11th-June-2026

خبرنامہ نمبر7506/2026
صحبت پور:11جون ۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ صدارت ضلعی ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں صحت عامہ کی مجموعی صورتحال اور طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں سرکاری صحت مراکز کی کارکردگی ادویات کی دستیابی حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات بیماریوں کی نگرانی کے نظام طبی عملے کی حاضری و غیر حاضری اور محکمہ صحت کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اس موقع پر جاری صحت کے پروگراموں کی پیش رفت اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ عوام کو معیاری بروقت اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام صحت مراکز میں طبی عملے کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور بلاجواز غیر حاضری کے رجحان کے خاتمے کے لیے موثر اور سخت اقدامات کیے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل خدمات کے معیار میں بہتری اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون ناگزیر ہے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صحت کے شعبے کی بہتری، عوام کی طبی سہولیات تک رسائی میں اضافے اور خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ مربوط اور مستقل کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7507/2026
ڈیرہ مراد جمالی11جون ۔: محرم الحرام کے سلسلے میں سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل، ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد محمد رمضان پلال، ڈی ایس پی شمن سولنگی موجود تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران، ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور ایس ایس پی نصیرآباد اسداللہ ناصر ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ہدایت کی کہ تمام ڈپٹی کمشنرز علماءکرام اور امن کمیٹیوں کے اراکین کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے محرم الحرام کے انتظامات کو حتمی شکل دیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈویڑن بھر میں محرم الحرام کے دوران 5941 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ایف سی اور بی سی کے پلاٹونز بھی مختلف اضلاع میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔کمشنر نے کہا کہ تمام اضلاع میں جوائنٹ کنٹرول رومز قائم کیے جائیں گے جہاں ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس سربراہان کی نگرانی میں تمام امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسپتالوں اور ٹراما سینٹرز میں ایمرجنسی نافذ رکھی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ مجالس اور ماتمی جلوس اسپیشل برانچ سے کلیئرنس کے بعد ہی برآمد ہوں گے اور تمام مجالس و جلوس سابقہ روایات کے مطابق منعقد کیے جائیں گے۔ ڈویژن بھر میں کسی بھی نئے جلوس یا مجلس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔کمشنر صلاح الدین نورزئی نے مزید ہدایت کی کہ ہائی ویز اور لنک روڈز پر سنیپ چیکنگ کا عمل مزید موثر بنایا جائے اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجالس کے دوران لوڈشیڈنگ سے حتی الامکان گریز کیا جائے تاکہ عزاداروں اور شرکاءکو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران مکمل ہم آہنگی، موثر سیکیورٹی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7508/2026
ڈیرہ مراد جمالی11جون ۔: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت بچوں کو پیٹ کے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، ماہرامراض اطفال ڈاکٹر عبدالقدیر ابڑو، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ، ثنائ اللہ چکھڑا اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پی ایم یو ہیلتھ صدام حسین نے مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اہداف، حکمت عملی اور انتظامات سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں بچوں کو پیٹ کے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے موثر اور مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت ضلع بھر میں دو لاکھ 15 ہزار بچوں کو حفاظتی ٹیبلٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ پیٹ کے کیڑوں، کمزوری اور غذائی قلت جیسے مسائل سے محفوظ رہ سکیں اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی بہتر صحت حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مہم کی ہر سطح پر موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقررہ ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکے اور کوئی بھی بچہ اس سہولت سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ باہمی تعاون کے ساتھ بچوں کو مختلف وبائی اور متعدی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران پر زور دیا کہ ضلع کی تمام یونین کونسلز میں اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور محنت کی جائے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ وریندر لعل نے کہا کہ صحت مند بچوں ہی سے ایک مضبوط، توانا اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے اس قومی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔ اجلاس میں مہم کے دوران عوامی آگاہی، اسکولوں میں بچوں تک رسائی اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7509/2026
نصیرآباد11 جون ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی صدارت میں سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، تحصیلداران معظم علی جتوئی، سید محمد شاہ، محمد ظریف گولہ، قائم خان بنگلزئی، خاوند بخش منجھو، صدورا خان ابڑو، پیر بخش کھوسہ اور محمد قاسم ڈومکی سمیت متعلقہ ریونیو افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں سرکاری واجبات کی وصولی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ تمام افسران نے فرداً فرداً اپنی کارکردگی اور وصولیوں سے متعلق بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے سرکاری واجبات کی وصولی کی موجودہ رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وصولی کے عمل کو مزید موثر اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر اور ریونیو افسران کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وصولی کے تمام مراحل کی کڑی نگرانی کی جائے، ٹیکس نادہندگان کی مکمل فہرستیں مرتب کی جائیں اور ہر زمینداروں کے الگ الگ چالان تیار کرکے واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی فہرستوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان کی روشنی میں مزید اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں زیر کاشت رقبے کے تناسب سے زمینداروں سے سرکاری واجبات کی مکمل وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف ریونیو ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، لہٰذا تمام زمیندار اور کاشتکار اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے واجب الادا رقوم بروقت جمع کرائیں۔وریندر لعل نے کہا کہ اب تک ضلع نصیرآباد میں سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے غیر تسلی بخش کارکردگی سامنے آئی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اپنے فرائض میں غفلت، کوتاہی یا سستی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی ریونیو ایکٹ کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے سرکاری واجبات کی وصولی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7510/2026
قلات11جون. ٹیچنگ ہسپتال قلات میں ہیومین ریسورس کی کمی دورکرنے اور میڈیکل آپریشنل پلان پر اہم پیش رفت سامنے آئے وزیراعلی بلوچستان اورچیف سیکرٹری کےے وژن کے عین مطابق ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی اورایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر نصراللہ لانگو کے سربراہی میں ٹیچنگ ہسپتال کے خالی آسامیوں پربھرتی کاعمل شروع کردیاگیا ہے ٹیچنگ ہسپتال میں مختلف آسامیوں پر ٹیسٹ انٹرویوز سلیکشن کمیٹی چیرمین ڈپٹی کمشنر منیردرانی کی سربراہی میں کمیٹی ممبران ایم ایس ڈاکٹرنصراللہ لانگو ڈی ایچ او ڈاکٹرانجم بلوچ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح امیدواروں سے انٹرویو لے رہے ہیں۔ٹیچنگ ہسپتال کے مجموعی طورہر 27 ٹیکنیکل آسامیوں پرانٹرویوزمنعقدہوریے ہیں ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کاکہنا ہیکہ ٹیچنگ ہسپتال قلات کے ان خالی آسامیوں پر تعیناتیوں سے ٹیکنیکل اسٹاف کی کمی پوری ہوگی جس سے ہسپتال کے سارے مشینری مکمل فعال ہوں گے قلات کے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیئے تمام تروسائل بروئے کار لارہے ہیں ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں عمل میں لارہے ہیں انٹرویو دینے والے کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7511/2026
کوئٹہ، 11 جون۔ ہائیکورٹ بلوچستان کی ہدایت پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت جوائنٹ روڈ پر دکانوں، ٹریفک کی روانی، تجاوزات اور دیگر شہری مسائل کے مستقل حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن زاہد خان، اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ، پاکستان ریلوے، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس، متعلقہ محکموں کے افسران اور سینئر وکلاءنے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جوائنٹ روڈ پر درپیش مختلف مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کے مستقل حل کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ریلوے سوسائٹی کے رہائشیوں کی بنیادی ضروریات اور مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ یہ ٹیم جوائنٹ روڈ پر قائم دکانوں، کاروباری سرگرمیوں، پارکنگ، ٹریفک کی صورتحال اور دیگر امور کا تفصیلی سروے کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔اجلاس میں تجاوزات اور غیر قانونی ریڑھیوں کے خاتمے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹریفک پولیس کو مشترکہ کارروائی کی ہدایت جاری کی گئی۔اجلاس میں جوائنٹ روڈ پر قائم دکانوں کی مکمل تعداد اور ان کی قانونی حیثیت کے تعین کے لیے جامع سروے کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ یہ سروے میٹروپولیٹن کارپوریشن، تحصیل انتظامیہ، پاکستان ریلوے اور جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل کیا جائے گا تاکہ سرکاری ریکارڈ اور زمینی حقائق کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سروے اور متعلقہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں ہائیکورٹ بلوچستان کے احکامات کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا تاکہ جوائنٹ روڈ پر پیدا ہونے والے مسائل کا مستقل اور موثر حل یقینی بنایا جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ روڈ کے مسئلے کے حوالے سے ہائیکورٹ بلوچستان کے احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے جوائنٹ روڈ پر قائم دکانوں کے لیے عوامی سہولت کے پیش نظر باتھ رومز کی تعمیر کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے واضح کیا کہ جوائنٹ روڈ کو پہلے ہی نو کارٹ زون قرار دیا جا چکا ہے، لہٰذا سڑک پر کسی بھی قسم کی ریڑھی یا غیر قانونی کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہوٹلوں کے سامنے گاڑیوں میں خدمات فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ اسکے باعث ٹریفک جام اور رش کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔کمشنر نے کہا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت توسیعی منصوبوں میں روڈ پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے اور اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی زمینوں کو کمرشل ایریا میں تبدیل کرنے کے حوالے سے مختلف فریقین کے تحفظات موجود ہیں، لہٰذا اس مسئلے کے حل کے لیے ایسا قابلِ عمل اور متوازن طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جس سے تمام متعلقہ فریق مطمئن ہوں۔اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے جوائنٹ روڈ کے مسائل کے حل، ٹریفک کی روانی کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7512/2026
کوئٹہ، 11 جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان فٹبال ٹیم کی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں تاریخی کامیابی اور چیمپئن بننے پر پوری قوم، کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اپنے ایک تہنیتی بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان فٹبال ٹیم کی یہ کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کی محنت، لگن اور قومی جذبے کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر قومی پرچم کو سربلند کرنا ہر پاکستانی کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس کامیابی نے ملک میں فٹبال کے روشن مستقبل کی نئی امید پیدا کی ہے وزیر اعلیٰ نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موثر قیادت، واضح وژن اور اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان فٹبال ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کا فروغ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے میر سرفراز بگٹی نے اس امید کا اظہار کیا کہ قومی فٹبال ٹیم مستقبل میں بھی اپنی شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے مزید بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کرے گی اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ قومی سطح پر مزید باصلاحیت کھلاڑی سامنے آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7513/2026
کوئٹہ، 11 جون ۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس سردار احمد حلیمی نے آئینی درخواست نمبر 1716/2023 (بشیر احمد بنام حکومت بلوچستان و دیگر) اور منسلک آئینی درخواست نمبر 2017/2023 (محمد شفیق بنام حکومت بلوچستان و دیگر) کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت کے حکم مورخہ 21 مئی 2026 کی تعمیل میں ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال لورالائی، ڈاکٹر انور مندوخیل عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کی نقل آئینی درخواست نمبر 2017/2023 میں درخواست گزار کے وکیل محمد رسول ناصر کو فراہم کر دی گئی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے ایم ایس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی تردید کی، جس پر عدالت نے ہسپتال میں طبی سہولیات، عملے کی دستیابی اور انتظامی امور کی مزید جانچ ضروری قرار دی۔عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لورالائی، نذیر احمد خجک کو ہدایت جاری کی کہ وہ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا دورہ کریں، وہاں تعینات ڈاکٹروں، نرسنگ اسٹاف، ٹیکنیشنز اور پیرا میڈیکل عملے کی حاضری کا جائزہ لیں، ادویات کے ذخیرے (میڈیسن اسٹور) کا معائنہ کریں اور تمام امور سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے عدالت میں پیش کریں۔بلوچستان ہائی کورٹ نے مذکورہ رپورٹ 18 جون 2026 کو دوپہر 12 بجے آئندہ سماعت کے موقع پر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7514/2026
دکی11جون ۔ : ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی کے ہمراہ ضلع بھر میں قائم مختلف نجی کلینکس اور طبی مراکز کا اچانک معائنہ کیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اس کارروائی کا مقصد عوام کو معیاری اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی طور پر چلنے والے طبی مراکز کے خلاف موثر کارروائی کرنا تھا۔معائنے کے دوران کلینکس کی رجسٹریشن، لائسنس، محکمہ صحت کی منظوری اور دیگر قانونی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعدد کلینکس اور طبی مراکز مطلوبہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اور محکمہ صحت کی اجازت کے بغیر خدمات فراہم کرتے ہوئے پائے گئے، جنہیں فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔ جبکہ بعض مراکز کے ذمہ داران کو ضروری دستاویزات مکمل کرنے اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے کہا کہ عوامی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت، لاپروائی یا غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر طبی خدمات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے تمام نجی کلینکس، لیبارٹریوں اور طبی مراکز کے مالکان پر زور دیا کہ وہ سرکاری قوانین اور محکمہ صحت کے ضوابط کے مطابق اپنی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا عمل مکمل کریں تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی مفاد کے تحفظ اور صحت کے شعبے میں قانونی معیار برقرار رکھنے کے لیے ایسے معائنے اور نگرانی کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7515/2026
کوئٹہ11جون۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میں شروعات سے خواتین کیلئے معیاری تعلیم اور ترقی کا پرزور حامی رہا ہوں۔ میں نے اپنے خاندان میں اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی زور دیا تاکہ وہ آگے جاکر نہ صرف دیگر خواتین کا احترام کریں نئی بلکہ نئی نسل کیلئے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کریں۔ آج ہم سب بشمول صوبائی وزرائ دختران بلوچستان لیڈی ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی اور عزتِ افزائی کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں۔ معاشی خودمختاری وہ بنیاد ہے جو کسی بھی عورت کو اپنے اور دوسروں کے حقوق و اختیارات محفوظ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ مجھے بلوچستان وومن پروموٹ ٹیلنٹ کے زیر اہتمام اس ایوارڈ پروگرام کا حصہ بننے پر فخر ہے جو ہمارے معاشرے میں خواتین کی خدمتوں، صلاحیتوں اور قربانیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایرانی کلچرل سینٹر میں بلوچستان وومن پروموٹ ٹیلنٹ کے زیر اہتمام دختران بلوچستان ایوارڈ پروگرام کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی وزراء میر سلیم کھوسہ، میر عاصم کرد گیلو، حاجی محمد خان لہڑی، حاجی برکت رند، ڈائریکٹر جنرل ایرانی کلچرل سینٹر ابو الحسن ، ایڈیشنل سیکرٹری راجہ عطر عباس، ڈاکٹر فارس رند اور سید شاہ زیب رضا سمیت سینئر لیڈی ڈاکٹروں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم شاندار قومی اقدار اور روایات کی پاسداری کرتے ہیں۔ ہم تمام خواتین چاہے وہ بطور ماں، بیٹی، بہن یا بیوی ہوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہماری خواتین ڈاکٹرز سچی مسیحا ہیں، دن رات مریضوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ آپریشن تھیٹرز سے لیکر ریسرچ لیبارٹریز تک، کمیونٹی کلینک سے لیکر دیہی مراکز صحت تک، وہ صحتمند اور خوشحال بلوچستان کے وڑن کے تحت شاندار خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ٹیلنٹ اور عزم میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے انہیں آگے بڑھنے کیلئے مساوی مواقع اور سہولیات فراہم کریں۔ آج ہم ان کی پیشہ وارانہ خدمات کو نہ صرف خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ ہم امید کا اظہار کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ مستقبل میں بھی اسی لگن کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ گورنر بلوچستان کی حیثیت سے، میں آپ کو اس پروگرام کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان غیر معمولی خواتین کی کارکردگی کو سراہتا ہوں۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے دختران بلوچستان لیڈی ڈاکٹرز اور زندگی دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین میں ایوارڈز جبکہ مہمانوں میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7516/2026
تربت، 11 جون ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی نے میونسپل کارپوریشن تربت کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آفیسر شعیب ناصر سے ملاقات کی اور شہر میں ٹریفک کی روانی، تجاوزات کے خاتمے اور شہری سہولیات کی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے چیف آفیسر اور اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سبزی منڈی اور دیگر اہم مقامات کا معائنہ کیا اور ٹریفک کے مسائل کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے نیو سبزی منڈی جوسک، ایگریکلچر سبزی منڈی اور ٹرک اڈہ کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر چیف آفیسر شعیب ناصر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کے اندر دو مختلف مقامات پر قائم سبزی منڈیوں کے باعث ٹریفک کا دباو غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے، جبکہ تنگ گلیوں اور سڑکوں کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جوسک میں قائم نئی سبزی منڈی مکمل طور پر تیار ہے اور اس کی فعالیت سے شہر کے ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ انجمن تاجران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے سبزی منڈی کو جلد از جلد نئی سبزی منڈی جوسک منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس عمل میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مزید برآں، انہوں نے شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کی بہتری کے لیے جامع مسجد کے سامنے قائم پارکنگ ایریا کو ٹرکوں اور دیگر بڑی گاڑیوں سے فوری طور پر خالی کرانے کے احکامات جاری کیے۔ڈپٹی کمشنر نے شہر میں پارکنگ کے مستقل اور موثر نظام کے قیام کے لیے مختص مقامات کا بھی جائزہ لیا اور چیف آفیسر کو ٹریفک پولیس کے تعاون سے ان پارکنگ ایریاز کو فوری طور پر فعال بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اس سلسلے میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ جلد از جلد ضلعی انتظامیہ کو پیش کرنے کی بھی تاکید کی تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر اور چیف آفیسر کو ہدایت دی کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر دکانداروں کی جانب سے رکھا گیا سامان فوری طور پر ہٹایا جائے اور تجاوزات کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک کے مسائل کے خاتمے سے شہریوں، بالخصوص خواتین، بزرگوں اور طلبہ کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ شہر کو تجاوزات اور ٹریفک کے مسائل سے پاک کرکے ایک منظم، خوبصورت اور عوام دوست شہری ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7517/2026
زیارت 11 جون ۔ڈپٹی کمشنر زیارت، عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت زرعی آمدن ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر زیارت (یو-ٹی) عبداللہ کاشانی، اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی شیر شاہ غلزئی، نور احمد تحصیلدار زیارت، عبدالوکیل تحصیلدار سنجاوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں مالی سال 26-2025 کے دوران ایگریکلچر انکم ٹیکس کولیکشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ایگریکلچر انکم ٹیکس وصولی کی انتہائی کم شرح جمع کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ریونیو عملے کو سخت وارننگ جاری کی اور ہدایت کی کہ مقررہ اہداف ہر صورت میں حاصل کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریونیو سٹاف اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے ہوئے فیلڈ میں متحرک کردار ادا کرے، نادہندگان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے واجب الادا ریونیو ٹیکسز بروقت ادا کریں۔ ریونیو کی ادائیگی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ یہ علاقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکومتی منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بروقت ادائیگی سے نہ صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ضلع کی مجموعی ترقی میں بھی معاونت حاصل ہوتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/7518
قلعہ سیف اللہ11جون:ـ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ جناب ساگر کمار کو ضلع سربراہ ای ایس ایف یونیسیف کی جانب سے یادگاری شیلڈ/تحفہ پیش کیا گیا۔تقریب کے دوران ضلع سربراہ ای ایس ایف یونیسیف نے ڈپٹی کمشنر کی ضلع میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں شاندار کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں یونیسیف کے تعاون سے چلنے والے منصوبے کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے تحفہ وصول کرتے ہوئے یونیسیف اور ای ایس ایف کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ کی ترقی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور یونیسیف کا تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں کو مزید بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7519
قلعہ سیف اللہ11جون: ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ جناب ساگر کمار کو ضلع سربراہ ای ایس ایف یونیسیف کی جانب سے یادگاری شیلڈ/تحفہ پیش کیا گیا۔تقریب کے دوران ضلع سربراہ ای ایس ایف یونیسیف نے ڈپٹی کمشنر کی ضلع میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں شاندار کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں یونیسیف کے تعاون سے چلنے والے منصوبے کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے تحفہ وصول کرتے ہوئے یونیسیف اور ای ایس ایف کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ کی ترقی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور یونیسیف کا تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں کو مزید بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کیا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/7520
کوئٹہ 12 جون:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بچوں سے مزدوری ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جو نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق سلب کرتا ہے بلکہ ان کی تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتا ہے انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ، صحت اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی بچہ غربت، مجبوری یا استحصال کا شکار نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بچوں کو مزدوری کے بجائے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہی ایک ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ حکومت بلوچستان تعلیمی سہولیات کی فراہمی، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور آگاہی مہمات کے ذریعے بچوں کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے میر سرفراز بگٹی نے والدین، اساتذہ، سماجی تنظیموں، نجی شعبے اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں سے مشقت کے خاتمے اور انہیں تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ بچوں کا تحفظ، تعلیم اور فلاح و بہبود ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہمیں مل کر ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر بچہ اپنے خوابوں کی تکمیل اور روشن مستقبل کی جانب اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7521
گوادر11جون: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت بی ایس ڈی آئی فیز-I اور فیز-II کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر محمد اکرم، ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر مقصود بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز مشتاق احمد، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج نصیر احمد بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر جنید کاشانی، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نجیب بشام اور عسکری نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں بی ایس ڈی آئی فیز-I اور فیز-II کے تحت مختلف شعبوں میں جاری ترقیاتی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکموں کے افسران نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ ایگزیکٹو انجینئرز بی اینڈ آر نے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے منصوبوں پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار، شفافیت اور ٹائم لائن کے مطابق مکمل کرنے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد از جلد ان منصوبوں کے ثمرات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے اور گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے اسی وژن کا عملی مظہر ہیں۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور بین المحکماتی رابطے کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار برقرار رہے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حکومت بلوچستان صوبے کے پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں میں ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری منصوبے گوادر میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت، کھیلوں اور سماجی شعبوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر گوادر نے تمام متعلقہ محکموں کو منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7522
گوادر11جون: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ضلع میں اراضی سے متعلق مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ جہانزیب شیخ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ کے ہمراہ موضع انکڑا جنوبی، انکڑا شمالی اور چٹی جنوبی کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کے ہمراہ مختلف مواضعات میں اراضی کی حد بندی، ریکارڈ کی درستگی، اوورلیپنگ اور گیپس سمیت دیگر تکنیکی مسائل کا موقع پر جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زمینوں کے ریکارڈ میں موجود تمام تضادات اور ابہامات کو جدید سروے اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر جلد از جلد دور کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔اس موقع پر تحصیلدار منیر احمد بلوچ اور متعلقہ ریونیو افسران نے نقشہ جات اور لینڈ ریکارڈ کے ذریعے ڈپٹی کمشنر اور ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کو مختلف مواضعات میں اراضی سے متعلق درپیش مسائل، حدود کے تعین، اوورلیپنگ اور گیپس کی نوعیت اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر یو ٹی اسسٹنٹ کمشنر طارق امام بلوچ ، اور یو ٹی نائب تحصیلداران بھی موجود تھے ۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ زمینوں کے درست ریکارڈ، شفاف حد بندی اور جدید لینڈ مینجمنٹ نظام کا قیام ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اراضی سے متعلق تمام مسائل کو قانون اور میرٹ کی بنیاد پر حل کرتے ہوئے عوام کو بہتر اور مؤثر ریونیو خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اراضی ریکارڈ کی درستگی نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کے بروقت اور شفاف نفاذ میں معاون ثابت ہوگی بلکہ زمینوں سے متعلق تنازعات کے خاتمے، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی اعتماد میں اضافے کا بھی سبب بنے گی۔ ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ زمینوں کے ریکارڈ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 2026/7522
کوئٹہ11جون:ـمعاون برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا ہے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر تاجر برادری، چیمبر آف کامرس اور ٹرانسپورٹ برادری کے نمائندوں کے ساتھ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمد شفقات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد تاجر برادری، ٹرانسپورٹ برادری اور چیمبر آف کامرس نے اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کاروباری طبقے، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور کاروباری ماحول کو محفوظ بنانا ہے۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان دشمن اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر صوبے کی معاشی شہ رگ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی عناصر تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں اور ترقی کا عمل سست پڑ جائے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود، امن و امان کے قیام اور معاشی استحکام کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی واضح ہدایات ہیں کہ کسی بھی شہری، تاجر یا کاروباری شخص کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔معاون برائے داخلہ نے کہا کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے، تاجر برادری اور عوام مل کر ان عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے جو پاکستان اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے خلاف سرگرم ہیں۔ انہوں نے تاجر برادری، چیمبر آف کامرس اور ٹرانسپورٹ برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مثبت تعاون اور ذمہ دارانہ طرز عمل سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی بلکہ بلوچستان کی معیشت مزید مستحکم ہوگی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی اور عوامی مفاد، امن و امان اور معاشی استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7523
خضدار 11 جون:_ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار میں ریٹائر ہونے والے پرنسپل ڈاکٹر منیر احمد سمالانی کے اعزاز میں الوداعی اور نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد زہری کے استقبالیہ کی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ تھے۔ ان کے ہمراہ ایس پی خضدار دوستین دشتی، سابق ڈی جی لوکل گورنمنٹ حاجی ظفر عزیز زہری، ایم ایس جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال خضدار ڈاکٹر سرمد سعید اعزازی مہمانوں میں شریک تھے۔کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے جھالاوان میڈیکل کالج کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ طلبہ کے لیے ڈاکٹریٹ کی تعلیم کا مرکز ہے انہوں نے کالج کے معیار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے ذاتی طور پر کالج کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ کمشنر ڈاکٹر طفیل بلوچ نے کہا کہ حکومت جھالاوان میڈیکل کالج کو ماڈل ادارہ بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ بلوچستان کے نوجوان یہاں سے اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم حاصل کر کے اپنے علاقے کی خدمت کر سکیں۔نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد زہری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا کہ وہ کالج کی بہتری کیلئے ٹیم ورک پر کام کریں گے۔ انہوں نے تربت میڈیکل کالج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوشش سے ہی کوئی ادارہ ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ جھالاوان میڈیکل کالج کو اپنا ادارہ سمجھ کر اس کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر ارشاد نے اپنے استاد ڈاکٹر منیر احمد سمالانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیاالوداعی خطاب میں ڈاکٹر منیر احمد سمالانی نے کہا کہ وہ جو منصب چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ اب اپنے شاگرد کے سپرد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تقریباً تمام طلبہ آج فیلڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا. تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر منیر احمد سمالانی کو یادگاری شیلڈز اور تحائف پیش کیے گئے جبکہ نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد زہری کو مبارکباد دی گئی شیلڈ پیش کیا گیا اور مہمانوں میں بھی اعزازی شیلڈ تقسیم کیا گیا۔
ڈویژنل انفارمیشن آفیسر شبیر احمد سمالانی، سابق ضلعی چیئرمین میر عبدالرحمن زہری، سابق زکوٰۃ چیئرمین عبدالرحمن زہری، انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک عبدالقدیر زہری پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد بنگلزئی حاجی محمد رمضان موسیانی سمیت دیگر معززین موجود تھے.

خبر نامہ نمبر 2026/7524
خضدار11 جون:ـجھالاوان میڈیکل کالج خضدار میں ریٹائر ہونے والے پرنسپل ڈاکٹر منیر احمد سمالانی کے اعزاز میں الوداعی اور نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد زہری کے استقبالیہ کی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ تھے۔ ان کے ہمراہ ایس پی خضدار دوستین دشتی، سابق ڈی جی لوکل گورنمنٹ حاجی ظفر عزیز زہری، ایم ایس جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال خضدار ڈاکٹر سرمد سعید اعزازی مہمانوں میں شریک تھے۔کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے جھالاوان میڈیکل کالج کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ طلبہ کے لیے ڈاکٹریٹ کی تعلیم کا مرکز ہے انہوں نے کالج کے معیار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے ذاتی طور پر کالج کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ کمشنر ڈاکٹر طفیل بلوچ نے کہا کہ حکومت جھالاوان میڈیکل کالج کو ماڈل ادارہ بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ بلوچستان کے نوجوان یہاں سے اعلیٰ معیار کی طبی تعلیم حاصل کر کے اپنے علاقے کی خدمت کر سکیں۔نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد زہری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا کہ وہ کالج کی بہتری کیلئے ٹیم ورک پر کام کریں گے۔ انہوں نے تربت میڈیکل کالج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوشش سے ہی کوئی ادارہ ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ جھالاوان میڈیکل کالج کو اپنا ادارہ سمجھ کر اس کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر ارشاد نے اپنے استاد ڈاکٹر منیر احمد سمالانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیاالوداعی خطاب میں ڈاکٹر منیر احمد سمالانی نے کہا کہ وہ جو منصب چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ اب اپنے شاگرد کے سپرد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تقریباً تمام طلبہ آج فیلڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر منیر احمد سمالانی کو یادگاری شیلڈز اور تحائف پیش کیے گئے جبکہ نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد زہری کو مبارکباد دی گئی شیلڈ پیش کیا گیا اور مہمانوں میں بھی اعزازی شیلڈ تقسیم کیا گیا۔
ڈویژنل انفارمیشن آفیسر شبیر احمد سمالانی، سابق ضلعی چیئرمین میر عبدالرحمن زہری، سابق زکوٰۃ چیئرمین عبدالرحمن زہری، انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک عبدالقدیر زہری پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد بنگلزئی حاجی محمد رمضان موسیانی سمیت دیگر معززین موجود تھے.

خبر نامہ نمبر 2026/7523
کوئٹہ11 جون:ـصوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ حکمران بادشاہ نہیں بلکہ عوام کے خادم ہوا کرتے ہیں ، دشمن عناصر اربوں ڈالرز لگا کر بلوچستان میں امن وامان کو تہہ و بالا کرنے کے لئے کوشاں ہیں تاہم عوام ، حکومت اوربزنس کمیونٹی مل کر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے ، ملک دشمن کاروبار کے نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران و ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس سے قبل بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی کی جانب سے جاری پہیہ جام اور شٹرڈائون ہڑتال کی کال موخر کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ہوم ) بلوچستان حمزہ شفقات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی بھی موجود تھے ۔ میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کے ساتھ کامیاب مذاکرات پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہم حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہیں بادشاہ نہیں ۔ ملک دشمن قوتیں بلوچستان میں تنصیبات ، سیکورٹی فورسز اور بزنس کمیونٹی و دیگر کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد کا حصول چاہتے ہیں تاہم ریاست حکومت بزنس کمیونٹی اور عوام مل کر ان کے عزائم کو ناپاک بنائیں گے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بزنس کمیونٹی کے تمام نکات پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے اگرچہ حکومت کے پاس تمام مسائل او رمشکلات کے حل کے لئے جادو کی چھڑی نہیں البتہ پھر بھی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ، دشمن ممالک بلوچستان میں اربوں ڈالرز لگا کر امن وامان کو تہہ و بالا کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ کاروبار و دیگر شعبوں کی بھی تباہی چاہتے ہیں ہم سب کو مل کر دہشت گردوں کو شکست دینا ہوگی احتجاج ہر ایک کا جمہوری حق ہے ، آئی جی سے کہوں گا کہ وہ جلد بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں، ہم بزنس کمیونٹی کی وفاقی حکومت کے حکام سے بھی بات کرائیں گے ، میں احتجاج موخر کرنے پر بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران و ممبران کا شکر گزار ہوں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *