خبرنامہ نمبر7975/2026
اسلام آباد، 19 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سینیٹر انوارالحق کاکڑ، آغا شکیل احمد درانی اور دیگر کے ہمراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکن ایوان بالا میر عبدالقدوس بزنجو سے ان کے چچا میر عبداللہ جان بزنجو اور ماموں میر اللہ داد بزنجو کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مرحومین کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں وہ میر عبدالقدوس بزنجو اور ان کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
خبرنامہ نمبر7976/2026
کوئٹہ، 19 ستمبر :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور چاغی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قربانیاں قابلِ قدر ہیں۔ پنجگور اور چاغی میں 11 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانا سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ وطن کے بہادر سپوت اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہیں، پوری قوم سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جاری رہیں گی۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی ادارے اور قوم متحد ہیں اور دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔انہوں نے آپریشن ردالفتنہ 3 میں حصہ لینے والے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے بہادر سپوتوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
خبرنامہ نمبر7977/2026
کوئٹہ، 19 ستمبر :حکومت بلوچستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے نمایاں نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، صوبے کے دور افتادہ علاقے بیکڑ میں قائم میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال میں تاریخ میں پہلی بار 100 بڑی سرجریز کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہیں۔ میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال میں ہنگامی اور پیچیدہ نوعیت کے کیسز سمیت 100 بڑی سرجریز کی کامیاب تکمیل دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ ہسپتال میں 24 گھنٹے آپریشن تھیٹر فعال ہے جہاں مریضوں کو ہنگامی اور خصوصی جراحی کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بیکڑ کے میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال میں 100 بڑی سرجریز کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم سنگ میل دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی بہتری اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ثمرات کا مظہر ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقامی سطح پر جراحی کی سہولیات دستیاب ہونے سے دور دراز علاقوں کے مریضوں کو علاج کے لیے طویل فاصلہ طے کرکے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑ رہا، جس سے انہیں بروقت اور ضروری طبی سہولیات ان کے اپنے علاقے کے قریب میسر آرہی ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے عوام کو ان کے قریب معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بیکڑ میں ہنگامی اور پیچیدہ نوعیت کے آپریشنز کی مقامی سطح پر سہولت سے مریضوں کو بروقت علاج میسر آرہا ہے، جو صحت عامہ کی خدمات کو نچلی سطح تک مؤثر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال کی انتظامیہ، ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور آپریشن تھیٹر ٹیم کی مسلسل کاوشوں سے یہ اہم سنگ میل حاصل کیا گیا ہے۔ ہسپتال میں 24 گھنٹے آپریشن تھیٹر کی فعالیت دور دراز علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم طبی سہولت ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سہولیات کو دور دراز علاقوں تک وسعت دے کر عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو علاج معالجے کے لیے غیر ضروری طور پر بڑے شہروں کا سفر نہ کرنا پڑے اور انہیں ممکنہ حد تک معیاری طبی سہولیات ان کے قریب دستیاب ہوں۔
خبرنامہ نمبر7978/2026
بارکھان؍رکھنی، 19 ستمبر :رکھنی میں سپورٹس میلہ سیزن ٹو میگا ایونٹ 2026 کا رنگا رنگ آغاز ہوگیا۔ اس موقع پر رکھنی کرکٹ گراؤنڈ میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی، اسسٹنٹ کمشنر راڑاشم انضمام قاسم سیلاچی، اسپورٹس آفیسر امیر جان، وڈیرہ ظفر اور علاقے کے معتبرین و معززین نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کھیل نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اور مثبت طرزِ زندگی کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سپورٹس میلہ سیزن ٹو میں کرکٹ، گھوڑا ریس، رسہ کشی، دوڑ، علاقائی رقص اور روایتی کھیلوں سمیت مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جبکہ میلے میں ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔اس موقع پر مہمانوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ سپورٹس میلے میں شائقینِ کھیل اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف مقابلوں سے لطف اندوز ہوئے۔میلے کے منتظمین کے مطابق ایونٹ کا مقصد علاقے میں کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا اور مقامی کھیلوں و ثقافت کو اجاگر کرنا ہے۔
خبرنامہ نمبر7979/2026
کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی ٹیم نے کوئٹہ میں حال ہی میں قائم ہونے والے مختلف ریسٹورنٹس کا دورہ کیا اور انتظامیہ کو بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔دورانِ دورہ ریسٹورنٹس کی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا کہ متعلقہ کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور قانون کے مطابق سیلز ٹیکس آن سروسز کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔BRA ٹیم نے ریسٹورنٹس کو پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کو بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے پورٹل کے ساتھ مربوط کرنے، تمام متعلقہ سیلز کی باقاعدہ انوائسز جاری کرنے اور کاروباری و ٹیکس ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے بھی تفصیلی آگاہی فراہم کی، تاکہ مستقبل میں قانون کے تحت درکار معلومات اور ریکارڈ باآسانی پیش کیے جا سکیں۔اس موقع پر BRA ٹیم نے واضح کیا کہ اتھارٹی کا مقصد ٹیکس دہندگان کو قانون کے تقاضوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں رجسٹریشن، ٹیکس ادائیگی اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ ریسٹورنٹس کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ بروقت رجسٹریشن اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ذمہ دارانہ ٹیکس تعمیل کو یقینی بنائیں۔
خبرنامہ نمبر7980/2026
گوادر؍جیوانی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی جانب سے عوام کو معیاری، مؤثر اور بنیادی صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت محکمہ صحت بلوچستان کی اعلیٰ سطحی ٹیم نے جیوانی کا دورہ کیا۔ ٹیم میں چیف پلاننگ آفیسر نوید احمد رئیسانی، ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام بلوچ اور سیکشن آفیسر بجٹ شے مرید بلوچ شامل تھے۔محکمہ صحت کی ٹیم نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) جیوانی اور نو تعمیر شدہ شیخ راشد بن محمد بن راشد بن المکتوم ہسپتال کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کا مقصد آر ایچ سی جیوانی کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال (THQ) کا درجہ دیے جانے کے بعد نئے ہسپتال کو باقاعدہ طور پر فعال کرنے کے لیے ضروری انتظامات کا جائزہ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینا تھا۔اس موقع پر ٹیم نے ہسپتال کی عمارت، مختلف شعبہ جات، طبی و انتظامی سہولیات، دستیاب وسائل، عملے کی ضروریات، طبی آلات اور دیگر بنیادی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے ہسپتال کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے درکار افرادی قوت، طبی آلات، بجٹ اور دیگر ضروری وسائل سے متعلق امور پر بھی غور کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صحت کے شعبے میں پالیسی کا بنیادی محور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی، سرکاری مراکز صحت کو فعال بنانا، بنیادی صحت کے نظام کو مستحکم کرنا اور شہریوں کو علاج معالجے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنے کی ضرورت کم کرنا ہے۔ اسی وژن کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں صحت کے مراکز کی فعالیت، سہولیات کی بہتری اور عوام کو مقامی سطح پر طبی خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔محکمہ صحت کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جیوانی میں صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جیوانی اور گردونواح کے عوام کو بروقت اور معیاری علاج معالجے کی سہولیات مقامی سطح پر میسر آسکیں۔حکام کے مطابق آر ایچ سی جیوانی کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے طور پر اپ گریڈ کرنا علاقے میں صحت عامہ کی سہولیات کے استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے مقامی آبادی کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی، بنیادی و ضروری علاج تک رسائی اور صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
خبرنامہ نمبر7981/2026
قلات :بلوچستان کے تاریخی شہر قلات میں چار روزہ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر چار روزہ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، پولیو فوکل پرسن وحید بلوچ، عبدالفتاح دہوار۔ٹی ایس اے ڈبلیو ایچ او قلات عمیر احمد، ٹکری عبدالمالک اور پی پی ایچ آئی کے اسسٹنٹ غلام فاروق نے بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور فنگر مارکنگ کی۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی نے ڈپٹی کمشنر قلات کو چار روزہ پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو مہم 21 ستمبر 2026 سے شروع ہو کر 24 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران ضلع قلات کی 19 یونین کونسلز میں پانچ سال تک کی عمر کے 40,269 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ ایریا سپروائزرز پولیو ٹیموں کی مؤثر نگرانی کریں اور مہم کے دوران کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے والدین، سیاسی و سماجی کارکنان، علماء کرام، شعراء، ادباء اور صحافی برادری اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور بنیادی مقصد ہے۔
خبرنامہ نمبر7982/2026
تربت 19 ستمبر :جامعہ تربت کی الحاق کمیٹی کا نواں اجلاس فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور (تمغہ امتیاز) کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملحقہ ڈگری کالجوں میں نئے تعلیمی پروگرامز کے اجراء، نصاب و تدریسی نظام اور امتحانات کے طریقہ کار سمیت مختلف تعلیمی امور کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالصبور نے واضح کیا کہ ملحقہ کالجوں میں تعلیمی معیارکوبرقراررکھنا جامعہ تربت کی اولین ترجیح ہے اور ایچ ای سی فریم ورک کے مطابق کوالٹی ایشورینس اور تعلیمی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ان اہداف کے حصول کے لئے اجلاس نے قابل اساتذہ، جدید تدریسی طریقہ کار، عصری نصاب اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کے علاوہ ملحقہ کالجوں، صوبائی محکمہ تعلیم اور جامعہ تربت کی انتظامیہ کے درمیان موثر ورکنگ ریلیشن شپ اور باہمی رابطہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے الحاق کمیٹی کے اجلاسوں کی بروقت انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملحقہ کالجوں میں جدید ٹیکنالوجی اور کوالٹی ایشورینس کے فروغ کے لئے رہنمائی فراہم کرنا یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2030 کا اہم حصہ ہے، جس کی تکمیل کے لیے الحاق کمیٹی، کوالٹی انہانسمنٹ سیل اور شعبہ امتحانات ایچ ای سی فریم ورک کے مطابق مسلسل کوشاں ہیں۔اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، رجسٹرار گنگزار بلوچ، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر عبدالماجد ناصر، ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر ریاض احمد، ڈائریکٹر گریجویٹ اسٹڈیز ڈاکٹر وسیم برکت، اور ڈپٹی رجسٹرار شاہد خالد نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر7983/2026
کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کیلئے منظورشدہ پراجیکٹ میں شفافیت مالی نظم وضبط کیتحت پراجیکٹ کی کامیابی کو یقینی بنایاجائیگایہ بات انہوں نے لیڈاکانفرنس ہال میں نیشنل رول سپورٹ پروگرام کی جانب سے دیگء بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہا کہ 2022کے سیلاب میں جن متاثرین کے گھرسیلاب کی نذر ہوئے انکے گھروں کی بحالی پراجیکٹ میں کسی بھی سطح پر کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی گڈگوررننس کے حوالیسے وزیراعلی سرفرازبگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان کا وژن واضح ہے ڈسٹرکٹ منیجر این آرایس پی جہانگیر بلوچ نیکمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے 18815 سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لئیمستند فہرستیں فراہم کی گئیں پہلے مرحلے میں فیز ون میں 6200 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی گء ہیلسبیلہ میں منصوبے کے تحت ابتک 3300سنگل کمروں کے گھر تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ آواران میں منظور شدہ 527ہاؤسز میں 300سنگل کمروں کے گھر تعمیرکئے گئے ہیں انہوں نے بتایا کہ این اؓرایس پی2225کمیونٹی بیس آرگنائزیشن کے اشتراک سے ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں کام کررہی ہے 22یوسیز میں 21وومن ریسورس سینٹر قائم کئے گئے ہیں لسبیلہ ڈویژن میں کمیونٹی انسٹی ٹیوشن پلاننگ اینڈکیپسٹی بلڈنگ پرنیشنل رورل سپورٹ پروگرام کام کررہی ہے بریفنگ میں بتایا گیا کہ گرانٹ این ایڈ کے تحت پست معیارزندگی گزارنے والے 6730 خاندانوں کو مال مویشی فراہمی کیلئے مالی امداد دی گ?ئی ہیکمشنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بزنس آئیڈیازکیتحت 1100خواتین کو ہنرمندبنانے کیلئے حکومت بلوچستان بی ٹیوٹاکے توسط سے zebtic میں اسکل ڈیولپمنٹ کی ٹریننگ دی گء ہیجوہنرمندہوکراہنی خاندانوں کی معاشی کفالت کررہی ہیں ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر نے بتایا کہ این آر ایس پی 534 ,کمیونٹی واٹرسپلاء اسکیمات کی سولرا?زیشن پر کمیونٹی کے تعاون سے کام کررہی ہے22یونین کونسلوں میں 211 ویلیج ڈیولپمنٹ منصوبے پلان کئے گئے ہیں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی کوآرڈینیشن سے آء سی سی ایم پراجیکٹ کیتحت لسبیلہ ڈویژن کے پہاڑی ایریاز کے دس یوسیز کو منتخب کیاگیا ہیجہاں ہیلتھ سیکٹرمیں لوگوں کوسرکاری مراکزصحت سے رساء میں مشکلات درپیش تھیں بریفنگ میں بتایا گیاتمام بی ایچ یوزمراکز صحت کوملیریااسکریننگ کٹس اورادویات ضروریات کی بنیاد پر مفت فراہم کی جاتی ہیں ڈسٹرکٹ منیجر نیشنل رورل سپورٹ پروگرام لسبیلہ ریجن نے ملٹی میڈیا بریفنگ میں مختلف پراجیکٹس پر پیشرفت سے متعلق کمشنر کوبریفنگ دی۔
خبرنامہ نمبر7984/2026
گوادر19 ستمبر : محکمہ صحت کے چیف پلاننگ آفیسر نوید احمد رئیسانی اور سیکشن آفیسر شئے مرید بلوچ نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل میں قائم ہیلتھ کئر سنٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طالبات سے ملاقات کی، مختلف امور پر سوال و جواب کیے اور ہیلتھ کئر سنٹر کی سرگرمیوں اور جاری تربیتی پروگرام کا جائزہ لیا محکمہ صحت کے افسران نے بتایا کہ ہیلتھ کئر سنٹر کے تربیتی پروگرام کا پہلا بیچ اپنی تربیت مکمل کرچکا ہے، جو طالبات کو صحت کے شعبے میں بنیادی عملی مہارتیں اور مستقبل میں پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے محکمہ صحت کے حکام نے ہیلتھ کئر سنٹر کے اقدامات کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تربیت مکمل کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی طالبات کو پالیسی کے مطابق نرسنگ ٹیچنگ ہسپتال میں داخلے اور مزید پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کیا جائے گا اس موقع پر ہیڈ مسٹریس بلقیس سلیمان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل میں یہ پروگرام محکمہ تعلیم گوادر اور یونیسیف کے اشتراک سے جاری ہے، جس کے تحت طالبات کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صحت اور بنیادی طبی مہارتوں سے متعلق عملی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے اسکول کے ہیڈ مسٹریس نے محکمہ صحت کے افسران کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے طالبات کے لیے نرسنگ کے شعبے میں مزید تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے کی یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا۔
خبرنامہ نمبر7985/2026
سر بندن 19 ستمبر : ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران پروفیسر برکت اسماعیل نے گورنمنٹ گرلز انٹر کالج سربندن، کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کالج کے تدریسی و انتظامی امور، اساتذہ و طالبات کی حاضری، تعلیمی سرگرمیوں، کلاس رومز اور طالبات کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کالج کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعلیمی ماحول اور تدریسی عمل سے متعلق معلومات حاصل کیں انہوں نے کالج کے اساتذہ اور طالبات سے ملاقات کی اور ان کے مسائل، تجاویز اور تعلیمی ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے اساتذہ کی تعلیمی خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی، باقاعدہ حاضری اور سازگار تعلیمی ماحول یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تدریسی معیار میں مزید بہتری، تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھنے پر زور دیااس موقع پر کالج کے تدریسی و غیر تدریسی عملے نے ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کو کالج کی مجموعی کارکردگی، جاری تعلیمی سرگرمیوں اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ پروفیسر برکت اسماعیل نے یقین دلایا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری اور طالبات کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ امور کو ترجیحی بنیادوں پر اجاگر کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7986/2026
لسبیلہ :ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) لاکھڑا کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو کام کے معیار کو بہتر بنانے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہسپتال میں موجود ادویات کے اسٹاک، صفائی ستھرائی کے انتظامات کابھی معائنہ کیا۔سراج احمد بلوچ نے ہسپتال کے حاضری رجسٹر کو چیک کیا اور عملے کی حاضری کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے اوقات کار کی سختی سے پابندی کریں اور ڈیوٹی پر غیر حاضر رہنے والے عناصر کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے، اور صحت کے شعبے میں غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر7987/2026
گوادر19 ستمبر : گوادر میں آؤٹ آف اسکول چلڈرن پروگرام کے تحت ایل سی سینٹر میں سالانہ رزلٹ ڈے کا انعقاد کیا گیا، جس میں نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں میں انعامات اور سرٹیفکیٹس جبکہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے ۔تقریب کے مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے بچوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، دل لگا کر پڑھیں، محنت و لگن کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے والدین، گوادر اور ملک کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بچے مستقبل میں گوادر کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ بچوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بچوں کو اساتذہ کی رہنمائی سے بھرپور استفادہ کرنے اور اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی سالانہ رزلٹ ڈے کے موقع پر بچوں نے ملی نغمے، نعت رسول مقبول ﷺ اور مختلف موضوعات پر تقاریر پیش کیں، جبکہ مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنی صلاحیتوں، اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جنہیں شرکاء نے سراہا۔تقریب میں نمایاں تعلیمی کارکردگی دکھانے والے بچوں میں مختلف انعامات اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جبکہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو نقد انعامات سے بھی نوازا گیا۔ بچوں کو مزید محنت، مستقل مزاجی اور تعلیمی سفر جاری رکھنے کی ترغیب دی گئی رکن صوبائی اسمبلی نے گوادر میں HHRD کی جانب سے جاری تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ بالخصوص یتیم اور ضرورت مند بچوں کی تعلیم، کفالت اور معاونت کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے HHRD کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بچوں کی تعلیم، تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے ایسی سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا تقریب میں بچوں، والدین، اساتذہ نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر7988/2026
سربندن 17 دسمبر : رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ طالبات تعلیم، محنت اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور اساتذہ کی رہنمائی سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے مستقبل میں اپنے علاقے، صوبے اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ محنت، خلوص اور احساس ذمہ داری کے ساتھ طالبات کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ گرلز انٹر کالج سربندن میں طالبات کے اعزاز میں منعقدہ پروقار استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طالبات کے لیے ایک ہفتے کے اندر کمپیوٹرز فراہم کرنے، یونیفارم کے لیے نقد معاونت دینے اور کتب کی فراہمی کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا اعلان بھی کیا رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ دور افتادہ علاقوں کی طالبات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں کو درکار سہولیات کی فراہمی اور طالبات کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد طالبات نے حمد و نعت پیش کی۔ تقریب کی میزبانی اور مختلف پروگرامز میں طالبات نے بھرپور حصہ لیا، جبکہ طالبات نے تقاریر کے ذریعے تعلیم کی اہمیت، خواتین کی تعلیم اور معاشرے کی ترقی میں تعلیم یافتہ خواتین کے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقع پر طالبات نے سربندن جیسے دور افتادہ علاقے میں گرلز انٹر کالج کے قیام کو بچیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا اور کالج کے قیام، مسائل کے حل اور ضروری سہولیات کی فراہمی میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی دلچسپی اور عملی اقدامات کو سراہا کالج کی پرنسپل نے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی اور دیگر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مختصر عرصے کے دوران کالج کا دو مرتبہ دورہ کرکے طالبات کے مسائل اور ضروریات کا جائزہ لیا اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں پرنسپل نے نے کہا کہ کالج انتظامیہ دستیاب تمام وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے طالبات کو معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی.’
خبرنامہ نمبر7989/2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے بچے کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو ویکسین کے قطرے پلا کر ضلع صحبت پور میں 21 ستمبر سے شروع ہونے والی پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ۔اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران ضلعی پولیو ٹیم کے ذمہ داران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور ناقابلِ علاج مرض ہے تاہم بروقت اور مکمل ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے انہوں نے اس موقع پر والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ضلع بھر کے تمام علاقوں دیہی و دور دراز علاقوں اور آبادیوں تک رسائی یقینی بنائی جائے اور کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے انہوں نے فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی ٹیموں کی بروقت روانگی اور گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت والدین اساتذہ علماء کرام اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو ہر بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں کیونکہ بچوں کا محفوظ اور صحت مند مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اس لیے انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی
خبرنامہ نمبر7990/2026
بارکھان؍رکھنی، 19 ستمبر :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ترقیاتی وژن کے تحت کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی نے رکھنی میں زیرِ تعمیر ماڈل بازار، عدالت روڈ، مین روڈ سے صمد خان گلی اور بائی پاس سمیت مختلف مقامات کا دورہ کرکے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر عبدالباسط بزدار، ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید کاکڑ، سپرنٹنڈنگ انجینئر مواصلات و تعمیرات محمد رزاق، پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد ظفر کھوسہ، ایکسئن بی اینڈ آر فضل محمد زرکون، اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تعمیراتی کام مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور سڑکوں، نکاسی آب اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے۔بعدازاں کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن نے زیرِ تعمیر رکھنی تا بارکھان روڈ کا بھی معائنہ کیا۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد ظفر کھوسہ نے منصوبے کی مجموعی پیش رفت، جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور تکمیل کے مقررہ اہداف کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
خبرنامہ نمبر7991/2026
لسبیلہ :ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ نے گورنمنٹ بوائز ہاء اسکول لاکھڑا کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے اسکول میں تدریسی عمل، حاضری اور تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اسکول پہنچ کر حاضری رجسٹر کا معائنہ کیا اور عملے کی حاضری چیک کی اور مختلف کلاس رومز کا دورہ کیا اور طلباء کے ساتھ دوستانہ ماحول میں بات چیت کی اور سولات کئے۔اس موقع پر طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سراج احمد بلوچ نے ہدایت کی کہ وہ اپنی تمام تر توجہ صرف اور صرف حصولِ تعلیم پر مرکوز رکھیں تاکہ مستقبل میں علاقے اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے BSDI کے تحت اسکول میں جاری نئے امتحانی ہال اور کمروں کی تعمیر و مرمت کے کام کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کام کے معیار کو بہتر بنانے اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، تاکہ طلباء کو جلد از جلد بہتر تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ گرلز اسکول لاکھڑا کا بھی دورہ کیا۔
خبرنامہ نمبر7992/2026
نصیراباد:کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم فیز ٹو کی مین پائپ لائن اٹھارہ انچ ڈایہ کو رات کی تاریکی میں ایکسی ویٹر کے ذریعے توڑ کر غیر قانونی کاشتکاری کرنے پر محکمہ پی ایچ ای نے پولیس کی مدد سے گرینڈ اپریشن کرتے ہوے درجنوں واٹر کنکشن کاٹ دیے گئے غیر قانونی واٹر کنیکشن لگانے پائپ لائن کو نقصان پہنچانے اور زرعی ابادی و کاشتکاری کرنے پر چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا ڈیزل انجن مشین ڈی واٹریننگ موٹر مشنری ضبط مقدمات درج کروانے کے لیے پولیس کو مراسلے ارسال کردیے گئے غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاے گا ایگزیکٹو انجینئر کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ذاکر حسین جمالی جونیئر ا نجینئر محمد ایوب بھٹو و پی ایچ ای کے عملے اور پولیس کی مدد سے ڈیرہ مراد جمالی ربیع کینال نوتال ودیگر ایریاز میں مین پائپ لائن میں غیر قانونی کنکشن لگانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوے درجنوں وااٹر کنکشن کاٹ کر سیل کر دئے گئے ہیں مین پائپ لائن سے تین انچ دو انچ اور ایک انچ ڈایہ کے غیر قانونی واٹر کنکشن لگا کر ابادی و کاشتکاری کی جارہی تھی اس سلسلے میں چار افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے غیر قانونی کاشتکاری میں استعمال ہونے والی مشنری کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لیکر تھانہ منتقل کردیا گیا ایگزیکٹو انجینئر کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم ذاکر حسین جمالی نے بتایا کہ ربی کینال ودیگر ایریاز میں آے روز پائپ لائن کو توڑ دیتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر پانیضائع ہوتا ہے پانیضائع ہونے کی وجہ سے نوتال لانڈھی بختیاراباد بھاگ ودیگر علاقوں کو پانی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی انہوں نے بتایا کہ کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم سے تین اضلاع نصیرآباد سبی اور کچھی کے علاقوں کو پانی کی فراہمی ہورہی ہے انہون نے کہا پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو کسی صورتحال برداشت نہیں کرینگے پانی کی بلا تعطل فراہمی حال جاری رکھیں گے انہوں نے کہا پایپ لائن کو نقصان پہنچا نے اور غیر قانونی واٹر کنکشن لگانے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا عمل جاری رہے گا عوام سے اپیل ہے کہ وہ پائپ لائن کو توڑنے اور غیر قانونی کنکشن لگانے سے اجتناب کریں۔
خبرنامہ نمبر7993/2026
لسبیلہ 19ستمبر: کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے سوشل میڈیا کی وائرل نیوزکانوٹس لیکر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن کیدفتر سے جاری کردہ ہینڈآؤٹ کے مطابق کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے حب کے صنعتی یونٹس دورے کے موقع پرسپر پیپرملز ودیگرکمپنیز کی جانب سیانوائرمنٹل قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر سیل کئیگئیتھیکمشنر آفس سے جاری ہینڈآؤٹ کے مطابق محکمہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے انتؑظامیہ کو اطلاح دیے بغیردوفیکٹریزکی سیل کھولنے کے معاملے کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہیمتعلقہ محکمے کے ذمہ ذاران سیمعاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
خبرنامہ نمبر7994/2026
اورماڑہ 19 ستمبر :سسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت کا اورماڑہ کے دورافتادہ علاقوں بسول اور ہُڈ کا اچانک دورہ کیا جہاں پر انہوں نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکولز اور بنیادی مراکز صحت میں حاضری، سہولیات اور سروس ڈیلیوری کا موقع پر جائزہ لیا گیا اسسٹنٹ کمشنر نے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول بسول اور ہُڈ میں اساتذہ و طلبہ کی حاضری، تدریسی عمل، تعلیمی ماحول، عمارتوں کی حالت، صفائی ستھرائی اور بنیادی سہولیات کا معائنہ کیا، جبکہ بنیادی مراکز صحت میں طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، صفائی اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور عوامی خدمات کے معیار میں بہتری اور بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں اور واضح کیا کہ سرکاری اداروں میں دستیاب وسائل کو عوامی مفاد میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے واضح رہے کہ بسول اور ہُڈ اورماڑہ کے دورافتادہ علاقے ہیں، جہاں سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی تعلیمی و طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔
خبرنامہ نمبر7995/2026
سوراب : ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر مہرآباد محمد طحہ کی زیر صدارت سب ڈویژن مہرآباد کے عوامی و انتظامی امور کے حوالے سے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تحصیلدار سوراب محمود احمد کرد، نائب تحصیلدار ایوب حسن محمد حسنی، پی ایس ٹو اے ڈی سی مشتاق احمد گرگ، پی ایس ٹو اے سی محمد فضل لہڑی، معزز علاقائی ذمہ داران اور دیگر نے شرکت کی علاقائی ذمہ داران نے بجلی، پانی، سڑکیں، اسکولوں، نیٹ ورک سمیت دیگر اہم عوامی مسائل پیش کیے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ ڈپٹی کمشنر سوراب کی سربراہی میں متعلقہ محکموں کے تعاون سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7996/2026
گوادر19 ستمبر : رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی زیرِ صدارت گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول گوادر میں اسکولز کلسٹر ہیڈز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع گوادر کے تعلیمی امور، کلسٹر بجٹ کے شفاف و مساوی استعمال، کنٹریکٹ اساتذہ کی ایکسٹینشن، ڈراپ آؤٹ پریونشن، تعلیمی مواد کی تقسیم اور اسکولوں کو درپیش مسائل و چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں ضلعی ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن وہاب مجید، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن زراتون، ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر عادل نودیزی، ڈسٹرکٹ ٹریننگ منیجر صقر ناصر، چاروں تحصیلوں کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، محکمہ تعلیم کے افسران اور مختلف کلسٹرز کے ہیڈ ٹیچرز نے شرکت کی اجلاس میں کلسٹر ہیڈز نے بتایا کہ کلسٹر بجٹ تمام فیڈنگ اسکولز میں مساوی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ حالیہ آڈٹ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مالی امور میں شفافیت اور ضابطوں کی پابندی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔کنٹریکٹ اساتذہ کی 18 ماہ کی سروس مکمل ہونے کے بعد دوبارہ تعیناتی کو تدریسی عمل کے تسلسل کے لیے اہم قرار دیا گیا، جبکہ ڈراپ آؤٹ کی روک تھام کے لیے طلبہ کی حاضری کی نگرانی، والدین سے رابطے اور مسلسل غیر حاضر طلبہ کو دوبارہ اسکول لانے کے اقدامات پر زور دیا گیا۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مختلف کلسٹر اسکولز میں ڈی آر آر کٹس، والدین اساتذہ اسکول انتظامی کمیٹی بکس، چیمپئن کلب بکس اور ڈراپ آؤٹ پریونشن کیس مینجمنٹ رجسٹرز بھی تقسیم کیے رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ گوادر میں تعلیم کے شعبے کو درپیش مسائل اور چیلنجز اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان کے حل کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے تعلیمی معیار کی بہتری، مالی و انتظامی امور میں شفافیت اور ڈراپ آؤٹ کی روک تھام کے لیے محکمہ تعلیم اور کلسٹر ہیڈز کے باہمی تعاون کو ضروری قرار دیا.
خبرنامہ نمبر7987/2026
لورالائی: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں 21 ستمبر سے 24 ستمبر 2026 تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران، پولیو ٹیموں کے نمائندگان اور متعلقہ حکام بھی موجود تھیافتتاح کے موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع لورالائی میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران تقریباً 65 ہزار 500 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے ٹیموں کو متحرک کیا گیا ہے، جبکہ مہم کی مؤثر نگرانی اور کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور مستقل معذوری کا باعث بننے والی بیماری ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ والدین اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران لازمی طور پر پولیو کے قطرے پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مہم کے دوران ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ ایسے بچے جو سفر کے دوران ہوں یا اپنے گھروں پر موجود نہ ہوں، انہیں بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اس سلسلے میں کوئٹہ روڈ، ڈی جی خان روڈ اور سنجاوی روڈ پر تین اہم ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں سفر کرنے والے خاندانوں کے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات ہوں گی تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران مقررہ اہداف کے حصول کے ساتھ ساتھ ٹیموں کی حاضری، بچوں کی کوریج، ویکسین کے مناسب استعمال اور روزانہ کی بنیاد پر مہم کی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ڈی ایچ او لورالائی ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ والدین، اساتذہ، علماء کرام، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور میڈیا سمیت معاشرے کے تمام طبقات پولیو کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، کیونکہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانا ہی صحت مند اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیحکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع لورالائی میں انسدادِ پولیو مہم کو مؤثر، منظم اور کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7988/2026
شیرانی 19ستمبر :ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے ضلع شیرانی میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے افسران، پولیو ٹیموں کے ذمہ داران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھیڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور معذوری کا باعث بننے والی بیماری ہے، جس کے مکمل خاتمے کے لیے ہر مہم کو کامیاب بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ ضلع شیرانی میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی، جبکہ مسافر بچوں کی ویکسینیشن کے لیے اہم مقامات پر خصوصی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مہم کی مؤثر نگرانی، ٹیموں کی حاضری اور بچوں کی مکمل کوریج پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، والدین، قبائلی عمائدین، علماء کرام اور سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع شیرانی میں انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7989/2026
ڈھاڈر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے وژن کے مطابق عوامی مفاد میں ترقیاتی عمل کو مقررہ معیار اور شفافیت کے ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے، اس سلسلے میں چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد زون بشیر ناصر نے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے احکامات کی روشنی میں تحصیل ڈھاڈر تحصیل مچھ اور تحصیل سنی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کرکے کام کی پیش رفت اور معیار کا جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ حکام و انجینئرز کی جانب سے چیف انجینئر بشیر ناصر کو جاری ترقیاتی منصوبوں، تعمیراتی کام کی رفتار اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف انجینئر بشیر ناصر نے منصوبوں پر جاری کام کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور کام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔انجینئرز اپنی نگرانی میں ترقیاتی منصوبوں کو معیار کے مطابق مکمل کروائیں تاکہ عوام حکومتی کاوشوں سے دیرپا استعفادہ حاصل کرسکیں۔
خبرنامہ نمبر7990/2026
ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی نگرانی میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز III کے تحت ضلع لورالائی میں سڑکوں کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکنیکی بولیاں مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کھول دی گئیں۔تکنیکی بولیوں کے افتتاح کے موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران، ضلعی ترقیاتی کمیٹی کے نمائندگان اور مختلف فرموں کے بولی دہندگان یا ان کے مجاز نمائندگان موجود تھے۔ بولیوں کو مقررہ طریقہ کار کے تحت کھولا گیا اور ٹینڈرنگ کے عمل کو شفاف انداز میں مکمل کیا گیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ BSDI فیز III کے تحت ضلع لورالائی میں سڑکوں سمیت مختلف شعبوں میں اہم ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن کی تکمیل سے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، آمدورفت میں آسانی اور علاقے کے مواصلاتی نظام میں بہتری آئے گی انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ کے تمام مراحل میں بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) کے قواعد و ضوابط، مقررہ اہلیت کے معیار اور شفافیت کے اصولوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی فرم یا بولی دہندہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے بجائے میرٹ، اہلیت اور مقررہ قانونی طریقہ کار کو مقدم رکھا جائے گاڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تکنیکی و مالی بولیوں کی جانچ پڑتال مقررہ معیار کے مطابق مکمل کی جائے اور تمام مراحل کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے اجرا میں شفافیت اور جوابدہی برقرار رہیانہوں نے مزید کہا کہ BSDI ایک اہم ترقیاتی اقدام ہے، جس کے ذریعے ضلع لورالائی میں سڑکوں، آبنوشی، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ دور دراز علاقوں کو مرکزی شاہراہوں اور شہری مراکز سے بہتر رابطہ بھی حاصل ہوگاانہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور منصوبوں کی تعمیر کے دوران متعلقہ محکموں کی جانب سے نگرانی اور معیار کی جانچ کو یقینی بنایا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق BSDI فیز III کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کا مقصد ضلع کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی رابطوں کو مضبوط بنانا، آمدورفت کو آسان بنانا اور پائیدار انفراسٹرکچر کو فروغ دینا ہے، جس سے مقامی آبادی کو طویل المدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
خبرنامہ نمبر7991/2026
کوئٹہ، 19 ستمبر :وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘‘ایکس’’ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان حقیقی تبدیلی کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جہاں عوام کو معیاری صحت و تعلیم کی سہولیات کے ساتھ باعزت روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔میر ظہور بلیدی نے کہا کہ معیاری صحت اور تعلیم تک عوام کی رسائی اور باوقار روزگار کے مواقع پائیدار ترقی اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال بائیکر میں 100 بڑی سرجریز مکمل ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس پیش رفت کو بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے تناظر میں اجاگر کیا۔میر غلام قادر بگٹی میموریل ہسپتال بائیکر میں ایمرجنسی اور پیچیدہ نوعیت کے کیسز سمیت 100 بڑی سرجریز مکمل ہونے کی اطلاع بھی حالیہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی سے عوام کو علاج کے لیے طویل سفر کی مشکلات سے نجات ملنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہسپتال میں خصوصی طبی و جراحی خدمات کی دستیابی کے حوالے سے بھی متعلقہ اداروں نے پیش رفت رپورٹ کی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صحت، تعلیم اور باعزت روزگار تک رسائی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
خبرنامہ نمبر7992/2026
حب :لسبیلہ ڈویژن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمدشروع کردیا گیا ہے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کے احکامات پر ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سپر پیپرزملز سیل کردی گء ہیڈپٹی ڈائریکٹر انوائرمنٹ طارق رند اورانتظامی افسرنے مشترکہ کارواء میں ہائیٹ پولیس کی نگرانی میں کمپنی کو سیل کرکے انہیں یدایت کی گء ہے کہ لیڈا انڈسٹریل زون کے دیگر صنعتی اداروں کی طرح ای پی اے ایکٹ کے قواعد وضوابط پرعمل کریں۔
خبرنامہ نمبر7993/2026
دکی: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، اسسٹنٹ کمشنر تھل عبدالسلام شاہوانی، آر ٹی ایس ایم ہیڈ محمد جمیل خان، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر، تمام میل و فی میل ایجوکیشن افسران اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ DEG اجلاس کے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ غیر حاضر عملے اور فیلڈ وزٹس سے متعلق رپورٹس کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع میں بند اور غیر مجاز قبضے میں موجود اسکولوں سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں RTSM رپورٹس کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ منظور شدہ، پُر اور خالی ٹیچنگ و نان ٹیچنگ آسامیوں کی تفصیلی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلع دکی کے تمام اسکولوں کو فعال بنانے، تعلیمی معیار میں بہتری لانے اور غیر حاضر عملے کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
خبرنامہ نمبر7994/2026
لورالائی 19ستمبر :ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کا کارروائی کا آغاز، پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک ہفتے تک آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ شہر میں پانی کی فراہمی سے متعلق عوامی شکایات اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے غیر قانونی پانی کنکشنز کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا آغاز کردیا ہیاس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم اور ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں پانی کی موجودہ صورتحال، مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی، شہریوں کی شکایات اور غیر قانونی کنکشنز کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ شہریوں کو پانی کی بہتر، منصفانہ اور بلاامتیاز فراہمی یقینی بنانے کے لیے پانی کے غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ حکام اور فیلڈ ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی کنکشنز کے خلاف خصوصی آپریشن ایک ہفتے تک جاری رہے گا، جس کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی لائنوں اور کنکشنز کا معائنہ کیا جائے گا۔ غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی کے بعد انہیں منقطع کرنے کے ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا ہے کہ صاف پانی شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے اور ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پانی کے غیر قانونی استعمال اور غیر مجاز کنکشنز کے باعث جہاں پانی کی تقسیم کا نظام متاثر ہوتا ہے، وہیں قانونی طریقے سے پانی حاصل کرنے والے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیانہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کارروائی کے دوران میرٹ، شفافیت اور بلاامتیاز قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور پانی کی سپلائی لائنوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ غیر قانونی کنکشنز دوبارہ قائم نہ ہوسکیں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ آپریشن کا مقصد کسی کو بلاوجہ پریشان کرنا نہیں بلکہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور شہریوں کو ان کے جائز حصے کا پانی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران قانونی کنکشن رکھنے والے شہریوں کے حقوق کا بھی مکمل خیال رکھا جائے گاانتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے غیر قانونی کنکشنز سے گریز کریں، پانی کے ضیاع کو روکیں اور شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ساتھ تعاون کریں ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے غیر قانونی اقدامات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر7995/2026
کوئٹہ 19 ستمبر :مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج مورخہ 19 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد پیش ہوئی، جن میں عبدالباقی، جو شہید اے ٹی ایف سپاہی جان داد خان کے بھائی ہیں، اور دیگر گواہان شامل تھے۔ عبدالباقی نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کو ایک ایف آئی آر کی نقل پیش کی، جو سول ہسپتال کوئٹہ میں ان کے شہید بھائی جان داد خان کے جسدِ خاکی کی صفائی کے دوران شہید کے موبائل فون اور دیگر سامان کے چوری؍گم ہونے کے سلسلے میں متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی تھی۔ گواہ عبدالباقی نے تحقیقاتی کمیشن کو اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی فراہم کی۔علاوہ ازیں، 16 ستمبر 2026 کے ایک حکم کی تعمیل میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے صوبہ بلوچستان میں مدارس کے ضابطہ کار (ریگولیشن) کے طریقہ کار سے متعلق ایک جامع رپورٹ جمع کرائی۔ جس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے دینی تعلیم، جو وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ماتحت کام کرتا ہے، بلوچستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق ریکارڈ برقرار رکھنے والا ادارہ ہے، جس سے رجسٹرڈ مدارس کا تصدیق شدہ ریکارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس پر تحقیقاتی کمیشن نے انچارج افسر، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے دینی تعلیم، ریجنل آفس کوئٹہ کو کمیشن کی معاونت کے لیے کارروائی کی اگلی تاریخ پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ وہ اگلی سماعت پر بلوچستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل، مدارس کے ضابطہ کار کے طریقہ کار، بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی مصدقہ ضلع وار تفصیلات، اور اس بابت تصدیق، فنڈنگ اور نگرانی کے طریقہ کار کے بارے میں ایک جامع رپورٹ بھی جمع کرائیں۔مزید براں، حکومت بلوچستان کی جانب سے زیارت واقعہ کے شہداء کے لواحقین کے لیے اعلان کردہ شہداء معاوضہ پیکیج کی فراہمی کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کے استفسار پر شہداء کے لواحقین کی نمائندگی کرنے والے وکیل حبیب اللہ خان ناصر نے بتایا کہ اعلان کردہ معاوضہ پیکیج اب تک کسی بھی خاندان کو فراہم نہیں کیا گیا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے آگاہ کیا کہ تمام شہداء کے خاندانوں کے معاوضے کی ادائیگی کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور اگر اس سلسلے میں کسی کو بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کے حل کے لیے ان کے دفتر سے رجوع کر سکتا ہے۔لہٰذا، تحقیقاتی کمیشن نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت جاری کی کہ وہ زیارت واقعہ کے شہداء کے لواحقین کے لیے اعلان کردہ شہداء پیکیج کی ادائیگی اور نفاذ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے نسیم اللہ اور عزت اللہ، (شہداء کے لواحقین کے نمائندگان)، اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے درمیان رابطہ قائم کروائیں، تاکہ اس معاملے کی فوری پیروی ہو سکے۔
خبرنامہ نمبر7996/2026
کچی 19ستمبر۔صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پروانشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (PTA) بلوچستان وحید شریف عمرانی کی ہدایت پر پی ٹی اے بلوچستان اور ٹریفک پولیس کچی کی جانب سے کچی سبی بائی پاس پر بغیر پرمٹ،غیر قانونی روٹ کے استعمال،اوورلوڈنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئیکارروائی کے دوران مختلف گاڑیوں کے کاغذات، روٹ پرمٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس دوران بغیر پرمٹ اور اوورلوڈنگ کی خلاف ورزی پر 26 گاڑیوں کے چالان کیے گئے، جبکہ متعدد گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کو آئندہ قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کرنے کی وارننگ بھی جاری کی گئی۔کارروائی کے دوران 7 گاڑیوں کو بند کر دیا گیا۔حکام کے مطابق بعض مسافر گاڑیوں، ٹرکوں اور دیگر بھاری گاڑیوں میں مقررہ حد سے زائد لوڈنگ اور غیر قانونی روٹ استمعال کرنابھی پائی گئی، جس پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی ڈی ایس پی ٹریفک پولیس معاذ اللہ، اسسٹنٹ پی ٹی اے جان محمد اور ٹریفک پولیس کچی پر مشتمل ٹیم نے کی۔ ٹیم نے موقع پر گاڑیوں کے روٹ پرمٹ، رجسٹریشن، فٹنس اور دیگر ضروری دستاویزات کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر ٹریفک پولیس اور پی ٹی اے بلوچستان کے حکام نے کہا کہ مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے مالکان و ڈرائیورز ٹریفک قوانین اور ٹرانسپورٹ کے ضوابط کی پابندی کریں، تاکہ سڑکوں پر حادثات کی روک تھام اور مسافروں و دیگر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام نے واضح کیا کہ بغیر روٹ پرمٹ گاڑی چلانے، مقررہ حد سے زائد سامان لادنے اور غیر قانونی روٹ استمعال کرنے سمیت دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی.
خبرنامہ نمبر7997/2026
گوادر: حکومتی ترقیاتی اقدامات کے تحت سب ڈویژن گوادر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے ہفتہ کے روز ایکسین بلڈنگز اور سب انجینئر گوادر کے ہمراہ مختلف ترقیاتی اسکیموں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے کام کی رفتار، فزیکل پیش رفت اور تعمیراتی معیار کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل میں حائل مسائل اور رکاوٹوں پر متعلقہ انجینئرنگ حکام سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر رومیل نعیم جان نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں حائل مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے مؤثر رابطہ کرتے ہوئے ایسے معاملات کو فوری طور پر اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ بجٹ میں امبریلا پراجیکٹس کے تحت مختص ہونے والے فنڈز اور ترقیاتی اسکیموں کا پیشگی جائزہ لیا جائے اور جاری منصوبوں کو ان کی موجودہ صورتحال، اہمیت، ضرورت اور تکمیل کی ترجیحات کے مطابق منظم انداز میں درجہ بندی کیا جائے، تاکہ دستیاب وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ انجینئرنگ عملے کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کی کڑی نگرانی جاری رکھی جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ معیار اور ضابطوں کے مطابق بروقت مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی، شفافیت، فنڈز کے دانشمندانہ استعمال اور بروقت تکمیل کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
خبرنامہ نمبر7998/2026
شیرانی19ستمبر2026 میں بینظیر کسان کارڈ کا افتتاح، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی اور زرعی شعبے کے فروغ پر زورڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے مانی خواہ میں بینظیر کسان کارڈ کا افتتاح کردیا، زراعت کو معیشت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے مانی خواہ میں بینظیر کسان کارڈ کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت امیر شاہ شیرانی، اسسٹنٹ کمشنر گل نواز، اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمان ناصر، زمیندار ایکشن کمیٹی کے چئرمین صبا خان شیرانی سمیت مختلف محکموں کے افسران، زمینداران اور کسانوں نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت اور دیہی آبادی کے روزگار میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ کسان ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو جدید زرعی سہولیات، ضروری وسائل اور بروقت معاونت کی فراہمی سے زرعی پیداوار میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہیانہوں نے بینظیر کسان کارڈ کے اجرا کو کسانوں کی سہولت اور زرعی شعبے کی بہتری کی جانب اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد کسانوں تک زرعی سہولیات اور معاونت کی رسائی کو آسان بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کسانوں کو کسان کارڈ کے طریقہ کار، رجسٹریشن اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق کاشتکار اس سے فائدہ اٹھا سکیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع شیرانی میں زراعت کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط روابط اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں موجود رہیں، کسانوں کے مسائل سنیں اور انہیں درپیش مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت امیر شاہ شیرانی نے ضلع میں زرعی سرگرمیوں، کسانوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور کسان کارڈ کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی رہنمائی اور انہیں جدید زرعی طریقوں سے روشناس کرانے کے لیے محکمہ زراعت کی جانب سے اقدامات جاری ہیں تقریب میں زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندگان اور دیگر شرکاء نے بھی کسانوں کو درپیش مسائل اور زرعی شعبے کی ضروریات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع شیرانی میں زراعت کے فروغ، کسانوں کی سہولت اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے ضلعی انتظامیہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر7999/2026
ٹیچنگ ہسپتال کے شعبہ کارڈیالوجی کے زیرِ اہتمام تقریب، دل کے امراض کی علامات، احتیاطی تدابیر اور فوری طبی امداد کی اہمیت پر روشنی ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کے شعبہ? امراضِ قلب (Department of Cardiology) کے زیرِ اہتمام دل کے امراض سے بچاؤ، ابتدائی علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت طبی امداد کے حوالے سے ایک اہم آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم تھے، جبکہ طبی ماہرین، ہسپتال کے عملے اور دیگر شرکاء نے بھی شرکت کی پروگرام کے دوران ماہرینِ امراضِ قلب نے دل کے دورے کی ابتدائی علامات اور بروقت علاج کی اہمیت کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ آنا، متلی اور دیگر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں تاخیر کیے بغیر طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہیماہرین نے کہا کہ دل کے دورے کی صورت میں مریض کو جتنی جلد ممکن ہو طبی مرکز تک پہنچایا جائے، کیونکہ بروقت تشخیص اور مناسب طبی امداد سے پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہیآگاہی پروگرام میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، جسمانی سرگرمی، تمباکو نوشی سے اجتناب اور صحت مند معمولاتِ زندگی دل کے امراض کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر بتایا گیا کہ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کے شعبہ? کارڈیالوجی میں مریضوں کی تشخیص اور علاج کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی خدمات دستیاب ہیں، جن میں ڈاکٹر زاہد اللہ داد، ڈاکٹر محمد اویس، ڈاکٹر عجب خان خروٹی، ڈاکٹر عطا اللہ کِبزئی، ڈاکٹر نجم الدین اور ڈاکٹر عطا محمد ناصر شامل ہیں مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امراضِ قلب سمیت مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے عوام میں صحت سے متعلق شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے آگاہی پروگرام عوام کو بیماریوں کی ابتدائی علامات پہچاننے، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بروقت طبی امداد حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں انہوں نے ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کے شعبہ? کارڈیالوجی کی جانب سے عوامی آگاہی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں آگاہی، احتیاط اور بروقت علاج کے حوالے سے مزید سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔پروگرام کے اختتام پر شرکاء میں آگاہی مواد بھی تقسیم کیا گیا، جبکہ عوام پر زور دیا گیا کہ دل کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں اور کسی بھی تشویشناک علامت کی صورت میں خود علاج کے بجائے فوری طور پر مستند طبی ماہر سے رجوع کریں۔
خبرنامہ نمبر8000/2026
کچھی 19ستمبر۔صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ اور سیکرٹری پروانشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (PTA) بلوچستان وحید شریف عمرانی کی ہدایت اور ایس ایس پی کچھی غلام مرتضی بھٹو کی زیر نگرانی پی ٹی اے بلوچستان اور ٹریفک پولیس کچھی کی جانب سے کچھی سبی بائی پاس پر بغیر پرمٹ،غیر قانونی روٹ کے استعمال،اوورلوڈنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئیکارروائی کے دوران مختلف گاڑیوں کے کاغذات، روٹ پرمٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس دوران بغیر پرمٹ اور اوورلوڈنگ کی خلاف ورزی پر 26 گاڑیوں کے چالان کیے گئے، جبکہ متعدد گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کو آئندہ قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کرنے کی وارننگ بھی جاری کی گئی۔کارروائی کے دوران 7 گاڑیوں کو بند کر دیا گیا۔حکام کے مطابق بعض مسافر گاڑیوں، ٹرکوں اور دیگر بھاری گاڑیوں میں مقررہ حد سے زائد لوڈنگ اور غیر قانونی روٹ استمعال کرنابھی پائی گئی، جس پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی ڈی ایس پی ٹریفک پولیس معاذ اللہ، اسسٹنٹ پی ٹی اے جان محمد اور ٹریفک پولیس کچی پر مشتمل ٹیم نے کی۔ ٹیم نے موقع پر گاڑیوں کے روٹ پرمٹ، رجسٹریشن، فٹنس اور دیگر ضروری دستاویزات کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر ٹریفک پولیس اور پی ٹی اے بلوچستان کے حکام نے کہا کہ مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے مالکان و ڈرائیورز ٹریفک قوانین اور ٹرانسپورٹ کے ضوابط کی پابندی کریں، تاکہ سڑکوں پر حادثات کی روک تھام اور مسافروں و دیگر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام نے واضح کیا کہ بغیر روٹ پرمٹ گاڑی چلانے، مقررہ حد سے زائد سامان لادنے اور غیر قانونی روٹ استمعال کرنے سمیت دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی.
خبرنامہ نمبر8001/2026
چمن شہر کو صاف، خوبصورت اور سرسبز بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ چمن کی جانب سے 10 روزہ خصوصی صفائی، تزئین و آرائش اور شجرکاری مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کا مقصد شہر کی صفائی ستھرائی، خوبصورتی اور ماحولیاتی ماحول کو مزید بہتر بنانا ہے۔مہم کے تحت شہر کے مختلف علاقوں، اہم شاہراہوں، گلیوں، بازاروں اور دیگر مقامات سے کچرے اور غلاظت کے ڈھیروں کو ہٹانے کے لیے خصوصی صفائی آپریشن جاری ہے۔ اس سلسلے میں ہیوی مشینری، ٹریکٹر ٹرالیوں، ٹرکوں، ڈمپرز اور دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کے ذریعے کچرے کو مختلف مقامات سے اٹھا کر مقررہ مقامات تک منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ شہر کے مختلف حصوں میں صفائی کے ساتھ ساتھ تزئین و آرائش اور شجرکاری کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔آج مہم کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیزاللہ کاکڑ نے شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور جاری صفائی، کچرے کی منتقلی، تزئین و آرائش اور دیگر کاموں کا موقع پر جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو صفائی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے، کچرے کی بروقت منتقلی اور شہر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔اس خصوصی مہم میں ضلعی انتظامیہ چمن، میونسپل کارپوریشن چمن اور ڈسٹرکٹ کونسل باہمی تعاون سے شہر کو صاف ستھرا، خوبصورت اور سرسبز بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق صفائی کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف مقامات کی تزئین و آرائش، شجرکاری اور خوبصورتی کے اقدامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ چمن شہر کو ایک صاف، سرسبز اور خوبصورت شہر کے طور پر مزید بہتر بنایا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صفائی مہم میں بھرپور تعاون کرتے ہوئے کچرا مقررہ مقامات پر ڈالیں، سڑکوں اور گلیوں میں کچرا پھینکنے سے گریز کریں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر8002/2026
گوادر؍پسنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم کی بہتری، معیاری تعلیم کی فراہمی اور ہر بچے کو اسکول تک رسائی یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کے تحت اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پسنی اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول پسنی کا دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کا جائزہ لیا جبکہ مختلف کلاس رومز کا معائنہ کرتے ہوئے تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کلاسز میں طلبہ سے مختلف مضامین اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا۔اس موقع پر طلبہ کی جانب سے سوالات کے جوابات اور تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی پر اسسٹنٹ کمشنر نے ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور حوصلہ افزائی کے طور پر نقد انعامات سے نوازا۔ انہوں نے طلبہ کی بہتر کارکردگی میں اساتذہ کی محنت اور کاوشوں کو بھی سراہا۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی، اساتذہ کی باقاعدہ حاضری اور تدریسی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے مثبت تعلیمی ماحول کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، اسکولوں کی فعالیت، تعلیمی معیار میں بہتری اور بچوں کو تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں کی نگرانی اور مسائل کے بروقت حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی تاکہ حکومتی تعلیمی پالیسیوں کے ثمرات طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔
خبرنامہ نمبر8003/2026
قلعہ عبداللہ: وزیراعظم پاکستان کے عوام دوست اعلان کی روشنی میں اور ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی خصوصی ہدایات پر ضلع قلعہ عبداللہ کے عوام کو سہولت اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم (سستا پٹرول) کی رجسٹریشن اور رہنمائی کے سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر آفس قلعہ عبداللہ، ایٹ جنگل پیرعلیزئی اور گلستان میں خصوصی فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں۔ان ڈیسکوں پر شہریوں کو پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت کے حصول کے لیے رجسٹریشن، ٹوکن اور ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی، جبکہ رجسٹریشن کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے ازالے کے لیے بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو حکومتی ریلیف اسکیموں سے مستفید کرنے اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی رہنمائی یا رجسٹریشن میں معاونت کے لیے قائم کردہ فیسیلیٹیشن ڈیسک سے استفادہ کریں۔
خبرنامہ نمبر8004/2026
کوئٹہ 19 ستمبر: ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر بلوچستان میر سیف اللہ خان کھیتران کی خصوصی ہدایات پر کوئٹہ شہر کو پیشہ ورانہ گداگری سے پاک کرنے کے لیے سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کوئٹہ غربی کی جانب سے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن اور کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر میر سیف اللہ خان کھیتران نے متعلقہ افسران و عملے کو ہدایت کی ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں، اہم شاہراہوں، چوکوں اور عوامی مقامات پر پیشہ ورانہ گداگری کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور منظم بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔ان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں 19 ستمبر کو جوائنٹ روڈ، ہزارہ ٹاؤن، بروری روڈ سے گولیمار چوک سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران 11 پیشہ ور گداگروں کو گرفتار کیا گیا، جن میں 5 خواتین اور 6 مرد شامل ہیں۔سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں مزید کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کوئٹہ غربی کے تعاون سے مذکورہ علاقوں میں پیشہ ورانہ گداگری کے خلاف اب تک 6 کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ آئندہ بھی مختلف علاقوں میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر میر سیف اللہ خان کھیتران نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے کے لیے فیلڈ کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے، شہریوں اور بالخصوص بچوں اور خواتین کو گداگری کے منظم نیٹ ورک سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کارروائیوں کے دوران قانون اور ضابطے کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کو پیشہ ورانہ گداگری سے پاک رکھنے کے لیے سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ اداروں کے تعاون سے اس مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے تک کارروائیوں کا یہ سلسلہ مختلف علاقوں میں تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا، تاکہ کوئٹہ شہر کو صاف، منظم، پُرامن اور شہریوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر8005/2026
گوادر 19 ستمبر :محکمہ سماجی بہبود گوادر نے ضلع میں کام کرنے والی 25 غیر سرکاری تنظیموں، فلاحی اداروں اور سوسائٹیز کو معلوماتی پرفارما جمع نہ کرانے پر حتمی شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تین روز کی آخری مہلت دے دی۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں مطلوبہ معلومات جمع نہ کرانے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت بغیر کسی مزید نوٹس کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفئر گوادر کی جانب سے 18 ستمبر 2026 کو جاری نوٹس کے مطابق مذکورہ اداروں کو پہلے بھی 7 ستمبر تک معلوماتی پرفارما جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں حتمی شوکاز نوٹس حاصل کرنے والی 25 تنظیموں میں الخدمت فاؤنڈیشن گوادر، پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن گوادر، یو این ڈی پی گوادر، یونیسیف ایجوکیشن گوادر، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈیولپمنٹ (IFAD) گوادر، گوادر ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ سوسائٹی (GEDS)، بلوچستان موٹر اسپورٹس ایسوسی ایشن، بلوچی میوزک پروموٹرز سوسائٹی، گوادر ویمنز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، پیشکان ایجوکیشن کلچر اینڈ سوشل آرگنائزیشن، روزن زالبول سوشل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر، تالوبند گیم کنزرویشن سوسائٹی، ابابگر کلمتی اکیڈمی گوادر، بلدیہ وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی، گوادر سول سوسائٹی، گوہر فاؤنڈیشن، جنز آرٹ اکیڈمی گوادر، لفٹ گوادر ویلفئر آرگنائزیشن، ماہیکان چائلڈ فاؤنڈیشن، پسنی پریس کلب پسنی، ماں جی ڈرگ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر، زاہد ڈرگ سینٹر پسنی، زمیک بلوچستان آرگنائزیشن، فیض رسان ویلفئر آرگنائزیشن اور ہیلپنگ ہینڈز فاؤنڈیشن گوادر شامل ہیں محکمہ سماجی بہبود نے خبردار کیا ہے کہ تین روز میں پرفارما جمع نہ کرانے کی صورت میں بلوچستان چیریٹیز رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) ایکٹ یا دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر8006/2026
قلات :وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلع قلات میں کسانوں کی زرعی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اہم اور خوش آئند اقدامات کاآغازکیاگیااس سلسلے میں محکمہ زراعت (توسیع) کے دفتر میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں مقامی زمینداروں میں مکئی کے چارے کے تصدیق شدہ، اعلیٰ قسم کے چارے کے بیج مفت تقسیم کیے گئے۔ یہ امدادی اقدام “ریوائیول آف بلوچستان آبی وسائل پروگرام (RBWRP)” (پروجیکٹ کوڈ: GCP؍PAK؍159؍EC) کے تحت ممکن ہوا، جسے یورپی یونین (EU) نے مالی اعانت فراہم کی اور اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں قلات کے مختلف علاقوں سے زمینداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ محکمہ زراعت کے سینئر افسران بیج تقسیم کرنے اور کسانوں کی رہنمائی کے لیے موجود تھے: ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر واٹر مینجمنٹ شکیل احمد زہری ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیععبدالناصر مینگلاور ڈائریکٹر آئل اینڈ سیڈ محمد یحییٰ بلوچ و دیگرعہدیداروں نے کسانوں میں بیج کے تھیلے تقسیم کیے اور ان کے ساتھ ایک تفصیلی بات چیت کی۔ واضح رہے کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسانوں کو معیاری بیج فراہم کرنا، پانی کے تحفظ کو فروغ دینا اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ زمینداروں کو مالی استحکام حاصل کرنے میں مدد مل سکے کسانوں نے تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بیج اور دیگر زرعی سامان بروقت مل جائے تو وہ مناسب موسم میں کاشت کر سکتے ہیں اور فصل کی بہترین پیداوار حاصل کر سکتے ہیں ڈپٹی ڈائریکٹرایگریکلچر نے زمینداروں کی طرف سے اٹھائے گئے تمام سوالات اور خدشات کے جوابات دیے اور انہیں یقین دلایا کہ بیج کی بروقت فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر تمام شریک زمینداروں نے وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی یورپی یونین (EU)، FAO اور محکمہ زراعت کے حکام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو قلات کے کسانوں کے لیے ایک شاندار تحفہ قرار دیا۔





