8th-June-2026

خبرنامہ نمبر4717/2026
کوئٹہ 8 جون۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے والد حبیب اللہ خان ناصر کو ٹیلی فون کیا جن پر حال ہی میں تیزاب گردی کا ایک المناک حملہ کیا گیا اور وہ اس وقت کراچی میں زیر علاج ہیں۔ ٹیلیفونک رابطہ کے دوران گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے متاثرہ خاندان کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ نور کے خصوصی علاج اور پلاسٹک سرجری کا بیرون ملک بندوبست کرنے کی پیشکش کی. ہم سب ڈاکٹر ماہ نور کے دکھ اور تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔ پوری قوم کو ڈاکٹر ماہ نور جیسی بہادر بیٹی پر فخر ہے اور پورے بلوچستان کے عوام مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے مذکورہ غمزدہ خاندان کو زخمی لیڈی ڈاکٹر کی بہترین طبی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم ڈاکٹر ماہ نور کو اپنی اولاد سے ہرگز کم نہیں سمجھتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبائی حکومت ان کے علاج سے متعلق تمام اخراجات برداشت کر رہی ہے اور روز اول سے ان کے علاج و معالجہ اور صحتیابی پرعزم ہے۔ صوبہ کے تمام صحت کے مراکز میں مسیحاوں کے حوالے سے گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم تمام دستیاب وسائل صحت کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹرز اینڈ پیرامیڈیکل اسٹاف کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں ہمارے خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر انسانی ہمدردی اور لگن کے ساتھ دن رات خدمت کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4718/2026
قلات 8جون ۔ضلعی انتظامیہ قلات کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ۔عوامی مسائل سننے اور انکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے مورخہ 09 جون 2026 بروز منگل بوقت 12:00بجے دن کھلی کچہری کا انعقاد کیاجارہاہے کھلی کچہری اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد کے دفتر میں منعقد ہوگا۔ متعلقہ افراد علاقہ معززین اورعوام الناس کو کہا گیا ہے کہ 9 جون کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4719/2026
قلات 8جون ۔ڈپٹی کمشنرقلات منیراحمددرانی نے کہاکہ قلات کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں علاقہ معززین ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون جاری رکھیں اورمسائل کی فوری نشاندہی کرکے انکے حل کے لیئے اپنا مثبت کردار اداکریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں آئے ہوئے عوامی وفودسے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا علاقائی عمائدین اورعوامی وفود سے ملاقات میں اراضیات کے تنازعات کے حل علاقے کو پانی کی فراہمی ٹرانسپو رٹرز کے مسائل اور انکے فوری حل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا ڈپٹی کمشنر نے عوامی وفود کویقین دہانی کراءکہ انتظامیہ انکے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے بحیثیت انتظامی افسر انکے دفتر کے دروازے عوام کودرپیش مسائل کے حل کیلئے کوءکسراٹھانہ رکھے گی ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ سے قبائلی رہنما آغازکی جان احمدزئی سردار عبدالکریم نیچاری انجمن تاجران کے صدر میر منیراحمدنیچاری بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی آرگنائزر سردارزادہ میر منیرنیچاری آغا ظفر جان احمدزئی میرسرفراز نیچاری قلات ٹو خضدار ٹرانسپورٹرز عبدالقادر شاہوانی میراحمدشاہوانی عطاء محمدشاہوانی سرور محمدحسنی اور دیگرعمائدین پر مشتمل وفودنے ملاقات کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4720/2026
ہرنائی : محکمہ ایریگیشن (آبپاشی) ضلع ہرنائی کے ایکسن عبدالقادر دومڑ نے آج تحصیل کھوسٹ کے مختلف دور دراز علاقوں کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وہاں جاری فیلڈ آپریشنز اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے کام کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دورے کے دوران سب ڈویژنل ڈیوٹی آفیسر (ایس ایس ڈی او) عصمت اللہ شاہ اور متعلقہ منصوبوں کے ٹھیکیدار حبیب اللہ کاکڑ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ایکسن ایریگیشن عبدالقادر دومڑ نے تحصیل کھوسٹ کے مختلف مقامات پر جاری تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا معائنہ کرتے ہوئے موقع پر موجود انجینئرز اور فیلڈ اسٹاف کو کام کو مزید پائیدار اور تیز بنانے کے لیے ضروری اور اہم تکنیکی ہدایات جاری کیں۔ میڈیا نمائندوں اور مقامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے ایکسن ایریگیشن عبدالقادر دومڑ کا کہنا تھا کہ “حکومت کی اولین ترجیح عوامی مسائل کا ازالہ اور ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت ہے۔” انہوں نے سخت لہجے میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام زیرِ تکمیل منصوبوں کی بروقت، شفاف اور اعلیٰ معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ان اہم منصوبوں کے ثمرات بلا تاخیر اور براہِ راست علاقے کے غریب عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے ٹھیکیدار اور متعلقہ عملے کو جاری کاموں کی رفتار تیز کرنے کی تاکید کرتے ہوئے واضح کیا کہ تعمیراتی مواد کے معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، اور مقررہ وقت کے اندر کام مکمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مقامی عمائدین نے ایکسن ایریگیشن کے اس دورے اور ذاتی دلچسپی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان منصوبوں سے علاقے میں پانی کی قلت اور آبپاشی کے نظام میں واضع بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4721/2026
نصیرآباد8جون ۔:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ ظفر اقبال زہری، ایگزیکٹو انجینیئر مواصلات و تعمیرات بلڈنگز خلیل احمد عمرانی، سب ڈویڑنل آفیسر عابد علی پنہور، مقبول احمد عمرانی، ڈاکٹر ایاز جمالی، طارق شہباز، منظور احمد شیرازی، محمد قاسم ڈومکی سمیت مختلف محکموں اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) فیز تھری کے تحت مختلف عوامی فلاحی منصوبوں کے حوالے سے تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ڈی آئی عوام تک حکومتی سہولیات کی فراہمی کا ایک موثر اور بہترین پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے عوامی مسائل کے حل اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیمات کی منظوری عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے گی۔ ان کے مطابق پینے کے صاف پانی، تعلیم اور صحت کے شعبوں سے متعلق منصوبے اولین ترجیحات میں شامل ہوں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا ان کی بروقت اور معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ادھورے یا غیر موثر منصوبوں کی منظوری کسی صورت نہیں دی جائے گی جبکہ اجتماعی نوعیت کے ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جن سے عوام کی بڑی تعداد مستفید ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری کے لیے جو منصوبے منظوری کی غرض سے ارسال کیے جائیں گے ان میں عوام کے وسیع تر مفادات کو مقدم رکھا جائے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی امور اور عوامی خدمت کے شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں مزید بہتر انداز میں انجام دیں تاکہ عوام کو حکومتی اقدامات کے ثمرات براہ راست پہنچ سکیں اور علاقے میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4722/2026
جعفرآباد8جون ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت اسپیشل سپورٹ پروگرام (SSP) 2025-26 کے تحت فنڈز کے شفاف اور موثر استعمال کے حوالے سے ضلعی سطح کی سماجی بہبود کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان کے محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فنڈز اور ان کے استعمال کے طریقہ کار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیشل سپورٹ پروگرام (SSP) 2025-26 کے تحت 20 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں جن میں سے 25 لاکھ روپے مستحق طلباءکو تعلیمی وظائف (اسکالرشپ) اور نادار و مستحق مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد معاشرے کے ایسے طبقات کی مدد کرنا ہے جو مالی مشکلات کے باعث تعلیم اور علاج جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی تقسیم مکمل شفافیت، میرٹ اور مقررہ حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنائی جائے تاکہ حقیقی اور مستحق افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کی تعلیمی معاونت اور مریضوں کے علاج کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز عوامی امانت ہیں اس لیے ان کے استعمال میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا بے ضابطگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ خالد خان نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے تاکہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کمیٹی کے اراکین پر زور دیا کہ درخواستوں کی جانچ پڑتال غیر جانبدارانہ انداز میں کی جائے اور ضرورت مند افراد تک امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے دوران مختلف محکموں کے نمائندوں نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں جبکہ مستحق افراد کے انتخاب، درخواستوں کی جانچ اور فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی فلاحی اسکیموں کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4723/2026
جعفرآباد8جون ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان، قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، ان کی پیش رفت، معیار، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے جاری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے اب تک ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے اہداف سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے عوام کے وسیع تر مفاد اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بنیادی سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو روزمرہ زندگی میں درپیش مسائل کے حل میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوشش ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان کے ثمرات سے بھرپور انداز میں مستفید ہو سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ترقیاتی عمل میں شفافیت، معیار اور رفتار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی منصوبے میں غیر ضروری تاخیر یا ناقص کام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں اور فیلڈ سطح پر درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ خالد خان نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے وڑن پر عمل پیرا ہے اور اسی وژن کے تحت مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کے مثبت اثرات عوام تک پہنچانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جاری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ آئندہ ترقیاتی منصوبوں کو بھی اسی تسلسل اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ضلع جعفرآباد میں ترقی کا سفر مزید تیز ہو اور عوام کو بہتر انفراسٹرکچر، بنیادی سہولیات اور خوشحالی کے مواقع میسر آ سکیں۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور تعاون کے ساتھ کام کرتے ہوئے ترقیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4724/2026
کوئٹہ 8جون ۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی، عبدالخالق خان اچکزئی سے United Nations Population Fund کی ڈپٹی نمائندہ ڈاکٹر گلنارا کادیرکولووا اور پروگرام کوآرڈینیٹر سعدیہ عطاء نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکریٹری پاپولیشن ظفر علی بلیدی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران بلوچستان کو درپیش مختلف سماجی و ترقیاتی چیلنجز، خصوصا دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت، آبادی کی بہبود، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح و ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی آگاہی کے پروگراموں کو مزید موثر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے وفد کو صوبے کی جغرافیائی وسعت اور بعض علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کا تعاون صوبے کے عوام، بالخصوص خواتین، نوجوانوں اور کمزور طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ UNFPA بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے گا۔وفد نے بلوچستان اسمبلی اور صوبائی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ماں کی صحت، خاندانی بہبود، نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گا۔ملاقات میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، استعداد کار بڑھانے، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں شراکت داری اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی اقدامات کے فروغ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آخر میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے وفد کا شکریہ ادا کیا اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا اور آخر میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی جانب سے معزز مہمان کو سووینئر پیش کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4725/2026
تربت8جون ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت تربت شہر سمیت مکران ڈویژن میں کم وولٹیج، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سمیت بجلی سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کمشنر مکران آفس کے میٹنگ ہال میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سابق سینیٹر ڈاکٹر محمد اسماعیل بلیدی ،چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو بلوچستان انجینئر یوسف شاہ (بزریعہ آن لائن)، ڈپٹی کمشنر تمپ برکت علی اور اسسٹنٹ کمشنر تمپ شیہک حیات، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ (آن لائن)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پنجگور عطاءاسد( بزریعہ آن لائن)، ، ایس ای کیسکو مکران سیف اللہ جاموٹ ، ایکسین کیسکو آپریشن ضلع کیچ آصف عزیز مگسی، انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی، آل پارٹیز کیچ کے نمائندگان اور کیچ سول سوسائٹی کے کنوینر التاز سخی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی اور سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی سمیت دیگر شرکاء نے واپڈا حکام کے ساتھ ضلع کیچ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، وولٹیج کی کمی، بجلی کے بلوں کی ادائیگی، خراب ٹرانسفارمروں کی مرمت اور دیگر متعلقہ مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔شرکاءنے واپڈا حکام پر زور دیا کہ ضلع کیچ میں شدید گرمی کے موسم کے دوران درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، ایسے حالات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو کم کیا جائے تاکہ عوام کو گرمی کے موسم میں ریلیف فراہم کی جاسکے۔اس دوران انہوں نے واپڈا حکام سے التجا کی ٹرانسلیشن لائن میں وولٹیج کی کمی کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مستحکم طریقے سے بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ڈپٹی کمشنر گوادر، ڈپٹی کمشنر تمپ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پنجگور نے بھی اپنے اپنے اضلاع میں بجلی سے متعلق درپیش مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو نے کہا کہ ادارہ مکران ڈویژن میں بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تربت اور پنجگور کے لیے 20، 20 ٹرانسفارمرز اسٹاک میں موجود ہیں اور خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی و مرمت کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔انہوں نے اعلان کیا کہ مکران ڈویژن کے مختلف علاقوں میں 20 گھنٹے بجلی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے نئے عملے کی تعیناتی بھی کی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو نے صارفین پر زور دیا کہ وہ اپنے بجلی کے بل بروقت ادا کریں تاکہ ادارے کو نظام کی بہتری اور ترقیاتی کاموں کے لیے مالی وسائل دستیاب رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیسکو عوام کی خدمت کے لیے موجود ہے اور صارفین کے ساتھ خوش اخلاقی اور بہتر رویہ اختیار کرنا تمام عملے کی ذمہ داری ہے۔اجلاس کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ، کیسکو حکام اور عوام کے باہمی تعاون سے مکران ڈویژن میں بجلی کے دیرینہ مسائل کے حل میں پیش رفت ہوگی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر4726/2026
کوئٹہ، 8 جون۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سمندری وسائل کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، سمندروں کے تحفظ کے بغیر پائیدار ترقی، ماحولیاتی توازن اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کا تصور ممکن نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان تقریباً 770 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کا حامل صوبہ ہے جو نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت، بین الاقوامی تجارت اور سمندری سرگرمیوں کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سمیت بلوچستان کے ساحلی علاقے بلیو اکانومی، ماہی گیری، ساحلی سیاحت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں جن سے موثر انداز میں استفادہ کر کے معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح ہمارے سمندر بھی ماحولیاتی آلودگی، پلاسٹک ویسٹ، غیر قانونی شکار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، اداروں، مقامی آبادیوں اور شہریوں کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سمندری حیات اور قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ساحلی ماحول کے تحفظ، سمندری آلودگی کے تدارک، ماہی گیر برادری کی فلاح و بہبود اور ساحلی علاقوں کی پائیدار ترقی کے لیے مختلف عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ساحلی پٹی کے قدرتی حسن اور وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات پہنچانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سمندروں کا تحفظ درحقیقت انسانی مستقبل، غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول کے تحفظ کے مترادف ہے۔ انہوں نے عوام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ سمندری وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی شعور کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کی ترقی، سمندری وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحول دوست پالیسیوں کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کے ساحلی وسائل کو قومی ترقی اور خوشحالی کے لیے موثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4727/2026
کوئٹہ، 8 جون ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے، جس میں آصف علی نامی شخص نے مبینہ طور پر خودکشی سے قبل پانچ افراد کو قتل کر دیا، کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر واقعے کے تمام پہلووں کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ اداروں کو حقائق تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ خودکشی سے قبل ویڈیو پیغام ریکارڈ کرنے والے متوفی آصف علی کے بیان کی روشنی میں دو مشتبہ سرکاری ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد، بیانات اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے شاہد رند نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے جس کے تمام محرکات اور حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کو مکمل شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تحقیقات کو بلاامتیاز اور منطقی انجام تک پہنچایا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور کسی بھی فرد یا اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ اگر تحقیقات کے دوران کسی شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے تاکہ کسی قسم کی ابہام یا قیاس آرائی کی گنجائش باقی نہ رہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا یقین دلایا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اس افسوسناک سانحے کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4728/2026
پنجگور۔ ڈپٹی کمشنر پنجگور جہانزیب بلوچ نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) اور پی ایس ڈی پی(PSDP) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر ایکسین بلڈنگ نواب علی اور متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ایکسین بلڈنگ نے ڈپٹی کمشنر کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیارِ تعمیر، فنڈز کے استعمال اور تکمیل کے متوقع وقت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور جاری کاموں کا جائزہ لیا .ڈپٹی کمشنر جہانزیب بلوچ نے منصوبوں کی بروقت تکمیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ضلع کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مختلف منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے، تاہم انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی جلد تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ عوام ان کے ثمرات سے بروقت مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4729/2026
سبی 8 جو ن ۔کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض کی زیر صدارت ڈویژنل ٹاسک فورس آن پولیو اور ای پی آئی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سیوی میجر(ر) الیاس کبزئی، ڈویژنل ایریا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر احسان اللہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈی پی او صلاح الدین مری، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ایس آر آئی پی ارسلان لاشاری، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جہانزیب گشکوری، ایم اینڈ ای آفیسر شعیب خان خجک سمیت سبی ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی ایچ اوز اور ڈپٹی ڈی ایچ اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض نے کہا کہ ہر پولیو مہم کے آغاز سے قبل موثر پری کمپین سرگرمیوں اور ٹارگٹ سروے کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کی درست نشاندہی اور سو فیصد کوریج حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی اور انہیں حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی کے لیے ای پی آئی پروگرام کو مزید فعال بنایا جائے جبکہ ای پی آئی اور ڈبلیو ایچ او اپنے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا کو اپ ڈیٹ رکھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فیک مارکنگ اور فیک رپورٹنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور پولیو ٹیموں کی بھرتی میں صرف اہل اور فعال افراد کو شامل کیا جائے۔ کمشنر سیوی نے ہدایت کی کہ ایک ہی خاندان یا قریبی رشتہ داروں کی غیر ضروری بھرتیوں سے گریز کیا جائے اور مانیٹرز کے انتخاب اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں۔اجلاس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ایریا کوآرڈینیٹر نے کمشنر سیوی کو پولیو اور ای پی آئی پروگرام کی موجودہ صورتحال، کارکردگی اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4730/2026
کوئٹہ 8جون۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی، صفائی، ستھرائی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، پولیس ،ایف سی متعلقہ محکموں کے افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور شیعہ کانفرنس کے عہدیداران نے شرکت کی۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ محرم الحرام ایک مقدس، بابرکت اور قابلِ احترام مہینہ ہے جس کی فضیلت اور احترام تمام مکاتبِ فکر میں مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد محرم الحرام بالخصوص یومِ عاشور کے موقع پر تمام انتظامات کا بروقت جائزہ لینا اور عزاداران کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہے۔اجلاس کے دوران شیعہ کانفرنس کے نمائندوں نے محرم الحرام کے حوالے سے درپیش مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا۔ کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ ادارے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔کمشنر نے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ جلوسوں کے روٹس پر صفائی ستھرائی، نالیوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور پیچ ورک کے کام فوری طور پر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خراب اسٹریٹ لائٹس کو درست کرکے جلوسوں اور مجالس کے مقامات پر روشنی کا مناسب انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ عزاداران کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں کیسکو حکام کو ہدایت کی گئی کہ محرم الحرام خصوصاً ساتویں، نویں اور دسویں محرم کے دوران بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور لوڈشیڈنگ سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کو بھی ہدایت کی گئی کہ محرم الحرام کے ایام میں گیس کی فراہمی کا شیڈول بہتر بنایا جائے۔محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رکھتے ہوئے اضافی طبی عملہ، ایمبولینسز، ادویات اور فرسٹ ایڈ کی سہولیات دستیاب رکھی جائیں۔ اسی طرح واسا حکام کو عزاداران کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، جبکہ ضرورت پڑنے پر ٹینکروں کے ذریعے بھی پانی فراہم کیا جائے گا۔سیکیورٹی کے حوالے سے کمشنر نے کہا کہ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت محرم الحرام کے تمام پروگراموں کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص ساتویں، نویں اور دسویں محرم الحرام کو مچھ، ڈاگاری اور دیگر علاقوں سے آنے والے عزادار قافلوں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا اور ان کے کوئٹہ آمد سے لے کر واپسی تک تمام راستوں پر خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ شہر کے اندر برآمد ہونے والے مرکزی جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی اجتماعات کی بھرپور نگرانی کی جائے گی، جبکہ تمام حساس مقامات، جلوسوں کے روٹس اور مجالس کے مقامات پر اضافی سیکیورٹی تعینات کی جائے گی تاکہ عزاداران کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جہاں انتظامیہ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کے نمائندے چوبیس گھنٹے موجود رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4731/2026
کوئٹہ 8جون۔ ڈی ایس پیز انڈر ٹریننگ کے وفد نے آج یہاں ڈی سی آفس کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ شرکائ کے سوالات کے جوابات بھی دیے گئے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے وفد کو ضلعی انتظامیہ کے نظام، عوامی خدمات، ریونیو، امن و امان، قیمتوں کی نگرانی، تجاوزات کے خاتمے، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان موثر رابطہ اور تعاون عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سمیت ضلع بھر کے تمام سب ڈویژنوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔افسران نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق امور پر بریفنگ دیتے ہوئے انتظامی امور، فیلڈ چیلنجز اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے ڈی ایس پیز انڈر ٹریننگ کے وفد کو ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سیکشن، رجسٹرار آفس، کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس برانچ اور لوکل/ڈومیسائل برانچ کا دورہ بھی کرایا۔ وفد کو مختلف شعبوں میں جدید نظام، عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور دفتری امور کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی گئی۔وفد نے ضلعی انتظامیہ کے مختلف شعبہ جات میں جاری اصلاحات اور جدید سہولیات کو سراہتے ہوئے انتظامی امور میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر4732/2026
سوراب08 جون:۔ ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف سی 61 ونگ کے کرنل سید فخر رفیق طلحہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی اور مختلف محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت میں اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ان کے ثمرات بروقت حاصل ہوں۔
خبر نامہ نمبر4733/2026
موسیٰ خیل 08جون:۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے تحصیل توئیسر میں BHU نالی میردادزئی، BHU شاہ نادر آباد اور BHU زام کا تفصیلی دورہ کیااس دورے کا بنیادی مقصد صحت مراکز میں عملے کی حاضری، ILR کی مینٹیننس، کولڈ چین سسٹم، ویکسین کے دستیاب اسٹاک، ریکارڈ کی درستگی اور جاری حفاظتی ٹیکہ جات کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا تھا دورے کے دوران ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے تمام متعلقہ رجسٹرز، ویکسین اسٹاک، درجہ حرارت کے ریکارڈ اور ILR کی کارکردگی کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسین کے معیار اور افادیت کو برقرار رکھنے کے لیے کولڈ چین سسٹم کی مسلسل نگرانی اور مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے بعد ازاں ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے فیلڈ میں ویکسینیٹرز کے ہمراہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور گھر گھر جا کر بچوں کی ویکسینیشن کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے والدین سے ملاقاتیں کیں اور بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس دوران ایسے گھرانوں کا بھی دورہ کیا گیا جہاں ویکسینیشن سے انکار (Refusal) کے کیسز موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے والدین کو حفاظتی ٹیکہ جات کے فوائد، مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں ان کے کردار اور بچوں کی صحت مند مستقبل کے لیے ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے ویکسینیٹرز کی فیلڈ کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ کمیونٹی میں آگاہی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنائیں، مسڈ بچوں اور ریفیوزل کیسز پر خصوصی توجہ دیں، اور ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولت پہنچانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع موسیٰ خیل میں ویکسینیشن کوریج کو بہتر بنانے اور بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نگرانی اور فیلڈ وزٹس کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/4734
موسیٰ خیل08 جون:ـڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے تحصیل کنگری میں BHU کنگری اور BHU کھجوری کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد صحت مراکز میں عملے کی حاضری، ادویات کے دستیابی، طبی سہولیات کی فراہمی، اور جاری صحت سرگرمیوں کا جائزہ لینا تھا دورانِ دورہ ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور عملے کی حاضری کو چیک کیا۔ انہوں نے ادویات کے اسٹاک، ریکارڈ کی درستگی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جاری ORT مہم کے تحت ویکسینیٹرز کی کارکردگی، فیلڈ سرگرمیوں، اور حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کا بھی جائزہ لیا گیا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ILR اور کولڈ چین سسٹم کی مینٹیننس، ویکسین اسٹاک اور متعلقہ رجسٹرز کا معائنہ کیا تاکہ ویکسین کے معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں اور عوام کو بہترین طبی و حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور محنت جاری رکھیں۔ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور ویکسینیشن پروگرام کو مؤثر بنانے کے لیے ایسے دورے باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے.

خبر نامہ نمبر 2026/4735
کوئٹہ 08جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کے مطابق اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سب ڈویژن سریاب کے مختلف علاقوں میں تندوروں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس کارروائی کے دوران وزن میں کمی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر 13 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا، جبکہ 4 تندور سیل کردیے گئے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوام کو معیاری اور مقررہ وزن کے مطابق روٹی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4736
ضلع قلعہ عبداللہ8جون:ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع بھر میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر گلستان عرفان احمد خلجی کی سربراہی میں پولیس فورس نے ضلع قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سرکاری اراضی پر قائم متعدد غیر قانونی گھروں اور دیگر تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کا مقصد سرکاری اراضی کا تحفظ، غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ آپریشن کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ ڈی ایس پی قلعہ عبداللہ عمر خان کاکڑ سمیت دیگر پولیس افسران اور اہلکاروں نے بھی کارروائی میں بھرپور حصہ لیا۔
ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انتظامیہ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیرات اور قبضوں سے گریز کریں، قوانین و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ علاقے میں نظم و ضبط اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *