خبرنامہ نمبر4701/2026
کوئٹہ، 07 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سول اسپتال کوئٹہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے افسوسناک واقعہ کے دوران غیر معمولی بہادری، فرض شناسی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیاوزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عبدالرزاق ترکئی نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی فوری مدد کی اور مشکل ترین حالات میں جس جرات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین اور پوری قوم کے لیے قابلِ فخر ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ایسے افراد معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو ذاتی خطرات کی پروا کیے بغیر انسانی جان بچانے اور دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عبدالرزاق ترکئی کی بروقت کارروائی نے انسانیت دوستی، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بہترین مثال قائم کی ہے۔ ان کی جرات مندانہ خدمات کے اعتراف میں حکومت بلوچستان انہیں سول ایوارڈ سے نوازے گی تاکہ معاشرے میں ایثار، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے کو مزید فروغ دیا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بہادر اور فرض شناس افراد قوم کا فخر ہیں اور عبدالرزاق ترکئی کی جرات کو قومی سطح پر سراہا جائے گا انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کی جان و مال کے تحفظ اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ ایسے کردار معاشرے میں امید، ہمت اور انسان دوستی کی روشن مثال ہوتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر4702/2026
کوئٹہ، 07 جون:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء و فوکل پرسن ٹو چیف منسٹر سید اقبال شاہ کے بھائی سید ارشد حسین شاہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
خبرنامہ نمبر4703/2026
کوئٹہ، 07 جون:سول اسپتال کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے افسوسناک واقعہ کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے پرسنل اسٹاف افسر سید امین نے امدادی، طبی اور انتظامی اقدامات میں غیر معمولی طور پر متحرک کردار ادا کرتے ہوئے متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سید امین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر متعلقہ اداروں، محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری رابطے شروع کیے اور متاثرہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے آریا اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات مکمل کرائے۔ بعد ازاں ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے انہیں مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے سید امین نے واقعہ میں ملوث ملزم کی گرفتاری کے لیے بھی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ رکھا، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ملزم کا تعاقب کیا اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی جان بچانے کی کوشش کے دوران زخمی ہونے والے سول اسپتال کوئٹہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی کو بھی فوری طور پر آریا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے مکمل علاج اور طبی نگہداشت کے انتظامات کیے گئے۔ عبدالرزاق ترکئی کی غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی کے اعتراف میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان بھی کیا ہے سماجی، عوامی، طبی اور صحافتی حلقوں نے واقعہ کے بعد سید امین کی مؤثر رابطہ کاری، فوری فیصلوں اور مسلسل نگرانی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں ان کی پیشہ ورانہ کاوشوں کے باعث متاثرین کو بروقت طبی امداد، بہتر علاج معالجے اور انتظامی معاونت کی فراہمی ممکن ہوئی۔ حلقوں نے کہا کہ ایسے مواقع پر ذمہ دارانہ اور فوری ردعمل عوامی خدمت کے جذبے کا عملی مظہر ہے سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور ان پر عملدرآمد کے لیے سید امین کی متحرک کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عوامی فلاح و بہبود اور ہنگامی حالات میں اسی جذبے کے ساتھ خدمات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر4704/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور معاشرتی اقدار پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین، خاص طور پر فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والی ڈاکٹرز پر اس طرح کے وحشیانہ حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحاؤں پر اس قسم کے حملے کسی بھی مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک ہیں، اور صنفِ نازک بالخصوص فرض شناس خواتین افسران کو اس طرح نشانہ بنانا بزدلی کی انتہا ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے جدید خطوط پر تفتیش کی اور چند ہی گھنٹوں میں ملزم کا سراغ لگا کر اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ پولیس کی یہ بروقت اور تندہی سے کی گئی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں قانون کی بالادستی قائم ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ صوبائی مشیر نے افسوسناک واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو بہتر علاج معالجے کی فراہمی کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کے احکامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام انسانی زندگیوں کے تحفظ کے حوالے سے ان کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتِ بلوچستان خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد، ہراسانی یا تیزاب گردی جیسے جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت ایسے درندوں کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے قانون کو مزید سخت کرے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی بھی عورت کی زندگی اور مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کے اہلخانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ زخمی لیڈی ڈاکٹر کو جلد اور مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔
خبرنامہ نمبر4705/2026
اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان اچکزئی نے سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سفاکانہ فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ ایک معالج پر حملہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے اور انسانی اقدار پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مجرمانہ اقدامات کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں اور ان میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔عبدالخالق خان اچکزئی نے واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین خصوصاً صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تشدد، انتہا پسندی اور خوف کی فضا پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں امن، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام دے رہے ہیں اور عوام کے اعتماد کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر4706/2026
کوئٹہ 07 جون۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کی بھیانک واردات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ درندہ صفت انسان نے معصوم خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر پتہ نہیں کس قسم کے غصے اور بدلے کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ یہ امر قابل تشویش ہے کہ معاشرے میں لوگ اپنی ضد، انا کی تسکین کیلئے بدلے کے طور پر انتہائی قدم اٹھا کر دوسرے انسان کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے، انہوں نے کہا کہ مجھے بار بار یہ احساس تکلیف میں مبتلا کر رہا ہے کہ اس معصوم بچی پر کیا گزر رہی ہوگی جب اس ظالم انسان نے خطرناک قسم کا تیزاب اس کے اوپر چھڑک دیا تھا، انہوں نے کہا کہ ناروا عمل ناقابل برداشت ہے اور اس طرح کے ذہنی مریض انسان کو جو سزا ملی وہ اسی کا حقدار تھا، میر محمد صادق عمرانی نے متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعا کی، انہوں نے اس واقعے میں جرآت کا مظاہرہ کرنے والے عبد الرزاق ترکئی کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ان کے اس بہترین کردار کو خوب سراہا۔
خبرنامہ نمبر4707/2026
صحبتِ پور۔اسسٹنٹ کمشنر سیف الدین کھوسہ نے صحبت پور کی بازار میں اپنے عملے کے ہمراہ شہر کے مرکزی بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر سیف الدین کھوسہ نے مختلف دکانوں کا معائنہ کیا، اشیاء کے معیار، صفائی ستھرائی اور بالخصوص میعادِ ختم اشیاء کوباریک بینی سے چیک کیا۔جبکہ تجاوزات کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی غیر معیاری اور زائدالمیعاد اشیاء کی فروخت کی روک تھام کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئیں۔بازار میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے سڑک کنارے قائم تجاوزات، ریڑھیاں اور غیر قانونی سائن بورڈز کو فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ اس موقع پر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو واضح طور پر متنبہ کیا گیا کہ وہ آئندہ تجاوزات سے اجتناب کریں بصورتِ دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دورے کے دوران مجموعی طور پر 53 یونٹس (دکانوں) کی جانچ پڑتال کی گئی۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر مجموعی طور پر 7,600 روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ 16 وارننگ نوٹس جاری کیے گئے ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہریوں کو معیاری اشیاء کی فراہمی، بازاروں میں نظم و ضبط اور ٹریفک کی بہتری کے لیے اسی طرح کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر4708/2026
جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت محکمہ صحت کی ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ صحت میں مختلف خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور امیدواروں کے انٹرویوز لیے گئے۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمیونٹی آفیسر (اے سی او)، ڈیٹا انٹری آپریٹر، میڈیکل ٹیکنیشن، پیشنٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنیشن (پی ٹی ٹی)، ڈسپنسر، ٹیکنیکل سینیٹری انسپکٹر، وارڈ بوائے، الٹراساؤنڈ ٹیکنیشن، ڈائیلاسس ٹیکنیشن سمیت دیگر آسامیوں کے امیدواروں کا میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر انٹرویو لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کا عمل مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ اہل اور قابل امیدواروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی واضح ہدایات ہیں کہ تمام تقرریاں میرٹ کے مطابق کی جائیں اور کسی قسم کی سفارش، دباؤ یا غیر ضروری مداخلت کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ انہوں نے کمیٹی اراکین پر زور دیا کہ امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین افراد کا انتخاب یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ محکمہ صحت عوام کو بنیادی اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مختلف آسامیوں پر اہل افرادی قوت کی تعیناتی سے سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ صحت میں خالی آسامیوں کو جلد از جلد پر کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران امیدواروں کے انٹرویوز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ بھرتیوں کے تمام مراحل کو قواعد و ضوابط اور میرٹ کے مطابق مکمل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر4709/2026
کوئٹہ، 7 جون: صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کے دلخراش اور افسوسناک واقعے پر گہری تشویشاور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس سفاکانہ، غیر انسانی اور مجرمانہ فعل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خواتین، خصوصاً شعبہ صحت سے وابستہ افراد پر حملے کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر عوام کی خدمت کے مقدس فریضے کی انجام دہی میں مصروف تھیں اور ان پر اس نوعیت کا حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔نسیم الرحمن ملاخیل نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے سول ہسپتال کوئٹہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کے اعلان کو خوش آئند اور قابل تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے کے دوران عبدالرزاق ترکئی نے غیر معمولی بہادری، فرض شناسی، انسان دوستی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر متاثرہ ڈاکٹر کی مدد کی اور ہنگامی صورتحال میں قابل ستائش کردار ادا کیا، جو معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔صوبائی مشیر ماحولیات نے کہا کہ ایسے بہادر اور فرض شناس افراد کی حوصلہ افزائی نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ معاشرے میں انسانیت، ایثار اور ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔انہوں نے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ نسیم الرحمن خان ملاخیل نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو یہ مشکل وقت صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
خبرنامہ نمبر4710/2026
نصیرآباد: سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ آر ڈی 102-گھڑنگ ریگولیٹر پر کیرتھر کینال کو فراہم کیے جانے والے پانی میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے باعث بلوچستان کے زرعی اور آبپاشی نظام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کیرتھر کینال ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کیرتھر کینال کا گیج 3.90 فٹ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں صرف 571 کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا تھا، جبکہ بلوچستان کے لیے مقررہ اور مجاز حصہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس صورتحال سے متعلق متعلقہ حکام اور اداروں کو باضابطہ طور پر آگاہ بھی کیا جا چکا ہے۔مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ سندھ کی آبپاشی اتھارٹیز نہری نظام کو اپنی ضروریات کے مطابق ریگولیٹ کر رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کو ارسا کی جانب سے منظور شدہ پانی کا جائز حصہ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو بلوچستان کے حصے کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی تھی، تاہم اس کے باوجود کیرتھر کینال میں پانی کے اخراج میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی سپلائی میں بلاجواز اور مسلسل کمی سے محکمہ آبپاشی بلوچستان کی منصوبہ بندی، آپریشنل سرگرمیوں اور زرعی ترقی کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان زرعی رقبے میں اضافے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاہم پانی کی قلت ان کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی روح اور شقوں کے بھی منافی ہیں، جس میں بلوچستان کے پانی کے حق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو فوری طور پر حکومت سندھ کے متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ آرڈی102- گھڑنگ ریگولیٹر پر کیرتھر کینال میں بلوچستان کے مختص کردہ پانی کی مکمل، بلاتعطل اور منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور پانی کے اخراج میں کی جانے والی بلاجواز کمی کا فوری سدباب کیا جائے۔ دورے کے دوران ایس ڈی او ایریگیشن محمد عابد سیال، سب انجینئر ریاض احمد میمن، ایس ڈی او ڈرینج خدابخش، سب انجینئر ڈیرہ مراد وسیم احمد، کینال سپروائزر رجب علی عمرانی، داروغہ ایریگیشن و جنرل سیکریٹری قربان علی جمالی، داروغہ عبدالرزاق جمالی، داروغہ میر خالد جان لہڑی، ٹنڈیل گڑنگ ریگولیٹر حبیب اللہ، محمد مراد، محمد پناہ اور دیگر متعلقہ عملہ بھی موجود تھا۔
خبرنامہ نمبر 4711/2026
کوئٹہ 7 جون :کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے فوکل پرسن سید اقبال شاہ کے بھائی، سید ارشد حسین شاہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ سید ارشد حسین شاہ کی وفات ایک افسوسناک سانحہ ہے، جس سے اہل خانہ اور عزیز و اقارب غم کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ انہوں نے مرحوم کی دینی، سماجی اور خاندانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک نیک سیرت اور بااخلاق شخصیت کے مالک تھے۔
حاجی علی مدد جتک نے مرحوم کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب کرے۔ انہوں نے سوگوار خاندان، بالخصوص سید اقبال شاہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام لواحقین کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ اس غم کی گھڑی میں وہ مرحوم کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
خبرنامہ نمبر 4712/2026
کوئٹہ 7 جون :صوبائی وزیر و پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی علی مدد جتک نے حلقہ پی بی 45 سریاب مشرقی کے علاقے بائی معروف ٹاؤن میں اپنے ترقیاتی فنڈز سے تعمیر ہونے والی سڑک اور نکاسی آب کے منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور علاقے کے مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے حلقے کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں پینے کے صاف پانی کا دیرینہ مسئلہ کافی حد تک حل کر دیا گیا ہے جبکہ اب سڑکوں کی تعمیر، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔اس موقع پر علاقہ مکینوں نے جاری ترقیاتی کاموں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بائی معروف ٹاؤن کی یہ سڑک کئی برسوں سے خستہ حالی کا شکار تھی جس کے باعث آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیا گیا، تاہم حاجی علی مدد جتک نے سڑک کی تعمیر کا آغاز کرکے عوام کے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کیا ہےمکینوں نے مزید کہا کہ نکاسی آب کے مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث بارشوں کے دوران پانی گھروں میں داخل ہو جاتا تھا، لیکن نئی نالیوں کی تعمیر سے یہ مسئلہ بھی حل ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ حلقے میں ترقیاتی کاموں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر 4713/2026
کوئٹہ، 07 جون 2026
حکومت بلوچستان نے سول اسپتال کوئٹہ کے ملازم عبدالرزاق ترکئی کو ان کی غیر معمولی جرات، بہادری اور فرض شناسی کے اعتراف میں سول ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق تیزاب گردی کے افسوسناک واقعہ کے دوران عبدالرزاق ترکئی نے بروقت اور جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی فوری مدد کی، جس دوران وہ خود بھی جھلس گئے۔ ان کا یہ اقدام انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ فرض شناسی کی روشن مثال ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زیر علاج اہلکار عبدالرزاق ترکئی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ان کی مزاج پرسی کی اور ان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سیکرٹریٹ کی جانب سے سول ایوارڈ کی نامزدگی کے حوالے سے سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے تاکہ مقررہ قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 4714/2026
کراچی، 07 جون 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز آغا خان اسپتال کراچی پہنچ کر کوئٹہ میں تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے میں متاثر ہونے والی زیر علاج لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹرز سے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی صحت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی لی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے والد اور اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعے نے پوری قوم کو افسردہ کیا ہے اور حکومت بلوچستان متاثرہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے میر سرفراز بگٹی نے زیر علاج لیڈی ڈاکٹر کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان علاج معالجے کے تمام مراحل میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ اور معالجین کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ان کی بہادری اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا، “آپ بلوچستان کی بہادر بیٹی ہیں، آپ تنہا نہیں ہیں پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔” انہوں نے کہا کہ پوری قوم متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے اور ان کے عزم و حوصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افسوسناک واقعے میں ملوث ملزم اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے، تاہم اس واقعے سے پیدا ہونے والے دکھ اور تکلیف کا مکمل ادراک ہے انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور خصوصاً پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والی خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ایسے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی مکمل صحت یابی تک ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور علاج، بحالی اور دیگر تمام ضروری معاملات میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں خواتین کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر 4715/2026
کراچی، 07 جون 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے میں متاثر ہونے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر غیر معمولی حوصلے اور عزم کے ساتھ صحت یابی کی جانب گامزن ہیں جبکہ حکومت بلوچستان ان کے علاج، بحالی اور مستقبل کی تمام طبی ضروریات کی مکمل ذمہ داری اٹھائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے آغا خان اسپتال کراچی میں زیر علاج لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی عیادت کی ان کی خیریت دریافت کی اور معالجین سے ان کی صحت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی اس موقع پر انہوں نے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کے والد اور اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور حکومت بلوچستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر سے تفصیلی بات چیت کی ہے اور ان کے حوصلے نے انہیں متاثر کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، “جس طریقے سے انہوں نے مجھ سے بات کی ہے اور جس عزم کے ساتھ وہ اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کر رہی ہیں وہ قابل ستائش ہے۔ ڈاکٹرز نے بھی ہمیں تسلی دی ہے کہ ان کی حالت مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور ان شاء اللہ وہ جلد مکمل صحت یاب ہو جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آغا خان اسپتال کے طبی ماہرین نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو بروقت پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیے جانے کے باعث ایک بڑے طبی نقصان سے بچایا جا سکا۔ ماہرین کے مطابق تیزاب سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں وقت انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور فوری طبی مداخلت کے باعث کسی اہم عضو کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے بچایا گیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پیپلز ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز ہی ایسے ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا اور آج اس سروس کے مثبت نتائج واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اگر طبی ماہرین کی رائے میں مستقبل میں متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو بیرون ملک علاج کی ضرورت پیش آئی تو حکومت بلوچستان اس سلسلے میں بھی ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے کہا، “دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر علاج کی ضرورت پڑی تو حکومت بلوچستان تمام اخراجات برداشت کرے گی۔ پلاسٹک سرجری، بحالی اور چہرے پر پڑنے والے اثرات کے علاج سمیت ہر مرحلے پر حکومت ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر حکومت سندھ اور بالخصوص محترمہ فریال تالپر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی تعاون فراہم کیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے نامزد خاتون رکن اسمبلی مسلسل اسپتال آکر مریضہ کی عیادت اور معاونت کر رہی ہیں، جس پر بلوچستان کے عوام ان کے شکر گزار ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ افسوسناک واقعے میں ملوث ملزم اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے، تاہم حکومت اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں خواتین کے تحفظ اور ان کے محفوظ کام کے ماحول کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر بیٹی کا تحفظ ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی مکمل صحت یابی تک ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 4716/2026
کراچی، 07 جون 2026
آغا خان اسپتال کراچی کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے میں متاثر ہونے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بروقت کراچی منتقل کیے جانے کے باعث کسی بھی اہم عضو کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو دی گئی طبی بریفنگ میں اسپتال کے ماہرین نے بتایا کہ تیزاب سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ ایسڈ برنز میں جسم پر اثرات تیزی سے مرتب ہوتے ہیں اور فوری طبی مداخلت نہ ہونے کی صورت میں زخموں کی شدت بڑھ سکتی ہے طبی ماہرین کے مطابق عام جلنے کے واقعات کے برعکس تیزاب سے ہونے والے زخموں میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت بہت محدود ہوتا ہے، اس لیے متاثرہ مریض کو جلد از جلد خصوصی طبی سہولیات سے آراستہ مرکز تک پہنچانا ناگزیر ہوتا ہے۔ ماہرین نے واضح کیا کہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بروقت کراچی منتقلی اور فوری طبی نگہداشت علاج کے عمل میں فیصلہ کن ثابت ہوئی آغا خان اسپتال کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے بریفنگ کے دوران اس امر کی نشاندہی کی کہ اگر متاثرہ مریضہ کو فوری طور پر خصوصی علاج کے مرکز منتقل نہ کیا جاتا تو تیزاب کے اثرات جسم کے اہم اعضاء کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت طبی رسپانس اور فوری منتقلی کی بدولت ممکنہ پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد ملی اور کسی عضو کے ضائع ہونے کے خطرات سے بچاؤ ممکن ہوا طبی ماہرین نے حکومت بلوچستان کی جانب سے پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے متاثرہ مریضہ کی فوری منتقلی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی طبی حالات میں تیز رفتار فضائی منتقلی مریضوں کی جان بچانے اور سنگین طبی نقصانات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ماہرین نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور انہیں جدید طبی سہولیات اور ماہر معالجین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ علاج اور بحالی کا عمل مثبت انداز میں جاری رہے گا طبی ماہرین کے مطابق اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہنگامی حالات میں بروقت طبی رسپانس، فوری منتقلی اور جدید طبی سہولیات تک فوری رسائی مریضوں کی جان بچانے اور مستقل جسمانی نقصان سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔






