27th-September-2026

خبرنامہ نمبر 8300/2026
کوئٹہ27 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ میں آپ نے ماہرین کے علم، تجربے اور بصیرت سے بھرپور استفادہ کیا ہوگا اور باہمی مکالمے اور مشاورت کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کو درپیش اہم چیلنجز کا بہتر ادراک حاصل کیا ہوگا لہٰذا اب اس اجتماعی دانش کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہی اس ورکشاپ کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ میں 21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے منتظمین اور تمام معزز شرکاء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس ورکشاپ کے فکری مباحث اور کورس بلوچستان اور پاکستان کی پائیدار ترقی کیلئے عملی رہنمائی فراہم کریگی۔ اس موقع پر بریگیڈیئر خاقان سرور بھی موجود تھے۔ نیشنل ورکشاپ کی اختتامی تقریب کے شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج جب آپ اس ورکشاپ سے واپس جائیں گے تو آپ کی ذمہ داریاں ختم نہیں بلکہ مزید بڑھ چکی ہیں۔ آپ سے توقع ہے کہ یہاں حاصل ہونے والے علم، تجربے اور بصیرت کو اپنے اپنے ادارے، شعبے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کیلئے استعمال کرینگے۔ ہمیں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کرنے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سماجی انصاف کو مضبوط بنانے اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے خطوں سے جوڑنے کی جغرافیائی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوادر اور دیگر ساحلی علاقوں سے لے کر معدنی اور زرعی خطوں تک، صوبے کے مختلف حصے پاکستان کی معاشی ترقی اور خطے کی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی صرف ایک صوبے کی ترقی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی اور قومی ترقی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنے وسیع رقبے، منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، طویل ساحلی پٹی، قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر کے باعث پاکستان میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صوبے میں بلیو اکانومی، معدنیات، توانائی، زراعت، سیاحت اور ریجنل تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایسے علمی و فکری اجتماعات محض معلومات کے تبادلے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ مختلف شعبوں کے تجربات، خیالات اور نقطۂ نظر کو یکجا کرکے قومی مسائل کے حل کیلئے نئی سوچ اور قابلِ عمل راستوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب کے شرکاء میں اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے ۔

خبرنامہ نمبر 8302/2026
کوئٹہ، 27 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان سمیت نوشکی اور مند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آپریشن شعبان کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں کلیئر کیا، جبکہ کارروائی کے دوران اب تک 33 دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مزید 23 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ مند میں فتنۃ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران آپریشن شعبان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 71 سے زائد دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جاچکا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر مقامی آبادی کو درپیش خطرات میں نمایاں کمی کی ہے۔ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم عزائم کے ذریعے بلوچستان میں بدامنی پیدا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے مطابق دہشت گردی کے خلاف قومی عزم غیر متزلزل ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور کاوشوں سے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کی کوششیں جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر 8303/2026
​ہرنائی:ضلع ہرنائی میں منشیات کے خاتمے اور علاقے کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کے لیے پولیس کی جانب سے کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی کی خصوصی ہدایت پر ڈیلکونہ پولیس نے ہرنائی تا سنجاوی روڈ پر ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے خطرناک منشیات (آئس) کی سمگلنگ میں ملوث ایک منشیات فروش کو موقع پر ہی گرفتار کر کے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے ڈیلکونہ پولیس کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ہرنائی تا سنجاوی روڈ کے ذریعے منشیات منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ایس ایچ او ڈیلکونہ انسپکٹر ملک حبیب اللہ ترین کی قیادت میں ایک فعال پولیس ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں حوالدار گل زمان، اہلکار نجیب اور دیگر جوان شامل تھے۔ پولیس ٹیم نے مذکورہ شاہراہ پر ناکہ بندی اور سخت چیکنگ کے دوران کارروائی کرتے ہوئے مشکوک شخص کو دھر دبوچا۔ تلاشی لینے پر ملزم کے قبضے سے گرانقدر مقدار میں آئس برآمد ہوئی، جس پر پولیس نے ملزم کو فوراً حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا اور اس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج کر لی اس موقع پر ایس ایچ او انسپکٹر ملک حبیب اللہ ترین نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں کسی بھی صورت منشیات فروشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ “منشیات ایک سماجی لعنت ہے جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر کے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے، اور اس زہر سے اپنے علاقے کو پاک کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔” انہوں نے واضح تنبیہ کی کہ جو بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث پایا گیا، اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور اس کے خلاف بلا تفریق سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 8304/2026
کوئٹہ، 27 ستمبر:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان بحریہ اور اس کی قیادت کو نئی شامل کی جانے والی آبدوز پی این ایس/ایم ہنگور کے پہلے کامیاب براہ راست ہتھیاروں کے تجربے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اینٹی شپ کروز میزائل کے ذریعے طویل فاصلے پر موجود ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانا پاکستان بحریہ کی آبدوز فورس کی غیر معمولی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور بلند جنگی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاک بحریہ کی جدید آبدوز کی کامیاب ہتھیاروں کی فائرنگ ملک کی دفاعی صلاحیت اور پیشہ ورانہ تیاری کی عکاس ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور پی این ایس/ایم ہنگور کی شمولیت اور آپریشنلائزیشن کے عمل سے وابستہ تمام افسران، اہلکاروں اور عملے کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے پاکستان بحریہ کے افسران اور جوانوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاع وطن کے لیے ان کی خدمات پر فخر ہے۔

خبرنامہ نمبر 8305/2026
زیارت27ستمبر:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق کے محکمہ صحت بلوچستان نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز مشین کی تنصیب مکمل کرکے باقاعدہ سروس کا آغاز کردیا ہے۔ ڈائیلاسز مشین کی فراہمی سے ضلع زیارت اور گردونواح کے گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو بڑی سہولت میسر آگئی ہے۔ اس سے قبل مریضوں کو علاج کے لیے کوئٹہ سمیت دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا جس سے انہیں شدید مالی اور سفری مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ اب مقامی سطح پر ڈائیلاسز کی سہولت دستیاب ہونے سے مریضوں کا قیمتی وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی جبکہ بروقت علاج کی فراہمی سے انسانی جانوں کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔
عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ زیارت کی جانب سے صحت کے شعبے میں اس اہم اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی عوام کو مزید جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

خبرنامہ نمبر 8306/2026
کویٹہ 27 ستمبر :پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ ہماری سیاست کا محور عوام کی ترقی، خوشحالی اور ان کے طرزِ زندگی میں بہتری ہے، پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آئی، بلوچستان میں ترقی کے نئے راستے کھلے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مشرقی بائی پاس سبی شاہراہ کی تعمیر و توسیع کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں کمانڈر ملا عبیداللہ بڑیچ، حاجی محمد گل شاہوانی، ٹکری حمید بنگلزئی، حاجی نور محمد رخشانی، انور مینگل، ڈاکٹر راشد قریشی سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ حلقے کے عوام نے جس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہمیں عوامی مینڈیٹ سے نوازا ہے، ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے علاقے کے بنیادی مسائل کے حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مشرقی بائی پاس کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ علاقے کی ترقی اور عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، منصوبے پر تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت آئے گی۔
انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی منظوری اور تکمیل کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی، جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم پہلے ہی اس عزم کا اعادہ کرچکے ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں سے بندوق لے کر انہیں قلم تھمانا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی مضبوط اور پائیدار تشکیل میں امن، محبت اور بھائی چارہ بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کا محاسبہ کرنا ہوگا تاکہ صوبے میں امن و استحکام کا وہ خواب جو ہم سب نے دیکھا ہے، اسے حقیقت میں تبدیل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 8307/2026
کوئٹہ:آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے ضلع قلعہ عبداللہ دورے کے موقع پر سی ٹی ڈی نوتعمیر ہونے والے دفتر کا افتتاح کیا۔ ان کے ہمراہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزازاحمدگورایا، ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی، ڈی پی او خلیل احمد بگٹی اور دیگر افسران بھی بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس کو دفتر کے مختلف حصوں کا معائنہ کرایا گیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایا نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع آئی جی پولیس بلوچستان نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان، سیکیورٹی اقدامات اور دہشت گردی کے تدارک کے حوالے سے وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہر موڑ پر حوصلہ افزائی اور ہر ممکن سہولیات کے لیے تمام دستیاب وسائل کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نےکہا کہ سی ٹی ڈی دفتر کے قیام سے علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔ پولیس نے امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے تسلسل برقرار رکھا ہے ۔ نئے دفتر سے علاقے میں سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار اور فوری کارروائیوں میں مزید بہتری آئے گی۔آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے پولیس اسٹیشن سرانان کا بھی دورہ کیا۔انہوں نے جوانوں سے ملاقات اور تفصیلا ملاقات کی اور ان کے مسائل اور تجاویز سنیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا رویہ عام شہریوں کے ساتھ عوام دوست اور عوام اور امن دشمن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے اور وہ وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے تمام اہلکاروں ک محنت ،عظمت اور مورال کو سراہا ۔

خبرنامہ نمبر 8308/2026
کوئٹہ، 27 ستمبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن، پارلیمانی سیکریٹری برائے سیاحت و ثقافت نوابزادہ میر زرین خان مگسی اور سیکریٹری کلچر و سیاحت حمید اللہ خان ناصر کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ ٹورازم بلوچستان کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا مقصد بلوچستان کے شاندار ثقافتی و تاریخی ورثے، قدرتی حسن اور وسیع سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران ابوالحسن میری، ڈائریکٹر ٹورازم بلوچستان گہرام بخشی بلوچ، محکمہ کلچر اینڈ ٹورازم کے اعلیٰ حکام، متعلقہ اداروں کے نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں بلوچستان کے وسیع سیاحتی امکانات، تاریخی ورثے اور قدرتی حسن کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب میں ڈائریکٹر ٹورازم گہرام بخشی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے ملک کے منفرد صوبوں میں شامل ہے اور یہاں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کلچر اینڈ ٹورازم بلوچستان صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے، سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔گہرام بخشی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے تاریخی مقامات، پہاڑی سلسلے، ساحلی پٹی، صحرائی مناظر، قدرتی وادیوں، قدیم آثار اور منفرد ثقافتی روایات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کا فروغ صرف تفریح تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع، چھوٹے کاروباروں کا فروغ اور مقامی معیشت کی بہتری ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی، رسائی میں بہتری، صفائی، رہنمائی اور محفوظ ماحول کی فراہمی محکمہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے بلوچستان کے مختلف سیاحتی مقامات کو زیادہ مؤثر انداز میں ملکی و بین الاقوامی سیاحوں کے لیے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ عالمی یومِ سیاحت بلوچستان کے منفرد ثقافتی، تاریخی اور قدرتی اثاثوں کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے کا اہم موقع ہے۔ صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات، بہتر رسائی، صفائی، رہنمائی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ سیاحوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنا کر سیاحتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بلوچستان کے تاریخی، ثقافتی اور قدرتی ورثے کا تحفظ سیاحت کے فروغ کے ساتھ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں، نجی شعبے، مقامی کمیونٹیز اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر اشتراک کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے سیاحتی وسائل کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جاسکے۔تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے کے سیاحتی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، سیاحتی مقامات کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان کو ملکی و بین الاقوامی سیاحت کے نقشے پر نمایاں مقام دلانے کے ساتھ ساتھ صوبے کے مثبت تشخص کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کیا جاسکے۔

خبرنامہ نمبر 8309/2026
کوئٹہ: 27 ستمبر
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ خبر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خبر کی بنیادی روح صداقت، سچائی اور حقائق کی درست ترجمانی ہے، موجودہ دور میں تیز رفتار اطلاعات اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث صحافت کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج معلومات کی ترسیل چند لمحوں میں دنیا بھر تک پہنچ جاتی ہے، تاہم ہر گردش کرنے والی اطلاع خبر نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا کے دور میں صحافیوں اور میڈیا اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو نشر یا شائع کرنے سے قبل اس کے حقائق کی مکمل تصدیق کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات کو خبر کا درجہ دینے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو درست، بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنا ہے۔ خبر میں معمولی سی غلطی بھی عوامی رائے، اداروں کی ساکھ اور معاشرے میں موجود اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے خبر کی تیاری اور ترسیل میں تحقیق، تصدیق اور ذمہ داری کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، لیکن اسی کے ساتھ جعلی خبروں، افواہوں اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں پیشہ ورانہ صحافت حقائق کی کھوج، ذرائع کی تصدیق اور مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کے ذریعے معاشرے میں درست معلومات کی فراہمی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آزادی صحافت جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے اور صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے سازگار ماحول ملنا چاہیے۔ صحافت کی آزادی کے ساتھ خبر کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے، کیونکہ آزادیِ اظہار اور ذمہ دارانہ صحافت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صحافیوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیے ہیں۔ صوبائی حکومت صحافیوں اور میڈیا کے مسائل کے حل، پیشہ ورانہ آزادی اور مثبت صحافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عالمی یومِ خبر کے موقع پر صحافیوں، مدیران، کیمرہ مینوں، فوٹو جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ درست خبر معاشرے میں شعور، اعتماد اور ذمہ دارانہ رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خبرنامہ نمبر 8310/2026
کوئٹہ، 27 ستمبر
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے عالمی یومِ خبر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خبر کی صداقت، سچائی اور حقائق کی درست عکاسی صحافت کے بنیادی اصول ہیں، جبکہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں ان اصولوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو غیر معمولی تیزی دی ہے، تاہم اسی رفتار کے باعث غیر مصدقہ اطلاعات، افواہوں اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں ذمہ دار صحافت کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ عوام تک درست اور قابلِ اعتماد معلومات پہنچانا میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔شاہد رند نے کہا کہ کسی بھی اطلاع کو خبر بنانے سے قبل اس کے ذرائع، حقائق اور پس منظر کی مکمل تصدیق ضروری ہے۔ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو فوری طور پر خبر دینے کے دباؤ کے بجائے خبر کی صحت اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا صحافت کے لیے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں، لیکن ان ذرائع کے استعمال میں پیشہ ورانہ ذمہ داری، تحقیق اور تصدیق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک غیر مصدقہ خبر لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے خبر کی اشاعت سے پہلے حقائق کی جانچ ناگزیر ہے۔ معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آزاد اور ذمہ دار میڈیا معاشرے میں شعور اجاگر کرنے، عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور اداروں کو جوابدہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صحافت کی آزادی کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اخلاقی تقاضوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔انہوں نے بلوچستان کے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے صحافیوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ حکومت بلوچستان صحافی برادری کے مسائل کے حل اور آزاد، ذمہ دار اور مثبت صحافتی ماحول کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔شاہد رند نے عالمی یومِ خبر کے موقع پر صحافیوں، مدیران، کیمرہ مینوں، فوٹو جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سچی اور مستند خبر عوام کے اعتماد کی بنیاد ہے، اس اعتماد کا تحفظ پوری میڈیا برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

خبرنامہ نمبر 8311/2026
کوئٹہ، 27 ستمبر
ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے عالمی یومِ خبر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ درست، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی عوام کے اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ موجودہ دور میں حقائق کی تصدیق اور ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اطلاعات کی ترسیل کو انتہائی تیز اور آسان بنا دیا ہے، تاہم اسی تیزی کے باعث غیر مصدقہ معلومات، افواہوں اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی اطلاع کو آگے بڑھانے سے قبل اس کے ماخذ اور صداقت کی جانچ ضروری ہے۔ عسکر خان نے کہا کہ حساس، اہم اور عوامی نوعیت کی اطلاعات کے حوالے سے مجاز سرکاری اداروں اور متعلقہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ معلومات عوام تک درست حقائق پہنچانے کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم خبر کی جامع تصویر کے لیے صحافتی تحقیق اور دیگر قابلِ اعتماد ذرائع سے بھی تصدیق ضروری ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان درست، مستند اور بروقت معلومات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور عوام تک حقائق پر مبنی اطلاعات پہنچانے کو اہمیت دیتی ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان سرکاری اداروں اور میڈیا کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے باضابطہ معلومات کی بروقت ترسیل اور میڈیا کو مستند معلومات کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے ڈی جی پی آر نے کہا کہ موجودہ اطلاعاتی ماحول میں غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈا کا مقابلہ مؤثر ابلاغ اور حقائق پر مبنی معلومات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ حکومت بلوچستان اس مقصد کے لیے بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی، حقائق کی وضاحت اور عوام تک درست معلومات پہنچانے کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت محض اطلاعات کی ترسیل نہیں بلکہ معاشرے کو حقائق سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ عوام تک درست معلومات پہنچانے سے افواہوں اور غلط فہمیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔ عسکر خان نے کہا کہ بلوچستان کے صحافیوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیے ہیں۔ جدید ابلاغی تقاضوں سے ہم آہنگ ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے میڈیا، سرکاری اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈی جی پی آر بلوچستان نے عالمی یومِ خبر کے موقع پر صحافتی برادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچی، مستند اور بروقت خبر ہی عوامی اعتماد، باشعور رائے عامہ اور ایک ذمہ دار معاشرے کی بنیاد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *