خبرنامہ نمبر3680/2026
کوئٹہ، 6 اپریل ۔ بلوچستان کی تاجر تنظیموں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کے بعد کفایت شعاری اقدامات کی تائید کرتے ہوئے مارکیٹس اور ریسٹورنٹس حکومت کی تجویز کردہ اوقات کار کے مطابق بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کو انجمن تاجران بلوچستان، مرکزی انجمن تاجران، کوئٹہ چیمبرز آف کامرس، ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن اور شادی ہال ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور نمائندوں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال میں حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ توانائی کے ممکنہ بحران اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے پیش نظر مارکیٹس رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رات 11 بجے جبکہ اندرون بلوچستان رات 10 بجے بند کیے جائیں گے اس فیصلے کو قومی مفاد میں ایک اہم اور بروقت اقدام قرار دیا گیا، جس پر تاجر برادری اور حکومت کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان سمیت پورا خطہ ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، جس کے پیش نظر سنجیدہ اور موثر اقدامات پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے بعد توانائی بحران کے خدشات موجود ہیں اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مہذب اور منظم اوقاتِ کار رائج ہیں اور قومی مفاد کے تحت ہمیں بھی ان اصولوں کو اپنانا ہوگا وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں بحیثیت قوم ہمیں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے باشعور ہونے کا عملی ثبوت دینا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اس موقع پر تاجر تنظیموں کے نمائندگان نے کہا کہ انہیں موجودہ صورتحال کا مکمل ادراک ہے اور وہ حکومت بلوچستان کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تاجر برادری حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے قومی مفاد کے تحفظ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ملاقات میں صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیائ اللہ لانگو، رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان ترین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات، انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر سید رحیم آغا، جنرل سیکرٹری ولی افغان ترین، ایگزیکٹو چیئرمین حاجی داود خلجی، ڈپٹی چیئرمین نور الحق، صدر ہوٹل ایسوسی ایشن اسد ترین، چیئرمین محمد عیسیٰ ترین، شادی ہال ایسوسی ایشن کے نائب صدر عصمت آغا، جنرل سیکرٹری صدیق اللہ، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر رحیم کاکڑ، سینئر نائب صدر حضرت علی اچکزئی، نائب صدر محمد یاسین، جنرل سیکرٹری حاجی ظفر کاکڑ، کوئٹہ چیمبرز آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی، سینئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ، سابق صدر حاجی عبداللہ اچکزئی، ایگزیکٹو ممبران ملک عالم زیب، عصمت آغا اور صدیق آغا سمیت دیگر نمائندگان شریک تھے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت اور تاجر برادری باہمی تعاون کے ذریعے کفایت شعاری، توانائی کے موثر استعمال اور معاشی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر3681/2026
نصیرآباد6اپریل ۔ : ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ مال کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ربیع سیزن کی گرداوری کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ربیع سیزن کی درست اور بروقت گرداوری نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زیادہ رقبہ غیر کاشت ظاہر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز بہادر خان کھوسہ، طہ جمالی، نائرہ نور، ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی سمیت تحصیلداران، نائب تحصیلداران، قانون گوز اور پٹواریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر تمام تحصیلداران نے اپنے اپنے علاقوں میں سرکاری واجبات کی وصولی سے متعلق بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے عملہ مال کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کیونکہ یہ عملہ مال کی اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3682/2026
نصیرآباد6اپریل ۔ الیکشن کمیشن ضلع نصیرآباد کےڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر فاضل محمد نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ووٹرز اپنے ووٹ کا اندراج ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن آفس نصیرآباد میں کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تمام افراد جو مستقل طور پر آزاد جموں و کشمیر کے رہائشی ہیں اور اس وقت ضلع نصیرآباد خصوصاً ڈیرہ مراد جمالی میں مقیم ہیں، وہ فوری طور پر اپنے ووٹ کا اندراج یقینی بنائیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر فاضل محمد نے مزید بتایا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ ووٹرز کی سہولت کے لیے ہمہ وقت موجود ہے اور ووٹ کے اندراج کے عمل میں مکمل معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3683/2026
جعفرآباد6اپریل۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع بھر سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے جید علمائ کرام، مذہبی رہنما اور مدارس کے منتظمین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد حکومت بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو موثر اور یقینی بنانا تھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل باقاعدگی سے جاری ہے انہوں نے علمائکرام پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے مدارس کو فوری طور پر سرکاری سطح پر رجسٹرڈ کروائیں تاکہ حکومتی ریکارڈ کو مکمل اور درست بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن کا عمل نہ صرف حکومتی پالیسی کا حصہ ہے بلکہ اس سے مدارس کے معاملات میں شفافیت، بہتری اور سہولیات کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ اجلاس میں علمائ کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع جعفرآباد میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کر کے حکومتی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3684/2026
گوادر6اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صحت مند معاشرے کے قیام اور نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے محکمہ کھیل حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام ”جشنِ گوادر اسپورٹس فیسٹیول“ کی رنگا رنگ تقریبات کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ فیسٹیول کے تحت بیڈمنٹن ایونٹ اختتام پذیر ہو گیا، جس کے ڈبلز فائنل میں قیوم اور زبیر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلمان اور یعقوب کو 16-9 اور 16-6 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایکٹیویٹیز محمد آصف لانگو اور ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن گوادر کے سابق صدر عارف تھے، جنہوں نے کامیاب کھلاڑیوں میں نقد انعامات اور ٹرافیاں تقسیم کیں۔فیسٹیول کے دوران باڈی بلڈنگ ایونٹ بھی منعقد کیا گیا، جس میں گوادر کے تن سازوں نے بھرپور شرکت کی۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو میڈلز اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔دوسری جانب فٹبال ایونٹ بھی اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جہاں تربت اور گوادر کی ٹیموں نے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ پہلے سیمی فائنل میں تربت نے پنجگور کو پنالٹی ککس پر شکست دی، جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں گوادر نے سربندر کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنائی۔ جشنِ گوادر اسپورٹس فیسٹیول کے تحت بیچ سائیکل ریس، فٹسال اور دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، لڑکیوں کو بھی کھیلوں کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کے مقابلے کل منعقد ہوں گے، جن میں کرکٹ، فٹسال، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن اور رسہ کشی شامل ہیں۔ اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا، کھیلوں کے کلچر کو فروغ دینا اور مقامی ٹیلنٹ کو ابھارنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3685/2026
کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام سروس فراہم کنندگان کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی رسیدیں لازمی طور پر پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے ذریعے جاری کریں اور اپنے POS کو اتھارٹی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک کریں۔اتھارٹی کے مطابق POS سے جاری ہونے والی انوائسز کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جارہی ہےتاکہ سروسز کی درست دستاویز بندی اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ تمام رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان اپنی رسیدیں صرف آن لائن POS سسٹم کے ذریعے ہی جاری کریں۔اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دورانِ نگرانی یہ ثابت ہوا کہ جعلی انوائسز جاری کی جا رہی ہیں یا رسیدیں POS کے ذریعے آن لائن جاری نہیں کی جا رہیں تو بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بی آر اے نے تمام کاروباری مراکز سے اپیل کی ہے کہ وہ POS انٹیگریشن کو یقینی بنائیں اور ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل کریں ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3686/2026
حب6اپریل۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی) نے ضلع حب میں ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے کاروباری اداروں کی ٹیکس رجسٹریشن کے لیے خصوصی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد صوبے میں ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دینا، کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا اور سرکاری محصولات میں اضافہ یقینی بنانا ہے تاکہ عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل میں اضافہ ہو سکے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے حکام کے مطابق اس مہم کے دوران خصوصی ٹیمیں ضلع حب کے مختلف تجارتی علاقوں، بازاروں اور کاروباری مراکز کا دورہ کر رہی ہیں۔ ٹیمیں ریسٹورنٹس، ہوٹلز، فوڈ پوائنٹس اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے کاروباری اداروں کو قانون کے مطابق اپنی رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایات دے رہی ہیں۔ اس موقع پر کاروباری افراد کو ٹیکس قوانین، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور سیلز ٹیکس کے نظام کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اس نظام کا حصہ بن سکیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ کاروباری ادارے جو قانون کے مطابق اپنی رجسٹریشن مکمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف Balochistan Sales Tax on Services Act 2015 (بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015) کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کارروائی میں بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ کاروباری مراکز کو سیل کرنا اور دیگر قانونی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے ضلع حب کی کاروباری برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بروقت اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کو یقینی بنائیں۔ حکام کے مطابق ایک مضبوط اور منظم ٹیکس نظام نہ صرف صوبائی آمدن میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ اس سے حکومت کو عوام کو بہتر بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے مزید وسائل بھی میسر آتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3687/2026
کوئٹہ6 اپریل ۔ پولیس اہلکاروں کی اپنے اختیارات سے تجاوز اور بیجا استعمال کو روکنے،بروقت شکایات کا ازالہ کرنے اور ایف آئی آر کافوری اندراج کو ممکن بنانے کےلئے شہریوں کی سہولت کے لئے آئی جی پولیس بلوچستان کے اپنے وٹس ایپ نمبر03043470110۔ ٹول فری نمبر 111775544-081 کے علاوہ تمام تھانوں کے باہر فون نمبر آویزاں ہیں۔ جن میں 9203377-9204081۔ 9204180 -9204090 پر کال کرکے فوری شکایت درج کراسکتے ہیں۔ مندرجہ بالا نمبروں پرعام شہریوں کی شکایات کو اندراج اوران پر فوری طور پرسدباب کو ممکن بنایا جائے گا۔ سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں قائم کئے گئےسیل میں درج کی گئی شکایات کےحوالے سے شکایت کنندگان کے نام صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں اورشہری بلا خوف وخطراپنی شکایت درج کرائیں۔تاکہ ان کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لاتےہوئےعام شہری کوانصاف کی فراہمی کوممکن بنایاجاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3688/2026
لورالائی 6اپریل ۔میونسپل کمیٹی لورالائی کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران عملے نے شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب اور صفائی کے کام سرانجام دیے۔ عملے نے اوریاگئی، واپڈا گریڈ، بخمہ محلہ، خان صدیق گلی، اصغر لون، بہادر ہسپتال، کٹوی کیمپ، بخاری سکیم، پٹھان کوٹ، باور، ناصر آباد اور یارک آباد سمیت متعدد علاقوں میں کام کیا، حالانکہ ان میں سے بعض علاقے میونسپل کمیٹی کی حدود میں شامل نہیں ہیں۔شہر میں صرف گورنمنٹ ڈگری کالج کے باہر پانی جمع ہونے کا مسئلہ درپیش رہا، جس کی بنیادی وجہ نکاسی آب کے مناسب راستے کا نہ ہونا ہے۔ انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔بارش کے دوران شہر کے تقریباً بیس چوکنگ پوائنٹس کو کلیئر کیا گیا، جہاں سے مختلف رکاوٹیں ہٹائی گئیں، جن میں ایک مقام سے بستر اور کمبل بھی برآمد ہوا۔ پلاسٹک بیگز کے بے تحاشا استعمال اور دکانوں و مکانات کے باہر قائم ناجائز تھڑوں کی وجہ سے بھی برساتی پانی کی نکاسی میں مشکلات پیش آئیں۔ جیکسن نالہ محکمہ ایریگیشن کی ملکیت ہے جس پر متعلقہ محکمہ کی جانب سے خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے بارش کے باعث مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں گرنے کے بعد ہنگامی امدادی کارروائیاں بھی انجام دیں۔ یہ کارروائیاں ہاشم کالونی، ٹی ٹی سی محلہ، مرغی خانہ، لیویز لائن، گلز ہائی سکول، لیبر کالونی، حبیب کالونی، کمشنر کالونی اور ناصر آباد میں کی گئیں۔شہر میں مجموعی طور پر 80 مین ہول کی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 26 مین ہول نصب کر دیے گئے ہیں جبکہ مزید 26 تیار کر کے دھوپ میں خشک ہونے کے لیے رکھے گئے ہیں۔میونسپل کمیٹی کے مطابق ان کی تمام مشینری ضلعی انتظامیہ کے ڈسپوزل پر موجود ہے، جس میں 6 سوزوکی ڈمپر، 3 ٹریکٹر ٹرالیاں، ایک ایکسکویٹر لوڈر، ایک بڑا اور ایک منی لوڈر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کا ٹینکر ٹرالی اور رکشہ ٹینکر بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔میونسپل کمیٹی لورالائی کے مطابق 30 ریگولر اور 40 ڈیلی ویجز ملازمین کے ساتھ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے کام جاری رکھا گیا اور آئندہ بھی شہر کی بہتری کے لیے خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3689/2026
کوئٹہ 6اپریل ۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ کی احکامات کی روشنی میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی اہم شاہراہوں پر تجارتی سرگرمیوں اور دکانوں کی تعمیر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ عدالتی احکامات کے تحت انسکمب روڈ اور ذرغون روڈ پر کسی بھی قسم کی نئی تجارتی سرگرمی یا دکانوں کی تعمیر کے لیے مزید کسی اجازت نامے کی منظوری نہیں دی جائے گی۔اس ضمن میں میٹروپولیٹن کوئٹہ کو ہدایت جاری کی گئی تھیں۔ جن پر باقاعدہ عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے تمام متعلقہ محکمے اور انفورسمنٹ ونگز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس حکم نامے پر سختی سے اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عدالتِ عالیہ بلوچستان کے احکامات کی مکمل پاسداری ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3690/2026
لورالائی ہ 6اپریل ۔میونسپل کمیٹی لورالائی کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران عملے نے شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب اور صفائی کے کام سرانجام دیے۔ عملے نے اوریاگئی، واپڈا گریڈ، بخمہ محلہ، خان صدیق گلی، اصغر لون، بہادر ہسپتال، کٹوی کیمپ، بخاری سکیم، پٹھان کوٹ، باور، ناصر آباد اور یارک آباد سمیت متعدد علاقوں میں کام کیا، حالانکہ ان میں سے بعض علاقے میونسپل کمیٹی کی حدود میں شامل نہیں ہیں۔شہر میں صرف گورنمنٹ ڈگری کالج کے باہر پانی جمع ہونے کا مسئلہ درپیش رہا، جس کی بنیادی وجہ نکاسی آب کے مناسب راستے کا نہ ہونا ہے۔ انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔بارش کے دوران شہر کے تقریباً بیس چوکنگ پوائنٹس کو کلیئر کیا گیا، جہاں سے مختلف رکاوٹیں ہٹائی گئیں، جن میں ایک مقام سے بستر اور کمبل بھی برآمد ہوا۔ پلاسٹک بیگز کے بے تحاشا استعمال اور دکانوں و مکانات کے باہر قائم ناجائز تھڑوں کی وجہ سے بھی برساتی پانی کی نکاسی میں مشکلات پیش آئیں۔ جیکسن نالہ محکمہ ایریگیشن کی ملکیت ہے جس پر متعلقہ محکمہ کی جانب سے خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے بارش کے باعث مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں گرنے کے بعد ہنگامی امدادی کارروائیاں بھی انجام دیں۔ یہ کارروائیاں ہاشم کالونی، ٹی ٹی سی محلہ، مرغی خانہ، لیویز لائن، گلز ہائی سکول، لیبر کالونی، حبیب کالونی، کمشنر کالونی اور ناصر آباد میں کی گئیں۔شہر میں مجموعی طور پر 80 مین ہول کی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 26 مین ہول نصب کر دیے گئے ہیں جبکہ مزید 26 تیار کر کے دھوپ میں خشک ہونے کے لیے رکھے گئے ہیں۔میونسپل کمیٹی کے مطابق ان کی تمام مشینری ضلعی انتظامیہ کے ڈسپوزل پر موجود ہے، جس میں 6 سوزوکی ڈمپر، 3 ٹریکٹر ٹرالیاں، ایک ایکسکویٹر لوڈر، ایک بڑا اور ایک منی لوڈر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کا ٹینکر ٹرالی اور رکشہ ٹینکر بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے۔میونسپل کمیٹی لورالائی کے مطابق 30 ریگولر اور 40 ڈیلی ویجز ملازمین کے ساتھ دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے کام جاری رکھا گیا اور آئندہ بھی شہر کی بہتری کے لیے خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3691/2026
لورالائی6ایریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایات اور حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی روشنی میں ضلع لورالائی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اہم انتظامی اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں تمام مارکیٹس اور کاروباری مراکز کو رات 8 بجے کے بعد بند کرنے کے احکامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیر صدارت آل انجمن تاجران کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تاجروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ بھی موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، امن و امان کی بحالی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی بروقت روک تھام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔انتظامیہ کے مطابق عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز، ہسپتالوں سے وابستہ خدمات اور دیگر ضروری طبی سہولیات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی حالات میں شہریوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے، تحصیلداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بازاروں اور مارکیٹوں کے دورے کریں اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیں۔ خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جبکہ مجموعی صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے، جبکہ اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں میں احساسِ تحفظ کو مزید مضبوط بنانا اور علاقے میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3692/2026
لورالائی6اپریل ۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کی سیکیورٹی، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، ایف سی کے میجر کامران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر مخیتر یحییٰ خان کاکڑ، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، ڈسٹرکٹ آفیسر سی ٹی ڈی، سرکل آفیسر اسپیشل برانچ، اینٹی نارکوٹکس فورس کے نمائندے، ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر سمیت مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان ڈویلپمنٹ انڈیکس (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں پر عملدرآمد، امن و امان کی مجموعی صورتحال،سیکیورٹی اقدامات، انسدادِ جرائم، خفیہ معلومات کے موثر تبادلے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ منشیات کے خاتمے کے لیے جاری مہم، بھنگ اور افیون کی غیر قانونی کاشت کی روک تھام، شہر میں اچانک تلاشی مہم، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کی نگرانی اور رات 8 بجے کے بعد بازاروں کی بندش کے فیصلے پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لورالائی جیسے پرامن ضلع میں امن کے تسلسل کے لیے تمام سول و عسکری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، ریاستی رٹ کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں پر بروقت اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ گورننس کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔مزید پیش رفت اور ہدایات اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے مشترکہ گشت (Joint Patrolling) میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ حساس علاقوں میں نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں، بازاروں اور عوامی مقامات کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی پلان بھی ترتیب دیا گیا۔، ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی سہولت کے لیے شکایات کے فوری ازالے کا نظام فعال بنانے اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ لورالائی کو ایک محفوظ، پرامن اور ترقی یافتہ ضلع بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3693/2026
کوئٹہ، 6 اپریل ۔ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اس سلسلے میں محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے ایک افسر سے سرکاری گاڑی ضبط کرلی گئی ہے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے جاری کردہ کفایت شعاری پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈسٹرکٹ افسر لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کوئٹہ سے باقاعدہ جواب طلبی کی گئی ہے حکام نے متعلقہ افسر کو ہدایت جاری کی ہے کہ سرکاری گاڑی فوری طور پر محکمہ کے پول میں جمع کرائی جائے اس ضمن میں محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے حکومت بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد میں کسی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے تمام واقعات پر بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوامی وسائل کے موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3694/2026
کوئٹہ6 اپریل ۔ : وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ صحت اللہ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کا احساس اکثر ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہم اسے کھو دیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عالمی یومِ صحت کی مناسبت سے جاری کردہ خصوصی پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ صحت محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ یہ ایک یاددہانی ہے کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اپنی ذات کے لیے نکالیں۔ اگر آپ تندرست ہیں تو آپ کائنات کی ہر خوشی کا بھرپور لطف اٹھا سکتے ہیں، اس لیے اپنی غذا، نیند اور سکون پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ عالمی سطح پر صحت کے حوالے سے موجود حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج بھی دنیا کی ایک بڑی آبادی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں افراد غربت اور وسائل کی کمی کے باعث علاج معالجے کی سہولت تک رسائی نہیں رکھتے، جبکہ متعدی امراض اور طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریاں عالمی معیشت اور انسانی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں عالمی یومِ صحت کا مقصد دنیا بھر کے ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے مساوی بنیادوں پر صحت کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بلوچستان کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جغرافیائی پھیلاو اور دور دراز علاقوں میں طبی مراکز کی کمی ایک بڑا چیلنج رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر خواتین کی صحت پر پڑتا ہے۔ صوبے میں زچگی کے دوران شرحِ اموات اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے حوالے سے صورتحال پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے واضح کیا کہ بلوچستان کی خواتین میں خون کی کمی (انیمیا) اور غذائی قلت جیسے مسائل ان کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، جس کے لیے آگاہی اور بروقت طبی مداخلت ناگزیر ہے۔ حکومتِ بلوچستان وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے میں نظامِ صحت کی بہتری کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت نے صحت کارڈ اور انڈوومنٹ فنڈ جیسے انقلابی پروگراموں کے ذریعے عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے مختص ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور دور افتادہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مذید کہا کہ محکمہ ترقی نسواں کے تعاون سے خواتین کی صحت اور ان کی بہبود کے لیے خصوصی آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ خواتین کو اپنی صحت کی اہمیت کا احساس دلایا جا سکے اور انہیں ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3695/2026
ہرنائی 6اپریل ۔ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق خان نے عوامی ریلیف کو یقینی بنانے کے لیے شاہرگ بازار کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیس حکام کے ہمراہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والے پمپ مالکان کو سخت تنبیہ جاری کرتے ہوئے قیمتوں میں فوری کمی کے احکامات دیے گئے تاکہ صوبائی حکومت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی نے ایس ایچ او شاہرگ کے ہمراہ شاہرگ بازار میں پٹرول پمپس پر فیول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے خصوصی مہم چلائی۔ اس سرگرمی کے بعد چیئرمین میونسپل کمیٹی شاہرگ کے دفتر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیئرمین میونسپل کمیٹی، چیئرمین یونین کونسل شاہرگ، ایس ایچ او پولیس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت پٹرول پمپ مالکان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر عبدالرازق خان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست عوام کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے پمپ مالکان کو پابند کیا کہ وہ فوری طور پر سرکاری نرخ نامے نافذ کریں اور کسی بھی قسم کی اضافی وصولی سے گریز کریں۔اجلاس کے اختتام پر ضلعی انتظامیہ اور مقامی نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے خبردار کیا کہ جو مالکان احکامات کی خلاف ورزی کریں گے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے غریب پرور فیصلہ قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3696/2026
تربت6اپریل۔تربت یونیورسٹی ذرائع کے مطابق دورحاضر کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی خصوصی ہدایت پر تربت یونیورسٹی 13 اپریل 2026 سے پروفیشنل سرٹیفکیٹ کورسز کا آغاز کرنے جارہی ہے جو یونیورسٹی کے سٹی کیمپس، شعبہ لاءمیں منعقد ہوں گے۔امیدواروں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ یونیورسٹی کے ایڈمشن سیل سے رابطہ کرکے 10 اپریل تک اپنا داخلہ یقینی بنائیں۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق ان کورسز میں اے آئی آٹومیشن، ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریشن، نیٹ ورکنگ پروفیشنل، ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلیکیشن ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، کمپیوٹر ہارڈویئر اور ڈپلومہ ان انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر اہم پروفیشنل کورسز شامل ہیں۔ یونیورسٹی نے یہ اقدام ایک جامع اور دوررس حکمت عملی کے تحت اٹھایا ہے جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں نکھارنے اوران کو کیریئر میں ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تربت یونیورسٹی معیاری تعلیم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ہم آہنگ پروفیشنل کورسز کے ذریعے نوجوانوں کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ہنرمند اور کامیاب بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کررہی یے۔طلبہ، نوجوانوں اور دیگر افراد کے لیے یہ ایک نادر اور قیمتی موقع ہے، کیونکہ تربت یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے وہ نہ صرف جدید ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتیں حاصل کر سکیں گے بلکہ خود کو عالمی و مقامی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے قابل بھی بن سکیں گے۔ یہ پروفیشنل کورسز جدید انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں تاکہ شرکائ جدید تکنیکی مہارتوں سے لیس ہو کر ملکی و بین الاقوامی سطح پر اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق یہ پیشہ ورانہ کورسز طلبہ اور نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مزید باصلاحیت بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں نئے اور متنوع روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ ان مختصر دورانیے کے کورسز کو دورحاضر اور مستقبل کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے اور ان میں مصنوعی ذہانت کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، کیونکہ اے آئی دنیا بھر میں تعلیم، روزگار، کاروبار اور صنعت کے ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلی لا رہا ہے۔ ان پیشہ ورانہ کورسز کے آغاز کا مقصد نوجوانوں کو کامیاب اور خوشحال زندگی کی راہ پر گامزن کرنا، انہیں جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا، روزگار اور فری لانسنگ کے مواقع بڑھانا اور نوجوانوں کو ملکی و عالمی ڈیجیٹل افرادی قوت کا حصہ بننے کے قابل بنانا ہے۔ یہ کورسز نوجوانوں کے لیے سیکھنے، آگے بڑھنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوں گے۔ طلبہ اور نوجوانوں کو چائیے کہ وہ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے معیاری تعلیم اور ٹیکنیکل مہارتوں کے ذریعے اپنے بہتر اور خوشحال مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3697/2026
ہرنائی 6اپریل ۔ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق خان نے عوامی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گراں فروشی کرنے والے عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کیے گئے اس آپریشن کے دوران سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے پر متعدد پٹرول پمپس کو سیل کر کے مالکان کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا، جس کا مقصد عوام کو حکومتی ریلیف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی نے ایس ایچ او پولیس کے ہمراہ ہرنائی بازار اور مضافاتی علاقوں میں فیول پرائس کنٹرول سرگرمی کے تحت مجموعی طور پر 18 پٹرول پمپس کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران اکثر مقامات پر صوبائی حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں سے زائد نرخ وصول کیے جا رہے تھے اور حکومتی پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی پائی گئی۔ انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 12 پٹرول پمپس کو موقع پر سیل کر دیا، جبکہ قانون کی خلاف ورزی اور گراں فروشی میں ملوث 10 پمپ مالکان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر عبدالرازق خان کا کہنا تھا کہ عوام کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کےمستحق نہیں ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے اس سخت اقدام کو عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا ہے کہ یہ مہم جاری رہے گی اور کسی بھی پٹرول پمپ مالک کو مصنوعی مہنگائی یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام کاروباری طبقہ حکومتی پالیسیوں کی پاسداری کرے، بصورتِ دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3698/2026
کوئٹہ 6اپریل۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اسکول داخلہ مہم کے سلسلے میں اپنے خصوصی پیغام میں عوام، بالخصوص والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ایسے بچوں کو فوری طور پر اسکولوں میں داخل کروائیں جو تاحال تعلیم سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان خصوصاً ضلع کوئٹہ میں تعلیمی سال 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، تعطیلات کے بعد تمام اسکولز دوبارہ فعال ہو گئے ہیں، لہٰذا یہ بہترین وقت ہے کہ بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے داخلہ مہم کے تحت 34ہزار کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین نہ صرف اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کروائیں بلکہ دوسروں کو بھی اس نیک مقصد کے لیے راغب کریں۔انہوں نے مختلف طبقہ ہائے فکر، سماجی رہنماوں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارمز اور حلقہ احباب میں اس مہم کو فروغ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کا اسکولوں میں اندراج ممکن بنایا جا سکے۔ مہراللہ بادینی کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، اور یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو تعلیم جیسی بنیادی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ ایک بہتر اور کامیاب مستقبل کی طرف گامزن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3699/2026
سبی 6 اپریل ۔کمشنر سبی ڈویژ ن اسداللہ فیض نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول سبی کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر سکول کے پرنسپل اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کے دوران کمشنر سبی نے سکول کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور اس کی تاریخی حیثیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ علاقے میں تعلیمی حوالے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سکول کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ توانائی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول میں درکار مرمتی کاموں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔کمشنر سبی مختلف کلاس رومز میں بھی گئے جہاں انہوں نے طلبہ سے تدریسی سوالات کیے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اساتذہ سے ملاقات کرتے ہوئے تدریسی معیار کو مزید بہتر بنانے اور طلبہ کی رہنمائی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ آخر میں کمشنر سبی نے سکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3700/2026
سبی 6 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے عوامی ریلیف اور قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق جاری ہدایات کے تحت ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی نگرانی میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی انضمام قاسم نے ایرانی پیٹرول پمپس کی چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔ دورانِ کارروائی مختلف مقامات پر پمپس کا معائنہ کیا گیا اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف جرمانے کیے گئے۔ آج کے ریٹ کے مطابق پیٹرول 285 روپے اور ڈیزل 300 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا پایا گیا، جبکہ جہاں کہیں قیمتوں میں بے ضابطگی دیکھی گئی وہاں اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں فوری طور پر مشینوں میں قیمتیں درست کروائی گئیں۔ اس کے علاوہ پیٹرول کے پیمانے (میڑر) کی جانچ بھی کی گئی تاکہ شہریوں کو مکمل مقدار کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر سبی نے کہا کہ ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے اور عوامی مفاد کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3701/2026
تربت6اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تربت میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور کوئٹہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں خودساختہ اضافے کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے دفتر میں ایک اہم اجلاس طلب کیا جس میں محکمہ انڈسٹری، کسٹمز، پولیس، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ، آل ڈپو مالکان تربت، ٹرانسپورٹ یونین، کوئٹہ ٹرانسپورٹ کے مالکان اور پمپ ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلع بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کے نرخ فوری طور پر باقاعدہ مقرر کیے جارہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ کرایوں میں بلاجواز اضافے کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام کرایے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی تربت کے تحت مشاورت سے طے کیے جائیں۔ اجلاس کے دوران ڈپو ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کی جانب سے فی لیٹر صرف 10 روپے اضافہ لیا جاتا ہے اور حالیہ مہنگائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب پمپ مالکان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے فی لیٹر تک غیر قانونی اضافہ کرکے عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کوئٹہ ٹرانسپورٹ کے مالکان سے سختی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی اجازت کے کرایہ 3500 روپے سے بڑھا کر 5000 روپے کرنا غیر قانونی اقدام ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے فیصلوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت 190 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 220 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی، جبکہ کوئٹہ تا تربت ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو بھی RTA کے تحت باقاعدہ طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کی تمام ٹرانسپورٹ مالکان پابندی کے پابندہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت جاری کی کہ کسی بھی گاڑی مالک سے چیک پوسٹوں پر غیر قانونی وصولی نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اور کسٹمز حکام کو غیر قانونی نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ اس مقصد کے لیے کسٹمز، پولیس، آر ٹی اے اور محکمہ انڈسٹری پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بازاروں کی نگرانی کرے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3702/2026
قلات6اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ قلات کے دفتر کا دورہ۔کیاایکسین سہیل باروزئی نے ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کو محکمہ کی کارکردگی ضلع بھر میں آبنوشی ٹیوب ویلز کی تعداد خراب ٹیوب ویلز کی مرمت خشک ٹیوب ویلز کی ڈرلنگ BSDI کے تحت نئے ٹیوب ویلز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ وزیر اعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی ہدایت پر بلوچستان کے دیگرعلاقوں کی طرح قلات میں۔بھی بی ایس ڈی آء کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کام۔جاری ہے لوگوں کو پینے کی صاف پانی کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہےمحکمہ پی ایچ ای کے افسران اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں علاقے کو پانی کی فراہمی سے متعلق کوئی شکایت نہیں آنا چائیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3703/2026
قلات 6اپریل ۔ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی خصوصی ہدایت پر تاریخی شہر قلات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئےنئے کرایہ نامہ مقررکرنے سے متعلق اجلاس ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت منعقدہوااجلاس میں SSP قلات سید زاہد حسین شاہ ADC شاہنواز بلوچ تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی پی اے ایس پی حاجی نسیم شاہوانی ٹریفک سارجنٹ سمیع اللہ سمیت قلات اور خالق آباد کے ٹرانسپورٹرز یونین کے نمائندوں محمدانور محمدشہی درمحمد نورالدین قمبرانی سیف اللہ زہری ولی محمد محبوب علی رفیع اللہ اور پیٹرول پمپ مالکان آغاسرور احمدزئی حاجی عبداللہ لانگو شکیل منظور لانگونے شرکت کی اجلاس میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں کا جائزہ لیاگیا اور نئے ریٹ مقرر کردیئے گئے قلات میں ایرانی پیٹرول اورڈیزل کی قیمتیں 255 روپے فی لٹرجبکہ خالق آباد میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 265 مقرر کردی گء اجلاس میں ٹرانسہورٹر کی مشاورت سے کئے گئے فیصلوں کے مطابق قلات شہر سے دیگر شہروں پر چلنے والے گاڑیوں کے کرایوں کا جائزہ لیاگیا اور نئے کرایہ نامہ مقرر کردیاگیا۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ پیٹرول پمپ مالکان مقرر کردہ نئے نرخ نامون پر عملدرآمد یقینی بنائیں اسی طرح ٹرانسپورٹرز بھی نئے کرایہ نامے پر ہرصورت عمل کریں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سمیت کرایہ کی نگرانی کے لیئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس کی ایک مشترکہ کمیٹی بناءجائیگی جو روزانہ کی بنیادپر پیٹرول پمپوں کا دورہ کرکے نرخنامے کا جائزہ لے گی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کیاجائیگا انکے پمپ سیل کرکے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیاجائیگا ۔وزیراعلی بلوچستان کے احکامات پر عوام کو ریلیف دینے کے لیئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس تمام تروسائل بروئے کار لارہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3704/2026
قلات6اپریل ۔ وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو کے حلقئہ انتخاب میں عوامی مسائل سے ًآگہی اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے ضلعی سطح پر کل بروز منگل مورخہ 07 اپریل 2026 بوقت 12:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیاہے کھلی کچہری ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں منعقد ہوگاضلعی انتظامیہ نے اعلامیے میں علاقے کے معززین سیاسی سماجی رہنماوں صحافی برادری اور عوام الناس کے نام۔پیغام میں کہا ہے کہ وہ 07اپریل کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائز مسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3705/2026
کوئٹہ 6اپریل ۔بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور قانون و پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین ظفر علی آغا کی زیر صدارت اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ارکین اسمبلی ہادیہ نواز، روی پہوجا اور شاہدہ روف نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں کمیٹی کو بھجوائے گئے چار مختلف مسودہ قوانین پر غور کیا گیا۔بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی کے ترمیمی مسودہ قانون پر تفصیلی بحث کی گئی۔ کمیٹی نے مزید غور و خوض کے لیے اس مسودہ قانون کو آئندہ اجلاس تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے بعد بلوچستان سروس ٹریبونل کا (ترمیمی) مسودہ قانون 2026 زیر غور آیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان سروس ٹریبونل آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 212 کے تحت بلوچستان سروس ٹریبونلز ایکٹ 1974 کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم ٹریبونل میں تقرریوں اور ملازمین کی شرائط و ضوابط کے تعین کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضع کیے گئے ہیں اور نہ ہی موجودہ قانون میں کسی مجاز اتھارٹی کو ایسے قواعد بنانے کا اختیار دیا گیا ہے۔اس تناظر میں مجوزہ ترمیمی مسودہ قانون کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے اس مسودہ قانون کو حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے ایوان میں پیش کرنے کی سفارش کر دی۔بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے متعلق مسودہ قانون بھی زیر بحث آیا، تاہم مزید غور کے لیے اسے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔اسی طرح دیوانی ضابطہ کار (بلوچستان ترمیمی) مسودہ قانون پر بھی ابتدائی بحث کی گئی۔چار میں سے تین مسودہ قوانین کو مزید غور کے لیے آئندہ اجلاسوں تک موخر کر دیا گیا، جبکہ بلوچستان سروس ٹریبونلز (ترمیمی) مسودہ قانون 2026 کو حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے ایوان کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3706/2026
کوئٹہ 6 اپریل ۔ سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر کے زیر صدارت ہاوسنگ اسٹیٹ نوکنڈی پروجیکٹ کے حوالے جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں چیف آرکیٹیکٹ ڈاکٹر سہراب مری ایس ای رخشان سرکل ولید احمد لہڑی ایگزیکٹیو انجینر علی اکبر باروزئی کے علاوہ مائنز اینڈ منرلز پی اینڈ ڈی اور کنسلٹنٹ نے شرکت کی اجلاس کو ہاوسنگ اسٹیٹ نوکنڈی پروجیکٹ کے حوالے سے کنسلٹنٹ اور ایگزیکٹیو انجینیر نے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ ہاوسنگ اسٹیٹ نوکنڈی پروجیکٹ ایک اہم اسٹریٹیجک مصوبہ ہے جسکا مقصد نوکنڈی میں رہائشی سہولیات کو بہتر بنانا اور شہری ترقی کو فروغ دینا ہے انہوں نے کہا کہ نوکنڈی چونکہ ایک سرحدی تجارتی اور سیندک اور ریکوڈک منصوبوں کے لحاظ سے اہم علاقہ ہے اس لیے یہاں جدید ہاوسنگ اسٹیٹ کا قیام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ مستقبل کے سرمایہ کاری کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا سیکریٹری مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے علاقے کے انفراسٹرکچر میں بہتری آئیگی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا اور یہاں کے لوگوں کےمعیار زندگی زندگی میں بھی بہتری آئیگی سکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ ہاوسنگ اسٹیٹ آف نوکنڈی ایک دور اندیش منصوبہ ہے جو علاقے کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3707/2026
چمن 6اپریل ۔ ضلعی انتظامیہ چمن اور پمپس مالکان کیساتھ چمن میں پٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں کی تعین، موجودہ سٹاک اور استحکام کے حوالےسے اجلاس منعقد کیا گیا ۔ آج ضلعی انتظامیہ چمن پاکستانی اور ایرانی پٹرول پمپس مالکان کے باہمی مشاورت کے بعد ایرانی پٹرول کی قیمت فی لیٹر 270/275 روپیے اور ایرانی ڈیزل 275/280 روپیے مقرر کی گئی اجلاس میں ضلع بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سٹاک اور فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس میں پمپس مالکان نے ضلعی انتظامیہ کو چمن میں موجود پٹرول و ڈیزل کی کل سٹاک کو 150000 لیٹر بتایا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پمپس مالکان کے مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور پمپس مالکان ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاہم ایرانی پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں میں اتار چڑھاوکو مد نظر رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ اگر پٹرول پمپس پر مقرر کردہ نرخوں پر پٹرول کی فراہمی نہیں کی جاتی تو ضلعی انتظامیہ سے اس نمبر پر فوری طور شکایت درج کی جائے 0826612021 اور 03097000936 تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر2708/2026
گورنربلوچستان کی اپنے ہم منصب گورنر سندھ سے ملاقات
گورنر جعفرخان مندوخیل نے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کو اپنا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ سندھ ہمارا دوسرا گھر ہے اور اس کی تعمیر و ترقی میں ہم برابر کی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت بلوچستان کے لاکھوں لوگ صوبہ سندھ خاص طور پر صوبائی دارالحکومت کراچی میں تجارت، صنعت، ٹرانسپورٹ، علاج معالجے اور تعلیم کے حصول کیلئے رہائش پذیر ہیں۔ گورنر مندوخیل نے ان کی شکایات کو فوری طور پر دور کرنے کیلئے ان کی سہولیات اور حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
کراچی6اپریل:۔ گورنرسندھ سید نہال ہاشمی سے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے آج گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پورے خطے میں جاری کشیدگی، ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بین الصوبائی تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے گورنر نہال ہاشمی کو نیا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ واضح رہے کہ سینیٹر سعید الحسن مندوخیل بھی گورنربلوچستان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سندھ ہمارا دوسرا گھر ہے اور اس کی تعمیر و ترقی میں ہم برابر کی دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے لاکھوں لوگ اس وقت صوبہ سندھ خاص طور پر صوبائی دارالحکومت کراچی میں تجارت، صنعت، ٹرانسپورٹ، علاج معالجے اور تعلیم کے حصول کیلئے رہائش پذیر ہیں۔ گورنر مندوخیل نے ان کی شکایات کو فوری طور پر دور کرنے کیلئے ان کی سہولیات، ضروریات اور حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے عوام سے عوام کے رابطے بڑھانے اور سندھ اور بلوچستان کے درمیان تعلقات کو مزید خوشگوار بنانے پر زور دیا۔
خبرنامہ نمبر2709/2026
کوئٹہ 06 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق شہر بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک بند کرنا لازمی ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہر میں لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کے حوثی تاجر برادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے موقع پر کیا انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے موجودہ حالات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہے۔ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر صدر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رحیم کاکڑ نے کہا کہ تاجروں نے حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے اور ملکی مفاد میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ مجبوری کے تحت کیا ہے اور تاجر برادری اس مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔اسی طرح آل بلوچستان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے صدر رحیم آغا نے بھی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی نے مزید کہا کہ ایران سے آنے والے پیٹرول کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور منی پیٹرول پمپس کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے کرایوں میں اضافے سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام اور تاجر دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔آخر میں انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کریں تاکہ شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر2710/2026
کوئٹہ 06 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت شہر میں لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے انتظامی افسران اور پولیس کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایس ایس پی آپریشن، تمام سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس پیز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران حکومتی فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو مختلف علاقوں میں نگرانی اور کارروائی کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ افسران باہمی رابطے کو مزید مؤثر بنائیں گے اور فیلڈ میں موجود ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر2711/2026
کوئٹہ 6 اپریل:۔بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قائم لاشاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کی قیادت میں بزنس فیسلیٹیشن سینٹر (BFC) کا قیام صوبے میں کاروباری ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔یہ اقدام نہ صرف کاروباری عمل کو آسان بنائے گا بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان کو بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس فیسلیٹیشن سینٹر ایک جدید ون ونڈو ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کے تحت کاروبار کے آغاز کے لیے مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تمام ضروری خدمات، بشمول لائسنس کے اجراء، رجسٹریشن، اور دیگر قانونی تقاضے، ایک ہی پلیٹ فارم پر مہیا کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بی ایف سی مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بناتا ہے، جس سے کاروباری عمل میں شفافیت، رفتار اور سہولت پیدا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نظام کے ذریعے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا جو ماضی میں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رہتی تھیں۔اس موقع پر کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تاجر برادری کا دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تاجروں پر زور دیا کہ وہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے ڈائریکٹر پالیسی اینڈ پلاننگ شفقت انور شاہوانی نے کہا کہ ادارہ صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سہولیات کی بہتری کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بزنس فیسلیٹیشن سینٹر کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور ایک سازگار کاروباری ماحول تشکیل دیا جائے گا۔اجلاس کے دوران چیمبر کے ارکان نے مختلف سوالات اور تجاویز پیش کیں، جن کے قائم لاشاری نے تفصیل سے جوابات دئیے اور یقین دہانی کرائی کہ تاجر برادری کی آراء کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر2712/2026
کوئٹہ06اپریل:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر حالیہ بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ڈی جی (پی ڈی ایم اے) جانزیب بلوچ نے سرہ غڑگئی، ہنہ وڑک بائی پاس اور مین ہنہ روڑ کے سیلابی نالوں کا ہنگامی دورہ کیا۔دورے کے دوران متاثرہ علاقوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فوری اقدامات کے تحت مشینری فراہم کر دی گئی تاکہ پانی کے بہاؤ کے لیے راستے کھولے جا سکیں اور ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت مکمل طور پر الرٹ ہے۔علاقہ مکینوں نے بروقت اقدامات پر حکومت، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں اور عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کریں۔
خبرنامہ نمبر2713/2026
قلعہ سیف اللہ6اپریل:۔ محکمہ تعلیم کے افسران اور اساتذہ کرام کی جانب سے داخلہ مہم کے فروغ کے لیے ایک بھرپور اور منظم ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور والدین میں تعلیم کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔ریلی میں محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ، طلبہ اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیم کی اہمیت، بچوں کے روشن مستقبل اور قومی ترقی میں تعلیم کے کردار سے متعلق نعرے درج تھے۔ ریلی مختلف شاہراہوں سے گزری، جہاں شرکاء نے لوگوں کو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دی اور تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔ریلی کے اختتام پر شجرکاری مہم کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں افسران اور اساتذہ نے مل کر درخت لگائے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف ماحول کو سرسبز و شاداب بنانا تھا بلکہ نئی نسل میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور بھی اجاگر کرنا تھا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نہ صرف بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا تھا کہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں نہایت اہم ہیں، کیونکہ اس سے عوام میں شعور بیدار ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی اداروں تک لانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اسے یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔یہ تقریب نہ صرف داخلہ مہم کو مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوئی بلکہ معاشرے میں مثبت پیغام بھی چھوڑ گئی کہ تعلیم اور ماحولیات دونوں ہماری ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں۔
خبرنامہ نمبر2714/2026
کوہلو 06 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ کے زیر صدارت ایرانی پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے والے ڈیلرز اور یونٹ مالکان کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ضلع بھر میں ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جامع اور عملی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کو سستی اور معیاری پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی من مانی قیمتوں یا ذخیرہ اندوزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈیلرز اور یونٹ مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔ مزید برآں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قیمتوں کی نگرانی کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام ڈیلرز اور یونٹ مالکان نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور عوامی مفاد میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا عہد کیا۔
خبرنامہ نمبر2715/2026
کوہلو 6 اپریل:۔ضلع کوہلو میں محکمہ صحت کے لیے خدمات انجام دینے والے سینئر ڈاکٹر، ڈاکٹر گہور خان مری سروس مکمل ہونے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہلو میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہسپتال کوہلو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اصغر مری نے ڈاکٹر گہور خان مری کی محکمہ صحت کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مریضوں کی خدمت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ ان کی دیانتداری، فرض شناسی اور انسان دوستی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے مشکل حالات میں بھی صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی خدمات کو ضلع کوہلو میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر گہور خان مری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی اور ساتھیوں کے تعاون کو اپنی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے تمام عملے کا شکریہ ادا کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر گہور خان مری کو شیلڈ اور تحائف پیش کیے گئے تقریب میں صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر خالد مری، ڈاکٹر صاحب خان مری، ڈاکٹر عطاء اللہ مری، ڈاکٹر فدا حسین، سینئر کلرک ربنواز مری، سینئر کلرک بابو اسحاق سمیت دیگر ڈاکٹرز اور دفتری عملہ نے شرکت کی ہے۔
Handout Number 2026/2716
Quetta, April 6:Chief Executive Officer of the Balochistan Board of Investment and Trade, Qaim Lashari, stated that the establishment of the Business Facilitation Center (BFC) under the vision of Chief Minister Balochistan Mir Sarfraz Bugti and the leadership of Vice Chairman Bilal Khan Kakar is a significant and positive step toward modernizing the business environment in the province. He noted that this initiative will not only simplify business processes but also enhance investor confidence.He expressed these views while giving a detailed briefing to members of the Quetta Chamber of Commerce and Industries on the Business Facilitation Center. He explained that the BFC is a modern one-window digital platform through which entrepreneurs will no longer need to visit multiple government departments repeatedly to start a business. All essential services, including licensing, registration, and other regulatory requirements, will be provided through a single platform.Qaim Lashari further elaborated that the BFC ensures effective coordination among various departments, resulting in greater transparency, efficiency, and ease in business operations. He emphasized that this system will save time, reduce costs, and eliminate unnecessary bureaucratic hurdles that have historically hindered investment in the province.On this occasion, President of the Quetta Chamber of Commerce and Industry, Haji Muhammad Ayub Mariani, welcomed the establishment of the Business Facilitation Center, calling it a long-standing demand of the business community. He stated that this initiative will boost economic activity in the province, create new investment opportunities, and generate employment, particularly for the youth. He also thanked the Government of Balochistan and relevant authorities, urging traders and investors to fully benefit from this facility.Additionally, Director Policy and Planning (BBoIT), Shafqat Anwar Shahwani, remarked that the organization is actively working to promote investment and improve business facilitation across the province. He reaffirmed the commitment to providing maximum support to investors through the BFC and fostering a conducive business environment.During the session, members of the Chamber raised various questions and shared suggestions, which were addressed in detail by Qaim Lashari. He assured participants that feedback from the business community would be incorporated into policymaking.
خبر نامہ نمبر 2718/2026
اُستامحمد6اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر آفس اُستامحمد میں حکومتِ بلوچستان کے پروگرام“اضافی کلاس رومز کی تعمیر بلوچستان”کے تحت ایک باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز اور چیئرپرسنز میں اضافی کلاس رومز کی مرحلہ وار تعمیر کے لیے پہلے مرحلے کے چیکس تقسیم کیے گئے۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہ بخش پندرانی، ریجنل منیجر پراجیکٹ عامر علی شاہ سمیت متعلقہ اسکولوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ بلوچستان تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اضافی کلاس رومز کی تعمیر سے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں گنجائش کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب اسکولوں کو مرحلہ وار دو کمروں کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 12 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے جنہیں شفاف انداز میں خرچ کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اُستامحمد تعلیم کے شعبے کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی اور ایسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2719/2026
کوئٹہ 6اپریل:۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت سوشو پولیٹیکل اسٹیئرنگ کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عبدالروف بلوچ، سیکرٹری پلاننگ، اسپیشل سیکرٹری تعلیم عبدالسلام اچکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ حافظ محمد قاسم سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں بلوچستان کے نوجوانوں کو منفی رجحانات اور غیر صحت مند سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے مختلف تجاویز اور اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو مؤثر بنانے اور اسے مزید منظم کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔شرکاء نے نوجوانوں کو سکل ڈیولپمنٹ پروگرامز کے ذریعے حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا تاکہ وہ مثبت سرگرمیوں، تعلیم اور ہنر مندی کی جانب راغب ہوں اور معاشرے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروجیکٹ کے فیز ون کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ آئندہ مراحل میں بھی اسی معیار اور رفتار کو برقرار رکھا جائے گا۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ پچھلے اجلاس میں کیے گئے تمام اقدامات کو مکمل کرنے کی تیاری کی گئی ہے اور تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آنے والے اجلاس سے قبل اپنے کے پی آئیز (KPI) ٹارگٹس کو مکمل کر کے حتمی شکل میں پیش کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کی فلاح و بہبود، مدارس کی بہتری اور سکل ڈیولپمنٹ کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے کے ساتھ ساتھ تمام محکموں کے مؤثر نتائج یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہیاجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نوجوانوں کی ترقی اور معاشرتی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2720/2026
جھل مگسی 6اپریل:۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ کی زیر صدارت ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اور مختلف روٹس کے کرایوں کے متعلق اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس میں ایس پی جھل مگسی رحمت اللہ درانی, تحصیلدار گنداواہ دیدار علی گولہ ودیگر پیٹرول پمپس کے منیجرز, اور ٹرانسپورٹرز حضرات نے شرکت کیں۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق صوبے بھر میں ایرانی پٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد پیٹرول کی قیمتوں میں یکسانیت لانا اور غیر قانونی منافع خوری کا خاتمہ اور مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرنا ہے انھوں نے اس حوالے سے ضلع کی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شہری آج سے 09 اپریل 2026ء تک 300 فی لیٹر جبکہ 10 اپریل 2026ء سے صرف مقررہ سرکاری نرخ یعنی 280 روپے فی لیٹر پر ہی منی پیٹرول پمپس سے پیٹرول خریدیں۔ اگر کسی مقام پر اس سے زائد قیمت وصول کی جائے تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کرکے درج کروائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے منی پیٹرول پمپوں کی سخت نگرانی شروع کر دی ہے اور مقررہ نرخ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے اور پمپ سیل کرنے کیساتھ مقدمات کا اندراج شامل ہے۔آخر میں ایس پی جھل مگسی رحمت اللہ درانی کا کہنا تھا کہ عوام انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ اپنا تعاون کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری اور مقرر کردہ کرایوں سے زائد کرایہ وصول کرنے والوں کی نشاندہی کریں تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد میں اٹھایا گیا ہے تاکہ پیٹرول کی منظم و منصفانہ طور پر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں کو بلاجواز مہنگائی سے بچایا جا سکے۔کسی بھی شکایات کی صورت میں ضلعی انتظامیہ جھل مگسی کے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کیجئے۔
ڈپٹی کمشنر جھل مگسی ہاؤس۔
0837430146
اسسٹنٹ کمشنر جھل مگسی.
0333 5151373
سپرینٹنڈنٹ ڈی سی آفس جھل مگسی۔
0331 2434712
میڈیا کوارڈینیٹر ضلعی انتظامیہ جھل مگسی
03345503227
خبر نامہ نمبر 2721/2026
نصیرآباد6اپریل:۔ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نصیرآباد سجاد حیدر خجک نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال کر فرائض منصبی کی انجام دہی کا آغاز کر دیا ہے۔ چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار سے ملاقات کی، جس میں ضلع میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور اسپورٹس کے شعبے کو فعال بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ضلع میں کھیلوں کے میدان کو مزید فعال اور مؤثر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسپورٹس کے فروغ سے نہ صرف صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو منفی رجحانات سے بھی دور رکھا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر سجاد حیدر خجک نے اس موقع پر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع نصیرآباد میں کھیلوں کے فروغ، گراؤنڈز کی بہتری اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور سرگرمیوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ ملاقات کے دوران باہمی تعاون کو فروغ دینے اور اسپورٹس کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2722/2026
موسیٰ خیل6اپریل:۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ریونیو کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے انتظامی امور اور محصولات کی وصولی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ، صدر قانونگو، متعلقہ تحصیلداروں اور پٹواریوں نے شرکت کی اجلاس کے دوران سرکاری محصولات کی وصولی اور دیگر ریونیو امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں درج ذیل نکات پر خصوصی توجہ دی گئی فصلات کی گردآوری اور عشر کی وصولی زرعی پیداوار کا درست تخمینہ اور عشر کی بروقت وصولی کو یقینی بنانا زرعی انکم ٹیکس واجب الادا زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف کو پورا کرنا تحریرِ جمعبندیات زمین کے ریکارڈ (جمع بندی) کی بروقت اور شفاف تیاری سرکاری اراضی کا تحفظ سرکاری زمینوں پر تجاوزات کا خاتمہ اور ان کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ماہواری گوشوارہ جات: ماہانہ کارکردگی کی رپورٹ کی باقاعدگی سے جمع آوری وراثت میں خواتین کے حقوق وراثت کے انتقالات میں خواتین کے شرعی اور قانونی حقوق کی مکمل پاسداری۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ہمارا بنیادی کام سائلین کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا اور حکومتی واجبات کی وصولی میں شفافیت لانا ہے۔ ریونیو آفسران عوام کی سہولت کے لیے اپنے دفاتر کے دروازے کھلے رکھیں اور تمام سرکاری معاملات کو میرٹ پر نمٹایا جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وراثت کے معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، بالخصوص خواتین کو ان کا جائز حق دلانا ہماری اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے آفسران کو مقررہ اہداف کی جلد از جلد تکمیل کی بھی سختی سے ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر 2723/2026
قلعہ سیف اللہ6 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللہ عمران مندوخیل کی زیرِ صدارت ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ سرکاری افسران، انجمن تاجران کے عہدیداران، ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندگان اور پٹرول پمپ مالکان شریک ہوئے۔اجلاس کا بنیادی مقصد موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور عوامی سہولیات کو برقرار رکھتے ہوئے نظم و ضبط قائم رکھنا تھا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے شرکاء کو وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر توانائی کے بحران کے پیش نظر توانائی کی بچت کو ناگزیر قرار دیا اور اس سلسلے میں تمام کاروباری مراکز، مارکیٹوں اور دکانوں کو شام 08 بجے کے بعد بند رکھنے کی ہدایت پر سختی سے عملدرآمد کی تاکید کی۔اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ یہ اقدامات عوامی مفاد میں کیے جا رہے ہیں تاکہ توانائی کے وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق پٹرول پمپ مالکان کو بھی سختی سے پابند کیا گیا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سرکاری نرخوں کے مطابق یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا منافع خوری سے گریز کریں۔ مزید برآں، مقررہ اوقات کی پابندی کو بھی لازمی قرار دیا گیا تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انجمن تاجران کے نمائندگان نے اس موقع پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی ہدایات پر من و عن عمل کریں گے اور مقررہ اوقات کے مطابق بازار بند رکھنے کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے عوامی مفاد کو ترجیح دیں گے۔ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندگان نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کریں گے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو نظم و ضبط کے ساتھ چلانے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں گے۔اجلاس کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں باہمی تعاون، ذمہ داری اور نظم و ضبط ہی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 2724/2026
تربت6اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت کی پرنسپل میڈم گل جان خالد اور وائس پرنسپل میڈم ہماء ملک نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران کالج ہاسٹل کی بحالی، ادارے کو درپیش انتظامی و تعلیمی مسائل، اور تدریسی امور میں بہتری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کالج انتظامیہ نے ہاسٹل کی فوری بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ طالبات کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
خبرنامہ نمبر 2725/2026
پشین6اپریل:۔بلوچستان حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کی کاریزات کو ضلع بنانے کے معاملے پر دھرنا کمیٹی کیساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے دھرنا کمیٹی کے شرکائنے حکومتی یقین دہانی پر احتجاج موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خانوزئی کے مقام پر جاری دھرنا ختم کردیا جبکہ مزید معاملے پر کمیٹی میں بات چیت اور مشاورت پر اتفاق کیا گیا گزشتہ روز صوبائی وزیر داخلہ و چیئرمین کمیٹی میرضیائاللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی مذاکراتی وفد خانوزئی کے مقام پر جاری دھرنے میں پہنچے اس موقع پر کمیٹی کے ممبران صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، اپوزیشن رکن اسمبلی اصغر خان ترین، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ سمیت دیگر حکام موجود تھے اس موقع پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے کاریزات کو ضلع بنانے کے معاملے پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت قبائلی عمائدین پر مشتمل دھرنا کمیٹی کیساتھ تفصیلی مذاکرات کئے اور دھرنے میں شریک ہوئے اس موقع پر دھرنے کے شرکائنے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی یقین دہان پر احتجاج دس روز کے لئے موخر کرکے خانوزئی کے مقام پر جاری دھرنا ختم کردیا اور قومی شاہراہ پر ٹریفک بحال کردی گئی کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق مزید حکومتی مذاکراتی کمیٹی کیساتھ نشست ہونے پر بھی اتفاق کیا گیا دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی وزیرداخلہ بلوچستان میرضیائاللہ لانگو نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا لی ہے جس میں دھرنے کے شرکائکمیٹی کو بھی مدعو کرکے کاریزات کو ضلع بنانے سے متعلق تفصیلی غوروخوص اور مشاورت کی جائے گی اور اپنے سفارشات تیار کرکے بلوچستان کابینہ کے سامنے پیش کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ کاریزات کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو ہماری درخواست پر دھرنا ختم کرنے پر شرکائکا شکریہ ادا کرتے ہیں حکومت کی کوشش ہوگی مذاکراتی کمیٹی میں جو بھی سفارشات تیار ہوگی اس پر عملدرآمد ہو کیونکہ کاریزات کے لوگ بھی ہم میں سے ہیں اس لئے آج اور کل حکومتی وفد خود آپ لوگوں کے پاس آئے کیونکہ ہر مسئلہ کا حل بات چیت اور مذاکرات میں ہی رکھا گیا ہے جس کے لئے ملکر آئندہ بھی کوشش کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 2726/2026
بارکھان06 اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام کو پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف ویژن کے تحت ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو کے احکامات کی روشنی میں تحصیلدار رکنی غلام قادر قیصرانی نے رکنی شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا اچانک دورہ کیا۔ اس دوران پٹرول اور ڈیزل کی سرکاری قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ دستیابی کو بھی یقینی بنانے کے لیے معائنہ کیا گیا، تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔تحصیلدار رکنی نے موقع پر 3 پٹرول پمپس بھی سیل کئے، جو سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑے گئے مزید واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 2727/2026
کوئٹہ 6اپریل :۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں شہر کی اہم شاہراہوں پر تجارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق یہ اقدام آئینی درخواست نمبر 824/2016 میں عدالتِ عالیہ کے مورخہ 12 مارچ 2026 کے احکامات اور نئی تعمیر شدہ سڑکوں کے تحفظ سے متعلق ہدایات کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت فوری طور پر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں اور دکانوں کی تعمیر پر پابندی نافذ العمل ہو گی اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے درج ذیل سڑکوں پر کسی بھی قسم کے کاروباری منصوبے، تعمیرات یا این او سی جاری نہیں کیا جائے گا،انسکمب روڈ، کوئٹہ زرغون روڈ، کوئٹہ مزید برآں تمام متعلقہ محکموں اور انکرچمنٹ ونگز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ عدالتِ عالیہ کے احکامات پر سختی سے اور فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ شہر کی نئی تعمیر شدہ سڑکوں کے تحفظ اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک اہم اقدام ہے، جس سے شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
خبرنامہ نمبر 2728/2026
بارکھان 06 اپریل: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام کو پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف فراہم کرنے کے وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو کی ہدایات پر تحصیلدار رکنی غلام قادر قیصرانی نے رکنی شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی سرکاری قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے پٹرول پمپس کو سرکاری نرخوں پر پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی ہدایت بھی کی۔ چیکنگ کے دوران سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے پر تین پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا۔ اس موقع پر تحصیلدار رکنی غلام قادر قیصرانی نے کہا کہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 2729/2026
گوادر 6اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ضلع گوادر میں ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے انجمنِ تاجران کے نمائندگان کے ہمراہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں توانائی کے مؤثر استعمال اور حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عطا الرحمان خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، انجمن تاجران کے صدر غلام حسین دشتی سمیت دیگر متعلقہ افسران و تاجر برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال، بالخصوص ایران کی موجودہ جنگی کیفیت کے پیشِ نظر ملک میں توانائی بحران کے خدشات موجود ہیں، جس کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات نافذ کیے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں ہدایت جاری کی کہ ان احکامات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ ضلع بھر میں تمام شاپنگ مالز اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ ریسٹورنٹس، ہوٹلز، پاسپورٹ آفس اور دیگر کاروباری مراکز رات 10 بجے تک بند کرنے کے پابند ہوں گے۔ تاہم میڈیکل اسٹورز اور تندورز کو عوامی سہولت کے پیش نظر استثنیٰ حاصل ہوگا۔انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر ایس ایس پی پولیس عطا الرحمان خان نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور حالات معمول پر آتے ہی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/2724
صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا عالمی یوم صحت کے موقع پر پیغام
کوئٹہ06 اپریل:_
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا انہوں نے کہا کہ اس دن کا مقصد عوام میں صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور معیاری طبی سہولیات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت صوبے بھر میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس ضمن میں دور افتادہ علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے ہر دور افتادہ علاقے کی ہیلتھ فیسلٹیز میں ڈاکٹرز کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ اسپتالوں میں طبی عملے کی غیر حاضری سے متعلق شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت حکومت کی مؤثر مانیٹرنگ اور اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے نظام میں اصلاحات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام متعارف کرایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ بلوچستان کے ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری علاج کی سہولت میسر ہو اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک صحت مند اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2725/2026
بلوچستان کے ہر دور افتادہ علاقوں کی ہیلتھ فیسلٹیز میں ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے، صحت کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، صحت مند معاشرہ ہی قومی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا عالمی یوم صحت پر پیغام
کوئٹہ06 اپریل:ـ
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند معاشرہ ہی قومی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جس کا مقصد عوام میں صحت کے شعور کو اجاگر کرنا اور معیاری طبی خدمات کی اہمیت پر توجہ دلانا ہے وزیر صحت نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے بھر میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ دور افتادہ اور محروم علاقوں تک بھی بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے ہر دور افتادہ علاقے کی ہیلتھ فیسلٹیز میں ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے اور اسپتالوں میں طبی عملے کی غیر حاضری کی شکایات انتہائی کم ہو گئی ہیں، جو ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں جس سے صحت کے شعبے میں شفافیت اور ذمہ داری کی عکاسی ہوتی ہے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان میں صحت کے نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور اس کے تحت جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، طبی عملے کی مکمل حاضری اور مریضوں کے بروقت علاج کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی صحت کے شعبے میں بلوچستان کی ترقی کی نمائندگی کرتے ہیں بخت محمد کاکڑ نے یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کے عمل کو مستحکم اور جاری رکھے گی تاکہ ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری علاج کی سہولت میسر ہو اور ایک صحت مند، خوشحال اور مضبوط بلوچستان کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 2729/2026
گوادر 6اپریل:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ضلع گوادر میں ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے انجمنِ تاجران کے نمائندگان کے ہمراہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں توانائی کے مؤثر استعمال اور حکومتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عطا الرحمان خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، انجمن تاجران کے صدر غلام حسین دشتی سمیت دیگر متعلقہ افسران و تاجر برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال، بالخصوص ایران کی موجودہ جنگی کیفیت کے پیشِ نظر ملک میں توانائی بحران کے خدشات موجود ہیں، جس کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات نافذ کیے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں ہدایت جاری کی کہ ان احکامات پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا کہ ضلع بھر میں تمام شاپنگ مالز اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ ریسٹورنٹس، ہوٹلز، پاسپورٹ آفس اور دیگر کاروباری مراکز رات 10 بجے تک بند کرنے کے پابند ہوں گے۔ تاہم میڈیکل اسٹورز اور تندورز کو عوامی سہولت کے پیش نظر استثنیٰ حاصل ہوگا۔انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر ایس ایس پی پولیس عطا الرحمان خان نے تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور حالات معمول پر آتے ہی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/2730
صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا عالمی یوم صحت کے موقع پر پیغام
کوئٹہ06 اپریل:_
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا انہوں نے کہا کہ اس دن کا مقصد عوام میں صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور معیاری طبی سہولیات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت صوبے بھر میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس ضمن میں دور افتادہ علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے ہر دور افتادہ علاقے کی ہیلتھ فیسلٹیز میں ڈاکٹرز کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ اسپتالوں میں طبی عملے کی غیر حاضری سے متعلق شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت حکومت کی مؤثر مانیٹرنگ اور اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے نظام میں اصلاحات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے تاکہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام متعارف کرایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ بلوچستان کے ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری علاج کی سہولت میسر ہو اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک صحت مند اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2731/2026
بلوچستان کے ہر دور افتادہ علاقوں کی ہیلتھ فیسلٹیز میں ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے، صحت کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، صحت مند معاشرہ ہی قومی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا عالمی یوم صحت پر پیغام
کوئٹہ06 اپریل:
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ایک صحت مند معاشرہ ہی قومی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جس کا مقصد عوام میں صحت کے شعور کو اجاگر کرنا اور معیاری طبی خدمات کی اہمیت پر توجہ دلانا ہے وزیر صحت نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے بھر میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ دور افتادہ اور محروم علاقوں تک بھی بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے ہر دور افتادہ علاقے کی ہیلتھ فیسلٹیز میں ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے اور اسپتالوں میں طبی عملے کی غیر حاضری کی شکایات انتہائی کم ہو گئی ہیں، جو ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں جس سے صحت کے شعبے میں شفافیت اور ذمہ داری کی عکاسی ہوتی ہے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان میں صحت کے نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور اس کے تحت جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، طبی عملے کی مکمل حاضری اور مریضوں کے بروقت علاج کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح پر بھی صحت کے شعبے میں بلوچستان کی ترقی کی نمائندگی کرتے ہیں بخت محمد کاکڑ نے یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کے عمل کو مستحکم اور جاری رکھے گی تاکہ ہر شہری کو اس کی دہلیز پر معیاری علاج کی سہولت میسر ہو اور ایک صحت مند، خوشحال اور مضبوط بلوچستان کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2732/2026
موسیٰ خیل06 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت اسپیشل سپورٹ پروگرام کا اجلاس؛ طلباء و طالبات کی درخواستوں کا خصوصی جائزہ ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ”اسپیشل سپورٹ پروگرام” کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں موصول ہونے والی درخواستوں، بالخصوص طلباء و طالبات کی تعلیمی امداد سے متعلق کیسز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مستحق اور ہونہار طلباء و طالبات کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیشل سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہم نہ صرف ضرورت مند خاندانوں بلکہ اپنے روشن مستقبل یعنی طلباء و طالبات کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ضلع کا کوئی بھی طالب علم وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے انہوں نے کمیٹی ممبران کو تاکید کی کہ تمام درخواستوں کی شفاف جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے تاکہ حقدار طلباء و طالبات اس پیکج سے مکمل طور پر مستفید ہو سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2733/2026
گوادر6اپریل: چیرمین گوادر بندرگاہ نورالحق بلوچ نے گوادر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ مکمل طور پر کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے تیار ہے اور بندرگاہ پر تمام بنیادی و جدید سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت گوادر پورٹ پر تین برتھس آپریشنل ہیں جبکہ زیادہ سے زیادہ 12.5 میٹر ڈرافٹ کے حامل بحری جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ بندرگاہ پر 50 ہزار میٹرک ٹن ڈیڈ ویٹ تک کے جہازوں کو ہینڈل کرنے کی سہولت موجود ہے۔ رول آن رول آف (RO-RO) سروس اور سروس برتھ بھی فعال ہیں۔ چیرمین نورالحق بلوچ کے مطابق کارگو ہینڈلنگ کے لیے جدید کرینز نصب ہیں جن میں جنرل کارگو کے لیے پورٹل کرینز اور کنٹینرز کے لیے ایس ٹی ایس اور آر ٹی جی کرینز شامل ہیں، جن سے تیز اور بغیر تاخیر آپریشنز کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارگو کے لیے مخصوص مدت تک مفت اسٹوریج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور جنرل کارگو یارڈ میں بڑی مقدار میں سامان ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ حساس نوعیت کے کارگو کے لیے علیحدہ شیڈز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ چیرمین گوادر بندرگاہ نورالحق بلوچ کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ پر تیز رفتار ٹرن اراؤنڈ کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث برتھنگ کے لیے غیر ضروری انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنرل اور اسپیشلائزڈ پراجیکٹ کارگو سمیت مختلف اقسام کے سامان کی کلیئرنس اور آپریشنز ویب بیسڈ آن لائن سسٹم (WEBOC) کے تحت انجام دیئے جا رہے ہیں۔ جبکہ سیکیورٹی اور سیفٹی کے مؤثر انتظامات بھی موجود ہیں۔ خلیجی ممالک اور دیگر بندرگاہوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ اور آگے ترسیل کی سہولیات بھی دستیاب ہیں، جن کے تحت فوری ڈسچارج، اسٹوریج اور فارورڈنگ کا نظام فعال ہے۔ چیرمین گوادر پورٹ نے کہا کہ بندرگاہ بین الاقوامی تجارت کے لیے مکمل طور پر فعال ہے اور سرمایہ کاروں و شپنگ کمپنیوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دو بحری جہاز بندرگاہ پہنچ چکے ہیں، ایک راستے میں ہے جبکہ مزید جہازوں کی آمد متوقع ہے۔






