خبرنامہ نمبر3648/2026
کوئٹہ، 05 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف کی فراہمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور کڑی نگرانی کا نظام متعارف کرا رہی ہے۔ اس ضمن میں حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور گراں فروشی کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کیا کہ عوامی شکایات کے اندراج اور ان کے فوری حل کے لیے ہیلپ لائن 1129 قائم کر دی گئی ہے، جہاں شہری پیٹرول کی مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی شکایت درج کرا سکتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہیلپ لائن چیف منسٹر سیکرٹریٹ اور محکمہ داخلہ کی نگرانی میں کام کرے گی تاکہ شکایات کے ازالے کا عمل شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت شکایات کے فوری ازالے کے لیے موجودہ میکنزم کو مزید فعال اور مؤثر بنا رہی ہے تاکہ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے اس کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان نے عوامی ریلیف کے لیے ٹارگیٹڈ سبسڈی پروگرام کے تحت اقدامات کا بھی آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد مستحق طبقات کو براہ راست فائدہ پہنچانا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے خبردار کیا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں گراں فروشی یا ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوامی مفاد کے تحفظ، قیمتوں کے استحکام اور شفاف طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔
خبرنامہ نمبر3649/2026
کوئٹہ، 05 اپریل:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایسٹر کے پرمسرت موقع پر مسیحی برادری کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تہوار امن، محبت اور انسان دوستی کے فروغ کی علامت ہے انہوں نے کہا کہ ایسٹر ہمیں رواداری، باہمی احترام اور بھائی چارے کی اقدار کو مزید مضبوط بنانے کا درس دیتا ہے، جو ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایسٹر امید، نئی شروعات اور انسانیت کے لیے خیر خواہی کے پیغام کو عام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کے فروغ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور صوبے میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں مواقع اور مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ترقیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ صوبے میں پہلا اقلیتی انڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا جا چکا ہے انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت میٹرک سے پی ایچ ڈی سطح تک اقلیتوں کے لیے خصوصی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ انہیں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں وزیراعلیٰ نے مسیحی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ملک اور صوبے کی ترقی میں مثبت اور قابل قدر کردار ادا کر رہی ہے، جو قابل تحسین ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اقلیتوں کے تحفظ، فلاح اور ترقی کے لیے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور ایک پرامن، ہم آہنگ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر3650/2026
کوئٹہ، 05 اپریل:حکومت بلوچستان نے توانائی کے تحفظ اور عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم اقدامات پر عمل درآمد کا باضابطہ آغاز کردیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں محکمہ داخلہ بلوچستان نے مارکیٹوں، شادی ہالوں اور ریستورانوں کے اوقات کار میں تبدیلی کی ہدایات جاری کر دی ہیں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے مطابق مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز رات 8:00 بجے تک بند کردئیے جائیں گے جبکہ دواخانے، تندور اور نانبائی اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں شادی ہال، ضیافت ہال اور ہوٹلوں میں ہونے والی تمام تقریبات رات 10:00 بجے تک ختم ہوں گی اور ریستوران بھی رات 10:00 بجے بند کردئیے جائیں گے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کرائیں گے اور کسی بھی خلاف ورزی پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہوگی محکمہ داخلہ بلوچستان نے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس افسران کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ان احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور متعلقہ افراد کو مطلع کریں حکومت بلوچستان نے عوام سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان اقدامات میں حکومت سے تعاون کریں تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3651/2026
قلعہ سیف اللہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسدادِ پوست (افیون) مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی سربراہی میں ضلعی افسران مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور غیر قانونی پوست کی کاشت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔اس مہم کے تحت انتظامیہ نے“زیرو ٹالرنس پالیسی”نافذ کر دی ہے، جس کا مقصد ضلع بھر میں پوست کی غیر قانونی کاشت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاقے میں قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، اور جو افراد اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی ٹیمیں مختلف دیہات اور زرعی زمینوں کا معائنہ کر رہی ہیں، جہاں پوست کی کاشت کی نشاندہی کر کے اسے تلف کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کو بھی آگاہی دی جا رہی ہے کہ وہ ایسی فصلوں سے اجتناب کریں جو قانوناً ممنوع ہیں، اور اس کے بجائے متبادل قانونی فصلوں کی کاشت کریں۔انتظامیہ نے مزید واضح کیا ہے کہ اس مہم کے دوران سکیورٹی اداروں کا بھی تعاون حاصل ہے تاکہ کارروائی کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر3652/2026
قلعہ عبداللہ: ضلع قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور ژالہ باری کے باعث سیلابی صورتحال سے متاثرہ بند سڑکیں و اہم شاہراہوں کو عوامی آمد و رفت کیلئے بحال کر دیا گیا ہے ڈی سی قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے ضلع میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں ندی نالوں رابطہ سڑکوں راستوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچنے کے بعد بحالی کا کام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی اس خصوصی آپریشن کو ضلعی انتظامیہ، سی ڈبلیو پی پی اینڈ ایچ (CWPP&H) اور دیگر متعلقہ محکموں نے ملکر سرانجام دیا۔بحالی کے دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار بننے والی سڑکوں کے کناروں اور دیگر حصوں کی مرمت کی گئی اور جہاں ضروری سمجھا گیا وہاں مختلف مقامات پر متبادل راستے بنائے گئے اور سڑکوں کو عوامی استعمال کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔ اس موقع پر ڈی سی قلعہ عبداللہ نے کہا کہ بحال کی گئی سڑکوں میں مسے زء آرمئبی روڈ، مخل آرمبئی روڈ، سلاد تھانہ روڈ، مرور سیدان روڈ، عبدالرحمن زئی روڈ، توبہ اچکزئی روڈ (فرخائی اور ژڑہ بند روڈ) اور توت اڈہ تا حرمزئی روڈ شامل ہیں، مذکورہ بالا راستوں کو مکمل طور پر فعال کر دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ رابطہ اور مین سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے عوام الناس کی سامان کی ترسیل اور نقل و حرکت کو یقینی بنایا گیا ہے جس سیصحت، تعلیم اور دیگر ضروری سہولیات تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔عوامی رابطہ و مین سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کی کاروائیوں کی نگرانی ایس ڈی او روڈز انجینئر فیصل کاکڑ اور انجینئر اسلم کاکڑ اور دیگر متعلقہ افسران نے ملکر کی۔ ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی محکمہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیاب بحالی محکمہ کی محنت اور عزم کی بہترین مثال ہے۔
خبرنامہ نمبر3653/2026
قلعہ عبداللہ: ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اہم نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم تمام افغان مہاجرین جن کے پاس پاکستانی ویزہ یا دیگر قانونی دستاویزات نہیں ہیں، انہیں خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی صورت میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔نوٹیفیکیشن کے مطابق، ایسے مہاجرین جو پاکستانی شہری کی حیثیت سے رجسٹرڈ نہیں ہیں، اور اگر کوئی افغان شہری کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو ضلعی انتظامیہ ان کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے گی اس نوٹس میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی افغان مہاجر کسی غیر قانونی کاروبار، مکان یا دکان کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ کرے، ورنہ یہ ایک سنگین قانونی جرم تصور کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے واضح کیا ہے اور خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغان مہاجرین اپنی گاڑیوں یا کسی بھی کاروباری سرگرمی میں غیر قانونی کام کرتے پائے گئے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، متعلقہ مالک مکان، ٹرانسپورٹر یا دیگر افراد جو ان کے غیر قانونی عمل میں معاون ہوں گے، ان کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر3654/2026
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایات کے مطابق صوبے بھر میں ایرانی پٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد پٹرول کی قیمتوں میں یکسانیت لانا اور غیر قانونی منافع خوری کا خاتمہ کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے اس حوالے سے ضلع کے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شہری صرف مقررہ سرکاری نرخ یعنی 280 روپے فی لیٹر پر ہی منی پیٹرول پمپوں سے پٹرول خریدیں۔ اگر کسی مقام پر اس سے زائد قیمت وصول کی جائے تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے منی پیٹرول پمپوں کی سخت نگرانی شروع کر دی ہے اور مقررہ نرخ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے اور پمپ سیل کرنا شامل ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عوام انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کی نشاندہی کریں تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد میں اٹھایا گیا ہے تاکہ پٹرول کی فراہمی کو منظم کیا جا سکے اور شہریوں کو بلاجواز مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3655/2026
ہرنائی: صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات اور فوکل پرسن برائے صوبائی وزیر خوراک حاجی باز محمد خان دمڑ کی کاوشوں سے ہرنائی ناکس روڈ کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ آج پل کے کالرز کی بھرائی کا کام زور و شور سے کیا گیا، جس کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین اور ایکسیئن بی اینڈ آر امین اللہ مندوخیل نے خود موقع پر موجود رہ کر کی۔?ترقیاتی کاموں کے معائنے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور ایکسیئن بی اینڈ آر امین اللہ مندوخیل سارا دن جائے وقوعہ پر موجود رہے۔ انہوں نے جاری کام کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انتظامیہ کے مطابق سڑک کے اس اہم حصے کی مرمت سے آمدورفت میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر?محمد سلیم ترین نے میڈیا کو بتایا کہ برج کالرز پر کل بھی حفاظتی جال کی تنصیب کا کام جاری رہے گا تاکہ ڈھانچے کو مزید استحکام فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے شاہراہ استعمال کرنے والے ڈرائیور حضرات کو تاکید کی کہ وہ دورانِ سفر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور تعمیراتی عمل کے پیشِ نظر گاڑیوں کی رفتار دھیمی رکھیں تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔?حکام کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ عوامی مفاد کے پیشِ نظر شاہراہ کی بحالی کا کام مقررہ وقت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی یہ مشترکہ کوششیں علاقے میں سفری سہولیات کی بہتری اور محفوظ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔
خبرنامہ نمبر3656/2026
لورالائی عیسائی برادری کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر ضلع بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے رات گئے گودی محلہ میں واقع چرچ کا دورہ کیا اور وہاں سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ایس ایس پی نے چرچ کے داخلی و خارجی راستوں، اطراف میں تعینات پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور دیگر عملے سے ملاقات کی۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ مکمل مستعدی، چوکسی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرائض انجام دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ڈاکٹر فہد احمد کا کہنا تھا کہ ایسٹر جیسے اہم مذہبی تہوار کے موقع پر عیسائی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع بھر کے تمام گرجا گھروں کے باہر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ حساس مقامات پر پولیس گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ داخلی راستوں پر چیکنگ کے نظام کو مؤثر بنایا گیا ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔دریں اثناء، چرچ انتظامیہ اور مقامی عیسائی برادری نے سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لورالائی پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ برادری کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے انہیں اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مکمل تحفظ کا احساس ہوا ہے۔ایس ایس پی لورالائی کی ہدایت پر ضلع کے مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا جس میں پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ فلیگ مارچ کا مقصد شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار تھا۔ پولیس حکام کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری رسپانس ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو 24 گھنٹے الرٹ رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر3657/2026
ہرنائی:اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق خان نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ ایک کلومیٹر طویل سروتی حفاظتی دیوار کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں دیوار کی شکستگی کے باعث شہر کے ڈوبنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انتظامیہ نے مون سون سے قبل 50 لاکھ روپے کے فوری فنڈز اور طویل مدتی حفاظتی منصوبے کی سفارش کر دی ہے۔حکومتی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی نے محکمہ آبپاشی کے ایکسین (XEN) محمد اسلم لونی اور ایس ڈی اوز کے ہمراہ سروتی پروٹیکشن وال کا معائنہ کیا۔ دورانِ معائنہ یہ بات سامنے آئی کہ ایک کلومیٹر سے زائد طویل یہ حفاظتی دیوار حالیہ سیلابی ریلوں کی تاب نہ لاتے ہوئے مختلف مقامات سے بری طرح ٹوٹ چکی ہے۔ حکام کے مطابق اگر اس کی فوری مرمت نہ کی گئی تو آئندہ بارشوں میں سیلابی ریلا براہِ راست شہر میں داخل ہو سکتا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا اندیشہ ہے۔معائنے کے دوران محکمہ آبپاشی کے ماہرین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کے تحفظ کے لیے دو نکاتی حکمت عملی وضع کی گئی ہے:جون 2026 میں مون سون کے آغاز سے قبل ہنگامی مرمتی کاموں کے لیے کم از کم 50 لاکھ روپے کے فنڈز درکار ہیں۔ ایکسین محکمہ آبپاشی جلد ہی دیوار کی مکمل بحالی اور پائیداری کے لیے ایک جامع طویل مدتی تخمینہ رپورٹ جمع کرائیں گے۔اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہرنائی کے شہریوں کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مون سون کے خطرات سر پر ہیں، لہٰذا جون سے قبل تمام ہنگامی کاموں کی تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ بروقت فنڈز کے ذریعے ممکنہ تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3658/2026
گوادر: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صحت کے شعبے میں انقلابی بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز تک فراہم کرنے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جیوانی کا تفصیلی اور جامع دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈی ایچ او نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات، طبی عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور صفائی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو فوری بہتری کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ڈی ایچ او گوادر کی خصوصی کاوشوں سے ہسپتال کو جدید الٹراساؤنڈ مشین فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ ایمبولینس سروس کو فعال بنانے کے لیے نئے ٹائر، ایمرجنسی ادویات اور دیگر ضروری طبی آلات بھی مہیا کر دیے گئے ہیں، جس سے ہنگامی طبی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ نے کہا کہ صحت عامہ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہسپتال کو جلد ای سی جی مشین اور پیشنٹ مانیٹر بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ مریضوں کی تشخیص اور نگہداشت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیوانی میں قائم شیخ راشد ہسپتال کو جلد فعال کیا جا رہا ہے، جبکہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے لیے درکار ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ادویات کی فراہمی کے لیے بجٹ منظوری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ڈی ایچ او گوادر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر، مربوط اور عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے مکین بھی معیاری علاج معالجہ سے مستفید ہو سکیں۔علاقے کے عوامی حلقوں نے صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے ڈی ایچ او گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ کی کارکردگی، سنجیدگی اور عملی اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدامات مستقبل میں بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر3659/2026
نصیرآباد۔۔ضلع نصیرآباد میں ایرانی پیٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم اجلاس وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ایرانی پیٹرول پمپس مالکان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فراہمی کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنرز یو ٹی طحٰہ جمالی اور نائرہ نور، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی، سید سجاد شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران اور پیٹرول پمپس مالکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی، ترسیل اور قیمتوں کے تعین پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ مستونگ میں جاری پیٹرولیم ریٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع نصیرآباد میں قیمتوں کے تعین سے متعلق فیصلے کیے گئے۔پیٹرول سیلرز نے مستونگ سے نصیرآباد تک پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل کے اخراجات سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی،جس پر انتظامیہ نے تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے متفقہ حکمت عملی اختیار کی۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو بھی من مانی قیمتیں وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ ضلع نصیرآباد میں مستونگ کے ریٹ کو بنیاد بناتے ہوئے ترسیلی اخراجات شامل کر کے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 300 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے،جو آئندہ روز دوپہر ایک بجے تک نافذ العمل رہے گی،جبکہ روزانہ کی بنیاد پر نئی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول پمپس پر پیمائش کے آلات (گیج) میں کسی قسم کی ہیرا پھیری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور اس ضمن میں سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔خلاف ورزی کے مرتکب ایرانی پیٹرول پمپس مالکان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں پیٹرول و ڈیزل کی ضبطگی اور غیر قانونی یونٹس کے خاتمے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام پمپس مالکان کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخوں کی مکمل پابندی کریں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں، جبکہ عوام کو بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ ضلعی انتظامیہ ہر صورت پیٹرول کی فراہمی اور مقررہ نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔
خبرنامہ نمبر3660/2026
سبی 5 اپریل:سوشل میڈیا پر سبی کے ایک قبرستان سے متعلق وائرل ہونے والی خبر کا ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے موقع پر تحقیقات کروائیں اور تمام صورتحال کی نگرانی کی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق قبرستان کے رکھوالے نے بتایا ہے کہ حالیہ بارشوں کے باعث زمین نرم ہونے کی وجہ سے ایک قبر کے قریب معمولی گڑھا پڑ گیا تھا، جس سے قبر کی مٹی بیٹھ گئی۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبر حقائق کے منافی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ مزید برآں ضلعی انتظامیہ سبی نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ قبر کی فوری مرمت اور بحالی کا کام جاری ہے تاکہ کسی قسم کی بے حرمتی کا تاثر ختم کیا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے گریز کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے درست معلومات کو ہی آگے پھیلائیں۔
خبرنامہ نمبر3661/2026
رکھنی/اپر ڈیرہ بگٹی 05 اپریل:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی نے اتوار کے روز ڈپٹی کمشنر اپر ڈیرہ بگٹی ریاض احمد داوڑ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سردار محمد ہاشم خان کے ہمراہ ضلع اپر ڈیرہ بگٹی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال اور انتظامی امور کا جائزہ لینا تھا۔دورانِ دورہ کمشنر کوہ سلیمان نے زیر تعمیر بیکڑ ٹو رکھنی روڈ کا معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی رفتار، معیار اور دستیاب وسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔کمشنر نے ضلع میں جاری دیگر ترقیاتی اسکیموں کا بھی دورہ کیا جن میں بنیادی انفراسٹرکچر، سڑکوں کی بہتری اور عوامی سہولیات سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران سے کارکردگی کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اپر ڈیرہ بگٹی ریاض احمد داوڑ نے کمشنر کو ضلع کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، درپیش مسائل اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں امن و امان کی صورتحال، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی نے بریفنگ اور معائنے کے بعد متعدد اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور محنت سے ادا کریں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
خبرنامہ نمبر3662/2026
گوادر: سوشل میڈیا پر کلانچ کے علاقے میں مویشیوں میں پھیلنے والی نامعلوم بیماری سے متعلق خبروں اور عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کا آغاز کر دیا۔ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر محکمہ لائیو اسٹاک کی خصوصی ٹیم فوری طور پر کلانچ روانہ کی گئی، جس نے متاثرہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے بیماری کی نوعیت کا تعین کیا۔ ٹیم کی جانب سے موقع پر ہنگامی کیمپ قائم کیا گیا، جہاں مال مویشیوں کا معائنہ کیا گیا اور فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ مزید برآں، ضروری ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مویشیوں کی ویکسینیشن بھی کی گئی، جبکہ بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے جامع حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صورتحال کی مسلسل اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اس مشکل گھڑی میں عوام کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی اور بروقت اقدامات کے ذریعے مقامی افراد کو ممکنہ معاشی نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔
خبرنامہ نمبر3663/2026
نصیرآباد۔۔۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات پر عمل درآمد کو سختی سے یقینی بنانے کے لیے ضلع نصیرآباد میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت تاجران و افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی طحٰہ جمالی، نائرہ نور، انجمن تاجران کے صدر تاج بلوچ، تاجران و دکانداروں کے صدر خان جان بنگلزئی، ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی اور ٹریڈ یونین کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے، اس حوالے سے ضلع نصیرآباد میں مارکیٹس رات 8 بجے بند کی جائیں گی جبکہ ہوٹل اور شادی ہال رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے، میڈیکل اسٹورز اس لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ حکومتی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر3664/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر نے مونڈی اور کلانچی پھاڑا کے علاقوں میں سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات اور ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن آپریشن کیا۔کارروائی کے دوران ضلعی انتظامیہ، پولیس اور گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اینٹی انکروچمنٹ سیل نے مشترکہ طور پر متعدد غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کرتے ہوئے سرکاری زمین کو قبضہ مافیا سے واگزار کروا لیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ مونڈی اور کلانچی پھاڑا میں عرصہ دراز سے بعض عناصر سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ جما کر تعمیرات میں ملوث تھے، جس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر سعد کلیم ظفر نے موقع پر دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ سرکاری زمین پر کسی قسم کی غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی، اور ایسے عناصر کے خلاف نہ صرف فوری کارروائی کی جائے گی بلکہ سخت قانونی چارہ جوئی بھی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری اراضی کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔ آئندہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔کارروائی کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر ختم کیا گیا جبکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے اجتناب کریں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔
خبرنامہ نمبر3665/2026
کوہلو 05 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور آبادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے محکمہ زرعی انجینئرنگ نے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں محکمہ زرعی انجینئرنگ کوہلو کے آفیسر غلام قادر مری نے کہا ہے کہ ایم ایم ڈی (مشینری اینڈ مکینیکل ڈویژن) کی جانب سے مختلف نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلوں کا رخ موڑنے اور آبادیوں کو محفوظ بنانے کیلئے حفاظتی بندات کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہیں۔ حالیہ بارشوں کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے پیشگی اقدامات اٹھاتے ہوئے بھاری مشینری پہنچا دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اس سلسلے میں سیلابی ریلوں کی گزرگاہوں میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے سیلابی ریلوں کے خطرے کے پیش نظر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق متعلقہ عملہ فیلڈ میں موجود ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہیکسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس کیلئے مشینری اور عملہ کو فیلڈ میں متحرک رکھا گیا ہے مقامی شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے بروقت اقدامات کو سراہا ہے۔۔
خبرنامہ نمبر3666/2026
کوئٹہ 05 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیر صدارت شہر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر میں توانائی کے حالیہ بحران کے پیش نظر اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، انجمن تاجران کے نمائندگان، موبائل ایسوسی ایشن، شادی ہال مالکان، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز مالکان، ریسٹورنٹ مالکان اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئٹہ شہر کی تمام مارکیٹیں، دکانیں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز رات 8 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے بند ہوں گے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان حکومتی فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، لہٰذا تمام تاجر برادری اور متعلقہ افراد حکومتی احکامات کی مکمل پاسداری کریں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں.
خبرنامہ نمبر3667/2026
کوئٹہ5 اپریل: صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی متاثر کی ہے، تاہم حکومت تمام حالات کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔صوبائی مشیر نے کہا کہ عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی 85 سے 90 فیصد توانائی کی ضروریات بیرون ملک سے پوری کرتا ہے، اسی لیے عالمی حالات کا اثر عوام تک براہِ راست پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی فیصلے کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف دینے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے ہیں، جن میں مخصوص سبسڈی پروگرامز، عوامی نقل و حمل میں سہولیات، اور غریب طبقے کے لیے مالی معاونت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ کمزور طبقات پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے احساس پروگرام اور احساس راشن ریایتی پروگرام کے تحت عوام کو اشیائے ضروریہ کی سبسڈی اور سہولیات فراہم کی ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت روزگار کے مواقع بھی بڑھائے جا رہے ہیں۔نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے کر رہی ہے، مگر عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کا اثر کم سے کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کر رہی ہے، اور توانائی بحران اور مہنگائی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے۔بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو درپیش مشکلات سے حکومت مکمل طور پر آگاہ ہے اور ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے ذریعے عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشکل حالات میں مایوس نہ ہوں بلکہ متحد رہیں، کیونکہ حکومت و ریاستی ادارے مل کر پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں، اور انشائاللہ جلد عوام کو ریلیف بھی پہنچے گا۔
خبرنامہ نمبر3668/2026
جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ضلع بھر میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی، قیمتوں کے استحکام اور حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں رات 8 بجے تمام مارکیٹس بند کرنے کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ اہم اجلاس منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں ایرانی پٹرول پمپس کے مالکان، انجمن تاجران اور ٹریڈ یونینز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے خصوصی احکامات پر موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مفاد عامہ میں اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخ ناموں کے مطابق ہی ایرانی پٹرول فروخت کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، خلاف ورزی کے مرتکب پٹرول پمپ مالکان کے خلاف سخت اور فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ قبل ازیں کفایت شعاری اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں تمام مارکیٹس اور دکانیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی جبکہ شادی ہالز اور ہوٹلز کو رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی، تاہم میڈیکل اسٹورز تندور والے ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔ انہوں نے تاجران کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی احکامات پر ہر صورت عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت عملی اقدامات کریں تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور ضلع میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3669/2026
لورالائی: 5اپریل:ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق ایسے تمام افغان مہاجرین جو قانونی دستاویزات یا ویزہ کے بغیر مقیم ہیں، انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی شہری کو ایسے غیر قانونی افغان مہاجرین کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ اطلاع فراہم کرنے والے افراد کو مناسب انعام دیا جائے گا جبکہ ان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ شہری کسی بھی غیر قانونی افغان مہاجر یا ان کے اہل خانہ کو پناہ نہ دیں، نہ ہی انہیں مکان یا دکان کرایہ پر فراہم کریں اور نہ ہی انہیں چھپانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ عمل قانوناً جرم کے زمرے میں آتا ہے۔انہوں نے ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیور حضرات کو بھی سختی سے ہدایت کی کہ وہ بغیر قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کو اپنی گاڑیوں میں سفر کی اجازت نہ دیں۔ چیکنگ کے دوران اگر کوئی غیر قانونی مہاجر کسی گاڑی یا علاقے میں پایا گیا تو متعلقہ مکان مالک، ٹرانسپورٹر یا ڈرائیور کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ گاڑی یا جائیداد کو ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کارروائیاں، متعدد افراد کی گرفتاری دوسری جانب ضلعی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لورالائی کے مختلف علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشنز کے دوران متعدد غیر قانونی مقیم افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملک بدری کے عمل سے گزارا جائے گا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ علاقے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے اور غیر قانونی رہائش کے خاتمے کو ممکن بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3670/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر سردار عبد الرحمن کھتیران نے ایسٹر کے موقع پر مسیحی برادری کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ ایسٹر محبت، امن، رواداری اور نئے آغاز کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کا تہوار نہ صرف مسیحی برادری بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید، بھائی چارے اور یکجہتی کا پیغام لے کر آتا ہے۔صوبائی وزیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت اور عوام مسیحی برادری کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسٹرکے موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں برداشت، احترام اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور متنوع معاشرہ ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔سردار عبد الرحمن کھتیران نے مزید کہا کہ ایسٹر خوشیوں، امید اور نئے عزم کی علامت ہے جو ہمیں ایک بہتر اور روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بھائی چارے، محبت اور احترام کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے تاکہ ایک مضبوط اور متحد معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے مسیحی برادری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ Easter کی خوشیاں ان کی زندگیوں میں امن، خوشحالی اور کامیابی لے کر آئیں اور پاکستان ہمیشہ امن و استحکام کا گہوارہ بنا رہے۔
خبرنامہ نمبر3671/2026
ہرنائی:لیپروسی بلائنڈنس کنٹرول پروگرام محکمہ صحت بلوچستان اور میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے اشتراک سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہرنائی میں دو روزہ فری آئی میڈیکل کیمپ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ اور ان کے فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ کی خصوصی دلچسپی اور ایم ایس ڈاکٹر سیف اللہ خان مری کے تعاون سے لگائے گئے اس کیمپ میں آنکھوں کے امراض میں مبتلا سینکڑوں مریضوں کو مفت علاج و معائنے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔?میڈیکل کیمپ کے پہلے روز مجموعی طور پر 653 او پی ڈی مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا، جبکہ 70 مریضوں کے کامیاب آپریشن کیے گئے اور 42 سے زائد مستحق مریضوں کو مفت لینز لگائے گئے۔ اس سلسلے میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہرگ میں بھی ایک روزہ کیمپ لگایا گیا جہاں علاقے کے مکینوں کی اسکریننگ اور معائنہ کیا گیا۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کیمپ میں ماہر آئی سرجنز کی ٹیم جدید آلات کے ساتھ مریضوں کا علاج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کا تمام ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے شیڈول کے مطابق فرائض سر انجام دے رہا ہے اور محدود وسائل کے باوجود عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔?اس کیمپ میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے صوبائی کوآرڈینیٹر محمد صدیق جعفر، آئی سرجن ڈاکٹر شعیب بلوچ، ڈاکٹر سید محفوظ شاہ، طارق حسین جمالی اور عظیم سرپرہ سمیت ڈی ایچ کیو کا عملہ خدمات پیش کر رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق ضلعی صدر عبدالرؤف درانی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے یہ کیمپ ممکن ہوا۔?عوامی حلقوں نے اس فری آئی کیمپ کے انعقاد کو غریب اور نادار مریضوں کے لیے ایک بڑی نعمت قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دور دراز علاقوں میں آنکھوں کی بیماریوں پر قابو پانے اور معذوری سے بچانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی، اور مستقبل میں بھی ایسے فلاحی منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر3672/2026
موسیٰ خیل 05 اپریل:ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک کا فوری نوٹس تحصیل درگ کے موضعات کیارہ گڑگوجی کی عوام کو درپیش اہم مسلہ زیر تعمیر شبوزء ٹو تونسہ شریف سڑک سے متصل سڑک جو کیارہ گڑگوجی کی طرف جاتی ہے انتہائی ابتر حالت ہے اہل علاقہ خاص کر بارشوں کے دوران کٹھن حالات سے دوچار ہوتے ہیں رواں ہفتے کء حادثات پیش آچکے ہیں اور ایک نوجوان حادثے کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا زیر تعمیر سڑک کے ٹھیکیدار کو اہل علاقہ نے گذارش کی کہ وہ اہل علاقہ کی مشکلات کو مد نظر رکھ کر سڑک کے اس ٹکڑے کی تعمیر کردے لیکن ٹھیکیدار نے اہل علاقہ کی بات پہ کوء توجہ نا دی آخر کار اہل علاقہ نے قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا ڈپٹی کمشنر موسی’ خیل نے فوری نوٹس لیکر پراجیکٹ ڈائریکٹر سے رابط کیا اور احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلفور عوام کے اس جائز مطالبے پہ عملی کام شروع کیا جائے پراجیکٹ ڈائریکٹر فقیر محمد نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دلایا کہ جلد از جلد اہل علاقہ کے اس مطالبے کو مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائیگی ڈپٹی کمشنر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوامی فلاحی وژن کے تحت ہر فرد تک سہولیات پہنچاء جائیگی اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کو سراہا خوشی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ عوام حکومت بلوچستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
خبرنامہ نمبر3673/2026
موسی’ خیل05اپریل:وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کے وژن کے تحت منشیات کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ڈی آء جی لورالاء رینج جنید احمد شیخ کے احکامات پہ عمل کرتے ہوئے ایس پی موسی’ خیل کلیم اللہ کاکڑ نے خفیہ اطلاع پہ ایک ٹیم تشکیل دی ایس ایچ او تھانہ تنگی سر باز خان جعفر نے پولیس ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر موضع کھجی میں پہاڑ کے دامن میں کاشت کی گئی افیون کی ساری فصل کو تلف کردیا چونکہ فصل بلاپیہمودہ جگہ پہ کاشت کی گء تھی اور کاشت کار نامعلوم تھے اس لئے کوء گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ایس ایچ او نے اہل علاقہ کو وارننگ دی کہ اگر کہیں بھی منشیات کی کاشت ثابت ہوء تو ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی اور ان کو سخت سزا و جرمانہ کیا جائیگا اہل علاقہ نے یقین دلایا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور کسی بھی شکایت کا موقع نہیں دیں گے ایس ایچ او نے اہل علاقہ کو تاکید کی کہ اگر کہیں بھی منشیات کی کاشت فروخت اور ملک دشمنوں کا پتہ چلے تو اہل علاقہ خفیہ طور پہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں اطلاع دہندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا تاکہ جرائم پیشہ افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سے سخت سزا دی جائے اہل علاقہ نے ایس ایچ او باز خان جعفر کی کارکردگی کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
خبرنامہ نمبر3674/2026
قلعہ عبداللہ۔ڈی سی قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی اور منی پمپس مالکان قلعہ عبداللہ میں پٹرول اور ڈیزل کے قیمتوں کی تعین اور استحکام کے حوالیسے اجلاس منعقد کیا گیا آج ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیر صدارت منی پٹرول پمپس مالکان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ضلع بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ سردار عبداللہ خان اچکزئی اور انسپکٹر حبیب اللہ خان سمیت متعلقہ حکام اور منی پٹرول پمپس مالکان نے شریکِ تھے اجلاس کے دوران موجودہ صورتحال، عوام کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ احکامات اور فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ ڈی سی قلعہ عبداللہ نے اجلاس سے اپنے خطاب میں واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 275 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 290 روپے مقرر کی گئی ہے اور تمام منی پٹرول پمپس مالکان اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے پٹرول پمپس کا جائزہ لے گی اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں پمپس مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ عوام کو معیاری اور مقررہ نرخوں پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
خبرنامہ نمبر3675/2026
دکی: 5اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت پٹرول اور ڈیزل کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منصور احمد بزدار، انجمن تاجران کے نمائندگان، ٹرانسپورٹرز اور مختلف پٹرولیم پمپس کے مالکان نے شرکت کی۔اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کے حالیہ بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے شرکاء کو سختی سے ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی صورت مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا، جبکہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف بھی بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول اور ڈیزل کے نرخ مقرر کیے جائیں گے اور تمام پمپ مالکان و متعلقہ دکاندار ان نرخوں کو نمایاں مقامات پر آویزاں کرنے کے پابند ہوں گے۔ دورانِ چیکنگ اگر ان احکامات پر عمل درآمد نہ پایا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے ٹرانسپورٹرز کو بھی سختی سے ہدایت کی کہ وہ مقررہ کرایوں کی پابندی کریں اور کسی بھی صورت زائد کرایہ وصول کرنے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی سہولت اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ باقاعدگی سے چیکنگ کا عمل جاری رکھے گی۔ عوام کو بھی ہدایت کی گئی کہ اگر کسی مقام پر مقررہ نرخوں سے زائد قیمت یا کرایہ وصول کیا جائے تو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3676/2026
سنجاوی 05اپریل:گزشتہ روز ہونے والی شدید بارش کے باعث سنجاوی اسٹیڈیم میں بڑی مقدار میں پانی جمع ہو گیا تھا، جس سے کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے پیش نظر آج صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے سنجاوی اسٹیڈیم کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے موقع پر صوبائی وزیر نے اسٹیڈیم کا معائنہ کیا اور جمع ہونے والے پانی اور نکاسی آب کے نظام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار کو سختی سے ہدایت کی کہ فوری طور پر اسٹیڈیم سے پانی نکالنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ گراؤنڈ کو جلد از جلد قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔مزید برآں انہوں نے تاکید کی کہ آئندہ کے لیے ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ بارش کے دوران پانی جمع نہ ہو اور نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔آخر میں صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ اسٹیڈیم کی بہتری اور بحالی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو کھیلوں کے لیے بہتر ماحول میسر آ سکے۔
خبرنامہ نمبر3677/2026
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز بلوچستان کی ہدایت پر صوبہ بھر میں غیر رجسٹرڈ اور بغیر ٹرانسفر شدہ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام شہری جن کی گاڑیاں اوپن ٹرانسفر لیٹر پر چل رہی ہیں یا تاحال اپنے نام منتقل نہیں کرائی گئیں، فوری طور پر محکمہ ایکسائز میں رجوع کریں۔ڈی جی ایکسائز نے کہا کہ موجودہ سسٹم کو شفاف بنانے اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے فیول پاس کے اجرا کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جو صرف اصل مالک کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد پیٹرول کی غیر قانونی خرید و فروخت اور جرائم کے سدباب کو یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے عملے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائیں اور شہریوں کو مکمل رہنمائی فراہم کریں تاکہ وہ بروقت اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر مکمل کر سکیں۔ڈی جی ایکسائز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کو فوری طور پر اپنے نام منتقل کروائیں اور محکمہ کے ساتھ تعاون کریں،بصورت دیگر خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے
خبرنامہ نمبر3678/2026
کوئٹہ05 اپریل2026: حکومتِ بلوچستان کے محکمہ اطلاعات نے وزیراعلیٰ کی منظوری سے تقرر و تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ حکم نامے کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز مکران ڈویژن عبدالوہاب بلوچ کو تبادلہ کر کے قائم مقام ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز گوادر تعینات کر دیا گیا ہے۔جبکہ نئے ترقی پانے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز آصف علی بلوچ کو ترقی دے کر ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کیچ (تربت) تعینات کیا گیا ہے۔ یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر3679/2026
اپر ڈیرہ بگٹی 5 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی نے اتوار کے روز ڈپٹی کمشنر اپر ڈیرہ بگٹی ریاض احمد داوڑ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سردار محمد ہاشم خان کے ہمراہ ضلع اپر ڈیرہ بگٹی کا اہم اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ مختلف منصوبوں کی رفتار اور معیار کا بھی معائنہ کیا گیا۔کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن نے اس موقع پر زیرِ تعمیر بیکڑ ٹو رکھنی روڈ کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا بغور جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ معیار پر ہرگز سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر یا غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے پایہ? تکمیل تک پہنچانا ناگزیر ہے۔دورے کے دوران کمشنر نے ضلع میں جاری دیگر ترقیاتی اسکیموں کا بھی معائنہ کیا جن میں بنیادی انفراسٹرکچر، سڑکوں کی بہتری اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ انہوں نے ہر منصوبے کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران سے کارکردگی کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں شفافیت اور رفتار کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اپر ڈیرہ بگٹی ریاض احمد داوڑ نے کمشنر کو ضلع کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں امن و امان کی صورتحال، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔کمشنر مجیب الرحمن قمبرانی نے بریفنگ اور مختلف منصوبوں کے معائنے کے بعد افسران کو ہدایت جاری کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور عوامی مسائل کے فوری حل کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔دورے کے اختتام پر کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی، ڈپٹی کمشنر ریاض احمد داوڑ اور میر آفتاب احمد بگٹی نے مشترکہ طور پر پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا اور ماحول کی بہتری اور سرسبز بلوچستان کے عزم کا اظہار کیا۔






