24th-April-2026

خبرنامہ نمبر 3343/2026
گوادر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے گوادر میں منعقدہ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا دارومدار معاشی و معاشرتی سرگرمیوں میں عوامی شرکت، قبائلی ہم آہنگی اور حکومتی اقدامات کے تسلسل پر ہے۔ میں گوادر کے غیور باشندوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کا مستقبل بہت روشن ہیں۔ شاندار میگا پروجیکٹ سی پیک کی تکمیل سے گوادر پورے خطے کی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔ گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے عوام کو مستفید کرنے کیلئے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور خواتین، نوجوانوں اور ماہی گیر برادری کو معاشی طور پر مضبوط بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ گوادر گرینڈ جرگہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر بارہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمدخان اور جی او سی گوادر سمیت اعلیٰ سرکاری افسران، ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان، منتخب عوامی نمائندگان، قبائلی عمائدین ، ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں، تاجر برادری، ماہی گیروں کے نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ گوادر گرینڈ جرگہ میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال بالخصوص مکران ڈویژن اور گوادر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات سے متعلق اہم نکات زیر بحث آئے۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر عوامی جرگہ کے شرکاء کے مختلف سوالات کو غور اور توجہ سے سنا اور ان کے تسلی بخش جوابات دیئے اور تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور آئین کے دائرے میں مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ اس وقت بلوچستان کے بعض اضلاع میں بدامنی اور شورش کا مسئلہ ضرور ہے جس کا پائیدار سیاسی حل ہم باہمی مشاورت اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے بآسانی نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی بلو اکانومی، جاری عظیم ترقیاتی منصوبوں، ماہی گیری اور گوادر یونیورسٹی کے ثمرات پر روشنی ڈال ضروری ہے۔ لیکن گوادر اور اس سے متصل علاقوں کے لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگہی اور ان کا فوری حل ڈھونڈنا بھی بہت ضروری ہے۔ ڈویژنل سطح پر جرگوں کے انعقاد سے معاشرے کی خاموش اکثریت کی رائے معلوم کرنے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کو بیدار کرنے میں بھی مدد ملتی ہے. آخر میں گوادر گرینڈ جرگہ کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، اور گوادر کو ایک پرامن، ترقی یافتہ اور عالمی معیار کا شہر بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ گورنر، وزیراعلیٰ اور کور کمانڈرکوئٹہ نے گزشتہ سال 11 مئی 2025 کو گوادر میں دہشتگردی کے بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد خماری بلوچ شہید کے یادگار کا افتتاح بھی کیا۔

خبرنامہ نمبر 3344/2026
گوادر ، 24 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر میں خواتین کے لیے قائم کیے گئے پہلے بازار کا باضابطہ افتتاح کر دیا افتتاحی تقریب میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن اور سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ عطاء بھی موجود تھیں گوادر میں اس پہلے ویمن بازار کو خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے جس سے مقامی خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ منصوبہ صوبے میں خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کی ایک مؤثر پیش رفت ہے اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوادر ویمن بازار میں ابتدائی طور پر 14 دکانیں قائم کی گئی ہیں، جہاں خواتین مختلف کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ویمن بازار کا دورہ کیا اور خواتین دکانداروں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل، تجاویز اور تجربات سے آگاہی حاصل کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ایسے منصوبے نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ مجموعی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر ویمن بازار خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے اور حکومت اس منصوبے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے اور ویمن بازار جیسے اقدامات کا دائرہ کار دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی معاشی شمولیت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، اسی لیے حکومت عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر میں ویمن بازار جیسے منصوبے سماجی و اقتصادی استحکام کو فروغ دیں گے بلا شبہ خواتین کو کاروباری مواقع فراہم کرنا ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت خواتین کی ترقی اور فلاح کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ صوبہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

خبرنامہ نمبر 3345/2026
کوئٹہ، 24 اپریل:بلوچستان میں چین کے تعاون سے صحت کے شعبے میں ایک بڑے اقدام کے تحت صوبے کے سات اضلاع کے ایک سو طبی مراکز میں ماں اور نومولود بچوں کی صحت کے لیے طبی سہولیات کی بہتری کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے یہ منصوبہ زچہ و بچہ کی نگہداشت کے نظام کو مؤثر بنانے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منصوبے کے آغاز پر حکومتِ چین کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اس اہم اشتراک پر حکومتِ چین کے مشکور ہیں اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاک چین دوستی اور باہمی تعاون کی ایک شاندار مثال ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ماں اور بچے کی بہتر نگہداشت کو یقینی بنایا جائے گا اور صوبے میں زچہ و بچہ کی صحت کو اولین ترجیح بنایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاک چین دوستی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے عوام کو صحت سمیت مختلف شعبوں میں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سے مستفید ہو سکیں اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

خبرنامہ نمبر 3346/2026
گوادر، 24 اپریل 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے دورۂ گوادر کے موقع پر چیف منسٹر اینکسی گوادر اور یادگار شہید ایم خماری چوک کا باضابطہ افتتاح کر دیاان منصوبوں کو گوادر کی شہری ترقی، انتظامی استعداد میں بہتری اور مقامی تاریخ و قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے افتتاحی تقریب کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو منصوبوں کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی چیف منسٹر اینکسی کے قیام سے گوادر میں سرکاری امور کی انجام دہی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی جبکہ یادگار شہید ایم خماری چوک مقامی ہیروز کی قربانیوں کی یاد کو تازہ رکھنے اور نئی نسل کو ان سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت گوادر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور شہر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے بلکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا بھی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوادر کی ترقی دراصل بلوچستان اور پاکستان کی مجموعی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور حکومت اس وژن کے تحت مربوط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے منصوبے مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ گوادر کو ایک جدید، فعال اور خوشحال شہر بنایا جا سکے اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ تھے

خبرنامہ نمبر 3347/2026
کوئٹہ، 24 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے امن کے لیے کثیرالجہتی تعاون اور سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مؤثر سفارت کاری ہی تنازعات کے پُرامن حل اور عالمی استحکام کی ضامن ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عالمی صورتحال میں دانشمندانہ اور متوازن سفارتی حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف کشیدگی میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے ایک مثبت مثال بھی قائم کی ہے وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو حالیہ سفارتی کامیابیوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی قیادت کی بصیرت افروز پالیسیوں نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی سفارت کاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتھک محنت کو بھی سراہا، جن کی کاوشوں سے ملک کا تشخص مزید مضبوط ہوا انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف ممکنہ تنازعات کو ٹالا جا سکتا ہے بلکہ عالمی امن، تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بات چیت، افہام و تفہیم اور باہمی احترام کے اصولوں کو ترجیح دی ہے، اور یہی اصول دنیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر عالمی تنازعات کا حل بھی مثبت اور نتیجہ خیز سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی، غربت اور دیگر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہیں، جنہیں مؤثر سفارت کاری کے ذریعے عملی شکل دی جا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی بحران میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے ملک کو ایک ذمہ دار اور سنجیدہ عالمی ریاست کے طور پر مزید مستحکم کیا ہے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بھی مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کے اصولوں کو فروغ دے کر عالمی امن و استحکام میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

خبرنامہ نمبر 3348/2026
استامحمد۔ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول خانپور جمالی، نیاز محمد سومرو نے سکول میں اضافی کمروں کی تعمیر و مرمت کے منصوبے پر صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سکول کی عمارت انتہائی خستہ حالی کا شکار تھی جبکہ طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، جس کے باعث کمروں کی شدید ضرورت تھی۔ ایسے میں صوبائی وزیر کی جانب سے اس اہم مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی کمروں کی منظوری دینا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ہیڈ ماسٹر کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کو بھی بہتر سہولیات میسر آئیں گی، جس سے تعلیمی نظام کی بہتری میں نمایاں مدد ملے گی۔

خبرنامہ نمبر 3349/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن سے اہم ملاقات کی، اس موقع پر فوکل پرسن ہرنائی حاجی باز محمد دمڑ اور موسی کاکڑ بھی موجود تھے صوبائی وزیر خوراک نے سیکرٹری صحت کو زیارت، ہرنائی اور سنجاوی کے ہسپتالوں میں صحت کے حوالے سے درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا کہ مذکورہ علاقوں کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور جدید مشینری کے فقدان کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں حاجی نور محمد دمڑ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زیارت، ہرنائی اور سنجاوی کے ہسپتالوں کیلئے نئی آسامیوں کی منظوری دی جائے تاکہ ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اس موقع پر سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن نے صوبائی وزیر کو مکمل یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت ان علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے گا اور عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آنے والی بجٹ میں نئی آسامیوں کو منظوری کو بھی یقینی بنایا جائے گا صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

خبرنامہ نمبر3350/2026
قلات :مانیٹرنگ آفیسر، ای پی آء، ضلع قلات میر بلال مینگل کی زیرنگرانی تمام ۱۹ یونین کونسلز میں 16 روزہ حفاظتی ٹیکاجات کی مہم 13 اپریل تا 30 اپریل 2026 جاری ہے جس میں تربیت یافتہ ماہر ویکسینیٹرز ۵ سال سے کم عمر بچوں کو ۱۲ بیماریوں کیخلاف ای پی آء شیڈول کے مطابق ٹیکے لگا رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر قلات کے جاری کردہ ہینڈآؤٹ میں کہا گیا ہے کہ ویکسینیٹرز کے علاوہ لیڈی ہیلتھ سپروائزرز و لیڈی ہیلتھ ورکرز، گاوی کیطرف سیب کمیونٹی موبلائزرز گھر گھر سوشل موبلائزیشن کررہی ہیں، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ے تمام والدین، سول سوسائٹی، علماء، خطیب، اساتذہ کرام و سیاسی و سماجی معتبرین سے اپیل کی ہے کہ ان ٹیموں کیساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو ان ۱۲ بیماریوں سے بچانے کیلیے حفاظتی ٹیکے لگوائیں – یہ 16 روزہ مہم 30 اپریل تک جاری رہیگی اور اگر کسی علاقے تک ہماری ٹیم نہیں پہنچی ہو تو؛ فوکل پرسن برائے حفاظتی ٹیکاجات آغا عبداسلام سے فون نمبر،03016395439 پر فوری اطلاح دیں تاکہ فیلڈ میں موجود ٹیمیں بروقت بچوں کوحفاظتی ٹیکے لگاسکیں .

خبرنامہ نمبر3351/2026
لورالائی (24 اپریل۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی، اسحاق ناصر کی زیرِ صدارت ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈایو کمپنی، ویگن مالکان اور دیگر چھوٹی گاڑیوں کے مالکان نے شرکت کی اور اپنے اپنے کرایوں کی تجاویز پیش کیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اسحاق ناصر نے کہا کہ عوام کو معیاری سفری سہولیات کی فراہمی اور مناسب کرایوں کا تعین ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرایوں کے تعین میں عوامی مفاد، موجودہ معاشی حالات اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ شہریوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ازخود کرایوں میں اضافے سے گریز کریں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جلد ایک متوازن اور قابلِ عمل کرایہ نامہ جاری کیا جائے گا، جس سے مسافروں کو ریلیف ملنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ اجلاس میں کرایوں کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، جو مختلف روٹس پر کرایوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ اس موقع پر ٹرانسپورٹرز نے اپنے مسائل بھی اجاگر کیے، جن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات اور دیگر آپریشنل مسائل شامل تھے۔اسسٹنٹ کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے گا اور ایک ایسا متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا جس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے بلکہ ٹرانسپورٹرز کو بھی درپیش مشکلات میں کمی آئے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان باہمی تعاون سے ایک منصفانہ اور دیرپا نظام قائم کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3352/2026
لورالائی: 24اپریل:کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی نگرانی میں ضلع لورالائی اور ضلع دکی کے درمیان حدبراری کا اہم مرحلہ مکمل کر لیا گیا۔ یہ کارروائی حمزازئی اور لونی اقوام کے مابین جاری دیرینہ زمینی تنازع کے حل کی جانب ایک پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔انتظامی ذرائع کے مطابق حد بندی کے عمل میں ایڈیشنل کمشنر لورالائی اعجاز احمد،ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع جعفر، ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان،اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ سروے آف پاکستان، محکمہ? معدنیات کے نمائندگان اور پرائیویٹ رجسٹرڈ سرویئرز کی ٹیم نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ ٹیم نے جدید سروے آلات اور نقشہ جات کی مدد سے زمینی حدود کا تعین کیا۔دونوں قبائل کی نمائندگی سردار عبد الحمید خان حمزہ زئی اور سردار خوشدل خان لونی نے کی، جنہوں نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حدبراری کے اس عمل کا مقصد تنازع کے پائیدار حل کے ساتھ ساتھ علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔، حکام نے بتایا کہ حد بندی کے عمل میں جغرافیائی نشانات، پرانے ریونیو ریکارڈ، اور قبائلی روایات کو بھی مدنظر رکھا گیا تاکہ کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں باقاعدہ رپورٹ مرتب کر کے صوبائی حکومت کو ارسال کی جائے گی، جس کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حدبراری کے بعد کسی بھی قسم کی غیر قانونی قبضہ گیری یا معدنی وسائل کے غیر مجاز استعمال کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کے آغاز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی آبادی کو دیرپا فوائد حاصل ہو سکیں۔مقامی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف دونوں اضلاع کے درمیان سرحدی تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ خطے میں معدنی وسائل کے شفاف استعمال اور سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ بھی ہموار کرے گی۔

خبرنامہ نمبر3353/2026
اُستامحمد۔۔صوبائی حکومت بلوچستان کے ویژن کے تحت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو منصوبے کے تحت ضلع اُستامحمد میں سیف سٹی پراجیکٹ پر باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہییہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور شہریوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس اہم منصوبے کے تحت ضلع بھر کے تمام پولیس اسٹیشنز کی حدود میں جدید کلوز سرکٹ کیمرہ (CCTV) سسٹم نصب کیا جائے گا، جس کے ذریعے شہر کے اہم مقامات، شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس علاقوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی ممکن ہو سکے گی ان کیمروں کی مدد سے مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے گی، جس سے جرائم کی بروقت نشاندہی اور روک تھام میں نمایاں مدد ملے گی ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے لئے اہم ہے کیونکہ سیف سٹی پراجیکٹ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنائے گا بلکہ جدید مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کسی بھی ہنگامی یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری ردعمل (ریسپانس) کو یقینی بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا اس کے ساتھ ساتھ شواہد کے حصول میں آسانی ہوگی، جس سے تفتیشی عمل میں شفافیت اور بہتری آئے گی مزید برآں، اس منصوبے کے تحت ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، جہاں سے تمام کیمروں کی نگرانی کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کے درمیان فوری رابطہ ممکن بنایا جائے گا۔ اس جدید نظام کے ذریعے شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک مینجمنٹ میں بھی بہتری لانے میں مدد ملے گی عوامی حلقوں نے سیف سٹی پراجیکٹ کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ضلع اُستامحمد میں امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب ایک مثبتاور مؤثر قدم قرار دیا ہے شہریوں نے صوبائی وزیر سردارزادہ فیصل خان جمالی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبائی حکومت کی توجہ مبذول کرائی جو کہ خوش آئند اقدام ہے اس منصوبے سے نہ صرف جرائم میں کمی آئے گی بلکہ عوام میں تحفظ کا احساس بھی بڑھے گا، جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے./

خبرنامہ نمبر3354/2026
کوئٹہ، 24 اپریل:آئی جی پولیس بلوچستان کے ہدایت کی روشنی میں رینجز اور اضلاع میں ڈی آئی جیز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد شروع ہو چکا ہے اس کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عام آدمی کو پولیس کے حوالے سے درپیش مشکلات اور اس فوری حل کو ممکن بنانا ہیں۔ جبکہ عوام اور پولیس کے مابین دیرینہ تعلقات اور اہم آئینگی کو فروغ دینا ہیں۔ اس سلسلے میں قلات، نصیر آباد، سبی، مکران اور لورالائی میں پولیس کی جانب سے کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا ہیں جن کی صدارت ڈی آئی جیز نے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں جبکہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ پولیس افسران نے کی، ڈی آئی جی پولیس خضدار رینج وزیر خان ناصر کی صدارت میں کھلی کچہری میں شرکاء نے سندھ سے چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی خضدار میں فروخت اور علاقے میں منشیات کی کھلے عام فروخت جیسے لعنت کی طرف بڑھتے رجحان کی سنگین مسائل کے حوالے سے شکایات کی۔ ڈی آئی جی خضدار نے ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس کو شکایات کے اندراج اور تدارک کے فوری احکامات دیئے اور اس حوالے سے مکمل چھان بین کے بعد ایس ایس پی خضدار نے غفلت، نااہلی اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے ٹھوس ثبوت کے بناء پر کارروائی کرتے ہوئے 2 پولیس اہلکاروں کانسٹیبل نصراللہ اور کانسٹیبل حمیداللہ کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی کرنے کا حکم دیا۔اسی طرح ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ نے منعقدہ کھلی کچہری میں عوام کی شکایات سنیں چند ایک پر موقع پر ہی احکامات صادر کیے۔انہوں نے ضلع لورالائی میں تعینات 4 پولیس اہلکاروں ممتاز احمد انچارج (اسٹاف سی آئی اے)، اے ایس آئی عبداللہ، انچارج کمپلینٹ سیل /لیگل برانچ ڈی آئی جی آفس، ہیڈکانسٹیبل نذیر احمد بحیثیت ڈرائیور پولیس لائن لورالائی اور ہیڈکانسٹیبل اسد اللہ موٹر ٹرانسپورٹ پولیس لائن لورالائی کو نااہلی، بدتمیزی، ممنوعہ اشیاء و منشیات اسمگلر اور منشیات فروشوں کی سرپرستی اور بھتہ خوری میں ملوث ہونے پر باقاعدہ انکوائری کی گئی۔جس پر انکوائری آفیسر کی سفارشات پر مکمل رپورٹ کے آنے کے بعد تمام الزامات ثابت ہونے پر انہیں نوکری سے فارغ کیا گیا ہے۔ واضع رہے کہ محکمہ پولیس میں خود احتسابی عمل کے تحت محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر تے ہوئے محکمے کی بدنامی کا باعث بنے والے عناصر کو قانون کے مطابق سزا دیتے ہوئے محکمے سے فارغ کرنے کا عمل جاری ہیں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے صوبے کے پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر شکایت پر بروقت اور موثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ موقع پر ہی شکایات کا اندراج اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات بھی کیے جا سکیں۔ عوامی خدمت اور سائلین کے مسائل کے حل کو اپنا اولین ترجیح بنائیں۔انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا اور ان کے مسائل کو براہِ راست سن کر فوری حل نکالنا ہے۔ اس سلسلے کو باقاعدگی سے جاری رکھا جائے تاکہ شہریوں کا پولیس پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔

خبرنامہ نمبر3355/2026
قلات: اسسٹنٹ کمشنرخالق ابادڈاکٹر علی گل عمرانی نے شارٹ لگا کر ٹورنامنٹ کا افتتاح کیاافتتاحی میچ کے مہمان خاص علی گل عمرانی تھے اسسٹنٹ کمشنرنیدونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے دفتر کے دروازے خالق اباد کے نوجوان اور کرکٹرز کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے خالق اباد کو درپیش سپورٹس کی مسائل کے حل کے لیے جتنا ممکن ہو سکا میں تعاون کروں گا نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور ہوکر کھیلوں میں حصہ لیں اور اپنے جسمانی فٹنس پر توجہ دیں جہاں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں ہسپتالیں ویران ہوتے ہیں اس موقع پر موجود ٹینس بال کرکٹ ایسوسی ایشن کے ممبران نے ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی اور اسسٹنٹ کمشنر خالق اباد ڈاکٹر علی گل عمرانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے خالق اباد میں ایک صحت افزاء ایونٹ فراہم کیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ اگے بھی ضلعی انتظامیہ اسی طرح خالق اباد کو مزید سپورٹس کے حوالے سے ایونٹس دیں گے۔

خبرنامہ نمبر3356/2026
ہرنائی: ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے زیر اہتمام بکری منڈی (گنج) میں کانگو وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک روزہ خصوصی آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔ سیشن میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلیم ترین، ڈی ایچ او ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل اور دیگر طبی ماہرین نے شرکت کی، جس کا مقصد مویشی پال حضرات اور خریداروں کو اس جان لیوا مرض سے بچاؤ کی تدابیر فراہم کرنا تھا۔آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلیم ترین اور ڈی ایچ او شعیب اکرم مینگل نے کہا کہ کانگو وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو جانوروں کے جسم پر موجود چیچڑیوں اور ان کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ماہرین نے شرکاء کو ہدایت کی کہ جانوروں کی خرید و فروخت، دیکھ بھال اور ذبح کے دوران دستانوں اور حفاظتی لباس کا استعمال لازمی بنائیں۔سیشن میں ڈاکٹر سمیع اللہ ترین، ڈسٹرکٹ منیجر عالمگیر اچکزی، ایس او چنگیز خان اور فنانس افسر سمیع اللہ بھی موجود تھے۔ مقررین نے واضح کیا کہ غیر ضروری طور پر جانوروں کی رطوبتوں کو چھونے سے گریز کیا جائے اور صفائی کے بین الاقوامی اصولوں پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیز بخار یا جسم میں درد جیسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص سے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی صحت کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور ایسے معلوماتی سیشنز کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ سیشن کے اختتام پر شرکاء میں آگاہی پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے تاکہ پیغام کو گھر گھر پہنچایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق عوامی شعور اور احتیاطی تدابیر کو اپنا کر ہی معاشرے کو اس مہلک وباء سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر3357/2026
لورالائی 24 اپریل:کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات پر شہر میں شجرکاری اور صفائی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ کی زیرِ نگرانی مختلف علاقوں میں سایہ دار درخت لگائے گئے، جس کا مقصد شہر کو سرسبز و شاداب بنانا اور شہریوں کو بہتر اور خوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ لگائے گئے پودوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں، کیونکہ یہ درخت نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہیں بلکہ مستقبل میں سایہ اور صاف فضا کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔دریں اثناء، شہر میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی کا عمل بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ مختلف زونز میں نالیوں کی صفائی اور کچرے کی بروقت نکاسی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کاشف زون میں پنجابی محلہ، عبدالخالق زون میں مرغی خانہ محلہ، باران زون میں بابو رفیق گلی اور سینما گلی جبکہ سلیم داد ولی کمپلینٹ زون میں صدر بازار، باگی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ پر صفائی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اسی طرح عجب زون تحصیل روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بھی صفائی کی سرگرمیاں جاری رہیں۔مزید برآں، شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً اظہر لون محلہ اور ٹیچنگ ہسپتال میں آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم چلائی گئی، جس کے تحت کتوں کو تلف کیا گیا تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا تدارک کیا جا سکے۔میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر کو صاف، صحت مند اور سرسبز بنانے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شہریوں سے بھی بھرپور تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ ایک بہتر اور محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3358/2026
کوئٹہ 24 اپریل.وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور اچکزئی نے پولیس اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسران کے ہمراہ کسٹم چوک سریاب میں زیر تعمیر کسٹم فلائی اوور کے سلسلے میں دکانوں کے انہدام کے لیے کارروائی کی۔ منصوبے کے راستے میں آنے والے دکانداروں کو پہلے ہی 7 دن کی مہلت دی گئی تھی، تاہم موقع پر انہوں نے مزید دو دن کی درخواست کی جسے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو حبیب بہلول سے مشاورت کے بعد منظور کر لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں سے بات چیت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبے میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور جلد از جلد دکانیں خالی کریں تاکہ منصوبہ بروقت مکمل ہو سکے۔انتظامیہ کے مطابق اضافی مہلت ختم ہونے کے بعد انہدام کرنے کے لیے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر3359/2026
کوئٹہ، 24 اپریل۔ ضلعی انتظامیہ کی مغربی بائی پاس پر غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی، دو سیل، دو افراد گرفتار تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ نے مقامی پولیس کے ہمراہ مغربی بائی پاس کے علاقے میں غیر قانونی طور پر چلنے والے کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی کی۔کارروائی کے دوران دو کرش پلانٹس کو متعلقہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا، جبکہ موقع پر موجود دو افراد کو سرکاری امور میں مداخلت اور احکامات کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3360/2026
کوئٹہ: 24اپریل۔صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی و صوبائی مشیر لوکل گورنمنٹ نوابزادہ میر حمزہ زہری کے زیر صدارت 14ویں لوکل کونسل و فاننس کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں سیکریٹری خزانہ عمران زرکون اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ عبدالروف بلوچ، اسپیشل سکریٹری خزانہ عارف اچکزئی و دیگر متعلقہ آفیسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کی مضبوطی ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوام کیاکثر مسائل ان کے دہلیز پر حل ہو سکتے ہیں ہم اسے مضبوط کرنے کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں اس موقع پر وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے لوکل گورنمنٹ کے نمائندوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ اپنی آمدن میں بھی اضافہ کرے تاکہ کچھ حد تک مالیاتی خودمختیاری حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضروری مشینری کی فوری طور پر خریداری یقینی بنائی جائے تاکہ ہنگامی حالات میں مؤثر رسپانس اور مسائل سے نمٹنے کے مشینری کا ہونا اشد ضروری ہے انہوں نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو دیے جانے والے گرانٹس میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر ترقیاتی منصوبوں پر جلد کام شروع ہو جائے صوبائی حکومت لوکل اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی کیونکہ مقامی حکومتوں کا فعال ہونا ہی عوامی مسائل کے حل کی ضامن ہے۔

خبرنامہ نمبر3361/2026
سبی 24 اپریل:ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی اور ونگ کمانڈر کرنل زبیر نے بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت متعدد تعلیمی اداروں کی سولرائزیشن منصوبوں کا افتتاح کر دیا۔ افتتاح کیے گئے اداروں میں گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول حمبل آباد، گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ریلوے کالونی، گورنمنٹ ہائی اسکول دہپال بوستان، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مرغزانی، گورنمنٹ پرائمری اسکول محلہ غوثیہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس اور سرکٹ ہاؤس سبی شامل ہیں جہاں سولرائزیشن کے منصوبے مکمل کیے گئے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ایگزیکٹو انجینیئر یو پی این ڈی رازق مری سمیت متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ طلباء و طالبات نے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا جبکہ اساتذہ کا کہنا تھا کہ شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں، تاہم سولرائزیشن سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے اور اب اسکولوں میں طلباء و طالبات کی تعداد میں بھی واضح بہتری آئی ہے، جو پہلے گرمی اور بجلی کے مسائل کے باعث کم ہو جاتی تھی۔ ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جن میں تعلیم اور صحت کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی سولرائزیشن سے نہ صرف طلباء کو سازگار ماحول ملے گا بلکہ اساتذہ بھی بلا تعطل اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں گے۔ یہ اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبے میں عوامی فلاح و بہبود، تعلیمی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں، جن کے مثبت اثرات براہ راست عوام تک پہنچ رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر3362/2026
کوئٹہ:پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ چین کے تعاون سے بلوچستان میں زچہ و بچہ طبی سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور عوامی خدمت پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے چین کے تعاون سے شروع کئے گئے منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کے لئے آنے والے طبی ماہرین کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ چین کے تعاون سے زچہ و بچہ طبی سہولیات کی بہتری کے منصوبے کے آغاز خوش آئند ہے یہ اقدام صوبے میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلوچستان کے سات اضلاع کے 100ہسپتالوں میں ماں اور نومولود بچوں کی صحت سے متعلق سہولیات کی بہتری کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جو حکومت بلوچستان کی ایک بڑی کامیابی ہے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس کا مقصد صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے اس منصوبے سے ماں اور بچے کی بہتر نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے گا عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے زچہ و بچہ طبی معاونت کا یہ منصوبہ پاک چین دوستی کی ایک روشن مثال ہے جبکہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں مزید بہتری کے لیے دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

خبرنامہ نمبر3363/2026
کوئٹہ 24 اپریل 2026: سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان میر عمران گچکی کی زیر صدارت ریکو ڈِک مائننگ کمپنی (RDMC) کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں RDMC کی جانب سے ہیڈ آف سسٹین ایبلٹی ایشلے پرائس، کنٹری منیجر ضرار جمالی اور سینئر ایڈوائزر احمر نے شرکت کی، جبکہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کے چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف، چیف کنزرویٹر فارسٹ (نارتھ و ساؤتھ زونز) اور سوائل کنزرویشن کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں ضلع چاغی اور رخشان ڈویژن میں ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کے فروغ، کلائمٹ ریزیلینس، شجرکاری، چراگاہوں کی بحالی اور جنگلی حیات کے مساکن کی بہتری جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سیکرٹری عمران گچکی نے کہا کہ معدنیات کی ترقی اور مائننگ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جنگلات، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کا تحفظ نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہیں، زمین کی زرخیزی کو سہارا دیتے ہیں، آبی وسائل کی حفاظت کرتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے محکمہ کا انٹیگریٹڈ کلائمٹ چینج مٹیگیشن اینڈ اڈاپٹیشن پروگرام پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ بلوچستان میں جنگلات اور جنگلی حیات ماحولیاتی استحکام اور قدرتی آفات کے اثرات میں کمی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ RDMC کے وفد نے محکمہ کے ماحولیاتی وژن کو سراہتے ہوئے اسے اپنی سسٹین ایبلٹی پالیسی سے ہم آہنگ قرار دیا اور مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر3364/2026
تربت(24اپریل:یونیورسٹی آف تربت کوالٹی سرکل(یوٹی کیوسی) کا چھٹا اجلاس تربت یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈینز، ڈائریکٹرز اور مختلف تعلیمی اور انتظامی شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی میں جاری کوالٹی ایشورنس سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں تمام تعلیمی پروگراموں کی سیلف اسسمنٹ رپورٹس (SARs) کی منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اجلاس میں پروگرام ریویو فار ایفیکٹیونس اینڈ انہانسمنٹ (PREE) کے لیے اسسمنٹ ٹیمیں تشکیل دینے کے علاوہ انسٹی ٹیوشنل پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ (IPER) کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد نے کوالٹی ایشورنس سے متعلق تمام امور اور سرگرمیوں کو بروقت مکمل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے شرکاء نے یونیورسٹی میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے اور پروگراموں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے موثر رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ آخر میں پرووائس نے اجلاس میں شرکت کرنے اور یونیورسٹی کے تعلیمی معیار میں مزید بہتری لانے کے لئے قیمتی تجاویز دینے پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر3365/2026
نصیرآباد24 اپریل:صحبت پور میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ تھے تقریب میں کنسٹرکشن آف ایڈیشنل رومز پراجیکٹ کے تحت 32 پی ٹی ایس ایم سی (PTSMC) کے نمائندگان میں اپنے اپنے اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے لیے صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ، و ڈپٹی کمشنر صحبت پور میڈم فریدہ ترین نے چیکس تقسیم کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اس کا اہم حصہ ہیانہوں نے مزید کہا کہ اضافی کمروں کی تعمیر اور اسکولوں کی مرمت سے نہ صرف طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا بلکہ اساتذہ بھی بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ترقیاتی منصوبے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے صوبائی وزیر نے متعلقہ اداروں اور اسکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرے گی تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکیتقریب کے اختتام پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کی تعلیمی بہتری کے لیے اقدامات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کے مثبت اثرات جلد سامنے آئیں گے.

خبرنامہ نمبر3366/2026
نصیرآباد24 اپریل:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر آفس صحبت پور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ تھے ڈسٹرکٹ منیجر صحبت پور بابر خان جمالی بھی موجود تھے اس موقع پر پی پی ایچ آئی میں میرٹ کی بنیاد پر نئے تعینات ہونے والے امیدواروں میں تقرری کے آرڈرز تقسیم کیے گئے۔ صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ اور ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین نے مشترکہ طور پر کامیاب امیدواروں کو آرڈرز حوالے کیے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں جاری ہیں انہوں نے نئے تعینات ہونے والے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ اپنے فرائض منصبی دیانتداری، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کی تعیناتی کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہے، لہٰذا عوامی فلاح و بہبود کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنائیں اور اپنے ادارے کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کی جانب سے میرٹ پر تقرریوں کے عمل کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے گا بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

خبرنامہ نمبر 3367/2026
صحبت پور۔۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر آفس صحبت پور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ تھے ڈسٹرکٹ منیجر صحبت پور بابر خان جمالی بھی موجود تھے اس موقع پر پی پی ایچ آئی میں میرٹ کی بنیاد پر نئے تعینات ہونے والے امیدواروں میں تقرری کے آرڈرز تقسیم کیے گئے۔ صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ اور ڈپٹی کمشنر صحبت پور، میڈم فریدہ ترین نے مشترکہ طور پر کامیاب امیدواروں کو آرڈرز حوالے کیے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں جاری ہیں انہوں نے نئے تعینات ہونے والے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ اپنے فرائض منصبی دیانتداری، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کی تعیناتی کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہے، لہٰذا عوامی فلاح و بہبود کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنائیں اور اپنے ادارے کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کی جانب سے میرٹ پر تقرریوں کے عمل کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے گا بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

خبرنامہ نمبر 3368/2026
صحبت پور۔۔صحبت پور میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ تھے تقریب میں کنسٹرکشن آف ایڈیشنل رومز پراجیکٹ کے تحت 32 پی ٹی ایس ایم سی (PTSMC) کے نمائندگان میں اپنے اپنے اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے لیے صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ، و ڈپٹی کمشنر صحبت پور میڈم فریدہ ترین نے چیکس تقسیم کیے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اس کا اہم حصہ ہےانہوں نے مزید کہا کہ اضافی کمروں کی تعمیر اور اسکولوں کی مرمت سے نہ صرف طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا بلکہ اساتذہ بھی بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ترقیاتی منصوبے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے صوبائی وزیر نے متعلقہ اداروں اور اسکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرے گی تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکےتقریب کے اختتام پر شرکاء نے حکومت بلوچستان کی تعلیمی بہتری کے لیے اقدامات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں کے مثبت اثرات جلد سامنے آئیں گے۔

خبرنامہ نمبر 3369/2026
موسیٰ خیل 24 اپریل:ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے تحصیل توئسر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دوران BHU نالی مردادزئی سمیت جاری 16 روزہ (IOA) مہم کی باقاعدہ نگرانی کی گئی۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے فیلڈ میں موجود ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لیا، ان کی حاضری، رجسٹرز، کولڈ چین سسٹم اور دیگر اہم ریکارڈ کو بغور چیک کیا۔ ساتھ ہی زیرو ڈوز (0 Dose) بچوں کی نشاندہی کو یقینی بنایا گیا تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے۔اس موقع پر ریفیوزل والے گھروں کا بھی خصوصی دورہ کیا گیا، جہاں ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ نے خود والدین سے ملاقات کر کے ویکسین کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں آگاہی دی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آگاہی کے بعد اکثر خاندانوں نے اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے پر رضامندی ظاہر کی۔ڈپٹی ڈی ایچ او نے خود کمیونٹیز میں گھر گھر جا کر وزٹ کیا اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ڈور ٹو ڈور آگاہی بھی دی گئی۔ ایسے مثبت اور مسلسل دورے نہ صرف ویکسینیشن مہم کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ کمیونٹی میں اعتماد کو بھی فروغ دیتے ہیں، جو ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *