7th-September-2026

خبر نا مہ نمبر 7452/2026
کوئٹہ7ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شاہینوں، شہدائ اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطن عزیز کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی خدمات، قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ راشد منہاس شہید سمیت پاک فضائیہ کے جانبازوں نے دفاعِ وطن کے لیے جرات، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ ان بہادر سپوتوں کی قربانیاں انے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا روشن استعارہ ہیں۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کے دوران پاک فضائیہ نے اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی صلاحیت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی فضائی حدود کے دفاع کی شاندار روایت کو مزید مضبوط کیا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی اس موثر اور قابلِ تحسین کارکردگی نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کی فضائی حدود کا دفاع مضبوط اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے انہوں نے کہا کہ یومِ فضائیہ محض ایک قومی دن نہیں بلکہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور وطن سے وفاداری کے جذبے کی تجدید کا موقع بھی ہے۔ قوم اپنے شاہینوں کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور فرض شناسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاک فضائیہ کی خدمات پر فخر کرتی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدائ قوم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں اور پوری قوم شہدائ کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاک فضائیہ کے تمام شہدائ کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے غازیوں اور موجودہ شاہینوں کی سلامتی، کامیابی اور مزید سربلندی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔


خبر نامہ نمبر 7453/2026
اورماڑہ 7ستمبر۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت کی مداخلت اور کامیاب مذاکرات کے بعد انجمن تاجران اور ال پارٹیز کی جانب سے دی گئی احتجاج اور شٹر ڈاون ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی اسسٹنٹ کمشنر نے تاجر برادری کے تحفظات سنے اور یقین دہانی کرائی کہ تمام متعلقہ معاملات کو باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور قانون کے مطابق خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا مذاکرات کے مثبت نتائج کے بعد انجمنِ تاجران اورماڑہ کے صدر بابا فہیم ناصر نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد اورماڑہ میں معمول کی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں۔اس موقع پر تحصیلدار اورماڑہ نور خان اور واجہ سید مہیم جان سمیت مقامی نمائندوں نے بھی اسسٹنٹ کمشنر سے ملاقات کی، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انتظامیہ نے عوام اور تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے موثر رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔


خبر نامہ نمبر 7454/2026
خضدار 7ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبد الرزاق ساسولی کی ہدایات پر محکمہ صحت نے جعلی ڈاکٹروں، عطائی معالجین، غیر رجسٹرڈ کلینکس اور غیر قانونی ادویات کے خلاف خضدار سٹی اور مضافاتی علاقوں میں بھرپور کریک ڈاون کیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی کی قیادت میں محکمہ صحت کی خصوصی ٹیم اسسٹنٹ کمشنر نال عبداللہ مینگل اور ڈرگ انسپکٹر عبدالرشید مینگل کے ہمراہ کٹھان، کوشک کانک اور خضدار سٹی کے مختلف جگہوں پر متعدد نجی کلینکس اور طبی مراکز کا اچانک معائنہ کیا۔کارروائی کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 10 جعلی کلینکس کو موقع پر سیل کر دیا گیا، جبکہ مختلف طبی مراکز میں موجود ادویات، رجسٹریشن اور طبی سہولیات کے قانونی و معیاری تقاضوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے واضح کیا کہ عوام کی صحت اور زندگی سے کھیلنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ جعلی ڈاکٹرز، عطائی معالجین، غیر رجسٹرڈ کلینکس اور غیر قانونی ادویات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی نے کہا کہ محکمہ صحت کی اولین ترجیح صحت عامہ کا تحفظ اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔ ضلع بھر میں غیر قانونی طبی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی قیادت میں ہونے والی اس کارروائی کو محکمہ صحت کی جانب سے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ایک موثر اور عملی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ بھی ضلع کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کلینکس، عطائی ڈاکٹروں اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


خبر نامہ نمبر 7455/2026
نصیرآبا د 7ستمبر ۔ نصیراباد ڈویژن میں پہلی مرتبہ ضلع نصیرآباد میں ڈپٹی کمشنر نصیراباد کی قیادت میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا واضح رہے کہ آج ضلع نصیراباد میں خواتین کو درپیش مسائل اور مشکلات کے فوری ازالے کے لیے پہلی مرتبہ ڈپٹی کمشنر نصیراباد وریندر لعل کی جانب سے خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بالخصوص عمر رسیدہ غریب اور مستحق خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل و مشکلات سے ڈپٹی کمشنر کو اگاہ کیاکھلی کچہری کے دوران خواتین نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سے متعلق درپیش پیچیدگیوں مالی معاونت کے حصول میں مشکلات علاج معالجے کے لیے انڈومنٹ فنڈ سے استفادہ کرنے میں حائل رکاوٹوں نرسنگ کالج ڈیرہ مراد جمالی میں ہاسٹل کی عمارت کی عدم دستیابی سمیت مختلف اہم مسائل تفصیل سے بیان کیے خواتین نے تحصیل باباکوٹ اور تحصیل تمبو میں آمدورفت کے دوران امن و امان سے متعلق مسائل جبکہ تحصیل میر حسن میں پرائمری اسکول کے قیام اور بچوں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی پیش کیا اس کے علاوہ خواتین نے مختلف مالی سماجی اور بنیادی نوعیت کی مشکلات سے بھی ڈپٹی کمشنر کو اگاہ کیا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی درخواست کیاس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرا ٓباد وریندر لعل نے خواتین کے مسائل کو انتہائی توجہ اور تحمل کے ساتھ سنا اور متعلقہ افسران کو موقع پر ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ معاشرے کے کمزور غریب اور مستحق طبقات بالخصوص خواتین کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور انہیں سرکاری سہولیات تک رسائی میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد اس عزم کا اظہار ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے مسائل کے اظہار کے لیے ایک باعزت محفوظ اور براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کرنا انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے یقین دلایا کہ خواتین کے جائز مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے گاڈپٹی کمشنر نے خود عمر رسیدہ خواتین کے پاس جا کر ان کے مسائل سنے ان کی مشکلات دریافت کیں اور متعلقہ افسران کو فوری طور پر ضروری کارروائی اور مسائل کے حل کے احکامات جاری کیے کھلی کچہری میں شریک عمر رسیدہ اور مستحق خواتین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی میں پہلی مرتبہ خواتین کے مسائل سننے کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ہے جس پر ہم ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو براہِ راست اپنے مسائل انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملنا خوش آئند اقدام ہے خواتین نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ آئندہ بھی اسی طرح باقاعدگی سے خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہریوں کا انعقاد کرتی رہے گی تاکہ ان کے مسائل کو بروقت سنا اور حل کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس موقع پر کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ خوشی اور اعزاز ہے کہ وہ غریب مستحق اور عمر رسیدہ خواتین کی مشکلات کے ازالے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت ہی ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ترجیح ہے اور کسی بھی شہری کو اپنے جائز مسئلے کے حل کے لیے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔


خبر نامہ نمبر 7456/2026
صحبت پور 7ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے او جی ڈی سی ایل (OGDCL) کی جانب سے مقامی لوگوں کے لیے تعمیر کیے جانے والے 100 نئے گھروں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا موقع پر جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے گھروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل تعمیراتی معیار بنیادی سہولیات اور دیگر امور کا باریک بینی سے معائنہ کیاسڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام اور تعمیراتی عملے کو ہدایت کی کہ منصوبے میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام کام مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق افراد کو بروقت معیاری اور محفوظ رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور وہ اپنے نئے تعمیر شدہ گھروں میں باعزت طور پر اباد ہو سکیں انہوں نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل کی جانب سے صحبت پور کے مقامی لوگوں کے لیے 100 گھروں کی تعمیر ایک قابلِ تحسین فلاحی اقدام ہے، جس سے نہ صرف مستحق خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات میسر ائیں گی بلکہ ان کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری ائے گیڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے او جی ڈی سی ایل انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے علاقے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے گھروں کی تعمیر کا جو منصوبہ شروع کیا ہے وہ قابلِ قدر اقدام ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ او جی ڈی سی ایل مستقبل میں بھی صحبت پور کے عوام کی فلاح و بہبود بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیگر سماجی ترقی کے منصوبوں میں اپنا مثبت اور موثر کردار اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گی۔


خبر نامہ نمبر 7457/2026
نصےر ا با د 7ستمبر۔ نصیراباد ڈویژن میں پہلی مرتبہ ضلع نصیرآ باد میں ڈپٹی کمشنر نصیراباد کی قیادت میں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا واضح رہے کہ آج ضلع نصیراباد میں خواتین کو درپیش مسائل اور مشکلات کے فوری ازالے کے لیے پہلی مرتبہ ڈپٹی کمشنر نصیراباد وریندر لعل کی جانب سے خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بالخصوص عمر رسیدہ غریب اور مستحق خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل و مشکلات سے ڈپٹی کمشنر کواگاہ کیاکھلی کچہری کے دوران خواتین نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سے متعلق درپیش پیچیدگیوں مالی معاونت کے حصول میں مشکلات علاج معالجے کے لیے انڈومنٹ فنڈ سے استفادہ کرنے میں حائل رکاوٹوں نرسنگ کالج ڈیرہ مراد جمالی میں ہاسٹل کی عمارت کی عدم دستیابی سمیت مختلف اہم مسائل تفصیل سے بیان کیے خواتین نے تحصیل باباکوٹ اور تحصیل تمبو میں آمدورفت کے دوران امن و امان سے متعلق مسائل جبکہ تحصیل میر حسن میں پرائمری اسکول کے قیام اور بچوں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی پیش کیا اس کے علاوہ خواتین نے مختلف مالی سماجی اور بنیادی نوعیت کی مشکلات سے بھی ڈپٹی کمشنر کو اگاہ کیا اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی درخواست کیاس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیراباد وریندر لعل نے خواتین کے مسائل کو انتہائی توجہ اور تحمل کے ساتھ سنا اور متعلقہ افسران کو موقع پر ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ معاشرے کے کمزور غریب اور مستحق طبقات بالخصوص خواتین کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور انہیں سرکاری سہولیات تک رسائی میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد اس عزم کا اظہار ہے کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے مسائل کے اظہار کے لیے ایک باعزت محفوظ اور براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کرنا انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے یقین دلایا کہ خواتین کے جائز مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے گاڈپٹی کمشنر نے خود عمر رسیدہ خواتین کے پاس جا کر ان کے مسائل سنے ان کی مشکلات دریافت کیں اور متعلقہ افسران کو فوری طور پر ضروری کارروائی اور مسائل کے حل کے احکامات جاری کیے کھلی کچہری میں شریک عمر رسیدہ اور مستحق خواتین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی میں پہلی مرتبہ خواتین کے مسائل سننے کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ہے جس پر ہم ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو براہِ راست اپنے مسائل انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملنا خوش آئند اقدام ہے خواتین نے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظام ائندہ بھی اسی طرح باقاعدگی سے خواتین کے لیے خصوصی کھلی کچہریوں کا انعقاد کرتی رہے گی تاکہ ان کے مسائل کو بروقت سنا اور حل کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس موقع پر کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ خوشی اور اعزاز ہے کہ وہ غریب مستحق اور عمر رسیدہ خواتین کی مشکلات کے ازالے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت ہی ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ترجیح ہے اور کسی بھی شہری کو اپنے جائز مسئلے کے حل کے لیے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

خبر نامہ نمبر 7458/2026
گوادر 7ستمبر۔ صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت نوجوانوں کو صحت مند، مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، کھیلوں کے ٹیلنٹ کو فروغ دینے اور انہیں بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے گوادر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں ادارہ ترقیات گوادر نے جان والی بال اینڈ فٹسال گراونڈ کی تعمیر، توسیع، تزئین و آرائش اور بحالی کا کام مکمل کرلیا ہے یہ منصوبہ ادارہ ترقیات گوادر کے اولڈ ٹان بحالی منصوبے کا حصہ ہے، جس کی تکمیل سے مقامی نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو فٹبال، والی بال اور دیگر کھیلوں کے لیے معیاری سہولیات میسر ائیں گی گوادر میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے سینٹر محمد اسحاق کرکٹ اسٹیڈیم، بابا برنجو فٹبال اسٹیڈیم، سورگ دل فٹبال گراونڈ اور ادارہ ترقیات پبلک اسکول فٹبال گراونڈ سمیت مختلف کھیلوں کے میدانوں پر کام جاری ہے، جبکہ گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول گراونڈ کی ترقی کا کام بھی جاری ہے ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کو کھیلوں اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا، انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب متوجہ کرنا، مقامی کھیلوں کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا اور گوادر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

خبر نامہ نمبر 7459/2026
کوئٹہ 7ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت کوئٹہ شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں اور جدید ائی ٹی لیب کے قیام و پیش رفت کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں، منصوبوں کی موجودہ صورتحال، معیارِ تعمیر اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کوئٹہ امیر حمزہ اور ایکسین (سٹی) سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایکسین (سٹی) کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں مختلف منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت، جاری تعمیراتی کام، درپیش مسائل اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے اگاہ کیا گیا۔اجلاس میں بالخصوص شہری سہولیات کی بہتری، انفراسٹرکچر کی ترقی، جاری تعمیراتی منصوبوں کی رفتار، کام کے معیار اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران سے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ تعمیراتی کام میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ ہو اور مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔اجلاس میں جدیدائی ٹی لیب کے حوالے سے بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، اس لیے ائی ٹی لیب کو جدید تقاضوں سے ہم اہنگ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود اور شہری سہولیات میں بہتری کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ان منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری کام کی رفتار مزید تیز کی جائے، منصوبوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے اور تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور موثر نگرانی کے ذریعے منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں اور کام کی پیش رفت سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں۔


خبر نامہ نمبر 7460/2026
تربت 7ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت ضلع کیچ میں قائم مختلف بینکوں کے منیجرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں بینکوں کے سی ایس آر فنڈز کو عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے موثر اور منظم انداز میں استعمال کرنے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ضلع کیچ کے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف اہم تجاویز زیر غور آئیں۔ اس موقع پر تربت شہر اور دیگر اہم مقامات پر 300 اسٹریٹ لائٹس کی فراہمی، ایمبولینسز کی مرمت و بحالی، سول ہسپتال میں ضروری سہولیات کی فراہمی، شعبہ تعلیم کی بہتری اور تربت بازار میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے لیے بینکوں کی جانب سے سی ایس آر فنڈز کے تحت تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا بنیادی مقصد دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور بینکوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سی ایس آر فنڈز کو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور بنیادی شہری سہولیات ایسے اہم شعبے ہیں جن میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے ڈپٹی کمشنر کیچ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ عوامی مسائل کے حل اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے موثر اقدامات جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیح صرف منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو فوری اور دیرپا ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بینک منیجرز پر زور دیا کہ وہ اپنے اداروں کے سی ایس آر فنڈز کے ذریعے ضلع کیچ کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔اجلاس میں بینک اسلامی کے منیجر ناصر علی، بینک مکرمہ لمیٹڈ کے منیجر طارق خالد، بینک الفلاح کے منیجر خلیل احمد, الائیڈ بینک کے منیجر حامد علی اور حبیب بینک کے منیجر شبیر احمد نے شرکت کی۔اجلاس میں ان بینک منیجرز کی عدم شرکت کا بھی نوٹس لیا گیا جو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے متعلقہ بینکوں کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غیر حاضر بینک منیجرز اور متعلقہ بینکوں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کیے۔اجلاس کے شرکائ نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے سی ایس آر فنڈز کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ضلع کیچ کی مجموعی ترقی کے لیے متحرک اور موثر اقدامات کر رہی ہے.ڈپٹی کمشنر کیچ کی عوام دوست پالیسیوں اور عملی اقدامات کے باعث مختلف اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔ اور ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو مزید موثر بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔


خبر نامہ نمبر 7461/2026
حب7ستمبر۔ بلوچستان کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ”ڈرگ فری بلوچستان” اور خصوصی طور پر ”ڈرگ فری انیشیٹیو کے نام سے جامع پروگرام پرتیزی سے عملدرآمدجاری ہے اس سلسلے میں کمشنر لسبیلہ ڈویژن ساِئرہ عطائ کی زیر صدارت لیڈاکانفرنس ہال میں اجلاس منعقدہوااجلاس میں حکومتِ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں منشیات فروشی کیخلاف زیرو ٹالرنس (سخت ترین پالیسی) اپنانے اورنشے کے عادی افراد کے مفت علاج اور بحالی کیلئے خصوصی مرکز قیام کے حوالے سے مختلف تجاویزپر غورکیا گیا نشے کی عادی خواتین کے علاج کے لیے الگ سے خصوصی بحالی مراکز قائم کرنے منشیات کے خلاف بھرہورکریک ڈان اورگرفتاریاں عمل میں لانے کا فیصلہ کیامحکمہ سماجی۔بہبود کے افسر نے کمشمر کو بریفنگ میں بتایاکہ اوتھل میں ادارہ بحالی منشیات مرکز کاتعمیراتی آخری مراحل میں یے ضلع حب میں منشیات کے عادی افرادکے علاج معالجے کیلئے مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ڈپٹی کمشنر حب جمعدادمندوخیل اورایس پیحب مرزابلال حسن نے انسدادمنشیات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کیجانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے کمشنر کو بریفنگ دی گئ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذکرنے والے اداروں بشمول پولیس ایکسائز اور اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کے تعاون سے تعلیمی اداروں اور گلی محلوں میں خصوصی آگہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا آگاہی مہم اورنوجوانوں کا تحفظ کیلئے تعلیمی اداروں میں سیمینارز اور واکس کے ذریعے نوجوان نسل کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائیگاتاکہ ان کی توانائیوں کو تعلیم اور کھیلوں کی طرف راغب کیا جائے۔ کمشنرنے ایس پی حب مرزابلال حسن کو دوران بریفنگ احکامات جاری کیں ییں بریفنگ میں بتایاکہ(خصوصاً آئسکرسٹل میتھ اور چرس) سپلائی کرنے والوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے اورانتظامی حکام کو کاروائیوں سے آگاہرکھا جائے اجلاس میں۔نشے کے عادی افراد کی اس پروگرام کے تحت علاج اور بحالی کے مراکزکی فعالی نشی افرادکی رجسٹریشن محکمہ سوشل ویلفیئر کی زیرنگرانی کروانے وزیراعلی کمک پروگرام کے تحت معذورافرادکی ویلفئیر اورجسٹریشن اورویریفکیشن کا عمل ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے کوارڈینیشن سے کرنے کافیصلہ کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر7462/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سمنگلی روڈ سمیت کوئٹہ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے سمنگلی روڈ کی تعمیر و گریڈ بہتری کے کام میں مبینہ رکاوٹوں اور نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا کام بلا تعطل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔سماعت میں درخواست گزار سید نذیر احمد آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی، ثناء اللہ خان بگٹی ایڈووکیٹ، ایس پی لیگل کوئٹہ رحیم خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر چیف منسٹر پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ رفیق بلوچ، ایڈووکیٹ کنوینر کمیٹی شائے حق بلوچ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد اور پاکستان ریلوے کے وکیل رضوان علی سومرو پیش ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ کوئلہ پھاٹک کراسنگ کو چوڑا کرنے کا کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم حتمی کارروائی پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں زیر التوا ہے، جسے ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جلد شروع کردیا جائے گا۔عدالت میں سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کے لیے سول متفرق درخواست بھی جمع کرائی گئی، جس کے ساتھ منسلک دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ ایس ایس پی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی احکامات سے متعلقہ ٹریفک حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر CMPQD نے کالون روڈ کے سامنے عارضی میڈین اوپننگ اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق کولون روڈ پر یومیہ ٹریفک کا حجم 12,342 جبکہ چھٹی کے اوقات میں 1,270 گاڑیاں فی گھنٹہ ہے، جبکہ انسکمب روڈ کے متعلقہ حصے پر یومیہ ٹریفک 6,416 اور چھٹی کے اوقات میں 631 گاڑیاں فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ٹریفک ماہرین کی رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ کالون روڈ تک غلط سمت سے ہونے والی آمدورفت سڑک استعمال کرنے والوں کے رویے اور غلط نقل و حرکت کا مسئلہ ہے، اس لیے کالون روڈ کے سامنے مستقل میڈین اوپننگ کی ضرورت نہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ نئی اوپننگ سے زرغون روڈ پر بے قابو موڑ اور ٹریفک کی قطار کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ انسکمب روڈ پہلے ہی متبادل اور مقصد سے بنایا گیا راستہ ہے۔رپورٹ میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے سمتاتی سائن بورڈز، ٹریفک پولیس کے موثر نفاذ، ڈرائیور آگاہی مہم اور 30 روز بعد ٹریفک صورتحال کی دوبارہ نگرانی کی سفارش کی گئی۔عدالت کو بتایا گیا کہ 24 اگست 2026 سے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے حکام کی جانب سے سمنگلی روڈ کی گریڈ بہتری کا کام روک دیا گیا تھا۔ مختلف اجلاسوں کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کی موجودگی میں متعلقہ حکام نے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم بعد ازاں بغیر کسی تحریری اطلاع کے تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ روک دی گئیں۔کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے تاہم وہ خود کسی ایسی تحریری ہدایت یا حکم سے آگاہ نہیں۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 فروری 2026 کو متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو خطوط کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ سمنگلی، سریاب اور زرغون روڈ پر نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کو غیر ضروری کھدائی سے محفوظ رکھا جائے اور کسی بھی یوٹیلیٹی ورک سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ اس کے باوجود بعض مقامات پر نجی مزدوروں کے ذریعے نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کو دوبارہ توڑا جارہا ہے۔عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں اور اگر سمنگلی روڈ کے تعمیراتی کام کو روکنے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر معطل کرایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور آئندہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں توہین عدالت کی کارروائی بھی شامل ہوسکتی ہے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کام کرنے والے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے کسی بھی قسم کی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک شروع کرنے سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کریں گے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔عدالت نے حکم کی نقل متعلقہ حکام کو اطلاع اور تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئینی درخواست کی مزید سماعت 24 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7462/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، لوکل بسوں، رکشوں اور ٹریفک کے مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد، درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ محترمہ انعم خیر، میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے وکیل محمد اکرم شاہ، ڈی جی کیو ڈی اے اورنگ زیب کاسی، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون و ضوابط) کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔جنرل سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کوئٹہ ڈویژن نے عدالت میں پیشرفت رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے فیڈر روٹس پر 27 الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی، کوئٹہ کے لیے 2 الیکٹرک بسوں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسوں کی فراہمی، وکلاءکے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم، سریاب روڈ پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کی منتقلی، کوئٹہ۔کچلاک روٹ پر کوسٹر کے اجازت نامے، غیر قانونی اور مقررہ تعداد سے زائد رکشوں کے خلاف کارروائی سمیت 9,451 دستی رکشہ پرمٹس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل کو پیشرفت رپورٹ کی نقل بھی فراہم کر دی گئی ہے۔سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطا اللہ لانگو نے عدالت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ عدالت کی سابقہ ہدایات کے باوجود کوئٹہ کے مرکزی اور فیڈر روٹس پر لوکل بسیں بدستور چل رہی ہیں، جو عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، پشین اور خضدار کے وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے تحت 2 ڈیزل بسیں، 2 گلابی وینز، 2 الیکٹرک شٹل کارٹس اور 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز مختص کی گئی ہیں، تاہم اس منصوبے پر تاحال خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ خواتین وکلاءکے لیے مختص 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز بمعہ ہیلمٹس موصول ہو چکی ہیں، تاہم وکلاءکے لیے مختص دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات کے حوالے سے عملی اقدامات تاحال مکمل نہیں کیے گئے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ سریاب روڈ پر پرانے اکٹرائی گودام کے مقام پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی تاحال کمشنر/چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور سیکریٹری آر ٹی اے کو منتقل نہیں کی گئی، جس کے باعث منصوبے پر عملی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا منصوبہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا تھا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 1 ارب 235.300 ملین روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم عدالت کے مشاہدات کے بعد منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو تفویض کیا گیا اور اس پر نظرثانی کرتے ہوئے لاگت 595.720 ملین روپے کر دی گئی، جو حتمی فیصلے کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں زیرِ غور ہے۔درخواست گزار نے ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود کوئٹہ شہر اور نواحی علاقوں میں ٹریفک کی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، جبکہ متعلقہ سرکاری محکمے عملی اقدامات کے بجائے محض رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔عدالت نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کے دستخطوں سے درج ذیل امور پر جامع رپورٹس آئندہ سماعت پر عدالت میں جمع کرائی جائیں:ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی کی منتقلی کی موجودہ صورتحال۔کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک وہیکلز کی فراہمی اور منصوبے کی موجودہ حیثیت۔وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کی منظوری اور اس پر ہونے والی عملی پیشرفت۔عدالت نے سیکریٹری آر ٹی اے کو مزید ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کے کسی بھی علاقے میں پرانی اور ناکارہ بسوں کے چلائے جانے سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔عدالتی حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ اسے متعلقہ حکام تک پہنچا کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7463/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سریاب سروس روڈ اور طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، چیف منسٹر پیکج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد رفیق، ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون و ضوابط) اربن پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کلیم اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر، چیف منسٹر پیکج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ کی جانب سے سریاب سروس روڈ اور سیلابی پانی نالہ سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق سریاب سروس روڈ کی تکمیل کے لیے منصوبے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے مرحلہ وار کام جاری ہے۔ مجموعی طور پر 15,140 میٹر سڑک میں سے 14,500 میٹر پر اسفالٹک بیس کورس مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ رکاوٹوں والے مقامات پر کام باقی ہے۔رپورٹ کے مطابق 15,140 میٹر میں سے تقریباً 6,500 میٹر سڑک پر اسفالٹک پہننے کا کورس مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی کام جاری ہے۔ منصوبے کے تحت پل کی تعمیر بھی مکمل کرلی گئی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب سروس روڈ کے ساتھ طوفانی پانی کی نکاسی کے لیے ڈرین کا تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم بعض مقامات پر موجود رکاوٹوں کے باعث باقی کام متاثر ہے۔ اسی طرح کرب اسٹون اور پیورز کی تنصیب کا تقریباً 30 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ باقی کام جاری ہے۔سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بعض کیب اور کمیونیکیشن کمپنیوں کے نامعلوم افراد کی جانب سے متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر نئی تعمیر شدہ سریاب سروس روڈ پر غیر مجاز کھدائی کی گئی، جس سے نہ صرف سڑک اور عوامی سہولیات کو نقصان پہنچا بلکہ جاری ترقیاتی کام بھی متاثر ہوئے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے 20 اگست 2026 کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب، کوئٹہ کو ارسال کردہ خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ 13 فروری 2026 کے خط کی نقل بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی، جس میں متعلقہ سرکاری، نیم سرکاری اور یوٹیلیٹی اداروں کو سمنگلی روڈ یوٹیلیٹی کوریڈور سمیت سریاب اور زرغون روڈز پر یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے حوالے سے ضروری ہدایات دی گئی تھیں۔عدالت نے قرار دیا کہ نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں، سڑکوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بار بار غیر ضروری اور غیر مجاز کھدائی کے ذریعے نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ کسی بھی نئی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر کو مطلع کیا جائے اور باقاعدہ اجازت حاصل کی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جہاں یوٹیلیٹی کوریڈور دستیاب ہو، وہاں اسی کا استعمال کیا جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کی نشاندہی کردہ جگہ پر کام کیا جائے تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پیورز کو دوبارہ نقصان نہ پہنچے۔عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جو مناسب صورت میں توہین عدالت کی کارروائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے غیر مجاز کھدائی یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اطلاع ملنے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ہدایت کی کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کسی بھی قسم کا کام شروع کرنے سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کرنا لازم ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کام کے لیے مناسب جگہ کی نشاندہی بھی کرے گا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا سختی سے سدباب کیا جائے۔سماعت کے دوران عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ کی جانب سے CMA نمبر 3504/2026 بھی دائر کیا گیا، جس کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو فراہم کردی گئی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو درخواست کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ ہدایات کے مطابق حکم جاری کرتے ہوئے عدالتی حکم کی نقول ایڈیشنل اٹارنی جنرل بلوچستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفاتر کو معلومات اور تعمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7464/2026
کوئٹہ7 ستمبر ۔, پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں حلقے اور صوبے کے دیگر اضلاع کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور بروقت تکمیل وقت کی ضرورت ہے، اور عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک و قوم کا روشن مستقبل جدید تعلیمی نظام میں پنہاں ہے۔ ملکی استحکام اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نسل کو جدید تعلیم کے حصول کی ترغیب دیں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری بہتر نمائندگی کر سکیں۔ نوابزادہ میر زرین خان مگسی نے وفود کو یقین دلایا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو معیار اور وقت کی پابندی کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔اس موقع پر مختلف وفود اور سائلین نے اپنے علاقائی اور ذاتی نوعیت کے مسائل نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کے سامنے پیش کیں، جنہیں انہوں نے غور سے سنا اور فوری طور پر متعلقہ محکمانہ افسران کو احکامات جاری کیے.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7465/2026
گوادر7 ستمبر ۔گوادر میں نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے، کھیلوں کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے درمیان صحت مند و مثبت مسابقت کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول گوادر 2026 کا باقاعدہ اور شاندار افتتاح کردیا گیا۔ فیسٹیول کا افتتاح ڈائریکٹر ایجوکیشنل اسکولز منیر احمد نودیزئی نے کیا میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول گوادر کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس اسپورٹس فیسٹیول کو محکمہ تعلیم گوادر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن گوادر، ادارہ ترقیات گوادر اور دیگر متعلقہ اداروں کا بھرپور تعاون حاصل ہے افتتاحی تقریب میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس کے چیرمین میرارشد کلمتی سمیت مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کو طلبہ نے رنگا رنگ ثقافتی و تعلیمی ٹیبلو، پریڈ، مارچ پاسٹ، رسا کشی کے مقابلوں اور اسکول اسکاوٹنگ کے خصوصی مظاہرے سے یادگار بنا دیا اس موقع پر گوثری ہائی اسکول اور نیوٹاون گرائمر ہائی اسکول کے درمیان سنسنی خیز فٹبال میچ بھی کھیلا گیا، جس میں دونوں ٹیموں کے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور شائقین سے بھرپور داد وصول کی۔ میچ میں کمنٹری کے فرائض غفار رحمان اور احسام قاضی نے انجام دیے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایجوکیشنل اسکولز منیر احمد نودیزئی اور میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس کے چیئرمین میر ارشد کلمتی نے کہا کہ فیسٹیول کا مقصد محض کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہیں بلکہ گوادر کی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی (Gen-Z) کو مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی سطح پر کھیلوں کے مضبوط کلچر کو فروغ دے کر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ملک و صوبے کا نام روشن کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر اور مکران کے کھیلوں کے میدانوں نے ماضی میں بھی باصلاحیت اور نامور کھلاڑی پیدا کیے ہیں، جنہوں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ موجودہ تعلیمی و اسپورٹس پالیسی کا بنیادی مقصد اسی ٹیلنٹ کو بروقت نکھار کر نوجوانوں کو ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7466/2026
جعفرآباد:7ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈیرہ اللہ یار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کو ادویات کی دستیابی، ایمرجنسی میڈیسن اسٹاک، جنرل صفائی ستھرائی، ڈینٹل او پی ڈی، زچہ و بچہ کی صحت اور پیڈیاٹرک وارڈ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرا نے ایمرجنسی میڈیسن اسٹاک کا معائنہ کرتے ہوئے ادویات کی دستیابی اور ریکارڈ کو باقاعدگی سے چیک کرنے کی ہدایت کی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور انتظامیہ کو صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور خصوصی صفائی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈینٹل او پی ڈی کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بہتر اور معیاری ڈینٹل سہولیات کی فراہمی کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے اسسٹنٹ کمشنر نے زچہ و بچہ اور پیڈیاٹرک وارڈز میں ضروری سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری اور مریضوں کی مناسب دیکھ بھال یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7467/2026
حب 7ستمبرکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں ضلع حب کے صنعتی ایریازسمیت ضلع بھر میں 2لاکھ پودوں کی شجرکاری کاہدف مقررکیا گیا کمشنر لسبیلہ ڈویڑن کی زیرصدارت منعقدہ میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر حب جمعدادمندوخیل ایس پی حب مرزابلال حسن اورڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ شریک ہوئے فاریسٹ حکام نےاجلاس کے شرکائکوبریفنگ میں بتایا کہ شجرکاری مہم کے تحت پہلے مرحلے میں ضلعی پولیس کے تعاون سے پندرہ ہزار پودے لگائے جائیں گے دوسرے مرحلے میں ایم ڈی لیڈا چیمبرآف کامرس کے تعاون سے انڈسٹریل اورشہری ایریازمیں ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی جائیگی جبکہ شپ بریکنگ سمیت مختلف علاقوں میں شجرکاری مہم شروع کی جائیگیڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ حب محمودنے بریفنگ میں بتایا کہ حب ڈیم کے ایریا میں کامیابی سے ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی گءجوتناوردرخت بنکر قدرتی۔ماحول کوبرقراررکھنے کیساتھ جنگلی حیات کیلئے محفوظ مسکن بن چکی ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطاء نے اجلاس سے خطاب کرتے یوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی دورکرنے میں درختوں کا کلیدی کرداریوتا ہے محکمہ جنگلات کے پراجیکٹس کی مانیٹرنگ سختی سے کی جائیگی اورجنگلات کی اراضیات کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7468/2026
حب 7ستمبر ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں ضلع حب کے صنعتی ایریازسمیت ضلع بھر میں 2لاکھ پودوں کی شجرکاری کاہدف مقررکیا گیا کمشنر لسبیلہ ڈویڑن کی زیرصدارت منعقدہ میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر حبجمعدادمندوخیل ایس پی حب مرزابلال حسن اورڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ شریک ہوئے فاریسٹ حکام نےاجلاس کے شرکاء کوبریفنگ میں بتایا کہ شجرکاری مہم کے تحت پہلے مرحلے میں ضلعی پولیس کے تعاون سے پندرہ ہزار پودے لگائے جائیں گے دوسرے مرحلے میں ایم ڈی لیڈا چیمبرآف کامرس کے تعاون سے انڈسٹریل اورشہری ایریازمیں ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی جائیگی جبکہ شپ بریکنگ سمیت مختلف علاقوں میں شجرکاری مہم شروع کی جائیگیڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ حب محمودنے بریفنگ میں بتایا کہ حب ڈیم کے ایریا میں کامیابی سے ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی گءجوتناوردرخت بنکر قدرتی۔ماحول کوبرقراررکھنے کیساتھ جنگلی حیات کیلئے محفوظ مسکن بن چکی ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے اجلاس سے خطاب کرتے یوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی دورکرنے میں درختوں کا کلیدی کرداریوتا ہے محکمہ جنگلات کے پراجیکٹس کی مانیٹرنگ سختی سے کی جائیگی اورجنگلات کی اراضیات کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7462/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سمنگلی روڈ سمیت کوئٹہ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے سمنگلی روڈ کی تعمیر و گریڈ بہتری کے کام میں مبینہ رکاوٹوں اور نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا کام بلا تعطل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔سماعت میں درخواست گزار سید نذیر احمد آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی، ثناء اللہ خان بگٹی ایڈووکیٹ، ایس پی لیگل کوئٹہ رحیم خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر چیف منسٹر پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ رفیق بلوچ، ایڈووکیٹ کنوینر کمیٹی شائے حق بلوچ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد اور پاکستان ریلوے کے وکیل رضوان علی سومرو پیش ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ کوئلہ پھاٹک کراسنگ کو چوڑا کرنے کا کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم حتمی کارروائی پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں زیر التوا ہے، جسے ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جلد شروع کردیا جائے گا۔عدالت میں سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کے لیے سول متفرق درخواست بھی جمع کرائی گئی، جس کے ساتھ منسلک دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ ایس ایس پی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی احکامات سے متعلقہ ٹریفک حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر CMPQD نے کالون روڈ کے سامنے عارضی میڈین اوپننگ اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق کولون روڈ پر یومیہ ٹریفک کا حجم 12,342 جبکہ چھٹی کے اوقات میں 1,270 گاڑیاں فی گھنٹہ ہے، جبکہ انسکمب روڈ کے متعلقہ حصے پر یومیہ ٹریفک 6,416 اور چھٹی کے اوقات میں 631 گاڑیاں فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ٹریفک ماہرین کی رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ کالون روڈ تک غلط سمت سے ہونے والی آمدورفت سڑک استعمال کرنے والوں کے رویے اور غلط نقل و حرکت کا مسئلہ ہے، اس لیے کالون روڈ کے سامنے مستقل میڈین اوپننگ کی ضرورت نہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ نئی اوپننگ سے زرغون روڈ پر بے قابو موڑ اور ٹریفک کی قطار کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ انسکمب روڈ پہلے ہی متبادل اور مقصد سے بنایا گیا راستہ ہے۔رپورٹ میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے سمتاتی سائن بورڈز، ٹریفک پولیس کے موثر نفاذ، ڈرائیور آگاہی مہم اور 30 روز بعد ٹریفک صورتحال کی دوبارہ نگرانی کی سفارش کی گئی۔عدالت کو بتایا گیا کہ 24 اگست 2026 سے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے حکام کی جانب سے سمنگلی روڈ کی گریڈ بہتری کا کام روک دیا گیا تھا۔ مختلف اجلاسوں کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کی موجودگی میں متعلقہ حکام نے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم بعد ازاں بغیر کسی تحریری اطلاع کے تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ روک دی گئیں۔کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے تاہم وہ خود کسی ایسی تحریری ہدایت یا حکم سے آگاہ نہیں۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 فروری 2026 کو متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو خطوط کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ سمنگلی، سریاب اور زرغون روڈ پر نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کو غیر ضروری کھدائی سے محفوظ رکھا جائے اور کسی بھی یوٹیلیٹی ورک سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ اس کے باوجود بعض مقامات پر نجی مزدوروں کے ذریعے نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کو دوبارہ توڑا جارہا ہے۔عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں اور اگر سمنگلی روڈ کے تعمیراتی کام کو روکنے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر معطل کرایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور آئندہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں توہین عدالت کی کارروائی بھی شامل ہوسکتی ہے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کام کرنے والے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے کسی بھی قسم کی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک شروع کرنے سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کریں گے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔عدالت نے حکم کی نقل متعلقہ حکام کو اطلاع اور تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئینی درخواست کی مزید سماعت 24 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7462/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، لوکل بسوں، رکشوں اور ٹریفک کے مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد، درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ محترمہ انعم خیر، میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے وکیل محمد اکرم شاہ، ڈی جی کیو ڈی اے اورنگ زیب کاسی، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون و ضوابط) کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔جنرل سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کوئٹہ ڈویژن نے عدالت میں پیشرفت رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے فیڈر روٹس پر 27 الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی، کوئٹہ کے لیے 2 الیکٹرک بسوں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسوں کی فراہمی، وکلاءکے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم، سریاب روڈ پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کی منتقلی، کوئٹہ۔کچلاک روٹ پر کوسٹر کے اجازت نامے، غیر قانونی اور مقررہ تعداد سے زائد رکشوں کے خلاف کارروائی سمیت 9,451 دستی رکشہ پرمٹس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل کو پیشرفت رپورٹ کی نقل بھی فراہم کر دی گئی ہے۔سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطا اللہ لانگو نے عدالت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ عدالت کی سابقہ ہدایات کے باوجود کوئٹہ کے مرکزی اور فیڈر روٹس پر لوکل بسیں بدستور چل رہی ہیں، جو عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، پشین اور خضدار کے وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے تحت 2 ڈیزل بسیں، 2 گلابی وینز، 2 الیکٹرک شٹل کارٹس اور 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز مختص کی گئی ہیں، تاہم اس منصوبے پر تاحال خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ خواتین وکلاءکے لیے مختص 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز بمعہ ہیلمٹس موصول ہو چکی ہیں، تاہم وکلاءکے لیے مختص دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات کے حوالے سے عملی اقدامات تاحال مکمل نہیں کیے گئے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ سریاب روڈ پر پرانے اکٹرائی گودام کے مقام پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی تاحال کمشنر/چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور سیکریٹری آر ٹی اے کو منتقل نہیں کی گئی، جس کے باعث منصوبے پر عملی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا منصوبہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا تھا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 1 ارب 235.300 ملین روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم عدالت کے مشاہدات کے بعد منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو تفویض کیا گیا اور اس پر نظرثانی کرتے ہوئے لاگت 595.720 ملین روپے کر دی گئی، جو حتمی فیصلے کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں زیرِ غور ہے۔درخواست گزار نے ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود کوئٹہ شہر اور نواحی علاقوں میں ٹریفک کی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، جبکہ متعلقہ سرکاری محکمے عملی اقدامات کے بجائے محض رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔عدالت نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کے دستخطوں سے درج ذیل امور پر جامع رپورٹس آئندہ سماعت پر عدالت میں جمع کرائی جائیں:ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی کی منتقلی کی موجودہ صورتحال۔کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک وہیکلز کی فراہمی اور منصوبے کی موجودہ حیثیت۔وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کی منظوری اور اس پر ہونے والی عملی پیشرفت۔عدالت نے سیکریٹری آر ٹی اے کو مزید ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کے کسی بھی علاقے میں پرانی اور ناکارہ بسوں کے چلائے جانے سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔عدالتی حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ اسے متعلقہ حکام تک پہنچا کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7463/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سریاب سروس روڈ اور طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، چیف منسٹر پیکج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد رفیق، ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون و ضوابط) اربن پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کلیم اللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر، چیف منسٹر پیکج فار کوئٹہ ڈویلپمنٹ کی جانب سے سریاب سروس روڈ اور سیلابی پانی نالہ سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق سریاب سروس روڈ کی تکمیل کے لیے منصوبے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے مرحلہ وار کام جاری ہے۔ مجموعی طور پر 15,140 میٹر سڑک میں سے 14,500 میٹر پر اسفالٹک بیس کورس مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ رکاوٹوں والے مقامات پر کام باقی ہے۔رپورٹ کے مطابق 15,140 میٹر میں سے تقریباً 6,500 میٹر سڑک پر اسفالٹک پہننے کا کورس مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی کام جاری ہے۔ منصوبے کے تحت پل کی تعمیر بھی مکمل کرلی گئی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب سروس روڈ کے ساتھ طوفانی پانی کی نکاسی کے لیے ڈرین کا تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم بعض مقامات پر موجود رکاوٹوں کے باعث باقی کام متاثر ہے۔ اسی طرح کرب اسٹون اور پیورز کی تنصیب کا تقریباً 30 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ باقی کام جاری ہے۔سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بعض کیب اور کمیونیکیشن کمپنیوں کے نامعلوم افراد کی جانب سے متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر نئی تعمیر شدہ سریاب سروس روڈ پر غیر مجاز کھدائی کی گئی، جس سے نہ صرف سڑک اور عوامی سہولیات کو نقصان پہنچا بلکہ جاری ترقیاتی کام بھی متاثر ہوئے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے 20 اگست 2026 کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سریاب، کوئٹہ کو ارسال کردہ خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ 13 فروری 2026 کے خط کی نقل بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی، جس میں متعلقہ سرکاری، نیم سرکاری اور یوٹیلیٹی اداروں کو سمنگلی روڈ یوٹیلیٹی کوریڈور سمیت سریاب اور زرغون روڈز پر یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے حوالے سے ضروری ہدایات دی گئی تھیں۔عدالت نے قرار دیا کہ نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں، سڑکوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بار بار غیر ضروری اور غیر مجاز کھدائی کے ذریعے نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ کسی بھی نئی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر کو مطلع کیا جائے اور باقاعدہ اجازت حاصل کی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جہاں یوٹیلیٹی کوریڈور دستیاب ہو، وہاں اسی کا استعمال کیا جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کی نشاندہی کردہ جگہ پر کام کیا جائے تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پیورز کو دوبارہ نقصان نہ پہنچے۔عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جو مناسب صورت میں توہین عدالت کی کارروائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے غیر مجاز کھدائی یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اطلاع ملنے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ہدایت کی کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی کمپنیوں کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کسی بھی قسم کا کام شروع کرنے سے قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کرنا لازم ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کام کے لیے مناسب جگہ کی نشاندہی بھی کرے گا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا سختی سے سدباب کیا جائے۔سماعت کے دوران عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ کی جانب سے CMA نمبر 3504/2026 بھی دائر کیا گیا، جس کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو فراہم کردی گئی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو درخواست کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ ہدایات کے مطابق حکم جاری کرتے ہوئے عدالتی حکم کی نقول ایڈیشنل اٹارنی جنرل بلوچستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفاتر کو معلومات اور تعمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7464/2026
کوئٹہ7 ستمبر ۔, پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں حلقے اور صوبے کے دیگر اضلاع کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور بروقت تکمیل وقت کی ضرورت ہے، اور عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک و قوم کا روشن مستقبل جدید تعلیمی نظام میں پنہاں ہے۔ ملکی استحکام اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نسل کو جدید تعلیم کے حصول کی ترغیب دیں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری بہتر نمائندگی کر سکیں۔ نوابزادہ میر زرین خان مگسی نے وفود کو یقین دلایا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو معیار اور وقت کی پابندی کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔اس موقع پر مختلف وفود اور سائلین نے اپنے علاقائی اور ذاتی نوعیت کے مسائل نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کے سامنے پیش کیں، جنہیں انہوں نے غور سے سنا اور فوری طور پر متعلقہ محکمانہ افسران کو احکامات جاری کیے.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7465/2026
گوادر7 ستمبر ۔گوادر میں نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو نکھارنے، کھیلوں کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے درمیان صحت مند و مثبت مسابقت کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول گوادر 2026 کا باقاعدہ اور شاندار افتتاح کردیا گیا۔ فیسٹیول کا افتتاح ڈائریکٹر ایجوکیشنل اسکولز منیر احمد نودیزئی نے کیا میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس فیسٹیول گوادر کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس اسپورٹس فیسٹیول کو محکمہ تعلیم گوادر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن گوادر، ادارہ ترقیات گوادر اور دیگر متعلقہ اداروں کا بھرپور تعاون حاصل ہے افتتاحی تقریب میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس کے چیرمین میرارشد کلمتی سمیت مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کو طلبہ نے رنگا رنگ ثقافتی و تعلیمی ٹیبلو، پریڈ، مارچ پاسٹ، رسا کشی کے مقابلوں اور اسکول اسکاوٹنگ کے خصوصی مظاہرے سے یادگار بنا دیا اس موقع پر گوثری ہائی اسکول اور نیوٹاون گرائمر ہائی اسکول کے درمیان سنسنی خیز فٹبال میچ بھی کھیلا گیا، جس میں دونوں ٹیموں کے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور شائقین سے بھرپور داد وصول کی۔ میچ میں کمنٹری کے فرائض غفار رحمان اور احسام قاضی نے انجام دیے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایجوکیشنل اسکولز منیر احمد نودیزئی اور میر کلمتی انٹر ایجوکیشنل اسپورٹس کے چیئرمین میر ارشد کلمتی نے کہا کہ فیسٹیول کا مقصد محض کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد نہیں بلکہ گوادر کی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی (Gen-Z) کو مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی سطح پر کھیلوں کے مضبوط کلچر کو فروغ دے کر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ملک و صوبے کا نام روشن کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر اور مکران کے کھیلوں کے میدانوں نے ماضی میں بھی باصلاحیت اور نامور کھلاڑی پیدا کیے ہیں، جنہوں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ موجودہ تعلیمی و اسپورٹس پالیسی کا بنیادی مقصد اسی ٹیلنٹ کو بروقت نکھار کر نوجوانوں کو ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7466/2026
جعفرآباد:7ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر جھٹ پٹ دھیرج کالرا نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈیرہ اللہ یار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کو ادویات کی دستیابی، ایمرجنسی میڈیسن اسٹاک، جنرل صفائی ستھرائی، ڈینٹل او پی ڈی، زچہ و بچہ کی صحت اور پیڈیاٹرک وارڈ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرا نے ایمرجنسی میڈیسن اسٹاک کا معائنہ کرتے ہوئے ادویات کی دستیابی اور ریکارڈ کو باقاعدگی سے چیک کرنے کی ہدایت کی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور انتظامیہ کو صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور خصوصی صفائی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈینٹل او پی ڈی کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بہتر اور معیاری ڈینٹل سہولیات کی فراہمی کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے اسسٹنٹ کمشنر نے زچہ و بچہ اور پیڈیاٹرک وارڈز میں ضروری سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری اور مریضوں کی مناسب دیکھ بھال یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7467/2026
حب 7ستمبرکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں ضلع حب کے صنعتی ایریازسمیت ضلع بھر میں 2لاکھ پودوں کی شجرکاری کاہدف مقررکیا گیا کمشنر لسبیلہ ڈویڑن کی زیرصدارت منعقدہ میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر حب جمعدادمندوخیل ایس پی حب مرزابلال حسن اورڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ شریک ہوئے فاریسٹ حکام نےاجلاس کے شرکائکوبریفنگ میں بتایا کہ شجرکاری مہم کے تحت پہلے مرحلے میں ضلعی پولیس کے تعاون سے پندرہ ہزار پودے لگائے جائیں گے دوسرے مرحلے میں ایم ڈی لیڈا چیمبرآف کامرس کے تعاون سے انڈسٹریل اورشہری ایریازمیں ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی جائیگی جبکہ شپ بریکنگ سمیت مختلف علاقوں میں شجرکاری مہم شروع کی جائیگیڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ حب محمودنے بریفنگ میں بتایا کہ حب ڈیم کے ایریا میں کامیابی سے ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی گءجوتناوردرخت بنکر قدرتی۔ماحول کوبرقراررکھنے کیساتھ جنگلی حیات کیلئے محفوظ مسکن بن چکی ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطاء نے اجلاس سے خطاب کرتے یوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی دورکرنے میں درختوں کا کلیدی کرداریوتا ہے محکمہ جنگلات کے پراجیکٹس کی مانیٹرنگ سختی سے کی جائیگی اورجنگلات کی اراضیات کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7468/2026
حب 7ستمبر ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں ضلع حب کے صنعتی ایریازسمیت ضلع بھر میں 2لاکھ پودوں کی شجرکاری کاہدف مقررکیا گیا کمشنر لسبیلہ ڈویڑن کی زیرصدارت منعقدہ میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر حبجمعدادمندوخیل ایس پی حب مرزابلال حسن اورڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ شریک ہوئے فاریسٹ حکام نےاجلاس کے شرکاء کوبریفنگ میں بتایا کہ شجرکاری مہم کے تحت پہلے مرحلے میں ضلعی پولیس کے تعاون سے پندرہ ہزار پودے لگائے جائیں گے دوسرے مرحلے میں ایم ڈی لیڈا چیمبرآف کامرس کے تعاون سے انڈسٹریل اورشہری ایریازمیں ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی جائیگی جبکہ شپ بریکنگ سمیت مختلف علاقوں میں شجرکاری مہم شروع کی جائیگیڈپٹی ڈائریکٹر فاریسٹ حب محمودنے بریفنگ میں بتایا کہ حب ڈیم کے ایریا میں کامیابی سے ایک لاکھ پودوں کی پلانٹیشن کی گءجوتناوردرخت بنکر قدرتی۔ماحول کوبرقراررکھنے کیساتھ جنگلی حیات کیلئے محفوظ مسکن بن چکی ہیں کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے اجلاس سے خطاب کرتے یوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی دورکرنے میں درختوں کا کلیدی کرداریوتا ہے محکمہ جنگلات کے پراجیکٹس کی مانیٹرنگ سختی سے کی جائیگی اورجنگلات کی اراضیات کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7469/2026
کوئٹہ۔ 7 ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں تو صوبے کے دوردراز سے آنے والے سائلین کے مسائل جلد حل ہوسکتے ہیں، محکمہ ماحولیات میں لواحقین کوٹے کے تحت بھرتیوں کا مرحلہ احسن انداز میں مکمل کرنے پر محکمہ ماحولیات کے سیکرٹری و ڈی جی مبارکباد کے مستحق ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے زیرِ اہتمام نو تعینات لواحقین کوٹہ کے تحت تقرری آرڈرز تقسیم کرنے کے موقع پر کیا ،اس موقع پر 6 امیدواروں کو لواحقین کوٹہ کے تحت ان کے تقرری نامے حوالے کیے۔تقریب کی صدارت مشیر ماحولیات وزیراعلی بلوچستان نے کی اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات نور محمد پرانی ڈی جی ماحولیات ظہور بلوچ سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر 6 لواحقین میں تقرری آرڈرز تقسیم کیے گئے، جن کا معاملہ کافی عرصے سے زیرِ التوا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر ماحولیات وزیراعلی نسیم الرحمان خان نے کہا کہ متوفی سرکاری ملازمین کے لواحقین کو ان کا حق دینا محکمہ ماحولیات کی اولین ترجیح ہے،حکومتی ہدایات کی روشنی میں باقی ماندہ زیرِ التوا کیسز کو بھی جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے تمام بھرتیوں کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا گیا اب سرکاری ملازمت حاصل کرنے والےملازمین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیاں اخلاص و ایمانداری سے سرانجام دیں اس موقع پر نو تعینات ہونے ملازمین نے مشیر ماحولیات نسیم الرحمان ملاخیل اور محکمہ ماحولیات کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7470/2026
کوئٹہ: 7 ستمبر ۔صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی خصوصی ہدایت پر جی او آر کالونی فٹسال گراونڈ کی مرمت و بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے، جس کے بعد طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار گراونڈ دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔کبھی ویران، اجاڑ اور خستہ حال دکھائی دینے والا جی او آر کالونی فٹسال گراونڈ اب ایک خوبصورت اور فعال کھیلوں کے میدان میں تبدیل ہوچکا ہے، جہاں بچے اور نوجوان باقاعدگی سے فٹسال سمیت مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔مرمت و بحالی کے کام کی تکمیل کے بعد صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے گراونڈ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گراونڈ میں کھیلوں میں مصروف بچوں اور کھلاڑیوں سے ملاقات کی، ان سے گفتگو کی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کے مسائل اور ضروریات دریافت کیں۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع کی فراہمی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوان مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب ہوں گے، جبکہ حکومت کی ترجیح ہے کہ نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سہولیات فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔جی او آر کالونی فٹسال گراونڈ کی بحالی کو علاقے کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، جس سے نہ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان نسل کو صحت مند اور مثبت ماحول بھی میسر آئے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7471/2026
کوئٹہ 7ستمبر۔صوبے میں کپاس کی پیداوار بڑھانے، کاشت کے رقبے میں وسعت اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں cotton maximisation کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت داود خلجی نے کپاس کی موجودہ صورتحال، پیداواری امکانات، کاشتکاروں کو درپیش مسائل، جدید بیج، آبپاشی، زرعی مشینری، اور بہتر مارکیٹنگ کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ کپاس صوبے کی ایک اہم نقد آور فصل ہے، جس کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف کسانوں کی آمدن بڑھا سکتا ہے بلکہ صوبائی معیشت کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیج، پانی کے مو¿ثر استعمال، بروقت کاشت اور زرعی رہنمائی کے ذریعے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان میں پہلے ہی کپاس کے رقبے میں توسیع کا رجحان دیکھا گیا ہے، اجلاس میں بتایا گیا کہ cotton maximisation کے ذریعے صوبے کے ان اضلاع میں بھی کپاس کی کاشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جہاں زرعی امکانات موجود ہیں، جس سے بنجر یا کم استعمال شدہ اراضی کو قابلِ کاشت بنایا جا سکے گا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ مقامی کسانوں کے لیے براہِ راست مالی فائدہ لے کر آئے گا، کیونکہ بہتر پیداوار، کم لاگت، اور بہتر مارکیٹ تک رسائی سے ان کی آمدن میں اضافہ ممکن ہوگا۔ تحقیقی شواہد کے مطابق بلوچستان میں کپاس کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ خاطر خواہ منافع حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ بہتر زرعی نظم و نسق سے پیداوار اور منافع دونوں میں اضافہ ممکن ہے۔چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ صوبے میں ٹیکسٹائل، جننگ، ٹرانسپورٹ، روزگار اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے گا، جس سے مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی ترقی صرف ایک فصل کی ترقی نہیں بلکہ یہ زراعت، صنعت اور برآمدات کے باہمی ربط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہے، جس سے ملکی درآمدی بل میں کمی اور برآمدی امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ کپاس کے کاشتکاروں کے لیے تربیتی پروگرام، آگاہی مہم، فیلڈ سپورٹ، اور مربوط حکمتِ عملی پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ صوبے میں cotton maximisation کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ حکومتِ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ زرعی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور صوبائی معیشت کی مضبوطی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7472/2026
کوئٹہ: 7ستمبر ۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی سے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے دفتر میں طلبہ اور مختلف وفود کے نمائندوں نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے مسائل، تجاویز اور مختلف امور سے متعلق صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔میر ظہور احمد بلیدی نے وفود کے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت ازالہ اور نوجوانوں کو بہتر مواقع کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی نمائندوں اور شہریوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7473/2026
گوادر:7ستمبر۔ حکومت بلوچستان کی میرٹ پر مبنی شفاف بھرتی پالیسی کے تحت گوادر پولیس میں نئی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔ 551 کانسٹیبل آسامیوں پر بھرتی کے سلسلے میں جسمانی ٹیسٹ کے مرحلے کے دوران آج گوادر کے ساحلِ سمندر پر امیدواروں کی دوڑ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرد و خواتین امیدواروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔امیدواروں نے مقررہ معیار کے مطابق جسمانی آزمائش میں حصہ لیتے ہوئے اپنی فٹنس، رفتار اور جسمانی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر امیدواروں میں پولیس فورس کا حصہ بننے کے لیے نمایاں جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا۔بھرتی کے عمل کو شفاف، منظم اور میرٹ کے مطابق یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ پولیس و سیکیورٹی حکام موقع پر موجود رہے۔ ڈی آئی جی کرائم برانچ کوئٹہ حمید کھوسہ، ، ایس ایس پی گوادر عطاءالرحمان خان ترین اے آئی جی ویلفیئر ایس پی طاہر مصطفیٰ، ڈی ایس پی چاکر بلوچ اور 68 ونگ ایف سی کے میجر سعد سمیت دیگر افسران نے جسمانی ٹیسٹ کے عمل کی نگرانی کی۔حکام کے مطابق گوادر پولیس میں بھرتی کے تمام مراحل شفافیت، میرٹ اور مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت مکمل کیے جا رہے ہیں، تاکہ اہل، قابل اور باصلاحیت نوجوانوں کو پولیس فورس میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک موثر اور پیشہ ور فورس کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7474/2026
سوراب: 7ستمبر۔ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے BSDI کے تحت خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے قائم کیے گئے فیملی پارک میں نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق فیملی پارک خصوصی طور پر خواتین، فیملیز اور بچوں کے لیے مختص ہے، جہاں انہیں محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے حالیہ واقعے میں بعض نوجوانوں کی جانب سے رات کے وقت پارک میں غیر قانونی طور پر داخل ہوکر چوکیدار کے ساتھ بدتمیزی، مبینہ تشدد اور پارک کے جھولوں کو نقصان پہنچانے کا عمل انتہائی قابل مذمت ہے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فیملی پارک میں لڑکوں اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے کوئی بھی شخص دیوار پھلانگ کر یا کسی دوسرے غیر قانونی طریقے سے پارک میں داخل ہونے، چوکیدار یا کسی خاتون سے بدتمیزی کرنے، بدامنی پھیلانے یا پارک کی املاک اور جھولوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ فیملی پارک کو خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ رکھنے میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور کسی بھی خلاف ورزی یا شرپسندی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں انتظامیہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ فیملی پارک کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی، بدتمیزی یا غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔شکایت کی صورت میں ڈی سی آفس کے نمبر0844421145پولیس تھانہ:0844421434پررابطہ کریں:۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7475/2026
گوادر، 7 ستمبر۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی گوادر میں جاری سرگرمیوں سے وابستہ کنسلٹنٹ ثنا درانی نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ جی ڈی اے شاہد علی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران یو این ڈی پی کے تحت گوادر میں جاری مختلف سرگرمیوں اور منصوبوں پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے کو بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یو این ڈی پی کے ایک منصوبے کے تحت گوادر میں موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں سرگرم مقامی گروپس، نیٹ ورکس اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔یو این ڈی پی کنسلٹنٹ نے بتایا کہ تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد گوادر میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سرگرم مقامی گروپس اور نیٹ ورکس کی استعدادِ کار میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں موثر، پائیدار اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ موسمیاتی منصوبے تشکیل دے سکیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر موثر اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں، تنظیموں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور گوادر میں ماحول دوست اور پائیدار ترقی کے لیے مختلف سطحوں پر عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جی ڈی اے مستقبل میں بھی ماحول دوست ترقی، (Climate Resilience)، عوامی آگاہی اور پائیدار منصوبہ بندی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7476/2026
خوست / ہرنائی7 ستمبر۔ : اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے ریونیو عملے کے ساتھ ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں زرعی انکم ٹیکس (AIT) اور دیگر ضروری ٹیکسز کی وصولی میں اب تک ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ٹیکس وصولی کے ہدف کو وقت پر پورا کرنے پر زور دیتے ہوئے ریونیو افسران اور فیلڈ سٹاف کو ہدایت کی کہ ریکوری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔انہوں نے اس بات پر بھی شدید زور دیا کہ تمام سرکاری ریکارڈ کو جدید اور شفاف انداز میں مرتب اور محفوظ رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی کا امکان نہ رہے۔انہوں نے عملے کو واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کے لیے روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر پیشرفت رپورٹس (Progress Reports) بلا تاخیر ارسال کی جائیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے خبردار کیا کہ ٹیکسز کی وصولی میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اہلکار اپنی ذمہ داریاں قومی اور قومی تحویل کے مفاد میں پوری ایمانداری سے سرانجام دیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7477/2026
شاہرگ / ہرنائی 7 ستمبر۔: اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے شاہرگ کا تفصیلی دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے رورل ہیلتھ سنٹر (RHC)، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اور مقامی بازار میں سروس ڈیلیوری اور انتظامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔آر ایچ سی شاہرگ کے دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر اسرار احمد شوانی نے تمام طبی و غیر طبی عملے کی حاضری کا رجسٹر چیک کیا۔ انہوں نے ہسپتال میں بنیادی و ضروری ادویات کے ذخائر کی دستیابی اور صفائی ستھرائی کے مجموعی صورتحال کا خود جائزہ لیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول شاہرگ کے معائنے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے سکول کے پرنسپل کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے اساتذہ کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبائکو تعلیمی اور ذہنی نشوونما کے لیے ایک معیاری اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم پر کوئی منفی اثر نہ پڑے آخر میں اسسٹنٹ کمشنر نے شاہرگ بازار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف دکانوں اور سٹالز پر روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور کوالٹی کو چیک کیا۔ انہوں نے منڈی اور بازار میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تاجروں کو مقررہ سرکاری نرخوں پر اشیائ فروخت کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7478/2026
ہرنائی:7ستمبر۔ ضلع ہرنائی میں مادری و بچوں کی صحت کی بہتری اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں منائے جانے والے “ماں اور بچے کی صحت کے ہفتے” (Mother and Child Health Week) کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ہرنائی، ڈاکٹر شعیب نے ضلع ہرنائی کی نمائندگی کرتے ہوئے تمام اہم تقاریب اور مہمات میں فعال شرکت کی۔ڈاکٹر شعیب نے فیلڈ سیشنز اور آگاہی تقریبات کی نگرانی کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع ہرنائی میں ماوں اور بچوں کی صحت کے معیار کو بہتر بنانا محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خصوصی ہفتے کا بنیادی مقصد دیہی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی و ضروری طبی سہولیات پہنچانا، غذائی قلت کا خاتمہ اور حفاظتی ٹیکہ جات و طبی معائنہ یقینی بنانا ہے.محکمہ صحت اور ضلع انتظامیہ کا یہ اقدام ضلعی سطح پر صحت کے نظام کی بہتری، عوامی شعور کی بیداری اور پسماندہ طبقات تک بلاامتیاز طبی علاج کی فراہمی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ تقاریب کے اختتام پر مقامی معززین اور شہریوں کی جانب سے ڈی ایچ او ہرنائی اور ان کی ٹیم کے متحرک کردار کو بھرپور سراہا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7479/2026
کوئٹہ 7ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پرلوکل/ڈومیسائل کے آسان، شفاف اور بروقت اجرا کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں لوکل/ڈومیسائل ویری فکیشن برانچ سمیت متعلقہ برانچز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر لوکل و ڈومیسائل کے اجرا اور تصدیقی عمل کا جائزہ لیا گیا جبکہ عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور درخواستوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ افسران و اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ لوکل/ڈومیسائل کے اجرا کے عمل کو مزید آسان، شفاف اور تیز بنایا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری تاخیر اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7480/2026
صحبت پور7ستمبر۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال صحبت پور کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات وارڈز ایمرجنسی او پی ڈی اور دیگر طبی سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات ادویات کی دستیابی طبی عملے کی حاضری صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کرتے ہوئے زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان سے علاج معالجے کی سہولیات ادویات کی فراہمی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے رویے سمیت ہسپتال میں درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں انہوں نے مریضوں کی شکایات اور مسائل کو توجہ سے سنا اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیںانہوں نے ہسپتال میں ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام ضروری ادویات و طبی سہولیات وافر مقدار میں دستیاب رکھی جائیں تاکہ مریضوں کو علاج کے دوران کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کرنا محکمہ صحت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی قابلِ قبول نہیں ہوگی ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے طبی عملے کی حاضری کا جائزہ لیتے ہوئے افسران اور ڈاکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر بروقت موجود رہیں اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض سرکاری ہسپتالوں سے بڑی امیدیں وابستہ کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ حسنِ سلوک،ل بروقت طبی معائنہ اور مناسب علاج کو یقینی بنایا جائےانہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وارڈز ایمرجنسی،ل واش رومز صحن اور دیگر تمام حصوں میں صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے انہوں نے ہسپتال کے ماحول کو مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے صاف ستھرا محفوظ اور سازگار رکھنے پر خصوصی زور دیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طبی آلات کی فعالیت بجلی پانی صفائی، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو علاج کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے ہسپتال کے انتظامی امور میں مزید بہتری لانے اور مریضوں کی سہولت کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کیڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے صحت عامہ کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہےانہوں نے محکمہ صحت کے افسران ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض محنت لگن ایمانداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال آنے والے مریضوں کو بروقت طبی امداد، ضروری ادویات اور بہتر علاج کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7481/2026
زیارت7ستمبر۔ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی عوامی فلاح و بہبود کے عزم کے مطابق ضلع زیارت میں محکمہ واٹر مینجمنٹ کے تحت مختلف اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ان منصوبوں میں تالابوں کی تعمیر و بحالی، حفاظتی بندات کی تعمیر، ٹیوب ویلز کی تنصیب اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائنوں کی تنصیب شامل ہے۔محکمہ واٹر مینجمنٹ کے ان اقدامات کا مقصد ضلع زیارت میں پانی کے وسائل کو بہتر بنانا، زرعی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا، سیلابی پانی سے زرعی اراضی کو محفوظ رکھنا اور عوام کو صاف پانی کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7482/2026
کوئٹہ 7ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرصدارت آئی ڈی ایس پی (IDSP) کے نمائندوں کا ہنہ وڑک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، درپیش رکاوٹوں اور مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی ڈی ایس پی کے نمائندوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون اور معاونت کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے متعلقہ حکام کو منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کے ازالے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7483/2026
کوئٹہ 7ستمبر ۔ایم ڈی بی-ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون کا اسٹاف ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا دورہ منیجنگ ڈائریکٹر بی-ٹیوٹا، جناب عبدالکبیر زرکون نے اسٹاف ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تربیتی سرگرمیوں اور اسٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ادارے کی نمایاں کارکردگی اور بہتری کے پہلووں کا جائزہ لیتے ہوئے ایم ڈی بی-ٹیوٹا نے تربیتی معیار کو مزید بہتر بنانے اور ادارے کی اپ گریڈیشن کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد اسٹاف ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر ڈائریکٹر بی-ٹیوٹا جناب غلام مصطفیٰ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر غلام حسین رضا بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7484/2026
کوئٹہ 7ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انسدادِ پولیو کمیٹی (ڈی پیک) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کوئٹہ میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی اور بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلانے کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر، این اسٹاف سمیت محکمہ صحت اور انسدادِ پولیو پروگرام سے وابستہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری پولیو مہم کی مجموعی صورتحال، مختلف علاقوں میں ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کی کوریج، رہ جانے والے بچوں (مسڈ چلڈرن) اور مہم کے دوران درپیش مسائل و چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔متعلقہ حکام نے مہم کی پیش رفت اور مقررہ اہداف کے حصول سے متعلق ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ بھی دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور فیلڈ ٹیموں کی نگرانی کو مزید موثر بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ ضلع کوئٹہ میں کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں ہر صورت پولیو ویکسین پلائی جائے جبکہ حساس علاقوں میں خصوصی توجہ، موثر مانیٹرنگ اور فیلڈ ٹیموں کی بروقت رہنمائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ باہمی رابطہ و تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے اور انسدادِ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ضلع کوئٹہ سمیت پورے صوبے کو پولیو سے پاک کرنے کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7485/2026
تربت7 ستمبر ۔یونیورسٹی آف تربت نے فوٹوگرافی کے شوقین افراد اور طلبہ کے تخلیقی ذوق کو نکھارنے اور انہیں دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تین ماہ پر مشتمل “سرٹیفکیٹ کورس ان فوٹوگرافی” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کورس میں داخلے کے خواہش مند افراد 12 ستمبر 2026 تک اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ خواہش مند افراد اپنی رجسٹریشن درج ذیل گوگل فارم لنک کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں:https://forms.gle/4Ma2X2pEegEmBEgW8یہ کورس ان تمام افراد کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جو اس ڈیجیٹل دور میں فوٹوگرافی کے میدان میں عملی مہارت حاصل کر کے ایک کامیاب کیریئر کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ کورس کی ماہانہ فیس صرف 2,000 روپے رکھی گئی ہے، تاکہ ہر باصلاحیت فرد اس شاندار موقع سے فائدہ اٹھا سکے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق، کورس کامیابی سے مکمل کرنے والے تمام شرکاء کو یونیورسٹی آف تربت کی جانب سے سرٹیفکیٹ آف کمپلیشن جاری کیا جائے گا۔ مزید معلومات اور تفصیلی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی آف تربت کے متعلقہ شعبے یا نمبر 03242087447 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7486/2026
سوراب:7ستمبر۔محکمہ مواصلات وتعمیرات کے، ایس ڈی او انجینئر مقصود احمد مینگلنے شہید ہدایت اللہ بلیدی پبلک لائبریری سوراب کے لیے اپنی جانب سے 300 قیمتی کتب تحفے میں دیں انجینئر مقصود احمد مینگل نے یہ کتب سوشل ویلفیئر آفیسر نصیب اللہ زہری کے حوالے کیں، تاکہ انہیں پبلک لائبریری میں شامل کرکے طلبائ اور نوجوانوں کے لیے مطالعے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں اس موقع پر ڈی سی آفس کے سپرنٹنڈنٹ فضل محمد قمبرانی، سکندر الٰہی سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے یہ اقدام سوراب میں تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوانوں میں مطالعے کے رجحان کو بڑھانے کی جانب ایک قابل تحسین قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7487/2026
تربت. 7ستمبر۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب کی قیادت میں محکمہ صحت کے ایک وفد نے ملاقات کی۔وفد میں ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر، عالمی ادار? صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر ارسلان درازئی سمیت محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ملاقات میں ڈسٹرکٹ کیچ اور ڈسٹرکٹ تمپ میں انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات اور دونوں اضلاع کی پولیو مہم کے حدود و دائرہ کار کے تعین سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر محکمہ صحت کی کارکردگی بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت، عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی اور انسدادِ پولیو مہم کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے بھی غور کیا گیا۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کیچ کو محکمہ صحت کی جاری سرگرمیوں اور انسدادِ پولیو مہم سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اس موقع پر کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے انسدادِ پولیو مہم کی موثر انداز میں کامیابی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات کے دوران ڈسٹرکٹ کیچ اور ڈسٹرکٹ تمپ کی پولیو مہم کے حدود کے تعین اور باہمی رابطہ کاری کے ذریعے انسدادِ پولیو مہم کو موثر اور منظم انداز میں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7488/2026
کوئٹہ 7ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کے کوئٹہ شہر میں محفوظ و معیاری تعمیرات یقینی بنانے کے عزم کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے بلڈنگ کوڈ اور تعمیراتی ضوابط پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ شہریوں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کی رہنمائی کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر زرغون زون مانیٹرنگ سپروائزر نہال دین بگٹی نے متعلقہ زون کے مختلف علاقوں، میکانگی روڈ، عارف روڈ اور تیل گودام کا دورہ کیا۔دورانِ معائنہ زیرِ تعمیر عمارتوں کے متعلقہ ٹھیکیداروں سے تعمیراتی اجازت نامہ، منظور شدہ نقشہ اور دیگر ضروری دستاویزات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ جہاں بلڈنگ پرمٹ یا دستاویزات موقع پر موجود نہیں تھیں، وہاں تعمیراتی کام کو عارضی طور پر روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ افراد کو رہنمائی فراہم کی گئی کہ وہ ضروری دستاویزات مکمل کرکے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ سے باقاعدہ بلڈنگ پرمٹ حاصل کریں، جس کے بعد ضابطے کے مطابق تعمیراتی کام دوبارہ جاری رکھا جا سکے گا۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ عمارت مالکان، ٹھیکیداروں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تعمیر شروع کرنے سے قبل ضروری منظوری اور دستاویزات مکمل کرلیں۔ بلڈنگ کوڈ پر عملدرآمد کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے محفوظ، مضبوط اور معیاری تعمیرات اور ایک منظم و خوبصورت کوئٹہ کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن متعلقہ افراد کو ہر ممکن رہنمائی اور تعاون فراہم کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7489/2026
کوئٹہ، 7 ستمبر 2026: تحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیہ کے مطابق مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران محکمہ پولیس کی جانب سے شفیق الرحمن، اے آئی جی (لیگل)، سی پی او کوئٹہ تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور انسپکٹر جنرل آف پولیس، بلوچستان کی جانب سے مورخہ 1 ستمبر 2026 کو جاری کردہ آرڈر/حکم نامہ کمیشن کے سامنے پیش کیا۔ مذکورہ حکم نامہ تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے مورخہ 27 اگست 2026 کو جاری کردہ حکم کی تعمیل میں جاری کیا گیا تھا۔حکم نامے کے تحت محکمہ پولیس کی جانب سے ایک چار رکنی رابطہ ٹیم نامزد کی گئی ہے، جس میں (1) پرویز خان عمرانی، ڈی آئی جی پی سبی رینج، (2) شفیق الرحمن، اے آئی جی پی لیگل، سی پی او کوئٹہ، (3) سید فاضل بخاری، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، سی ٹی ڈی بلوچستان، اور (4) عبد المالک درانی، ڈی ایس پی/ایس پی زیارت شامل ہیں۔ یہ رابطہ ٹیم محکمہ پولیس کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کی مکمل پیروی کرے گی۔سماعت کے دوران ڈی ایس پی/ایس پی زیارت نے تحقیقاتی کمیشن کو آگاہ کیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ محکمہ پولیس دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مکمل توانائی اور حکمت عملی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہے۔دورانِ سماعت متعدد اندراج شدہ گواہان بھی تحقیقاتی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے بیانات جمع کروائے۔تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی دو روز بعد، 9 ستمبر 2026 بروز بدھ، دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر7490/2026
کوئٹہ7 ستمبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خواندگی کے عالمی دن ہر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن ہمیں اس عزم اور احساس کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم ہی ایک روشن، بااختیار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے۔ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کا خواب ہماری اجتماعی کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان میں صوبے کی مجموعی شرحِ خواندگی میں 7 فیصد اضافہ اور سات لاکھ اڑسٹھ ہزار بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں واپس لانا محکمہ? تعلیم بلوچستان کی ایک قابلِ فخر کامیابی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت، موثر پالیسی اور مسلسل محنت کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم آج خواندگی کا تصور صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور روبوٹکس کے دور میں خواندگی کا پیمانہ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ پل پل بدلتی دنیا میں ڈیجیٹل لٹریسی ہی کسی فرد کو جدید دنیا سے باخبر، باصلاحیت اور موثر طور پر منسلک رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف روایتی تعلیم نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارتوں، سائنسی سوچ، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت سے بھی آراستہ کرنا ہوگا۔ایک جامع، یکساں اور مستقبل شناس قومی تعلیمی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے جو جذبات کے بجائے سائنسی حقائق اور ژندہ انسانوں کی ضروریات کی بنیاد پر تشکیل دی جائے۔ ایسی پالیسی ہی پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری آج بھی تعلیم کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ہمارے بہت سے ذہین اور تحقیق و تجسس سے معمور طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے معاشی مجبوریوں کے باعث محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ خواندگی محض اعداد و شمار کا نام نہیں؛ یہ انسان کو اپنے حقوق، صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ پڑھے لکھے اور باصلاحیت بلوچستان کا خواب صرف حکومت کی کوششوں سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی اداروں، تعلیمی تنظیموں، نجی شعبے اور سماجی اداروں کی مدد و معاونت بھی ناگزیر ہے۔
خبر نامہ نمبر7491/2026
کوئٹہ 07ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کے کوئٹہ شہر میں محفوظ و معیاری تعمیرات یقینی بنانے کے عزم کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے بلڈنگ کوڈ اور تعمیراتی ضوابط پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ شہریوں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کی رہنمائی کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر زرغون زون مانیٹرنگ سپروائزر نہال دین بگٹی نے متعلقہ زون کے مختلف علاقوں، میکانگی روڈ، عارف روڈ اور تیل گودام کا دورہ کیا۔دورانِ معائنہ زیرِ تعمیر عمارتوں کے متعلقہ ٹھیکیداروں سے تعمیراتی اجازت نامہ، منظور شدہ نقشہ اور دیگر ضروری دستاویزات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ جہاں بلڈنگ پرمٹ یا دستاویزات موقع پر موجود نہیں تھیں، وہاں تعمیراتی کام کو عارضی طور پر روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ افراد کو رہنمائی فراہم کی گئی کہ وہ ضروری دستاویزات مکمل کرکے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ سے باقاعدہ بلڈنگ پرمٹ حاصل کریں، جس کے بعد ضابطے کے مطابق تعمیراتی کام دوبارہ جاری رکھا جا سکے گا۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ عمارت مالکان، ٹھیکیداروں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تعمیر شروع کرنے سے قبل ضروری منظوری اور دستاویزات مکمل کرلیں۔ بلڈنگ کوڈ پر عملدرآمد کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے محفوظ، مضبوط اور معیاری تعمیرات اور ایک منظم و خوبصورت کوئٹہ کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن متعلقہ افراد کو ہر ممکن رہنمائی اور تعاون فراہم کر رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر7492/2026
حب7ستمبر:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صحت کے شعبے میں عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے وژن کے تحت محکمہ صحت کی جانب سے دور دراز علاقوں میں بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی کی نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی حب ڈاکٹر مرشد دشتی نے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن (M&E) آفیسر کے ہمراہ دور افتادہ بی ایچ یو لوہی کا دورہ کیا اور مرکز صحت کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔مانیٹرنگ ٹیم نے دورے کے دوران طبی عملے کی حاضری، او پی ڈی سروسز، ضروری ادویات کی دستیابی، ای پی آئی مرکز کی فعالیت، ویکسینز کی دستیابی، DHIS-2 میں ڈیٹا انٹری اور مرکز صحت میں صفائی ستھرائی کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر پی پی ایچ آئی کے مقررہ کارکردگی کے اعشاریوں (KPIs) کے مطابق بنیادی صحت کی سہولیات اور طبی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی گئی۔حکام کے مطابق دور افتادہ علاقوں میں بنیادی مراکز صحت کی باقاعدہ مانیٹرنگ کا مقصد عملے کی حاضری، ادویات اور ویکسین کی دستیابی سمیت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا اور صحت کے نظام میں بہتری لانا ہے۔
خبر نامہ نمبر7493/2026
کوئٹہ 7 ستمبر:۔وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں تو صوبے کے دوردراز سے آنے والے سائلین کے مسائل جلد حل ہوسکتے ہیں، محکمہ ماحولیات میں لواحقین کوٹے کے تحت بھرتیوں کا مرحلہ احسن انداز میں مکمل کرنے پر محکمہ ماحولیات کے سیکرٹری و ڈی جی مبارکباد کے مستحق ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے زیرِ اہتمام نو تعینات لواحقین کوٹہ کے تحت تقرری آرڈرز تقسیم کرنے کے موقع پر کیا،اس موقع پر 6 امیدواروں کو لواحقین کوٹہ کے تحت ان کے تقرری نامے حوالے کیے۔تقریب کی صدارت مشیر ماحولیات وزیراعلی بلوچستان نے کی اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات نور محمد پرانی ڈی جی ماحولیات ظہور بلوچ سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر 6 لواحقین میں تقرری آرڈرز تقسیم کیے گئے، جن کا معاملہ کافی عرصے سے زیرِ التوا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر ماحولیات وزیراعلی نسیم الرحمان خان نے کہا کہ متوفی سرکاری ملازمین کے لواحقین کو ان کا حق دینا محکمہ ماحولیات کی اولین ترجیح ہے،حکومتی ہدایات کی روشنی میں باقی ماندہ زیرِ التوا کیسز کو بھی جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے تمام بھرتیوں کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا گیا اب سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ملازمین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیاں اخلاص و ایمانداری سے سرانجام دیں اس موقع پر نو تعینات ہونے ملازمین نے مشیر ماحولیات نسیم الرحمان ملاخیل اور محکمہ ماحولیات کا شکریہ ادا کیا۔
خبر نامہ نمبر7494/2026
کوئٹہ4 ستمبر: بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے اسٹیلا کالج آف میڈیکل اینڈ الائیڈ سائنسز، کوئٹہ کے شعبہ ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی (DPT) کے 20 ہونہار طلباء و طالبات کے BEEF اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے پر انہیں اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد ماندائی نے کہا کہ باصلاحیت اور مستحق طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور ان کی تعلیمی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی BEEF کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے صوبے کے ہونہار طلباء و طالبات کو اپنے تعلیمی سفر کو کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم اور بالخصوص بلوچستان کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔میرٹ کی بنیاد پر BEEF اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے والے ان 20 طلباء و طالبات کا تعلق ضلع کوئٹہ، ضلع کچھی، ضلع قلعہ عبداللہ، ضلع پشین اور ضلع ژوب سے ہے۔ یہ طلباء و طالبات مختلف تعلیمی سیشنز 2021-25/26، 2022-26/27، 2023-27/28 اور 2024-28/29 سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں بالترتیب پانچویں، چوتھے، تیسرے اور دوسرے سمسٹر کے طلباء و طالبات شامل ہیں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت صوبے میں تعلیم کے فروغ، نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیمی مواقع کی فراہمی اور میرٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ بھی اسی وژن کے تحت مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے صوبے کے طلباء و طالبات کو معیاری اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری دراصل صوبے کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ BEEF کا مقصد یہ ہے کہ مالی مشکلات کے باعث کوئی بھی باصلاحیت طالب علم اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم نہ رہے اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء و طالبات کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے مناسب مواقع میسر آئیں۔تمام منتخب طلباء و طالبات کو اپنی تعلیمی محنت، عزم اور صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے والدین، تعلیمی ادارے اور صوبے کے لیے باعثِ فخر بنیں اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کریں۔بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کی جانب سے تمام منتخب طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن تعلیمی مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

خبر نامہ نمبر7495/2026
کوئٹہ7 ستمبر: بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے وکلاء کے اندراج اور پریکٹسنگ لائسنس کے حصول سے متعلق اہم حکم جاری کرتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ انٹرویو کے منتظر تمام اہل وکلاء کے کیسز عدالتِ عالیہ بلوچستان کی انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے فوری طور پر پیش کیے جائیں، تاکہ درخواست دہندگان کے اندراج کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔یہ حکم بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے سی پی نمبر 471 آف 2026، بعنوان ”میر عطاء اللہ، ممبر بلوچستان بار کونسل اور بنام چیئرمین بلوچستان بار کونسل و دیگر“ میں مورخہ 3 اگست 2026 کو جاری کیا گیا۔عدالتی حکم کے مطابق بلوچستان بار کونسل کے دفتر سے کہا گیا ہے کہ ایسے تمام کیسز، جن میں متعلقہ اپرنٹس/وکلاء انٹرویو کے منتظر ہیں، ضروری کارروائی مکمل کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ بلوچستان کی انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے جمع کرائے جائیں، تاکہ اہل درخواست دہندگان اپنے اندراج اور قانون کے تحت پریکٹسنگ لائسنس کے حصول کے حق سے بروقت مستفید ہو سکیں۔عدالت نے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ جو اپرنٹس یا ایڈووکیٹ مقررہ انٹرویو میں کامیاب قرار پاتے ہیں، وہ اپنی استحقاق/اہلیت کی تاریخ سے لائسنس کے حقدار تصور ہوں گے۔ یعنی لائسنس کا حق محض انٹرویو کے بعد کی تاریخ سے نہیں بلکہ اس تاریخ سے تسلیم کیا جائے گا جس تاریخ سے متعلقہ امیدوار قانونی طور پر اس کا حقدار بنتا ہے۔عدالتِ عالیہ کے اس حکم کا مقصد وکلاء کے اندراج کے زیرِ التوا معاملات کو بروقت نمٹانا، اہل امیدواروں کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا اور انرولمنٹ و پریکٹسنگ لائسنس کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کا ازالہ کرنا ہے۔عدالتی حکم کی روشنی میں بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری سے توقع کی گئی ہے کہ وہ انٹرویو کے منتظر تمام متعلقہ کیسز بلا تاخیر عدالتِ عالیہ بلوچستان کی انرولمنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ضروری اقدامات مکمل کریں گے، تاکہ اہل امیدواروں کے اندراج کا عمل قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق مکمل ہو سکے۔
خبر نامہ نمبر7496/2026
کوئٹہ7 ستمبر: بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے آئینی درخواست نمبر 471/2026، بعنوان میر عطاء اللہ، ممبر بلوچستان بار کونسل اور بنام چیئرمین بلوچستان بار کونسل و دیگر میں 3 اگست 2026 کو جاری کیے گئے حکم کی روشنی میں اہم انتظامی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے جاری مراسلے میں متعلقہ سیشن ڈویژنز، ٹرائل کورٹس، خصوصی عدالتوں اور مرکزی و صوبائی ٹربیونلز کے جوڈیشل افسران اور پریزائیڈنگ افسران کو عدالتی حکم سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے کے مطابق اپریل 2026 کے بعد بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے وکالت کے لائسنسوں کو درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور ایسے لائسنسوں کی بنیاد پر کسی فرد کے پیشہ ورانہ تجربے کو بھی شمار نہیں کیا جائے گا۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے جاری انتظامی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ نچلی عدالتوں اور ہائیکورٹ میں پریکٹس سے متعلق ایسے تمام لائسنس، جو 2 اپریل2026 کے بعد جاری کیے گئے ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ ایسے لائسنسوں کی بنیاد پر تجربہ سرٹیفکیٹ یا دیگر کسی دستاویز کو بھی قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جائے گا۔ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ عدالتی حکم اور انتظامی ہدایات کو تمام سیشن ڈویژنز، ٹرائل کورٹس، خصوصی عدالتوں، مرکزی و صوبائی ٹربیونلز سمیت متعلقہ عدالتی فورمز میں باقاعدہ طور پر سرکولیٹ کیا جائے، تاکہ تمام جوڈیشل افسران اس حکم سے آگاہ رہیں اور اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔عدالتی احکامات میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری نئے اندراج (New Enrolment) کے تمام زیرِ التوا کیسز 15 روز کے اندر متعلقہ انرولمنٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون اور مقررہ اصولوں کے مطابق ان کیسز پر کارروائی کی جا سکے اور ایسے وکلاء، جن کے کیسز ابھی تک انرولمنٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش نہیں ہوئے، انہیں مزید نقصان یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بلوچستان ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ عدالتی حکم اور انتظامی ہدایات کی سختی سے تعمیل کی جائے گی اور متعلقہ تمام عدالتی و انتظامی ادارے اس سلسلے میں ضروری اقدامات یقینی بنائیں گے۔

خبر نامہ نمبر 2026/7497
کوئٹہ7 ستمبر:ـصوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ کی خصوصی ہدایت پر جی او آر کالونی فٹسال گراؤنڈ کی مرمت و بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے، جس کے بعد طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار گراؤنڈ دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔کبھی ویران، اجاڑ اور خستہ حال دکھائی دینے والا جی او آر کالونی فٹسال گراؤنڈ اب ایک خوبصورت اور فعال کھیلوں کے میدان میں تبدیل ہوچکا ہے، جہاں بچے اور نوجوان باقاعدگی سے فٹسال سمیت مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔مرمت و بحالی کے کام کی تکمیل کے بعد صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے گراؤنڈ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گراؤنڈ میں کھیلوں میں مصروف بچوں اور کھلاڑیوں سے ملاقات کی، ان سے گفتگو کی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کے مسائل اور ضروریات دریافت کیں۔محترمہ مینا مجید بلوچ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع کی فراہمی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوان مثبت، صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب ہوں گے، جبکہ حکومت کی ترجیح ہے کہ نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سہولیات فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔جی او آر کالونی فٹسال گراؤنڈ کی بحالی کو علاقے کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، جس سے نہ صرف کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان نسل کو صحت مند اور مثبت ماحول بھی میسر آئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *