خبرنامہ نمبر4604/2026
کوئٹہ 3 جون۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت صوبے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف انجینئر لورالائی۔ژوب زون قاضی نور الحق چیف انجینئر فیڈرل پراجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ ڈائریکٹر الیکشن کمیشن آف پاکستان نعیم احمد سمیت متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز آفیسران نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے بھر میں الیکشن کمیشن کے تحت جاری 9 منصوبوں جن میں نئی عمارتوں اور باونڈری وال کی تعمیر شامل ہے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ بریفنگ کے مطابق تمام منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت جاری ہے اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو تمام منصوبے جون کے آخر تک مکمل کر لیے جائیں گے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کے دوران معیار اور شفافیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ منصوبے دیرپا اور عوامی ضروریات کے مطابق ہوں ڈائریکٹر الیکشن کمیشن نعیم احمد نے منصوبوں کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری منصوبوں پر کام کی رفتار اور معیار قابلِ اطمینان ہے انہوں نے کہا کہ یہ ریمارکس الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے جاری تعمیراتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس کے دوران دیے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ صوبے کے انفراسٹرکچر کی جدید خطوط پر ترقی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہیں۔ ان کا وڑن ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےذریعےبلوچستان میں ترقی خوشحالی اور بہتر عوامی سہولیات کو فروغ دیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4605/2026
نصیرآباد3جون۔دنیا بھر کی طرح ضلع نصیرآباد میں بھی ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر سرکٹ ہاوس ڈیرہ مراد جمالی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی تھے جبکہ دیگر معزز شرکاء میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار، ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی، سپرنٹنڈنگ انجینیئر ایریگیشن مدثر ظفر کھوسہ، سپرنٹنڈنگ انجینیئر بی اینڈ آر فدا حسین کھوسہ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ظہیر احمد عمرانی،ڈاکٹر حبیب پندرانی خواتین۔ افیسران، مختلف محکموں کے ڈویڑنل و ضلعی سربراہان اور دیگر معزز شخصیات شریک ہوئیں۔ تقریب کے دوران محکمہ جنگلات کی جانب سے شجرکاری مہم کے تحت پودے بھی لگائے گئے جبکہ ماحولیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کی بقا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویڑن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ ماحولیات کا عالمی دن منانے کا مقصد عوام میں ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری، آلودگی کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں آج پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں اور بلوچستان سمیت پاکستان بھی اس کے منفی اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، خشک سالی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ماحول کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ صاف اور صحت مند ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم اس حق کے تحفظ کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری بھی نبھانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگانا، پانی کے ضیاع سے بچنا، فضائی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا اور قدرتی وسائل کا محتاط استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت، اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات، آبی وسائل اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ شجرکاری نہ صرف ماحول کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینے، شجرکاری مہمات کو کامیاب بنانے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ تقریب کے اختتام پر شرکائ نے ماحولیات کے تحفظ، سرسبز و شاداب بلوچستان کے قیام اور آئندہ نسلوں کو صاف اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4606/2026
جھل مگسی 3جون ۔ڈپٹی کمشنر جھل مگسی، سید رحمت اللہ شاہ کی زیرِ صدارت مون سون سیزن کے پیشگی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 151 ونگ کے ونگ کمانڈر سمیت مختلف متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران ممکنہ موسلادھار بارشوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے مختلف اداروں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ مون سون سیزن سے قبل تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں، دستیاب مشینری کو فعال رکھا جائے اور افرادی قوت کو ہائی الرٹ رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو مزید مو¿ثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ ایریگیشن، محکمہ روڈز محکمہ صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، کیسکو اور دیگر متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے، سڑکوں کی مرمت و بحالی کو یقینی بنایا جائے، ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی دستیابی کو برقرار رکھا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے پیشگی اقدامات مکمل کیے جائیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مون سون سیزن کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4607/2026
لورالائی3جون ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی صورتحال، اساتذہ کی حاضری، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) فوزیہ درانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد طارق، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) قمر سلطانہ، آر ٹی ایس ایم محمد خان، ڈسٹرکٹ سپروائزر بلوچستان ایجوکیشن فاو¿نڈیشن محمد بشیر سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اساتذہ کی ریشنلائزیشن، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی، اسکول بسوں کی فعالیت، آر ٹی ایس ایم کی ماہانہ رپورٹ، بند اسکولوں کی بحالی، پی ایس ڈی پی، بی ایس ڈی آئی اور پی ایم یو کے تحت جاری تعمیراتی منصوبوں کے معائنے اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن (BEF) اور یونیسیف کے تعاون سے جاری تعلیمی منصوبوں کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور اساتذہ قوم کے معمار ہیں۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری ہر صورت یقینی بنائیں اور تدریسی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بند اسکولوں کو جلد از جلد فعال بنانے، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر کاسکولوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی، جبکہ طلبہ کے داخلوں میں اضافے، شرح خواندگی بہتر بنانے اور تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی جائے گی۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کے و۔ژن کے مطابق تعلیمی شعبے میں مزید بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4608/2026
لورالائی3جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی صورتحال، اساتذہ کی حاضری، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الحمید ابڑو، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) فوزیہ درانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد طارق، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) قمر سلطانہ، آر ٹی ایس ایم محمد خان، ڈسٹرکٹ سپروائزر بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن محمد بشیر سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اساتذہ کی ریشنلائزیشن، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی، اسکول بسوں کی فعالیت، آر ٹی ایس ایم کی ماہانہ رپورٹ، بند اسکولوں کی بحالی، پی ایس ڈی پی، بی ایس ڈی آئی اور پی ایم یو کے تحت جاری تعمیراتی منصوبوں کے معائنے اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن (BEF) اور یونیسیف کے تعاون سے جاری تعلیمی منصوبوں کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور اساتذہ قوم کے معمار ہیں۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری ہر صورت یقینی بنائیں اور تدریسی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بند اسکولوں کو جلد از جلد فعال بنانے، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر کاسکولوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی، جبکہ طلبہ کے داخلوں میں اضافے، شرح خواندگی بہتر بنانے اور تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی جائے گی۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کے وڑن کے مطابق تعلیمی شعبے میں مزید بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4609/2026
لورالائی3جون ۔کمشنر لورالائی ڈویژن کے کانفرنس ہال میں ڈویژنل ٹاسک فورس کا اہم اجلاس ایڈیشنل کمشنر اعجاز جعفر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں لورالائی ڈویژن کے اضلاع میں پولیو کے خاتمے، روٹین ویکسی نیشن کی بہتری اور صحت عامہ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز و ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر شاہ زمان حمزہ زئی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز لورالائی، دکی اور موسیٰ خیل، پی پی ایچ آئی کے ضلعی سپورٹ منیجرز، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفیسران اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی، روٹین ویکسی نیشن کی صورتحال، رہ جانے والے بچوں کی فہرستوں، پولیو مائیکرو پلاننگ، مہمات کی نگرانی اور آئندہ انسداد پولیو مہمات کے انتظامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاءنے مختلف اضلاع میں جاری حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیرو ڈوز اور ویکسین سے محروم بچوں تک رسائی کو مزید موثر بنایا جائے گا اور دور دراز و دشوار گزار علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے۔ اس موقع پر والدین میں آگاہی پیدا کرنے اور کمیونٹی کی شمولیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے شرکاءنے گزشتہ پولیو مہمات اور روٹین ویکسی نیشن پروگرام میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ اور متعلقہ ضلعی صحت حکام کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے مجموعی نظام کو مزید فعال اور موثر بنانے کے لیے بین الادارہ جاتی رابطوں اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ایڈیشنل کمشنر اعجاز جعفر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ اور بچوں کو جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنائیں اور ہر مہم کے دوران مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران اور فیلڈ اسٹاف اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں تاکہ لورالائی ڈویژن کو پولیو فری اور صحت مند معاشرے کی جانب گامزن کیا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر آئندہ پولیو مہمات اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی نگرانی مزید موثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4610/2026
لورالائی3جون ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ضلعی ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کی سہولیات، سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی اور عوام کو طبی خدمات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال ڈاکٹر محمد انور مندوخیل، خزانہ آفیسر زبیر احمد، پی پی ایچ آئی ڈاکٹر فرحان کاکڑ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع لورالائی میں صحت عامہ کی موجودہ صورتحال، بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی، ادویات کی دستیابی ایمبولینس سروس، طبی آلات کی فعالیت اور طبی عملے کی حاضری سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد نے ضلع بھر میں جاری صحت سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر لورالائی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ایمرجنسی سروسز کو مزید موثر اور فعال بنانے اور ایمبولینس سروس کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو فوری اور معیاری طبی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام طبی آلات اور مشینری کو فعال حالت میں رکھا جائے، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری یقینی بنائی جائے اور دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے اجلاس میں اسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے، مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ رویے کو فروغ دینے اور 24 گھنٹے طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی خدمات میسر آ سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور محکمہ صحت میں کسی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ داری کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4611/2026
لورالائی3جون ۔ ضلعی انتظامیہ کی موثر نگرانی اور بروقت اقدامات کے نتیجے میں لورالائی میں پیٹرول کی قلت پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ شہر کے مختلف پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے شہر کے مختلف پیٹرول پمپس کا دورہ کیا اور وہاں پیٹرول کی دستیابی، سپلائی کی صورتحال اور عوامی سہولیات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے تصدیق کی کہ ضلع بھر میں پیٹرول کی فراہمی بحال ہو چکی ہے اور شہری بلا تعطل اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں ایندھن حاصل کر رہے ہیں۔ مختلف پیٹرول پمپس پر بڑی تعداد میں شہری پیٹرول ڈلواتے ہوئے دیکھے گئے، جس سے سپلائی کی معمول پر واپسی واضح ہوئی۔اس موقع پر ندیم اکرم نے پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخوں پر پیٹرول فروخت کریں اور صارفین کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری یا سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پیٹرول پمپ مالکان نے ضلعی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ مزید پیٹرول سپلائی بھی راستے میں ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں فراہمی کی صورتحال مزید مستحکم اور بہتر ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پیٹرول کی دستیابی کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے فوری حل، اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی اور شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے، جبکہ پیٹرول کی صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4612/2026
لورالائی 3جون ۔ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ہوائی فائرنگ، منشیات فروشی اور ڈکیتی کے مقدمات میں متعدد ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ہوائی فائرنگ کے خلاف کارروائی، دو دولہوں سمیت 7 افراد کے خلاف مقدمات درج پولیس تھانہ سٹی لورالائی کے ایس ایچ او محمد شریف موسخیل کی مدعیت میں ناصر آباد اور قاری آباد کے علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے دو مختلف واقعات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو دولہوں سمیت مجموعی طور پر 7 افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔سی آئی اے لورالائی کی کارروائی، ایک کلو چرس اور ایک کلو آئس برآمد سی آئی اے لورالائی نے منشیات فروشوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ انچارج سی آئی اے سب انسپکٹر محمد انور جلالزئی کی سربراہی میں ٹیم نے کارروائی کے دوران عزیز اللہ ولد عبدالرحمن قوم ملکیل، ساکن پنچاپ کو گرفتار کیا۔ ملزم کے قبضے سے ایک کلو چرس اور ایک کلو گرام شیشہ (آئس) برآمد کیا گیا۔ ملزم کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ڈکیتی کے مقدمے میں مطلوب مفرور ملزم گرفتار پولیس تھانہ صادق علی شہید لورالائی نے ڈکیتی کے مقدمے میں مطلوب مفرور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایچ او صدر سب انسپکٹر محمد اکرم حمزازئی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 31/2025 بجرم 392 میں مطلوب ملزم عبدالقدوس ولد اللہ بخش قوم ونیچی، ساکن پٹھانکوٹ لورالائی کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جرائم کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضلع بھر میں کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4613/2026
کوئٹہ، 03 جون ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور ترسیل کے نظام میں بہتری کے لیے مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے اہم اجلاس بدھ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم سیکرٹری توانائی اسفندیار کاکڑ ، چیف کیسکو سید یوسف شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران محکمہ توانائی بلوچستان کی جانب سے صوبے کے دور دراز علاقوں میں بلا تعطل، پائیدار اور کم لاگت بجلی کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے گئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کی وسیع جغرافیائی حدود اور بکھری ہوئی آبادی کے باعث روایتی طویل ٹرانسمیشن لائنوں اور پیچیدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نہ صرف مہنگا عمل ہے بلکہ متعدد علاقوں میں تکنیکی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر مقامی سطح پر بجلی پیدا کرنے کے لیے منی پاور اسٹیشنز اور آف گرڈ توانائی منصوبوں کو زیادہ موثر اور قابل عمل حل قرار دیا گیا اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی آزمائشی منصوبوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنے کے بعد صوبے کے 17 اضلاع میں آف گرڈ پاور اسٹیشنز کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ایسے علاقوں کو سستی اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرنا ہے جو قومی گرڈ سے منسلک نہیں یا جہاں بجلی کی فراہمی مسلسل مسائل کا شکار ہے اجلاس میں آن گرڈ اسٹیشنز سے منسلک علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ اس موقع پر منصوبوں پر تیز رفتار پیش رفت یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ ٹیرف کے تعین، قانونی ضابطہ کار اور دیگر ریگولیٹری معاملات کے حوالے سے نیپرا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرتے ہوئے پیش رفت کو تیز کیا جائے تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل میں بہتری کے لیے آن گرڈ اسٹیشنز پالیسی کو تمام متعلقہ اداروں کی مشاورت سے جلد حتمی شکل دی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کو سستی، پائیدار اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے قابل عمل اور دیرپا منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور افتادہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں جدید، مقامی اور پائیدار حل اختیار کیے جا رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ توانائی کے نئے منصوبے نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات پوری کریں گے بلکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کے ہر شہری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات، جدید منصوبہ بندی اور متبادل توانائی ذرائع کے فروغ کے ذریعے بلوچستان کے دور دراز علاقوں کی دیرینہ محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے گا اور عوام کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4614/2026
بارکھان، 3 جون ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ کی زیرِ صدارت زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر عید محمد کھیتران اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بارکھان میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے فیملی ویلفیئر سینٹرز (FWCs) کو محکمہ صحت کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ عوام کو چوبیس گھنٹے تولیدی صحت اور طبی سہولیات کی بہتر فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ فیملی ویلفیئر ورکرز (FWWs) کو محکمہ صحت کے مختلف مراکز میں تعینات کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک فیملی ویلفیئر ورکر کو ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان، دوسری کو بی ایچ یو ناہڑکوٹ اور تیسری کو بی ایچ یو رکنی میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ عملہ زچہ و بچہ کی صحت، ڈلیوری کیسز، خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر بنیادی طبی خدمات کی فراہمی میں اپنی ذمہ داریاں باقاعدگی سے سرانجام دے گا۔اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسام الدین کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطے اور تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوامی فلاح و بہبود، خصوصاً خواتین اور بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4615/2026
لورالائی، 3 جون ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے نئے دفتر کے افتتاح کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈویژن کے انتظامی افسران سمیت سماجی اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے تقریب میں شرکت کی۔ جس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ سردار رفیق ترین، اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحیٰ چرمی، سید محمد ہوتک، مولوی علی جان کبزئی، ایڈووکیٹ مولانا عطاو¿اللہ شاہ بخاری سمیت دیگر معززین شریک ہوئے۔افتتاحی تقریب کے دوران روایتی انداز میں کیک کاٹا گیا جبکہ شرکاء کے اعزاز میں چائے پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاءنے لورالائی ڈویژن کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے دفتر کا قیام عوامی خدمت، بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی امور میں مزید بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈویژن بھر میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی، شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔شرکاءنے امید ظاہر کی کہ نئے دفتر کے قیام سے انتظامی امور میں مزید بہتری آئے گی اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی پیدا ہوگی۔ تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4616/2026
کوئٹہ 3جون۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت شہر میں پٹرول کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ امیر حمزہ کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، اوگرا اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران شہر میں پٹرول کی طلب اور رسد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئل کمپنیوں کے نمائندوں نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو موجودہ صورتحال اور سپلائی چین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار لیٹر پٹرول سپلائی کے لیے راستے میں موجود ہے، جس کے کوئٹہ پہنچنے کے بعد موجودہ صورتحال میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت کی کہ تمام رجسٹرڈ پٹرول پمپ مالکان اپنی طلب فوری طور پر متعلقہ آئل کمپنیوں کو ارسال کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ڈیلرز مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ڈیمانڈ جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کی جانب سے طلب بھیجنے کے بعد اس کی بروقت تکمیل کی ذمہ داری آئل کمپنیوں پر عائد ہوگی۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پٹرول پمپوں پر کین اور بوتلوں میں پٹرول فروخت نہیں کیا جائے گا تاکہ ایندھن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ پٹرول پمپ مالکان کے ساتھ تعاون کریں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اجلاس میں متعلقہ پولیس حکام کو گشت میں اضافے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ پٹرول پمپوں پر نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے شہر میں پٹرول سپلائی کو معمول پر لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام رجسٹرڈ پٹرول پمپ مالکان کو فوری طور پر اپنی طلب جمع کرانے جبکہ آئل کمپنیوں کو سپلائی چین کو فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں، کیونکہ پٹرول کی فراہمی جلد معمول پر آ جائے گی اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4617/2026
کوئٹہ 3جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ ایرانی پٹرول کی سپلائی بند ہونے کے بعد کوئٹہ میں پیٹرول پمپس پر غیر معمولی رش اور قلت کے خدشات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے، شہر میں پیٹرول کی وافر مقدار دستیاب ہے سپلائی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔یہ بات انہوں نے بدھ کواپنے دفتر میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ایرانی پٹرول کی سپلائی ہوتی رہی ہے تاہم حالیہ دنوں میں اس سپلائی میں رکاوٹ آنے کے باعث پیٹرول پمپس پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں مجموعی طور پر 60 رجسٹرڈ پیٹرول پمپس موجود ہیں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر پمپس مالکان سے رابطہ کیا اور سپلائی کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کوئٹہ کے مختلف پیٹرول پمپس کو 4 لاکھ لیٹر پیٹرول فراہم کیا گیا جبکہ آج شہر بھر کے پمپس کو 6 لاکھ لیٹر پیٹرول سپلائی کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آج پیٹرول دستیاب ہے اور کل نہیں ہوگا کیونکہ سپلائی کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے اور آئندہ بھی پیٹرول کی فراہمی برقرار رہے گی۔مہراللہ بادینی نے کہا کہ ایرانی پٹرول کی سپلائی بند ہونے کے بعد شہریوں کا رجحان رجسٹرڈ پیٹرول پمپس کی جانب بڑھا جس کے باعث بعض مقامات پر رش دیکھنے میں آیا تاہم انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ ایرانی پٹرول کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے اور کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بحران کے دوران ذخیرہ اندوز اور مافیا عناصر سرگرم ہو جاتے ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ ایسے عناصر کے خلاف کڑی نگرانی کر رہی ہے اس سلسلے میں بعض پیٹرول پمپس پر کم گیج اور پیمائش میں کمی سے متعلق شکایات کا بھی نوٹس لیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور پیٹرول کی دستیابی کے حوالے سے غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں کیونکہ شہر میں پیٹرول کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ موبائل ڈیٹا سروس سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر معطل کی گئی ہے جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے متعلقہ ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4618/2026
کوئٹہ 3جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کو نوٹس لے لیا تفصیلات کے مطابق شہر کے نواحی علاقے نواں کلی میں میڈیکل اسٹورسے متعلق خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کی گئی۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ میڈیکل اسٹور پر بچوں کو اینٹی الرجی انجکشن لگائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس پر ڈرگ کنٹرولر ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شکیل میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارا۔کارروائی کے دوران میڈیکل اسٹور کو سیل کردیا گیا جبکہ تمام آلات اور متعلقہ سامان ضبط کرلیا گیا۔ حکام کے مطابق مالک کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیرقانونی طبی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4619/2026
ہرنائی 3جون ۔ ضلعی انتظامیہ ہرنائی کی بروقت مداخلت اور کامیاب حکمتِ عملی کے باعث کھوسٹ زردالو کے علاقے میں پانیزئی اور بابر اقوام کے درمیان گاڑیوں کی بندش کا دیرینہ تنازع مستقل بنیادوں پر حل ہو گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ہرنائی محمد سلیم ترین نے فریقین کے مابین لین دین کے معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹاتے ہوئے کھڑے کیے گئے تمام ٹرک بحفاظت ان کے اصل مالکان کے حوالے کر دیے۔ اس اہم کامیابی پر دونوں اقوام اور مقامی تاجر برادری نے سکھ کا سانس لیا ہے واقعات کے مطابق کچھ عرصہ قبل کھوسٹ زردالو کے مقام پر پانیزئی اور بابر اقوام کے مابین کاروباری لین دین اور حساب کتاب کے معاملے پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا، جس کے ردعمل میں ایک دوسرے کی ٹرک گاڑیوں کو روک کر کھڑا کر دیا گیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف پانیزئی قوم کی جانب سے زردالو پل کے قریب ہرنائی-کوئٹہ قومی شاہراہ پر پہیہ جام ہڑتال کی گئی تھی، جس سے صوبائی دارالحکومت اور دیگر اضلاع کے مابین ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔?قومی شاہراہ کی بندش اور امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین نے ضلعی انتظامیہ کی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے تھے۔ اے ڈی سی نے اس وقت مظاہرین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے جائز مطالبات اور دونوں اقوام کے مابین موجود غلط فہمیوں کو قانون اور انصاف کے دائرے میں رہ کر حل کیا جائے گا، جس پر مظاہرین نے انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہوئے ہڑتال ختم کر دی تھی۔ اپنے اسی وعدے کو ایفا کرتے ہوئے گزشتہ روز ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے دونوں فریقین کے معززین کو ہمرکاہ لے کر معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے فریقین کے مابین کاروباری تنازع کا منصفانہ حل نکالتے ہوئے ضبط کی گئی تمام ٹرک گاڑیاں ان کے مالکان کے سپرد کر دیں اور دونوں اقوام کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔مسئلے کے پرامن اور مستقل حل پر پانیزئی اور بابر اقوام کے عمائدین اور بالخصوص کھوسٹ کے ٹرک مالکان نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ فریقین نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین کی انتھک کوششوں، غیر جانبدارانہ کردار اور موقع پر پہنچ کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ معززین کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے جس ذمہ داری اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے، وہ علاقائی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بہترین مثال ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4620/2026
دکی: 3جون ۔ : ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیرِ صدارت اسپیشل سپورٹ پروگرام (SSP) کے تحت ضلعی سطح کی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سلطان محمد ناصر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر معصوم خان لونی، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ناصر خان پانیزئی سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران تعلیمی اخراجات اور علاج معالجے کی مد میں موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیاکمیٹی نے تمام درخواستوں کو مقررہ قواعد و ضوابط اور میرٹ کی بنیاد پر جانچا تاکہ حقیقی اور مستحق افراد کو اسپیشل سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ شرکاء کو درخواست گزاروں کی معاشی صورتحال، تعلیمی ضروریات اور طبی مسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور مستحق افراد کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل سپورٹ پروگرام معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کی معاونت کے لیے ایک موثر اقدام ہے جس کے ذریعے مستحق خاندانوں کی مشکلات میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ امدادی وسائل صحیح حقداروں تک پہنچ سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور فلاحی منصوبوں کی موثر نگرانی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔اجلاس کے اختتام پر متعدد درخواستوں کی منظوری دی گئی جبکہ بعض درخواستوں کو مزید جانچ پڑتال اور مطلوبہ دستاویزات کی تکمیل کے لیے متعلقہ محکموں کے سپرد کر دیا گیا۔ شرکائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستحق افراد کی بروقت مدد اور فلاحی پروگراموں کی شفاف عملداری کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 4621/2026
کوئٹہ 3 جون۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اپنے چالیس سالہ سیاسی سفر کے نتیجے میں یہ تفہیم حاصل ہوئی ہے کہ تعلیم ایک فیکسڈ اسٹرکچر نہیں ہے بلکہ یہ متحرک، مترقی اور مسلسل بڑھتا ہوا ارتقائی مرحلہ ہے۔ سماج کے بدلنے کے ساتھ تعلیمی نظام کی تبدیلی مشروط ہے۔ ہمیں اپنے نظام اور نصاب تعلیم بدلتے تقاضوں اور انسانی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ بنانا ہوگا۔ روایتی اکیڈمک ڈگریز کے علاوہ آج جدید مہارت، پروفیشنل ٹریننگ اور ڈپلومہ کورسز کی بڑھتی ہوئی اہمیت و افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈگری اور مہارت کے درمیان ایک تکمیلی شراکت داری ہے۔ جدید مہارت اکیڈمک ڈگری کو تقویت بخشتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں وزیر اعظم کی لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی، اراکین صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہادیہ نواز، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور بازئی، وزیراعظم پاکستان کے یوتھ کوآرڈینیٹر بلوچستان حیدر خان اچکزئی ، یورپی یونین اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے نمائندوں سمیت فیکلٹی ممبرز اور اسٹوڈنٹس کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کورونا وائرس کویڈ نائنٹین کی وبا کے دوران یورپی یونیورسٹیوں میں آن لائن تعلیم کو نئی شکل دینے میں مدد کی۔ ان کا تجربہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آن لائن لیکچر دینے کا اہتمامِ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ایمرجنسی اور بحران کے وقت اس نے ہمیں جڑے رکھا ہم یورپی یونین اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کا شکریہ کرتے ہیں جنھوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان اور یونیورسٹی آف تربت میں آن لائن سسٹم نصب کرنے میں مدد کی اور آب اس سلسلے کو دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک وسعت دینی چاہیے۔ یہ بات باعث فخر ہے کہ ہم نے صوبہ کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کو 40 فیصد سے 80 فیصد تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس مقصد کے حصول میں ہم وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر نجی اداروں کے تعاون کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ہم آن لائن صلاحیت کے ذریعے دوسرے ممالک اور شہروں کے بین انٹرنیشنل اسکالرز اینڈ ریسرچرز سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں ڈیجٹل لیٹریسی اور آن لائن لرنینگ اہم ستون ہیں جو ہمیں آنے والے کسی بھی چیلنج کیلئے تیار کرتا ہے۔ اس تیز رفتار دنیا میں ترقی کی نئی منازل طے کرنے کیلئے ہمیں جدید طور طریقے اپنانے ہونگے کیونکہ تعلیمی نظام کبھی کسی مخصوص مدت میں منجمد نہیں ہوتا ہے۔ ہمیں تعلیمی پالیسی کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق اپڈیٹ کرنا پڑے گا تاکہ سماجی علوم، میڈیکل اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ پروان چڑھیں۔ اصل تعلیمی نظام حقیقی زندگی سے متعلقہ اور عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ تقسیم لیپ ٹاپ تقریب کے شرکاء سے خطاب میں رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ اس ترقی یافتہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایک قوت ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو کنزیومر کی بجائے پروڈیوسر ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے مسائل سے آگاہ کیجئے اور ہم قومی اسمبلی کے فلور پر متعلقہ حکام تک ان کو پہنچاتے رہیں گے۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس میں لیپ ٹاپس جبکہ منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔ گورنر مندوخیل نے بعدازاں اسمارٹ کلاس روم کا افتتاح بھی کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4622/2026
کوئٹہ3 جون۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آفیسران کے استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے ٹریننگ میچورٹی فراہم کرتی ہے جس کے نتیجے میں آفیسرز نئے راستے تلاش کرنا شروع کرتے ہیں اور اپنی بعض کمزوریوں پر بھی قابو پا لیتے ہیں۔ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ کے زیر تربیت افسران کو اپنا تربیتی کورس پورا کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ صرف نیپا کی جانب سے ٹریننگ نہیں ہے بلکہ آپ کی قیادت، مہارت اور محفوظ مستقبل کیلئے وژن کو تیز کرنا ہے۔ میں آپ کی ٹریننگ اور سیکھنے کے اس سفر کے حوالے سے بہت پرامید ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ کے زیر تربیت آفیسرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ سید علی رضا شاہ نے ٹریننگ کورس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نیپا کے زیرتربیت آفیسرز کی یہاں موجودگی پیشہ ورانہ ترقی اور خدمت خلق کی عمدہ کارکردگی کیلئے ان کے عزم کا ثبوت ہے۔ انٹرایکشن کے دوران شرکاء نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے آمن و امان کی صورتحال، بیوروکریسی کے کردا ر، پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی کارکردگی میں بہتری، وفاق اور صوبہ کے درمیان اور وسائل کے بہترین استعمال کے حوالے سے سوالات کیے جن کا گورنر بلوچستان نے تفصیلی جواب دیئے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے زیر تربیت آفیسرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ محض کسی مخصوص ڈیپارٹمنٹ کے آفیسرز نہیں ہیں بلکہ آپ پورے ملک اور صوبے کے خادم ہیں۔ افسران کے استعداد کار کو بڑھانے اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کیلئے پیشہ ورانہ تربیت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ قابل اور ایماندار افسران ترقی یافتہ بلوچستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر مندوخیل نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پائیدار امن کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے اولین شرط ہے۔ ٹھوس حکومتی اقدامات کی وجہ سے اس وقت امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ نیپا کی جانب سے اس اہم ٹریننگ دینے کے بعد آپ سب پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ اپنے اپنے شعبے میں اپنے علم اور تجربے کو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کریں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آپ کسی کے دباو میں آئے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ ہمارے معاشرے کو رشوت ستانی، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی سے نجات دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4623/2026
سبی 3 جون۔: ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (ڈی سی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈرز، کرنل زبیر، کرنل عبدالمنان، ایس ایس پی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست وڑن کے تحت بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے فیز ون اور فیز ٹو کے بیشتر منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ فیز ٹو کے باقی ماندہ کام آئندہ ہفتے تک مکمل کر لیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عید کے ایام میں بھی تمام لائن محکموں کے افسران نے بھرپور محنت سے اپنے فرائض انجام دیے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع بھر میں تین کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں جن میں عوامی مسائل اور مطالبات کو ریکارڈ کیا گیا، جنہیں منظوری کے بعد اعلیٰ حکام کو ارسال کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے فیز تھری کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا جبکہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے منٹس جلد پی ایم یو پورٹل پر اپ لوڈ کر دیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر سبی نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ضلع میں دو نئی لائبریریاں اور تین ہیٹ اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ 13 مدارس کو شمسی توانائی کے نظام سے آراستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات عوام کی فلاح اور ضلع کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4624/2026
چمن 3جون ۔چمن شہر و اطراف میں پاکستانی و ایرانی پٹرول کی مصنوعی قلت پر انتظامیہ کا کریک ڈاون ضلعی انتظامیہ چمن اور پولیس فورس نے ملکر شہر بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پمپوں کیخلاف کارروائیاں کیں۔ کارروائی کے دوران پٹرول کی مصنوعی قلت گرانفروشی اور ضابطوں کی خلاف ورزی پر متعدد پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا، جبکہ کئی دیگر پمپس مالکان کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔انتظامیہ کے مطابق عوام کو پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے پٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری قواعد و ضوابط کی پابندی کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/4625
گوادر3جون: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے دفتر کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات، دفتری امور، عمارت کی حالت اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران متعدد ملازمین کی غیر حاضری سامنے آنے پر حاضری کی صورتحال کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ غیر حاضر ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے۔
ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سے ادارے کی مجموعی کارکردگی، ملازمین کی تعداد اور حاضری کے نظام سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی لی۔
انہوں نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے غیر رسمی تعلیم (نان فارمل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی معائنہ کیا اور اس شعبے میں عملے کی حاضری پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔نقیب اللہ کاکڑ نے واضح ہدایت کی کہ سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، بروقت حاضری اور عوامی خدمت کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی خدمت کے اداروں میں غفلت اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور کارکردگی میں بہتری کے لیے سخت مانیٹرنگ جاری رکھی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4626
گوادر3جون:ـ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے سرکاری دفاتر میں حاضری اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کے دفتر کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران دفتر کا مرکزی گیٹ بند پایا گیا جبکہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سمیت کوئی بھی ملازم دفتر میں موجود نہیں تھا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
غیر حاضری اور دفتر کی بندش پر ڈپٹی کمشنر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران و عملے کو غیر حاضر قرار دیا اور وضاحت طلب کر لی۔انہوں نے اس صورتحال کو عوامی خدمات کی فراہمی میں سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ عوامی خدمت کے اداروں میں غیر حاضری، غفلت اور فرائض سے لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی تاکہ عوام کو بہتر اور مؤثر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/4627
گوادر3جون:ـوزیراعلیٰ بلوچستان کی عوام دوست اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ویژن کے تحت ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بی ایچ یو نلینٹ اور بی ایچ یو کپر کا مانیٹرنگ دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے دونوں بنیادی صحت مراکز میں عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی ویکسینیشن سائٹس، ایم این سی ایچ (زچہ و بچہ) سینٹرز اور دیگر متعلقہ ریکارڈز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے صحت مراکز میں طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ عملے کو سروس ڈیلیوری مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔اس موقع پر بی ایچ یوز کو ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات ان کی دہلیز پر دستیاب رہیں۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو معیاری، بروقت اور مؤثر بنیادی صحت سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ کا عمل مزید سخت اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ صحت مراکز کی کارکردگی، عملے کی حاضری اور ادویات کی دستیابی پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ فیلڈ سطح پر خدمات کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/4628
تربت 3 جون: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے تحصیلدار بندوبست آفس تربت کا دورہ کرکے سرکاری موضع جات کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے ڈپٹی کمشنر آفس منتقل کرنے کی ہدایت جاری کردی۔دورے کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، پی اے ٹو ڈی سی انیل نور اور سیٹلمنٹ آفس کے اہلکار بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف موضع جات سے متعلق ریکارڈ کا معائنہ کیا اور ذاتی طور پر دستاویزات کی چھان بین کی۔اس موقع پر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ بعض ایسے سرکاری ریکارڈ جو قانونی طور پر ڈپٹی کمشنر آفس میں محفوظ ہونے چاہئیں انہیں غیر ضروری طور پر تحصیلدار بندوبست آفس میں رکھا گیا ہے جس کا کوئی قانونی یا آئینی جواز موجود نہیں۔انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ سرکاری ریکارڈ جلد از جلد ڈپٹی کمشنر آفس کی متعلقہ برانچ میں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ ریکارڈ کی مکمل ڈیٹا انٹری کی جائے اور تمام موضع جات کا درست، جامع اور اپ ڈیٹ ریکارڈ مرتب کرکے ڈپٹی کمشنر آفس کو پیش کیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/4629
گوادر3 جون :ـگوادر کے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی زیر صدارت جی ڈی اے کے مختلف جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کی پیشرفت کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، چیرمین تحصیل میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، پراجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ میر دودا خان مری، پراجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ بابر ناصر، اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گوادر کی قدیم آبادی کے لیے جاری ترقیاتی اور بحالی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ میر دودا خان مری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت جاری بیشتر ترقیاتی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ منصوبے رواں سال اکتوبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس سے پرانی آبادی کے مکینوں کو بہتر شہری سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے بتایا کہ قبرستان کی بحالی، سورج دل گراؤنڈ، ینگ جنگ فٹسلٹ گراؤنڈ، گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول اور گرلز اسکول کے ترقیاتی کام آخری مراحل میں ہیں۔ اسی طرح شاہی بازار اور جنت بازار کی تعمیر، توسیع، تزئین و آرائش اور بہتری کے منصوبوں پر بھی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر عوامی سطح پر اور خاص کر تاجر برادری کی جانب سے مشکلات کا سامنا ہے، تاہم تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، توسیع اور ٹف ٹائلنگ، سیوریج، ڈرینیج کے بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ گوادر کے مختلف بنیادی مراکز صحت (BHUs) کی بحالی اور بہتری کے لیے ضلعی محکمہ صحت کے ساتھ رابطہ اور مشاورت جاری ہے، جس کے بعد ان منصوبوں پر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔اس موقع پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے جی ڈی اے کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ تمام منصوبوں کو مزید تیزی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال پر بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے نے مختلف شاہراہوں، سڑکوں اور عوامی مقامات کی تعمیر و بحالی پر خاطر خواہ کام کیا ہے، تاہم مناسب صفائی نہ ہونے کے باعث ان منصوبوں کی خوبصورتی اور افادیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بلدیہ گوادر اور جی ڈی اے کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے شہر کی صفائی اور ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں سربندر جیٹی اور پشکان جیٹی پر جاری ترقیاتی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں جیٹیوں کی ڈریجنگ، بحالی، بہتری اور ان سے منسلک دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔اجلاس جی ڈی اے کے ائندہ ترقیاتی منصوبوں اور مالی سال 27-2026 کے مجوزہ اسکیموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔جائے. ڈپٹی کمشنر نے ریکارڈ کے تحفظ، شفافیت اور مؤثر انتظام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/4630
گوادر3جون:ـڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے محکمہ زراعت کے مختلف دفاتر کا اچانک دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے زراعت ایکسٹینشن، پلانٹ پروٹیکشن، ریسرچ اور واٹر مینجمنٹ دفاتر میں حاضری، دفتری امور اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران زراعت ایکسٹینشن اور پلانٹ پروٹیکشن کے سربراہان اپنے دفاتر میں موجود پائے گئے، تاہم دیگر دفاتر میں ملازمین کی حاضری انتہائی کم رہی اور متعدد دفاتر میں صرف محدود منسٹریل اسٹاف، نائب قاصد اور چپراسی موجود تھے۔معائنے کے دوران مختلف دفاتر میں بنیادی دفتری سہولیات اور سائن بورڈز کی عدم موجودگی بھی سامنے آئی، جس پر ڈپٹی کمشنر نے اظہارِ تشویش کیا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے غیر تسلی بخش حاضری اور دفتری نظام میں خامیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران اور ملازمین سے فوری وضاحت طلب کر لی۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی خدمت سے جڑے اداروں میں نظم و ضبط، شفافیت اور بروقت حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ غفلت اور غیر حاضری کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے غیر حاضر ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق محکمانہ کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے اور دفاتر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔





