5th-June-2026

خبرنامہ نمبر4658/2026
کوئٹہ5 جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے آج صوبائی دارالحکومت میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ریجنل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اسے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ یہ صرف ایک ریجنل سینٹر نہیں ہے بلکہ ایک تعلیم یافتہ بلوچستان کے دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا پورے پاکستان کی تقریباً 300 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں قائدانہ کردار کردار ہے اور روشن مستقبل کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ریجنل سینٹر کوئٹہ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور بازئی، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، وائس چانسلر میر چاکر خان رند سبی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عالم ترین سمیت متعدد ماہرین تعلیم موجود تھے۔ واضح رہے کہ ایچ ای سی ریجنل سینٹر 78.61 ملین روپے کی لاگت سے رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائیگا۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ اخراجات کو اپنے قابو میں رکھنے کیلئے ریجنل سنٹر کو بجلی کے روایتی نظام سے جدید سولر انرجی پر منتقل کیا جائے اور اس میں ایک گیسٹ ہاؤس شامل کرنے کی بھی سفارش کی اور کہا کہ زیر تعمیر ریجنل سینٹر کو مقررہ وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچاتے وقت معیار برقرار رکھنے کا خاص خیال رکھیں۔ گورنر مندوخیل نے مزید کہا کہ ایچ ای سی کے اس ریجنل مرکز کے قیام سے صوبے بھر میں تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹی کیمپس مضبوط ہونگے۔ یہ جدت اور ریسرچ کیلئے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوگی۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا ان کے وژن اور لگن پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل سینٹر کا قیام نہ صرف ایک انتظامی قدم ہے بلکہ ایک بڑی تعمیری تبدیلی ہے۔ اب وفاق اور صوبہ ملکر کوالٹی ایجوکیشن کے بیج بو رہے ہیں اور ہم آنے والی نسلوں کیلئے معیاری تعلیم اور پائیدار ترقی کے نتائج فراہم کرینگے۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے قومی سطح پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس تاریخی لمحے کی بھرپور کوریج کریں۔

خبرنامہ نمبر4659/2026
کوئٹہ5 جون: سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ رکھنی۔بیکڑ روڈ منصوبہ علاقے کی سماجی و معاشی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔اس شاہراہ کی تکمیل سے رکھنی بیکڑ اور اپر ڈیرہ بگٹی کے درمیان سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ تجارت، زراعت، معدنی وسائل کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ان خیالات کا اظہار سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے رکھنی بیکڑ روڈ منصوبے پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر چیف انجینئر سبی زون زبیر احمد کھوسہ، چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ، ایس ای نصیر آباد سرکل محمد اکرم خواجہ خیل، ایگزیکٹو انجینئر روڈز ڈیرہ بگٹی شمس الحق اور ٹیکنکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی کے علاؤہ کنسلٹنٹ و دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے اجلاس کو رکھنی بیکڑ روڈ منصوبے پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ یہ سڑک دور دراز علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے منسلک کرکے عوام کے لیے تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی آسان بنائے گی۔ مزید برآں، منصوبے کی تکمیل سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقے میں سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوں گے جس سے مجموعی طور پر ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے مذید کہا کہ منصوبے پر کام کی رفتار کو مذید تیز اور بہتر کیا جائے تاکہ یہ منصوبہ اپنے وقت مقررہ پر مکمل ہو جائے انہوں نے ہدایات دیں منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے مذید زیادہ مشنری اور لیبر میں اضافہ کریں تاکہ منصوبے کی تکمیل میں مذید تیزی آجائے۔

خبرنامہ نمبر4660/2026
کوئٹہ 5 جون:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک کی رہائش گاہ پر حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دوست احباب، عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران شرکاء نے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ حاجی علی مدد جتک نے شہریوں کے مسائل توجہ سے سنے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقے کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اور عوام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر4661/2026
خضدار5 جون: عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس خضدار کے احاطے میں ایک سادہ تقریب اور شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ادارہ تحفظِ ماحولیات خضدار راشد حسین میروانی، ریسرچ اسسٹنٹ محمد ابراہیم، اور چیف آفیسر خضدار وڈیرہ صالح جاموٹ سمیت دیگر ضلعی حکام نے پودے لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے عالمی یومِ ماحولیات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہدنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے تباہ کن اثرات سے بچانے کا واحد اور سب سے مؤثر حل زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔ ہمارا یہ خواب ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک، ایک صاف ستھرا اور سرسبز خضدار تحفے میں دیں۔ ڈپٹی کمشنر نے سول سوسائٹی اور خاص طور پر نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کریں۔ تقریب میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ خضدار کو سرسبز بنانا صرف سرکاری اداروں کا کام نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی فریضہ ہے۔. عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے دوسرے مرحلے کا پروگرام گورنمنٹ پرائمری سکول غفور آباد کھٹان خضدار میں منعقد ہوا جہاں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ اور ظاہر کریم نے پودا لگایا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر راشد حسین میروانی اور ان کی ٹیم کی موجودگی اس بات کی عکاس ہے کہ ضلع میں ماحولیاتی قوانین کی پاسداری اور آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کو تیز کیا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر4662/2026
جھل مگسی 5 جون: ضلعی انتظامیہ جھل مگسی کی جانب سے گنداواہ بازار میں دکانوں کا اچانک معائنہ اور خصوصی کارروائی عمل میں لائی گئی کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر فروخت کیے جانے والے نان کسٹمز پیڈ اور اسمگل شدہ سگریٹ کی کچھ مقدار ضبط کر لی گئی دورانِ معائنہ متعدد دکانداروں کو سختی سے تنبیہ جاری کی گئی کہ آئندہ کسی بھی دکان سے نان کسٹمز پیڈ یا اسمگل شدہ سگریٹ برآمد ہونے کی صورت میں متعلقہ اشیاء ایف بی آر کے نافذ العمل نوٹیفکیشن اور قوانین کے تحت ضبط کر لی جائیں گی، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں، اسمگل شدہ اشیاء کی خرید و فروخت اور سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس ضمن میں کارروائیوں کا دائرہ مزید مؤثر اور وسیع کیا جائے گا تاکہ قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر4663/2026
کوئٹہ 5جون۔۔صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میرظہوراحمد بلیدی نے کہا ہے کہ بیوروکریسی کسی بھی ریاستی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور عوامی مسائل کے حل، پالیسیوں پر عملدرآمد اور حکومتی امور کی بہتری میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ داخلی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرکاری افسران پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جنہیں پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ نبھانا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ کے 46ویں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس (MCMC) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کو سماجی و اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل کے حل میں بیوروکریسی کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی افسران کی مؤثر کارکردگی ناگزیر ہے۔ظہور بلیدی نے کہا کہ بیوروکریسی مجموعی طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہی ہے اور مختلف شعبوں میں بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کورس کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تربیتی پروگرام افسران کو نہ صرف نئی مہارتیں سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپا جیسے ادارے افسران کی پیشہ ورانہ تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہاں حاصل ہونے والا علم، تجربہ اور جدید انتظامی طریقہ کار عملی زندگی میں بہتر فیصلوں اور مؤثر کارکردگی کا سبب بنتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کورس مکمل کرنے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ نیپا میں حاصل کی گئی تربیت، علم اور تجربات کو اپنی سرکاری خدمات میں بروئے کار لاتے ہوئے عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت یافتہ اور باصلاحیت افسران ہی بہتر طرز حکمرانی، شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر کورس کے شرکاء کی کاوشوں کو سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کے ذریعے سرکاری افسران کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جاتا رہے گا تاکہ وہ قومی اور صوبائی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل نیپا کوئٹہ سید علی رضا شاہ نے ادارے کی کارکردگی اور کورس پر جائزہ لیا آخر میں اے ڈی نیپا محمد اسلم غنی نے کورس اور اسکے انتظامات پر مہمان خصوصی کو تفصیلی بریفننگ دی بعد ازاں مہمان خاص نے کورس مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کی۔

خبرنامہ نمبر4664/2026
قلات 5 جون::تحصیلدارقلات اسسٹنٹ کلکٹر درجہ اول کے دفتر سے جاری کردہ ہینڈآؤٹ میں ضلع قلات کے زمینداروں کے نام جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جن زمینداروں نے زرعی انکم ٹیکس کی ابتک ادائیگی نہیں کی ہے وہ فوری طورپر ادائیگی کریں بصورت دیگر انکے خلاف قانونی کاروائی ہوگی۔ زرعی انکم ٹیکس واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں متعلقہ نادہندہ زمیندارکاشناختی کارڈ بلاک اوراراضی بحق سرکار ضبطکی جا سکتی ہے۔

خبرنامہ نمبر4665/2026
موسی خیل 5جون: ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرڈاکٹر نادر ایسوٹ نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ای پی آئی سائٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران ویکسینیٹرز کی حاضری، ILR کی مینٹیننس، ویکسین اسٹاک، اسٹاک رجسٹر، مستقل (Permanent) رجسٹر اور دیگر متعلقہ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے ویکسینز کے درست استعمال، کولڈ چین کی اہمیت، فیلڈ سرگرمیوں کی بہتری اور ریکارڈ کی درست دیکھ بھال کے حوالے سے ویکسینیٹرز کو تربیت اور رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے تمام عملے کو ہدایت کی کہ ویکسینیشن کے معیار کو بہتر بنانے، ریکارڈ کو مکمل اور درست رکھنے اور فیلڈ میں مؤثر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں۔ دورے کا مقصد EPI پروگرام کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا اور بچوں کو بروقت ویکسینیشن کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔

خبرنامہ نمبر4666/2026
موسی خیل5 جون:: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اچانک ای پی آئی سائٹ، ایم سی ایچ سینٹر اور میڈیسن اسٹور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد عملے کی حاضری، ادویات کا دستیاب اسٹاک اور صحت کی سہولیات کا جائزہ لینا تھا دورے کے دوران مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور ادویات کے ذخیرے، ان کے ریکارڈ اور دستیابی کو چیک کیا گیا تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ عملے کی حاضری اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور انہیں اپنی ذمہ داریاں مزید محنت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دینے کی ہدایت کی گئی ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے مراکز میں خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس نوعیت کے اچانک دورے مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر4667/2026
موسی خیل 5 جون: ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز I اور II کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں 67 ونگ کے کرنل عرفان احمد نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ اور ضلعی لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان شریک ہوئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے واضح کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل میں معیار اور شفافیت اولین ترجیح ہے۔ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے، کام کے معیار میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی مزید برآں اجلاس میں فیز III کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کی تیاری پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام محکمے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیز III کے لیے ٹھوس تجاویز مرتب کریں تاکہ انہیں منظوری کے لیے متعلقہ فورمز کو ارسال کیا جا سکے۔ انہوں نے منصوبوں کے بروقت اور موثر نفاذ کے لیے تمام محکموں کے درمیان بہتر باہمی رابطہ کاری پر بھی زور دیا۔

خبرنامہ نمبر4668/2026
ہرنائی5 جون: ہرنائی میں اشیاء خوردونوش اور پٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے، ذخیرہ اندوزی اور گرانفروشی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر آفس ہرنائی میں اشیاء خوردونوش اور پٹرول کی مبینہ قلت کی افواہوں اور قیمتوں کے کنٹرول کے حوالے سے ایک اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے کی۔ اجلاس میں ضلعی افسران، انجمن تاجران کے نمائندوں اور پٹرول پمپ مالکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران انجمن تاجران کے وفد نے ضلعی انتظامیہ کو مارکیٹ کی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ تاجر برادری کے نمائندوں نے انتظامیہ کو پختہ یقین دہانی کرائی کہ ضلع ہرنائی میں اشیاء خوردونوش کی کوئی قلت نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی امکان ہے عوام الناس کو روزمرہ کی ضروری اشیاء کی فراہمی بلا تعطل اور مسلسل جاری رکھی جائے گی۔دوسری جانب، پٹرول پمپ مالکان نے بھی اجلاس کو بتایا کہ ضلع میں پٹرولیم مصنوعات کا وافر اسٹاک موجود ہے، اس لیے شہریوں کو تشویش میں مبتلا ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔اجلاس کے فوری بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ہرنائی بازار کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے گرانفروشی (مہنگے داموں اشیاء کی فروخت)، غیر ملکی اسمگل شدہ سگریٹ کی فروخت اورصفائی ستھرائی کی مجموعی صورتحال اور غیر قانونی سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے خبردار کیا کہ کسی بھی دکاندار کو اسمگل شدہ سگریٹ کی فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو بھی اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے تمام دکانداروں کو ہدایت جاری کی کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے جائے۔

خبرنامہ نمبر4669/2026
نصیرآباد5 جون:: سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے اچانک پیروپل، آر ڈی 418، میر حسن شاخ، نصیر شاخ اور جھڈیر شاخ کا دورہ کیا اور مختلف مقامات پر زرعی پانی کی فراہمی، تقسیم کار اور فیلڈ عملے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران بعض مقامات پر متعلقہ عملے کی غیر حاضری پر انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غفلت، لاپروائی اور غیر ذمہ داری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ فیلڈ عملے کی عدم موجودگی نہ صرف محکمانہ امور میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کے باعث کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ ایریگیشن کا بنیادی مقصد دستیاب پانی کو تمام زمینداروں اور آبادکاروں تک انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر پہنچانا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا دباؤ یا رعایت قبول نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری ایریگیشن سہیل الرحمان بلوچ کی جانب سے بھی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ نہری نظام کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور پانی کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہی احکامات کی روشنی میں تمام افسران اور فیلڈ عملے کو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری، محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دینا ہوں گی۔مدثر ظفر کھوسہ نے موقع پر موجود عملے کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو جو بھی زرعی پانی فراہم کیا جا رہا ہے، اسے مقررہ شیڈول اور قواعد و ضوابط کے مطابق منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے تاکہ کسی بھی علاقے یا کاشتکار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ نہری نظام کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی اور فرائض میں کوتاہی برتنے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ ایریگیشن زراعت سے وابستہ افراد کے مفادات کے تحفظ اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا۔

خبرنامہ نمبر4670/2026
جعفرآباد:5 جون: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے زیر تعمیر منصوبے اور پولیس تھانے کی نئی عمارت کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر مواصلات و تعمیرات (بلڈنگز) عرفان علی نے انہیں منصوبوں کی موجودہ صورتحال، تعمیراتی پیش رفت اور تکمیل کے مختلف مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ بابو رفیق ابڑو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے زیر تعمیر عمارتوں کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے میٹریل اور جاری کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور تعمیراتی کام میں کسی قسم کی غفلت یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی تعمیر سے عوام کو جدید اور بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی جبکہ پولیس تھانے کی نئی عمارت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو معیار کے مطابق اور انجینئرز کی مسلسل نگرانی میں مکمل کیا جائے تاکہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور سرکاری وسائل کا درست اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ مسلسل نگرانی کا عمل جاری رکھے گی تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی کے عمل کو مزید فروغ ملے۔

خبرنامہ نمبر4671/2026
لورالائی5جون:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا اچانک دورہ کیا اور او پی ڈی سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری، صفائی ستھرائی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔معائنے کے دوران متعدد ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے جس پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کر لی انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں میں غفلت اور غیر ذمہ داری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کی مجموعی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فوری بہتری کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے مختلف وارڈز، او پی ڈی، ایمرجنسی یونٹ اور دیگر شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی مسائل دریافت کیے۔دورانِ معائنہ یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہسپتال میں عملے کے ڈیوٹی روسٹرز مناسب انداز میں مرتب نہیں کیے جا رہے جبکہ متعدد شعبوں میں حاضری رجسٹر یا تو موجود نہیں تھے یا ان کی دیکھ بھال اور ریکارڈ کیپنگ انتہائی ناقص تھی۔ مزید برآں آمدن کی وصولی، ریکارڈنگ اور نگرانی کے لیے کوئی مؤثر اور شفاف نظام بھی موجود نہیں پایا گیا۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کی کہ تمام ملازمین کی حاضری کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے، بائیومیٹرک یا دیگر مؤثر نگرانی کے نظام کو فعال کیا جائے، ڈیوٹی روسٹرز اور حاضری رجسٹرز کو باقاعدگی سے مرتب اور محفوظ رکھا جائے، جبکہ صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ہسپتال کی آمدن اور اخراجات کی نگرانی کے لیے شفاف، قابلِ آڈٹ اور مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ مالی امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ فوری طور پر جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت، لاپروائی یا غیر حاضری کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر4672/2026
قلات 5 جون:: صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو کے فنڈز سے کلی آدرکش قلات واٹر سپلائی اسکیم کامیابی سے مکمل ہوگئی۔ کلی آدرکش کے لوگ پینے کے صاف پانی کی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں حلقے کے لوگوں نے صوبائی وزیر داخلہ میرضیائاللہ لانگو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے ہمارے خواتین، بچے اور بزرگ پانی کی بوند بوند کیلیے 10 سے 15 کلو میٹر دور جاکر جوہڑوں سے پانی لانے پر مجبور تھے صوبائی وزیر داخلہ میرضیائاللہ لانگو کی ذاتی کوششوں اور فنڈز سے الحمدللہ اب ہمارے گھروں کے سامنے واٹر سپلائی اسکیم کامیابی سے آپریشنل ہوگئے ہے۔

خبرنامہ نمبر4673/2026
لورالائی:5جون:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے BSDI فیز-I اور فیز-II کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے بی اینڈ آر روڈ منصوبوں، سرکاری باغ وومن ڈیجیٹل لائبریری، جمنازیم اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں زیر تعمیر سیٹل پول سمیت مختلف ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا۔معائنے کے دوران متعدد منصوبہ جاتی سائٹس پر کام مکمل طور پر بند پایا گیا۔ بیشتر مقامات پر نہ صرف مزدور غیر حاضر تھے بلکہ جاری منصوبوں کی نگرانی کے لیے کوئی اوورسیئر یا نگران عملہ بھی موجود نہیں تھا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ڈپٹی کمشنر نے نوٹ کیا کہ متعلقہ محکمہ تعمیرات و مواصلات (B&R) کے ایکس ای این اور ایس ڈی او بھی بغیر پیشگی اطلاع کے اسٹیشن سے غیر حاضر تھے، جو منصوبوں کی نگرانی اور انتظامی امور میں سنگین غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر اور ناقص نگرانی کے باعث عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ معائنے کے دوران عملدرآمد کرنے والی ایجنسی اور متعلقہ نگران عملے کی مجموعی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام بند کاموں کو فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جائے، منصوبہ جاتی سائٹس پر مطلوبہ تعداد میں مزدوروں اور نگران عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے بند کاموں اور ذمہ دار افسران کی غیر حاضری کے حوالے سے تفصیلی وضاحت بھی طلب کر لی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام ترقیاتیسکیموں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر4674/2026
صحبت پور5 جون: ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کے فیز II کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے مختلف جاری منصوبوں کا معائنہ کیا اور ان کی پیش رفت کا جائزہ لیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے زیرِ تعمیر اہم ترقیاتی منصوبوں کا مشاہدہ کیا جن میں عوامی سہولیات کے لیے تعمیر کی جانے والی لائبریری اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے زیرِ تعمیر سڑک شامل ہیں انہوں نے متعلقہ حکام اور تکنیکی عملے سے منصوبوں کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ لی، جس میں کام کی رفتار، معیار، اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر ہدایت جاری کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کام کا معیار اعلیٰ اور پائیدار ہو۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں انہوں نے جاری کاموں کی رفتار اور معیار پر مجموعی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوامی فلاح و بہبود ہے ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ صرف عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ اس سے علاقے کی مجموعی ترقی خوشحالی اور معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ایسے منصوبے مقامی معیشت کو مستحکم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی اعتماد کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا ان کی بروقت اور معیاری تکمیل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Handout No 4674/2026
Loralai, June 5,:
Deputy Commissioner Loralai, Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja, conducted a detailed inspection of ongoing development projects being executed under BSDI Phase-I and Phase-II.
During the visit, he reviewed several development schemes, including B&R road projects, the Government Bagh Women Digital Library, a gymnasium, and an under-construction septic pool at the Government Girls High School.
The Deputy Commissioner observed that work had come to a complete halt at several project sites. Most locations were found without laborers, and no overseers or supervisory staff were present to monitor the ongoing projects. Expressing serious concern over the situation, he termed the absence of monitoring personnel a clear indication of negligence.
He also noted that the Executive Engineer (XEN) and Sub-Divisional Officer (SDO) of the Communication and Works Department (B&R) were absent from their stations without prior intimation, reflecting a significant lapse in project supervision and administrative responsibility.
Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja stated that unnecessary delays and inadequate oversight were adversely affecting public welfare projects and undermining the effective utilization of government resources. He described the overall performance of the executing agency and the supervisory staff as unsatisfactory.
The Deputy Commissioner directed the concerned authorities to immediately resume all stalled works, ensure the presence of the required number of laborers and supervisory staff at project sites, and strengthen the monitoring mechanism. He also sought a detailed explanation regarding the suspension of work and the absence of responsible officials.
Reaffirming his commitment to public welfare, he emphasized that no compromise would be made on the timely completion and quality of development projects, adding that continuous monitoring of all ongoing schemes would remain a top priority.

Handout No 4675/2026
Loralai, June 5, 2026: Deputy Commissioner Loralai, Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja, paid a surprise visit to Teaching Hospital Loralai and conducted a detailed inspection of the Outpatient Department (OPD) and various other sections of the hospital.
During the visit, he reviewed the medical facilities being provided to patients, staff attendance, cleanliness standards, and overall administrative affairs. During the inspection, several doctors, paramedical staff members, and other employees were found absent from duty. Expressing serious concern over the situation, the Deputy Commissioner sought explanations from the relevant authorities. He made it clear that negligence and irresponsibility in public institutions would not be tolerated under any circumstances and that the provision of quality healthcare services to the public must be ensured at all times.
The Deputy Commissioner also termed the overall condition of cleanliness and hygiene in the hospital as unsatisfactory and directed the administration to take immediate corrective measures. While inspecting different wards, the OPD, the Emergency Unit, and other departments, he interacted with patients and their attendants to learn about the challenges they were facing.
During the inspection, it was further revealed that staff duty rosters were not being maintained properly. In several departments, attendance registers were either unavailable or poorly maintained, reflecting serious deficiencies in record-keeping practices. Moreover, no effective and transparent system was found for the collection, recording, and monitoring of hospital revenues, raising concerns regarding financial management and accountability.
Deputy Commissioner Muhammad Haseeb Shuja directed the hospital administration to ensure the attendance of all employees without delay, activate biometric or other effective monitoring systems, regularly maintain and preserve duty rosters and attendance records, and take emergency measures to improve cleanliness standards.
He further instructed that a transparent, auditable, and effective system be established for monitoring the hospital’s income and expenditures to ensure financial transparency and accountability. The Deputy Commissioner also ordered the concerned authorities to submit a detailed compliance report on the implementation of the directives issued during the visit.
The Deputy Commissioner stated that the district administration is utilizing all available resources to improve healthcare services for the public and that strict administrative action will be taken against any form of negligence, carelessness, or absenteeism.

خبرنامہ نمبر4676/2026
کوئٹہ، 05 جون: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بہادر افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، تاہم ان کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنایا اور ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ریاستی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور حکومت دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے، اور پوری قوم اس مقصد کے حصول کے لیے متحد ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں کو بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے بھرپور عزم اور یکجہتی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی پالیسی اور عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے متحد، متحرک اور پُرعزم ہیں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کامیاب کارروائی اس قومی عزم کی واضح عکاس ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے بہادر افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور ان کے اہل خانہ پوری قوم کا فخر ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی کے سفر کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا اور دہشت گردی کے خاتمے تک ریاستی اداروں کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر4677/2026
کوئٹہ، 5 جون:معاون محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بہادر افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں بابر یوسفزئی نے کہا کہ پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی دہشت گرد عناصر کے خلاف ریاستی عزم اور مؤثر حکمتِ عملی کا واضح مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کے دشمن ہیں، تاہم انہیں اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنایا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی اور انہیں ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دشمن عناصر اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود صوبے کے پرامن ماحول کو خراب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔معاون محکمہ داخلہ بلوچستان نے مزید کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام قومی ادارے یکسو اور پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر بہادر افسران اور جوان پوری قوم کے فخر ہیں اور ان کی خدمات خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔بابر یوسفزئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنائے گی اور بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو جاری رکھا جائے۔

خبرنامہ نمبر4678/2026
اسلام آباد،05 جون: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کی زیر صدارت بی بی او آئی ٹی کے اسلام آباد کیمپ آفس میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں دبئی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی کنٹری نمائندہ عبیر سالم، چیف ایگزیکٹو آفیسر بی بی او آئی ٹی قائم لاشاری اور چینی سرمایہ کاروں کے وفد نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پاکستان، متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، صنعتی تعاون اور کاروباری روابط کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ محترمہ عبیر سالم نے دبئی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شریک چینی وفد نے بھی بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، صنعتی امکانات اور علاقائی رابطہ کاری کے حوالے سے شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خبرنامہ نمبر4679/2026
کوئٹہ05جون۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں پیٹرول کی فراہمی بلا تعطل اور معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ شہر کے تمام پیٹرول پمپس مکمل طور پر فعال ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے افسران اپنے اپنے سب ڈویژنز میں فیلڈ میں موجود رہتے ہوئے پیٹرول پمپس کی مسلسل نگرانی، سپلائی اور ترسیل کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس حوالے سے ڈی سی آفس کوئٹہ کا کنٹرول روم بھی مکمل طور پر فعال ہے، جہاں سے صورتحال کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ عوام کو ہر ممکن سہولت اور پیٹرول کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے دن رات متحرک ہے۔

خبرنامہ نمبر 4680/2026
Islamabad, June 05: A high-level meeting was held at the Islamabad Camp Office of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBOIT) under the chairmanship of Vice Chairman Bilal Khan Kakar. The meeting was attended by Ms. Abeer Salem, Country Representative of the Dubai Chamber of Commerce and Industry, CEO BBOIT Qaim Lashari, and a delegation of Chinese investors.

During the meeting, detailed discussions were held on strengthening economic and trade relations between Pakistan, the United Arab Emirates, and China, exploring new investment opportunities, and promoting mutual cooperation. The participants reviewed prospects for joint investment in various sectors, promotion of trade activities, industrial cooperation, and expansion of business linkages.

Vice Chairman Bilal Khan Kakar highlighted the vast investment opportunities available in Balochistan and stated that under the leadership of Chief Minister Mir Sarfraz Bugti, the Government of Balochistan is committed to providing every possible facilitation to local and foreign investors and creating a more conducive business environment.

Ms. Abeer Salem expressed the Dubai Chamber of Commerce and Industry’s keen interest in enhancing trade and economic cooperation with Pakistan, particularly with Balochistan.

The Chinese delegation also reaffirmed its commitment to further strengthening partnerships in relation to Balochistan’s ongoing development projects, industrial potential, and regional connectivity initiatives.

خبرنامہ نمبر 4681/2026
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن، مجیب الرحمٰن قمبرانی نے رکھنی کو بلوچستان کے ایک جدید، منظم اور ماڈل ڈویژنل شہر کے طور پر ترقی دینے کے حوالے سے ایک جامع بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن نے رکھنی کے لیے تیار کیے گئے مربوط ماسٹر پلان، مستقبل کی شہری ضروریات، ادارہ جاتی تقاضوں، معاشی امکانات اور عوامی سہولیات پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ رکھنی کو نہ صرف کوہِ سلیمان ڈویژن کے انتظامی مرکز بلکہ بلوچستان کے ایک مثالی اور پائیدار شہری ماڈل کے طور پر ترقی دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اجلاس میں متعدد اہم اور عوام دوست ترقیاتی منصوبوں کی اصولی منظوری دی گئی جن میں جدید ڈویژنل سیکریٹریٹ کمپلیکس، سیف سٹی رکھنی منصوبہ، لائیوسٹاک اکنامک زون، سپورٹس اینڈ ریکریشن کمپلیکس، جدید سڑکوں کا جال، سیوریج و سینیٹیشن منصوبے، چھوٹے و درمیانے آبی ذخائر (ڈیمز)، زرعی ترقیاتی اقدامات، انٹیگریٹڈ بس و ٹرک ٹرمینل، ووکیشنل و ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس، گرین بیلٹس، شہری خوبصورتی کے منصوبے، صحت و تعلیم کے جدید مراکز اور دیگر بنیادی عوامی سہولیات کے منصوبے شامل ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے رکھنی ایک جدید، منظم، محفوظ اور معاشی طور پر متحرک شہر میں تبدیل ہو جائے گا جو نہ صرف کوہِ سلیمان ڈویژن بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک مثالی ترقیاتی ماڈل ثابت ہوگا۔ منصوبوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ زراعت، لائیوسٹاک، تجارت، ٹرانسپورٹ، خدمات اور چھوٹے کاروباروں کے شعبوں میں نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ ترقیاتی اقدامات سے ضلع بارکھان، کوہلو اور ضلع اُوپر ڈیرہ بگٹی سمیت پورے کوہِ سلیمان ڈویژن کے عوام مستفید ہوں گے اور علاقے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بہتر شہری منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر انتظامی نظام کے ذریعے عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔چیف سیکریٹری بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا وژن صوبے کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنا ہے اور حکومت بلوچستان اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں کی تفصیلی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے کام کریں تاکہ ترقیاتی ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔چیف سیکریٹری بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کو من و عن نافذ کیا جائے گا اور رکھنی کو ایک جدید، خوبصورت، محفوظ اور ترقی یافتہ ماڈل ڈویژنل شہر جبکہ کوہِ سلیمان ڈویژن کو بلوچستان کی پائیدار اور متوازن ترقی کی ایک نمایاں مثال بن جائے گا-

خبرنامہ نمبر 4682/2026
مستونگ 5 جون:عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر پائلٹ ماڈل سکول مستونگ میں ادارہ تحفظ ماحولیات ریجنل آفس مستونگ/قلات کے زیرِ اہتمام ایک مشترکہ خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا ۔سیمینار سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مستونگ محمد افضل سرپرہ ڈپٹی ڈائریکٹر ادارہ تحفظ ماحولیات مستونگ شوکت بنگلزہئ ڈویژنل فارسٹ آفیسر مقبول احمد بنگلزئی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ادارہ تحفظ ماحولیات قلات مس فائزہ پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مستونگ میڈم شبانہ خدا بخش، ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر نحیم گل ،پرنسپل گورنمنٹ پائلٹ ماڈل سکول عرض محمد بنگلزہئ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے جبکہ صوبہ بلوچستان ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہےانہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسموں کا نظام بری طرح متاثر ہوچکا ہے، بروقت بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی اور پانی کی قلت میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ بعض اوقات غیر متوقع اور شدید بارشیں بھی نقصانات کا سبب بن رہی ہیں۔مقررین نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، درختوں کی کٹائی اور بے ہنگم آبادی ماحول کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ درخت ماحول کو صاف رکھنے، گرمی کی شدت کم کرنے اور بارشوں کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے عوام خصوصاً نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور صرف پودے لگانے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی حفاظت اور آبیاری کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ایک سرسبز اور صاف ماحول کو فروغ دیا جاسکے۔ سیمینار میں طلباء نے اپنے ماڈلز بھی پیش کیے ،عالمی یوم ماحولیات کے حوالے سے شرکاء نے واک بھی کیا اور شجرکاری بھی کی گئی، سیمینار کے اختتام پر شرکاء میں ماحول دوستی سے متعلق آگاہی مواد بھی تقسیم کیا گیا جبکہ شجرکاری مہم کے حوالے سے خصوصی اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔سیمنار کے اختتام پر مہمانان گرامی اور طلبا میں شیلڈ بھی تقسیم کئے گئے

خبرنامہ نمبر 4683/2026
موسیٰ خیل
مورخہ05 جون 2026
پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) اور سی وائی اے اے ڈی (CYAAD) کے تعاون سے ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال موسیٰ خیل میں عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ایک خصوصی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل، عبدالرزاق خان خجک نے کی اس آگاہی سیشن کا بنیادی مقصد عوام الناس میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا تھا تقریب میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر (انڈر ٹریننگ) بشیر احمد اخونزادہ، سماجی کارکنوں، عوامی نمائندوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی آج کے دور کا ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور سرسبز ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں شجرکاری کو فروغ دینا اور پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا سرفہرست ہے سیشن کے اختتام پر، تقریب کو مزید یادگار بنانے کے لیے عالمی یومِ ماحولیات کی مناسبت سے ایک پروقار کیک کاٹا گیا، جس کے بعد شرکاء نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے بھرپور تعاون اور عزم کا اعادہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *