خبرنامہ نمبر7437/2026
کوئٹہ، 09 جون۔حکومت بلوچستان نے وحدت کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر سخت کارروائی کرتے ہوئے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے انڈر سیکرٹری آفتاب جبل اور ڈرائیور مسعود احمد کو معطل کر دیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ واقعہ کا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے زیر الزام متعلقہ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری کی تھی جس کے بعد دونوں اہلکاروں کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت واقعہ کے تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور اس سلسلے میں شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ سرکاری افسران اور اہلکاروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ان کے حقوق کے دفاع کو حکومت بلوچستان اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قانون کی حکمرانی، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتی ہے اور کسی بھی واقعہ میں ملوث یا غفلت کے مرتکب عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعہ سے متعلق جامع رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے تاکہ حقائق کی روشنی میں مزید ضروری اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی اور ذمہ داران کے تعین کے لیے تمام دستیاب قانونی و انتظامی وسائل بروئے کار لائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7438/2026
نصیرآباد9جون۔: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے رات گئے اچانک ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی ڈیوٹیوں پر موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان سے علاج معالجے اور دیگر سہولیات کے حوالے سے دریافت کیا۔ڈپٹی کمشنر نے ٹراما سینٹر میں ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، طبی آلات اور عملے کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا۔ اس دوران ادویات کی کمی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو صورتحال سے فوری آگاہ کرنے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔دورے کے دوران سب ڈویژنل آفیسر عابد علی پہنور اور ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے انتظامی امور کا جائزہ لیا اور عملے کی حاضری بھی چیک کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عظیم فریضہ ہے، طبی عملہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، ایمانداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو بروقت طبی امداد اور بہتر علاج کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئندہ بھی اسی طرز کے اچانک اور سرپرائز دورے جاری رکھیں گے تاکہ صحت کے مراکز میں موجود سہولیات، عملے کی کارکردگی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہنگامی حالات میں آنے والے مریضوں کو بروقت اور موثر علاج کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7439/2026
جعفرآباد9جون ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ضلعی سطح کی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلاک شدہ قومی شناختی کارڈز اور افغان مہاجرین کے نام پر بنائے گئے شناختی کارڈز کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، پولیس افسران، نادرا حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر بلاک شناختی کارڈ ہولڈرز بھی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے جن کے کیسز کا انفرادی طور پر جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران بلاک شناختی کارڈز سے متعلق مختلف درخواستوں، دستاویزات اور شواہد کا باریک بینی سے معائنہ کیا گیا جبکہ شناختی کارڈز کے اجرائ کے طریقہ کار اور قانونی تقاضوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ تمام معاملات کو میرٹ، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جائے گا تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور قومی شناختی نظام کی ساکھ برقرار رہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے شناختی کارڈز کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی جانب سے غیر قانونی ذرائع سے بنوائے گئے قومی شناختی کارڈز کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گے اور ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی احکامات اور پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، نادرا، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے تمام کیسز کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی یا غیر قانونی دستاویزات کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ جائز اور مستحق شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلاک شناختی کارڈز کے حوالے سے بھی ہر کیس کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ شہریوں کو اپنی شہریت اور شناخت ثابت کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ قانون کی بالادستی، قومی سلامتی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام تر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7440/2026
نصیرآباد9جون ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں محکمہ ریونیو میں پٹواریوں کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کا عمل مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر شروع کر دیا گیا۔ اس موقع پر امیدواروں کے تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات اور پٹواری ڈگریوں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی گئی تاکہ بھرتی کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا غیر شفافیت کی گنجائش نہ رہے۔انٹرویو کمیٹی میں اکاونٹس آفیسر امجد بہرانی، سپرنٹنڈنٹ عبدالصمد کھوسہ اور بابو شیر اللہ کھوسہ بھی شامل تھے، جنہوں نے امیدواروں کے کوائف، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور ان کی اہلیت کا جائزہ مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق لیا جائے۔اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ محکمہ ریونیو میں پٹواریوں کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے انٹرویو کا عمل مکمل شفافیت، دیانتداری اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی واضح ہدایات ہیں کہ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے تمام مراحل کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنایا جائے تاکہ اہل اور قابل امیدواروں کو ان کا حق مل سکے۔کمشنر نصیرآباد ڈویڑن نے مزید کہا کہ محکمہ ریونیو عوامی خدمات سے براہ راست وابستہ اہم محکمہ ہے، اس لیے اس میں ایسے افراد کا انتخاب ناگزیر ہے جو دیانتدار، باصلاحیت اور عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ پر بھرتیوں سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا انہوں نے امید ظاہر کی کہ منتخب ہونے والے امیدوار اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے محکمہ ریونیو کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7441/2026
خضدار9جون ۔خضدار: نال میں پیش آنے والے فائرنگ میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال خضدار منتقل کر دیا گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی الرٹ جاری کر کے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا شروع کر دی۔ زخمیوں کی عیادت کیلئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، ایم ایس جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر سرمد سعید اور ڈی ایچ او خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی بھی ہسپتال پہنچے۔ انہوں نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور زیر علاج مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں ہر ممکن طبی سہولت مفت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ زخمیوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے علاج و بحالی کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ایم ایس ڈاکٹر سرمد سعید نے بتایا کہ زخمیوں کو ایمرجنسی وارڈ میں رکھ کر فوری ٹریٹمنٹ دیا گیا ہے۔ ہسپتال میں آکسیجن، ادویات اور سرجیکل سہولیات مکمل طور پر فعال ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7442/2026
لورالائی9جون ۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی ماحول دوست پالیسیوں کے نفاذ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضلع بھر میں مختلف ماربل فیکٹریوں، کرش پلانٹس اور دیگر صنعتی یونٹس کے خلاف خصوصی معائنہ مہم چلائی گئی۔ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر متعلقہ محکموں کے افسران نے مختلف صنعتی مراکز کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ ماحولیاتی قوانین، حکومتی ایس او پیز اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ معائنے کے دوران متعدد ماربل فیکٹریوں اور کرش پلانٹس میں گرد و غبار پر قابو پانے کے ناقص انتظامات، ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کی خلاف ورزی اور دیگر حفاظتی اقدامات میں کوتاہیاں سامنے آئیں۔خلاف ورزیوں کے مرتکب صنعتی یونٹس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ جرمانوں کی وصول شدہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے۔ متعلقہ مالکان اور انتظامیہ کو سختی سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ماحولیاتی قوانین اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ صاف اور صحت مند ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شجرکاری مہم، عوامی آگاہی پروگرامز اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر شہریوں، صنعتکاروں اور تاجروں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔ضلعی انتظامیہ لورالائی نے واضح کیا ہے کہ انسانی صحت اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی، جبکہ عوامی صحت، صاف ماحول اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے تمام صنعتی و تجارتی اداروں کو ماحولیاتی ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7443/2026
اسلام آباد 9 جون۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دنیا کے تمام مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں سماجی انصاف درحقیقت عدالتی انصاف سے پہلے آتا ہے۔ سماجی انصاف کے بغیر تمام معاشی اقدامات اور گورننس کی اصلاحات بھی اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ سماجی انصاف بنیادی حقوق، مساوی مواقع اور عوام کو جان و مال کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔ سماجی انصاف میں ہی تمام معاشی اور معاشرتی اقدامات پیوست ہیں۔ اپنے اہک بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل طاقت عام آدمی کو اپنے تمام منصوبوں اور پالیسیوں کے محور و مرکز بنانے میں مضمر ہے۔ جب متعلقہ سرکاری حکام اور پالیسی میکرز اچھی طرز حکمرانی کا فریم ورک اور معاشی حکمت عملی وضع کرتے ہیں تو اسکی حقیقی ترقی اور کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ آیا اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات اور ثمرات عام لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ گویا اچھی طرزِ حکمرانی اور حقیقی معاشی ترقی عام شہری کا معیار زندگی بلند کرنے سے مشروط ہے۔ اسطرح معاشی پالیسی کی کامیابی کا اندازہ بالآخر عام شہری کیلئے اس کے ٹھوس نتائج سے ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر معاشی ترقی اور اچھی طرز حکمرانی کے اثرات اور ثمرات معاشرہ کے عام لوگوں تک نہیں پہنچتے تو اسٹریٹ کرائمز، ناانصافی اور غربت میں اضافے کے خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ مساوی مواقعوں و سہولیات کی عدم دستیابی اور سماجی ناانصافی معاشرے میں میرٹ کی پامالی، بدظنی ، بیگانگی اور سماج دشمن رویوں کو جنم دیتی ہیں اور پورے معاشرے کے فیبرک کو نقصان پہنچاتی ہے۔ لہٰذا تمام سیاسی اور معاشی سرگرمیوں میں عام شہریوں کی بامعنی شرکت و شمولیت کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے۔ سماجی انصاف کی فراہمی کے بعد ہی ہم دیرپا امن، معاشی خوشحالی، سیاسی استحکام اور ایک ایسا مہذب معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ہر غریب اور کمزور فرد بھی عزت اور احساس تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی گزارہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7444/2026
اسلام آباد، 9 جون۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاوس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی اہم ملاقات ہوئی جس میں قومی و صوبائی امور، باہمی دلچسپی کے معاملات اور ملک کی مجموعی سیاسی و پارلیمانی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ بھی شریک تھے اس موقع پر وفاق اور بلوچستان کے درمیان روابط کو مزید موثر اور مربوط بنانے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات میں ہم آہنگی بڑھانے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ملاقات کے دوران جمہوری اداروں کے استحکام، پارلیمانی تعاون کے فروغ اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کو درپیش ترقیاتی و انتظامی چیلنجز، عوامی مسائل کے پائیدار حل اور ترقیاتی ترجیحات کی موثر تکمیل کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بلوچستان کی ترقی، امن و استحکام اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7445/2026
لورالائی 9جون ۔ڈی پی ایس سکول لورالائی میں ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کی مناسبت سے شاندار تقریب، ماحولیاتی تحفظ کے عزم کا اعادہ لورالائی: ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کے موقع پر ڈی پی ایس سکول لورالائی میں ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر لورالائی ڈویڑن ولی محمد بڑیچ تھے، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیاں آج پوری دنیا کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ ان مسائل سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے اجتماعی شعور، شجرکاری مہمات اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں ماحول کے تحفظ کے سفیر کا کردار ادا کریں۔اس موقع پر طلبہ و طالبات نے ماحولیات کے موضوع پر تقاریر، ملی نغمے، ٹیبلو اور آگاہی پروگرام پیش کیے، جنہیں شرکاءنے بے حد سراہا۔ طلبہ نے ماحولیاتی تحفظ، پلاسٹک کے کم استعمال، پانی کی بچت اور درخت لگانے کی اہمیت کو مختلف تخلیقی انداز میں اجاگر کیا۔تقریب کے دوران سکول کی جانب سے خصوصی شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے تحت سکول کے احاطے میں مختلف اقسام کے پودے لگائے گئے۔ مہمانانِ خصوصی نے بھی پودے لگا کر ماحول دوست سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ سرسبز و صاف پاکستان کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔مہمانوں نے ڈی پی ایس سکول انتظامیہ اور طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی مثبت سرگرمیاں نئی نسل میں ذمہ داری، سماجی شعور اور ماحول دوستی کے جذبات کو فروغ دیتی ہیں، جو مستقبل میں ایک صحت مند اور محفوظ معاشرے کی بنیاد بنیں گی۔تقریب کے اختتام پر سکول انتظامیہ کی جانب سے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ مہمانوں نے اس اعزاز پر سکول انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کامیاب اور بامقصد تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔آخر میں شرکاء نے ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ، صفائی کے اصولوں پر عملدرآمد اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7446/2026
گوادر، 8 جون: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور صحت عامہ کی بہتری کے عزم کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی سطح پر اقدامات جاری ہیں۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے رورل ہیلتھ سینٹر سربندن کا دورہ کیا اور ار ایچ سی میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور مریضوں کو دی جانے والی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت، معیاری اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش آیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق دور دراز علاقوں کے عوام تک بنیادی صحت کی سہولیات کی رسائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ڈاکٹر یاسر طاہر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع گوادر میں صحت کے مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے نگرانی کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت عوامی خدمت کے جذبے کے تحت صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7447/2026
لورالائی: 9جون ۔اسسٹنٹ کمشنر کا بی ایچ یو ناصر آباد کا اچانک دورہ، طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لورالائی: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے بیسک ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) ناصر آباد ملک اللہ انور کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال میں دستیاب ادویات کے ذخیرے، طبی آلات، صفائی ستھرائی کے انتظامات، عملے کی حاضری اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور علاج معالجے کے حوالے سے ان کے مسائل اور آراء معلوم کیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے متعلقہ طبی عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بروقت، معیاری اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت میں غفلت، غیر حاضری اور فرائض میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے سخت نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور صحت کے مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادویات کی دستیابی، طبی آلات کی فعالیت اور صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون برقرار رکھا جائے گا۔ دورے کے اختتام پر انہوں نے بی ایچ یو انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری بہتری کے لیے سفارشات مرتب کیں اور ہدایت کی کہ تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7448/2026
نصیرآباد 9جون ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) فیز ٹو کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبوں پر جاری پیش رفت، معیارِ تعمیر اور تکمیلی مراحل کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر آفس کی باونڈری وال، شہید عبدالغفار سیال کرکٹ گراونڈ میں فلیش فلڈ لائٹس کی تنصیب، گوٹھ گل حکیم تا میر حسن روڈ، فلٹریشن پلانٹس چھتر روڈ، بس اسٹینڈ سمیت دیگر اہم عوامی فلاحی منصوبوں کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران سے منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ ظفر اقبال زہری، سب ڈویژنل آفیسر مواصلات و تعمیرات (بلڈنگز) عابد علی پہنور، ڈپٹی کمشنر کے پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی، مہندر کمار، اسد بنگلزئی، حاجی محمد امین مری اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے منصوبوں کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور کچھ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار اور معیار کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے خطیر فنڈز خرچ کر رہی ہے، لہٰذا ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت، تاخیر یا ناقص تعمیراتی کام ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔وریندر لعل نے متعلقہ محکموں کے افسران اور عملے کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور تعمیراتی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات بروقت اور مکمل طور پر حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور سرکاری وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدگی سے فیلڈ وزٹس کرکے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیں اور درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کریں تاکہ تمام ترقیاتی اسکیمیں مقررہ اہداف کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7450/2026
لورالائی9جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سیشن کورٹ لورالائی کا دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سکول کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز، صفائی کی صورتحال، تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے سکول انتظامیہ اور اساتذہ سے ملاقات کرتے ہوئے تدریسی سرگرمیوں، طالبات کی حاضری اور درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے سکول میں قائم میڈیکل سینٹر کا بھی دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور طالبات کو دی جانے والی طبی خدمات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ طالبات کی صحت کے تحفظ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔مزید برآں، انہوں نے ویمن لائبریری کا بھی دورہ کیا، جہاں موجود کتب، مطالعاتی سہولیات اور طالبات کے لیے فراہم کردہ تعلیمی وسائل کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طالبات میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لائبریری کے موثر استعمال اور اس کی مزید بہتری کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت اور علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی، نظم و ضبط، تعلیمی معیار، طبی سہولیات اور لائبریری کی فعالیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سکول، میڈیکل سینٹر اور ویمن لائبریری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کرکے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ طالبات کو بہتر تعلیمی، طبی اور مطالعاتی سہولیات میسر آ سکیں۔سکول انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تعلیمی، طبی اور لائبریری سہولیات کی بہتری کے لیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7451/2026
لورالائی9جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، تحصیلدار بوری، نائب تحصیلدار بوری، پرائس کنٹرول کمیٹی کے انچارج، انجمن تاجران کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےدکانداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، دودھ، دہی، گوشت، بیکری آئٹمز، سبزیوں اور دیگر ضروری اشیاء کے نرخوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر عوام کو معیاری اشیاء مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے اور مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گران فروشی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں تاجروں کے نمائندوں نے بھی اپنے مسائل اور تجاویز پیش کیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے عوامی مفاد میں تاجروں اور دکانداروں سے مکمل تعاون کی اپیل کی۔ اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو مناسب قیمتوں پر ضروری اشیاءکی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ مختلف بازاروں اور مارکیٹوں میں پرائس کنٹرول مانیٹرنگ کو مزید موثر بنایا جائے گا اور گران فروشوں و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 7452/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اپنے دفتر میں زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سے تعلق رکھنے والے مختلف وفود اور عوامی نمائندوں سے ملاقات کے دوران حاجی نور محمد دمڑ نے ان کے مسائل اور مطالبات تفصیل سے سنے۔ اس موقع پر وفود نے اپنے علاقوں کو درپیش مختلف عوامی مسائل سے آگاہ کیا صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے وفود کو یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں گے اور متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا جلد از جلد ازالہ ممکن بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سمیت بلوچستان کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور مسائل کے بروقت حل کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں حاجی نور محمد دمڑ نے مزید کہا کہ عوام کے مسائل سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اور کسی بھی علاقے کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7453/2026
کوئٹہ 9جون ۔ صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کی تیاری و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں بی ایف اے کی انسپیکشن ٹیموں نے متعدد خوراک کے مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت قانونی اقدامات اٹھائے۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران کوئٹہ میں ایک بیکنگ یونٹ اور ایک ریسٹورنٹ کو صفائی کی انتہائی ناقص صورتحال، غیر معیاری اشیائ خورونوش کے استعمال اور فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کردیا گیا جبکہ گوادر، حب، کوئٹہ، آواران اور ڈیرہ مراد جمالی میں مجموعی طور پر 41 مراکز مالکان پرجرمانے عائد کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 2 مراکز سیل اور 41 کاروباروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔کوئٹہ میں نواں کلی، ایئرپورٹ روڈ، سبزل روڈ، سی پیک روڈ، ملینیم مال، مشین روڈ، سرکی روڈ اور جتک اسٹاپ کے علاقوں میں بیکنگ یونٹس، ریسٹورنٹس، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، اچار شاپس، نمکو پروسیسنگ یونٹس، مصالحہ شاپس اور جنرل اسٹورز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ انسپیکشن کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات، غیر معیاری و زائدالمیعاد اشیائ کی موجودگی، خوراک کی غیر محفوظ تیاری، ملازمین کے میڈیکل سرٹیفکیٹس کی عدم دستیابی اور دیگر خلاف ورزیوں کی نشاندہی پر متعلقہ کاروباروں کے خلاف جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں، ملاوٹ مافیا اور ناقص خوراک تیار و فروخت کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر میں نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر کے مطابق فوڈ سیفٹی صرف حکومتی اداروں کی نہیں بلکہ یم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خوراک سے وابستہ تمام کاروباری افراد کو چاہیے کہ وہ صفائی، معیار اور فوڈ سیفٹی اصولوں کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں، سیلنگ اور قانونی کارروائیوں کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7454/2026
دکی 9جون ۔: ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ اسسمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال، ایکسین بلڈنگ ملک اسد خان ترین، اکاونٹس آفیسر عبدالباقی، ایکسائز آفیسر عبدالمنان ناصر سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ ایکسائز دکی کے دفتر کے قیام کے لیے نجی عمارت کرایہ پر حاصل کرنے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی نے دفتر کے لیے دستیاب عمارتوں کی موزونیت، محل وقوع، بنیادی سہولیات، کرایہ کی مجوزہ شرح اور دیگر انتظامی و قانونی تقاضوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اجلاس کے دوران شرکاء کو متعلقہ حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی، جس میں محکمہ ایکسائز کے دفتری امور کو موثر انداز میں چلانے کے لیے مناسب اور معیاری عمارت کے انتخاب کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے مختلف آپشنز کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق کرایہ کے تعین اور منظوری کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے اور تمام معاملات میں شفافیت، میرٹ اور مروجہ قوانین کو مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز کو مناسب دفتری سہولیات کی فراہمی عوامی خدمات کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس میں سرکاری دفاتر کی کارکردگی بہتر بنانے، شہریوں کو بروقت خدمات کی فراہمی اور مختلف محکموں کے درمیان باہمی رابطوں کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام انتظامی امور کو مقررہ ضابطوں کے تحت جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ محکمہ ایکسائز کے دفتر کے لیے موزوں عمارت کے انتخاب اور کرایہ کے تعین سے متعلق تمام کارروائی کو قواعد و ضوابط کے مطابق حتمی شکل دے کر متعلقہ حکام کو سفارشات ارسال کی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7455/2026
دکی:9جون ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ایس این آئی ڈی مئی 2026 پوسٹ کمپین جائزہ اجلس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، این اسٹاپ آفیسر ڈاکٹر عبد الحمید، ڈی پی او ڈاکٹر عبداللہ جان، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیر محمد، سی سی او سعید احمد ناصر، اے ڈی ایم راز محمد ناصر، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر صدام حسین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مہم کے دوران حاصل کردہ نتائج، ویکسینیشن کوریج، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے، موثر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے اور کمیونٹی سطح پر آگاہی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی اور انسداد پولیو سمیت صحت عامہ کے پروگراموں کی کامیابی کے لیے تمام اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل کی مہمات کو مزید بہتر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7456/2026
کوئٹہ ، 9جون ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ محرم الحرام کے جلوسوں و مجالس کی سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کے سیکورٹی پلان پر ہر صورت عملدرآمدیقینی بنایا جائے جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ حساس مقامات، امام بارگاہوں، مساجد اور عبادت گاہوں کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹر ل پولیس آفس کوئٹہ میں صوبے کے پولیس افسران سے بذریعہ ویڈیو لنک محرم الحرام اور دیگر سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ایڈمنسٹریشن جاوید علی مہر ، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز شہزاد اکبر ، ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بی سی اشفاق احمد ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز حسن اسد علوی ، ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی و اے ٹی ایف اعتزاز احمد گورایہ ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علا?الدین ، ڈی آئی جی کرائمز برانچ سہیل خالد ، ڈی آئی جی فنانس سہیل احمد شیخ ، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن شاد ابن مسیح ،کمانڈنٹ پی ٹی سی ڈاکٹر فرحان زاہد اورڈسٹرکٹ پولیس افسران سمیت دیگرافسران بھی موجود تھے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے ہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سیکورٹی کیلئے تمام موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جامع حکمت عملی کے تحت فول پروف انتظامات کئے جائیں۔مجالسِ ، جلوسوں و دیگر حساس مقامات پر ڈسٹر کٹ پولیس کے علاوہ ایف سی اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکار نگرانی کرینگے۔ امام بارگاہوں ، مجالس کے مقامات پر فورس کے جوانوں سمیت نصب سی سی ٹی کیمروں کی مدد سے نگرانی کی جائے گی۔محرم الحرام کے دوران پولیس کا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل تیا ر کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں امن و امان کو برقر ار رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے اورسیکورٹی پلان کے تحت شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر چیکنگ اور سیکورٹی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائےگاجبکہ محرم الحرام کے جلوس کے منتظمین کے ساتھ مل کر سیکورٹی پلان پرعملدرآمد کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملکر امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے سیکورٹی انتظامات کئے جائیںگے۔آئی جی پولیس بلوچستا ن نے ہدایت کی کہ عاشورہ کے جلوس کے تمام روٹس کی سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جائے اور سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور حساس ادارے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز میں مزیدتیزی لائیں۔محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں امن و امان کو برقر ار رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہیں اورسیکورٹی پلان کے تحت شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر چیکنگ اور سیکورٹی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائےگا اورمحرم الحرام جلوس کے منتظمین کے ساتھ مل کر سیکورٹی پلان پرعملدرآمد کیا جائے گا۔آئی جی پولیس بلوچستان نے آر پی اوزاور ڈی پی اوز کوہدایت کی کہ مقامی امن کمیٹیوں کے فعالیت کو یقینی بنائیںاورتمام مکاتب فکر کے علماءاور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر باہمی ہم آہنگی کی فضائ کودوام دیں۔انہوں نے بتایا کہ جلو س کے روٹ پر آنے والی دکانو ں ، مارکیٹوں ، پلازوں کی سوئپنگ ، سرچنگ کے بعد سیل کیا جائے۔ محرم الحرام کے سلسلے میں کرایہ داری ایکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے تمام پراپرٹی ڈیلرز سے کرایہ پر رہنے والے دوکانوں اور مکانوں کے رہائشی افراد کا مکمل ڈیٹا لیا جائیگا اور کرایہ داری ایکٹ پر عمل درآمد نہ کرنے والے دوکان /مکان اور کرایہ دار ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔رینجز کے ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوزنے محرم سیکورٹی پلان کے حواے سے آگا ہ کیا 77مجالس،77امام بارگاہ،41 ناک جات،21 مورچے قائم کئے گئے ہیںجبکہ کنٹرول روم محکمہ داخلہ،آئی جی آفس اور ڈی آئی جی آفس میں قائم کئے جائیں گے۔ جبکہ یکم محرم سے دسویں محرم تک جلوس روٹس اور امام بارگاہوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ آئی جی آفس میں قائم کنٹرول روم سے کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران اور اس کی روٹس کی سیکورٹی کے لئے پولیس ،انتظامیہ ، ایف سی ، و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مامور ہونگے۔ تھانوں کی سطح پر علاقے میں کرایہ کے مکانوں میںسرائے ،ہوٹلوں اور شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر چیکنگ اور سیکورٹی کا نظام پہلے ہی سے موثر طور پر کام کر رہا ہے کالی شیشوں والی گاڑیوںاور غیر نمونہ نمبر پلیٹ اور نمبر پلیٹ کے بغیر اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور مشتبہ پبلک ٹرانسپورٹ کی چیکنگ کو یقینی بنایا جائے مشتبہ اشخاص اور مشتبہ گاڑیوں کی خصوصی چیکنگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ایس ایچ اوز اپنے تھانوں کے حدود میں روٹ سروے کر یں گے۔ جبکہ افغان مہاجرین /غیر ملکی افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی بیرونی ناکہ جات داخلی اور خارجی راستوں کو مضبوط کیا جائے گا جوکہ دن /رات چیکنگ کرئینگے۔۔ تمام جلوسوں کے روٹ و ملحقہ ایریا کی بذریعہ BDٹیم سر چنگ /وئپنگ کی جائے گی اورسراغ رساں کتوں سے بھی مدد لی جائیگی۔ محرم الحرام کے سلسلے میں یکم محرم سے کوئٹہ شہر کے تما م ہوٹل ، سرائے اور ریسٹورنٹ کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جائے گا اور وہاں پر موجود رجسٹر کے مطابق رہائشی افراد کا مکمل ڈیٹا حا صل کیا جائے گا اور ہوٹل ،ریسٹورنٹ ، سرائے اور کرایہ داروں کا ریکارڈ ہر تھانہ میں مر تب ہو رہاہے۔ محرم الحرام کے سلسلے میں یکم محرم سے کوئٹہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر سر چ IBOsآپریشنز دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر کئے جائینگے۔ محرم الحرام کے سلسلے میں مجالس ، جلوسوں و دیگر حسا س مقامات پر ڈسٹر کٹ پولیس کے علاوہ اسپیشل برانچ ، سی ٹی ڈی سے سفید پارچات میں اہلکار خفیہ نگرانی کے لئے متعین ہونگے۔ کوئٹہ شہر کے حساس مقامات کی CCTVکیمر وں کی مدد سے نگرانی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ پولیس روزانہ کی بنیاد پراچانک چیکنگ کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ افوائیں پھیلانے اور متنازعہ پمفلٹ تحریر و تقاریر کی قطاً اجازت نہیں ہوگی اس حوالے سے کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس کو تمام رینجز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسران نے محرم الحرام کے جلو س کی سیکورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے تفصیلا ً بتایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7457/2026
لورالائی9جون ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں نیو اڈہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاون کرتے ہوئے سرکاری اراضی اور عوامی گزرگاہوں پر قائم متعدد غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔آپریشن کے دوران ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے مختلف مقامات کا معائنہ کیا اور سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تعمیرات، عارضی ڈھانچوں اور تجاوزات کو ہٹانے کے اقدامات کیےکارروائی کے موقع پر میونسپل کمیٹی کے بازار محرر امان اللہ، ایڈیشنل ایس ایچ او جہانگیر خان، پولیس اہلکاروں اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی حصہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی راستوں، سرکاری اراضی اور شہری سہولیات پر کسی بھی فرد یا گروہ کا ناجائز قبضہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچتا ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر لورالائی کے وژن کے مطابق شہر بھر میں تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو صاف، منظم اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمینوں پر ناجائز قابض عناصر کے خلاف کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور کسی قسم کا دباو یا سفارش برداشت نہیں کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے نیو اڈہ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کی نشاندہی کے لیے سروے بھی مکمل کر لیا ہے، جس کی روشنی میں آئندہ دنوں مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔ انتظامیہ نے دکانداروں، رہائشیوں اور دیگر متعلقہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ ازخود غیر قانونی تجاوزات ختم کر دیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تجاوزات کے خاتمے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، شہریوں کو سہولت ملے گی اور سرکاری اراضی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قانون کی بالادستی، سرکاری املاک کے تحفظ، شہری مسائل کے حل اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی بھرپور انداز میں جاری رکھی جائیں گی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/7458
کوئٹہ09 جون:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع بسیمہ کے علاقے نال میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دشمن عناصر اور ان کے سہولت کار بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم “فتنہ الہندوستان” کے دہشت گردوں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، عزم اور قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے آپریشن کے دوران چودہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں۔ ایسے عناصر کا مقصد صوبے میں بدامنی پھیلانا اور عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا ہے، تاہم ریاستی ادارے ان کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے لانس حوالدار محمد عباس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے یہ بہادر سپوت قوم کا فخر ہیں جن کی لازوال قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم شہداء کی قربانیوں کی مقروض ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور دشمن کے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7459
گوادر9جون:ـڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت بارڈر کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پاک ایران سرحدی تجارت سے وابستہ تاجروں، بارڈر کمیٹی کے ارکان، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، صدر گوادر چیمبر آف کامرس جیہند ہوت، سابق صدر چیمبر آف کامرس شمس الحق، میر راشد، میر چراغ کلمتی، شہزاد کلمتی اور دیگر تجارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔اجلاس کے دوران تاجروں نے گبد-ریمدان بارڈر پر ایل پی جی اور دیگر تجارتی اشیاء کی نقل و حمل میں درپیش مشکلات، سہولیات کے فقدان اور بعض انتظامی رکاوٹوں کے حوالے سے اپنے تحفظات تفصیل سے ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھے۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں گبد-ریمدان بارڈر ملک کے لیے ایل پی جی کی درآمد کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، لہٰذا تجارتی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف مقامی تاجروں بلکہ قومی معیشت اور ریونیو وصولیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے تاجروں کے مسائل اور تحفظات کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ قانونی تجارت کے فروغ، سرمایہ کاروں کے اعتماد کے تحفظ اور بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ نہ صرف مقامی معیشت بلکہ قومی اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے جائز مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے مؤثر رابطہ کیا جائے گا۔اجلاس میں شرکاء نے بارڈر پر پارکنگ، حفاظتی اقدامات، بنیادی سہولیات، گاڑیوں کی کلیئرنس اور تجارتی عمل کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تجارتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق بارڈر تجارت کے فروغ، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور کاروباری سرگرمیوں کے استحکام کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے جائز تحفظات اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے تاکہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں اور قومی معیشت کو مزید تقویت حاصل ہو۔اجلاس کے شرکاء نے بارڈر تجارت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر کی سنجیدہ کاوشوں، فوری توجہ اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ضلعی انتظامیہ کی کوششوں سے تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مشکلات جلد دور ہوں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7460
تربت9 جون:ـ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اسٹرینتھننگ پارٹیسیپیشن آرگنائزیشن (SPO) تربت کے زیرِ اہتمام اور غربت مٹاؤ فنڈز (PAF) کے تعاون سے ایس پی او ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا،تقریب کی صدارت ایس پی او ضلع کیچ کے ریجنل منیجر محراب علی بلوچ نے کی جبکہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔اس تقریب میں سرکاری و سماجی شخصیات سمیت مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی، ریجنل منیجر محراب علی بلوچ، بی آر ایس پی کے ریجنل منیجر التاز سخی، این آر ایس پی کے ریجنل منیجر نبيل احمد بلوچ اور محکمہ ماحولیات کیچ کے آفیسر طارق الٰہی نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات بلوچستان، بالخصوص مکران کے عوام پر واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ تربت میں بڑھتی ہوئی گرمی اور موسمی شدت پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہےمقررین نے عوام پر زور دیا کہ وہ ماحول کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے اردگرد پودے لگائیں۔تقریب کے اختتام پر محکمہ جنگلات کیچ کے تحت باقاعدہ پودے لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7461
کوئٹہ 09 جون۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت بیوٹمز یونیورسٹی کے مختلف کیمپسسز کے ارضیات کے مسائل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی ٹی یونیورسٹی کے ذمہ داران، تحصیلدار سیٹلمنٹ، تحصیلدار صدر، قاننگو اور متعلقہ پٹواریوں نے شرکت کی۔اجلاس میں سٹی کیمپس، تکتو کیمپس اور چشمہ اچوزئی میں واقع اراضی سے متعلق مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مختلف امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلات حاصل کی گئیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے مسائل کے حل اور حقائق کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی، جس میں متعلقہ پٹواریوں اور دیگر ریونیو افسران کو شامل کیا گیا ہے۔کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ متعلقہ زمینوں کا موقع پر جاکر تفصیلی معائنہ اور جانچ پڑتال کی جائے اور ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کی جائے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مزید اقدامات عمل میں لائے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7462
ضلع قلعہ عبداللہ9جون:ـجنگل پیرعلیزئی بازار میں گزشتہ رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد جاری احتجاجی دھرنا ضلعی انتظامیہ، سیاسی و قبائلی رہنماؤں اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں ختم کر دیا گیا۔ دھرنے کے خاتمے کے ساتھ ہی کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے جس کے بعد مسافروں، مال بردار گاڑیوں اور دیگر ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ رات جنگل پیرعلیزئی بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی رہنما دولت خان پیرعلیزئی شہید جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں، قبائلی عمائدین اور مقامی عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو بلاک کر کے دھرنا دیا تھا۔ مظاہرین نے واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔صبح سویرے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اطہر رشید موقع پر پہنچے اور دھرنا کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ مذاکرات میں قبائلی رہنما حاجی فیض اللہ خان غبیزئی، عوامی نیشنل پارٹی ضلع قلعہ عبداللہ کے صدر ملک محمد حنیف اچکزئی،ااجمل خان اچکزئی حاجی محمد ابراہیم پیرعلیزئی صغر باچا خان پیرعلیزئی قبیلے کے معتبرین، قبائلی عمائدین اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔مذاکرات کے دوران دھرنا کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور شہید دولت خان پیرعلیزئی کے قتل کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی اور ڈی پی او اطہر رشید نے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کریں گے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے امن، بھائی چارے اور قانون کی بالادستی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی بھی اپیل کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7463
ضلع چمن9جون:ـڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت اسیسمنٹ کمیٹی، ریونیو، بینڈار این ایچ اے زراعت اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا کویٹہ چمن شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کوئٹہ چمن شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور شاہراہ پر کام کی رفتار معیار اور استعمال ہونے والے میٹریل موجودہ صورتحال، درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال اور ان کے حل کے لیے شرکاء نے اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر چمن نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سہولت، ٹریفک کی روانی اور شاہراہ پر بہتر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں مختلف محکموں کے نمائندوں نے بھی اپنی سفارشات اور آراء پیش کیں، جبکہ باہمی تعاون کے ذریعے مسائل کے حل اور شاہراہ کی بہتری کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/7464
سوراب09 جون: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے ایف سی 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ کے ہمراہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سوراب کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر یوسف ثانی نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ایمرجنسی وارڈ، ایکسرے روم، ڈینٹل وارڈ، او پی ڈی، بینظیر نشوونما پروگرام، میڈیسن اسٹور اور دیگر اہم یونٹس کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے زیر علاج مریضوں سے ملاقات کرکے علاج معالجے، دستیاب سہولیات اور طبی عملے کے رویے کے بارے میں دریافت کیا، جبکہ بعض مریضوں کا ذاتی طور پر جائزہ بھی لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ایمرجنسی سروسز، لیبارٹری کے معیار اور ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایم ایس، ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملہ اسی جذبے اور ٹیم ورک کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھتے ہوئے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گا۔
خبرنامہ نمبر 2026/7465
لورالائی9جون:ـڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے عوام کو جدید، شفاف اور آسان سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے مجوزہ ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام کے سلسلے میں متعلقہ محکمے کے ایگزیکٹو انجینئر (XEN) نادر شاہ کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی اور دیگر ممکنہ مقامات کا مشترکہ دورہ کیا۔دورے کے دوران عوامی سہولت، مرکزی شاہراہوں سے رسائی، دستیاب رقبہ، پارکنگ، معذور افراد کے لیے آسان رسائی، سیکیورٹی انتظامات اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف مقامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو مجوزہ منصوبے کے تکنیکی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے ہدایت جاری کی کہ منصوبے کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ اور دیگر تکنیکی و انتظامی امور کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ایک جدید اور مؤثر سہولت مرکز فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام سے شہریوں کو مختلف سرکاری محکموں کی خدمات ایک ہی چھت تلے میسر آئیں گی، جس کے نتیجے میں وقت، اخراجات اور وسائل کی بچت ممکن ہوگی۔ اس مرکز کے ذریعے عوام کو مختلف دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت کم ہوگی جبکہ خدمات کی فراہمی میں شفافیت، رفتار اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ فیسلیٹیشن سینٹر میں ڈومیسائل، لوکل سرٹیفکیٹ، فرد، رجسٹریشن، شکایات کے اندراج، سوشل ویلفیئر، ریونیو اور دیگر اہم سرکاری خدمات مرحلہ وار فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ مرکز میں جدید انفارمیشن ڈیسک، انتظار گاہ، ڈیجیٹل رہنمائی نظام اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی کاؤنٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے الگ سہولیات اور ترجیحی سروس ڈیسک قائم کیے جائیں تاکہ انہیں سرکاری خدمات کے حصول میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت یقینی بنائے جائیں۔ضلعی انتظامیہ لورالائی کے مطابق ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر کا قیام عوامی خدمت کے نظام میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور اس سے شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر اور آسان بنانے میں مدد ملے گی۔ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر، شفاف اور شہری دوست سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7466
کچھی9جون:ـ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کچھی، ونگ کمانڈر سبی سکاوٹس، اسسٹنٹ کمشنرز، ایکسین کیسکو، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، چیف آفیسر، سپیشل برانچ کے نمائندوں سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی، صفائی ستھرائی، بجلی کی فراہمی، طبی سہولیات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، عزاداروں کی سہولت اور مجالس و جلوسوں کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ حساس مقامات پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے جبکہ محکمہ صحت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کو باہمی رابطے اور مؤثر کوآرڈینیشن کے ساتھ فرائض انجام دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں محرم الحرام کے انتظامات کو حتمی شکل دینے اور مختلف امور پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7467
سوراب09 جون:ـڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایف سی 61 ونگ کمانڈر کرنل سید فخر رفیق طلحہ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سوراب شہر میں جاری متعدد ترقیاتی منصوبوں کا موقع پر جا کر جائزہ لیا، جن میں فیملی پارک سوراب، پبلک لائبریری، ڈی سی کمپلیکس، فٹبال اسٹیڈیم، لائیو اسٹاک آفس، سوراب چشمہ واٹر ٹینکی، واٹر بورنگ اسکیموں سمیت دیگر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری یہ منصوبے نہ صرف سوراب شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ شہریوں کو بہتر بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور درپیش مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کریں گے، جس کے نتیجے میں عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7468
کوئٹہ 09جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت یو این ڈی پی فلڈ ریکوری پروگرام ٹیم کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں جرمن حکومت کے تعاون سے KFW کے تحت جاری منصوبے کی پیش رفت اور مختلف جاری سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں بلوچستان میں بحالی اور موسمیاتی و قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے اقدامات، منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار، اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے امور زیرِ بحث آئے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے پروگرام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے متعلقہ ڈیٹا، معلومات اور مقامی سطح پر معاونت کی فراہمی کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی تاکہ منصوبے پر بروقت اور مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7469
قلات 9جون:۔عوامی تاثرات، شہریوں کے اعتماد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بلوچستان بھر میں ضلعی سطح پر ایک جامع عوامی تاثر (Public Perception) سروے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام PIFTAC بلوچستان کی جانب سے موصول ہونے والے خط نمبر 101/1/PIFTAC-HQ-3PUIC مورخہ 30 اپریل 2026 کی روشنی میں کیا جا رہا ہیحکام کے مطابق سروے کا بنیادی مقصد ضلعی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی مؤثریت، عوامی اعتماد کی سطح اور عوامی اطمینان کا جائزہ لینا ہے۔ سروے کے نتائج ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر پالیسی سازی، گورننس میں بہتری اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کے لیے قابلِ پیمائش معیارات مرتب کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔اس مقصد کے لیے SIGMA کے پرسیپشن مینجمنٹ ڈومین کے تحت ایک آن لائن سروے فارم تیار کیا گیا ہے، جس کا لنک تمام متعلقہ اداروں اور عوام کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ سروے کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب سرکاری ذرائع استعمال کیے جائیں۔اس ضمن میں ضلعی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، سرکاری جامعات، کالجز، اسکولوں، سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، عوامی معلوماتی چینلز اور دیگر مناسب فورمز کو سروے کی تشہیر اور عوامی شرکت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سروے کے کامیاب انعقاد کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں اور اس مراسلے کے موصول ہوتے ہی اس عمل کا آغاز کریں۔ مزید برآں، PIFTAC بلوچستان کو سروے سے متعلق تمام پیش رفت، اقدامات اور خط و کتابت سے مسلسل آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔حکام کے مطابق سروے کی تکمیل کے بعد مجموعی نتائج اور سفارشات PIFTAC بلوچستان کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ عوامی آراء کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی ڈھانچے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سروے میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ صوبے میں عوامی خدمات، امن و امان اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/7469
کوئٹہ 10جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں تندوروں اور گوشت فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 54 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 40 افراد کو جیل منتقل جبکہ 13 دکانیں اور تندور سیل کر دیے گئے۔ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے کچلاک، بلیلی، خیزی چوک، عالموں چوک، نواں کلی، کاسی روڈ، طوغی روڈ، سرکی روڈ، سریاب روڈ و دیگر علاقوں میں کارروائیاں کیں۔کارروائیوں کے دوران کم وزن روٹی فروخت کرنے والے تندوروں اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والے مرغی فروشوں کے خلاف قانونی اقدامات اٹھائے گئے۔یہ کارروائیاں اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کبیر مزاری، اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزئی، اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار، اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی نگرانی میں کی گئیں۔







