29th-April-2026

خبرنامہ نمبر3478/2026
کوئٹہ 29 اپریل ۔ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ان خیالات کا اظہار سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیایہ اجلاس ان منصوبوں کے حوالے سے منعقد ہوا جن پر ڈپٹی کمشنرز پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں اجلاس میں صوبے کے تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ضلعی انجینئرنگ افسران نے بذریعہ زوم شرکت کی ہر ضلع کے انجینئرنگ افسر نے نامکمل منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں پیش رفت مالی مسائل اور درپیش تکنیکی رکاوٹوں سے آگاہ کیا گیاسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اس موقع پر کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل ایک بڑا چیلنج ہے تاہم دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر اس ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور کسی بھی قسم کی تاخیر سے گریز کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ جو افسران منصوبوں کی بروقت تکمیل میں سستی یا غفلت کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی مزید برآں ایسے کنٹریکٹرز جو منصوبوں پر کام نہیں کر رہے ان کے خلاف بلیک لسٹنگ سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3479/2026
کوئٹہ 29اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کے وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) عبداللہ خان کی ہدایات کی روشنی میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے جاری مہم کے تحت کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ترجمان بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے مطابق آج غیر تعمیل پر پیگاسس کلب اور الجنّت پیلس کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر عمل میں لائی گئی۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام کاروباری حضرات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن مکمل رکھیں، فروخت کا درست ریکارڈ برقرار رکھیں، بروقت ٹیکس گوشوارے جمع کروائیں اور واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اتھارٹی نے تمام سروس فراہم کنندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گوشوارے بروقت جمع کر کے صوبہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3480/2026
قلات 29اپریل۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی سے قلات کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے ملاقات کی اورانہیں اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا. ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے لوگوں کے مسائل غورسے سنے اور انکے فوری حل کے لیئے احکامات جاری کردیئے ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی نے عوامی وفودسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ضلع قلات کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے تمام تروسائل بروئے کار لارہے ہیں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے عوام بلاججک ڈپٹی کمشنر کو اپنے مسائل سے آگاہ کریں عوامی مسائل کے فوری حل کے لیئے علاقہ معززین سماجی رہنماء اور صحافی برادری ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3481/2026
قلات 29اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کے ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹر علی گل عمرانی نے گورنمنٹ مڈل سکول کلی ابابکی خالق آباد کا دورہ کیا دورے کے دوران سکول کی مجموعی کارکردگی تعلیمی ماحول اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااساتذہ کی حاضری کو بھی چیک کیا گیا۔ اور انہیں پابندی سے فرائض کی انجام دہی معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے اور طلباء کی حوصلہ افزائی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔قلات کے عوام کے عوامی حلقوں نے انتظامیہ کی جانب سے مانیٹرنگ کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ تعلیمی نظام کی بہتری اور اسکول کو درپیش مسائل کے بروقت حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3482/2026
کوئٹہ 29اپریل۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے یواین ڈی پی کے (FRB) پراجیکٹ کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں ہیساشی ازومی (پروگرام منیجر)، مس آمنہ اختر (پروگرام اسپیشلسٹ)، سہیل خان (ایل ایس اے، یو این ڈی پی سب آفس کوئٹہ)، سجاد خٹک (انجینئر اینالسٹ) اور سید عمار حیدر آغا (فیلڈ امپلیمنٹیشن آفیسر) نے شرکت کی۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ان کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے یواین ڈی پی کے ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات کے دوران مستقبل میں مشترکہ کام کو مزید موثر اور مربوط بنانے پر اتفاق کیا گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3483/2026
تربت 29اپریل ۔جشنِ بہاران کیچ فیسٹیول 2026 کے سلسلے میں گرلز سائیڈ کے کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیر ہوگئے۔ اس موقع پر گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت میں ایک شاندار اختتامی تقریب منعقد کی گئی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی تھے جب کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے فائنل مقابلوں میں خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، اسپورٹس آفیسر غفار یوسف، حبیب دشتی، ناصر حسن، ممتاز لال، ڈی او ای شبیرہ اور پرنسپل میڈم زمرد واحد سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔فائنل مقابلہ گرلز ہائی اسکول بلوچی بازار اور گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کے درمیان کھیلا گیا جس میں بلوچی بازار ہائی اسکول نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 25 رنز سے کامیابی حاصل کی۔اختتامی تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے والی کھلاڑیوں میں ٹرافیاں، شیلڈز اور نقد انعامات تقسیم کیے گئے جبکہ اسپورٹس آفیسر غفار یوسف نے مہمانِ خصوصی کو شیلڈ پیش کی۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے کھیلوں کے انعقاد سے طالبات کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے اور معاشرے میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔شرکاءنے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے اس طرح کی سرگرمیوں کے تسلسل پر زور دیا تاکہ نوجوان نسل کو مثبت اور تعمیری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔واضح رہے کہ جشنِ بہاران کیچ فیسٹیول 2026 کا انعقاد ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول کے دوران گرلز مقابلے گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت منعقد کیے گئے جبکہ بوائز مقابلے بوائز ہائی اسکول چاہسر میں منعقد کیے جارہے ہیں، جن کا فائنل جمعرات کو کھیلا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3484/2026
سبی 29 اپریل۔ کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض کی صدارت میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی، درپیش مسائل اور تعلیمی شعبے میں بہتری کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سبی ڈویژن بھر کے تعلیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سبی ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی، جبکہ ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم، ڈویژنل ڈائریکٹر سماجی بہبود، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم، ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں انرولمنٹ اینڈ ایکسیس، اساتذہ کی ریکروٹمنٹ، خالی آسامیوں، غیر فعال اسکولوں، سکولوں میں مسنگ فیسلٹیز، بجٹ یوٹیلائزیشن، کلسٹر بجٹ، اور تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی این جی اوز کے کردار اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے مختلف اضلاع میں تعلیمی صورتحال، طلبہ و طالبات کی انرولمنٹ میں اضافہ، بند اور غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر سبی ڈویڑن اسداللہ فیض نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانا، خالی آسامیوں کو پر کرنا اور سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ طلبہ بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران سکولوں کی مکمل میپنگ کریں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کن سکولوں میں کون کون سی مسنگ فیسلٹیز موجود ہیں اور کہاں اضافی کمروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سکول میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی تعلیمی ادارے میں کوئی مسنگ فیسلٹی باقی نہیں رہنی چاہیے۔ کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ نئی انرولمنٹ کے تحت داخل ہونے والے تمام بچوں کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ صرف داخلہ ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بچوں کی مسلسل تعلیم بھی جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ انرولمنٹ مہم کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے، جبکہ تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی این جی اوز کے کردار کو بھی مربوط اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے شفاف اور بروقت استعمال سے ہی تعلیمی نظام میں حقیقی بہتری ممکن ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور سنجیدگی سے ادا کریں۔ کمشنر نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بہتری کے لیے تمام اضلاع میں مسلسل نگرانی، جوابدہی اور موثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ سبی ڈویژن میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اضلاع سے باقاعدہ کارکردگی رپورٹس حاصل کی جائیں گی اور تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3485/2026
کوئٹہ 29 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت کوئٹہ میں میٹروپولیٹن کی لیز شدہ پراپرٹی، زیرِ لیز پراپرٹیز، اور ختم ہونے والی لیز پراپرٹیز کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہیڈ ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن زاہد خان خلجی، میٹروپولیٹن کے لا آفیسر، چیف میونسپل آفیسر (CMO) سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران میٹروپولیٹن کی ملکیتی پراپرٹیز، جو مختلف افراد کو لیز پر دی گئی ہیں، کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں لیز کی مدت، شرائط، ختم ہونے والی لیزز، اور ان پراپرٹیز کو واگزار کرانے کے طریقہ کار پر تفصیل سے غور کیا گیا۔اس موقع پر شہر بھر میں جاری تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیش رفت، حاصل شدہ کامیابیوں اور درپیش چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کو مزید تیز اور موثر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔میٹروپولیٹن کی تمام پراپرٹیز کا مکمل اور جامع ڈیٹا مرتب کرکے آئندہ ہفتے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3486/2026
کوئٹہ 29اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت 18 مئی سے شروع ہونے والے انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات اور تیاری کے سلسلے میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ہیڈ ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان خلجی، ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈپٹی ڈی ایچ او، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر، پولیس حکام اور دیگر متعلقہ پولیو اہلکاران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران 18 مئی سے شروع ہونے والی پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں سیکیورٹی انتظامات، پولیو ٹیموں کی تشکیل، حساس علاقوں کی نشاندہی اور ان علاقوں میں خصوصی سیکیورٹی اقدامات پر غور کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 1818 پولیو ٹیمیں فرائض سرانجام دیں گی جبکہ 1620 سیکورٹی اہلکار ان ٹیموں کے ساتھ ڈیوٹی انجام دیں گے۔ زیادہ ریفیوزل والے علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ مہم کی مانیٹرنگ کو مزید موثر اور سخت بنایا جائے اور تمام ٹیمیں ذمہ داری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3487/2026
لورالائی29اپریل۔: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل کی زیر صدارت زرعی واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ مال نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں زرعی واجبات کی وصولی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جاری مہم کی پیش رفت پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ واجبات کی بروقت وصولی کے لیے فیلڈ میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ نادہندگان کے خلاف قانونی تقاضوں کے مطابق اقدامات بھی عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں وصولیوں کی شرح میں بہتری آئی ہے تاہم مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زرعی واجبات کی وصولی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو نظام کی بہتری، حکومتی وسائل میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے واجبات کی وصولی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ انجام دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ اسٹاف اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائے اور نادہندگان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقررہ اہداف کا بروقت حصول ممکن بنایا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وصولیوں کے عمل کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ضلع میں جاری دیگر ریونیو معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے کاشتکاروں کو واجبات کی بروقت ادائیگی کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ سہولت مراکز پر عملے کی دستیابی کو یقینی بنا کر عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کو ممکن بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3488/2026
ڈیرہ اللہ یار 29اپریل ۔ڈیرہ اللہ یار میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران 20 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ منشیات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی محمکہ ایکسائز کے افسران کے مطابق کارروائی زیرو پوائنٹ کوئٹہ روڈ کے قریب عمل میں لائی گئی، جہاں ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم جمعہ خان کو گرفتار کیا۔ ملزم کے قبضے سے 20 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جو مبینہ طور پر اسمگلنگ کے لیے منتقل کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ ایک ٹویوٹا کرولا کار بھی تحویل میں لے لی گئی، جو منشیات کی ترسیل میں استعمال ہو رہی تھی۔حکام کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ (FIR) درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔محکمہ ایکسائز کے حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3489/2026
ہرنائی29اپریل۔ : ضلع ہرنائی میں تعلیمی بحران کے خاتمے اور سکولوں کی حالتِ زار بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (PPMU) کے درمیان ایک اہم اور تزویراتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے دور رس فیصلے کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں PPMU پاکستان کے نمائندہ وفد، محکمہ تعلیم کے افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ وفد نے اجلاس کو بتایا کہ PTSMCS اقدامات کے تحت صوبہ بھر میں تقریباً 3000 اضافی کلاس رومز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں گنجائش کو بڑھانا اور طلبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق موزوں ماحول فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں خاص طور پر ہرنائی کے ان علاقوں پر غور کیا گیا جہاں حالیہ آفات کے نتیجے میں سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں یا جہاں بچوں اور بچیوں کے مڈل اور پرائمری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ طلبہ والے سکولوں میں نئے کلاس رومز کی تعمیر فوری ضرورت ہے۔منصوبے کی شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ڈی او (DDO) کو باقاعدہ ‘فوکل پرسن’ مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا، جو PPMU اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہماری ترجیح ان سکولوں کی نشاندہی ہے جو مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ ہرنائی کا مستقبل روشن ہو سکے۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ترجیحی بنیادوں پر ان سکولوں کا ڈیٹا فراہم کریں جنہیں فوری مرمت یا اضافی تعمیرات کی ضرورت ہے، تاکہ تعمیراتی کام کا آغاز بغیر کسی تاخیر کے کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3490/2026
ہرنائی 29اپریل ۔اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق خان نے گورنمنٹ ڈگری کالج میں انٹرمیڈیٹ امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے امتحانی ہال میں نظم و ضبط، طلبہ کی حاضری اور انتظامی عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق خان نے بدھ کے روز گورنمنٹ ڈگری کالج ہرنائی میں قائم انٹرمیڈیٹ امتحانی مرکز
کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے امتحانی ہال میں بیٹھنے کے انتظامات، سوالیہ پرچوں کی شفاف تقسیم اور طلبہ کی حاضری کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی۔ اس موقع پر انہوں نے امتحانی عملے سے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کی کہ امتحانات کے پرامن اور شفاف انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ میرٹ کی بالادستی قائم رہے۔ انہوں نے کمرہ امتحان میں روشنی اور پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیات کا بھی مشاہدہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نے مجموعی طور پر امتحانی مرکز کے انتظامات اور نگران عملے کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی بہتری کے لیے ایسی مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3491/2026
ہرنائی 29اپریل۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی ریلیف اور بازاروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مہم تیز کر دی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق ترین نے آج شہر کے مختلف بازاروں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، وزن اور معیار کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی عبدالرازق ترین نے صفائی کے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہار کیا اور بازار میں پیدل چلنے والوں کی سہولت کے لیے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی۔اس موقع پر دکانداروں کو سخت ہدایت کی گئی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ریٹ لسٹ کی مکمل پاسداری کریں اور اسے نمایاں جگہوں پر آویزاں رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی مہنگائی اور عوامی حقوق کی تلفی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیزRecast:
کوئٹہ29اپریل ۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سریاب روڈ کوئٹہ کے پروفیسر عبدالمتین خان نے کہا ہے کہ تعلیم کا حصول ہر مرد و عورت پر فرض ہے اور یہی کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیض محمد روڈ کوئٹہ پر واقع لائبریری کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات اور معززینِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروفیسر عبدالمتین خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور محنت کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن بنائیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے، وہ تعلیم ہی کی بدولت ممکن ہوئی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ ملک و قوم کا روشن مستقبل بن سکیں۔اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اکیڈمی کے قیام کا مقصد علاقے کے طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارے میں طلبہ کو تمام ممکنہ تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3492/2026
کوئٹہ29 اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پورے خطے کی کشیدگی صورتحال کے پیش نظر اور ملک و صوبے کو سیاسی اور معاشی استحکام کی جانب لے جانے کے حوالے سے منتخب عوامی نمائندوں اور سیاسی اکابرین پر بڑی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ان پیچیدہ حالات میں سنجیدہ اور دلیرانہ فیصلے کریں۔ میں نے اپنے سیاسی اکابرین سے یہی سیکھا ہے کہ سیاست محاذآرائی نہیں بلکہ زندگی کے نشیب و فراز میں بامقصد ڈائیلاگ اور عوام دوستی کا نام ہے جس میں ذاتی رنجش یا مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے شروع سے ہی ایسی سیاست کی ہے جو برائی کا بدلہ اچھائی سے اور انتقام کا بدلہ معافی سے دینے کا عکاس ہے۔ پشتون بلوچ سیاسی شخصیات، خانون، نوابوں، سرداروں اور مذہبی و قبائلی عمائدین سے بلاتفریق باہمی احترام اور عزت افزائی کی بنیاد پر قریبی دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء اور پارلیمانی سیکرٹری پرنس عمر احمدزئی سے گورنر ہاوس کوئٹہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران حاجی محمد خان لہڑی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں ایک سادہ اصول پر عمل کیا ہے جو مختلف اقوام و قبائل کے درمیان محبت بانٹتا ہے، محروم لوگوں کے مقصد کو آگے بڑھاتا ہے، منشیر لوگوں کو متحد کرتا ہے اور جہاں اندھیرا ہے وہاں روشنی لانا ہے۔ یہ عملی زندگی میں نظریہ اور عمل کو یکجا کرنے کا بہترین تصور ہے. سیاسی اتار چڑھاو کے دوران بھی، میں نے قومی اور صوبائی دونوں سطحوں پر سیاسی رہنماوں، علماء اور قبائلی عمائدین کے ساتھ مضبوط اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں کیونکہ سیاست کا جوہر جمہوریت ہے اور جمہوریت کو رویوں میں جھلکنا ضروری ہے۔ حتیٰ الامکان سیاست اور مختلف وزارتوں میں عوام کے بنیادی حقوق، اختیارات اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کو ترجیح ہے۔ تعلیم ، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بعض ایسے ترقیاتی منصوبے پورے کیے ہیں جن پر آنے والی نسلیں بھی فخر کریگی کیونکہ میں ذاتی فائدے کیلئے نہیں بلکہ عوامی بھلائی کیلئے جدوجہد کرنے کے قائل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماوں کی عوام دوستی ہی سماجی انصاف، معاشی مساوات اور مذہبی رواداری کیلئے نئی راہیں ہموار کرتی ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ میں نے علاقائی اور قبائلی سطحوں پر بھی کبھی انتقام لینے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ذاتی رنجشیں رکھی ہیں۔الحمدللہ میری سیاست، میرا کام اور میرے تعلقات میرے مثبت اور تعمیری کردار کا ثبوت ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3493/2026
کوئٹہ، 29 اپریل ۔ منرل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن اتھارٹی(میفا) کا اجلاس بروز منگل کو صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ماحولیات نسیم الرحمان، پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور میر زرین خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری جنگلات سردار مسعود خان لونی، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز سیدال خان لونی، ڈی جی مائنز اینڈ منرلز عبداللہ شاہوانی اور صدر آل پاکستان مائن اونرز ایسوسی ایشن میر بہروز ریکی نے بھی شرکت کی۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو ظہیر قریشی ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔ صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ہمارے صوبے میں معدنی محاصل کا معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے ہمارے صوبے کے کثیر تعداد میں لوگوں کی روزگار کان کنی کے شعبے سے وابستہ ہیں کان کنی کے شعبے کی فروغ ہما ری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل س میں منرل رائلٹی اور دیگر فیسوں کے مجوزہ نظرثانی شدہ نرخوں پر تبادلہ خیال کیا اور متفقہ طور پر منظوری کے لیے صوبائی حکومت کو نظرثانی کی سفارش کی۔ منرل انویسٹمنٹ فیسلیٹیش اٹھارتی کی سفارشات کی روشنی میں حتمی فیصلہ بلوچستان کابینہ کرے گی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ موجودہ نرخوں کو 2017 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اپنے پہلے اجلاس میں میفا نے اتفاق کیا تھا کہ نرخوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور اس نے مائن اونرز ایسوسی ایشن کو غور و خوض کے لیے وقت دیا تاکہ اس میں مزید اصلاحات لایا جاسکے۔ اس کے علاوہ مائنز اونرز اور مزدوروں کی تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی بنا ئیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3494/2026
کچھی29اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران سے آج شہری ایکشن کمیٹی کے ایک وفد نے تفصیلی ملاقات کی ملاقات کے دوران وفد نے شہریوں کو درپیش مختلف مسائل سے آگاہ کیا، جن میں امن و امان کی صورتحال، بجلی کی مین لائن کے کھمبا کے گرنے کے باعث مختلف محلوں میں بجلی کی بندش کا سامنا ہے وفد نے بتایا کہ ان مشکلات کے باعث شہریوں کو روزمرہ زندگی میں شدید پریشانی کا سامنا ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ممتاز علی کھیتران نے شہری ایکشن کمیٹی کے ممبران کے مسائل اور تحفظات کو بغور سنا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے اور آج ہی بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مو¿ثر اور عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3495/2026
شیرانی29اپریل ۔ضلع شیرانی میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نئے ضلعی ہیڈکوارٹر مانی خواہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمشنر ژوب ڈویڑن آصف علی فرخ، بریگیڈیئر اظہر خان، ونگ کمانڈنٹ عرفان اور ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مانی خواہ میں بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی، خصوصاً بجلی کی فراہمی اور پی ٹی سی ایل لینڈ لائن سروس کی بندش پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سہولیات کی عدم موجودگی سے نہ صرف سرکاری امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس موقع پر کمشنر ژوب ڈویژن اور بریگیڈیئر اظہر خان نے متعلقہ اداروں کے ساتھ فوری رابطہ کر کے بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی جلد بحالی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی ہیڈکوارٹر کی فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سرکاری دفاتر کی فعالیت اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطے کو مزید موثر بنانے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مانی خواہ میں عارضی طور پر متبادل توانائی ذرائع (سولر سسٹم) کی فراہمی پر بھی غور کیا جائے گا تاکہ سرکاری دفاتر کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ہدایات جاری کرنے پر بھی اتفاق ہوا تاکہ کمیونیکیشن کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلع شیرانی میں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے گا اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/3497
کوئٹہ 29 اپریل:ـبلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوئٹہ اور گوادر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے کاروبار کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔کوئٹہ میں کارروائی کے دوران 3 غیر قانونی واٹر فلٹریشن پلانٹس سیل کر دیے گئے ، مذکورہ یونٹس میں غیر رجسٹرڈ بوتل پانی کی تیاری اور اوپن مارکیٹ کو سپلائی کیا جارہا تھا ۔ کارروائیوں کے دوران مختلف خلاف ورزیوں پر 20 متفرق کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 19 یونٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے جہاں مالکان و ورکرز کو صفائی، اجزاء کے معیار اور خوراک کی محفوظ تیاری سے متعلق واضح ہدایات فراہم کی گئیں۔بی ایف اے کی انسپکشن ٹیموں نے مختلف علاقوں میں خوراک کے مراکز، ہوٹلز، دکانوں اور واٹر پلانٹس کا تفصیلی معائنہ کیا، اتھارٹی حکام نے صفائی کی صورتحال، اشیاء خوردونوش کے معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ متعدد مقامات پر ناقص صفائی، غیر معیاری اجزاء کے استعمال اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن پر موقع پر ہی کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی کے دوران عملے کو ذاتی صفائی، محفوظ خوراک کی تیاری، اور اسٹوریج کے درست طریقہ کار سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جا سکے۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ “بی ایف اے عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا قانون شکنی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈی جی کے مطابق غیر معیاری و مضر صحت خوراک کی فراہمی میں ملوث عناصر اور غیر قانونی و غیر رجسٹرڈ یونٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔انہوں نے تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی کہ وہ فوڈ سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معیاری خوراک کی نشاندہی میں ادارے کے ساتھ تعاون کریں اور ایسی کسی بھی سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3498
لورالائی29اپریل:ـ پولیس کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، دو ایکڑ پر کاشت افیون کی فصل تلف لورالائی میں پولیس نے منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے افیون (تاریاک) کی کاشت کو تلف کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ڈی پی او صدر غلام اکبر کی سربراہی میں تھانہ سٹی لورالائی کے ایس ایچ او شہید محمد اشرف ترین، سب انسپکٹر محمد شریف موسخیل، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد جہانگیر، ایگل اسکواڈ اور دیگر پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے کلی پٹھانکوٹ میں مشترکہ آپریشن کیا۔کارروائی کے دوران تقریباً دو ایکڑ اراضی پر غیر قانونی طور پر کاشت کی گئی افیون کی فصل کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ زمین کے مالک عبدالغنی ولد پائند خان (قوم سلیمانخیل) کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات کے خاتمے کے لیے ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لورالائی میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیزلورالائی اور گردونواح میں منشیات کے کاروبار کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے منشیات برآمد کی گئی۔ڈسٹرکٹ پولیس حکام کے مطابق نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کے لیے خصوصی مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں اور مقامی آبادی میں آگاہی پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ منشیات سے متعلق کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3499
صحبت پور29اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ صحبت پور نے موسمِ گرما کے دوران شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کر دیے ہیں ڈپٹی کمشنر میڈم فریدہ ترین کی ہدایت کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور، سیف الدین کھوسہ نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے دفتر کا دورہ کیا اور شہر میں پانی کی فراہمی کے مجموعی نظام کا تفصیلی جائزہ لیادورے کے دوران محکمہ پی ایچ ای کے عملہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو پانی کی فراہمی کے موجودہ نظام، فلٹریشن پلانٹس، کلئیر واٹر ٹینکس اور تالابوں میں ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار و معیار کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف تنصیبات کا معائنہ کرتے ہوئے پانی کے معیار، صفائی کی صورتحال اور سپلائی سسٹم کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ شہریوں کو صاف پانی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی محکمہ پی ایچ ای کے حکام نے آگاہ کیا کہ شہر میں پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ایک مقام پر سڑک کی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث واٹر سپلائی لائن متاثر ہونے سے عارضی طور پر چند گھنٹوں کے لیے پانی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال پر بروقت قابو پاتے ہوئے مرحلہ وار شہر بھر میں پانی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے ضلعی انتظامیہ صحبت پور کے مطابق موسمِ گرما میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، متعلقہ عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جائے اور پانی کی فراہمی کے نظام کو مؤثر اور فعال رکھا جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3500
صحبت پور29اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کی روشنی میں و ڈپٹی کمشنر صحبت پور میڈم فریدہ ترین کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور، سیف الدین کھوسہ نے الحاج میر نبی بخش خان کھوسہ لائبریری صحبت پور کا دورہ کیا اور بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ انجینئرنگ عملے اور لائبریری اسٹاف سے منصوبے کی پیش رفت، معیار اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی انہوں نے جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر، شفافیت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اس موقع پر انہوں نے تعمیراتی میٹریل کے معیار کا بھی جائزہ لیا اور واضح ہدایات جاری کیں کہ کام میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ الحاج میر نبی بخش خان کھوسہ لائبریری کی اپ گریڈیشن سے ضلع صحبت پور کے طلبہ، نوجوانوں اور اہلِ علم کو مطالعہ، تحقیق اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ایک سازگار اور معیاری ماحول میسر آئے گا، جس سے علاقے میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگادریں اثنا، علاقہ مکینوں، طلبہ اور سماجی حلقوں نے بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری عوامی فلاح و بہبود کے ترقیاتی منصوبوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضلع صحبت پور میں تعلیم، صحت، سڑکوں، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جن کے مثبت اثرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے ترقیاتی اقدامات عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3501
قلات29اپریل:ـڈی آئی سی سی (DICC) کا اہم اجلاس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات ڈاکٹر انجم ضیاء بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ باجوئی، پولیو فوکل پرسن کامریڈ وحید مینگل، سینئر کلرک سعید شاہوانی، عبدالفتاح دہوار، تحصیل سرونز آفیسر عمیر بلوچ، تحصیل سرونز آفیسر خالق آباد منگوچر عبدالمالک لانگو، نزیر عمرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ باجوئی نے ڈی ایچ او ڈاکٹر انجم ضیاء بلوچ کو ضلع قلات میں جاری پولیو مہم، ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ہر بچے تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پہنچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو مہم کی کامیابی کے لیے علماء کرام، سول سوسائٹی، صحافی برادری اور علاقے کے معتبرین کو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر انجم ضیاء بلوچ نے ہدایت دی کہ پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے، ٹیموں کی نگرانی سخت کرنے اور ہر یونین کونسل میں سو فیصد کوریج یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3502
تربت29 اپریل:_کیچ اسپرنگ فیسٹیول 2026 کے سلسلے میں یونیورسٹی آف تربت میں انڈور گیمز کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تربت، تابش علی تھے، جنہوں نے ان مقابلوں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ترجمان تربت یونیورسٹی کے مطابق یہ انڈور گیمز 29 اپریل سے یکم مئی تک یونیورسٹی کے جمنیزیم میں جاری رہیں گے، جن میں بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس اور شطرنج کے مقابلے شامل ہیں۔ ان مقابلوں میں پچاس سے زائد ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔افتتاحی تقریب میں یونیورسٹی آف تربت کے رجسٹرار گنگزار بلوچ، معروف شخصیت ڈاکٹر عبدالغفور، فیکلٹی ممبران ڈاکٹر عدنان ریاض، جمیل احمد اور امجد حبیب کے علاوہ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد،اسپورٹس انچارج مظہرعلی اور چیف سیکیورٹی آفیسر شاہد عیسیٰ سمیت کھلاڑیوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تابش علی نے انڈور گیمز کے انعقاد کے لیے تربت یونیورسٹی انتظامیہ کے بہترین انتظامات اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اس کے بھرپور تعاون پرشکریہ اداکیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ تربت یونیورسٹی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی شخصیت سازی اور صحت مند و مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیچ اسپرنگ فیسٹیول ڈپٹی کمشنر یاسراقبال دشتی کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ کے زیراہتمام منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو پرامن اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا، ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، خواتین میں اعتماد کو فروغ دینا اور معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، جس کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے رجسٹرار گنگزار بلوچ نے کہا کہ غیر نصابی سرگرمیاں تعلیم کا لازمی حصہ ہیں، جو ایک صحت مند اور متحرک معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی سربراہی میں ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز اور اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے طلبہ کو علم اور معلومات پر مبنی تفریحی و تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنریاسراقبال دشتی کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ، نوجوانوں اور عوام کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے تربت یونیورسٹی میں طلبہ کے لئے کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے تعاون کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ تقریب کے اختتام پر انچارج اسپورٹس مظہر علی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فیسٹیول کا انعقاد اور اس میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی آل بلوچستان انٹر یونیورسٹی فٹبال چیمپئن شپ میں تربت یونیورسٹی کی شاندار کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ محدود وسائل کے باوجود تربت یونیورسٹی کھیلوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور متحرک ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3503
گوادر29اپریل:۔ صحت کے شعبے میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر جی ڈی اے پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال، گوادر میں جدید اینڈوسکوپی یونٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ یہ تقریب ہسپتال کے دو سال مکمل ہونے اور گیسٹرو اینٹرولوجی شعبے کی توسیع کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں عوامی سطح پر طبی سہولیات کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا۔افتتاح صوبائی اسمبلی کے رکن و ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جدید اینڈوسکوپی یونٹ کا قیام گوادر اور گرد و نواح کے لاکھوں شہریوں کے لیے ایک بڑا طبی تحفہ ہے، جس سے پیچیدہ امراض کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت کے آغاز سے شہریوں کو اب کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا طویل اور مہنگا سفر نہیں کرنا پڑے گا، جو حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی اظہار ہے۔انہوں نے ہسپتال کے نئے بلاک کے مختلف وارڈز کا دورہ بھی کیا اور زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے مریضوں سے فراہم کردہ طبی سہولیات، ادویات اور خوراک کے معیار کے بارے میں دریافت کیا، جس پر مریضوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ہیڈ آف کیمپس ڈاکٹر عفان فائق زادہ نے کہا کہ یہ دن ادارے کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دو سال قبل اسی عمارت میں او پی ڈی کا آغاز کیا گیا تھا، اور آج باقاعدہ طور پر اینڈوسکوپی سروسز کا آغاز گوادر میں جدید طبی سہولیات کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سروسز مریضوں کے لیے شفا اور آسانی کا ذریعہ بنیں گی۔تقریب میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ایڈمن چنگیز خان، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ، پبلک ریلیشنز آفیسر جی ڈی اے حفیظ شیران، کنسلٹنٹ یورولوجسٹ ڈاکٹر ظفر اللہ بلوچ، ہسپتال انتظامیہ، طبی عملے اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر ہسپتال کے دو سال مکمل ہونے اور اینڈوسکوپی سروسز کے آغاز کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا، اور ادارے کی مزید ترقی اور عوامی خدمت کے تسلسل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3504
گوادر29اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور کی سربراہی میں انسدادِ ڈینگی مہم کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی سطح پر ڈینگی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فوری، مؤثر اور مربوط اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر حفیظ بلوچ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر واحد بلوچ، ایس پی پولیس عبدالواحد بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی گوادر مکتوم موسیٰ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات طارق بلوچ، ایگریکلچر آفیسر امین اللہ بلوچ، 44 ڈویژن کے نمائندہ ہارون، ڈسٹرکٹ منیجر این آر ایس پی پیر جان بلوچ، جی ڈی اے کے نمائندہ اسد اللہ، جی ڈی اے ہسپتال کے نمائندہ عشر درانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر یاسر طاہر نے بتایا کہ گزشتہ سال ضلع بھر میں ڈینگی کے 320 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال جنوری سے اب تک 185 کیسز سامنے آ چکے ہیں، جو تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیو ٹاؤن، فقیر کالونی اور گٹھی ڈور کو ہائی رسک علاقے قرار دیا گیا ہے، جہاں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈینگی کے تدارک کیلئے مربوط حکمتِ عملی کے تحت فوگنگ، لاروا سرویلنس اور صفائی مہم کو مائیکرو لیول پر مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ اداروں کو واضح ذمہ داریاں سونپتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ وہ فیلڈ میں اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں۔محکمہ صحت، پاپولیشن ویلفیئر، سوشل ویلفیئر، این آر ایس پی اور محکمہ تعلیم کو بھرپور عوامی آگاہی مہم چلانے کا ٹاسک دیا گیا، جبکہ محکمہ ماحولیات کو ہدایت دی گئی کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سب ڈویژن جیوانی، پسنی اور اورماڑہ میں بھی انسدادِ ڈینگی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جبکہ جی ڈی اے کی انوائرمنٹ اور میونسپل ٹیموں کو بھی اس مہم میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔مزید برآں، جی ڈی اے ہسپتال کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی لیبارٹری اور طبی مشینری کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار رکھے، تاکہ بروقت تشخیص اور علاج یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3505
موسیٰ خیل29 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت زرعی انکم ٹیکس محصولات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر(انڈر ٹریننگ) اخونزادہ بشیر احمد اور ضلع کی چاروں تحصیلوں کے تحصیلداروں نے شرکت کی اجلاس میں چاروں تحصیلوں میں زرعی ٹیکس کی وصولی اور اب تک کے اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے محصولات کی وصولی کی رفتار کو تیز کرنے کے حوالے سے متعلقہ افسران کو دوٹوک احکامات جاری کیے تحصیلداروں کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ زرعی انکم ٹیکس کے اہداف کو ہر صورت میں بروقت پورا کیا جائے۔محصولات کی وصولی میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیری حربے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ تمام تحصیلدار فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور واجب الادا ٹیکس کی سو فیصد وصولی کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں انہوں نے مزید تنبیہ کی کہ مقررہ ہدف کے حصول میں ناکامی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبر نامہ نمبر 2026/3506
لورالائی29اپریل: پولیس کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، دو ایکڑ پر کاشت افیون کی فصل تلف لورالائی میں پولیس نے منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے افیون (تاریاک) کی کاشت کو تلف کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ڈی پی او صدر غلام اکبر کی سربراہی میں تھانہ سٹی لورالائی کے ایس ایچ او شہید محمد اشرف ترین، سب انسپکٹر محمد شریف موسخیل، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد جہانگیر، ایگل اسکواڈ اور دیگر پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے کلی پٹھانکوٹ میں مشترکہ آپریشن کیا۔کارروائی کے دوران تقریباً دو ایکڑ اراضی پر غیر قانونی طور پر کاشت کی گئی افیون کی فصل کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ زمین کے مالک عبدالغنی ولد پائند خان (قوم سلیمانخیل) کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات کے خاتمے کے لیے ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لورالائی میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیزلورالائی اور گردونواح میں منشیات کے کاروبار کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے منشیات برآمد کی گئی۔ڈسٹرکٹ پولیس حکام کے مطابق نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کے لیے خصوصی مہم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت تعلیمی اداروں اور مقامی آبادی میں آگاہی پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ منشیات سے متعلق کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3507
کوئٹہ29اپریل۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت اور عوامی شکایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ میراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی اور اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے ائیرپورٹ روڈ اور گردونواح کے علاقوں میں رجسٹرڈ پیٹرول پمپوں کا دورہ کیا۔اس موقع پر پیٹرول پمپوں پر پیمائش (گیج)، قیمتوں اور معیار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ عوام کو معیاری اور مقررہ نرخوں پر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اس دوران نواں کلی اور ائیرپورٹ روڈ پر تجاوزات کے خلاف آگاہی مہم بھی چلائی گئی، جس میں دکانداروں اور عوام کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ سرکاری اراضی اور سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات سے گریز کریں اس کے علاوہ عوامی شکایات پر ایک نجی تعلیمی ادارے کے قریب واقع اسٹیشنری شاپ پر ویپ فلیورز کی فروخت کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر معائنہ کیا گیا اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر دکان کو سیل کر دیا گیا.

خبر نامہ نمبر 2026/3508
کوئٹہ29اپریل:ـکوئٹہ میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس نے خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران 8 کلوگرام چرس برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ منشیات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی قبضے میں لے لی گئی۔محمکہ ایکسائز حکام کے مطابق ایئرپورٹ روڈ پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو منشیات فروشوں کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے 8 کلوگرام چرس برآمد کی، جو مبینہ طور پر اسمگلنگ کے لیے منتقل کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ ایک موٹر سائیکل بھی ضبط کی گئی جو منشیات کی ترسیل میں استعمال ہو رہی تھی۔کارروائی کے دوران برآمد شدہ منشیات کی تصدیق کے لیے جدید INL آلات (ہینڈ ہیلڈ رمن اینالائزر کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے موقع پر ہی منشیات کی نوعیت کی تصدیق کی گئی۔ملزمان کے خلاف مقدمہ (FIR) درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ افراد کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔محکمہ ایکسائز کے حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3509
قلعہ سیف اللّٰہ28اپریل:ـمنشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت پولیس، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینٹی نارکوٹکس فورس اے این ایف اور فرنٹیئر کور نے مشترکہ طور پر ایک اہم کارروائی انجام دی، جس کے دوران مختلف مقامات پر کاشت کی گئی غیر قانونی پوست (افیون) کی فصل کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔افسران کے مطابق یہ کارروائی بٹوزئی کے مختلف علاقوں میں تین الگ الگ سائٹس پر کی گئی۔سائٹ نمبر 1 (پتلی بٹوزئی) میں 25 ایکڑ غیر آباد اراضی پر پوست کی کاشت کی گئی تھی سائٹ نمبر 2 (نالیسر بٹوزئی) میں 10 ایکڑ اراضی پر موجود فصل کو تلف کیا گیا، سائٹ نمبر 3 (نالیسر بٹوزئی) میں مزید 10 ایکڑ پر کاشت کی گئی فصل کو ختم کیا گیا، حکام کے مطابق تینوں مقامات پر کاشت کی آبپاشی ڈیم کے پانی کے ذریعے کی جا رہی تھی۔ مشترکہ ٹیموں نے مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 45 ایکڑ پر مشتمل پوست کی فصل کو مکمل طور پر تلف کر دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خاتمے کے لیے اس نوعیت کی کارروائیاں مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *