خبر نامہ نمبر9540/2026
2نومبرکوئٹہ۔ ڈائریکٹوریٹ آف کلچر حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام نامور بلوچی شاعر، ادیب اور اسکالر سید ظہور شاہ ہاشمی کی صد سالہ تقریبات (Centenary Celebration) کے سلسلے میں نوری نصیر خان کلچر کمپلیکس، اسپینی روڈ، کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے کی۔ اس روح پرور تقریب میں “مکالمہ اور شعر و شاعری کا دیوان” کے عنوان کے تحت خصوصی نشستیں منعقد کی گئیں۔ تقریب میں ڈائریکٹر کلچر ڈاکٹر داود ترین، خانہ فرہنگ ایران کے ڈی جی، اور رکنِ صوبائی اسمبلی (MPA) میڈم کلثوم نواز سمیت صوبے کی نامور ادبی شخصیات، شعراء، محققین اور شائقینِ ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے سید ظہور شاہ ہاشمی کی بلوچی زبان، لغت نگاری اور ادب کے لیے دی گئی گراں قدر خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے ادبی ورثے کو زندہ رکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور شرکاء نے اس کامیاب ادبی نشست کے انعقاد پر ڈائریکٹوریٹ آف کلچر، حکومتِ بلوچستان کے اس اقدام کو خوب سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
(پریس ریلیز)
2 نومبرکوئٹہ۔ (پریس ریلیز) بلوچستان سول سروس اکیڈمی (BCSA) نے ‘اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان’ کے اشتراک سے مختلف صوبائی محکموں کے سرکاری افسران کے لیے ڈیجیٹل گورننس کے عنوان سے پیر کے روز تین روزہ تربیتی کورس کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کورس کا مقصد ‘ڈیجیٹل گورننس’ اور سرکاری امور میں ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (مصنوعی ذہانت) کے استعمال کے ذریعے عوام کو بروقت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ٹریننگ کورس کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں، ڈاکٹر ربابہ بلیدی، بلوچستان سول سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل اور جناب ڈاکٹر حفیظ جمالی نے مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کیا۔ شرکاء سے اپنے استقبالیہ خطاب میں، ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے بلوچستان میں گورننس کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، “بطور حکومت، ہم تمام سرکاری امور کو ڈیجیٹلائز کر کے بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس ورکشاپ میں آپ جو مہارتیں سیکھیں گے وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی، جو ہمارے افسران کو بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔” انہوں نے سرکاری افسران کے لیے جدید کورسز کے انعقاد پر بی سی ایس اے (BCSA) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے حال ہی ای-خدمت’ (E-Khidmat) سروس کا آغاز کیا گیا ہے تو ہم بلوچستان میں کیوں ایسی سروسز شروع نہیں کر سکتے۔ عوام اور حکومت کے درمیان موجود خلیج کو دور کرنے کےلئے ہمیں بھی ایسی سروسز کا آغاز کرنا ہو گا جس کے ذریعے عوام کے مسائل کا حل بروقت ممکن ہو سکے،جس کے لئے تمام سرکاری محکموں کے امور کو ڈیجیتل اور سرکاری امور میں تیزی لانے کے لیے ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (AI) کا استعمال شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا، “یہ صدی ‘ڈیٹا’ کی صدی ہے؛ جب تک ہم نئی چیزیں نہیں سیکھیں گے، تب تک ہم معاشرے میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔” بی سی ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل، جناب ڈاکٹر حفیظ جمالی نے کہا کہ بلوچستان سول سروس اکیڈمی، شرکاء کے لیے معیاری تربیتی سیشن کے انعقاد میں تعاون کرنے پر ‘اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان’ کی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “یہ تربیتی کورس بی سی ایس اے اور شرکاءکو ‘ڈیجیٹل گورننس’ کے طریقہ کار، روزمرہ سرکاری امور میں ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال اور ‘ری ڈیزائن تھنکنگ کو اپنے سرکاری معاملات میں استعمال کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔” مختلف سرکاری محکموں کے 30 شرکاء کے لیے منعقدہ یہ تربیتی کورس 4 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔ اس کورس میں ڈیجیٹل گورننس ٹولز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے متعلق مختلف نشستیں شامل ہوں گی، جن کا مقصد سرکاری امور کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9541/2026
کوہلو02 نومبر ۔ اسسٹنٹ کمشنر سمیع الحق نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہلو میں 2 نومبر سے 5 نومبر تک جاری رہنے والی چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح بچے کو قطرہ پلا کر کردیا ہے اس موقع پر ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر شیر زمان مری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع کوہلو میں جاری چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران 15 یونین کونسلز کے مجموعی طور پر 32 ہزار 517 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 41 ایریا انچارجز کی نگرانی میں 151 ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو ضلع کے دور دراز علاقوں میں گھر گھر جا کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی۔ اس کے علاوہ قومی شاہراہوں پر بھی 15 مخصوص پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ سفر کرنے والے بچوں کو بھی پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جا سکیں۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں۔اس موقع پر ضلعی ناظم صحت کوہلو ڈاکٹر شیر زمان مری اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اصغر مری بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9542/2026
کوئٹہ، 02 نومبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، جس کے ذریعے سرکاری خدمات کی فراہمی میں شفافیت، تیزی اور موثریت لانے کے ساتھ عوامی مشکلات میں کمی اور سرکاری اداروں پر شہریوں کا اعتماد مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور دور دراز آبادیوں پر مشتمل صوبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کا فروغ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے سرکاری خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے، دفتری پیچیدگیوں میں کمی اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں ڈیجیٹل سروس ڈلیوری کے موضوع پر منعقدہ افتتاحی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس محض ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام نہیں بلکہ سرکاری نظام میں اصلاحات، شفافیت، جوابدہی اور عوامی ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی کا ایک جامع طریقہ کار ہے۔ موجودہ دور ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے سرکاری افسران کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید انتظامی مہارتوں، ڈیجیٹل گورننس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے متعلق اپنی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کریں تاکہ سرکاری امور کو زیادہ موثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان سرکاری امور کی ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی خدمات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل سروسز کے فروغ سے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان موجود فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مختلف محکموں کے روایتی طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوگا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ڈیجیٹل سہولیات کی منصوبہ بندی اور فراہمی میں خواتین کی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی جائے تاکہ انہیں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور دیگر بنیادی سرکاری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو اور بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے صوبائی مشیر نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، انتظامی استعداد کار میں اضافے اور جدید طرز حکمرانی کے تقاضوں سے روشناس کرانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی حفیظ جمالی کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ افسران کی تربیت، جدید انتظامی مہارتوں کے فروغ اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق تربیتی سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اکیڈمی مستقبل میں بھی ڈیجیٹل گورننس، جدید ٹیکنالوجی اور موثر عوامی خدمت کے حوالے سے اپنی تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ واضح رہے کہ بلوچستان سول سروسز اکیڈمی نے اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان کے اشتراک سے صوبائی محکموں کے 30 سرکاری افسران کے لیے ڈیجیٹل گورننس کے موضوع پر تین روزہ تربیتی کورس کا آغاز کیا تربیتی پروگرام کا مقصد سرکاری امور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل گورننس ٹولز اور ری ڈیزائن تھنکنگ کے موثر استعمال کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام کو بروقت و معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔ ورکشاپ میں شریک افسران کو جدید ڈیجیٹل طریقہ کار اور سرکاری امور میں ٹیکنالوجی کے عملی استعمال سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ، افسران کی مسلسل تربیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہی عوامی خدمات کے نظام کو موثر بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت بلوچستان اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کے فروغ اور سرکاری اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کے عزم پر قائم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9543/2026
برشور 02 نومبر۔ ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے ضلع میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے،اس موقع پر بچے کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا گیا،تقریب کے بعد انسدادِ پولیو ٹیموں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع برشور کو پولیو سے پاک بنانا ہماری اولین ترجیح ہے،جس کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تمام تر ضروری اور بروقت اقدامات مکمل کر لیے ہیں،فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ورکرز قومی جذبے،محنت اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دیں تاکہ کوئی بھی بچہ عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والی اس مہلک بیماری کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے،انہوں نے واضح کیا کہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ان کی صحت مند زندگی کو یقینی بنانا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے،ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مہم کے دوران دور دراز اور حساس علاقوں کے بچوں تک رسائی کے لیے جامع مائیکرو پلان تیار کیا گیا ہے،جبکہ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کے لیے بھی فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے والدین،علمائے کرام اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم کو کامیاب بنانے اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9544/2026
کوئٹہ، 2 نومبر۔صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کی موثر کارکردگی اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی میں کلریکل اسٹاف کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کلرکس سرکاری نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور دفتری امور کی انجام دہی، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور انتظامی معاملات کو موثر انداز میں آگے بڑھانے میں ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن بلوچستان کے زیر اہتمام منعقدہ حلف برداری کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری ماحولیات نور احمد پرکانی ڈی جی ماحولیات ظہور احمد بلوچ اور آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صوبائی عہدیداران اور ماحولیات یونٹ کی نو منتخب کابینہ کے علاوہ افسران و اہلکاران نے شرکت کی صوبائی مشیر نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تنظیم کی اصل طاقت اس کے اتحاد، نظم و ضبط اور اجتماعی جدوجہد میں مضمر ہوتی ہے۔ امید ہے کہ نومنتخب کابینہ ملازمین کی فلاح و بہبود، جائز مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین عوامی خدمت کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور ذمہ داری کے احساس کو تسلیم کرنا اور انہیں سازگار ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ ملازمین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، محنت اور احساس فرض کے ساتھ ادا کریں تاکہ عوام کو سرکاری اداروں سے بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ صوبائی مشیر نسیم الرحمن ملاخیل نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں اداروں کی بہتری، انتظامی اصلاحات اور عوامی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس میں سرکاری ملازمین کا تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کی نئی قیادت ملازمین کے مسائل کو متعلقہ فورمز پر موثر انداز میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی بہتری اور عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔ تقریب کے آخر میں صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن ملاجیل نے نومنتخب عہدیداران سے ان کے عہدوں کا حلف بھی لیا۔ اس موقع پر نو منتخب صدر نے سپاسنامہ پیش کیا صوبائی مشیر نے سپاسنامہ میں پیش کئے گئے مطالبات میں سے کچھ پر فوری اقدامات کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو موقع پر احکامات جاری کئے باقی ماندہ مطالبات کے حل کے لئے یقین دہانی بھی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9545/2026
کوئٹہ 02نومبر۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ کاروباری نمائش ”ویکسنیٹ (WEXNET)“ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی،جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین کاروباری شخصیات، صنعت کاروں، ہنرمند خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔نمائش میں 100 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے، جن میں خواتین کی تیار کردہ مصنوعات، دستکاری، مقامی ہنر، کاروباری مصنوعات اور مختلف تجارتی شعبوں سے متعلق اشیا کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کو اپنی کاروباری صلاحیتوں کے اظہار، مصنوعات کی تشہیر، تجارتی روابط کے فروغ اور نئی کاروباری راہیں تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔تقریب میں حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کے نمائندگان، متعلقہ محکموں کے افسران، کاروباری شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے نمائش میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کو سراہا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے نمائش کا تفصیلی دورہ کیا اور تمام اسٹالز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مختلف اسٹالز پر موجود خواتین کاروباری شخصیات اور نمائش کنندگان سے ملاقاتیں کیں، ان کی تیار کردہ مصنوعات، کاروباری سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر نے خواتین کی محنت، صلاحیتوں اور کاروباری جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسی نمائشیں خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، کاروبار کو وسعت دینے اور ملکی معیشت میں موثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے نمائش کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہوئے انتظامی امور اور شرکاء کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی معائنہ کیا۔نمائش کے انعقاد کے دوران ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے مسلسل نگرانی اور موثر انتظامی اقدامات یقینی بنائے گئے۔ پروگرام کے تمام تر سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، انتظامی اور دیگر ضروری انتظامات ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مکمل کیے گئے، تاکہ شرکائ، مہمانوں اور نمائش کنندگان کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کی مسلسل نگرانی، متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے باعث پروگرام خوش اسلوبی سے جاری رہا اور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ویکسنیٹ (WEXNET) نمائش خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، مقامی مصنوعات کی تشہیر اور ملکی سطح پر تجارتی روابط کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9546/2026
لورالائی2نومبر ۔ لورالائی ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں صوبائی محتسب بلوچستان کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت صوبائی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر عبدالغفار میاں خیل نے کی۔ کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ، ڈی ایس بی کریم مندوخیل سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور سربراہان نے شرکت کی کھلی کچہری میں لورالائی کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، انجمن تاجران کے عہدیداران، سماجی کارکنان، قبائلی رہنماوں، عمائدین علاقہ، شہریوں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہریوں نے اپنے مسائل اور شکایات براہِ راست صوبائی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر اور متعلقہ سرکاری افسران کے سامنے پیش کیں شہریوں کی جانب سے پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، صحت کی سہولیات کی کمی، سرکاری سکولوں کی بندش، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، بنیادی مراکز صحت (BHQs/BHUs) میں ادویات کی قلت، سڑکوں، صفائی، نکاسی آب اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق متعدد شکایات پیش کی گئیں۔شرکاء نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سرکاری اداروں سے متعلق بعض شکایات کے ازالے میں تاخیر سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔اس موقع پر صوبائی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر عبدالغفار میاں خیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران اور اہلکار عوام کے خادم ہیں، انہیں عوام پر حکمرانی کے بجائے خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا حکومت اور سرکاری اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہےانہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں موصول ہونے والی شکایات کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کے ازالے میں غفلت اور غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی ریجنل ڈائریکٹر نے کہا کہ صوبائی محتسب کا ادارہ عوام کو سرکاری محکموں کی غفلت، نااہلی اور غیر ضروری تاخیر کے خلاف موثر داد رسی فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ شہری بلاخوف اپنی شکایات متعلقہ فورم پر پیش کریں تاکہ قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق ان کا ازالہ یقینی بنایا جا سکے کھلی کچہری کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران نے شہریوں کی جانب سے پیش کی جانے والی شکایات سنیں اور متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی ضروری ہدایات اور یقین دہانیاں بھی کرائیں شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں اور عمائدین نے صوبائی محتسب کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عوامی فورمز کے انعقاد سے شہریوں کو اپنے مسائل اعلیٰ حکام تک براہِ راست پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9547/2026
لورالائی2نومبر۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر شہر میں ٹریفک کی روانی، شہریوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور سرکاری و عوامی راستوں کو تجاوزات سے پاک رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ناجائز تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیااسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کی سربراہی میں ٹریفک پولیس افسر عبدالجبار اور ٹریفک عملہ، میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران دکانوں کے باہر قائم غیرقانونی تجاوزات، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم رکاوٹوں سمیت دیگر ناجائز قبضوں کو ہٹا کر راستے عوام کے لیے بحال کر دیے گئے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر احمد زیب نے دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی۔ دکاندار اپنی دکانوں کا سامان مقررہ حدود کے اندر رکھیں اور عوامی راستوں میں رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کریںانہوں نے کہا کہ ناجائز تجاوزات کے باعث نہ صرف شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ شہر میں ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور اکثر اوقات ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ضلعی انتظامیہ نے تمام دکانداران اور تجاوزات قائم کرنے والے عناصر کو سختی سے متنبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنی تجاوزات ختم کریں اور آئندہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی سے گریز کریں، بصورت دیگر قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ شہر میں ٹریفک کی روانی، صفائی ستھرائی، شہری نظم و ضبط اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف مستقل بنیادوں پر کارروائی جاری رکھی جائے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت میسر آسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9548/2026
کوئٹہ، 2 نومبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے موثر سفارتکاری، بامعنی مکالمے، تنازعات کے پرامن حل اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار خطے میں امن، استحکام اور معاشی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم پائیدار ترقی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص خواتین کی موثر شمولیت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں منعقدہ صوبائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا موضوع ”معرکہ حق کے بعد کے دور میں عالمی ثالثی، تزویراتی سفارتکاری، تنازعات کے حل اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے تناظر میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار“ تھا۔ کانفرنس کا انعقاد انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز (IRCRA) نے پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) کے مالی تعاون اور سینٹر آف ایکسی لینس آن کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم بلوچستان کے اشتراک سے کیا۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ عالمی سطح پر تنازعات، سیاسی کشیدگی اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ عالمی اور علاقائی سطح پر اعتماد سازی، مذاکرات اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعاون کو فروغ دے کر نہ صرف تنازعات کے حل کی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن صرف جنگ یا تنازع کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی ماحول تشکیل دینے کا عمل ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو مساوی حقوق، تحفظ اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔ بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کسی بھی معاشرے کے استحکام کے بنیادی ستون ہیں، جبکہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لیے تعلیم، سماجی شعور اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ امن سازی اور تنازعات کے حل کے عمل میں خواتین کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ خواتین نہ صرف خاندان اور معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، برداشت، کمیونٹی سطح پر مکالمے اور تنازعات کی روک تھام میں بھی موثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اس لیے خواتین کو فیصلہ سازی، سفارتکاری، امن مذاکرات اور معاشی پالیسی سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی اور مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی خودمختاری، تعلیم اور روزگار کے مواقع خواتین کی سماجی حیثیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ معاشرے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بھی بڑھاتے ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کی معاشی شمولیت، ہنرمندی کے فروغ اور کاروباری مواقع تک رسائی کو وسعت دینا جامع اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کانفرنس کے انعقاد کو اہم علمی اور فکری کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز عالمی سفارتکاری، علاقائی سلامتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشی تعاون سے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر کو ایک جگہ جمع کرنے اور قابل عمل تجاویز مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کانفرنس میں ہونے والی علمی گفتگو اور سفارشات پاکستان میں امن، استحکام، سماجی شمولیت اور معاشی ترقی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کریں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9549/2026
دکی2نومبر۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے دکی شہر کے مختلف بازاروں کا دورہ کرتے ہوئے بیکریوں اور تندوروں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، روٹی کے مقررہ سرکاری نرخ، وزن و معیار، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے انتظامات کا جائزہ لیا گیااسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال نے مختلف بیکریوں اور تندوروں میں اشیائے خوردونوش کے معیار، قیمتوں اور صفائی کی صورتحال کا معائنہ کیا اور دکانداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور صاف ستھری اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روٹی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی فروخت مقررہ سرکاری نرخنامے کے مطابق کی جائے اور نرخنامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جائے انہوں نے بیکری اور تندور مالکان کو صفائی کے خصوصی انتظامات کرنے، کھانے پینے کی اشیاءکو ڈھانپ کر رکھنے، صاف پانی کے استعمال اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت اور مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو متنبہ کیا کہ مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے، کم وزن روٹی فروخت کرنے، غیر معیاری اشیاء کی فراہمی یا صفائی کے ناقص انتظامات کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ دکی عوام کو ریلیف فراہم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بازاروں میں پرائس کنٹرول، صفائی ستھرائی اور اشیائے خوردونوش کے معیار کی نگرانی کا سلسلہ مزید موثر بنایا جائے گاانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف مارکیٹوں، بیکریوں، تندوروں اور دیگر کاروباری مراکز کے اچانک معائنے جاری رہیں گے تاکہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد، صفائی کے معیار اور عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکےدکانداروں نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9550/2026
لورالائی2نومبر۔ ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کی عارضی خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیے انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انٹرویوز ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی علی نواز جمالی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئے، جن میں مختلف آسامیوں کے لیے امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، تجربے اور متعلقہ شعبے میں اہلیت کا جائزہ لیا گیاانٹرویو کمیٹی کے دیگر اراکین میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ لورالائی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان شامل تھے، جبکہ سپرنٹنڈنٹ حاجی عصمت اللہ اور بابو داود خان حمزہ زئی نے انٹرویوز کے انتظامی امور اور امیدواروں کی معاونت میں اپنا کردار ادا کیا اس موقع پر ڈیٹا انٹری آپریٹر، ڈینٹل ٹیکنیشن سمیت دیگر عارضی خالی آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز لیے گئے۔ امیدواروں کی اسناد، متعلقہ شعبے میں تجربے اور پیشہ ورانہ قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق انٹرویوز کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر علی نواز جمالی نے کہا کہ عارضی خالی آسامیوں پر بھرتی کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور اہلیت کو بنیادی ترجیح دی جائے گی تاکہ ٹیچنگ ہسپتال میں دستیاب انسانی وسائل کو مزید موثر بنایا جا سکے اور مریضوں کو بہتر طبی و معاون خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان نے کہا کہ ہسپتال میں طبی اور معاون عملے کی دستیابی سے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور مریضوں کو بروقت اور معیاری سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی انتظامیہ کے مطابق انٹرویوز کا سلسلہ آئندہ دو روز تک جاری رہے گا، جس دوران مزید خالی آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کیے جائیں گے۔ متعلقہ کمیٹی تمام امیدواروں کا جائزہ مقررہ معیار اور میرٹ کے مطابق لے گی، جبکہ بھرتی کے عمل کو شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گاضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں طبی سہولیات اور انتظامی استعداد کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے گا تاکہ لورالائی سمیت ڈویژن کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9551/2026
اسلام آباد/ کوئٹہ 02 نومبر ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ کے دو بنچز 4 نومبر سے 6 نومبر 2026 تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گے۔ ان مقدمات میں بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان سروس ٹریبونل کے فیصلوں اور احکامات کے خلاف دائر درخواستیں شامل ہوں گی۔جاری کردہ شیڈول کے مطابق 4 اور 5 نومبر 2026 کو جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ پر مشتمل بنچ مقدمات کی سماعت کرے گا۔6 نومبر 2026 کو دو الگ الگ بنچز سماعت کریں گے۔ بنچ اوّل میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہوں گے، جبکہ بنچ دوم میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ مقدمات کی سماعت کریں گے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے تحت مقدمات کی فہرست عدالتِ عظمیٰ کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ متعلقہ فریقین اور وکلا مقدمات کی تفصیلات اور سماعت سے متعلق معلومات کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کر سکتے ہیں:
https:
//scp.gov.pk/OnlineCaseInformation
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر9552/2026
02 نومبر کو ئٹہ ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود، تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیارِ زندگی میں مزید بہتری کے لیے دستیاب وسائل کے اندر مستقل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرکاری افیسران عوامی مسائل کے حل کواپنی ذاتی ذمہ داری سمجھیں، شفافیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیں اور ضلعی سطح پر حکومتی اقدامات کے ثمرات عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی، سستی اشیاء کی دستیابی اور عوامی شکایات کا فوری حل صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی نگرانی، غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی واپسی، کھلی کچہریوں کا انعقاد اور لوکل کونسلز میں صفائی کی صورتحال سمیت اہم عوامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن سیکشن نے کل 2,935 ترقیاتی منصوبوں میں سے 2,632 منصوبوں کا دورہ کیا ہے، جن میں سے 90 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان سپیشل ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو (بی ایس ڈی آئی) کے تینوں مراحل میں کل 4,063 منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں سے 2,181 منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
چیف سیکرٹری نے حکام کو ہدایت دی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت اور معیار کے مطابق مکمل کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور صوبے کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اجلاس میں کھلی کچہریوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ اکتوبر کے دوران صوبے بھر میں 51 کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں، جن میں 686 شکایات موصول ہوئیں۔ چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ شہریوں کی شکایات پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور ان کا ازالہ اولیت کی بنیاد پر کیا جائے۔ انہوں نے پرائس کنٹرول کے حوالے سے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ منافع خوری روکی جا سکے اور عام شہریوں کو حقیقی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے لوکل کونسلز میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے، کوڑے کرکٹ کے بروقت اٹھانے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت میں جعلی اسناد رکھنے والے غیر قانونی افراد کی نشاندہی، انہیں نوکری سے نکالنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
گوادر 02 نومبر ۔ جامعہ گوادر نے قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی کے موقع پر منعقدہ انٹر یونیورسٹیز شارٹ فلمی مقابلہ 2026 میں دوسری مرتبہ پہلی پوزیشن حاصل کرکے نمایاں اعزاز اپنے نام کر لیا۔ جامعہ گوادر کی شارٹ فلم ”Say No to Corruption“ (بدعنوانی کو نہ کہیں) نے 94 نمبر حاصل کرکے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس شاندار کامیابی میں شعب تعلیم کے طالب علم جناب مقصود اکرم کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ وائس چانسلر جامعہ گوادر، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے طالب علم مقصود اکرم کو اس نمایاں کامیابی پر مبارک باد پیش کی اور فلم سازی کے ذریعے بدعنوانی کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے ان کی تخلیقی صلاحیتوں، محنت اور لگن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کامیابیاں جامعہ کے طلبہ کی بے پناہ صلاحیتوں اور معاشرے میں دیانت داری، شفافیت، جواب دہی اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں ان کے مثبت کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ مقابلے میں جامعہ بلوچستان کی شارٹ فلم ”Corruption“ نے 88 نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن، جبکہ جامعہ لورالائی کی فلم ”The File“ نے 82 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ جامعہ گوادر نے نیب بلوچستان کی جانب سے طلبہ کو تخلیقی انداز میں بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے اور دیانت داری، شفافیت اور جواب دہی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر
سیوی 2 نومبر۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بلوچستان سپیشل ڈویلپمنٹ اینڈ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت محکمہ اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان اور متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سرکٹ ہاوس کی بحالی (Rehabilitation of Circuit House) کے منصوبے کا جائزہ لیا، جس کی تخمینہ لاگت 5.7 ملین روپے ہے۔ اسی طرح میر چاکر خان رند یونیورسٹی میں 35 ملین روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ویٹنگ ہال جبکہ 10 ملین روپے کی لاگت سے کار شیڈ، پارکنگ ایریا اور ٹف ٹائلز کی تنصیب کے منصوبوں کا بھی معائنہ کیا۔ انہیں منصوبوں پر جاری تعمیراتی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ تمام منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے متعلقہ افسران اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، کام کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام اور طلباء ان ترقیاتی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
سیوی 2 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بلوچستان سپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت محکمہ ایریگیشن کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان اور متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے 9.320 ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے جاری واٹر چینل کی تعمیر (Construction of Water Channel) کے منصوبے کا جائزہ لیا، جبکہ خجک میں 10 ملین روپے کی لاگت سے زیر تعمیر فلڈ پروٹیکشن بند (Construction of Flood Protection Bund) کے کام کا بھی معائنہ کیا۔ انہیں منصوبوں پر جاری تعمیراتی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کام کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ علاقے کے زمینداروں اور عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر
سیوی 2 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بلوچستان سپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان اور متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے تبلیغی مرکز والی گلی میں 13 ملین روپے کی لاگت سے ٹف ٹائلز کی تنصیب، سولر لائٹس اور نالیوں کی تعمیر کے منصوبے کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ گاوں کڑک میں 19.99 ملین روپے کی لاگت سے بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کے منصوبے کا بھی معائنہ کیا اور جاری کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل یا غیر معیاری تعمیراتی کام کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ تمام منصوبوں میں مقررہ معیار کے مطابق کام یقینی بنایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کام میں غفلت، تاخیر یا کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ افسران خود منصوبوں کی نگرانی کریں۔ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر شہری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
سیوی 2 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بلوچستان سپشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان اور متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مدرسہ صدیق اکبر اور شہر کی مختلف گلیوں میں 16 ملین روپے کی لاگت سے پائپ لائن بچھانے (Providing and Laying of Pipeline) کے منصوبے کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ میر چاکر خان رند یونیورسٹی سیوی میں 17 ملین روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی اسکیم کی تعمیر کے منصوبے کا بھی معائنہ کیا اور جاری کام کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ دونوں منصوبوں میں تعمیراتی معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ پائپ لائن کی تنصیب اور واٹر سپلائی اسکیم کے تمام مراحل میں منظور شدہ ڈیزائن اور تکنیکی معیار کی پابندی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناقص کام، غیر معیاری میٹریل اور کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ متعلقہ افسران منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں اور یونیورسٹی کو صاف پانی کی بہتر سہولت میسر آسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
سیوی 2 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی اور ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان نے سیکریٹری محکمہ مائنز سیدال خان لونی کے والد، سابق صوبائی سیکریٹری، معروف مورخ و محقق عبدالعزیز لونی کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ پہنچ کر فاتحہ خوانی کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی اور ونگ کمانڈر کرنل عبدالمنان نے کہا کہ مرحوم عبدالعزیز لونی کی سرکاری، علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی وفات سے صوبہ ایک قابل، باصلاحیت اور علمی شخصیت سے محروم ہوگیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
سیوی 2 نومبر .ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے وائس چانسلر میر چاکر خان رند یونیورسٹی پروفیسر ممتاز علی بلوچ سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ ملاقات کے دوران بلوچستان سپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر جاری منصوبوں کی پیش رفت، تعمیراتی کاموں کے معیار اور بروقت تکمیل سمیت یونیورسٹی میں تعلیمی و بنیادی سہولیات کی بہتری سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی معیاری تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام باہمی رابطے اور موثر نگرانی کے ذریعے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
سیوی 2 نومبر .ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے سیوی کے مختلف یونین کونسلز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف فکسڈ سائٹس اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر تعینات پولیو ٹیموں سے ملاقات کی اور بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ٹیموں کی ٹیلی شیٹس چیک کیں اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے بچوں کی کوریج اور مہم کے اہداف کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر انہوں نے خود بھی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے، کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مکمل ذمہ داری اور محنت کے ساتھ فرائض انجام دیے جائیں۔ انہوں نے ٹیموں پر زور دیا کہ گھروں میں موجود بچوں کے ساتھ ساتھ مسافر بچوں اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر آنے جانے والے بچوں کو بھی لازمی پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران مانیٹرنگ، ڈیٹا کی درستگی اور ٹیموں کی حاضری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ مہم کو موثر، معیاری اور سو فیصد کامیاب بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور متعلقہ ادارے مشترکہ کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
دکی:2نومبر ۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام کے تحت ضلع دکی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا اور موقع پر تعمیراتی کاموں کی پیش رفت، معیار اور رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف منصوبوں کے تعمیراتی مراحل کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور کنٹریکٹرز سے منصوبوں کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور تکمیل کی متوقع مدت کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہوں نے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل، ورک مین شپ اور منصوبوں کی منظوری شدہ ڈیزائن و تخمینے کے مطابق عملدرآمد کا بھی جائزہ لیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ معیار، منظور شدہ ڈیزائن اور تکنیکی ضوابط کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا جبکہ کام کی رفتار کو بھی مزید تیز کیا جائے تاکہ عوامی نوعیت کے منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد شہریوں تک پہنچ سکیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ترقیاتی فنڈز عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص ہیں، اس لیے ان کا شفاف اور موثر استعمال یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور تعمیراتی کام میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائےاسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی نگرانی کا عمل مسلسل جاری رہے گا اور انتظامیہ کی جانب سے مختلف منصوبوں کے اچانک معائنے بھی کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معیاری کام، غیر ضروری تاخیر یا منظور شدہ منصوبہ بندی سے انحراف کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے ضلع دکی میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، شہری سہولیات میں اضافے اور عوامی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ضلعی انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
کوہلو۔02 نومبر۔اسسٹنٹ کمشنر کوہلو سمیع الحق نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ڈی ایچ کیوہسپتال کوہلو کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، علاج معالجے کے انتظامات اور ہسپتال میں موجود سہولیات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال کے مختلف وارڈز اور شعبوں میں زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی، ان سے طبی سہولیات کی فراہمی، علاج معالجے اور درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی گفتگو کی اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے ان کی آراءمعلوم کیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سمیع الحق نے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے سے ملاقات کی اور ان کے مسائل، مشکلات اور ضروریات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ہسپتال کے انتظامی امور، طبی عملے کی دستیابی اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہلو ڈاکٹر اصغر مری نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہسپتال کے مختلف شعبوں، دستیاب طبی سہولیات، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، عملے کی صورتحال اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے موقع پر ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر میر شیر زمان مری بھی ان کے ہمراہ تھے، جنہوں نے محکمہ صحت سے متعلق امور اور ہسپتال کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔ اسسٹنٹ کمشنر سمیع الحق کے دورے کا مقصد ہسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کا جائزہ لینا اور مریضوں کو درپیش مسائل سے براہِ راست آگاہی حاصل کرنا تھا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور صحت کے شعبے سے وابستہ عملے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ امور پر توجہ دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر
ہرنائی 02 نومبر ۔ضلع ہرنائی کی یونین کونسل گرمی میں عوامی صحت کے بنیادی اہداف کے حصول اور میدانی خدمات کو مزید موثر بنانے کے سلسلے میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز (FLWs) کا ایک اہم اور باقاعدہ صبح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ہرنائی نے کی، جس میں علاقے میں درپیش طبی چیلنجز، انسدادی تدابیر اور ہیلتھ ورک فورس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔?اجلاس کے دوران یونین کونسل گرمی میں جاری عوامی صحت کی سرگرمیوں، خصوصاً بچوں اور ماوں کی روٹین امیونائزیشن (باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات) کی صورتحال پر سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ ڈی ایچ او ہرنائی نے دور دراز اور دیہی علاقوں میں ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی پہنچ یقینی بنانے اور کمیونٹی لیول پر بنیادی صحت کی خدمات کی بلاتعطل فراہمی پر سخت زور دیا۔ فرنٹ لائن ورکرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقامی آبادی کے ساتھ قریبی رابطہ استوار کریں تاکہ صحت عامہ سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہو اور والدین کو بچوں کی بروقت ویکسینیشن کی اہمیت سے روشناس کرایا جا سکے۔اجلاس میں تمام سرگرمیوں کی بروقت، درست اور شفاف ڈیٹا رپورٹنگ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ مستقبل کی حکمتِ عملی کی تشکیل میں مدد مل سکے۔ ورکرز کے درمیان باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ میدانی سطح پر درپیش دشواریوں کا فوراً ازالہ ممکن ہو سکے۔?اجلاس کے اختتام پر ڈی ایچ او ہرنائی نے سخت اور دشوار گزار حالات کے باوجود عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے پر فرنٹ لائن ورکرز کے جذبے اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے تمام ورکرز کو ہدایت کی کہ وہ قومی اور انسانی فریضہ سمجھتے ہوئے مکمل ایمانداری اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں تاکہ ضلع ہرنائی کو بیماریوں سے پاک اور صحت مند بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9564/026
کوئٹہ2 نومبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میں ہمیشہ پولیٹیکل ڈائیلاگ کا حامی رہا ہوں۔ جسطرح پاکستان نے معرکہ حق میں فتح اور امریکہ و ایران کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرکے دفاع کے شعبہ اور عالمی سفارتکاری کے میدان میں ایک بلند مقام حاصل کیا اسی طرح اب اندرونی استحکام کیلئے بھی پولیٹیکل ڈائیلاگ، عوام کو اعتماد میں لینے اور نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے۔ ہمیں یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ دشمن کسی بھی وقت ہماری داخلی کمزوریوں سے فائدہ آٹھا سکتا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی اور مذہبی فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب ہمیں یقین ہے کہ سیاسی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہم درپیش چیلنجز پر بھی بہت جلد قابو پا لینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں قومی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کے مالی تعاون اور سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم (CoE-CVE) بلوچستان کے اشتراک سے کیا۔ واضح رہے کہ گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ’معرکۂ حق کے بعد کے دور میں عالمی ثالثی، اسٹریٹجک سفارتکاری، تنازعات کے حل اور معاشی مواقع میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس منعقد ہوئی جسمیں حکومتی نمائندوں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، علمائے کرام اور ترقیاتی شعبے کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں عالمی سفارت کاری، قیامِ امن، تنازعات کے حل اور علاقائی معاشی تعاون میں پاکستان کے بدلتے ہوئے کردار پر غور و خوض کیا گیا۔ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے تقریب کے انعقاد پر پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کو سراہا اور تنازعات کے حل، امن کے فروغ اور سماجی ہم آہنگی کے قیام میں ڈائیلاگ اور باہمی افہام و تفہیم کی اہمیت پر زور دیا۔ بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نوجوانوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی، پیشہ ورانہ اور معاشی مواقع میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کمیونٹی کی ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے ضروری وسائل اور مواقع فراہم کرنے کے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ گورنر بلوچستان نے معرکۂ حق کے دوران افواج پاکستان کی خدمات کو بھی سراہا۔ گورنر مندوخیل قومی کانفرنس میں عالمی سفارت کاری، امن کے قیام اور معاشی مواقع کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے خواتین کو بااختیار بنانے اور قیامِ امن و معاشی ترقی میں انکی موثر شرکت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ جامع اور پائیدار ترقی کیلئے خواتین کی تعلیم، معاشی مواقع اور فیصلہ سازی کے عمل تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بریچ نے پائیدار امن اور سماجی و اقتصادی استحکام کے فروغ کیلئے جامع ترقی، اسٹریٹجک شراکت داری اور عوامی سطح پر روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل المدتی استحکام اور جامع ترقی کیلئے غربت میں کمی، روزگار کے ذرائع کی ترقی اور محروم طبقات میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے مشترکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے حکومتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔۔
حکومت بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات نے شرکاء کو قیامِ امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات اور قانون سازی کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے صوبہ میں پرامن و جامع ماحول کے قیام کیلئے موثر قانون سازی، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور عوامی شمولیت کی اہمیت اجاگر کی۔
انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز کے صدر محمد اسرار مدنی نے رواداری، باہمی افہام و تفہیم اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں مذہبی روابط، مکالمے اور فکری مباحثے کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے تنازعات کے حل اور عالمی سطح پر قیامِ امن میں پاکستان کے کردار کو مضبوط بنانے کیلئے تعمیری روابط کی اہمیت بھی اجاگر کی۔.کانفرنس کے دیگر مقررین نے بھی اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ سیاسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر رضا نے پاکستان کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی اور سفارتی کردار اور علاقائی تعاون کی اہمیت پر گفتگو کی۔ سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم کے چیف کوآرڈینیشن آفیسر دوست محمد بڑیچ نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے عوامی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اہم قرار دیا۔
بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید نے سماجی و اقتصادی استحکام کی بنیاد کے طور پر نچلی سطح پر ترقی اور عوامی تنظیم سازی کی اہمیت اجاگر کی۔ سی پی ڈی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نصراللہ بڑیچ نے کمیونٹی کی شمولیت اور پائیدار ترقی پر اظہارِ خیال کیا۔ مختلف مذاہب کے علمائے کرام اور نمائندوں جن میں سکھ مذہبی رہنما سردار جس بیر سنگھ اور کوئٹہ کے میتھوڈسٹ چرچ کے فادر بشیر سائمن شامل تھے، نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی اہمیت پر زور دیا۔
کانفرنس کا اختتام اس مشترکہ مؤقف پر ہوا کہ مکالمہ، ادارہ جاتی شراکت داری، بین المذاہب ہم آہنگی اور جامع ترقی بلوچستان سمیت ملک بھر میں پائیدار امن، سماجی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔
خبرنامہ نمبر9565/026
قلات:ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی زیرِ صدارت پولیو مہم کے پہلے روز کے اختتام پر ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر عبدالمالک، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سومار خان، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی، ڈی ایم پی پی ایچ آئی جہانگیر زہری، اور ڈی ایس پی قلات شکیل احمد عمرانی سمیت محکمۂ صحت کے سربراہان، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندگان، مانیٹرنگ افسران، یو سی ایم اوز (UCMOs) اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ضلع قلات میں کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے، اور پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
خبرنامہ نمبر9566/026
ہرنائی: فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور محکمہ صحت ہرنائی کے باہمی تعاون سے علاقائی عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک ایک روزہ مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔میڈیکل کیمپ کے دورے کے دوران ڈی ایچ او ہرنائی نے کیمپ میں مریضوں کو دی جانے والی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور طبی معائنے کے نظام کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے موقع پر موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی پیشہ ورانہ خدمات اور لگن کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل نے کہا کہ ایف سی ہرنائی اور محکمہ صحت کی یہ مشترکہ کاوشیں انتہائی قابلِ تحسین ہیں۔ دونوں اداروں کے باہمی اشتراک سے مقامی آبادی، بالخصوص پسماندہ علاقوں کے غریب اور مستحق افراد کو مفت ادویات، معائنے اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ دُور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اس نوعیت کے فری میڈیکل کیمپس کا تسلسل کے ساتھ انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے، اور آئندہ بھی ایسے مفادِ عامہ کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر9567/026
تربت۔ 2 نومبر 2026: اسسٹنٹ کمشنر تربت کی زیرِ صدارت کھاد (فرٹیلائزر) ڈیلرز اور تاجر برادری کے نمائندگان کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں کھاد کی خرید و فروخت، کاروباری رجسٹریشن، لائسنس اور اسٹاک کے ریکارڈ سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کریم بخش، جنرل سیکرٹری انجمن تاجران تربت ضلع کیچ، عیسیٰ ٹریڈرز کے نمائندے، محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریاض صاحب اور ایگریکلچر آفیسر طارق صاحب سمیت ایک رجسٹرڈ اور تین غیر رجسٹرڈ کھاد ڈیلرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اسسٹنٹ کمشنر تربت نے تمام کھاد ڈیلرز، بالخصوص اجلاس میں غیر حاضر رہنے والے ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ دو یوم کے اندر اپنی کاروباری رجسٹریشن، لائسنس، خرید و فروخت کا ریکارڈ، اسٹاک رجسٹر، نرخ نامہ اور دیگر متعلقہ دستاویزات مکمل کریں تاکہ کھاد کی خرید و فروخت کو قانونی ضابطوں کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر تمام متعلقہ ڈیلرز کو مطلع کیا گیا کہ آئندہ اجلاس بروز جمعرات، 5 نومبر 2026 کو صبح 11:30 بجے اسسٹنٹ کمشنر تربت کے دفتر میں منعقد ہوگا، جس میں تمام ڈیلرز اپنی مکمل دستاویزات کے ہمراہ مقررہ وقت پر حاضری یقینی بنائیں۔
اسسٹنٹ کمشنر تربت نے واضح کیا کہ غیر رجسٹرڈ کاروبار، کھاد کی غیر قانونی خرید و فروخت، ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ، ناجائز منافع خوری اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر کھاد فروخت کرنے والوں کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری احکامات اور قانونی ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
خبرنامہ نمبر 9568/026
سیوی 2 نومبر 2026:
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی، اے کے یو کے افسران، مانیٹرز، یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام یو سی ایم اوز نے اپنی اپنی یونین کونسلز میں پولیو مہم کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ہاؤس ہولڈ ٹارگٹ، (NA)، ریفیوزل، مسڈ چلڈرن اور زیرو ڈوز بچوں کے اعداد و شمار سمیت ٹیموں کی کارکردگی اور کوریج کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ زیرو ڈوز بچوں کی اسی روز کوریج ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام ویکسینیٹرز اپنی متعلقہ فیلڈ میں موجود رہیں اور گھر گھر جا کر بچوں تک رسائی یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس قومی فریضے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ تمام متعلقہ افسران اور مانیٹرز فیلڈ میں ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کریں، ڈیٹا کی درستگی یقینی بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لیں تاکہ مقررہ اہداف کے مطابق معیاری اور مؤثر پولیو مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی، اے کے یو اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران پر زور دیا کہ باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور مہم کے دوران سو فیصد کوریج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔
خبرنامہ نمبر9569/026
نصیرآباد2 نومبر 2026:
نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی مہم کے دوران درپیش مسائل اور ان کے فوری حل کے حوالے سے ایک ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران پولیو پروگرام سے وابستہ ذمہ داران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پہلے روز جاری رہنے والی پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیلڈ ٹیموں کو درپیش مشکلات بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں پیش آنے والی رکاوٹوں مائیکرو پلان پر عملدرآمد اور ٹیموں کی کارکردگی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے اور اس قومی فریضے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کو پیش آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی جائے اور والدین میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران باہمی تعاون سے انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو اس خطرناک مرض سے محفوظ بنایا جا سکے
خبرنامہ نمبر9570/026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن نے آج ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع چمن میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت اور انسدادِ پولیو پروگرام کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن نے پولیو افسران اور محکمہ صحت کے حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف ہر صورت یقینی بنایا جائے اور مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ افسران اور پولیو ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی، محنت اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں۔ڈپٹی کمشنر نے والدین، سرپرستوں، علماء کرام، اساتذہ اور معاشرے کے باشعور افراد سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والا مرض ہے، جس سے بچاؤ اور اس کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ صرف پولیو ویکسین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین اور عوام انسدادِ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے پولیو مہم کے دوران سکیورٹی پر مامور پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ٹیموں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے، سکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے اور تمام متعلقہ اہلکار اپنی ڈیوٹیاں انتہائی ذمہ داری اور مستعدی کے ساتھ انجام دیں۔
خبرنامہ نمبر9571/026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ نے آج ضلع چمن کے مختلف علاقوں میں الگ الگ فیلڈ دورے کیے، جہاں انہوں نے جاری خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے تحت پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل، پولیو ٹیموں کی کارکردگی اور مجموعی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دوروں کے دوران دونوں افسران نے موقع پر موجود بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے اور والدین و سرپرستوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پولیو ویکسین کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے، جس سے بچاؤ اور اس کے مکمل خاتمے کا واحد مؤثر ذریعہ پولیو ویکسین ہے۔ لہٰذا والدین اپنے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں اور اس قومی فریضے میں انتظامیہ و محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہنے پائے اور تمام علاقوں میں سو فیصد کوریج یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کی سکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
خبرنامہ نمبر9572/026
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت آج خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، انسدادِ پولیو پروگرام اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پہلے روز کی مجموعی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے اہداف، ٹیموں کی فیلڈ سرگرمیوں، کوریج اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو مہم کے پہلے روز کی پیش رفت اور حاصل کردہ اہداف کے حوالے سے بریفنگ دی۔
ڈپٹی کمشنر چمن نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے، رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی جائے اور ہر علاقے میں پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسدادِ پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام متعلقہ افسران اور فیلڈ ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں تاکہ ضلع چمن کو پولیو سے محفوظ بنانے کے قومی مشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر9573/026
تربت۔ 2 نومبر 2026: گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت میں گرین ہورائزن مہم کے تحت حکومت بلوچستان اور یونیسف کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی، بالخصوص بلوچستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز اور خطرات کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار پروفیسر غلام رسول خالد آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔
سیمینار کے دوران فراز گچکی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عزیز اللہ نے موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں، اس کے اسباب اور خطے، ماحولیات اور انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے ایک جامع اور دلچسپ لیکچر دیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی، ماحولیاتی موافقت، اثرات میں کمی اور موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر حمید بلوچ نے بلوچستان کے جغرافیائی اور موسمی تنوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مختلف نوعیت کے موسمی حالات پائے جاتے ہیں، جس کے باعث بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے حساس ترین خطوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے شجرکاری، قابل تجدید توانائی کے استعمال، پانی کے تحفظ اور عوامی آگاہی میں اضافے کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے اہم اقدامات قرار دیا۔
پرنسپل گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت پروفیسر ظہیر احمد بلوچ نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی اور موسمیاتی لچک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس اہم اقدام کو سراہتے ہوئے سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔سیمینار کے دوران طلبہ کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر ایک معلوماتی کوئز مقابلے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا۔ درست جوابات دینے والے طلبہ میں تحائف تقسیم کیے گئے۔ اس سرگرمی کا مقصد طلبہ کو موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اپنی معلومات جانچنے اور اس کے مقامی اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
خبرنامہ نمبر9574/026
زیارت2نومبر 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر الہجرہ ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج زیارت کو طلبہ کی سہولت کے لیے نئی بس فراہم کر دی گئی
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر حکومت بلوچستان کی جانب سے طلبہ کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے الہجرہ ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج، جناح کیمپس زیارت کو ایک نئی بس فراہم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں آج ادارے کے پرنسپل پروفیسر شبیر احمد بڑیچ کو بس کی چابیاں حوالے کی گئیں۔اس موقع پر سیکریٹری ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ محمد ہاشم غلزئی ایڈیشنل سیکرٹری عبدالمالک اچکزئی، ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر حسین بلوچ، ڈائریکٹر کالجز سردار صادق کبزئی، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بھی موجود تھے۔
بس کی فراہمی سے ادارے کے طلبہ کو آمدورفت کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی، جس سے نہ صرف طلبہ کو درپیش سفری مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ادارے کی انتظامیہ نے اس قابلِ قدر اقدام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سیکریٹری ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور محکمہ کالجز حکومت بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی اداروں کو سہولیات کی فراہمی کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
خبرنامہ نمبر9575/026
گزشتہ روز چیئر مین نیوٹک انجینئر قمر الاسلام نے کوئٹہ کا دورہ کیا اس موقع پر نیوٹک کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میڈم نادیہ کریم سہو بھی انکے ہمراہ تھی ،
چیئرمین نیوٹیک (NAVTTC) انجینئر قمر الاسلام راجا نے اپنے دورۂ کوئٹہ کے دوران ویمن ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر کا خصوصی دورہ کیا۔ جہاں مشیر وزیر اعلیٰ برائے محنت و افرادی قوت سردار بابا غلام رسول عمرانی ، سیکریٹری محنت و افرادی قوت صالح محماد ناصر، ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکیبر زرکون نے انکا استقبال کیا ، مشیر وزیر اعلی سردار غلام رسول عمرانی کے ساتھ ملاقات میں بلوچستان میں نوجوانوں کو جدید فنی تربیت اور بی ٹیوٹا کے ساتھ مل کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال ہوا ۔ انسٹیٹیوٹ پرنسپل میڈم شبنم ناز نے چیئرمیں اور دیگر مہمانوں کو سنٹر کی کارگردی کے بارے میں بریفنگ دی ۔ بعد میں چیئرمیں نیوٹک نے وہاں زیر تربیت طالبات سے براہِ راست گفتگو کی۔ چیئر مین نیوٹک انجینئر قمر الاسلام راجا نے اس موقع پر میڈیا سے گفتوگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس دورے کا اصل مقصد بلوچستان کے مقامی حالات اور ضرورت کے مطابق ترتیب دیے گئے تربیتی پروگراموں کو نہ صرف مضبوط بنانا ہے بلکہ ان کے دائرہ کار میں کئی گنا اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم پاکستان اور ریاستِ پاکستان کا یہ پختہ عزم ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بہترین ہنر سکھایا جائے، انہیں روزگار کے بہتر مواقع دیے جائیں اور ان کے روشن مستقبل و خوشحالی کے لیے حکومت ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
چیئرمین نیوٹیک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ بلوچستان میں ہنر کی ترقی کے فنڈز میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور وسائل کی کوئی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر بلوچستان کے نوجوانوں میں ہنر کا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان کے نوجوانوں کو نہ صرف صوبے کے اندر موجود بہترین سرکاری و نجی تربیتی اداروں میں سکھایا جائے گا، بلکہ انہیں پنجاب، وفاقی دارالحکومت اور ملک کے دیگر ایسے مقامات پر بھی لے جایا جائے گا جہاں اعلیٰ درجے کی سہولتیں دستیاب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام طلبہ و طالبات کےرہائش، کھانے پینے اور سفر و دیگر تمام انتظامات کے تمام تر اخراجات حکومتِ پاکستان خود برداشت کرے گی تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دورے کے اختتام پر مشیر وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے محنت و افرادی قوت نے چیئرمین نیوٹیک انجینئر قمر الاسلام راجہ اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بلوچستان کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔اس موقع پر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نیوٹک محترمہ نادیہ سہو۔ ڈی جی نیوٹک ڈاکٹر حسین بخش مگسی اور دیگر حکام بھی موجود تھے
خبرنامہ نمبر9576/026
کوئٹہ 02 نومبر2026: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، نیشنل ای او سی، ڈسٹرکٹ ای او سی، مانیٹرز اور متعلقہ عملے نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام یونین کونسلز کی کارکردگی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ مختلف علاقوں میں مہم کی کوریج اور ٹیموں کی کارکردگی سے متعلق مانیٹرز سے رپورٹ طلب کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے جن علاقوں میں پولیو ٹیموں کی کارکردگی اور کوریج تسلی بخش نہیں تھی، وہاں سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو وارننگ جاری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ کل سے مہم میں مزید تیزی لائی جائے، تمام یونین کونسلز میں سو فیصد کوریج یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور مہم کے مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/9577
رکھنی2 نومبر:ـڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکر کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی کی زیرِ صدارت بنیادی مرکزِ صحت (BHU) رکھنی میں انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایس پی رکھنی خالد بزدار سمیت تمام یونین کونسلز کے میڈیکل آفیسرز (MOs) نے شرکت کی۔
اجلاس میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، مؤثر نگرانی، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے انتظامات اور متعلقہ عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مہم کے دوران درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت کی اہم ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
خبر نامہ نمبر 2026/9578
ہرنائی2نومبر:ـضلع ہرنائی میں انسدادِ پولیو کی قومی مہم کے پیشِ نظر انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے پولیو ٹیموں کی فیلڈ میں تیاریوں، سیکیورٹی اور دیگر لاجسٹک انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے فیلڈ ورکرز اور پولیو ٹیموں سے ملاقات کی، ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کی محنت کو سراہا۔ڈپٹی کمشنر نے فیلڈ ورکرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک اہم قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جسے احسن طریقے سے سرانجام دینا ہم سب کا فرض ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مہم کے دوران ضلع بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کے مائیکرو پلان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تا کہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔بعد ازاں، ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی ای او سی / ای آر ایم (EOC / ERM) جائزہ اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں پولیو مہم کے موثر انعقاد، ٹیموں کی کارکردگی، مانیٹرنگ کے عمل اور فیلڈ میں درپیش ممکنہ چیلنجز کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ تمام حکام اور پولیو مہم کی نگرانی کرنے والے افسران کو ہدایت کی کہ مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے باہمی رابطہ اور مضبوط مانیٹرنگ کا نظام قائم رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب سرکاری وسائل برائے کار لائے جائیں اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ضلع ہرنائی کو پولیو سے پاک بنانے اور آنے والی نسلوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔






