6th-June-2026

خبرنامہ نمبر 4684/2026
کوئٹہ، 06 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے میں متاثر ہونے والی لیڈی ڈاکٹر کو اعلیٰ اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں اور خصوصی طبی عملے کی نگرانی میں کراچی روانہ کیا گیا جہاں انہیں ملک کے ممتاز طبی ماہرین کی زیر نگرانی علاج اور خصوصی نگہداشت فراہم کی جائے گی انسانی ہمدردی پر مبنی اس مشن کی قیادت کیپٹن علی آزاد کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کے علاج، بحالی اور فلاح و بہبود کی مکمل ذمہ داری اٹھا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے انہیں ہر ممکن معاونت، سہولت اور رہنمائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مریضہ کی صحت اور علاج سے متعلق پیش رفت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور حکومت کو مسلسل آگاہ رکھا جائے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تیزاب گردی کا یہ واقعہ نہایت افسوسناک، انسانیت سوز اور معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعے میں ملوث ملزم اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے اور حکومت بلوچستان قانون کی عملداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد، ہراسگی اور جرائم میں ملوث عناصر کے لیے بلوچستان میں کوئی گنجائش نہیں۔ حکومت خواتین کے تحفظ، وقار اور بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین انجام تک پہنچایا جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔ حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ متاثرہ خاندان کو انصاف، تحفظ اور ہر ممکن ریاستی معاونت فراہم ہو۔

خبرنامہ نمبر 4685/2026
کوئٹہ، 06 جون:صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سول اسپتال کوئٹہ میں زیر علاج تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر کے والد سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور متاثرہ خاندان کو حکومت بلوچستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو مزید بہتر اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں ملک کے ممتاز ماہرین کی زیر نگرانی علاج فراہم کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ مریضہ کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا منتقلی کے دوران ماہر ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ طبی عملہ بھی ہمراہ موجود رہا تاکہ ہر ممکن طبی نگہداشت یقینی بنائی جا سکے ایئر ایمبولینس مشن مکمل طور پر کامیابی سے انجام پایا بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کے علاج معالجے کے تمام اخراجات برداشت کر رہی ہے اور ان کی مکمل صحت یابی تک ہر ممکن طبی، انتظامی اور انسانی معاونت جاری رہے گی انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعہ میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی تھی تاہم بعد ازاں پولیس کارروائی کے دوران ملزم مارا گیا ہے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین ڈاکٹرز، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے صحت کے اداروں میں محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کو موثر بنایا جاررہا ہے تاکہ طبی عملہ بلا خوف و خطر خدمات انجام دے سکے بخت محمد کاکڑ نے اس افسوسناک واقعہ پر متاثرہ لیڈی ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

خبرنامہ نمبر 4686/2026
کوئٹہ، 06 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر کو فوری طور پر کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں جدید ترین طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے شاہد رند نے کہا کہ مریضہ کی کراچی منتقلی ایئر ایمبولینس کے ذریعے مکمل کی گئی، جس میں تربیت یافتہ طبی عملہ اور ماہر ڈاکٹرز ہمراہ موجود تھے تاکہ دوران سفر ہر ممکن طبی نگہداشت یقینی بنائی جا سکے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی مسلسل اس کیس کی نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔ حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کے علاج معالجے کے تمام اخراجات برداشت کر رہی ہے اور ان کی مکمل صحت یابی تک ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے، تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے تاکہ تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے تحفظ، بالخصوص ڈاکٹرز اور طبی عملے کی سیکیورٹی کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ایسے افسوسناک واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی شاہد رند نے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

خبرنامہ نمبر 4687/2026
کوئٹہ06 جون:: مشیر وزیراعلیٰ بلوچستان برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن روبینہ خالد سے اہم ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی خدمات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران مینا مجید بلوچ نے بلوچستان کے نو تشکیل شدہ اضلاع، بالخصوص تُمپ اور مَند میں نئے بی آئی ایس پی مراکز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صوبے بھر میں رجسٹریشن کے عمل کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے لیے خصوصی اقدامات کی درخواست بھی کی جہاں انٹرنیٹ رابطے کے مسائل کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔اس موقع پر مینا مجید بلوچ نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پسماندہ اور کمزور طبقات کیفلاح و بہبود کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک بھر میں لاکھوں مستحق خاندانوں کی معاونت کرکے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنا رہا ہے۔چیئرپرسن روبینہ خالد نے بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل اور پروگرام کی رسائی کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خبرنامہ نمبر 4688/2026
صحبت پور06 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں گزشتہ روز تحصیلدار صحبت پور نے شہر کے مرکزی بازار کا تفصیلی اور جامع معائنہ کیا۔اس دورے کا بنیادی مقصد سرکاری نرخ ناموں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینا اور بازار میں موجود ناجائز تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا تھا،معائنہ کے دوران مجموعی طور پر 34 مختلف دکانوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جہاں سرکاری نرخ ناموں کو باقاعدگی سے چیک کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ عوام کو مقررہ نرخوں پر معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گرانفروشی میں ملوث دکانداروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3450 روپے جرمانہ عائد کیا گیا اسی دوران 7 دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی گئی اور انہیں آئندہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے باز رہنے کی ہدایت دی گئی دیگر خلاف ورزیوں پر بھی جرمانے عائد کیے گئے تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسکے علاوہ بازار میں قائم ناجائز تجاوزات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا،سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر غیر قانونی طور پر سامان رکھنے والے افراد کو فوری طور پر تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ واضح کیا گیا کہ عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی اور شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ناجائز تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور مسلسل کارروائی جاری رکھی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے، منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے اور شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر 4689/2026
موسیٰ خیل 06 جون: ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے جمعہ کے روز ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک آفس کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے دفتر کے مختلف شعبوں اور بلڈنگ کا تفصیلی معائنہ کیا، جبکہ مین میڈیسن سٹور کی جانچ پڑتال بھی کی اس موقع پر ڈاکٹر باقر نے انہیں محکمانہ امور اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے سٹور میں موجود ادویات کے ریکارڈ اور سٹاک کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے سٹاک کی دستیابی کو مزید بہتر بنانے اور ادویات کی ایکسپائری تاریخوں کی سخت نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ لائیو سٹاک کے تمام وسائل کا مقصد مویشی پال حضرات کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے مزید کہا کہ لائیو سٹاک کا شعبہ مقامی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا مویشی پال حضرات کو بروقت طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور عوام کی خدمت کو اپنا مشن سمجھیں۔

خبرنامہ نمبر 4690/2026
گوادر06 جون: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر میں ڈینگی وائرس کی روک تھام، عوامی صحت کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے جامع ویکٹر کنٹرول مہم مؤثر انداز میں جاری ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر کی نگرانی میں شروع کی گئی اس مہم کے دوران فوگنگ، لاروا کے خاتمے اور بقایا اثر رکھنے والی حشرہ کش ادویات (Residual Insecticide Spraying) کے ذریعے متاثرہ اور حساس علاقوں میں بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ مہم کا پہلا مرحلہ 8 مئی 2026ء سے شروع ہوا جو 22 مئی 2026ء تک کامیابی سے جاری رہا۔عوامی صحت کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مہم کے دوران ضلع کے زیادہ خطرے والے علاقوں کو ترجیح دی گئی۔ نیا آباد وارڈ میں 1,020 گھروں، فقیر کالونی وارڈ میں 521 گھروں اور شمبے اسماعیل وارڈ میں 610 گھروں کا احاطہ کرتے ہوئے مؤثر اسپرے اور ویکٹر کنٹرول سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ اس دوران گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) اور رکن قومی اسمبلی حاجی ملک شاہ گورگیج کے تعاون نے مہم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ضلعی انتظامیہ نے مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ان علاقوں میں دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے جہاں بعض مقامات پر اسپرے کا عمل مکمل ہونا باقی تھا۔ اس اقدام کا مقصد فقیر کالونی اور شمبے اسماعیل وارڈ کے تمام رہائشی علاقوں کا مکمل احاطہ یقینی بنانا اور ڈینگی کے پھیلاؤ کے خطرات کو کم سے کم سطح پر لانا ہے۔دریں اثناء، پسنی میں ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کے تحت میونسپل کمیٹی کے تعاون سے فوگنگ مہم شروع کر دی گئی ہے، جبکہ اورماڑہ میں 22 اور 23 مئی 2026ء کو احتیاطی اسپرے کیا گیا۔ مزید برآں 4 جون 2026ء کو جیوانی میں بھی ویکٹر کنٹرول مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ عوامی صحت کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور ڈینگی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں اور اطراف میں پانی جمع نہ ہونے دیں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی ہدایات پر عمل کریں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق فوگنگ اور بقایا اثر رکھنے والی حشرہ کش ادویات کے اسپرے کی سرگرمیوں کو مرحلہ وار ضلع گوادر کی تمام یونین کونسلوں اور تحصیلوں تک توسیع دی جائے گی۔ اس سلسلے میں تمام میونسپل کمیٹیاں اور متعلقہ ادارے مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں تاکہ ضلع بھر میں ڈینگی سے بچاؤ، ویکٹر کنٹرول اور عوامی صحت کے تحفظ کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر 4691/2026
گوادر۔ 6 جون: ادارہ ترقیات گوادر اور گوادر پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے زیرِ زمین بجلی کیبل چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث ایک منظم گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ گوادر میں مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گوادر فلائٹ لیفٹیننٹ(ر) عطاء الرحمٰن کی خصوصی ہدایات پر ایکسئن الیکٹریکل جی ڈی اے سجاد زاہد اور ایس ایچ او گوادر شکیب ارسلان کی نگرانی میں مشترکہ کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے دوران زیرِ زمین بجلی کیبل چوری کرنے والے ایک منظم گروہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزمان گزشتہ کئی روز سے شہر کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین بجلی کیبلز چوری کرنے کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ خصوصاً جی ڈی اے اسپتال کے مین فیڈر سے منسلک زیرِ زمین کیبل کو مختلف مقامات سے کاٹ کر چوری کیا گیا، جس کے باعث اسپتال کی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور ہسپتال انتظامیہ، مریضوں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ملزمان کی سرگرمیوں کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس اور دیگر برقی سپلائی لائنیں بھی متاثر ہوئیں، بروقت کارروائی کے ذریعے نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا گیا بلکہ مزید تخریبی سرگرمیوں کو بھی روک دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے اس کامیاب کارروائی پر جی ڈی اے اور گوادر پولیس کی مشترکہ ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور عوامی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر کے انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی اور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر 4692/2026
کوئٹہ 06 جون:صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانیت سوز اور بزدلانہ اقدام نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے امن و وقار پر حملہ ہے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ادارے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو بہترین اور ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی بھی کمی نہیں آنے دیں تاکہ ان کا علاج مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔میر سلیم احمد کھوسہ نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور کسی بھی فرد کو معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ دے۔

خبرنامہ نمبر 4693/2026
چمن 6جون:اسسٹنٹ کمشنرامتیاز علی بلوچ نے افغان ہولڈنگ کیمپ کا دورہ کیا اور انہوں نے کیمپ میں موجود سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے انہیں کیمپ میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ افغان شہریوں کی اپنے وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اے سی چمن نے کیمپ میں موجود انتظامات کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واپس جانے والے افراد کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں اور تمام امور کو منظم انداز میں انجام دیا جائے۔

خبرنامہ نمبر 4694/2026
چمن 06 جون:ضلع چمن میں دست اور اسہال کے کیسز میں اضافے کی اطلاعات کے بعد محکمہ صحت نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے تمام متعلقہ ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس احمد کو صورتحال کا فوری طور نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کی مختلف ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر علاقے میں بھیجنے کی احکامات جاری کیے گئے جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر اویس احمد کی خصوصی ہدایات پر محکمہ صحت کی مختلف ٹیموں نے ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید احمد اچکزئی کی نگرانی میں چمن کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔تاکہ بروقت طبی امداد اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ صحت کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں غیر معیاری اور ملاوٹی اشیائے خورونوش خصوصاً برف، برف سے تیار کیے جانے والے گولے اور قلفیاں شامل ہیں۔ڈاکٹر رشید احمد اچکزئی اور ڈسٹرکٹ ایم او آئی عبدالخالق اچکزئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کریں، حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور غیر معیاری خوراک و مشروبات سے گریز کریں تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔محکمہ صحت کی ٹیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی علاقے میں دست، اسہال یا دیگر وبائی امراض کے کیسز سامنے آئیں تو فوری طور پر پرانے ڈی ایچ کیو ہسپتال یا ایم ایس ایف کے مراکزِ صحت سے رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت طبی امداد اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق عوامی تعاون، احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج ہی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

خبرنامہ نمبر 4695/2026
کوئٹہ، 5 جون:عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (BEPA) اور ریکوڈک مائننگ کمپنی (RDMC) کے اشتراک سے بیپا ہیڈ آفس، کوئٹہ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل بیپاظہور بلوچ تھے۔ تقریب میں ماحولیاتی آگاہی سیشن، شجرکاری مہم اور ماحولیاتی تحفظ و موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک واک کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر معاشرے کے مختلف طبقات نے بھرپور شرکت کی، جن میں نوجوانوں اور اسکولوں کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد شامل تھی۔ شرکاء نے ماحول دوست سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور ماحولیاتی تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔اپنے افتتاحی خطاب میں ڈی جی بیپا ظہور بلوچ نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس موقع پر ایک پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا۔آگاہی سیشن کے دوران مقررین، بالخصوص طلبہ و طالبات نے ماحولیات کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ماحولیاتی تعلیم کے فروغ کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی ماحولیاتیمعیارات کے مطابق عملی اقدامات اختیار کر کے ماحول کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔تقریب کا ایک اہم حصہ ”ماحولیات کے تحفظ کے لیے واک” تھی، جس میں بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے افسران و عملے، ریکوڈک مائننگ کمپنی کے نمائندوں، اور کریئیٹر اسکول اور فاؤنٹین اسکول کے اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے آگاہی پیغامات درج تھے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایک صاف، سرسبز اور پائیدار بلوچستان اور پاکستان کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی آگاہی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر 4696/2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا جن میں واٹر سپلائی اسکیم بھنڈ شریف،گورنمنٹ بوائز مڈل سکول ساون خان، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول وزیر خان، گورنمنٹ بوائز مڈل سکول حافظ لقمان سمیت دیگر اہم منصوبے شامل تھے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے لہٰذا ان منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل شفافیت اور معیار کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے بعد ازاں انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال صحبت پور کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہدایت کی کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی سستی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محکمہ صحت سے وابستہ تمام ڈاکٹرز اور عملہ اپنے فرائض نہایت ایمانداری ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 4697/2026
کوئٹہ، 6 جون: صوبائی مشیر ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیات نسیم الرحمٰن ملاخیل نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ ماحولیاتی چیلنجز، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور پانی کی قلت جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں شجرکاری مہم، فضائی اور زمینی آلودگی کی نگرانی، پانی کے وسائل کا بہتر انتظام، اور ماحول دوست پالیسی سازی شامل ہے۔ صوبے میں عوامی آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ ماحول سے متعلق شعور اجاگر کیا جا سکے۔نسیم الرحمٰن ملاخیل نے کہا کہ اس سال یومِ ماحولیات کا عالمی موضوع دنیا بھر سے پلاسٹک آلودگی کا خاتمہ ہے، جو ہماری صوبائی حکمت عملی کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا قدرتی تنوع، بشمول پہاڑ، صحرا، جنگلات اور ساحلی علاقے، نہ صرف مقامی حیات کو سہارا دیتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کے لیے بھی اہم ہیں۔ ان وسائل کا تحفظ ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء سے جُڑا ہے۔انہوں نے تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا، کاروباری طبقے اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ماحول دوست سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور حکومتی اقدامات کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت ماحولیاتی بہتری کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی، تاکہ بلوچستان کو ایک صاف، سبز اور تابناک مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 4698/2026
کوئٹہ، 06 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سول اسپتال کوئٹہ میں تیزاب گردی کے افسوسناک واقعہ کے دوران متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش میں خود بھی جھلسنے والے بہادر پیرا میڈیکس اسٹاف عبدالرزاق ترکئی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کے جذبۂ ایثار و قربانی کو خراج تحسین پیش کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نے عبدالرزاق ترکئی کی بہادری، فرض شناسی اور انسان دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک انسان کی جان بچانے کے لیے جس جرات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر اور پوری قوم کے لیے ایک روشن مثال ہے میر سرفراز بگٹی نے گفتگو کے دوران عبدالرزاق ترکئی کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین حالات میں انسانی جان بچانے کے لیے آگے بڑھنا غیر معمولی حوصلے اور اعلیٰ انسانی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایسے بہادر اور فرض شناس افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ عبدالرزاق ترکئی کے علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو انہیں کوئٹہ سے باہر کراچی سمیت ملک کے بہترین طبی مراکز میں بھی علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ ان کی مکمل صحت یابی یقینی بنائی جا سکے اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے عبدالرزاق ترکئی کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے باہمت اور انسان دوست افراد معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی خدمات اور قربانیاں ہمیشہ قابلِ احترام رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر 4699/2026
کوئٹہ: بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کرن بلوچ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں زیرِ علاج خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور متعلقہ حکام سے رابطہ کیا، انہوں نے واقعہ کی تفصیلات اور متاثرہ ڈاکٹر کے علاج و معالجے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متاثرہ ڈاکٹر کو صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔کرن بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر واقعے کے بعد حکومت نے بروقت اور مؤثر اقدامات کیےاور فوری طور پرمتاثرہ ڈاکٹر کو سرکاری خرچ پر علاج کیلئے کراچی بھجوایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور مستقبل میں ایسے انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

خبرنامہ نمبر 4700/2026
کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے گھناؤنے اور انسانیت سوز عمل کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی واقعے کے فوری بعد پولیس کو ملزم کی گرفتاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کی گئی اپنے جاری کردی بیان میں وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے فوری نوٹس لیکر پولیس سمیت انتظامیہ کو ملوث شخص کی گرفتاری کے ہدایت جاری کئے گئے پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کا تعاقب کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں ملوث ملزم ہلاک ہوگیا انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو بہتر اور فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے ائیر ایمبولینس مہیا کی گئی تاکہ ان کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا سکیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومت متاثرہ ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *