خبرنامہ نمبر3370/2026
کوئٹہ25 اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں بالخصوص اسکول کے اساتذہ کرام کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ہر مہذب معاشرے میں اساتذہ کو ایک باعزت اور باوقار مقام حاصل ہے۔ ٹیچرز بیک وقت رہنما، رول ماڈل اور ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ ویسے ہمارے تعلیمی اداروں میں ہم اکثر نصاب کو وقت پر مکمل کرنے، اسباق کی فراہمی اور امتحانات کے انعقاد پر توجہ دیتے ہیں لیکن اس سے بڑھ کر ایک بڑی سماجی ذمہ داری بھی ہے کہ آپ تمام طلباء و طالبات میں مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور اچھے انسانوں کا جوہر پیدا کریں۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے بلوچستان قلیل مگر بکھری ہوئی آبادی والا صوبہ ہے۔ محل وقوع کے اعتبار سے اس میں بیپناہ صلاحیت ہے پھر بھی اسے منفرد تعلیمی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ دوسرے صوبوں کے برعکس ہمارے پاس سخت حکومتی نگرانی اور احتسابی نظام کی کمی ہے اور سیاسی تنظیموں کی سطح پر بھی یہ ایک کمزوری پائی جاتی ہے۔ اسکے علاؤہ صوبے کے دورافتادہ اور پسماندہ دیہی علاقوں میں بہت سے لوگ اساتذہ کی غیرحاضری یا وقت کی پابندی نہ کرنے کے خلاف بات نہیں کرتے اور نہ ہی متعلقہ حکام کو ایسے مسائل کی اطلاع دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر ذمہ دار ذی شعور شخص کو اپنے ضمیر کے سامنے خود کو جوابدہ ہونا چاہیے کیونکہ احتساب صرف بیرونی نہیں بلکہ اندر سے بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا صوبہ تعلیم اور شرح خواندگی میں باقی سب سے پیچھے ہے۔ ہماری کارکردگی وہ نہیں پے جو کارکردگی ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ یہ مایوسی ہرگز نہیں ہے لیکن عمل کی دعوت ضرور ہے۔ قومی ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی سے ہم اپنے صوبے کو ملک کے ترقی یافتہ صوبوں کے برابر لا سکتے ہیں۔ مناسب تعلیم اور تربیت کے ساتھ ساتھ آپ طلباء کو جدید ہنر سیکھنے کا درس دیا کریں۔ گویا انہیں صرف امتحانات پاس کرنے یا تعلیمی ڈگریاں سمیٹنے کیلئے نہیں بلکہ معاشی طور پر بااختیار، ہنر مند اور باضمیر شہری بننے کی ترغیب دیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر اساتذہ پہلے دن سے ہی طلبہ کی پڑھائی پر پوری توجہ دیں اور کورس کے دوران ان کی مسلسل رہنمائی کریں تو طلبہ کو امتحانات میں نقل کے ناسور کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ آخر میں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبے بھر کے اسکول ٹیچرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صرف معلم نہیں ہیں بلکہ آپ تقدیر کے معمار ہیں ہر روز، آپ علم اور انسانیت کے درمیان پل بناتے ہیں اور آپ ایک ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کی امید ہیں۔
خبرنامہ نمبر3371/2026
کوئٹہ، 25 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ورلڈ ویٹرنری ڈے کے موقع پر ویٹرنری ماہرین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویٹرنری شعبہ انسانی و حیوانی صحت کے باہمی ربط کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحتِ عامہ کے فروغ اور محفوظ غذائی نظام کے قیام میں ویٹرنری ماہرین کی خدمات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں اینیمل ہیلتھ کے شعبے کو مضبوط بنا کر ویکسین کی مقامی تیاری کی جانب پیش رفت جاری ہے، جس سے نہ صرف بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ خود انحصاری کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائیواسٹاک سیکٹر کی بہتری اور پیداوار میں اضافے کے لیے جدید اصلاحی پالیسیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں انہوں نے موسمیاتی تغیرات کے تناظر میں مویشیوں کی مقامی نسلوں کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے لائیواسٹاک فارمز کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے جبکہ زرعی پالیسی کے تحت لائیواسٹاک کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوشت اور دودھ کی معیاری پیداوار کے لیے ویٹرنری لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس جیسے چیلنج سے نمٹنے میں ویٹرنری ماہرین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیری سیکٹر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومتی سطح پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مویشی پال حضرات کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے موبائل ویٹرنری سروسز کو وسعت دی جا رہی ہے جبکہ زونوٹک بیماریوں کی نگرانی اور بروقت تشخیص کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں مال مویشیوں کی مقامی نسلوں کا جینیاتی تحفظ صوبے کی معیشت اور ثقافت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر3372/2026
کوئٹہ، 25 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے انسدادِ ملیریا کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ملیریا ایک مہلک مگر قابلِ علاج بیماری ہے، جس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت اور عوام کو مل کر اس بیماری کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ملیریا کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے لیے مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ان سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر اور مؤثر بنائیں تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام بھی اس سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملیریا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اپنے اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کھڑے پانی کے خاتمے کو یقینی بنائیں، کیونکہ یہ بیماری کے پھیلاؤ کا بنیادی سبب بنتا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے ہر شہری کی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری اور ترجیح ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبرنامہ نمبر3373/2026
استامحمد۔۔گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول اللہ ڈنہ رند کے انچارج ظفر اللہ خان چھلگری نے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح اس اسکول کی عمارت بھی طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھی، جس کے باعث طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ بارشوں کے دوران کمروں کی چھتوں سے پانی ٹپکنا، دیواروں میں دراڑیں اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل معمول بن چکے تھے، جو نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کر رہے تھے بلکہ طلبہ اور اساتذہ کے لیے بھی باعثِ تشویش تھیانہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر لائیواسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی توجہ اور کاوشوں سے اسکول کی مرمت کے لیے فنڈز کی فراہمی ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے، جس سے نہ صرف اسکول کی عمارت کی بحالی ممکن ہوگی بلکہ طلبہ کو ایک محفوظ، بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول بھی میسر آئے گا ہیڈ ماسٹر نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اس نوعیت کے اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ بہتر انفراسٹرکچر ہی معیاری تعلیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان سے اپیل کی کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور اسی طرح کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کام بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہو سکیں، اور زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے اس سے مستفید ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر3374/2026
نصیرآباد25 اپریل:ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری صحت کے منصوبوں اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈی ایچ او کچھی ڈاکٹر ایاز احمد قریشی، ڈی ایم پی پی ایچ آئی عمران خان خجک، اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر قاضی پرویز احمد، اسسٹنٹ کمشنر مچھ سردارزادہ میر لیاقت علی جتوئی، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈھاڈر ڈاکٹر زائد حسین، ایم ایس سول ہسپتال بھاگ ڈاکٹر مشتاق احمد ابڑو،ایم ایس مچھ ڈاکٹر مشتاق احمد داجلی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت محکمہ صحت کچھی میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا منصوبوں کی رفتار، معیار اور درپیش چیلنجز پر بھی غور کیا گیا تاکہ ان کی بروقت اور مؤثر تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر ممتاز علی کھیتران نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کریں، فیلڈ وزٹس میں اضافہ کریں اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ان کا مزید کہنا تھا کہ صحت سے متعلق مسائل کا بروقت حل اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر3375/2026
کچھی۔۔ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈھاڈر کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈھاڈر ڈاکٹر زاہد علی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کچھی ڈاکٹر ایاز احمد قریشی اور ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی عمران خان خجک بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جنہوں نے ہسپتال کی کارکردگی، درپیش مسائل اور جاری سہولیات سے متعلق بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے حکومت بلوچستان کے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے تحت ہسپتال میں نصب کیے گئے سولر سسٹم کا بھی تفصیلی معائنہ کیا انہیں بتایا گیا کہ اس سولر سسٹم کے ذریعے ہسپتال میں بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے خاص طور پر ایمرجنسی، لیبارٹری اور دیگر اہم شعبہ جات میں بلا تعطل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں انہوں نے سولر سسٹم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس کی باقاعدہ دیکھ بھال اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور ہسپتال کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر3376/2026
سبی 25 اپریل:اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی نے گزشتہ روز بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب کے دوران جن منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ان میں گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول گلو شہر، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول لونی، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کڑک، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول یارخان ہاڑا مل اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سلطان کوٹ میں سولرائزیشن منصوبے جبکہ یونین کونسل کڑک میں ٹف ٹائل اور پی سی سی کے تحت گلی کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت ضلع بھر میں تعلیم، توانائی اور بنیادی سہولیات کے فروغ کے لیے جامع ترقیاتی اقدامات جاری ہیں۔ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کے ذریعے تعلیمی اداروں میں سولرائزیشن اور علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے متحرک ہے اور ایسے منصوبے عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سولرائزیشن سے توانائی کے مسائل میں کمی آئے گی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہو سکیں اور علاقے میں ترقی کا عمل تیز ہو۔
خبرنامہ نمبر3377/2026
صحبت پور۔ 25 اپریل: صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے زیر صدارت نصیر آباد زون میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے جاہزہ اجلاس صحبت پور میں منعقد ہوا اجلاس میں چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصر کے علاؤہ نصیر آباد زون کے سپریٹنڈنگ انجینئرز اور نصیر آباد زون کے تمام روڈ اور بلڈنگ سیکٹر کیضلعی انجینئرز آفیسران نے شرکت کی اجلاس میں نصیر آباد زون میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق اسکیم واہس تفصیلی جائزہ لیا گیا اسکے علاؤہ جن منصوبوں پر درپیش تیکنیکی یا مالی مسائل تھے ان تمام منصوبوں کا بغور جاہزہ لیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کو تسلی بخش کرار دیتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ ہے جہاں زراعت کے حوالے سے سالبھر زمینداروں کی مصروفیات ہوتی ہیں اور انھیں وقت پر اپنے زرعی اجناس کو منڈی تک پہنچانا ہوتا ہے لہذا جتنے بھی روڈ ساہیڈ کے جاری ترقیاتی منصوبے ہیں ان کی تکمیل میں تیزی لائی جائے اور جو منصوبے فنڈز یا کسی اور تیکنیکی مساہل کی وجہ سے سست روی کا شکار ہیں انہیں فوری طور پر حل کریں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے تمام متعلقہ انجینئرز آفیسران کو یہ ہدایات بھی دیں کہ ان منصوبوں کے کنٹریکٹرز کی مسلسل نگرانی کریں اگر کوئی بھی کنٹریکٹر غیر معیاری مٹیریل یا سست روی کا مرتکب ہوں تو ان کو نوٹسز جاری کریں اگر پھر بھی کوئی پیش رفت نا ہو تو بلیک لسٹنگ کی کارروائی عمل میں لائی جائے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ اسکے معیار کا خاص خیال رکھیں انہوں نے کہا کہ بلڈنگ سیکٹر کی جو بھی سیکم مکمل ہوتی ہے اسے جلد ہی متعلقہ محکمے کے حوالے کیا جائے اور اس حوالے کیا جائے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات نے محکمہ کے چیف انجینئرز آفیسران اور باقی متعلقہ انجینئرز آفیسران کو سختی سے ہدایات دی کہ اپنے متعلقہ اضلاع میں اپنے عملہ کی حاضری کو یقینی بنائیں اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی مسلسل بنیادوں پر کرنے کی ہدایات بھی دیں اور خود بھی اپنے سرکل میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے دورے بھی کیا کریں .
خبرنامہ نمبر3378/2026
لورالائی، 25 اپریل:کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے خصوصی احکامات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی ہدایت پر لورالائی شہر میں صفائی ستھرائی کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ میونسپل کمیٹی کا عملہ شہر کے مختلف زونز میں متحرک ہے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق باران زون میں مردہ کتوں کو ٹھکانے لگا کر علاقے کی مکمل صفائی کی گئی، جبکہ عبد الخالق زون کے جلال افغان وارڈ میں کوڑا کرکٹ اٹھا کر صفائی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اسی طرح عجب زون کے عربسین محلہ اور سلیم داد ولی کمپلینٹ زون کے ہزارہ محلہ میں نکاسی? آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نالیوں کی صفائی کی گئی۔میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر میں صفائی کے لیے ٹریکٹر ٹرالیوں کا استعمال بھی جاری ہے اور عملہ باقاعدگی سے گلی محلوں سے کچرا اٹھانے میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر میں لگائے گئے درختوں کو سرسبز و شاداب رکھنے کے لیے پانی دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔انتظامیہ کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شہر کو صاف رکھنے میں میونسپل عملے کے ساتھ تعاون کریں اور کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر ہی پھینکیں۔
خبرنامہ نمبر3379/2026
اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور دیگر ضلعی آفیشلز کے ہمراہ خضدار شہر میں جاری مختلف ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کا بنیادی مقصد تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکوں اور انفراسٹرکچر* کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ اپوزیشن لیڈر نے وفد کے ہمراہ خضدار سٹی میں جاری منصوبوں، نکاسی آب، سڑکوں کی توسیع اور عوامی سہولیات کا بغور مشاہدہ کیا۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ ضلع خضدار کے عوام کو معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ منصوبے نوجوان نسل کو آگے بڑھنے اور ضلع کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے مزید کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند امر ہے کہ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے باہمی مشاورت سے تعلیم، صحت، صاف پانی اور شہری پلاننگ سمیت تمام شعبوں پر پوری دلجمعی سے کام کر رہے ہیں۔ ان مشترکہ کاوشوں سے خضدار سٹی اور پورے ضلع میں عوامی فلاح و بہبود کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اپوزیشن لیڈر کو جاری و مکمل ہونے والے منصوبوں کے خدوخال، لاگت اور عوامی فوائد پر آگاہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی ایمرجنسی، صحت کے مراکز کی اپ گریڈیشن اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔دورے میں اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، ایکسیئن پی ایچ ای عبدالرؤف قمبرانی، ایکسیئن سی اینڈ ڈبلیو سلیم رزاق عمرانی، ایکسیئن روڈ قاضی عتیق الرحمن انجینئر مقبول زہری، انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل، غلام علی بادشاہ، انجینئر یونس رمضان سمیت دیگر محکموں کے آفیسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
خبرنامہ نمبر3380/2026
زیارت:- صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے انسانیت کی خدمت کے مشن کے تحت زیارت ہیڈکوارٹر ہسپتال میں نئی ڈائیلاسز مشینوں کا باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ ان جدید مشینوں کی تنصیب کا مقصد گردوں کے مریضوں کو بروقت، معیاری اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی جدید طبی سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے مزید کہا کہ ڈائیلاسز مشینوں کی فراہمی سے نہ صرف مریضوں کو فوری طبی امداد ملے گی بلکہ ان کی قیمتی جانیں بچانے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ اقدام گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کیلئے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی، ڈی ایچ او ڈاکٹر رفیق مستوئی، ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین، قبائلی و سیاسی رہنماء ملک حاجی محمد غوث پانیزہی، فوکل پرسن زیارت حاجی راز محمد خان دمڑ، ڈپٹی چیئرمین حبیب اللہ پانیزہی، حاجی عمران خان پانیزہی، حاجی محمد نور پانیزہی، ڈائریکٹر زراعت منیر ترین، حاجی نذیر پانیزہی، تحصیلدار نور احمد، ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی عبد الستار کاکڑ، ڈاکٹر محمد دین دمڑ سمیت قبائلی عمائدین، علماء کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب کے اختتام پر عوام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی صحت کے شعبے میں ایسے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر3381/2026
کوئٹہ، 25 اپریل 2026: محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ کوہ چلتن کے دامن، میاں غنڈی پارک اور چلتن نیشنل پارک میں کھلنے والے قدرتی ٹیولپس (مقامی نام: گواڑخ) کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدرتی مناظر نہ صرف سیاحت بلکہ ذہنی سکون کا بھی اہم ذریعہ ہیں، اور ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس قدرتی حسن سے مستفید ہو سکیں۔محکمہ کے مطابق حالیہ دنوں میں شہریوں کی بڑی تعداد ان مقامات کا رخ کر رہی ہے اور اہلِ خانہ و دوستوں کے ہمراہ خوشگوار لمحات گزار رہی ہے، تاہم بعض افراد کی جانب سے بلاوجہ پھول توڑنے اور پودوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات تشویشناک ہیں۔ بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چند غیر ذمہ دارانہ رویے اس قدرتی حسن کو نقصان پہنچا رہے ہیں جو کہ ایک قومی اثاثہ ہے۔فوکل پرسن نے واضح کیا کہ قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہیں اور ان کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ پارک کے ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائے، پھولوں، درختوں اور دیگر نباتات کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جنگلی حیات کے قدرتی مسکن کا احترام کیا جائے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیولپس اور دیگر پودے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں، جو فضا کو صاف رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن بنانے اور مختلف جانداروں کے لیے خوراک و پناہ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کو نقصان پہنچانے سے نہ صرف علاقے کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحولیاتی توازن بھی بگڑ سکتا ہے۔محکمہ جنگلات نے خبردار کیا ہے کہ پارک کے قدرتی حسن کو نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عوام سے ایک بار پھر اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں، فطرت کا احترام کریں اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر3382/2026
خضدار ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیر صدارت مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور دینی مدارس کے مہتممین و منتظمین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا حکومت بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں بلوچستان چیئرٹیز ریگولیشن اتھارٹی بی سی آر اے کے تحت تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن کرانا اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے حکومت کے جاری کردہ احکامات و ہدایات کی تفصیلات علمائے کرام اور مدارس کے ذمہ داران کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طے شدہ ضابطہ اور قانون کے تحت ضلع خضدار کے تمام دینی مدارس کو بلوچستان چیئرٹیز ریگولیشن اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر خضدار نے کہا کہ اس قومی و صوبائی نوعیت کے عمل کی تکمیل کے لیے مدارس کے مہتممین اور منتظمین کو حکومت کے ساتھ خصوصی تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ علمائے کرام کے تعاون سے رجسٹریشن کا یہ عمل خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے گا اور اس سے مدارس کے انتظامی امور میں مزید بہتری آئے گی۔اجلاس میں علمائے کرام نے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے بعض تکنیکی امور پر اپنے تحفظات بھی پیش کیے، جن پر ڈپٹی کمشنر نے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر3383/2026
زیارت 25 اپریل:صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے زیارت ہیڈکوارٹر ہسپتال میں انسانیت کی خدمت کے مشن کے تحت نئی ڈائیلاسز مشینوں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کا مقصد گردوں کے مریضوں کو بروقت اور بہتر علاج فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق مستوئی، اور ایم ایس ڈاکٹر عرفان الدین بھی موجود تھے صوبائی وزیر نیہسپتال میں بی ایس ڈی آئی فیز ون کے ہسپتال کے کنسٹرکشن کام کا افتتاح اور بی ایس ڈی آئی فیز ٹو میں ڈاکٹرز کی رہائش بلڈنگ کا افتتاح کیا۔صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے ہسپتال صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے اور اس موقع پر کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز مشین کا افتتاح کرکے عوام کا ایک اور دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے۔ ڈائیلاسز مشین کی تنصیب سے مریضوں کو مفت اور بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام گردوں کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو فوری طبی امداد اور زندگی بچانے والی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈائیلاسز مشین کی تنصیب سے پہلے مریضوں کو علاج کے لیے کوئٹہ جانا پڑتا تھا، جس سے انہیں آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال زیارت میں ڈائیلاسز مشین کی فراہمی سے عوام کو کوئٹہ نہیں جانا پڑے گا اور ان کا علاج مقامی سطح پر ہی ممکن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، ادویات کی کمی کو پورا کیا جائے گا، جبکہ مزید جدید مشینری کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی جائے تعیناتی پر موجودگی کو یقینی بنائیں اور غریب و لاچار مریضوں کے بہتر علاج معالجے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
خبرنامہ نمبر3384/2026
گوادر، 25 اپریل:ممبر صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان نے سربندر فشنگ جیٹی، پشکان فشنگ جیٹی، میرین ڈرائیو پلیری کور ہور پر زیر تعمیر کازوے، پشکان بوائز ہائی اسکول سمیت مختلف اہم ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کر کے پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پی ڈی سربندر جیٹی محمد حنیف حسین، ایگزیکٹو انجینئر قاسم بلوچ، ایگزیکٹو انجینئر اکبر بلوچ، کنٹریکٹر حاجی شریف زیمل اور یو سی چیئرمین سربندر نصیب نوشروانی بھی ہمراہ تھے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے اس موقع پر کہا کہ جی ڈی اے کی جانب سے سربندر اور پشکان میں دو جدید فشنگ جیٹیز تعمیر کی گئی ہیں، جن سے ماہی گیروں کو نمایاں سہولیات میسر آئی ہیں۔ خاص طور پر مچھلیوں کی ان لوڈنگ، کشتیوں کو محفوظ لنگر انداز کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، جس سے ماہی گیری کے شعبے اور مقامی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا ہے۔ سربندر فشنگ جیٹی کے دورے کے دوران بریک واٹر کی توسیع، ڈریجنگ اور چھوٹی کشتیوں کی پارکنگ کے لیے فلور کی تعمیر پر اتفاق کیا گیا۔ اس منصوبے کا پی سی ون پہلے ہی تیار ہے جسے آئندہ مالیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر ماہی گیروں اور ان کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، جنہوں نے آکشن ہال کا فوری طور پر افتتاح کر کے جیٹی کو مکمل طور پر آپریشنل بنانے پر زور دیا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جی ڈی اے کو جیٹی پر کاروباری سرگرمیوں کے لیے مناسب چارجز مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ جس کا مقصد ان جیٹی کو ریونیو جنریٹنگ بنا کر مالی طور پر خود انحصار کرنا ہے، تاکہ حاصل ہونے والی آمدن سے جیٹیز کی مستقل بنیادوں پر دیکھ بھال (مینٹیننس) اور ڈریجنگ جیسے اہم کام جاری رکھے جا سکیں۔بعد ازاں انہوں نے میرین ڈرائیو پلیری کور ہور کے مقام پر زیر تعمیر 500 میٹر طویل کازوے کا جائزہ لیا، جہاں کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کام کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ منصوبہ آئندہ دو ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ ایگزیکٹو انجینئر قاسم بلوچ کے مطابق بارشوں کے باعث کام متاثر ہوا تھا تاہم اب اسے دوبارہ تیز کر دیا گیا ہے، اور موسم گرما میں سمندری لہروں کے ممکنہ اثرات سے قبل تکمیل یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دورے کے دوران پشکان بوائز ہائی اسکول میں قائم انٹرمیڈیٹ امتحانی مراکز کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں طلبہ کو فراہم سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ایم پی اے گوادر اور ڈی جی جی ڈی اے نے پشکان فشنگ جیٹی کی بحالی کے منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جہاں ڈریجنگ کا عمل جاری ہے۔ ایگزیکٹو انجینئر اکبر بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جیٹی کی مکمل بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کا پی سی ون بھی مکمل ہو چکا ہے، جبکہ جیٹی تک رسائی کے لیے سڑک کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔اس موقع پر جیٹی پر کام کرنے والے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے کیس دوبارہ جی ڈی اے کی گورننگ باڈی میں پیش کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 3385/2026
کوئٹہ، 25 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزیر ایریگیشن میر صادق عمرانی کے ڈیرہ مراد جمالی گھر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت واقعہ قرار دیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات سے حکومت کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا اور ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کے قیام اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 3386/2026
قلات:محکمہ تعلیم کے اسکول کلسٹر بجٹ میں شفافیت اور مانیٹرنگ سے متعلق کلسٹر ہیڈز کے لیئے دوروزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا اس
محکمہ تعلیم اور یونیسیف کے اشتراک سے منعقدہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب کے مہمان خاص ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شاہنواز بلوچ تھے جبکہ اعزازی مہمانوں میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثاراحمدنورزئی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل ثناء اللہ ثناء شامل تھےدوروزہ ورکشاپ میں ضلع قلات کے تمام ہائی سکولوں کے ہیڈز نے شرکت کی۔ورکشاپ میں ہیڈماسٹرصاحبان اور ہیڈ مسز کو کلسٹر بجٹ اور بجٹ کے مثبت استعمال سکولوں کی مانیٹرنگ اور دیگر اہم امور سے متعلق تربیت فراہم کی گئ تقریب کے مہمان خاص ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے ورکشاپ کے شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیئے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نےشرکاء سے اپنے خطاب میں کہاکہ تعلیم کے شعبے میَں مزید بہتری لانے کے لیئے ضلعی انتظامیہ قلات اور محکمہ تعلیم متحرک ہے اس سلسلے میں کلسٹربجٹ اور اسکے استعمال سے متعلق تمام سکولوں کے ذمہ داران کیلِے تربیتی ورکشاپ کاانعقادکیاجارہاہے تاکہ وہ اپنے زیر نگرانی سکولوں کے کلسٹربجٹ کی مئوثر طریقے سے مانیٹرنگ اور تعلیمی معیار کی بہتری کےلئے تعلیمی اصلاحات کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد کیاجاسکے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ قلات محکمہ تعلیم اور یونیسیف مل کر تعلیمی معیار کی بہتری کے لیئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
خبرنامہ نمبر 3387/2026
کوئٹہ، 25 اپریل 2026
مستونگ کی تحصیل کھڈ کوچہ کے علاقے مل خرما میں واقع قدیمی اسکول پر مبینہ نجی قبضے کی خبروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان لال جان جعفر نے متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے سیکرٹری ایجوکیشن بلوچستان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان اطلاعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی اراضی اور عمارتوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کرکے حقائق پر مبنی رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے تاکہ ضروری قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔






