21st-April-2026

خبرنامہ نمبر3230/2026
کوئٹہ، 21 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ ارض کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قدرتی ماحول کا تحفظ اور اس کی بقا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے اجتماعی شعور اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل اور متنوع ماحولیاتی نظام سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں ساحلی مینگرووز سے لے کر بلند پہاڑی علاقوں کے جونیپر اور چلغوزہ کے جنگلات تک اہم قدرتی اثاثے موجود ہیں، جو موسمیاتی تحفظ، آبی وسائل کے استحکام اور عوام کے روزگار میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی، طویل خشک سالی اور زمین کی زبوں حالی جیسے چیلنجز صوبے پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان پائیدار ترقی کے فروغ، جنگلات کے رقبے میں اضافے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ درخت لگانے، پانی کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی حفاظت میں بھرپور کردار ادا کریں انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ الحمدللہ بلوچستان پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے اپنا کلائمیٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے اور اس کے شفاف اور موثر استعمال کے لیے باقاعدہ پالیسی بھی تشکیل دی ہے، جو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک سرسبز، مضبوط اور پائیدار بلوچستان کی تعمیر کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3231/2026
کوئٹہ 21 اپریل ۔ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان سے فاونڈنگ ڈائریکٹر آئی ڈی ایس پی ڈاکٹر قرالعین بختیاری نے ایک اہم ملاقات کی جس کا مقصد انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹسز(آئی ڈی ایس پی)کے کردار مقاصد اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دینا تھا ملاقات کے دوران ڈاکٹر قر?العین بختیاری نے ادارے کے قیام اس کے وژن اور صوبہ بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی انہوں نے بتایا کہ آئی ڈی ایس پی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کمیونٹی ڈیولپمنٹ تعلیم تحقیق اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارہ خاص طور پر دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو قیادت اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دے رہا ہے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے آئی ڈی ایس پی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے صوبے کی پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں اور تعلیمی و تحقیقی تنظیموں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے بہتر اور موثر نتائج حاصل کیے جاسکیں ملاقات میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کس طرح آئی ڈی ایس پی اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمیونٹی انگیجمنٹ اور پالیسی سطح پر بہتری لائی جا سکتی ہےسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مشترکہ اقدامات اور اشتراک عمل کے ذریعے بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید موثر کردار ادا کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3232/2026
تربت۔یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے ساتویں سمسٹر کے طلباﺅ طالبات نے ڈپٹی کمشنر آفس تربت کا ایک اہم مطالعاتی دورہ کیا جہاں انہیں ضلعی انتظامیہ کے نظام اور حکومتی امور سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کیچ اسداللہ بلوچ نے طلباءو طالبات سے ملاقات کی اور انہیں سیاسیات اور ضلعی نظم و نسق کے مختلف پہلووں پر جامع بریفنگ دی انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے کردار،ذمہ داریوں اور اختیارات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ضلع کا سربراہ ہوتا ہے جس کے پاس انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے وسیع اختیارات موجود ہوتے ہیں۔اس دوران طلباء و طالبات نے ڈپٹی کمشنر آفس کے مختلف برانچز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ہر شعبے کے کام، طریقہ کار اور عوامی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔انہوں نے طلباءسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عملی مشاہدہ تعلیمی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے اور ایسے دورے طلباء کو نہ صرف حکومتی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ انہیں مستقبل میں بہتر قیادت کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔طلباءو طالبات نے اس دورے کو انتہائی معلوماتی اور مفید قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کیچ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر آفس کیچ حضور بخش بھی موجود تھے جنہوں نے طلباءو طالبات کو آفس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3233/2026
کوہلو21اپریل ۔ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ کی ہدایت پر شہر کی صفائی کا عمل جاری۔ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کوہلو محب اللہ خان بلوچ کی سربراہی میں میونسپل کمیٹی کا عملہ نائٹ شفٹ کے دوران شہر کی صفائی میں بھرپور انداز میں مصروف ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔چیف آفیسر محب اللہ خان بلوچ نے کہا کہ شہر کی صفائی کو یقینی بنانا میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سلسلے میں دن کے ساتھ ساتھ رات کے اوقات میں بھی صفائی کا عمل جاری رکھا جا رہا ہے تاکہ کچرے کے بروقت خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور محنت کے ساتھ انجام دیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کے عمل میں میونسپل کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں اور کچرا مقررہ مقامات پر ہی تلف کریں تاکہ شہر کو صاف اور خوبصورت رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3234/2026
لورالائی21اپریل۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے گورنمنٹ گرلز ماڈل کمیونٹی سکول ہزارہ محلہ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سکول کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور جاری تعلیمی سرگرمیوں کا بغور مشاہدہ کیا۔ انہوں نے سکول کی پرنسپل سے ملاقات کے دوران ادارے کو درپیش مسائل، سہولیات کی کمی، تدریسی عملے کی دستیابی اور طلبہ کو پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔پرنسپل نے اس موقع پر سکول کے بنیادی مسائل اجاگر کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مسائل کو توجہ سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام امور متعلقہ حکام کے علم میں لا کر ان کے جلد حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔دورے کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے اساتذہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مزید محنت اور لگن سے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3235/2026
نصیرآباد: 21اپریل ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور لوکل گورنمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں احمد نواز جتک، حماد فارس، مبشر کھوسہ، ظفر اقبال زہری، شکراللہ بلوچ ناصر لہڑی امجد بنگلزئی سعید احمد مینگل زاکر حسین سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) اور لوکل گورنمنٹ کے افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور لوکل گورنمنٹ کے منصوبے عوام کے وسیع تر مفاد سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً صاف پانی کی فراہمی ایک بنیادی ضرورت اور حق ہے جس کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کو معیار اور شفافیت کے ساتھ مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے اور انجینیئرز خود ان منصوبوں کی نگرانی کریں تاکہ کسی قسم کی کوتاہی یا بدعنوانی کی گنجائش نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی اسکیموں کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ لوکل گورنمنٹ کے منصوبے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی جاری ہیں، اس لیے گلی محلوں اور دیہات میں ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ دیہی آبادی بھی ان سہولیات سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح بنائیں تاکہ عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3236/2026
نصیرآباد21اہریل ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر حبیب پندرانی،سنیئر ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس آفیس سے عجب خان مندوخیل پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم طارق شہباز کٹوہر ڈرگ انسپکٹر ڈاکٹر اعجاز علی اور ڈپٹی کمشنر کے پی ایس منظور شیرازی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، درپیش مسائل، مراکز صحت کی کارکردگی اور غیر حاضر ڈاکٹرز و عملے کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی کرار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہر بھر میں مختلف لیبارٹریوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ان ٹیسٹوں کے عمل سے اجتناب کریں جس کے حوالے سے ضلع انتظامیہ نے روک تھام کے احکامات دیے ہیں۔اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹرز اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہیں تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے سول ہسپتال سمیت تمام مراکز صحت میں ادویات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادویات یا دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی میں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس بارے میں متعلقہ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ فوری اقدامات کیے جاسکیں اور مریض مایوس ہو کر واپس نہ جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے صحت کے تمام یونٹس کا باقاعدگی سے سرپرائز وزٹ کیا جائے گا تاکہ زمینی صورتحال کا براہ راست جائزہ لیا جا سکے اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کی صحت اور بنیادی سہولیات تک رسائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں تمام شعبوں کو اپنی ذمہ داریاں دیانت داری کے ساتھ نبھانا ہوں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3237/2026
جھل مگسی 20 اپریل۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ نے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی گنداواہ غوث الدین شیرازی کے ہمراہ گنداواہ بازار کا دورہ کیا اس موقع پر انھوں نے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے تحت دنیا چوک کے اطراف نکاسی آب اور شاہراہ کو کشادہ کرنے کے جیسے منصوبوں کا جائزہ لیا بعد ازاں انھوں نے بازار کے مختلف اقسام کی دکانوں ،گوشت ، سبزی و فروٹ ہوٹل ، سمیت صفائی و ستھرائی, پرائس کنٹرول کمیٹی کی جانب سے مرتب کردہ نرخ نامہ کا جائزہ لیا اشیاء خوردونوش کی کوالٹی و قیمتیں چیک کیں عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مہنگے داموں گوشت فروخت کرنے والے قصائیوں کو موقع پر ہی جرمانے عائد کرکے تھانے منتقل کردیا گیا انھوں نے دکانداروں کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پرائس کنٹرول کمیٹی کی جانب سے مرتب کردہ نرخ نامہ کی پاپندی کو یقینی بنائیں گرانفروشی و ناجائز تجاوزات اور مضر صحت و زائدالمیعاد اشیائ فروخت کرنے کی کسی کو بھی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی۔ زائد المیعاد اشیاء و غیر معیاری اشیائ اپنی دوکانوں میں رکھنے سے گریز کریں۔ دوکان کے باہر اور سڑکوں ودیگر عوامی گزر گاہوں پر سامان رکھ کر ناجائز تجاوزات سے گریز کریں بصورت دیگر آئندہ قانون کیطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی انھوں نے گوشت فروشوں کو سختی سے نرخ نامہ کی پابندی و واضح طور اپنی دکانوں پر نرخ نامہ آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کیں انھوں نے کہا کہ عوام الناس سے گزار ش ہے کہ گرانفروشوں اور سرکار کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں سے زیادہ اشیاء خوردونوش ودیگر سامان فروخت کرنے والے دکانداروں کی بروقت نشاندہی ضلعی انتظامیہ کے (کمپلینٹ سیل) کو کروائیں تاکہ فوری طور پر قانون کی مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکے.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3238/2026
کوہلو 21 اپریل۔ وزیر اعلٰی بلوچستان کی وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ کوہلو نے تحصیل ماوند کے علاقے فاضل چیل میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ جس میں ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل سلمان خالد، اسسٹنٹ کمشنر کوہلو کبیر مزاری، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، معتبرین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوامی مسائل کو براہِ راست سننا، متعلقہ اداروں اور شہریوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مسائل کے فوری و پائیدار حل کے لیے موثر حکمتِ عملی وضع کرنا تھا۔کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں کی خستہ حالی، زراعت، لائیو اسٹاک اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مسائل اور تجاویز کھل کر پیش کیں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری اور ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل سلمان خالد نے عوامی مسائل کو نہایت سنجیدگی اور توجہ سے سنا اور متعدد امور کےلئے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں، اسسٹنٹ کمشنر کبیر مزاری نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا، عوامی مسائل کو براہِ راست سننا، ان کے بروقت اور موثر حل کو یقینی بنانا اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے کھلی کچہری نہ صرف عوام کے مسائل اور ضروریات کو براہِ راست جاننے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، جوابدہی کے عمل کو مضبوط کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید موثر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی وژن کے مطابق عوام کے فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، جبکہ کھلی کچہری جیسے اقدامات کے تسلسل سے عوامی اعتماد مزید بحال ہوگا انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ شہریوں کی شکایات اور تجاویز کو ترجیحی بنیادوں پر زیر غور لا کر متعلقہ اداروں کے ذریعے ان کے حل کے لیے مربوط اور پائیدار اقدامات جاری رکھے جائیں گے شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور ایف سی میوند برگیڈ کے اس کاوش کو سراہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3239/2026
جعفرآباد21اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں ضلع جعفرآباد میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کے عمل کو مزید وسعت دے دی گئی، اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی سربراہی میں یونین کونسل جھڈیر گوٹھ غلام مصطفیٰ لہڑی شاہی چوکی کے مقام پر کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں علاقہ مکینوں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے درپیش مسائل کے حوالے سے تحریری اور زبانی طور پر آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، ایگزیکٹو انجینیئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد کاظم لونی، دیگر ضلعی افسران، میر مٹھا خان بادینی سمیت سیاسی و قبائلی رہنماوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ یونین کونسل کی سطح پر کھلی کچہریوں کا انعقاد عوام کے وسیع تر مفاد میں کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل سنے جائیں اور فوری و موثر حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو خوشی ہے کہ عوام نے کھل کر اپنے مسائل بیان کیے، جس سے مسائل کی درست نشاندہی ممکن ہوئی ہے، اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ پیچیدہ نوعیت کے مسائل کو صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ ان کا پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات سے نجات دلائی جا سکے، انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائیں اور کھلی کچہریوں کے اس سلسلے کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ عوامی خدمت کا عمل تیز اور شفاف ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3240/2026
ڈھاڈر21اپریل۔ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر کچھی، عمران خان خجک نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ضلع کچھی میں محکمہ صحت کے ساتھ قریبی اشتراک کے ذریعے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مو¿ثر اور سنجیدہ اقدامات کیے گئے ہیں یہ باتیں ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد، نیک محمد سے گفتگو کر تے ہوئے کہی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کچھی کے سپرنٹنڈنٹ عبدالحق مستوئی بھی موجود تھے انہوں نے ضلع کچھی میں صحت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی عمران خان خجک نے بتایا کہ ان کی تعیناتی سے قبل ضلع میں عملے کی شدید کمی تھی اور پورے ضلع میں صرف 33 ملازمین خدمات انجام دے رہے تھے، جو کہ آبادی کے لحاظ سے ناکافی تھے تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات اور ضلعی انتظامیہ کے بھرپور تعاون سے اب عملے کی تعداد بڑھا کر تقریباً 100 کر دی گئی ہے، جس سے عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن ہوا ہےانہوں نے مزید بتایا کہ پہلے ضلع میں صرف ایک ایمبولینس دستیاب تھی، لیکن اب اس تعداد میں اضافہ کر کے 5 ایمبولینسز کر دی گئی ہیں، جو ایمرجنسی صورتحال میں مریضوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر کے مطابق اس وقت ضلع بھر میں 17 بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) فعال ہیں، جو عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں مصروف عمل ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع کچھی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ کے قریب ہے، جسے محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی (PPHI) مشترکہ طور پر طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ضلع کے تمام بنیادی مراکز صحت میں سولر سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں، جس سے بجلی کی عدم دستیابی کے مسائل پر قابو پایا گیا ہے اور طبی خدمات کا تسلسل برقرار رکھا جا رہا ہےآخر میں عمران خان خجک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے فرائض نہایت ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ملنے والے بھرپور تعاون کو مزید بہتر نتائج کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3241/2026
لورالائی 21 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ایک اہم اور ہنگامی نوعیت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نورعلی کاکڑ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے صحت کے نظام کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ متعدد طبی مراکز میں عملے کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور انتظامی غفلت جیسے سنگین مسائل بدستور موجود ہیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کا حکم دے دیا۔ڈپٹی کمشنر نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ زیر التوا امور میں مزید تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی لاپرواہی یا غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں خاص طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضر عملے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ تمام مراکز صحت میں ادویات کی سو فیصد دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس میں کوتاہی ناقابل قبول ہے۔مزید برآں، ہیلتھ کمیٹی کے اراکین کو باقاعدہ فیلڈ وزٹس کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا کہ زمینی حقائق کا خود جائزہ لے کر فوری رپورٹ پیش کی جائے تاکہ مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3242/2026
: قلات 21اپریل۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادرخان اورسیکرٹری فنانس کی قیادت میں بلوچستان بھر کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع قلات میں بھی محکمہ خزانہ نے SAP پر مبنی انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (IFMIS) پر عملدرآمد شروع کردیا ہےاس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کےزیرصدارت سرکاری ملازمین کےتاریخ پیدائش کی درستگی مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں کمیٹی ممبران ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمدنورزئی ڈسٹرکٹ آفیسرایجوکیشن میل ثناء اللہ ثناء چیف آفیسر میونسپل کمیٹی قاضی سراج سمیت ڈپٹی کمشنر آفس کے تکنیکی اسٹاف نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف محکموں کے ملازمین کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے اصل دستاویزات شناختی کارڈ اور سروس بک کمیٹی کے سامنے رکھ دیئے11سرکاری ملازمین کے کیسز کا بغور جائزہ لیاگیا اور انکے عمردرستگی سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی شناختی کارڈ اور سروس بک میں تاریخ پیدائش کی درستگی سے متعلق ہرممکن کوشش کررہے ہیں تاکہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعدپنشن اوردیگرامورسے متعلق کوئی بھی مشکل درپیش نہ آئےڈپٹی کمشنر قلات نے کہا کہ یہ رول آوٹ بلوچستان کو مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ مالیاتی نظام کی طرف لے جاتا ہے، جس کا مقصد بجٹ پر بہتر عملدرآمد اور شفافیت کو بڑھانا ہےڈی سی قلات نے کہا کہ محکمہ خزانہ نے گورننس کو جدید بنانے، شفافیت بڑھانے اور کیش لیس معاشی طریقوں کو اپنانے کے لیے ایک خودکار، SAP پر مبنی مالیاتی انتظامی نظام شروع کیا ہےاس اقدام میں مالیاتی رپورٹنگ،بجٹ سازی،اور جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے کلیدی مقامی حکومتوں کے محکموں اور صوبائی مالیاتی شعبے میں SAP-ERP کی تعیناتی شامل ہےیہ نظام ملازمین کی سہولت مالیاتی ورک فلو میں انقلاب لانے کے لیے شروع کیا گیا ہےاس سسٹم میں ڈیجیٹل ای فائلنگ،آن لائن بلنگ، مالیاتی نظم و ضبط میں اضافےاور ریکارڈ کے انتظام میں رکاوٹوں کودور کرنا شامل ہےملازمین کی پیدائش کی تاریخ کی سسٹم میں ڈیٹا کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے حالیہ اقدامات شفافیت کو عیاں کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3243/2026
قلات. 21اریل۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر سمیت محکمہ تعلیم قلات اور خالق آباد کے سربراہان کالجز کے پرنسپل صاحبان آرٹی ایس ایم یونیسیف کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں محکمہ تعلیم قلات کی کارکردگی داخلہ مہم سکولوں میں اساتزہ کی حاضریوں سکولوں کو کتابوں کی فراہمی کلسٹربجٹ زیرتعمیر سکولوں کی تکمیل بلڈنگ مرمت کے کام غیرفحال اوربندسکولوں کی فحالی سکولوں میں اساتزہ کی کمی ٹرانسفرپوسٹنگ اٹیچمنٹ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیامحکمہ تعلیم قلات کے سربراہان نے ڈپٹی کمشنر کو غیر حاضر اساتذہ کے تنخواوں کی کٹوتی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ کی اشد ضرورت ہے محکمہ تعلیم قلات کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تمام تروسائل بروے کار لارہے ہیں سکولوں میں اساتذہ کی غیرحاضری کسی صورت قبول نہیں ہےغیرحاضر اساتزہ کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لارہے ہیں اساتذہ کرام اپنا تمام تر توجہ بچوں کی بہترتعلیم پر دیں بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں انہیں بہترین تعلیم کی زیور سے آراستہ کرناہم سب کی زمہ داری ہےڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم کے سربراہان اور آرٹی ایس ایم کو سختی سے ہدایات جاری کرتے ہوے کہاکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر سکولوں کے دورے کریں تاکہ سکولوں میں اساتزہ کی حاضری کو یقینی بنایاجاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3244/2026
قلات 21اپریل۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ مینیجمنٹ کمیٹی کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹرانجم بلوچ ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹرنصراللہ لانگو DM پی پی ایچ آئی مجیب بلوچ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹرمحمداقبال نورزئی انچارج آرایچ سی مندے حاجی ڈاکٹر فدا بلوچ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح ڈرگ انسپکٹر ڈاکٹر محمدطاہرڈسٹرکٹ میڈیسن اسٹور انچارج ڈاکٹر وسیم لانگو ڈیزیز سرولنس آفیسر ڈاکٹر محمدصابرسپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ او آفس رضوان حیدر نے شرکت کی اجلاس میں صحت کے شعبے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر ٹیکنیکل اسٹاف کی حاضریاں ڈاکٹروں اور دیگر اسٹاف کی کمی ڈاکٹروں کی ٹرانسفرپوسٹنگ ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی فری میڈیکل کمیپ کا انعقاد بی ایچ یوز میں ایمبولینسز اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی اور دیگر امور سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی نے کہاکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیئے لوگوں کا صحت مندہونا ضروری ہے ڈاکٹرز اور دیگر ٹیکنیکل اسٹاف اپنے جائے تعیناتیوں پر حاضری یقینی بنائیں غفلت اور لاپروائی قابل قبول نہیں عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی ہم سب کی زمداری ہے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ قلات محکمہ صحت قلات سے ہرممکن تعاون جاری رکھے گا صحت کے شعبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3245/2026
ہرنائی21اپریل ۔ ایس پی پولیس ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی سے انجمن تاجران ہرنائی کے ایک وفد نے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ وفد کی قیادت انجمن تاجران کے صدر حاجی فاضل خان ترین کر رہے تھے، جبکہ دیگر شرکاء میں گیان چند، بابو مہر چند اور محمد عباس مرغزانی شامل تھے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی سرکل ملک حبیب اللہ ترین بھی موجود تھے۔انجمن تاجران کے وفد نے ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی سے ان کی خیریت دریافت کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور تاجر برادری کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے شہر میں قیامِ امن اور قانون کی بالادستی کے لیے پولیس انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ایس پی ہرنائی نے وفد کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تاجر برادری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پولیس عوام اور تاجروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے درمیان باہمی رابطہ امن کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3246/2026
کوئٹہ 21اپریل ۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی غیر رجسٹرڈ اور ناقص بوتل بند پانی کی فراہمی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران غیر قانونی طور پر کام کرنے والے مزید 10 واٹر پلانٹس سربمہر کر دئیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق خصوصی مہم کے تحت فوڈ سیفٹی ٹیموں کی جانب سے سریاب ، ایسٹرن بائی پاس، جتک اسٹاپ، سرکی روڈ، پٹیل روڈ، شاوکشاہ روڈ، ہزارہ ٹاون، عیسیٰ نگری، کلی شابو اور چشمہ اچوزئی سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 10 واٹر پلانٹس سیل کیے گئے جبکہ بوتل بندپانی کے متعدد نمونے لیبارٹری تجزیے کیلئے حاصل کیے گئے۔ دوران انسپیکشن ایک مقام سے 100 کارٹن غیر معیاری بوتل بند پانی بھی ضبط کیا گیاجبکہ یونٹس میں پروڈکٹ رجسٹریشن اور بی ایف اے لائسنس کی عدم موجودگی، ناقص صفائی، جعلی لیبلنگ، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا فقدان، سی آئی پی اور سی سی پیز کی عدم دستیابی، ورکرز کیلئے پی پی ای اور میڈیکل ریکارڈ نہ ہونے سمیت متعدد سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر اوپن واش روم اور کیڑوں کی روک تھام کے ناقص انتظامات بھی پائے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا مہمںسے متعلق کہنا ہے کہ اتھارٹی کے تمام تر اقدامات کا مقصد خوراک کے مراکز و کارخانوں کی اصلاح ہے ، بوتل بند پانی یا منرل واٹر سمیت تمام اشیائ خوردونوش کی تیاری اور فروخت کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی سے پروڈکٹ رجسٹریشن اور لائسنس کا حصول قانون کے مطابق لازمی ہے جو نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی کو بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر پلانٹس کے مالکان اور دیگر تمام فوڈ بزنس آپریٹرز ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی ایف اے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں تاکہ وہ کاروبار شفاف اور قانون کے دائرے میں رہ کر جاری رکھ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3247/2026
موسیٰ خیل21اپریل ۔و زیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وژن کی روشنی میں اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر درگ نے گورنمنٹ انٹر کالج درگ کا دورہ کیا اور وہاں جاری ہائر سکنڈری امتحانات کے عمل کا تفصیلی معائنہ کیا.اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی ترجیحات کے مطابق تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور امتحانات میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے وشن کے تحت “نقل کلچر” کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے امتحانی ہالز میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا اور طلبہ کو فراہم کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ امتحانی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3248/2026
موسیٰ خیل21اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوامی فلاح و بہبود کے وژن اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خان خجک کی خصوصی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر درگ گل نواز بلوچ نے تحصیل کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے پی ایس ڈی پی (PSDP) کے تحت جاری درج ذیل اسکیموں کا تفصیلی معائنہ کیا: ٹف ٹائلز کی تنصیب (اسکیم نمبر Z2022.2810): درگ ٹاون اور نتھ میں ٹف ٹائلز بچھانے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔سیوریج سسٹم کی تعمیر (اسکیم نمبر Z2022.2278): درگ ٹاون میں نکاسی آب کے نظام کی تعمیراتی پیش رفت کا معائنہ کیا گیا۔معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر گل نواز بلوچ نے جاری کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم دونوں اسکیموں کے کام کی بندش پر تشویش ظاہر کی۔ موقع پر موجود ٹھیکیدار نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوں کی ادائیگی (Funds Issue) میں تاخیر کی وجہ سے کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مفاد کے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام حائل رکاوٹوں اور بلوں کے مسائل کو اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا تاکہ عوام ان منصوبوں سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام منصوبوں کی شفافیت کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3249/2026
کوئٹہ21 اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پہلی حج پرواز کے 307 عازمین حج کو الوداع کرتے ہوئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ کوئٹہ سے مدینہ شریف پہلی براہ راست حج پرواز روانہ ہوگئی۔ آپ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے خاص مہمان ہیں، ایک ایسے روحانی سفر پر روانہ ہو رہے ہیں جس کے لاکھوں لوگ خواہشمند ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے براہ راست 777 پروازوں کو ممکن بنانے پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز اور دیگر تمام متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہتا ہوں. ایسے عوام دوست اقدامات سے بلوچستان کے عوام کو بڑی سہولت میسر آئی ہے. یہ بات انہوں نے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فرسٹ حج فلائٹ کے فریضہ حج ادا کرنے والے عازمین کو الوداع کہتے ہوئے کیا. اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، محمد خان لہڑی، زرک خان مندوخیل، حاجی برکت رند، جی ایم پی آئی اے بلوچستان محمد صادق لودھی، ڈائریکٹر مذہبی امور و حج عنایت اللہ گورگیج، کوئٹہ ائیرپورٹ کے عبدل محمد دومڑ، شبیر ترین، عامر خان مندوخیل، ولی خان مندوخیل اور سید نجیب اللہ آغا بھی موجود تھے. عازمین حج سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جب آپ وہاں بخیر و عافیت مدینہ اور مکہ شریف کے مقدس مقامات پر پہنچ جائیں گے تو آپ اپنے خاندانوں، دوست و احباب اور ملک و صوبے کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔ الوداع کہنے سے قبل عازمین کے محفوظ سفر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیرپا امن، خوشحالی اور سلامتی کیلئے خصوصی دعا کی کہ یہ روپرور سفر اس پورے خطے پر برکت لائے اور ہمارے لوگوں میں اتحاد و اتفاق کے جذبے کو تقویت بخشے۔ گورنر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپکی حفاظت کرے اور آپکو اپنے پیاروں کے پاس بحفاظت واپس لائے۔ آمین
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3250/2026
کوئٹہ 21اپریل۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ واٹر بورڈ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر میں پانی کی فراہمی، درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، واسا، پی ایچ ای (پبلک ہیلتھ انجینئرنگ) اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں پانی کی قلت، سپلائی سسٹم کی بہتری، غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے حوا لے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے کو مزید موثر بنائیں اور عوام کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم اور سپلائی نظام کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3251/2026
کوئٹہ 21اپریل۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ پولیس، اسپیشل برانچ، بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA)، کوئٹہ کے جید علماءکرام اور مختلف مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مدارس کی بی سی آر اے کے ساتھ رجسٹریشن کے عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ متعلقہ حکام نے رجسٹریشن کے موجودہ طریقہ کار، درکار دستاویزات اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن کے عمل میں درپیش مسائل، ممکنہ اقدامات پر بھی تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نے اس موقع پر کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا مقصد تعلیمی اداروں کو ایک منظم اور شفاف نظام کے تحت لانا ہے تاکہ ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کے عمل کو ہر ممکن حد تک آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اجلاس میں شریک علمائ کرام اور مدارس کے منتظمین نے اپنے تحفظات، مسائل اور تجاویز پیش کیں، جنہیں متعلقہ حکام نے غور سے سنا اور ان کے حل کے لیے یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مدارس کے ذمہ داران رجسٹریشن کے عمل میں مکمل تعاون کریں تاکہ یہ عمل بروقت مکمل ہو سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ باہمی تعاون اور مسلسل رابطے کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز بنایا جائے گا، تاکہ تعلیمی نظام میں بہتری اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3252/2026
دکی 21 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال نے بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت زیرِ تعمیر گنج نالہ منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا۔ معائنے کے دوران انہوں نے منصوبے کی مجموعی پیش رفت، تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے میٹریل اور کام کی رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ ٹھیکیدار اور انجینئرز کو سختی سے ہدایت کی کہ کام کو مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد اس منصوبے کے ثمرات میسر آ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص میٹریل کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے اور تمام جاری اسکیموں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم اقدام ہے، جس کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر علاقے کی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔، اسسٹنٹ کمشنر نے شہری مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ ایک اجلاس بھی منعقد کیا۔ اجلاس میں صفائی، نکاسی آب، اور دیگر بلدیاتی امور کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور فیلڈ میں موجود رہ کر مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3253/2026
لورالائی21اپریل ۔: ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف اسکیموں کا معائنہ کرتے ہوئے کام کے معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔دورے کے دوران انہوں نے حفاظتی بند (Protection Bund) کا بھی معائنہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ ممکنہ خطرات سے شہریوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ایگریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے ایکسین اسد کاسی اور انجنیئر احمد شاہ بھی موجود تھے، جنہوں نے جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے واضح کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3254/2026
گوادر/پسنی: وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے محکمہ صحت گوادر کی جانب سے عملی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) پسنی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ایک اہم پیش رفت کے طور پر 2014 سے غیر فعال سی بی سی (CBC) مشین کو دوبارہ فعال کر دیا گیا۔سی بی سی مشین کی بحالی سے اب پسنی اور گرد و نواح کے عوام کو بنیادی تشخیصی سہولت مقامی سطح پر میسر آ سکے گی، جس سے نہ صرف مریضوں کا وقت اور اخراجات کم ہوں گے بلکہ بیماریوں کی بروقت تشخیص بھی ممکن ہو سکے گی۔ یہ اقدام ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صحت کے شعبے میں بہتری کے عزم کا واضح مظہر ہے۔دورے کے دوران ہسپتال کو بلڈ گروپنگ ٹیسٹ کے لیے درکار ضروری آلات بھی فراہم کیے گئے، جبکہ ایمرجنسی ادویات، آکسیجن سلنڈرز اور دیگر بنیادی ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو فوری اور موثر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔اس موقع پر ڈی ایچ او گوادر کی زیرِ صدارت آر ایچ سی پسنی میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ عملے نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہسپتال کو درپیش مسائل، سروس ڈیلیوری میں بہتری اور عوامی سہولیات کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسر طاہر بلوچ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان صحت کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر مستحکم کر رہی ہے، اور ہماری کوشش ہے کہ عوام کو ان کے اپنے علاقوں میں معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سی بی سی مشین کی بحالی ایک اہم سنگِ میل ہے جو مریضوں کی فوری تشخیص میں مددگار ثابت ہوگی اور انہیں دیگر شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔انہوں نے ہدایت دی کہ ہسپتال کا عملہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، جبکہ دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر بنایا جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آر ایچ سی پسنی کو ایک مکمل فعال، معیاری اور عوام دوست طبی مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، تاکہ عوام کو بہتر، باوقار اور فوری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3255/2026
سوراب21 اپریل :۔ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت (پی پی ایچ آئی) کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سلیم احمد مستوئی، ایم ایس/ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف ثانی، ڈی ایم (پی پی ایچ آئی) داود خان کاکڑ سمیت تمام بی ایچ یوز اور سی ڈی سنٹرز کے انچارجز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں قائم بنیادی مراکز صحت کی مجموعی کارکردگی، ادویات کی دستیابی، جاری ویکسینیشن مہمات، اور ماں و بچے کی صحت سے متعلق پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈی ایم داود خان کاکڑ نے جاری صحت منصوبوں اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دیتے ہوئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور تمام مراکز صحت میں عملے کی حاضری، صفائی اور ادویات کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ادارے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3256/2026
حب 21 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کے زیر صدارت گڈانی شپ بریکنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئرمین رفیق السلام سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شپ بریکرز نے صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا جن میں سڑکوں کی خستہ حالی، پانی کی قلت، بجلی کی فراہمی میں تعطل، وفاقی و صوبائی ٹیکسز، ایرانی اسٹیل کی اسمگلنگ اور پلاٹ نمبر 60 تا 100 نئی سڑک کی الائنمنٹ جیسے اہم امور شامل تھے۔ شرکاء نے موقف اختیار کیا کہ ایرانی اسٹیل کی اسمگلنگ کے باعث مقامی شپ بریکنگ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی وجہ سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، مزید برآں پلاٹ نمبر 60 تا 100 نئی سڑک کی الائنمنٹ کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ سمندری کٹاو سے متاثرہ پلاٹس کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈپٹی کمشنر حب نے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تمام امور کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری کی بحالی اور استحکام کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں جس سے علاقے کی معاشی ترقی میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ شپ بریکنگ ایسوسی ایشن کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اقدامات کرے گی تاکہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3257/2026
کوئٹہ 21اپریل۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق کی زیر صدارت ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلایزیشن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بورڈ آف ریونیو کے نمائندگان اور مختلف پرائیوٹ کمپنیوں کے مالکان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ کے لینڈ ریکارڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے جامع پلان مرتب کیا گیا۔ شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل سے نہ صرف ریکارڈ کی حفاظت ممکن ہوگی بلکہ عوام کو شفاف اور تیز تر سروسز کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) حافظ محمد طارق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے بدعنوانی کے خاتمے اور ریکارڈ تک آسان رسائی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے باہمی تعاون کو یقینی بنایا جائے اور کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3258/2026
کوئٹہ21اپریل ۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سیاست اور صحافت ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان کی مشترکہ کوششوں سے جمہوریت مستحکم ہو جاتی ہے۔۔ بلوچستان کے تجربہ کار صحافی پوری ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ زمینی حقائق بیان کرنا ایک صحافی کا صحافتی ذمہ داری ہے، اس لئے آپکی اصولی تنقید اور بےخوف سچ بولنا حکومت اور احتساب کو آگے بڑھانے کیلئے اہم چیک کا کام کرتا ہے۔ بلوچستان انٹرنیشنل تھینک ٹینک کی منعقدہ تقسیم ایوارڈز تقریب انٹرنیشنل سول ایوار وصول کرنے والے صحافیوں کو مبارکباد دی اور میڈیا پرسنز کو عشیائیہ دینے کا اعلان کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان انٹرنیشنل تھینک ٹینک کی تقریب میں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع چیرمین بلوچستان تھینک ٹینک اویس جدون، صدر کوئٹہ پریس کلب عرفان سعید، جنرل سیکرٹری محمد ایوب ترین، صدر بی یو کے منظور احمد، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین، سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار، سید علی شاہ، سلیم شاید، ڈاکٹر فرید آغا، ڈاکٹر سعادت، عطیہ اکرم و دیگر اہم اشخاص موجود تھے۔ واضح رہے کہ مذکورہ تقسیم ایوارڈز تقریب میں بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک نے گورنر جعفر خان مندوخیل کو جنوبی افریقہ کے انقلابی رہنما نیلسن منڈیلا ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ بلوچستان میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے صحافیوں کو قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور نثار عثمانی کے نام سے منسوب بین الاقوامی سول ایوارڈز دیئے گئے۔اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ پروگرام محض ایک تقریب نہیں بلکہ یہ پرنٹ اور الیکٹرانک سے وابستہ صحافی حضرات کی گرانقدر خدمات، عوام کی ترجمانی اور ان کی جرات کی حوصلہ افزائی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے ان تمام لوگوں کیلئے بھی امید کی ایک کرن ہے جو آزادی اظہار کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ میرے تقریباً چالیس سالہ سیاسی سفر میں، میں تمام صحافیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہوں سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ صحافی حضرات میرے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ آپ سب گواہ ہیں کہ روز اول سے آج تک ہم نے ملکر میڈیا پرسنز کے حقوق اور تحفظ کی وکالت کرتے ہوئے ہر ذمہ دار پلٹ فارم پر اپنی آواز بلند کی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ صحافی حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑے فخر سے کی جاسکتی ہے کہ موجودہ ہماری حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ آج پورے صوبے میں ایک صحافی بھی جیل میں نہیں ہے۔ ہم آپ کی آزادی اظہار، جہموری کردار اور دلیر آوازوں کی عزت کرتے ہیں۔ ہم معاشرے کی خاموش اکثریت کی ترجمانی پر آپ کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ آج بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک صوبہ میں صحافی برادری کی خدمات اور قربانیوں کے قابل فخر محافظ کے طور پر کھڑا ہے۔ ان صحافیوں کو جنہوں نے بےخوف ہوکر سچائی کیلئے کھڑے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور نثار عثمانی کے نام سے منسوب ایوارڈز دیئے جا رہے ہیں۔آخر میں گورنر بلوچستان نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر تمام منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا اور ہقین دلایا کہ ہم آئندہ بھی صحافیوں کے حقوق، تحفظ اور حق گوئی کے دفاع کو مضبوط کرتے رہیں گے۔ آئیے ہم سچ کی بالادستی کیلئے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/3259
کوئٹہ21اپریل :ـصوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ سے ان کے دفتر سول سیکرٹریٹ میں ضلع ہرنائی اور سنجاوی کے مختلف وفود نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے علاقوں میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں سمیت امن و امان کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کی فلاح و بہبود اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہرنائی اور سنجاوی میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ عوام کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے وفود کے مسائل غور سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا آخر میں وفود نے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل جلد حل ہوں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3260
تربت22اپریل:ـیونیورسٹی آف تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف گریجویٹ اسٹڈیز کے زیر اہتمام شعبہ کیمسٹری کے تین ایم فل اسکالرز کے زبانی امتحان منعقد ہوئے۔ زبانی امتحان کے اجلاس کی صدارت فیکلٹی آف سائنس، انجینئرنگ اینڈ آئی ٹی کے ڈین ڈاکٹر حنیف الرحمٰن نے کی۔یاسمین سعید، اقراء کریم اور ذاکر علی نے زبانی امتحان کمیٹی کے سامنے پیش ہوکراپنے تحقیقی مقالوں کا کامیابی سے دفاع کیا۔ اسلامیہ یونیورسٹی پشاور کے شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اختر محمد اور وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کے شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حاجی محمد نے بطور ایکسٹرنل ایگزامینر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ان اسکالرز نے اپنی تحقیق یونیورسٹی آف تربت کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر روح اللہ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نعیم اللہ کی نگرانی میں مکمل کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر گریجویٹ اسٹڈیز ڈاکٹر وسیم برکت، چیئرمین شعبہ کیمسٹری ڈاکٹر ظفر علی اور اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ندیم جان بھی موجود تھے۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور فیکلٹی ممبران نے ایم فل اسکالرز کو ان کی اس شاندار علمی کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اسکالرز کی تحقیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3261
کوئٹہ21 اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبہ بھر میں جاری اسکول داخلہ مہم کے دوران سو فیصد اہداف کے کامیاب حصول پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹس سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں یہ کامیابیاں مؤثر حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور محنت کا نتیجہ ہیں، اور اس تسلسل کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے محکمہ تعلیم کے مطابق داخلہ مہم میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اضلاع میں ضلع لسبیلہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جہاں ڈپٹی کمشنر حمیرہ بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر مسعود حلیم کو نمایاں کارکردگی پر سراہا گیا۔ دوسری پوزیشن ضلع کوئٹہ کے حصے میں آئی، جہاں ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر ذکیہ علی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اسی طرح تیسری پوزیشن ضلع شیرانی نے حاصل کی، جہاں ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر احمد خان شیرانی کو اعزاز دیا گیا، جبکہ چوتھی پوزیشن ضلع ژوب کے نام رہی، جہاں ڈپٹی کمشنر محمد عارف زرکون اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران موسیٰ خان اور فوزیہ نواز کو سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔ پانچویں پوزیشن ضلع صحبت پور نے حاصل کی، جہاں ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر پنہل خان کی خدمات کو سراہا گیا تقریب کے موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی وزراء میر ضیاء اللہ لانگو، نور محمد دمڑ، مشیر بابا غلام رسول عمرانی، رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، اسپیشل سیکرٹری عبدالسلام اچکزئی سمیت اعلیٰ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر افسران کی حوصلہ افزائی کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3262
کوئٹہ21 اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہر سطح پر میرٹ کے فروغ سے نوجوانوں کی ریاست سے دوری کا خاتمہ ممکن ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں محض ایک فیصلے کے تحت پنجاب سے تعلق رکھنے والے ماہر اساتذہ کو واپس بھیج کر بلوچستان کو تعلیمی میدان میں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا بلوچستان کو کسی اور نے نہیں بلکہ اپنوں نے ہی پسماندہ رکھا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت بلوچستان عام اور غریب محنت کش طبقے تک ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیر اہتمام اسکولوں میں داخلہ مہم کے اہداف کی کامیاب تکمیل کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، میر ضیاء لانگو، رکن صوبائی اسمبلی مولوی نور اللہ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، اسپیشل سیکرٹری عبدالسلام اچکزئی سمیت اعلیٰ حکام، ڈویلپمنٹ پارٹنرز اور تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی فلور پر پہلے روز یہ وعدہ کیا تھا کہ صوبے میں کوئی نوکری فروخت نہیں ہونے دیں گے اور اس عہد کی پاسداری کو وہ اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں جبکہ پبلک سروس کمیشن سمیت دیگر محکموں میں بھی جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے شفاف اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ ان کے دل کے انتہائی قریب ہے اور داخلہ مہم کے اہداف کا حصول حکومت کا دیرینہ خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ تعلیم میں نوکریوں کے حصول کے لیے خصوصاً خواتین کو اپنے زیورات تک فروخت کرنا پڑتے تھے جو ایک شرمناک عمل تھا تاہم موجودہ حکومت نے اس روایت کا خاتمہ کر دیا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا پہلا ہدف بچوں کو اسکولوں تک لانا اور دوسرا انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیمی شعبے میں مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی کے باعث دیگر شعبوں کی طرح تعلیم بھی بری طرح متاثر ہوئی، تاہم اب تعلیمی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں اب وقت آگیا ہے کہ باصلاحیت اساتذہ اور نوجوان اپنی محنت سے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری اصلاحات ان کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں خیبر پختونخوا میں چیف سیکرٹری کے عہدے کی پیشکش تھی تاہم انہوں نے بلوچستان میں رہ کر صوبے کے عوام کی خدمت کو ترجیح دی اور حکومت کے وژن کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے کے اس عام آدمی تک رسائی حاصل کی ہے جو سخت موسمی حالات میں زندگی بسر کرتا ہے اور اب اسی طبقے کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے داخلہ مہم میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اولین پانچ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران میں حسنِ کارکردگی کے سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3263
کوئٹہ21 اپریل:_وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ریاستی دفاعی کانفرنس “ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ” کا بائیسواں اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کے قیام، ریاستی رٹ کے استحکام اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، صوبائی وز یر داخلہ میر ضیاء لانگو اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران بلوچستان کی تعمیرو ترقی کے لیے دستیاب تمام وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی جبکہ مختلف جاری منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اجلاس میں افغان مہاجرین کے انخلاء کے عمل پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس حوالے سے جاری اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ مہاجرین کی باعزت اور منظم واپسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ فورم صوبے میں امن و امان کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ایک مضبوط اور فعال پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے انہوں نے کہا کہ ترقی کے ثمرات بلوچستان کے عام آدمی تک پہنچانا ریاست کا بنیادی مشن ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ادارے یکسوئی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اجلاس کے شرکاء نے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور بلوچستان کے غیور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا، بالخصوص شہید لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کی جرات و بہادری کو سراہا گیا جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے بلوچستان کے روشن اور پُرامن مستقبل کے لیے اپنی کاوشیں مزید تیز کرنے اور دن رات محنت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3262
کوئٹہ21 اپریل:_بلوچستان حکومت نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور جدیدیت کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے صوبے میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل اسکول سینسز اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے ڈیجیٹل اسکول سینسز کے تحت صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کا جامع ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جائے گا جس میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، عمارتوں کی حالت، کمروں کی تعداد، طلباء کے اندراج اور اساتذہ کی تفصیلات سمیت تمام اہم معلومات کو یکجا کیا جائے گا اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی شعبے کی درست منصوبہ بندی میں مدد ملے گی بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا اسی طرح جدید اٹینڈنس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے انتظامی افسران کی حاضری اور کارکردگی کی آن لائن نگرانی ممکن ہو سکے گی جس سے شفافیت میں اضافہ اور تعلیمی نظام کی مؤثر مانیٹرنگ کو فروغ ملے گا۔ اس نظام کے نفاذ سے گورننس کے معیار کو بہتر بنانے اور ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط کرنے میں بھی مدد ملے گی یہ جدید ڈیجیٹل سسٹمز پرفارمنس مینجمنٹ سیل کی ٹیم کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہیں جنہوں نے اس وژن کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تقریب کے دوران ایک منفرد اور حوصلہ افزا اقدام کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افتتاح خود کرنے کے بجائے داخلہ مہم میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اضلاع کے افسران کو اس اعزاز کا مستحق قرار دیا انہوں نے ضلع لسبیلہ کی ڈپٹی کمشنر حمیرہ بلوچ، جنہوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ جنہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی ان کو اسٹیج پر مدعو کر کے ان کے ہاتھوں ان منصوبوں کا افتتاح کروایا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت میرٹ، کارکردگی اور شفافیت کے اصولوں پر کاربند ہے اور ایسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے بلکہ پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ بلوچستان کے بچوں کو معیاری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3263
گوادر21اپریل: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر بلوچ، ایکسین ایریگیشن بیبگر، ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز مشتاق بلوچ، ڈائریکٹر ایڈمن گوادر پورٹ اتھارٹی قاضی نعمت اللہ، ایکسین بلڈنگ محمد اکرم، ایکسین پی ایچ ای مومن بلوچ، ای ٹی او مقبول احمد، اسسٹنٹ انجینئر جی ڈی اے کمبر بلوچ، پی ڈی اولڈ ٹاؤن میر دودا خان مری، پی ڈی واٹر جی ڈی اے میر جان بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر تحفظ ماحولیات طارق بلوچ، ایکسین روڈ مقصود بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف محکموں کے سربراہان نے اپنی کارکردگی، مکمل شدہ منصوبوں اور جاری ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں منصوبوں کی رفتار، معیارِ تعمیر، شفافیت اور عوامی مفاد کو یقینی بنانے کے اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی، جبکہ درپیش چیلنجز اور مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام محکمے باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنائیں اور ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت میں اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کرنے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ضلعی سطح پر تمام وسائل بروئے کار لا کر عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید زور دیا کہ سرکاری محکمے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانے کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات کریں، تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے پایہ تکمیل تک پہنچا کر علاقے کی سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ عوامی مسائل کے بروقت حل کو ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح بنایا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3264
کوئٹہ21 اپریل:_وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر میاں روف عطاء کی سربراہی میں کوہ سلیمان ڈویژن بار کے ایک وفد نے ملاقات کی وفد میں صدر شبیر کھیتران، جنرل سیکرٹری حنیف کھیتران، صورت خان کھیتران، عمر کھیتران سمیت دیگر وکلاء شامل تھے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور وکلاء برادری کو درپیش مسائل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ وکلاء برادری قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بالادستی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت ان کے مسائل کے حل اور پیشہ ورانہ سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے وفد کے اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنے مسائل اور تجاویز سے آگاہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کوہ سلیمان ڈویژن بار کے دفاتر ، ویٹنگ روم و دیگر سہولیات کی فراہمی کے احکامات بھی جاری کئے جبکہ کوہ سلیمان ڈویژن بار کی جانب سے میر سرفراز بگٹی کو اعزازی ممبر شپ بھی دینے کا اعلان بھی کیا گیا.

خبر نامہ نمبر 2026/3265
گوادر21اپریل: وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق عوام کو معیاری اور مؤثر بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے محکمہ صحت متحرک ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی (PPHI) گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) شادوبند اور گھٹی ڈور کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے طبی عملے کی حاضری، او پی ڈی (OPD) رجسٹر، ای پی آئی (EPI) ریکارڈز، ماں و بچہ صحت مراکز (MNCH) اور دیگر متعلقہ ریکارڈز کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی، صفائی کی صورتحال اور مریضوں کو دی جانے والی خدمات کے معیار کو بھی جانچا گیا۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ذمہ داری اور دیانتداری سے انجام دیں اور عوام کو بروقت، باوقار اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ریکارڈز کو باقاعدہ، درست اور شفاف انداز میں مرتب رکھا جائے تاکہ سروس ڈیلیوری کو مزید بہتر اور مانیٹرنگ کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کو فعال اور مستحکم بنانا اولین ترجیح ہے، تاکہ عوام کو علاج کے لیے دیگر علاقوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام (EPI) اور ماں و بچہ صحت (MNCH) کی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ بچوں اور خواتین کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع گوادر میں تمام بی ایچ یوز کو فعال، جوابدہ اور عوام دوست ادارے بنانے کے لیے مسلسل نگرانی اور اصلاحی اقدامات جاری رکھے جائیں گے، تاکہ عوام کو بنیادی سطح پر ہی معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3266
کوئٹہ 21اپریل:۔صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب جان نوشیروانی اور ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو نے خاران ماسٹر پلان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود خاران شہر کو ایک جدید اور روشن شکل دینے کا منصوبہ اب تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کے تحت باب خاران تا گواش روڈ، دل آرام تا جنگل روڈ، اور چیف چوک تا ہندوملہ گرلز اسکول تک سڑکوں کی کٹائی اور توسیعی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے دوران راستے میں آنے والی سرکاری عمارتوں کے لیے کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی، جبکہ نجی املاک کے مالکان کو ڈیزائن کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا اور انہیں اسی ڈیزائن کے تحت تعمیرات کی پابندی کرنی ہوگی۔مزید کہا گیا کہ آر سی سی، ٹی آئرن اور کچے مکانات کے لیے ادائیگیاں الگ الگ کی جائیں گی، اور یہ تمام معاوضے 2023 کے سی ایس آر (CSR) ریٹس کے مطابق ادا کیے جائیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ ماسٹر پلان کی تکمیل سے خاران کا مکمل ساخت بدل جائے گا اور عوام کی دیرینہ خواہش کے مطابق شہر کی تزہین وآرائش میں اضافہ ہوگا اور اسکے ساتھ ساتھ جدید طرز کا منظر پیش کریگا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3267
زیارت21 اپریل:ـڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈی سی سی (بی ایس ڈی آئی) کے سلسلے میں ایگزیکیوٹنگ ایجنسیز کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف سی 155 ونگ کے کیپٹن حارث علی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد صدیق، ایس ڈی او ایریگیشن اعجاز الدین، اور ایس ڈی او پی ایچ ای رفیع اللہ نے شرکت کی۔
اجلاس میں بی ایس ڈی آئی فیز ون اور فیز ٹو کی اسکیمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے افسران کو ہدایت کی کہ فیز ون اور فیز ٹو کی اسکیمات کے باقاعدہ دورے کیے جائیں اور تمام منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر اور معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں نے یقین دہانی کرائی کہ بی ایس ڈی آئی فیز ون کی تمام اسکیمات 30 اپریل 2026 تک مکمل کر لی جائیں گی۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تمام منصوبوں کے ٹینڈرز مکمل ہو چکے ہیں اور 25 اپریل سے کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ٹائم پیریڈ کا خاص خیال رکھا جائے اور کام میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3268
موسیٰ خیل21 اپریل:ـڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر موسی’ خیل ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی ہدایات کی روشنی میں آج (IHHN) کے کوارڈینیٹر مجیب الرحمٰن اور (ASV) شیر زمان نے مختلف یونین کونسلز کا مشترکہ اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد EPI مراکز میں ILR کی مینٹیننس، کولڈ چین سسٹم کی درست کارکردگی اور حفاظتی ٹیکہ جات کے معیار و دستیابی کا جامع جائزہ لینا تھا، تاکہ ویکسین کی افادیت اور محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔دورے کے دوران جاری 16 روزہ IOA مہم کی مؤثر مانیٹرنگ بھی کی گئی۔ اس سلسلے میں ویکسینیٹرز کے ریکارڈ، ڈیلی رجسٹر، مستقل رجسٹر اور فیلڈ ورک سے متعلق تمام امور کا بغور جائزہ لیا گیا، تاکہ ریکارڈ کی درستگی اور کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ ٹیم نے فیلڈ میں جا کر گھر گھر بچوں کی تصدیق کی، تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہ جائے۔اس کے علاوہ زیرو ڈوز بچوں اور ریفیوزل کیسز پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ٹیم نے گھروں کا دورہ کر کے والدین سے براہِ راست ملاقات کی، انہیں ویکسین کی اہمیت اور فوائد سے آگاہ کیا اور بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن کی ضرورت پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔یہ تمام فیلڈ وزٹس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی خصوصی ہدایات کے تحت کیے گئے، جن کا مقصد ضلع بھر میں ویکسینیشن نظام کو مزید مؤثر بنانا، مہم کی نگرانی کو مضبوط کرنا اور ہر بچے تک بروقت، محفوظ اور معیاری ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3269
کوئٹہ21 اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بی این پی کے رہنماء سابق سینیٹر ثناء بلوچ کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تقریر پر دیے گئے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثناء بلوچ کا بیان حقیقت سے فرار اور سیاسی منافقت کی بدترین مثال ہے شاہد رند نے کہا کہ ثناء بلوچ تاریخ پڑھنے کے بجائے صرف بیانات دینے تک محدود ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ان کے اپنے لیڈر کے دور میں بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا، جبکہ دوسری جانب میر غوث بخش بزنجو جیسے رہنماؤں نے باہر سے ماہر اساتذہ لا کر یہاں تعلیمی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تعلیم کے دروازے کھولنے کی کوششیں تھیں اور دوسری طرف نفرت، تقسیم اور لسانی سیاست کو فروغ دیا جا رہا تھا اور ثناء بلوچ آج بھی اسی سوچ کے تسلسل کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ پنجاب سے نفرت کا بیانیہ کھڑا کر کے سیاست کرنا اور عوام کو گمراہ کرنا انہی عناصر کا وطیرہ رہا ہے جن کی نمائندگی آج ثناء بلوچ کر رہے ہیں۔ آج بھی وہ اپنے لیڈر کی طرح صرف بیان بازی، الزامات اور لوگوں کو اکسانے کی سیاست کر رہے ہیں جبکہ زمینی حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنی تقریر میں کسی کا نام نہیں لیا، مگر ثناء بلوچ کا فوراً سامنے آ کر دفاعی انداز اختیار کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نشانہ کہاں لگا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ماضی کا کردار صاف ہوتا تو اس قدر بوکھلاہٹ دیکھنے میں نہ آتی انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعلیٰ بلوچستان صوبے کے بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کر رہے ہیں، چاہے وہ سرکاری اسکول ہوں یا بین الاقوامی سطح کے ادارے، حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے اس کے برعکس ثناء بلوچ اور ان کے ہم خیال عناصر آج بھی نوجوانوں کو آگے بڑھتے دیکھنے کے بجائے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں شاہد رند نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے، عوام باشعور ہو چکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کون تعلیم اور ترقی کی بات کر رہا ہے اور کون صرف نفرت اور سیاست چمکانے میں مصروف ہے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی دباؤ، تنقید یا پروپیگنڈے سے مرعوب ہونے والی نہیں اور تعلیمی اصلاحات اور ترقی کا سفر ہر صورت جاری رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *