26th-September-2026

خبرنامہ نمبر8276/2026
کوئٹہ، 26 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں امراضِ گردہ کے مریضوں کو علاج معالجے اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ صحت بلوچستان نے صوبے میں 28 ڈائلاسسز مراکز قائم کردئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ اضلاع میں بھی رواں سال کے اختتام تک مزید ڈائلاسسز مراکز قائم اور فعال کردئے جائیں گے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں ڈائلاسسز مراکز کے قیام کا مقصد گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو ان کے اپنے علاقوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنا اور انہیں ڈائلاسسز کے لیے دور دراز شہروں کا سفر کرنے کی مشکل سے نجات دلانا ہے اس سلسلے میں ضلع زیارت میں امراضِ گردہ کا مرکز فعال کردیا گیا ہے، جہاں مریضوں کو ڈائلاسسز سمیت ضروری طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں صوبائی وزیر صحت کے مطابق باقی ماندہ اضلاع میں بھی ڈائلاسسز مراکز کے قیام اور فعال بنانے کا عمل جاری ہے، جسے رواں سال کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی و ضروری سہولیات کی فراہمی سے مقامی سطح پر مریضوں کو بروقت علاج کی سہولت میسر آئے گی اور انہیں پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔

خبرنامہ نمبر8277/2026
کوئٹہ میں سابق وفاقی وزیر خلیل جارج کی جانب سے مسیحی برادری کے اعزاز میں عوامی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے خلیل جارج کو کامیاب عوامی اجتماع پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اجتماع مسلم لیگ (ن) کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا، موجودہ حکومت نے ملک کو مشکل دور سے نکالا اور پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت تشخص بہتر ہوا ہے۔ گورنر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر سطح پر مسیحی برادری کا خیال رکھے گی۔رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت اور بلوچستان کی ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی مسائل کا حل قیادت کی ترجیحات میں شامل ہے۔رکن قومی اسمبلی اختر بی بی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتی ہے اور بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لیے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم رکھتی ہے۔رکن صوبائی اسمبلی زرک مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت اور صوبے کی ترقی کے عزم پر قائم ہے۔

خبرنامہ نمبر8278/2026
تربت : جامعہ تربت کے ساتھ الحاق شدہ کالجز میں تعلیمی معیار کی بہتری اور طلبہ کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو نکھارنے کے عزم کے تحت جامعہ تربت نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت کی طالبات کے ایک وفد کی میزبانی کی۔ وفد کی قیادت فیکلٹی ممبر محمد یوسف مجاہد کر رہے تھے۔ دورے کے مقصد عصر حاضر کی تعلیمی ضروریات، خاص طور پرڈیجیٹل اسکلز، کمپیوٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تعلیمی پروگراموں کے بارے میں آگاہی حاصل کرناتھا۔ شعبہ کمپیوٹر سائنس کے سربراہ انجینئر بلال الرحمٰن اور فیکلٹی ممبر ظہور احمد نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ انٹرایکٹو سیشن کے دوران انہوں نے طالبات کو مختلف کمپیوٹنگ شعبوں بشمول سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا سائنس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور موجودہ ڈیجیٹل دور میں ان کی اہمیت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ جامعہ تربت نے سال 2027 کے لیے 64 سے زائد پروگرامز میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔سوال و جواب کے سیشن کے دوران طالبات نے خاص طور پر کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل اسکلز کے شعبوں میں تعلیمی روڈمیپ اور روزگار کے مواقع سے متعلق سوالات کیے، جن کے انجینئر بلال الرحمٰن اور ظہور احمد نے تسلی بخش جوابات دیے۔ بریفنگ کے بعد جامعہ تربت کے سینئر طالبات نے وفد کو کمپیوٹر و ہارڈوئر لیبارٹریز، مرکزی لائبریری، جمنازیم اور دیگر سہولیات کا دورہ کرایا۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی قیادت میں یونیورسٹی اپنے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ذریعے ملحقہ کالجوں میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اسی سلسلے میں ملحقہ کالجز کے تعلیمی پروگرامز، نصاب، اور تدریسی طریقہ کار کو قومی معیارات و ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انہیں رہنمائی و تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ دورے کے اختتام پر محمد یوسف مجاہد نے طالبات کے لیے ایک مفید اور معلوماتی تعلیمی دورے کے انعقاد میں تعاون فراہم کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ اور شعبہ کمپیوٹر سائنس کے فیکلٹی ممبران کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر8279/2026
تربت26 ستمبر : کمشنر مکران ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے آج بروز ہفتہ کیچ میوزیم اینڈ کلچر کمپلیکس تربت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے میوزیم کے مختلف شعبہ جات، لائبریری اور زیر تعمیر آڈیٹوریم کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر فیلڈ آفیسر و آرکیالوجسٹ عبدالرؤف بلوچ اور فیلڈ آفیسر و آرکیالوجسٹ ریاض بلوچ نے کمشنر مکران کا استقبال کیا.کمشنر مکران ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے میوزیم کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں موجود تاریخی و ثقافتی نوادرات، لائبریری اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے زیرِ تعمیر آڈیٹوریم کا بھی معائنہ کیا اور جاری تعمیراتی کاموں کا مشاہدہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیچ میوزیم اینڈ کلچر کمپلیکس مکران کے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ لائبریری اور آڈیٹوریم کی سہولیات علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔دورے کے موقع پر پی ایس ٹو کمشنر مکران ناصر حسن اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر8280/2026
گوادر 26 ستمبر 2026: جامعہ گوادر کے شعبہ بی ایس اکنامکس کے زیرِ اہتمام نئے داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ کو جامعہ کے تعلیمی، سماجی اور ہم نصابی ماحول سے روشناس کرانا تھا تقریب میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جان محمد، رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر رحیم بخش مہر، چئرپرسن شعبہ اکنامکس شمع سلیمان، مختلف شعبہ جات کے چئرپرسنز، فیکلٹی ممبران، سینئر اور نئے طلبہ نے شرکت کی۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر جان محمد نے نئے طلبہ کو جامعہ میں تعلیمی سفر کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معاشیات قومی و علاقائی ترقی، وسائل کے مؤثر استعمال اور معاشی پالیسی سازی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں چئرپرسن شعبہ اکنامکس شمع سلیمان نے نئے طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے محنت، مستقل مزاجی اور مثبت سوچ کے ساتھ تعلیمی اہداف حاصل کرنے کی تلقین کی تقریب میں طلبہ اور فیکلٹی کی جانب سے شاعری، ڈرامہ، ٹیبلو اور موسیقی سمیت مختلف ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے۔

خبرنامہ نمبر8281/2026
گوادر26 ستمبر:ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گوادر ڈاکٹر عبدالشکور سے رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے معاون وسیم صمد نے ماہیگیروں کے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں بیچم مچھلی کے شکار پر عائد پابندی اور اس پر مؤثر عملدرآمد سے متعلق ماہیگیروں کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ماہیگیروں کے وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ پابندی کے باوجود بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر بیچم مچھلی کا غیرقانونی شکار جاری ہے، جبکہ بعض مچھلی کے بیوپاریوں کی جانب سے اس عمل کی مبینہ سرپرستی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فشریز کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد ندیم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہ فہد کو طلب کیا اور بیچم مچھلی کے شکار پر عائد پابندی اور اس پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی فشریز افسران نے بتایا کہ بیچم مچھلی کے شکار سے متعلق مشاورت اور اکثریتی رائے کی بنیاد پر قانونی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی زیر صدارت اجلاس میں بیچم مچھلی کے شکار پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ بھی کیا گیا ہے اس موقع پر ماہیگیروں نے پابندی کے باوجود غیرقانونی شکار کی شکایات پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے فشریز افسران کو ہدایت کی کہ بیچم مچھلی کے شکار پر عائد پابندی پر مؤثر اور بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

خبرنامہ نمبر8282/2026
گوادر 26 ستمبر 2026: گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں فرسٹ ائر کی نئی داخل ہونے والی طالبات کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد نئی طالبات کو کالج میں خوش آمدید کہنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے لیے تیار کرنا تھا تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طالبات نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ تقریب میں طالبات نے مختلف موضوعات پر پُراعتماد تقاریر کے علاوہ ٹیبلو، ڈرامہ اور نغمے پیش کیے، جنہیں شرکاء نے سراہا۔ مختلف پروگرامز کے ذریعے طالبات نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں، اعتماد اور فنکارانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر سبین بلوچ نے نئی طالبات کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تعلیم نوجوان نسل کی شخصیت سازی اور مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، باقاعدگی سے کالج آئیں، حاضری یقینی بنائیں، کلاسز میں بھرپور شرکت کریں اور نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور محنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں فیکلٹی ممبران نے بھی طالبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال شرکت کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں طالبات میں خود اعتمادی، قائدانہ صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں تقریب کے اختتام پر نئی طالبات کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور ریفریشمنٹ بھی اہتمام کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر8284/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) میں چئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی زیرِ صدارت بزنس سپورٹ، جینٹوریل سروسز، ٹریول و ٹور اور مائنز و منرلز سروسز کے شعبوں میں پیش رفت اور ٹیکس وصولی کے جائزے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ ٹیم نے رجسٹریشن، نان فائلرز، شارٹ پیمنٹ کی نشاندہی، نوٹسز کے اجرا، اسیسمنٹ آرڈرز، جرمانوں کے نفاذ، ٹیکس دہندگان کی سہولت اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی۔ سرکاری محکموں اور یونین کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور رابطہ کاری سے بھی آگاہ کیا گیا۔ٹیم کی جانب سے ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ چئرپرسن نے ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سروس فراہم کرنے والوں سے متعلق معلومات کے حصول اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے۔چئرپرسن نے مزید ہدایت کی کہ ٹیکس دہندگان کو رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس تعمیل کے مراحل میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے، جبکہ دستیاب ڈیٹا کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس وصولی اور انفورسمنٹ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

خبرنامہ نمبر8285/2026
کوئٹہ, 26 ستمبر: پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، سیاحت و ثقافت نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی حسن، طویل ساحلی پٹی، بلند و بالا پہاڑوں، تاریخی مقامات، قدیم تہذیبی ورثے اور متنوع ثقافت کے باعث ملکی و بین الاقوامی سیاحت کا اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ صوبے کے سیاحتی مقامات کو بہتر انفراسٹرکچر، رسائی کی سہولیات اور ذمہ دارانہ و پائیدار سیاحت کے اصولوں کے تحت ترقی دے کر مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار 27 ستمبر، عالمی یومِ سیاحت کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغم میں کیا۔ نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا کہ سیاحت محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمی، روزگار، ثقافتی روابط اور مقامی ترقی کا ایک اہم شعبہ بن چکی ہے۔ بلوچستان میں اس شعبے کی ترقی صوبے کی معیشت کو متنوع بنانے اور دور دراز علاقوں میں معاشی سرگرمی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا وسیع جغرافیہ سیاحت کے مختلف شعبوں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کرتا ہے۔ مکران کا ساحلی خطہ، کنڈ ملیر، ہنگول نیشنل پارک، گوادر، پسنی اور اورماڑہ اپنی منفرد ساحلی خوبصورتی کے باعث نمایاں ہیں، جبکہ زیارت کے صنوبر کے جنگلات، کوئٹہ و گردونواح کی وادیاں، خضدار کا مولہ چٹوک اور صوبے کے دیگر پہاڑی و قدرتی مقامات ایڈونچر اور ایکو ٹورازم کے لیے وسیع امکانات رکھتے ہیں۔ بلوچستان حکومت بھی کنڈ ملیر، ہنگول، زیارت، مولہ چٹوک، پسنی اور دیگر مقامات کو صوبے کے نمایاں سیاحتی اثاثوں کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان کی سیاحتی کشش صرف قدرتی مناظر تک محدود نہیں۔ صوبے کا تاریخی و ثقافتی ورثہ، روایتی دستکاری، مقامی خوراک، موسیقی، طرزِ زندگی اور صدیوں پرانی روایات ثقافتی سیاحت کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ان اثاثوں کو جدید انداز میں ملکی اور عالمی سطح پر متعارف کرانے سے بلوچستان کا مثبت تشخص مزید مؤثر انداز میں سامنے لایا جا سکتا ہے۔پرلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ سیاحت کی ترقی کا براہِ راست فائدہ مقامی لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری، مقامی خوراک، ٹور گائیڈنگ اور دیگر خدمات سے وابستہ چھوٹے کاروبار کو فروغ مل سکتا ہے جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے مزید کہا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں کوسٹل اور ایکو ٹورازم کے امکانات بالخصوص قابلِ توجہ ہیں۔ صوبائی سطح پر کنڈ ملیر، گڈانی، گوادر، پسنی، اورماڑہ اور جیوانی سمیت مختلف ساحلی مقامات پر سیاحتی سہولیات اور بیچ پارکس سے متعلق منصوبے بھی سرکاری ترقیاتی ترجیحات کا حصہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کی ترقی کے ساتھ قدرتی ماحول، مقامی ثقافت اور تاریخی ورثے کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ پائیدار سیاحت کا ایسا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے جس میں سیاحوں کو بہتر سہولیات میسر ہوں، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور اس کے ساتھ مقامی آبادی اور ماحول کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔نوابزادہ زرین خان مگسی نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں بلوچستان کے سیاحتی مقامات کو قومی اور عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ محکمہ سیاحت بلوچستان کی جانب سے نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو صوبے کے سیاحتی، ثقافتی اور تاریخی ورثے کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اجاگر کرنے کے عمل میں شامل کرنے کے لیے حال ہی میں پروگرام بھی منعقد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں دنیا کو اس کے قدرتی حسن، ثقافتی تنوع، مہمان نوازی اور سیاحتی امکانات سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ مربوط منصوبہ بندی، بہتر بنیادی سہولیات، نجی شعبے کی شمولیت، مؤثر تشہیر اور ذمہ دارانہ سیاحت کے ذریعے بلوچستان کو پاکستان کے نمایاں سیاحتی خطوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔نوابزادہ زرین خان مگسی نے کہا کہ عالمی یومِ سیاحت اس امر کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ بلوچستان کے قدرتی اور ثقافتی اثاثوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں معاشی اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے تاکہ سیاحت سے پیدا ہونے والے مواقع اور فوائد صوبے کے عوام، بالخصوص نوجوانوں اور مقامی برادریوں تک پہنچ سکیں۔

خبرنامہ نمبر8286/2026
ہرنائی:ضلع ہرنائی میں عوامی صحت کے شعبے کو فعال بنانے اور بنیادی مرا?زِ صحت میں بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے بنیادی صحت کے مراکز (بی ایچ یو) خوست اور زردالو کا سرپرائز دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد طبی عملے کی حاضری کی جانچ پڑتال، ضروری ادویات کی دستیابی اور انتظامی امور کا بچشمِ خود معائنہ کرنا تھا تاکہ عامۃ الناس کو درپیش مشکلات کا تدارک کیا جا سکے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر خوست نے دونوں مرازِ صحت کے تمام شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے حاضری رجسٹر کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور میڈیکل و پیرامیڈیکل اسٹاف کی موجودگی کا تعین کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہسپتالوں میں موجود ضروری اور بنیادی ادویات کی دستیابی اور ذخائر کا جائزہ لیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ادویات کی شارٹیج نہ ہونے دی جائے بعد ازاں انہوں نے ہسپتال میں موجود مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور ان سے ملنے والی طبی سہولیات، ادویات کی فراہمی اور عملے کے عمومی رویے کے بارے میں راست معلومات حاصل کیں معائنے کے دوران کچھ ملازمین کی غیر حاضری پر اسسٹنٹ کمشنر نے شدید برہمی اور ناخوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے غیر حاضر عملے کے رویے پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ملازمین بلا تاخیر اپنی حاضری یقینی بنائیں اور اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں کسی قسم کی سستی نہ دکھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی عملے کی غیر حاضری سے عوامی خدمات اور صحت کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے واضح کیا کہ ضلع انتظامیہ ہرنائی عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی معیار اور بلا تعطل خدمات کی فراہمی کے لیے تمام تر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کے اچانک دورے جاری رہیں گے اور فرائض میں غفلت یا لاپرواہی برتنے والے ملازمین کے خلاف سخت قانون کے مطابق انتظامی و انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر8287/2026
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج پی پی ایچ آئی کے مین میڈیسن سٹور کا تفصیلی دورہ اور معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی امان شاہ اور ایم اینڈ ای آفیسر عمران بزدار نے ڈپٹی کمشنر کو سٹور کے امور اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سٹور میں موجود ادویات کے سٹاک، ان کی معیاد اور دیگر ترسیلی ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے پی پی ایچ آئی کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے علاوہ ازیں، ڈپٹی کمشنر نے پی پی ایچ آئی کے زیرِ انتظام ٹیلی ہیلتھ سینٹر کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے سینٹر میں روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مریضوں صفائی ستھرائی کے انتظامات اور مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے فراہم کردہ سہولیات اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت عوام کو بنیادی صحت کی معیاری سہولیات کی دہلیز تک فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت کے مراکز میں ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ دورافتادہ علاقوں کے مکینوں کو علاج معالجے کے بہترین مواقع میسر آسکیں۔

خبرنامہ نمبر8288/2026
صوبائی وزیر حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) نے انہیں ہسپتال کی مجموعی کارکردگی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر نے ہسپتال میں صفائی کے انتظامات، ملازمین کی حاضری اور مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ اور عملے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور ہسپتال میں نظم و ضبط، صفائی اور بہترین سروس کا یہی معیار برقرار رکھا جائے۔ سول ہسپتال لورالائی میں چیف منسٹر ہیلتھ انیشیٹو پروگرام کا افتتاح، آپریشن تھیٹر کے لیے فومیگیشن مشین کا اعلان سول ہسپتال لورالائی میں صحتِ عامہ کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے چیف منسٹر ہیلتھ انیشیٹو پروگرام برائے بلڈ پریشر و شوگر کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے سول ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے لیے فومیگیشن (Fumigation) مشین فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یہ مشین ڈاکٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبے کی روشنی میں فراہم کی جائے گی۔ فومیگیشن مشین آپریشن تھیٹر میں جراثیم کے خاتمے اور ماحول کو جراثیم سے پاک رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، جس سے آپریشن کے دوران مریضوں کو جراثیمی انفیکشن کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔افتتاحی تقریب کے موقع پر ڈی ایچ او ڈاکٹر فہیم اتمانخیل، ڈاکٹر زین اللہ اور دیگر ڈاکٹرز و طبی عملہ بھی موجود تھا۔ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز نے حاجی محمد خان طور اتمانخیل کو مختلف شعبہ جات، طبی سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بعد ازاں حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے سول ہسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کیا اور زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریضوں سے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں حاجی محمد خان طور اتمانخیل نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت کے شعبے میں بہتری کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ بلڈ پریشر اور شوگر جیسی عام بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے قائم کیا جانے والا یہ دفتر بھی عوام کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔سول ہسپتال لورالائی میں اس اقدام اور آپریشن تھیٹر کے لیے فومیگیشن مشین کی فراہمی کا اعلان صحت کی سہولیات میں بہتری اور مریضوں کے لیے محفوظ طبی ماحول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

خبرنامہ نمبر 8289/2026
کوئٹہ,پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون, ثقافت، سیاحت و آرکائیوز نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی یوم سیاحت آج 27 ستمبر کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں منائے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثے اور تاریخی مقامات کے باعث سیاحت کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ اس سال عالمی یومِ سیاحت کا موضوع “Digital Agenda and Artificial Intelligence to Redesign Tourism” ہے، جو سیاحتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے عوام، طلبہ، نوجوانوں اور سیاحت سے وابستہ افراد کو تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت کا فروغ نہ صرف صوبے کے مثبت تشخص کو مضبوط بنائے گا بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کرے گا۔ نوابزادہ محمد زرین خان مگسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ بلوچستان کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کیاجا سکے۔

خبرنامہ نمبر8290/2026
کوئٹہ 26ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی خصوصی ہدایت پر میٹروپولٹین کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ نیعالمو چوک میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔کارروائی اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی اور میونسپل مجسٹریٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ عمران زیب کاسی کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ اس دوران سڑکوں، راستوں اور گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کو ہٹا کر عوامی آمدورفت کے راستے واگزار کرائے گئے۔انتظامیہ نے تجاوزات قائم کرنے والوں کو ہدایت کی کہ سرکاری و عوامی راستوں پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر8291/2026
کوئٹہ: انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ پولیس ایک منظم اور نظم و ضبط کی پابند فورس ہے جو عوام کے جان و مال کے تحفظ، قیامِ امن اور دہشت گردی و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس افسران اور جوانوں کی لازوال قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور ان قربانیوں کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے اتوار کے روز پولیس لائن میں منعقدہ پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز طاہر علا?الدین کاسی، ڈپٹی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری متحرمہ شیلا قریشی سمیت دیگر افسران اور اہلکار بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ پولیسنگ کے نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید آلات، وسائل اور سہولیات بروئے کار لائی جا رہی ہیں، جبکہ پولیس افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے جدید خطوط پر تربیت کی فراہمی کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اور اس بات پر ان میسر جدید آلات سیف سٹی کے علاوہ موجود انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے سے استفادہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ اور اس حوالے سے اہلکاروں کو خصوصی تربیت بھی دی گئی ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبل ازیں منعقدہ پولیس دربار کے دوران افسران اور جوانوں کے مسائل اور ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا اور اس موقع پر ان کی فلاح و بہبود، سہولیات کی فراہمی، جدید پولیسنگ کے لیے ضروری آلات جن میں 200 کے قریب آرمڈ گاڑیاں،800 سے ذیادہ موٹر سائیکلیں، جدید اور موثر ہتھیاروں سے لیس کرنے کا سلسلہ جا رہی ہے۔ اور معیاری تربیت کے حوالے سے کیے گئے مختلف منصوبے پایا تکمیل کے مراحل میں ہیں۔محمد طاہر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پولیس دربار میں افسران اور جوانوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا عمل بتدریج جاری ہے۔ اہلکاروں کو بہتر سہولیات اور جدید آلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کے افسران اور جوان مشکل اور کٹھن حالات کے باوجود عوام کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنے فرائض پوری ذمہ داری، جانفشانی اور پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس کے افسران اور جوانوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جو فورس کی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہیں۔آئی جی پولیس بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے، جدید پولیسنگ کو فروغ دینے اور افسران و جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے بعد ازاں دربار میں اہلکاروں کے فردا فردا مسائل سنے جن میں ذاتی مسائل موقع پر ہی احکامات صادر کئے۔جبکہ پولیس لائن کے ٹیوب ویلوں نظام کو سولرائزیشن کرنے کے احکامات جاری کیے۔

خبرنامہ نمبر8292/2026
کوئٹہ 26ستمبر ۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر نے لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کے مالی سال 2025-26 کی مکمل شدہ ترقیاتی سکیمات کا تفصیلی دورہ کیااسسٹنٹ کمشنر بروری نے کوئٹہ ایونیو، بروری روڈ اور سریاب کے مختلف علاقوں میں مکمل کی گئی ترقیاتی سکیمات کا موقع پر معائنہ کیا اور منصوبوں کی تکمیل، معیار اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کاشف امر نے متعلقہ حکام سے سکیمات سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کیں اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کی اہمیت پر زور دیا۔ دورے کا مقصد مکمل شدہ سکیمات کی فیلڈ میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معائنہ کرنا تھا۔انہوں نے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں کے معیاری اور بروقت تکمیل سے عوام ان منصوبوں سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں اور علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔


خبرنامہ نمبر8293/2026
کوئٹہ,پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون, ثقافت، سیاحت و آرکائیوز نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی یوم سیاحت آج 27 ستمبر کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں منائے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثے اور تاریخی مقامات کے باعث سیاحت کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے۔ اس سال عالمی یومِ سیاحت کا موضوع “Digital Agenda and Artificial Intelligence to Redesign Tourism” ہے، جو سیاحتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے عوام، طلبہ، نوجوانوں اور سیاحت سے وابستہ افراد کو تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت کا فروغ نہ صرف صوبے کے مثبت تشخص کو مضبوط بنائے گا بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کرے گا۔ نوابزادہ محمد زرین خان مگسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ بلوچستان کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کیاجا سکے۔

خبرنامہ نمبر8294/2026
تربت۔ اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے پی پی ایچ آئی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) مرتضیٰ بلوچ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مکران ڈویژن کے ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر محب اللہ بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ایم ڈی پی پی ایچ آئی مرتضیٰ بلوچ نے اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ کو بلیدہ کے بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یوز) کی صورتحال اور طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ بلیدہ کے تمام بنیادی مراکزِ صحت فعال ہیں اور طبی عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، جبکہ ملازمین کی حاضری اور ڈیوٹی کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید مانیٹرنگ سسٹم بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی نے پی پی ایچ آئی کی جانب سے بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ادارے کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جہاں بھی ضلعی انتظامیہ کے تعاون اور معاونت کی ضرورت ہوگی، انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

خبرنامہ نمبر8295/2026
تربت (26 ستمبر :جامعہ تربت کے زیر انتظام یونیورسٹی ماڈل اسکول میں تدریسی معیار کو مزید بلند کرنے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید تدریسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے “بیسٹ پریکٹسز ان ٹیچنگ” کے عنوان سے یونیورسٹی کے ویڈیو کانفرنس روم میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا بنیادی مقصد اسکول اور کلاس روم میں سازگار و جدید تعلیمی ماحول قائم کرنے کے لیے موثر حکمت عملی سے اساتذہ کو آراستہ کرنا تھا۔ ورکشاپ کے ریسورس پرسن جامعہ تربت کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غلام جان تھے، جنہوں نے کلاس روم میں موثر ابلاغ، طلبہ کی دلچسپی برقرار رکھنے کی تکنیکس، تدریس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تدریسی عمل میں استاد کے متحرک کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف صلاحیتوں اور سوچ کے حامل بچوں کی بہترین تربیت کے حوالے سے اساتذہ کو درپیش عملی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مفید طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا۔ ترجمان جامعہ تربت کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے اپنے خصوصی پیغامات میں ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر ریسورس پرسن ڈاکٹر غلام جان اور یونیورسٹی ماڈل اسکول کی پرنسپل مہناز بشیر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ جامعہ تربت خطے میں معیاری ایلیمنٹری ایجوکیشن کے فروغ سمیت اپنی تمام تر سماجی و علمی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہی ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے تمام سیشنز کو انتہائی معلومات افزا قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ورکشاپ سے حاصل کردہ مہارتوں کو کلاس روم میں استعمال کر کے تدریسی ماحول کو مزید بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

خبرنامہ نمبر8296/2026
کوئٹہ 26ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کے مطابق کوئٹہ شہر کو منظم اور تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کی ہدایات پر فاطمہ جناح روڈ، بادام گلی اور چوہڑمل روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی کے دفتر کی جانب سے متعلقہ دکانداروں اور تجاوزات قائم کرنے والوں کو پہلے ہی نوٹسز جاری کرتے ہوئے سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں سے غیرقانونی تجاوزات ہٹانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ مقررہ مدت میں عملدرآمد نہ ہونے پر دو روز بعد انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے اینٹی انکروچمنٹ انچارج علی رضا کی نگرانی میں کارروائی کے دوران سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے غیرقانونی تجاوزات ہٹا دی گئیں جبکہ تجاوزات کے لیے استعمال ہونے والا سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔کارروائی کے دوران 100 سے زائد تجاوزات ختم کی گئیں۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ شہر کی اہم شاہراہوں، بازاروں اور فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک رکھنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ سرکاری اراضی اور عوامی گزرگاہوں پر غیرقانونی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر8297/2026
موسیٰ خیل 25 ستمبر :ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک نے آج پی پی ایچ آئی (PPHI) کے مین میڈیسن سٹور کا تفصیلی دورہ اور معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی امان شاہ اور ایم اینڈ ای آفیسر عمران بزدار نے ڈپٹی کمشنر کو سٹور کے امور اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سٹور میں موجود ادویات کے سٹاک، ان کی معیاد (Expiry Dates) اور دیگر ترسیلی ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے پی پی ایچ آئی کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔علاوہ ازیں، ڈپٹی کمشنر نے پی پی ایچ آئی کے زیرِ انتظام ٹیلی ہیلتھ سینٹر (Telehealth Center) کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے سینٹر میں روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مریضوں (Daily OPD)، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے فراہم کردہ سہولیات اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت عوام کو بنیادی صحت کی معیاری سہولیات کی دہلیز تک فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت کے مراکز میں ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ دورافتادہ علاقوں کے مکینوں کو علاج معالجے کے بہترین مواقع میسر آسکیں۔

خبرنامہ نمبر 8298/2026
کوئٹہ، 26 ستمبر :وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں دکی کے علاقے میں سڑک کی تعمیر پر مامور کارکنوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ کی شہادت اور تعمیراتی کارکنوں کے اغوا کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ معصوم اور محنت کش افراد کو نشانہ بنانا بزدلانہ اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو متاثر نہیں کر سکتیں اور نہ ہی عوام کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں۔ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے عوام کی فلاح و بہبود اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہیں۔وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز مغوی کارکنوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہیں اور امید ظاہر کی کہ مغوی مزدوروں کو جلد بحفاظت بازیاب کرا لیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 8299/2026
26ستمبر 2026 صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے اپنے ایک بیان میں دُکی-چمالنگ روڈ کی تعمیر میں مصروف بے گناہ محنت کشوں کے کیمپ پر حملہ، سکیورٹی گارڈ کی شہادت اور 18 مزدوروں کے اغوا کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ یہ بلوچستان کی ترقی اور امن پر براہ راست حملہ ہے
“میں پوچھتی ہوں ان نہتے اور بے گناہ مزدوروں نے ان اسپانسرڈ تنظیموں کا کیا بگاڑا ہے ؟جو اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے دن بھر کڑی دھوپ میں مشقت کرتے ہیں ان غریبوں کا کسی سے کیا قصور ہو سکتا ہے
لیکن انڈیا کے ان زرخرید غلاموں کو ان انسانی قدروں اور غریب کے چولہے سے کوئی واسطہ نہیں! یہ سب بیرونی آقاؤں کے ٹکڑوں پر پلنے والے اسپانسرڈ ایجنٹ ہیں جن کا واحد مقصد اپنے غیر ملکی آقاوں کو خوش کرنا اور بلوچستان کو اندھیروں میں رکھنا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ
جو نام نہاد قوم پرست اور خود ساختہ کامریڈ ہر فورم پر یہ واویلا مچاتے نہیں تھکتے کہ بلوچستان کو محروم رکھا جا رہا ہے اور جو ہر برائی کا ملبہ پنجاب پر ڈال دیتے ہیں وہ آج خود سے یہ سوال کریں ! ترقیاتی منصوبوں اور غریب مزدوروں پر حملہ کرنے والی ان کالعدم تنظیموں کے خلاف ان کی زبانوں کو تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟
میرا ان نام نہاد سوشل ایکٹیوسٹس اور سیاسی بقراطوں سے بھی سیدھا سوال ہے جب محنت کشوں کو اغوا کیا جاتا ہے ترقی کےلیے مصروف مشینریوں کو جلائ جاتی ہیں اور عوام کے روزگار اور ترقی کے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں ہوتے ہیں تو آپ کی حقوق کی جنگ سکتہ میں کیوں چلی جاتی ہے؟ ان دہشت گردوں کی مذمت کرنے میں آپ کو کون سا خوف یا مفاد مانع ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کے غیور بلوچ اور پشتون دونوں مل کر ان نام نہاد تنظیموں کے خلاف کھڑے ہوں اور ان کا گھیرا تنگ کریں۔ یہ عناصر ہماری اور ہمارے بچوں کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں
ان دشمنوں کے یہ ناپاک خواب ان شاء اللہ کبھی پورے نہیں ہوں گے صوبائی حکومت اور ہماری مسلح افواج ان سے پوری قوت سے نبرد آزما ہیں اور ان شرپسندوں کا جلد مکمل صفایا کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *