدا بلوچ نے 18 مئی سے شروع ہونے والے انسداد پولیو مہم کے دوران تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے ضرور پلائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے اس موقع پر انسداد پولیو مہم کے حوالے سے کیے گئے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، تربیت اور دیگر ضروری اقدامات پر اے ڈی سی چمن کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اے ڈی سی چمن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چمن میں آنے والے انسداد پولیو مہم کے حوالے سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تمام پولیو ٹیموں کی تشکیل اور تربیت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، اور مہم کے دوران ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی تاکہ کوئی بھی بچہ اس قومی مہم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے والدین کا تعاون انتہائی ضروری ہے، اس لیے تمام والدین اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور ضلع انتظامیہ و محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ضلع چمن کو پولیو فری بنایا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کے دوران تمام ٹیموں کی کارکردگی کی مؤثر مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے، کسی بھی علاقے کو نظر انداز نہ کیا جائے، جبکہ ٹیموں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام پولیو ٹیموں کے ساتھ پولیس کے جوان تعینات کیے جائیں گے جو کہ پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کریں گے اور اسطرح ہم ضلع کو پولیو فری بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے.






