31st-August-2026

خبرنامہ نمبر7134/2026
کوئٹہ: 31 اگست ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کوئٹہ برانچ رجسٹری کے نئے، جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ ایڈمنسٹریشن بلاک کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔ سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل سمیت اعلیٰ عدالتی و انتظامی حکام نے شرکت کی۔تقریب کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس جمال خان مندوخیل اور سپریم کورٹ کوئٹہ برانچ رجسٹری کے ڈپٹی رجسٹرار میر حسین نے نئے ایڈمنسٹریشن بلاک کا سنگِ بنیاد رکھا۔اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کوئٹہ پائن کا پودا لگا کر شجرکاری بھی کی۔ تقریب میں بلوچستان ہائیکورٹ کے معزز ججز، سینئر وکلا، عدالتی افسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔نئے ایڈمنسٹریشن بلاک کی تعمیر پر تقریباً 226 ملین روپے لاگت آئے گی، جبکہ منصوبہ ایک سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کی تعمیر محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کی نگرانی میں عمل میں لائی جائے گی۔نئے ایڈمنسٹریشن بلاک میں جدید تقاضوں کے مطابق انتظامی و دفتری سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس سے سپریم کورٹ کوئٹہ برانچ رجسٹری کے انتظامی امور کو مزید موثر، منظم اور بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ جدید عمارت کی تکمیل سے عدالتی نظام سے وابستہ افسران، عملے اور دیگر متعلقہ افراد کو بھی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔تقریب کے موقع پر عدالتی و انتظامی حکام نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی اداروں میں جدید انفراسٹرکچر اور سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف انتظامی استعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ انصاف کی فراہمی کے عمل کو بھی مزید مو¿ثر اور سہل بنانے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7135/2026
کوئٹہ، 31 اگست ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ رکن صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ، علی جان بگٹی، قبائلی رہنماوں میر شفقت مری، مقبول مری، سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی اظہر شہزاد، ایڈووکیٹ منیر کاکڑ، نجیب کاکڑ، اور ملک غفار خان ناصر نے الگ الگ ملاقاتیں کیں ملاقاتوں میں صوبے کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل، ترقیاتی امور، انتظامی معاملات، اعلیٰ تعلیم اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور گورننس کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین، ماہرین تعلیم اور معاشرے کے مختلف طبقات کی تجاویز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بہتری کے لیے مربوط اقدامات کر رہی ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اجتماعی مشاورت اور باہمی تعاون کے ذریعے بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7136/2026
تربت:31اگست ۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ تربت میں ملا احمد دشتی فیمیل پبلک لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے معروف سیاسی، ادبی اور سماجی شخصیت ملا احمد دشتی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے اپنے ایکس پیغام میں کہا کہ لائبریری کا قیام ملا احمد دشتی کی نمایاں سیاسی، ادبی اور سماجی خدمات کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ان کیچ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات اور علمی و سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک خوبصورت کاوش ہے۔صوبائی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ فیمیل پبلک لائبریری علاقے کی خواتین اور طالبات کو مطالعہ، تحقیق اور علمی سرگرمیوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرے گی اور تربت میں علم و آگہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7137/2026
کوئٹہ، 31 اگست ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی سے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نئے تعینات ہونے والے سیکرٹری شیر شاہ غلزئی نے ملاقات کی اور انہیں محکمہ کی کارکردگی، جاری منصوبوں، مختلف پروگرامز اور مجموعی محکمہ جاتی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر سیکرٹری شیر شاہ غلزئی نے مشیر وزیر اعلیٰ کو محکمہ کی جانب سے خواتین کی فلاح و بہبود، ترقی، تحفظ اور انہیں معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے خواتین کی ترقی اور انہیں معاشرے میں موثر اور باوقار مقام فراہم کرنے کے لیے جاری اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی فلاح و بہبود اور انہیں ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مشیر وزیر اعلیٰ نے محکمہ کے امور میں شفافیت، موثر نگرانی اور بہتر سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سے متعلق حکومتی پروگرامز کے ثمرات صوبے کے دور دراز علاقوں تک پہنچائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, August 31, 2026The newly appointed Secretary of the Women Development Department, Sher Shah Ghilzai, called on Advisor to the Chief Minister of Balochistan for Women Development, Dr. Rubaba Khan Buledi, and briefed her in detail on the department’s performance, ongoing projects, various programmes, and overall departmental affairs. During the meeting, Secretary Sher Shah Ghilzai apprised the Advisor of the initiatives being undertaken by the department for the welfare, development, and protection of women, as well as efforts aimed at their economic and social empowerment. Reviewing the department’s performance, Dr. Rubaba Khan Buledi stressed the need to further strengthen and enhance initiatives aimed at women’s development and ensuring their effective and dignified participation in society. Dr. Rubaba Khan Buledi said that the welfare of women and the provision of equal opportunities for their advancement remain among the key priorities of the Government of Balochistan. The Advisor directed the department to ensure transparency, effective monitoring, and improved service delivery in all its affairs. She further emphasized that the benefits of government programmes designed for women must reach communities in the remote and underserved areas of the province.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7138/2026
کوئٹہ، 31 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رکن صوبائی اسمبلی میر غلام دستگیر بادینی کے والد محترم حاجی میر جمعہ خان بادینی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سوگوار خاندان، بالخصوص میر غلام دستگیر بادینی سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7139/2026
کوئٹہ، 31 اگست:۔منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن نے گواہان، شہداء کے لواحقین، متعلقہ ورثاءودیگر رشتہ داروں کی ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر رجسٹریشن کے معمول کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ عوام کی مزید سہولت کے لیے واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے رجسٹریشن کی آسان سہولت بھی متعارف کرادی ہے۔تحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیے کے مطابق تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے گواہان، شہداءکے لواحقین، متعلقہ ورثاءاور دیگر رشتہ داروں کی گواہیوں اور حلفیہ بیان وغیرہ کی رجسٹریشن کے عمل کی آخری تاریخ میں 3 ستمبر 2026 تک توسیع کی تھی، جبکہ مقررہ آخری تاریخ میں اب صرف تین ایام باقی رہ گئے ہیں۔اعلامیے کے مطابق علاقائی دوری، سفری دشواری اور متعلقہ عوام الناس کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے معزز تحقیقاتی کمیشن کے حکم پر گواہی، حلفیہ بیان وغیرہ کی رجسٹریشن اب ایک آسان طریقہ کار کے تحت واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس کے ذریعے بھی کروائی جا سکتی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن کے لیے تمام ضروری کوائف، شناختی کارڈ کی کاپی وغیرہ بھی متعلقہ رابطہ نمبر پر بھیجے جا سکتے ہیں۔ تاہم، بعد ازاں دفتر ہذا میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر رجسٹریشن کی تصدیق کروانا ہوگی۔
واٹس ایپ نمبر: 03373848658
ای میل ایڈریس: secretary.mangidaminquiry@bhc.gov.pk
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7140/2026
ہرنائی 31 اگست ۔ڈپٹی کمشنر آفس ہرنائی میں عوامی فلاح و بہبود اور داد رسی کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی کا ایک خصوصی اور اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت متعلقہ انتظامی حکام نے کی، جس میں تمام متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس خاص اجلاس کا بنیادی مقصد مستحق خاندانوں کے مالی معاوضہ جات سے متعلق زیر التوائ کیسز کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور قانونی کارروائی کی پیش رفت کو یقینی بنانا تھا اجلاس کے دوران تحصیل شاہرگ کے علاقے خوست کے رہائشی مرحوم عمران خان ولد خدائے داد کے ڈیتھ کمپنسیشن (وفات کے مالی معاوضے) کے کیس کو تفصیلی اور قانونی نقطہ نظر سے زیرِ غور لایا گیا۔ اجلاس میں موجود مختلف متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے کیس سے متعلق درکار تمام دستاویزات، رپورٹوں اور شواہد کی جانچ پڑتال کی۔ تمام پہلووں کی مکمل تسلی اور طے شدہ ضوابط پر پورا اترنے کے بعد، کمیٹی نے یک زبان ہو کر حقائق کی روشنی میں متفقہ فیصلہ سنایا۔ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی نے کارروائی کے اختتام پر مرحوم عمران خان کے کیس کو مکمل طور پر شفاف قرار دیتے ہوئے ان کا نام باضابطہ طور پر ڈیتھ کمپنسیشن (مالی معاوضے) کی منظوری کے لیے بالا حکام کو سفارش کر دیا۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوام کی بروقت داد رسی اور قانونی حقوق کی فراہمی میں تمام تر شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7141/2026
خضدار 31 اگست۔ : کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے آج شہید عاشق عثمان لائبریری کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے لائبریری کی مجموعی کارکردگی، سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو لائبریری انتظامیہ کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ لائبریری کا بنیادی مقصد خضدار کے طلبہ اور نوجوانوں کو پرسکون تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مقابلے کے امتحانات اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بہتر تیاری کر سکیں۔افسران نے لائبریری کے قیام اور اس کی تزئین و آرائش کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تعلیمی مراکز ضلع کے نوجوانوں کے لیے علم و تحقیق کا اہم ذریعہ ہیں۔ لائبریری کی عمارت، ریڈنگ ہال اور بیٹھنے کی سہولیات کو دیکھ کر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔لائبریری انتظامیہ نے بتایا کہ بی ایم ای کی جانب سے لائبریری کو جدید سولر سسٹم سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس سسٹم کی تنصیب سے اب لائبریری میں لوڈشیڈنگ کے دوران بھی بجلی کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے اور طلبہ کو بلا تعطل مطالعے کا موقع مل رہا ہے۔سولر سسٹم کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس سے لائبریری کی روشنی، پنکھوں اور کمپیوٹر سسٹم کو مسلسل بجلی مل رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کے اخراجات میں کمی آئی ہے بلکہ ماحول دوست توانائی کے استعمال کو بھی فروغ ملا ہے۔کمشنر خضدار قادر بخش پرکانی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کے منصوبوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے لائبریری میں موجود کتابوں اور دیگر وسائل کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لائبریری میں نصابی کتب کے ساتھ مقابلے کے امتحانات، جنرل نالج اور تحقیق سے متعلق جدید کتابیں بھی شامل کی جائیں تاکہ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔انتظامیہ کے مطابق تزئین و آرائش کے بعد لائبریری میں آنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پرطالب علم یہاں آ کر پڑھائی کرتے ہیں اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7142/2026
نصیرآباد31اگست ۔ حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق نصیرآباد ڈویژن میں عرصہ دراز سے ترقی کے منتظر ملازمین کے پروموشن کا عمل تیزی سے جاری ہے، اس سلسلے میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے محکمہ ریونیو کے اسسٹنٹ برکت علی کھوسہ اور شکر الدین تنیہ کو سپرنٹنڈنٹ کے عہدوں پر ترقی کے احکامات جاری کر دیے۔ ترقی پانے والے ملازمین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ایس ایم بی آر قمبر دشتی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی کاوشوں سے نصیرآباد ڈویژن میں طویل عرصے سے رکے ہوئے ملازمین کی ترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ترقی پانے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ترقی کے ساتھ آپ کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں، لہٰذا دیانتداری، فرض شناسی اور مفاد عامہ کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی خدمات جاری رکھیں تاکہ حکومتی اقدامات اور سہولیات عوام تک موثر انداز میں پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن میں ملازمین کے پروموشن کے عمل کو مزید وسعت دینے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔مزید دیگر ملازمین کو ترقی دینے کے عمل کو جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7143/2026
کوئٹہ 31اگست۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں کوئٹہ میں کھلے خشک دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیرِ صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، ڈرگ انسپکٹرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دکانوں اور دیگر مقامات پر کھلے خشک دودھ کو مختلف برانڈز یا بچوں کی تصاویر والے مقامی مارکہ جات کے نام سے فروخت کرنے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔حکام کے مطابق ایسے کھلے خشک دودھ پر ایکسپائری ڈیٹ اور دیگر ضروری معلومات درج نہیں ہوتیں، جبکہ اس کی غیر محفوظ فروخت بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تمام دکانداروں کو سختی سے تنبیہ کی کہ کھلا خشک دودھ فروخت کرنے سے فوری طور پر گریز کریں۔ کسی بھی دکان یا گودام سے کھلا خشک دودھ برآمد ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی، گرفتاری اور دکان سیل کرنے سمیت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں میڈیکل اسٹورز پر بھی کھلے خشک دودھ کی فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا،جبکہ شہر بھر کے میڈیکل اسٹورز کی چیکنگ بھی کی جائے گی۔اس مقصد کے لیے محکمہ فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت، ڈرگ انسپکٹرز اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مختلف علاقوں میں کارروائیاں اور معائنہ کریں گی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بچوں کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر معیاری اشیائ کی فروخت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7144/2026
کوئٹہ 31اگست۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے ہزارہ ٹاون اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی شییشہ پوائنٹس کے خلاف موثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد شییشہ مراکز کو بند کروا دیا، جبکہ کارروائی کے دوران شییشہ اور دیگر متعلقہ سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کا مقصد حکومتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانا اور شہریوں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ انتظامیہ کی ٹیموں نے مختلف مقامات پر قائم شییشہ پوائنٹس کا معائنہ کیا اور جہاں حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی پائی گئی، وہاں فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر چلنے والے شییشہ پوائنٹس کو بند کرواتے ہوئے وہاں موجود شییشہ، فلیورز اور دیگر متعلقہ سامان تحویل میں لے لیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے شییشہ پوائنٹس کے مالکان اور منتظمین کو بھی ہدایت کی کہ وہ متعلقہ قوانین اور حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی شییشہ پوائنٹس کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی غفلت یا نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی صحت، امن و امان اور معاشرتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7145/2026
کوئٹہ: 31 اگست،۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت خاران، سبی، صحبت پور، کچلاک اور خضدار میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کارروائیاں جاری رہیں۔ انسپیکشنز کے دوران 41 خوراک کے مراکز کو جرمانے، 50 سے زائد کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ ایک غیر قانونی جوس مینوفیکچرنگ یونٹ اور ایک گودام سیل کردیا گیا۔ معائنہ کردہ مراکز میں بیکنگ یونٹس، جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، مصالحہ شاپس، نان شاپس، بیکرز، ہول سیل ٹریڈرز اور جوس شاپس سمیت متفرق کھانے پینے کے مراکز و یونٹس شامل تھے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق مغربی بائی پاس کوئٹہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے غیر قانونی جوس مینوفیکچرنگ یونٹ سیل کردیا۔ انسپیکشن کے دوران یونٹ کا پروڈکٹ رجسٹریشن اور فوڈ بزنس لائسنس موجود نہیں تھا جبکہ لیب رپورٹس، پری مکس کی ٹریس ایبلٹی ریکارڈ اور فوڈ سیفٹی قوانین کے مطابق لیبلنگ بھی موجود نہیں تھی۔ کارروائی کے نتیجے میں یونٹ میں موجود تمام خام مال ضبط کرلیا گیا اور متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز کو مارکیٹ سے اسٹاک واپس منگوانے کی ہدایت جاری کردی گئی۔دوسری جانب ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے کوک، اسپرائٹ اور فانٹا کی بڑی مقدار میں زائدالمیعاد کولڈ ڈرنکس برآمد ہونے پر کارروائی کی گئی۔اسی طرح غیر معیاری اسٹوریج کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک گودام سے تقریباً 600 پیکٹ کھجوروں کا اسٹاک ضبط کرلیا گیا۔ گودام میں خوراک کو مناسب پیلیٹس پر رکھنے اور کیڑوں سے بچاو کے لیے موثر پیسٹ مینجمنٹ کا انتظام موجود نہیں تھا، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی فخرالدین مری کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ، ناقص اور زائدالمیعاد اشیاء خورونوش کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور فوڈ سیفٹی قوانین پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے اقدامات کا مقصد عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے اور اس ضمن میں صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیمز کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7146/2026
کوئٹہ31اگست۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن حکومت بلوچستان کے ایک سرکولر کے مطابق حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر کے تمام سرکاری دفاتر میں جمعہ کا دن اب دوبارہ سے ورکنگ ڈے قراد دے دیا گیاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7147/2026
لسبیلہ /حب 31اگست۔ ممبر لیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمدجتوءاورالیکشن کمشنربلوچستان علی اصغرسیال نےضلع حب کا ایک روزہ دورہ کیاحب آمد پرانکا کمشنرلسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءڈی آءجی لسبیلہ عبدالقیوم پتافی ڈی سی جمعدادمندوخیل اورڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرعبدالمقتدرابڑو وکلاءبرادری سمیت سول سوسائٹی حب شریک ہوء ممبرالیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد جتوءنے فیتہ کاٹ کرڈسٹرکٹ الیکشن کمپلیکس کاپروقارتقریب میں افتتاح کیاافتتاحی تقریب کے موقع پر محکمہ مواصلات تعمیرات حب بلڈنگ سیکشن ایکسئن انجینئر ملک مسعودرئیسانیاورڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر عبدالنقتدرابڑونےممصوبےپر بریفنگ میں بتایاکہ منصوبے پر کام کاآغازدسمبر2023 میں شروع کیا گیاوفاقی حکومت کی جانب سے 2024 میں پاک پی ڈبلیو ڈی کا محکمہ ختم ہونے کے بعد منصوبہ نومبر2024 میں محکمہ سی اینڈڈبلیوبلوچستان کوہینڈاوورکیا گیاسرکاری حکام کی بریفنگ میں بتایاکہ وزیراعلی سرفرازبگٹی کے احکامات اورالیکشن کمیشن ممبر بلوچستان شاہ محمدجتوءکی کوششوں سےالیکشن کمیشن کی شاندار بلڈنگ ترجیحی بنیادوں پر ماڈل پراجیکٹ کی طرزہر تعمیرکی گءہےبریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ سی اینڈڈبلیو نےجب پراجیکٹ سنبھالا اس وقت منصوبے کی آن گراﺅنڈ فزیکل پروگریس چالیس فیصدتھی محکمہ مواصلات وتعمیرات کےانجینئرزنے کم بجٹ کے باوجود18مہینوں میں پراجیکٹ مکمل کروایابریفنگ میں حکام نے بتایا کہ محکمہ مواصلات وتعمیرات کے زیرنگرانی 27کروڑروپے کی لاگت سے ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن کمپلکس تعمیر کی گئ ہےمنصوبے پر مجموعی طورپرابتک243.515ملین اخراجات آئے ہیں منصوبے کاتخمینہ لاگت 267.995,ہےپراجیکٹ حکام کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت بجلی وپانی ودیگرسہولیات فراہمی کیلئے24ملین فنڈزپرکام ہوناباقی ہےکمشنر سائرہ عطاءنےدوران بریفنگ اظہارخیال کرتے یوئے کہا کہ موجودہ حکومت گڈگورننس پر یقین رکھتی ہےالیکشن کمیشن کی شانداربلڈنگ موجودہ حکومت کے دورمیں فنڈزکے شفافیت درست استعمال اورگڈگورننس کی عکاسی کرتی ہے کمشنرسائرہ عطاءنے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے منظورشدہ فنڈزشفافیت سےاسی طرح خرچ ہونےچاہیے عوامی اداروں میں اس طرزکے عوامی سہولیات کی فراہمی دیگر اداروں کیلئے قابل تقلیدہےکمشنر لسبیلہ ڈویڑن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی بلڈنگ اسٹیٹ آف دی آرٹ کی عکاسی کرتی ہے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کا میاب پراجیکٹ کے انعقادکوسوسائٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پولیس اورمحکمہ سی اینڈڈبلیو کے انجینئرزکی کوآرڈینیشن قراردیا ممبر الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد جتوءنے کہا کہ محکمہ مواصلات تعمیرات کی ٹیم نےانجینئرعبدالویاب زہری کی نگرانی میں جانفشانی سےکام کیاہےجوقابل تحسین ہےحب گوادرجعفرآبادمستونگ میں چاربلڈنگز تعمیرہوءہیں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کمپلکس حبکی بلڈنگ بلوچستان میں خوبصورت ترین اورماڈل ہےانہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی بھرتیوں میں میرٹ پر40فیصدخواتین کو ملازمتوں میں ترجیح دیگءہےممبرالیکشن کمیشن نے اس توقع کااظیارکیا کہ الیکشن کمیشن کمپلکس حب کے قیام سے شہریوں کو سہولیات اور خدمات کی فراہمی سہل ہوگی انہوں نے سول سوسائٹی اوروکلا۔کی تقریب میں آمد پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہہائیکورٹ بارکاپریذیڈنٹ رہ چکا ہوں اوروکلائبرادری سے تعلق رہا ہےالیکشن کمشنر بلوچستان علی اصغرسیال نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممبر الیکشن کمیشن شاہ محمد جتوءکی تعیناتی کے بعد انکی کوششوں سے بلوچستان کے چاراضلاع میں گوادرحب مستونگ جعفرآباد شامل میں بلڈنگز ہراجیکٹ منظوریوئے ہیں اور16 اضلاع میں بھی دفاتر بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں چیف الیکشن کمشنر ہاکستان سکندرسلطان راجہ کا کلیدی کردارریا ہے افتتاحی تقریب میں علاقاءعمائدین وکلاء اورانتظامی افسران کی شرکت ہر انکا شکریہ اداکیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7148/2026
گوادر 31 اگست ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ہدایت کی ہے کہ قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران ضلع گوادر میں کوئی بھی پانچ سال تک عمر کا بچہ پولیو سے بچاو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے، تمام متعلقہ ادارے موثر رابطہ کاری، نگرانی اور بروقت اقدامات کے ذریعے مہم کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، علمائے کرام سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں 21 تا 24 ستمبر 2026 جاری رہنے والی مہم کے انتظامات، مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی تشکیل، لاجسٹکس اور بچوں کی کوریج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر، ایم ایس میر عبدالغفور کل متی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، ضلعی منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر منیر احمد بلوچ ڈپٹی ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر فاروق اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع گوادر میں پانچ سال تک عمر کے 35 ہزار 664 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کے دوران 166 موبائل ٹیمیں، 20 سپروائزرز، 38 ایریا انچارجز، 29 فکسڈ سینٹرز اور 12 ٹرانزٹ پوائنٹس کے ذریعے بچوں تک رسائی یقینی بنائی جائے گی ڈپٹی کمشنر نے مہم کی موثر تیاری کے لیے مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی تربیت، ویکسین و ضروری سامان کی فراہمی اور کمیونٹی موبلائزیشن پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اجلاس میں کہاگیا ھے کہ مہم کے دوران یونین کونسل، تحصیل اور ضلعی سطح پر روزانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ رہ جانے والے بچوں کی فوری کوریج پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7149/2026
کوئٹہ31 اگست۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے سابق وفاقی وزیر خلیل جارج کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ ن کے کوئٹہ شہر کے مختلف اقلیتی علاقوں کے علاقائی عہدیداران اور رہنماو¿ں نے ملاقات کی اور انہیں امریکہ کے کامیاب دورے اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ میں شرکت اور خطاب پر مبارکباد پیش کی۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اپنے کامیاب دورہ امریکہ کے بعد وطن واپسی پر استقبال اور مبارکباد دینے پر اقلیتی برادری کے نمائندوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے خطاب پاکستان اور بلوچستان کیلئے ایک اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں عالمی سربراہی اجلاس سے خطاب ہو یا امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے یومِ آزادی پاکستان کے سلسلے میں منعقدہ تقریبات، ہر موقع پر پاکستان اور بلوچستان کی نمائندگی کرنا اور اپنے نوجوانوں کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ان مواقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھرپور پذیرائی اور عزت افزائی ملی۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے دلوں میں اپنے ملک اور عوام کیلئے بےپناہ محبت اور وابستگی موجود ہے۔ انہوں نے امریکہ کے شہر ٹیکساس، ہیوسٹن اور لاس اینجلس میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ تقریبات میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد تجارت اور کاروبار سے وابستہ ہے اور وہ پاکستان کی معیشت کیلئے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارا تعلق بلاشبہ مختلف قوموں، مذاہب اور علاقوں سے ہو سکتا ہے، لیکن ہم سب پاکستانی ہیں۔ آئینِ پاکستان کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور ہمیں باہمی اتحاد، احترام اور یکجہتی کے ساتھ ملک و قوم کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں اقلیتی رہنماوں اور نمائندوں کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور کہا کہ اب ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم متحد ہو کر عوام کی خدمت کریں اور ملک و صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر محمد خان لہڑی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیت ہوں یا اکثریت، ہم سب ایک ہی ملک کے باشندے ہیں۔ کرسچین بھی ہمارے بھائی ہیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی برادریوں کا کردار قابلِ قدر ہے۔ محمد خان لہڑی نے بھی گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کو دورہ? امریکہ کی کامیابی اور عالمی فورم پر پاکستان و بلوچستان کی موثر نمائندگی پر مبارکباد پیش کی۔ قبل ازیں سابق وفاقی وزیر خلیل جارج نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے زیر اہتمام یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کی شرکت اور خطاب ہم سب کیلئے باعثِ فخر اور مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم مسیحی اور ہندو برادری کی جانب سے گورنر بلوچستان کو ان کے کامیاب دورہ امریکہ پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ عالمی فورم پر پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی آواز موثر انداز میں پیش کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ملاقات کے اختتام پر مسلم لیگ ن کی صوبائی رہنمائ ثنائ انتظار کی جانب سے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کو گلدستہ پیش کیا اور دیگر نمائندے ہار پہنائے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7150/2026
کوئٹہ، 31 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سینئر صحافی ظاہر خان ناصر کے بھائی عبداللہ ناصر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سینئر صحافی ظاہر خان ناصر اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم عبداللہ ناصر کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔وزیر اعلیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7151/2026
کوئٹہ31 آگست ۔بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے رکن صوبائی اسمبلی میر غلام دستگیر بادینی کے والد میر جمعہ خان بادینی کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ والدین کا سروں پر سایہ ہونا رب العزت کی طرف سے عظیم نعمت ہے ماں باپ میں سے کسی کا دنیا سے چلے جانا بڑی محرومی ہے لیکن ایسے حالات میں بندے پر لازم ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے رب العزت کی تقدیر پر راضی رہے۔میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے دعا کی کہ اللّٰہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاءفرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاءکرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7152/2026
کوئٹہ، 31 اگست:۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کار صوبے کا رخ کر رہے ہیں۔امریکہ سمیت دیگر ممالک کے سرمایہ کار بلوچستان میں معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور وڑن کے باعث صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ حکومت بلوچستان سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ صوبے کے وسائل کو جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے بروئے کار لا کر نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صوبے میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنے اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت، ضروری معلومات اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں آسانی فراہم کی جائے۔ وائس چیئرمین نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مختلف شعبوں میں مزید سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے عالمی اور ملکی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور صوبے کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, August 31: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment & Trade (BBoIT), Bilal Khan Kakar, has said that the law and order situation in Balochistan is gradually improving, and investors from around the world are turning towards the province. Investors from the United States and other countries are showing keen interest in investing in minerals and various other sectors of Balochistan.In a statement, he said that the investor-friendly policies and vision of Chief Minister Balochistan Mir Sarfraz Bugti are creating a conducive environment for investment in the province. The Government of Balochistan is taking practical measures to facilitate investors and promote business activities across the province.Bilal Khan Kakar said that by utilizing the province’s resources through modern technology and investment, not only can new employment opportunities be created, but the economy of Balochistan can also be placed on a stronger foundation.He said that the Balochistan Board of Investment & Trade is playing an active role in informing local and foreign investors about the investment opportunities available in the province and providing them with all possible facilitation. The government’s priority is to provide investors with one-window facilitation, necessary information, and ease of coordination with relevant departments.The Vice Chairman said that further investment in various sectors is expected in the coming days. He urged local and international investors to benefit from the investment opportunities available in Balochistan and play their role in the province’s economic development.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر7153/2026
دکی: 31اگست ۔ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے مضرِ صحت، غیر معیاری اور زائدالمیعاد اشیائے خوردونوش کی فروخت کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر تحصیل تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی اور فوڈ انسپکٹر بخت محمد ناصر نے دکی شہر میں مختلف بیکریوں اور بیکری مصنوعات تیار کرنے والے کارخانوں کا اچانک اور تفصیلی معائنہ کیادورانِ معائنہ متعدد بیکریوں اور کارخانوں میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، غیر معیاری خام مال کے استعمال اور زائدالمیعاد و مضرِ صحت اشیاء کی موجودگی سمیت مختلف بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس پر انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک بیکری اور بیکری مصنوعات تیار کرنے والے دو کارخانوں کو سیل کر دیا، جبکہ متعدد دکانداروں اور بیکری مالکان پر جرمانے بھی عائد کیے گئےاس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی اور فوڈ انسپکٹر بخت محمد ناصر نے مختلف مراکز میں تیار ہونے والی اشیائے خوردونوش کے معیار، صفائی کے انتظامات، استعمال ہونے والے خام مال، مصنوعات کی تیاری و ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار اور اشیاء کی میعاد کا تفصیلی جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام شاہوانی نے کہا کہ شہریوں کو معیاری، محفوظ اور صاف ستھری اشیائے خوردونوش کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کسی بھی فرد یا کاروباری مرکز کو انسانی صحت کے ساتھ کھیلنے اور مضرِ صحت یا زائدالمیعاد اشیاء کی فروخت کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ حفظانِ صحت کے اصولوں اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بیکری مالکان اور اشیائے خوردونوش تیار کرنے والے کارخانوں کے ذمہ داران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنائیں، معیاری اور محفوظ خام مال کا استعمال یقینی بنائیں اور مصنوعات کی تیاری، ذخیرہ اور فروخت کے دوران تمام مقررہ اصولوں پر مکمل عملدرآمد کریں فوڈ انسپکٹر بخت محمد ناصر نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ مضرِ صحت، غیر معیاری اور زائدالمیعاد اشیاءکی تیاری یا فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بیکریوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، جنرل اسٹورز اور دیگر اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والے مراکز کی نگرانی اور اچانک معائنوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی کاروباری مرکز کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق جرمانے، سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7154/2026
لورالائی، 31 اگست۔ : ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے شہر میں قائم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے مختلف مراکز اور برانچز کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے انتظامی امور، مستحقین کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور امدادی رقوم کی ادائیگی کے نظام کا جائزہ لیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مختلف مراکز میں موجود عملے سے ملاقات کی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مستحق خاندانوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت اور دیگر سہولیات سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے مراکز پر موجود مستحق خواتین اور دیگر شہریوں سے بھی ملاقات کی اور ان سے درپیش مسائل اور سہولیات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے مراکز کے انتظامی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مستحقین، بالخصوص خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے بہتر اور باعزت ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مراکز پر آنے والے افراد کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام سے پیش آنا تمام متعلقہ عملے کی بنیادی ذمہ داری ہے ندیم اکرم نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام حکومت کا اہم فلاحی منصوبہ ہے، جس کا بنیادی مقصد معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو مالی معاونت فراہم کرکے انہیں معاشی سہارا دینا ہے۔ لہٰذا اس پروگرام کے تحت خدمات کی فراہمی میں مکمل شفافیت، میرٹ اور قانون کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ مستحقین کو امدادی رقوم کی فراہمی کے دوران کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر، بدانتظامی یا مشکلات قابل قبول نہیں ہوں گی۔ متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کو بلاوجہ انتظار نہ کرنا پڑے اور ان کے مسائل کو بروقت اور موثر انداز میں حل کیا جائےاسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی فلاح و بہبود اور حکومتی پروگراموں کے ثمرات حقیقی مستحقین تک پہنچانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ حکومتی فلاحی منصوبوں کی مو¿ثر نگرانی کا مقصد نہ صرف نظام میں شفافیت پیدا کرنا بلکہ عوام کا اعتماد بحال رکھنا اور انہیں بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف عوامی و فلاحی اداروں اور حکومتی پروگراموں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بے ضابطگی کی بروقت نشاندہی کرکے اس کا تدارک کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7155/2026
دکی 31اگست .ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے علاقے کے مختلف نجی کلینکس اور میڈیکل اسٹورز کا اچانک دورہ کرتے ہوئے وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور قانونی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیادورانِ معائنہ اسسٹنٹ کمشنر نے کلینکس اور میڈیکل اسٹورز کے لائسنس، رجسٹریشن، ادویات کے معیار اور دیگر ضروری قانونی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے متعلقہ مالکان اور ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی قوانین اور محکمہ صحت کی جانب سے مقرر کردہ ضوابط پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اس موقع پر عبدالسلام شاہوانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ بغیر لائسنس، رجسٹریشن اور دیگر ضروری قانونی دستاویزات کے میڈیکل اسٹور یا نجی کلینک چلانا قانوناً جرم ہے، جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں اور صحت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور کسی بھی فرد کو غیر قانونی طریقے سے طبی سہولیات کے نام پر شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ غیر معیاری، زائد المیعاد اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی فروخت کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ میڈیکل اسٹورز اور نجی کلینکس میں حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے خبردار کیا کہ بغیر لائسنس یا مطلوبہ قانونی دستاویزات کے کلینک اور میڈیکل اسٹورز چلانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور غیر قانونی مراکز کو فوری طور پر سیل کیا جا سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو معیاری اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہی ہے اور اس سلسلے میں نجی طبی مراکز اور میڈیکل اسٹورز کی نگرانی کا عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی غیر قانونی کلینک، جعلی ڈاکٹر یا غیر معیاری ادویات کی فروخت سے متعلق معلومات فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں تاکہ بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔یہ ورڑن اخباری خبر اور سرکاری پریس ریلیز دونوں انداز کے لیے موزوں ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7156/2026
قلات 31اگست۔ ڈپٹی کمشنر انجییئر عائشہ زہری سے قبائلی رہنما پرنس آغا ذکی احمدزئی کی سربراہی میں عوامی وفودنے ملاقات کی وفودمیں سماجی کارکن ندیم دہوار مولانا رحمدل حلیمی کونسلر کلی پندرانی عبدالقیوم سمیت خالق آباد کے عوامی وفودشامل تھےملاقات کے دوران سائلین درخواست گزاروں نےخالق آباد کے عوام کو درپیش مختلف مسائل، جبکہ قلات کے کلی پندرانی میں پانی کی قلت، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور دیگر عوامی مشکلات سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیاڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے عوامی مسائل کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری حل کے لیے ضروری اقدامات اور احکامات جاری کیے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے کہا کہ عوامی مسائل سننا اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7157/2026
کوئٹہ31اگست ۔ وزیر اعظم پاکستان کے نظریہ کے تحت اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کھلی کچہری 07 ستمبر 2026 ء بروز پیر صبح 11:00 بجے اے جی بلوچستان کے دفتر میں منعقد کی جارہی ہے۔ جس میں اے جی بلوچستان ، ڈی ڈی اوز (DDOs)، صوبائی سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے مسائل کو سنیں گے اور ان کے حل کے لئے اسی وقت احکامات صادر فرمائیں گے۔اکاونٹنٹ جنرل بلوچستان نے کہا ہے کہ ملازمین اور پینشنر ز کو چاہیے کہ وہ کھلی کچہری اور شکایات سیل جیسے اقدامات سے استفادہ حاصل کریں اور اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے رابطہ کریں تا کہ ان کو بر وقت حل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7158/2026
لورالائی31اگست ۔ : ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر)محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ضلع میں دسویں ریونیو اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علی نواز جمالی،تحصیلدار ثنائ اللہ لونی،نائب تحصیلدار ریونیو افسران اور فیلڈ اسٹاف نے شرکت کی۔ اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس (AIT)، بقایاجاتِ مال کی وصولی، سرکاری اراضی کے تحفظ، ریونیو ریکارڈ کی درستگی اور دیگر اہم انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران ریونیو ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور مختلف معاملات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انکشاف ہوا کہ بعض سرکاری اراضی نجی افراد کے نام غیر قانونی اور غیر مجاز طریقے سے الاٹ کی گئی تھی۔ اس حوالے سے نشاندہی ہونے والی تمام غیر قانونی الاٹمنٹس کو فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ معاملے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے لیے بورڈ آف ریونیو سے باضابطہ طور پر رجوع کر لیا گیا ہےڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن(ر)محمد حسیب شجاع نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی قومی اثاثہ ہے اور اس کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا غیر قانونی اقدام ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں سرکاری اراضی کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے، تجاوزات یا غیر مجاز اندراجات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائےانہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کو جدید اور درست بنیادوں پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ زمینوں کے ریکارڈ میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا غیر قانونی تبدیلی کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔ تمام متعلقہ افسران کو ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی تاکید کی گئی۔اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس (AIT) اور بقایاجاتِ مال کی وصولی کی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ ریونیو افسران اور فیلڈ اسٹاف کو ہدایت کی کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل کو مزید تیز اور موثر بنایا جائے اور مقررہ اہداف کے مطابق وصولیوں کو یقینی بناتے ہوئے تمام رقوم بروقت سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائیںڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایک مضبوط اور فعال ریونیو نظام نہ صرف سرکاری وسائل کے تحفظ بلکہ عوام کو موثر اور بروقت خدمات کی فراہمی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریونیو عملے پر زور دیا کہ عوامی معاملات میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت مقدم رکھا جائےاجلاس کے اختتام پر تمام ریونیو افسران اور فیلڈ اسٹاف کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مکمل شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنائیں، سرکاری اراضی کے تحفظ کو ترجیح دیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی میں ریونیو نظام کی بہتری، سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور بدعنوانی و بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور قانون کی خلاف ورزی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ متن پریس ریلیز، اخباری خبر اور سرکاری سوشل میڈیا پوسٹ تینوں کے لیے موزوں ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7159/2026
کوئٹہ 31اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ہمراہ میزن چوک میں بچوں کے فارمولا دودھ کی غیر مجاز فروخت اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کی اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ امیر حمزہ کی نگرانی میں ہونے والی کارروائی کے دوران 8 یونٹس کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 6 یونٹس کو قوانین اور مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا، جبکہ 6 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔کارروائی کے دوران فارمولا دودھ کی غیر مجاز فروخت، مطلوبہ دستاویزات کی عدم دستیابی، نامناسب ڈسپلے، لیبلنگ اور دیگر فوڈ سیفٹی و ریگولیٹری خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔باقی 2 یونٹس کو بھی ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے بچوں کے فارمولا دودھ کی غیر مجاز فروخت اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7160/2026
کوئٹہ 31اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر بچوں کے غیر رجسٹرڈ، غیر برانڈڈ کھلے خشک دودھ کی فروخت کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔اس سلسلے میں سرکی روڈ، نواں اڈہ اور بڑیچ مارکیٹ میں کارروائیاں کی گئیں، جہاں 5 دکانیں سیل اور 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔کارروائیاں اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزئی، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کے ہمراہ کیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بچوں کے لیے غیر رجسٹرڈ، غیر برانڈڈ اور کھلے خشک دودھ کی فروخت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7161/2026
خضدار31اگست۔ : پولیو مہم برائے ستمبر 2026 کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی DPEC کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیرِ صدارت ڈی سی کانفرنفرنس روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ، ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی، اسسٹنٹ کمشنر نال عبداللہ، ایگزیکٹو آفیسرز انجینئیئر سلیم رزاق عمرانی، انجینئیر لیاقت علی، ڈاکٹر انور زہری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر خضدار، ڈی ای اوز، ڈی ای او سی کے ممبران، پارٹنر آرگنائزیشنز اور متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ستمبر کی پولیو مہم کی تفصیلی حکمتِ عملی اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہم کے دوران ضلع خضدار کی تمام 49 یونین کونسلز میں پولیو مہم چلائی جائے گی۔ اس دوران پانچ سال تک کی عمر کے 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونین کونسلز Low Performing UCs کی بھی نشاندہی کی گئی۔ اجلاس میں ان یو سیز میں کوریج بہتر بنانے، رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور ٹیموں کی کارکردگی موثر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اور لائحہ عمل طے کیا گیا۔اجلاس میں مہم کی سکیورٹی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فیلڈ ٹیموں، ویکسینیٹرز اور دیگر عملے کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے انتظامات مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ “پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ محکمے اور پارٹنر ادارے باہمی رابطہ و تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ ضلع بھر میں کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ Low Performing UCs پر خصوصی توجہ دی جائے اور مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ ایک قومی ذمہ داری اور نئی نسل کو ایک مرض بچانے کا معاملہ ہے لہذا سب جذبے کے تحت خدمت سرانجام دیں تاکہ پولیو جیسے مرض کا مستقل طور پر خاتمہ کیا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7162/2026
نصیرآباد31۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی و چیف سیکریٹری بلوچستان کے احکامات کی روشنی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی خصوصی ہدایت پر تحصیل چھتر میں اسسٹنٹ کمشنر چھتر بشیر احمد کی سربراہی میں عوامی مسائل کے فوری ازالے شہریوں کو درپیش مشکلات کے حل اور بنیادی سرکاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں مختلف ضلعی محکموں کے افسران ضلعی سربراہان اور ان کے نمائندگان سمیت علاقے کے عمائدین زمینداران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کیکھلی کچہری کے دوران شہریوں نے اپنے مسائل اور مشکلات تفصیل سے بیان کرتے ہوئے مختلف محکموں سے متعلق شکایات پیش کیں عوام کی جانب سے امن و امان کی صورتحال صحت و طبی سہولیات کی عدم دستیابی بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی کمی زراعت کے شعبے میں درپیش مسائل زراعت افسران کی عدم دستیابی لائیوسٹاک سے متعلق مسائل اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق شکایات اور مطالبات سامنے رکھے گئے اس موقع پر شہریوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں عوام کو صحت زراعت لائیوسٹاک اور دیگر شعبوں میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کی موثر نگرانی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فیلڈ میں سرکاری افسران کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اسسٹنٹ کمشنر چھتر بشیر احمد نے کھلی کچہری میں موجود شہریوں کے مسائل اور شکایات کو بغور سنا اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان کو عوامی مسائل کے فوری ازالے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں انہوں نے متعلقہ افسران کو تاکید کی کہ عوام کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مسائل پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر ان کے حل کو یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اسسٹنٹ کمشنر بشیر احمد نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو فروغ دینا اور شہریوں کو اپنی شکایات و مسائل براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچانے کا موثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کی شکایات کا بروقت ازالہ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور عوام کی جائز شکایات کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی کھلی کچہری میں پیش کیے گئے مسائل پر متعلقہ محکموں کی کارکردگی کی نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ عوام کو عملی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7163/2026
سیوی 31 اگست ۔ اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالقادر ہارون، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ذیشان بشیر، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر جہانزیب خان بلوچ، ایم اینڈ ای آفیسر پی پی ایچ آئی لالہ صمد خان سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت (BHU) اور دیہی مراکز صحت (RHC) میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، اسٹاف کی حاضری، ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولیات کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے اداروں اور مراکز صحت کی کارکردگی کے حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی نے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی اولین ذمہ داری ہے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں، BHUs اور RHCs میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے، مریضوں کو ادویات اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آنے دی جائے جبکہ صحت مراکز میں صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی بہتر بنایا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ کو مزید موثر بنایا جائے اور افسران باقاعدگی سے مراکز صحت کا دورہ کرکے مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت، غیر حاضری اور عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے دوران غیر حاضر اور فرائض میں غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی سمیت تنخواہوں سے کٹوتی کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے صحت مراکز کی کارکردگی بہتر بنانے، عوام کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے نظام کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا اور متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7164/2026
خضدار 31 اگست ۔ اعلامیہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے ایک اعلامیہ کے مطابق BE برائے سال 2027 کے داخلہ فارمز جمع کروانے کی تاریخ میں 15 ستمبر 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے.داخلوں کے متعلق معلومات کے لیے 03343157456 پر رابطہ کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7165/2026
سیوی 31 اگست ۔ اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد طارق، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالنبی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی لغاری، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل ارم نورین، پی ایم یو/ٹی کے ایف کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر محمد یونس سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے ضلع بھر میں بند اسکولوں، اساتذہ کی حاضری، مستقل غیر حاضر اساتذہ اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پی ایم یو/ٹی کے ایف کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر محمد یونس نے اجلاس کو اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 70 اسکولوں کا سروے مکمل جبکہ 60 اسکولوں کی ویریفکیشن بھی مکمل کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ اسکولوں کے اکاونٹس میں فنڈز کی منتقلی کا عمل شروع ہو جائے گا، تاہم بعض اسکولوں کے جوائنٹ اکاونٹس کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں۔ جوائنٹ اکاونٹس کھلنے کے بعد متعلقہ اسکولوں کو چیکس فراہم کر دیے جائیں گے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بروقت حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ اساتذہ کی باقاعدہ حاضری ہی طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کی بنیادی ضمانت ہے۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی کہ بند اسکولوں کو فعال بنانے، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی اور اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مستقل غیر حاضر اساتذہ کی نشاندہی پر ان کی تنخواہوں سے قواعد و ضوابط کے مطابق کٹوتی کے احکامات بھی جاری کیے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور اضافی کمروں کی تعمیر سمیت جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں اسکولوں کے باقاعدگی سے دورے کریں اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کی فعالیت اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔اگر چاہیں تو میں اسی خبر کے 5 مختصر ٹکرز، تصویری کیپشن اور ویڈیو اسکرین ٹیکسٹ بھی بنا دوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7166/2026
سیوی 31 اگست ۔ اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی کی زیرِ صدارت آئندہ پولیو مہم کے انتظامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، اے ڈی ایچ او ڈاکٹر ذیشان بشیر، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران، ایم ایس ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر جہانزیب گشکوری، ڈی پی او صلاح الدین مری، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر SRIP ارسلان لاشاری، ایم اینڈ ای آفیسر لالہ صمد خان سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ کامران نے گزشتہ پولیو مہم، جو مئی میں منعقد ہوئی تھی، کی کارکردگی اور آئندہ مہم کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ سیوی سے حاصل کیے گئے ماحولیاتی سیمپل کا نتیجہ بھی منفی (Negative) آیا ہے۔بریفنگ کے مطابق آئندہ مہم کے دوران 22 ٹرانزٹ پوائنٹس، 46 فکسڈ سائٹس اور 216 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ 62 ایریا انچارجز اور 25 یو سی ایم اوز مہم کی نگرانی کریں گے۔ مہم کے دوران 43 ہزار 192 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اور موثر نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں اور مقررہ ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7167/2026
ہرنائی:31اگست ۔ عوامی ریلیف کی فراہمی اور گرانفروشی و ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسرار احمد شاھوانی نے تندور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ساتھ اپنے دفتر میں ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں عوام کو مناسب قیمت پر معیاری روٹی کی فراہمی اور آٹے کی موجودہ قیمتوں کے تناظر میں روٹی کے نرخوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس کے بعد باہمی رضامندی سے روٹی کے نئے اور مناسب نرخ مقرر کیے گئے۔ اجلاس کے فوری بعد اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ نے مین بازار کا دورہ کیا۔ معائنے کے دوران انہوں نے مختلف دکانوں، جنرل اسٹورز، سبزی، پھل اور گوشت کی دکانوں پر سرکاری نرخ ناموں (پرائس لسٹ) کی موجودگی اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ انہوں نے خریداروں سے بھی بات چیت کی اور اشیائے ضروریہ کے معیار اور قیمتوں کے حوالے سے ان کے خدشات اور آراء معلوم کیں۔انہوں نے پوری مارکیٹ میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور عمومی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا اور تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاءکی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام دوکانداروں اور تندور مالکان کو تنبیہ کی کہ سرکاری نرخ نامے دکانوں کے نمایاں جگہوں پر آویزاں کیے جائیں اور مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7168/2026
قلات 31اگست ۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خیل کی ہیڈ مسٹریس کے ہمراہ سکول کا دورہ کیا اور سکول میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تعداد، طالبات کی تعداد، دستیاب سہولیات، درپیش مسائل، اساتذہ کی کمی اور کلاس رومز کی کمی سے متعلق آگاہی حاصل کی ڈپٹی کمشنر قلات نے سکول میں زیرِ تعلیم طالبات سے ملاقات کی، ان کے مسائل دریافت کیے اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق مختلف سوالات بھی کیے۔ سوالات کے درست جوابات دینے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے ان کے لیے نقد انعامات کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے کہا کہ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ اپنی حاضری یقینی بنائیں، غیر حاضر عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکول کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے تاکہ طالبات کو بہتر اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے اور وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری رکھ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7169/2026
قلات 31اگست ۔ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے پبلک لائبریری کا اچانک دورہ کیا اور لائبریری میں طلباء و طالبات کے لیے دستیاب سہولیات اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ لائبریرین جہانزیب نے ڈپٹی کمشنر کو لائبریری کا تفصیلی دورہ کرایا اور انہیں لائبریری میں دستیاب سہولیات، طلباءو طالبات کو درپیش مسائل اور دیگر اہم امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے مطالعے کے لیے اضافی کمروں کی تعمیر، مزید کرسیوں کی فراہمی، لائبریری کی عمارت میں توسیع، لیپ ٹاپس کی فراہمی سمیت دیگر ضروریات سے آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے لائبریری میں مطالعہ کرنے والے طلباءو طالبات سے ملاقات کی اور ان سے تعلیمی سرگرمیوں، مطالعے کے حوالے سے درپیش مشکلات اور دیگر مسائل دریافت کیے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری نے طلباءو طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز رکھیں، مطالعے کا دائرہ وسیع کریں اور مستقبل میں پیشہ ورانہ و مسابقتی امتحانات کی بھرپور تیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ محنت، مستقل مزاجی اور علم کے ذریعے طلباءو طالبات مستقبل میں اہم عہدوں پر فائز ہو کر ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پبلک لائبریری کو درپیش مسائل کا حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ لائبریری میں طلباء و طالبات کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اسے ایک مثالی پبلک لائبریری بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7170/2026
قلات 31اگست ۔ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا ہے کہ خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود، تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کا خیال رکھنا ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں سائلین خواتین کے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کہی انہوں نےکہا کہ خواتین کو درپیش مسائل کے فوری اور موثر حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خواتین کو تعلیم اور صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو موثر اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے دفتر آنیوالی سائلین خواتین کو یقین دہانی کراءکہ ضلعی انتظامیہ خواتین کی شکایات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنے گی اور ان کے ازالے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کئی واضح احکامات ہیں کہ خواتین کی تعلیم، ہنر مندی اور معاشی خودمختاری کو فروغ دے کر انہیں معاشرے کی ترقی میں مزید موثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اس وڑن کے تحت ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کے قیام کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے، اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7171/2026
کوئٹہ31 اگست ۔ پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے ممکنہ سیلابی صورتحال، ہنگامی حالات اور مونسون کی بارشوں سے نمٹنے کے لیے “صوبائی مونسون کنٹینجنسی پلان 2026” مکمل طور پر تیار کر لیا ہے۔ریلیف کمشنر / ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس جامِع منصوبے کا بنیادی مقصد کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر ردِعمل کو یقینی بنانا ہے۔ اس پلان کے تحت تمام متعلقہ صوبائی محکموں اور اراکین کو الگ الگ اور واضح ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تاکہ سیلاب اور بارشوں کے دوران جانی و مالی نقصان سے بچا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/7177
جھل مگسی 31اگست:ـاسسٹنٹ کمشنر جھل مگسی نعمان منیر بلوچ نے شہر میں واقع پیٹرول پمپ کا دورہ کیا اور وہاں موجود مختلف انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر انھوں نے پیمانے کے ذریعے پیٹرول کی مقدار چیک کی اور اس بات کا جائزہ لیا کہ صارفین کو مقررہ مقدار کے مطابق پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے پیٹرول کے معیار، نرخ اور دیگر ضروری انتظامات کا بھی معائنہ کیا۔
انھوں نے پیٹرول پمپ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری پیٹرول مقررہ نرخ 290 روپے فی لیٹر اور مکمل مقدار کے مطابق فراہم کیا جائے اور کسی بھی قسم کی کمی بیشی یا ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/7178
کوئٹہ31 اگست: عدالت عالیہ بلوچستان میں عوامی سہولت مرکز کا افتتاح کردیا گیا۔ تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، سپریم کورٹ کے ججز جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس روزی خان بڑیچ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، ہائیکورٹ کے ججز، سینئر وکلا، عدالتی افسران اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد سائلین کو بنیادی معلومات اور ضروری سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنا اور انصاف کے حصول کو عام شہری کے لیے مزید آسان بنانا ہے۔ مرکز میں سائلین کے لیے انتظار گاہ، واش روم، بائیومیٹرک سہولت، معلوماتی ڈیسک اور مقدمات سے متعلق معلومات کے لیے کمپیوٹرائزڈ مشینیں نصب کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولت مرکز میں سائلین اپنے مقدمات کی تاریخِ سماعت، متعلقہ بینچ اور دیگر دستیاب معلومات حاصل کرسکیں گے، جبکہ پہلی مرتبہ عدالت آنے والے شہریوں کو بھی ضروری رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالتی نظام میں بنیادی سہولیات، انتظامی امور اور سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت کے احاطے میں غیر متعلقہ افراد کی غیر ضروری آمدورفت روکنے اور مؤثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے عوامی سہولت مرکز کے قیام میں تعاون پر چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے ججز، بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز، وکلا، عدالتی عملے، حکومت بلوچستان، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد عدالت اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور سائلین کو ایک منظم، باوقار اور عوام دوست عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7179
کوئٹہ31 اگست:ـچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی سہولت مرکز کا قیام انصاف کو ہر شہری کی دسترس میں لانے کی جانب اہم قدم ہے۔ ٹیکنالوجی اور جدید بنیادی ڈھانچہ عدالتی اصلاحات کا ذریعہ ہیں، تاہم ان کا مقصد عدالتی عمل کو تیز، شفاف، قابل رسائی اور عوام دوست بنانا ہے۔عوامی سہولت مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور بلوچستان ہائیکورٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فاصلے، معلومات کی کمی اور دیگر عملی مشکلات عام شہری کے لیے انصاف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، اس لیے عدالتی اداروں میں شہریوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات صرف ٹیکنالوجی یا عمارتوں سے ممکن نہیں، بلکہ بینچ اور وکلا کو مل کر نظام انصاف میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں قائم سہولت مرکز کسی ایک فرد کا منصوبہ نہیں بلکہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی پالیسی کا حصہ ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سہولت مراکز کا دائرہ ہائیکورٹس تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں ضلعی اور تحصیل کی سطح تک بھی وسعت دی جانی چاہیے تاکہ شہریوں کو اپنے قریب بنیادی عدالتی سہولیات اور رہنمائی دستیاب ہو۔انہوں نے بتایا کہ انصاف تک رسائی فنڈ کے تحت ملک بھر میں چار بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جارہی ہے، جن میں بلاتعطل بجلی یا شمسی توانائی، بلاتعطل انٹرنیٹ، خواتین کے لیے مناسب سہولت اور صاف پینے کا پانی شامل ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے بلوچستان کی عدلیہ اور وکلا کی خدمات کو سراہتے ہوئے عدالتی فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے ججز اور وکلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کو حقیقی خراج عقیدت قانون کی حکمرانی اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد عدالت اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور عام آدمی کے لیے انصاف کے حصول کو مزید آسان بنانا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7180
کوئٹہ31 اگست:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی اور پولیس نے غیر رجسٹرڈ، غیر برانڈڈ اور غیر معیاری بچوں کے فارمولا دودھ کے خلاف خصوصی مہم کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں کیں۔کارروائیوں کے دوران 16 افراد کو گرفتار، 17 یونٹس سیل جبکہ مجموعی طور پر 874 کلوگرام بچوں کا فارمولا دودھ ضبط کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر(صدر) محمد یوسف ہاشمی نواں کلی میں کاروائی کرتے ہوئے 4 افراد گرفتار، 5 یونٹس سیل، 92 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر(سریاب) مصور احمد اچکزئی، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور عزت اللہ نیو اڈہ ،سرکی روڈ اور بڑیچ مارکیٹ میں کاروائی کرتے ہوے 6 افراد گرفتار، 5 یونٹس سیل، 232 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیا اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر(سٹی) امیر حمزہ نے میزان چوک اور ملحقہ علاقوں میں کاروائی کرتے ہوئے 6 افراد گرفتار، 7 یونٹس سیل، 350 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیاںاور ڈرگ انسپکٹرز نے شہر کے مختلف میڈیکل اسٹورز پر کارروائی کرتے ہوئے 200 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیا ۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بچوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی، جبکہ غیر رجسٹرڈ، غیر برانڈڈ اور غیر معیاری فارمولا دودھ کی خرید و فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 2026/7139RECAST
کوئٹہ31 اگست: منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن نے گواہان، شہداء کے لواحقین، متعلقہ ورثاء ودیگر رشتہ داروں کی ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر رجسٹریشن کے معمول کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ عوام کی مزید سہولت کے لیے واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے رجسٹریشن کی آسان سہولت بھی متعارف کرادی ہے۔
تحقیقاتی کمیشن کے ایک اعلامیے کے مطابق تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے گواہان، شہداء کے لواحقین، متعلقہ ورثاء اور دیگر رشتہ داروں کی گواہیوں اور حلفیہ بیان وغیرہ کی رجسٹریشن کے عمل کی آخری تاریخ میں 3 ستمبر 2026 تک توسیع کی تھی، جبکہ مقررہ آخری تاریخ میں اب صرف تین ایام باقی رہ گئے ہیں۔اعلامیے کے مطابق علاقائی دوری، سفری دشواری اور متعلقہ عوام الناس کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے معزز تحقیقاتی کمیشن کے حکم پر گواہی، حلفیہ بیان وغیرہ کی رجسٹریشن اب ایک آسان طریقہ کار کے تحت واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس کے ذریعے بھی کروائی جا سکتی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن کے لیے تمام ضروری کوائف، شناختی کارڈ کی کاپی وغیرہ بھی متعلقہ رابطہ نمبر پر بھیجے جا سکتے ہیں۔ تاہم، بعد ازاں دفتر ہذا میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر رجسٹریشن کی تصدیق کروانا ہوگی۔
واٹس ایپ نمبر: 03373848958
ای میل ایڈریس: secretary.mangidaminquiry@bhc.gov.pk

خبر نامہ نمبر 2026/7172
کوئٹہ31 اگست:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر ٹارگٹڈ کارروائیاں پوری کامیابی اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ دالبندین میں آج ایک کامیاب کارروائی کے دوران فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ریاست اپنی رٹ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر اور مربوط کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور صوبے کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست کے دروازے ان لوگوں کے لیے آج بھی کھلے ہیں جو تشدد کا راستہ ترک کرکے ہتھیار ڈالنے اور آئینِ پاکستان کے تحت پُرامن زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں۔ ایسے افراد قومی دھارے میں واپس آکر ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور حکومت عوام کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7173
کوئٹہ31 اگست:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کے روز یہاں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شوکت خان جوگیزئی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین بھی موجود تھے ملاقات کے دوران صوبے میں بجلی کی فراہمی، بجلی سے متعلق عوامی مسائل اور کیسکو کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے میں بجلی سے متعلق عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7174
کوئٹہ31اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان، سیکریٹری صحت بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایات پر ڈرگ کنٹرول ایڈمنسٹریشن بلوچستان کی جانب سے غیر لیبل شدہ، غیر مصدقہ اور غیر معیاری دودھ پاؤڈر، بالخصوص بچوں کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔کارروائیوں کے دوران مشکوک اور غیر معیاری بیبی ملک پاؤڈر سمیت بعض غیر معیاری میڈیکل ڈیوائسز برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیے گئے، جبکہ متعلقہ افراد کے خلاف قابلِ اطلاق قوانین کے تحت کارروائی کی گئی۔عوام سے اپیل ہے کہ کھلے یا عام پلاسٹک شاپرز میں فروخت ہونے والے ایسے دودھ پاؤڈر سے اجتناب کریں جن پر تیار کنندہ کا نام و پتہ، اجزاء، بیچ نمبر، تاریخِ تیاری اور میعادِ استعمال درج نہ ہو۔خصوصاً بچوں کے لیے صرف محفوظ، معیاری اور مکمل لیبل شدہ مصنوعات استعمال کی جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7175
کوئٹہ31اگست:ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے فوڈ سیفٹی آفیسر اور پولیس کے ہمراہ نواں کلی میں بچوں کے غیر برانڈڈ اور غیر مجاز فارمولا دودھ کی خرید و فروخت کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران مختلف دکانوں اور اسٹوریج پوائنٹس کی چیکنگ کی گئی، جہاں سے 102 پیکٹس غیر برانڈڈ اور غیر رجسٹرڈ بچوں کا دودھ قبضے میں لے لیا گیا، جبکہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث 4 افراد کو گرفتار کرکے مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔انتظامیہ نے دکانداروں اور ڈسٹری بیوٹرز کو خبردار کیا کہ بغیر مناسب برانڈنگ، اجازت، ٹریس ایبلٹی اور فوڈ سیفٹی تقاضوں کی تکمیل کے بچوں کے فارمولا دودھ کی خرید و فروخت سے گریز کریں۔ بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی مصنوعات کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7176
کوئٹہ 31 اگست: سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پولیو کے خلاف جاری بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں گزشتہ 21ماہ کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پڑوسی ممالک اور دیگر علاقوں سے پولیو وائرس کی منتقلی کے خدشات کے پیش نظر کوئٹہ سمیت صوبے کے پانچ اضلاع میں پانچ روزہ پولیو بوسٹر مہم شروع کر دی گئی ہے۔ مہم کے دوران پانچ سے دس سال تک عمر کے ساڑھے تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا ؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے پانچ اضلاع میں پولیو کمپین بوسٹر مہم کا افتتاح کرتے ہوئے سیکرٹری صحت بلو چستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پولیو کے خلاف ہماری جنگ اور بھرپور جدوجہد کے باعث گزشتہ 21ماہ سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون اور بھرپور فوکس کے ذریعے ہم اس موذی مرض کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ پولیو کے قطرے بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ پولیو وائرس کے سرکولیشن کا سلسلہ توڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیکرٹری صحت کے مطابق اگرچہ بلوچستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے، تاہم ہمسایہ ممالک یا دیگر علاقوں سے ماحول میں پولیو وائرس کے آنے کے خدشات بدستور موجود ہیں۔ انہی خدشات کے پیش نظر پانچ سے دس سال تک عمر کے بچوں کے لیے پانچ روزہ بوسٹر مہم شروع کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران ساڑھے تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پانچ ہزار سکولز اور مدارس بھی مہم کے ٹارگٹ میں شامل ہیں۔مجیب الرحمن نے اساتذہ، والدین اور مدارس کے مہتمم حضرات سے اپیل کی کہ وہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے محکمہ صحت کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ فی الحال مہم کوئٹہ بلاک میں جاری ہے، جس کے بعد سیمپلز اور ڈیٹا کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ماہانہ بنیادوں پر چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔سیکرٹری صحت نے مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو پولیو بوسٹر مہم کو دوسرے اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا، فی الحال ان علاقوں میں مہم جاری ہے جہاں اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7177
لورالائی31اگست:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں اور مختلف عمومی انتظامی امور کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور پولیو مہم کو مؤثر، مربوط اور کامیاب بنانے کے لیے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران آئندہ پولیو مہم کے انتظامات، فیلڈ ٹیموں کی تعیناتی، حساس اور دور دراز علاقوں کی کوریج، بچوں کے ہدف کے حصول، ویکسین کی بروقت فراہمی، ٹیموں کی نگرانی اور سیکیورٹی انتظامات سمیت متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر باہمی رابطہ کاری پر تفصیلی غور کیا گیاڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو ایک قومی مسئلہ ہے اور اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے تمام اداروں کو مشترکہ ذمہ داری اور بھرپور جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے آغاز سے قبل تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے اور ہر یونین کونسل و دور افتادہ علاقے تک پولیو ٹیموں کی رسائی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی کا اصل مقصد پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانا ہے، لہٰذا اس امر کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کہ ضلع کا کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی، غیر حاضر بچوں کی نشاندہی اور ان تک دوبارہ رسائی کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر نے والدین، علماء کرام، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کی قومی مہم میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں پولیو کے حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں اجلاس میں مختلف عمومی انتظامی اور عوامی مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوامی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے عملی اور بروقت اقدامات اٹھائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے فوری حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی اور قومی جذبے کے ساتھ ادا کریں تاکہ آئندہ انسدادِ پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنایا جا سکے اور لورالائی کو پولیو فری ضلع بنانے کے قومی مقصد میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7177
جھل مگسی 31اگست:اسسٹنٹ کمشنر جھل مگسی نعمان منیر بلوچ نے شہر میں واقع پیٹرول پمپ کا دورہ کیا اور وہاں موجود مختلف انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر انھوں نے پیمانے کے ذریعے پیٹرول کی مقدار چیک کی اور اس بات کا جائزہ لیا کہ صارفین کو مقررہ مقدار کے مطابق پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے پیٹرول کے معیار، نرخ اور دیگر ضروری انتظامات کا بھی معائنہ کیا۔انھوں نے پیٹرول پمپ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری پیٹرول مقررہ نرخ 290 روپے فی لیٹر اور مکمل مقدار کے مطابق فراہم کیا جائے اور کسی بھی قسم کی کمی بیشی یا ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7178
کوئٹہ31 اگست: عدالت عالیہ بلوچستان میں عوامی سہولت مرکز کا افتتاح کردیا گیا۔ تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، سپریم کورٹ کے ججز جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس روزی خان بڑیچ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، ہائیکورٹ کے ججز، سینئر وکلا، عدالتی افسران اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد سائلین کو بنیادی معلومات اور ضروری سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنا اور انصاف کے حصول کو عام شہری کے لیے مزید آسان بنانا ہے۔ مرکز میں سائلین کے لیے انتظار گاہ، واش روم، بائیومیٹرک سہولت، معلوماتی ڈیسک اور مقدمات سے متعلق معلومات کے لیے کمپیوٹرائزڈ مشینیں نصب کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولت مرکز میں سائلین اپنے مقدمات کی تاریخِ سماعت، متعلقہ بینچ اور دیگر دستیاب معلومات حاصل کرسکیں گے، جبکہ پہلی مرتبہ عدالت آنے والے شہریوں کو بھی ضروری رہنمائی فراہم کی جائے گی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالتی نظام میں بنیادی سہولیات، انتظامی امور اور سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت کے احاطے میں غیر متعلقہ افراد کی غیر ضروری آمدورفت روکنے اور مؤثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے عوامی سہولت مرکز کے قیام میں تعاون پر چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے ججز، بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز، وکلا، عدالتی عملے، حکومت بلوچستان، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد عدالت اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور سائلین کو ایک منظم، باوقار اور عوام دوست عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے۔

بر نامہ نمبر 2026/7180
کوئٹہ31 اگست:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی اور پولیس نے غیر رجسٹرڈ، غیر برانڈڈ اور غیر معیاری بچوں کے فارمولا دودھ کے خلاف خصوصی مہم کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں کیں۔کارروائیوں کے دوران 16 افراد کو گرفتار، 17 یونٹس سیل جبکہ مجموعی طور پر 874 کلوگرام بچوں کا فارمولا دودھ ضبط کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر(صدر) محمد یوسف ہاشمی نواں کلی میں کاروائی کرتے ہوئے 4 افراد گرفتار، 5 یونٹس سیل، 92 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر(سریاب) مصور احمد اچکزئی، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ اور عزت اللہ نیو اڈہ،سرکی روڈ اور بڑیچ مارکیٹ میں کاروائی کرتے ہوے 6 افراد گرفتار، 5 یونٹس سیل، 232 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیا اس کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر(سٹی) امیر حمزہ نے میزان چوک اور ملحقہ علاقوں میں کاروائی کرتے ہوئے 6 افراد گرفتار، 7 یونٹس سیل، 350 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیاں اور ڈرگ انسپکٹرز نے شہر کے مختلف میڈیکل اسٹورز پر کارروائی کرتے ہوئے 200 کلوگرام فارمولا دودھ ضبط کرلیا۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بچوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی، جبکہ غیر رجسٹرڈ، غیر برانڈڈ اور غیر معیاری فارمولا دودھ کی خرید و فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *