20th-April-2026

خبرنامہ نمبر3188/2026
کوئٹہ، 20 اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں بہادری اور قربانی کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے پہلی خاتون پولیس کانسٹیبل ملک ناز نے وطنِ عزیز پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ انہوں نے شہیدہ ملک ناز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور یہ صوبے کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک ناز کی قربانی اس لیے بھی مزید عظیم ہے کہ اس سے قبل ان کے شوہر عبدالغنی بھی وطن پر قربان ہو کر شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کر چکے ہیں۔ ایک ہی خاندان کی جانب سے دی جانے والی یہ بے مثال قربانی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان اس دکھ کی گھڑی میں شہیدہ کے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مکمل سرپرستی کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور نگہداشت کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہداءکی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں پاکستان کے لیے خون دینے والا ہر بہادر ہمارے لیے باعثِ فخر ہے، اور ان کے خاندانوں کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی اور شہداء کا مشن ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3189/2026
ہرنائی20اپریل ۔ صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ کے بھائی اور فوکل پرسن برائے صوبائی وزیر خوراک ہرنائی حاجی باز محمد دمڑ کی قیادت میں ذمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد نے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی سے اہم ملاقات کی۔ وفد میں ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک حاجی رضا ترین اور دیگر اراکین شامل تھے۔ملاقات کے دوران فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ نے ضلعی انتظامیہ کو کسانوں کے دیرینہ مسائل حل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ہرنائی میں کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی سرکاری نرخوں پر فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی باز محمد دمڑ نے ہدایت کی کہ جن کسانوں کی فصلیں اور زمینیں متاثر ہوئی ہیں، ان کا فوری طور پر جامع سروے شروع کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ نقصانات کا درست تخمینہ لگا کر متاثرہ زمینداروں کی مالی معاونت اور امدادی اقدامات میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ فوکل پرسن نے منڈیوں کے نظام میں بہتری لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو ان کی محنت کا صحیح صلہ دلانے کے لیے اجناس کی منصفانہ قیمتیں مقرر کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کا معاشی تحفظ یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے وفد کو تمام مسائل غور سے سننے کے بعد یقین دلایا کہ کسانوں کی شکایات پر ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیلابی نقصانات کے سروے اور سرکاری نرخوں پر زرعی سامان کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3190/2026
بارکھان20اپریل ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمان کاکڑ کی ہدایت پر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول رکھنی کے پرنسپل نے رکھنی میں قائم خواتین کے امتحانی مرکز میں طالبات کے لیے کرسیوں کا مناسب انتظام کر دیا ہے۔اس اقدام کا مقصد امتحانی عمل کو بہتر، منظم اور طالبات کے لیے سہولیات سے آراستہ بنانا ہے تاکہ وہ پرسکون ماحول میں اپنے امتحانات دے سکیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امتحانی مراکز میں سہولیات کی فراہمی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امتحانی مراکز میں نظم و ضبط، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ و طالبات کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔عوامی حلقوں اور والدین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3191/2026
لورالائی20اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت ماربل فیکٹری مالکان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماربل سے لدے ٹرکوں کی غیر محفوظ نقل و حمل کے باعث پیش آنے والے جانی نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ماربل فیکٹریوں سے نکلنے والے ٹرک اکثر بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے اوورلوڈ اور غیر محفوظ طریقے سے سڑکوں پر چلتے ہیں، جس کے نتیجے میں حادثات رونما ہو رہے ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ندیم اکرم نے فیکٹری مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ لوڈنگ کو مقررہ حد میں رکھا جائے اور حفاظتی اصولوں کی مکمل پابندی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر حفاظتی اقدامات کے چلنے والے ٹرکوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ذمہ داران کے خلاف جرمانے اور قانونی کاروائی بھی کی جائے گی۔اجلاس میں فیکٹری مالکان نے اسسٹنٹ کمشنر کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ تمام ٹرکوں کو حفاظتی اصولوں کے مطابق روانہ کیا جائے گا اور اوورلوڈنگ سے گریز کیا جائے گا اس موقع پر ٹریفک پولیس انچارج انسپکٹر جبار خان صاحب بھی شرکت کی۔آخر میں اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ سڑکوں پر چیکنگ کے عمل کو مزید مو¿ثر بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3192/2026
پشین۔20 اپریل ۔ضلعی ایجوکیشن آفیسر فیض اللہ خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وڑن اور تعلیمی اصلاحات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلعی محکمہ تعلیم پشین نے سکول داخلہ مہم (بلوچستان انرولمنٹ ڈرائیو) 2026 کے تحت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ ہدف سے 13 فیصد زائد بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے سکولوں میں داخل کیا گیا ہے،جو ایک خوش آئند اقدام اور کامیابی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکول داخلہ مہم کے آخری روز والدین اور اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انکا کہنا تھا کہ ضلع پشین کو 24000 بچوں اور بچیوں کو داخل کرنے کا ہدف دیا گیا،جوکہ 13 فیصد اضافے سمیت اور بروقت کامیابی سے حاصل کیا گیا ہے،یعنی ٹوٹل 27432 بچوں اور بچیوں کو سکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے،جبکہ اس میں بوائز کی تعداد 18253 اور گرلز 9179 ہیں،انہوں نے صوبائی محکمہ تعلیم کی کاوشوں کوخوب سراہتے ہوئے بتایا،کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی محکمہ تعلیم کی کاوشوں کی بدولت کنٹریکٹ اساتذہ کی تعیناتی سے ضلع بھر کے تمام بند سکولوں کو فعال بنانے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے،اس موقع پر یونیسیف کے تعاون سے تعلیمی بہتری کے لیے برسرپیکار ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (ESP) کے ضلعی سپورٹ منیجر اسماعیل خان جلالزئی نے کہا کہ بہتر تعلیم کی فراہمی یونیسیف کی ترجیح ہے،اور (ہر بچہ سکول میں) ہمارا وڑن ہے،جس کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا ریے ہیں،ایجوکیشن سپورٹ منیجر نے بتایا کہ داخلہ مہم کے سلسلے میں رواں سال یونیسیف کے تعاون سے گھر گھر بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی ہے،جبکہ آگاہی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے لاوڈ اسپیکر/واک و سیمینارز کا بھی انعقاد کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3193/2026
لورالائی20اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیرِ صدارت ماربل فیکٹری مالکان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماربل سے لدے ٹرکوں کی غیر محفوظ نقل و حمل سے ہونے والے جانی نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماربل فیکٹریوں سے نکلنے والے ٹرک اکثر اوورلوڈ اور بغیر مناسب حفاظتی اقدامات کے سڑکوں پر چلائے جاتے ہیں، جس کے باعث سنگین حادثات رونما ہو رہے ہیں اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے فیکٹری مالکان کو سختی سے ہدایت کی کہ ٹرکوں کی لوڈنگ مقررہ حد کے اندر رکھی جائے اور تمام حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ بغیر حفاظتی اقدامات کے چلنے والے ٹرکوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی، جبکہ ذمہ داران پر جرمانے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں شریک فیکٹری مالکان نے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ تمام ٹرکوں کو حفاظتی تقاضوں کے مطابق روانہ کیا جائے گا اور اوورلوڈنگ سے مکمل گریز کیا جائے گا۔ اس موقع پر ٹریفک پولیس انچارج انسپکٹر جبار خان بھی موجود تھے۔اجلاس کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سڑکوں پر چیکنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3194/2026
لورالائی20اپریل ۔پولیس نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ڈی آئی جی لورالائی رینج، جنید احمد شیخ نے ایس ایس پی لورالائی، ڈاکٹر فہد احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز خفیہ اطلاع پر پوڑی ٹک پہاڑ کے علاقے میں کارروائی کی گئی، جہاں سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے مواد میں 10 کلوگرام ٹی این ٹی، 8 کلوگرام بلیک ایکسپلوزیو، 4 عدد آئی ای ڈیز (جن میں 2 چھوٹے اور 2 بڑے شامل ہیں)، 11 ڈیٹونٹرز، 6 میٹر سیفٹی فیوز، ایس ایم جی کے 165 راونڈز، ایک کلوگرام بال بیرنگز اور 11 میٹر بونا کورڈ شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد کسی بڑی تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پولیس نے دہشتگردی کے خلاف ہمیشہ فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی قیامِ امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حساس اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد نے بتایا کہ کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔دوسری جانب، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اہم تنصیبات، شاہراہوں اور عوامی مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائیاں نہ صرف ممکنہ جانی نقصان کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں بلکہ دہشتگرد عناصر کے حوصلے بھی پست کر رہی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 3195/2026
لورالائی20اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے یونیورسٹی آف لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کی انتظامیہ سے ملاقات کرتے ہوئے تعلیمی، انتظامی اور بنیادی مسائل پر جامع تبادلہ خیال کیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز، لیبارٹریز اور دیگر تدریسی سہولیات کا معائنہ کیا اور جاری تعلیمی سرگرمیوں کا قریب سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، مالی و انتظامی چیلنجز اور طلبہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ملاقات کے دوران بنیادی سہولیات کی کمی، تدریسی وسائل کی قلت، جدید لیبارٹری آلات کی عدم دستیابی، طلبہ کیلئے رہائشی و ٹرانسپورٹ مسائل، اور تدریسی معیار میں بہتری جیسے اہم امور زیر بحث آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معیاری اعلیٰ تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ضلعی انتظامیہ اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی وسائل میں بہتری اور طلبہ کو سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے فوری اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا ک۔ یونیورسٹی آف لورالائی کو ایک معیاری تعلیمی ادارہ بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ یہ ادارہ خطے کے طلبہ کیلئے بہترین تعلیمی مرکز بن سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اساتذہ اور طلبہ سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل و تجاویز کو سنا۔ طلبہ نے امتحانی نظام، اسکالرشپس، انٹرنیٹ سہولیات اور ہاسٹل مسائل کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کر کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی میں شجرکاری مہم کے آغاز اور صفائی و بہتری کے خصوصی اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا، جس کا مقصد تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانا ہے۔آخر میں یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے دورے کے نتیجے میں ادارے کو درپیش مسائل کے حل میں عملی پیش رفت ہوگی اور تعلیمی معیار مزید بہتر ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai, April 20, 2026 — Deputy Commissioner Loralai, Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja, paid a detailed visit to the University of Loralai, where he met with the university administration and held comprehensive discussions on academic, administrative, and infrastructural challenges.During the visit, the Deputy Commissioner inspected various departments, classrooms, laboratories, and other academic facilities, closely reviewing ongoing educational activities. On this occasion, the Chancellor of the university, Professor Dr. Ihsanullah Kakar, briefed him on the institution’s overall performance, ongoing development projects, financial and administrative challenges, and issues faced by students.Key issues discussed during the meeting included the lack of basic facilities, shortage of teaching resources, unavailability of modern laboratory equipment, student accommodation and transportation problems, and the need to improve the quality of education. The Deputy Commissioner directed the concerned authorities to take practical steps on a priority basis to address these challenges.Speaking on the occasion, Captain (R) Muhammad Haseeb Shuja stated that the promotion of quality higher education is among the government’s top priorities, and the district administration will extend full support in this regard. He assured that immediate and effective measures would be taken to improve basic facilities, enhance educational resources, and provide a conducive environment for students.He further emphasized that all available resources would be utilized to develop the University of Loralai into a high-standard educational institution, making it a center of excellence for students in the region.The Deputy Commissioner also interacted with faculty members and students, listening to their concerns and suggestions. Students highlighted issues related to the examination system, scholarships, internet facilities, and hostel accommodation. In response, the Deputy Commissioner assured that the relevant departments would be contacted immediately to resolve these issues.The district administration also announced the launch of a tree plantation campaign and special cleanliness and improvement measures at the university, aimed at enhancing the overall academic environment.At the end of the visit, the university administration thanked the Deputy Commissioner and expressed hope that his visit would lead to practical progress in resolving the institution’s challenges and further improving educational standards.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3196/2026
کوئٹہ 20 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت مغربی با ئی پا س روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد ،این ایچ اے حکام، کیو ڈی پی مغربی بائپاس کے ڈائریکٹر، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک، تحصیلدار کچلاک اور متعلقہ ٹھیکیدار نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ تعمیراتی کام 81 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار میں فوری طور پر تیزی لائی جائے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا کر عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور مغربی بائپاس پر ٹریفک کے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جاری کاموں کی پیش رفت پر ہفتہ وار رپورٹ باقاعدگی سے پیش کی جائے تاکہ موثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3197/2026
حب 20اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل کی زیر صدارت کھلی کچہری، عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانیڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل کی زیر صدارت ضلع حب میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل براہِ راست ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے۔کھلی کچہری کے دوران عوام نے لوکل ڈومیسائل کے اجرا میں تاخیر، کاغذی کارروائی میں پیچیدگی، سرکاری دفاتر میں غیر ضروری رکاوٹوں، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، گیس کی بندش اور کم پریشر، پانی کی قلت، ٹریفک کے مسائل، ماحولیاتی آلودگی اور ترقیاتی منصوبوں میں سست روی اور ناقص معیار کے حوالے سے شکایات پیش کیں۔شہریوں نے نادرا سے متعلق مسائل، شناختی کارڈز کی بلاکنگ، سول ہسپتال میں طبی سہولیات کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی اور عملے کی قلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مزید برآں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان، کنڈہ مافیا کی سرگرمیوں، امن و امان کی صورتحال، گداگروں کی بڑھتی ہوئی تعداد، غیر قانونی شراب خانوں کی موجودگی، کتا مار مہم کی ضرورت، ماسٹر پلان پر عملدرآمد، درختوں اور جنگلات کی کٹائی جیسے اہم عوامی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل نے عوامی شکایات کو بغور سنا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام جائز مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے ازالے میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور سائلین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری امور میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ عوامی مسائل کی بروقت نشاندہی اور فوری حل ممکن بنایا جا سکے۔کھلی کچہری کے اختتام پر بعض شکایات موقع پر ہی حل کر دی گئیں جبکہ دیگر درخواستوں کو متعلقہ محکموں کو ارسال کرتے ہوئے مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔عوام نے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے مثبت رویے پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل جلد حل کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3198/2026
استامحمد20اپریل ۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے کیرتھر کینال کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے کینال اور اس کی ذیلی شاخوں پر جاری تعمیراتی و بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا اور موقع پر موجود افسران سے پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی دورے کے دوران فیض آباد ریگولیٹر پر ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال محمد یار مگسی نے انہیں تفصیلی آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی احکامات کی روشنی میں کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ زرعی پانی کی بروقت اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پانی کی ترسیل میں تاخیر اور دیگر تکنیکی مسائل کے باعث کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا رہا تاہم جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل سے نہ صرف یہ مسائل حل ہوں گے بلکہ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ایریگیشن بلوچستان گرین بیلٹ کو مزید سرسبز اور آباد بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے اور اس ضمن میں تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جاری ترقیاتی اسکیموں کو محکمے کے مقررہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ خریف سیزن سے قبل تمام ضروری مرمتی اور تعمیراتی کام مکمل کر لیے جائیں تاکہ کاشتکاروں کو پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بروقت کاشتکاری کے عمل کو جاری رکھ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3199/2026
جعفرآباد20اپریل ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ایس اے پی سسٹم میں تاریخ پیدائش کے اندراجات کی تصحیح سے متعلق کیسز کے جائزے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کے افسران اور متعلقہ عملے نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایس اے پی سسٹم میں ریکارڈ کی درستگی، درپیش مسائل اور زیر التواء کیسز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ میں درست اور مستند معلومات کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور تاریخ پیدائش جیسے بنیادی کوائف میں غلطیوں کی بروقت تصحیح نہ صرف انتظامی امور کو متاثر کرتی ہے بلکہ ملازمین کے سروس ریکارڈ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام کیسز کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر جلد از جلد نمٹایا جائے اور کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسران اس عمل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر کیس کی مکمل جانچ پڑتال کریں اور تمام ضروری دستاویزی تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ایس اے پی سسٹم میں ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا جبکہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ نظام میں شفافیت اور بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3200/2026
لورالائی 20 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت لوکل ڈومیسائل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نورعلی کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ، تحصیلدار بوری حاجی محمد اعظم کاکڑ اور تحصیلدار میختر کریم بخش بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران لوکل ڈومیسائل کے اجرا سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے درخواستوں کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ تمام درخواستوں کو مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر جلد از جلد نمٹایا جائے، جبکہ عوام کو بہتر اور بروقت سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع کا کہنا تھا کہ ڈومیسائل کے حصول کے عمل کو مزید آسان اور موثر بنانے کے لیے جدید اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن سے عوام کو غیر ضروری تاخیر اور مشکلات سے نجات ملے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی رہنمائی کے لیے معلوماتی کاونٹرز کو فعال کیا جائے اور شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ جعلی یا غیر مستحق درخواستوں کی سختی سے جانچ پڑتال کی جائے تاکہ نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔مزید خبر: ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے عمل میں بہتری کے لیے اقداماتاجلاس میں ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ درخواستوں کی آن لائن مانیٹرنگ کو موثر بنایا جائے اور ہر درخواست پر پیش رفت کوباقاعدگی سے ریکارڈ کیا جائے تاکہ شفافیت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ عوام کے لیے انتہائی اہم دستاویزات ہیں، جن کے حصول میں تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس ضمن میں متعلقہ عملے کی کارکردگی کی نگرانی سخت کی جائے گی اور غیر ضروری تاخیر یا غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت دی کہ دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی کیمپس کے انعقاد پر بھی غور کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری مستفید ہو سکیں۔ اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے عمل کو شفاف، تیز اور عوام دوست بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3201/2026
نصیرآباد20اپریل ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل خانزادی بلوچ، آر ٹی سی ایم رسول بخش کھوسہ ڈپٹی کمشنر کے پرنسل سیکرٹری منظور شیرازی سمیت دیگر ڈی ڈی ای اوز، متعلقہ افسران اور اساتذہ تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع بھر میں تعلیمی صورتحال، تدریسی عمل کی بہتری، اساتذہ کی حاضری اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی، تنخواہوں سے کٹوتی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل کو موثر اور فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اساتذہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں جبکہ غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کے تعلیمی معیار کو بلند کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں جا کر اسکولوں کا معائنہ کریں، اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ ضلع میں تعلیم کے شعبے میں واضح بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3202/2026
کراچی20 اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر انتظام زیتون اشرف آئی ٹی پارک کراچی میں ہونے والے قابلِ تقلید کام کو دیکھ کر ایک نئی ??امید پیدا ہوئی ہے۔ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ محض ایک مفاد خلق کا ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک بھر کے نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے ایک معتبر تحریک ہے۔ یہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے اور مستقبلِ قریب کیلئے ایک گیٹ وے کھول رہا ہے۔ کراچی جیسے گنجان آباد اور مسابقتی شہر میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پروفیشنل ترقی میں اعلیٰ معیار کی تعلیم اور مہارتیں فراہم کرنا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ موجودہ غربت اور بیروزگاری کے دور میں جو لوگ جدید ہنر سکھاتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں ہمارے نوجوانوں کی تقدیر سنوار رہے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ ایسے اقدامات پاکستان کی معاشی ترقی اور زرمبادلہ کمانے کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج کراچی میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر انتظام زیتون اشرف آئی ٹی پارک میں مختلف تعلیمی شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل کے افضل چمڈیا، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی اور دیگر اہم اشخاص بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سہلانی ٹرسٹ کے تعاون سے ہم بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جدید آئی ٹی پارکس قائم کرینگے جس کا اصل مقصد نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنرمندی کی فراہمی ہے۔ ان پروگراموں کی توسط سے ہمارے نوجوان اپنے روزگار خود ڈھونڈنے، خاندان کیلئے حلال کمانے اور کامیاب مفید شہری بننے کے قابل بن جائیں گے۔ معاشی طور پر خودمختار نوجوان ہی صوبے اور قوم کی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اکیلے ہر شہری کو روزگار فراہم نہیں کر سکتیں تاہم سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ جیسے وڑنری اداروں کی حوصلہ افزائی کر کے ہم پبلک اور پرائیویٹ شعبوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان پروگراموں سے بلوچستان کے دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے نوجوان بھی مستفید ہو رہے ہیں لہٰذا بلوچستان کے گورنر کی حیثیت سے میں باضابطہ طور پر سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی پوری ٹیم کو کوئٹہ کا دورہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں وہاں ہم آپ کے تجربے سے سیکھنے، آپ کی رہنمائی سے مستفید ہونے اور اپنے نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ آپ نہ صرف لوگوں کو تعلیم اور جدید مہارتیں سکھا رہے ہیں بلکہ آپ پاکستان کا مستقبل محفوظ کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ہنرمند افراد ہماری قوم اور ہمارے صوبے کے ماتھے کے جھومر بنیں گے۔ وہ ملک کی معاشی ترقی میں ضروری اپنا حصہ ڈالیں گے اور اپنے خاندانوں کیلئے بہترین کفیل بنیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Karachi April 20: Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhel said that new hope has arisen after seeing the exemplary work being done at Zaitoon Ashraf IT Park Karachi, managed by Saylani Welfare Trust. Saylani Welfare Trust is not merely a welfare organization but it is a credible movement for the economic empowerment of youth across the country. It is creating new employment opportunities and opening a gateway to the future,” he said. Providing high-quality education and skills in IT and professional development, in line with market demands, in a densely populated and competitive city like Karachi is a commendable initiative. In the current era of poverty and unemployment, those who impart modern skills are truly shaping the destiny of our youth and preparing them to compete on the global stage. Such initiatives will prove to be a precursor to Pakistan’s economic development and foreign exchange earnings. He expressed these views while inspecting various educational sectors at Zaitoon Ashraf IT Park managed by Saylani Welfare Trust in Karachi. Afzal Chamdia of Saylani Welfare Trust International, Principal Secretary to the Governor of Balochistan Abdul Nasir Dotani, and other dignitaries were also present on the occasion. On this occasion, Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhel expressed his determination that, with the support of Saylani Trust, modern IT parks will be established in remote areas of Balochistan. The key objective is to provide modern education and skills to Balochistani youth. Through such programs, our youth will be able to secure jobs, earn a halal livelihood for their families & become successful and productive citizens. Only economically independent youth can contribute in development of the province and the nation,” he said. It is a fact that the federal and provincial governments alone cannot provide employment to every citizen. However, by encouraging visionary institutions like Saylani Welfare Trust, we can bring the public and private sectors closer together,” he added. He expressed satisfaction that these programs are also benefiting youth from the remote and underserved areas of Balochistan. “Therefore, as Governor of Balochistan, I formally invite the entire team of Saylani Welfare Trust to visit Quetta, where we look forward to learning from your experience, benefiting from your guidance & working together to economically empower our youth. You are not only educating people and imparting modern skills but you are also securing the future of Pakistan. I am confident that the talented graduates of Saylani Welfare Trust will become the backbone of our nation and our province. They will make a significant contribution to the economic development of the country and will become impressive bread winners for their families.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Karachi April 20: Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhel said that new hope has arisen after seeing the exemplary work being done at Zaitoon Ashraf IT Park Karachi, managed by Saylani Welfare Trust. Saylani Welfare Trust is not merely a welfare organization but it is a credible movement for the economic empowerment of youth across the country. It is creating new employment opportunities and opening a gateway to the future,” he said. Providing high-quality education and skills in IT and professional development, in line with market demands, in a densely populated and competitive city like Karachi is a commendable initiative. In the current era of poverty and unemployment, those who impart modern skills are truly shaping the destiny of our youth and preparing them to compete on the global stage. Such initiatives will prove to be a precursor to Pakistan’s economic development and foreign exchange earnings. He expressed these views while inspecting various educational sectors at Zaitoon Ashraf IT Park managed by Saylani Welfare Trust in Karachi. Afzal Chamdia of Saylani Welfare Trust International, Principal Secretary to the Governor of Balochistan Abdul Nasir Dotani, and other dignitaries were also present on the occasion. On this occasion, Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhel expressed his determination that, with the support of Saylani Trust, modern IT parks will be established in remote areas of Balochistan. The key objective is to provide modern education and skills to Balochistani youth. Through such programs, our youth will be able to secure jobs, earn a halal livelihood for their families & become successful and productive citizens. Only economically independent youth can contribute in development of the province and the nation,” he said. It is a fact that the federal and provincial governments alone cannot provide employment to every citizen. However, by encouraging visionary institutions like Saylani Welfare Trust, we can bring the public and private sectors closer together,” he added. He expressed satisfaction that these programs are also benefiting youth from the remote and underserved areas of Balochistan. “Therefore, as Governor of Balochistan, I formally invite the entire team of Saylani Welfare Trust to visit Quetta, where we look forward to learning from your experience, benefiting from your guidance & working together to economically empower our youth. You are not only educating people and imparting modern skills but you are also securing the future of Pakistan. I am confident that the talented graduates of Saylani Welfare Trust will become the backbone of our nation and our province. They will make a significant contribution to the economic development of the country and will become impressive bread winners for their families.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3203/2026
کوئٹہ، 20 اپریل ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کو یہاں پاکستان بار کونسل اور بلوچستان بار کونسل کے اراکین کے مشترکہ وفد نے ملاقات کی جس میں وکلائ برادری کو درپیش مسائل اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے جاری و مجوزہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران وکلاء کے علاج و معالجہ اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے میڈیکل کوریج ،بلدیہ پلازہ میں رعایتی بنیادوں پر وکلائ کے لیے چیمبرز کی فراہمی ،وکلاء کی سہولت کے لیے پنک اسکوٹیز، شٹل کارٹس، و بسوں اور پنک وین کی فراہمی سمیت ڈیجیٹل لائبریری اور لائیر ویلفیئر ہاوسنگ اسکیم کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وکلاءکی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور صوبے میں وکلاءکو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وکلاءکو بہتر سہولیات کی فراہمی سے نظام انصاف کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت وکلاء برادری کے ساتھ مل کر فلاحی منصوبوں کو آگے بڑھائے گی اور وکلاء کے لیے شروع کیے گئے منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں گے ملاقات میں وکلاء نمائندگان میں پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد کاکڑ جبکہ بلوچستان بار کونسل کے اراکین نادر چھلگری، ایاز مندوخیل، نجیب کاکڑ اور افضل حریفال شامل تھے اس موقع پر پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون اور سیکرٹری قانون ڈاکٹر پرویز نوشیروانی بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3204/2026
نصیرآباد20اپریل ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت محکمہ ایریگیشن میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال محمد یار مگسی، ڈویژنل ڈائریکٹر ترقیات حماد فارس،غلام محمد بادینی سب ڈویژنل آفیسران امان اللہ گاجانی، عابد کھوسہ اور عبدالرشید سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر کو پٹ فیڈر کینال، کیرتھر کینال اور ایریگیشن ڈرینیج سسٹم میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ہدایت کی کہ کینالز میں پانی کی ترسیل سے قبل تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق ہر صورت مکمل کیا جائے تاکہ آئندہ زرعی سیزن میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔انہوں نے واضح کیا کہ فزیکل اور فنانشل پیش رفت میں مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جائے اور کسی بھی صورت ایڈوانس ادائیگی نہ کی جائے بلکہ ترقیاتی کام کی رفتار اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے۔ کمشنر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے اس لیے متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر تمام منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پانی کی بندش کا دورانیہ جاری ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرمتی اور تعمیراتی کام تیزی سے مکمل کیے جائیں تاکہ پانی کی بحالی کے وقت نظام مکمل طور پر فعال ہو۔ کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈویژنل انتظامیہ ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی جاری رکھے گی اور کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ عوام اور بالخصوص کاشتکاروں کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3205/2026
لورالائی 20اپریل۔ ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لورالائی پولیس نے خفیہ اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز پوڑی ٹک پہاڑ کے علاقے میں کامیاب آپریشن کے دوران دہشتگردی میں استعمال ہونے والا بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا۔ برآمد شدہ مواد میں 10 کلو گرام ٹی این ٹی، 8 کلو گرام بلیک ایکسپلوزیو، 4 عدد آئی ای ڈیز (جن میں 2 چھوٹے اور 2 بڑے شامل ہیں)، 11 ڈیٹونٹرز، 6 میٹر سیفٹی فیوز، ایس ایم جی کے 165 راونڈز، 1 کلو گرام بال بیرنگز اور 11 میٹر بونا کورڈ شامل ہیں۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ پولیس نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون سے ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید موثر بنائی جائیں گی تاکہ علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3206/2026
کوئٹہ، 20 اپریل ۔ ڈائریکٹر جنرل نیپا، سید علی رضا شاہ نے نیپا آفس میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر گیسٹ اسپیکر ڈاکٹر عتیق الرحمان نیپا کے فیکلٹی ممبران اور 46ویں کورس کے افسران نے بھرپور انداز میں شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔ڈی جی نیپا سید علی رضا شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر شجرکاری وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لاتے ہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے حصے کا پودا ضرور لگائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی شجرکاری کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مختلف مقامات پر پودے لگانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ڈی جی نیپا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 46ویں کورس کے شرکاء پودے لگا کر ایک ایسی یادگار قائم کر رہے ہیں جو آنے والے وقتوں میں ان کی شناخت اور خدمات کی عکاسی کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کورس میں ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران شامل ہیں، اور یہ پودے ان کے درمیان یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کی علامت بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ افسران مستقبل میں دوبارہ یہاں آئیں گے تو وہ فخر کے ساتھ ان درختوں کو دیکھ سکیں گے جو انہوں نے خود لگائے ہوں گے اور جو اس وقت تک تناور درخت بن چکے ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3207/2026
بارکھان 20 اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان، سعید الرحمن کاکڑ کی زیر صدارت ضلع بارکھان کے تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کا تعارفی و ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی اور اپنے اپنے شعبہ جات کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، درپیش مسائل اور آئندہ کے اہداف سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی اسکیموں، عوامی سہولیات کی فراہمی، انتظامی امور اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی خدمت سرکاری اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان کے ثمرات سے جلد مستفید ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صحت، تعلیم، صفائی، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تمام محکمے باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تاکہ انتظامی کارکردگی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہر سرکاری ملازم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ بارکھان کی مجموعی ترقی، شفاف گورننس اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں کے سربراہان نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ ضلعی سطح پر مانیٹرنگ سسٹم مزید فعال کرنے کا فیصلہ اجلاس کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی سطح پر مانیٹرنگ سسٹم کو مزید فعال کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ افسران کو باقاعدہ فیلڈ وزٹس اور رپورٹنگ کا پابند بنایا جائے گا تاکہ منصوبوں میں شفافیت اور موثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3208/2026
بارکھان 20 اپریل ۔سعید الرحمن ڈپٹی کمشنر بارکھان کی زیر صدارت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (ایکسٹینشن) اور سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی کے ہمراہ ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مارکیٹ کمیٹی سے متعلق انتظامی امور، کارکردگی کے جائزے، درپیش مسائل اور جاری اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے مارکیٹ کمیٹی کی موجودہ صورتحال، مالی و انتظامی معاملات، اور مختلف جاری سرگرمیوں پر جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مارکیٹوں کی کارکردگی، عوامی سہولیات کی فراہمی، نرخوں کے نظام کی نگرانی اور انتظامی چیلنجز کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر بارکھان نے تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور واضح ہدایات جاری کیں کہ مارکیٹ کمیٹی سے متعلق تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سہولیات کی فراہمی، شفافیت، اور انتظامی نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مارکیٹوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو موثر بنایا جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری کارروائی کی جائے، اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک فعال اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے عملی اور موثر اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام بھی مضبوط بنایا جائے گا۔اسی سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے آئندہ چند دنوں میں مارکیٹ کمیٹی کی سطح پر ایک خصوصی مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں، صفائی اور تجاوزات کی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ ذرائع کے مطابق اس ٹیم کی رپورٹ براہ راست ڈپٹی کمشنر کو پیش کی جائے گی۔مزید برآں، مارکیٹوں میں صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کا مقصد عوام کو بروقت سہولیات فراہم کرنا اور انتظامی امور میں شفافیت کو بڑھانا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اصلاحات کے اس عمل کے دوران غیر فعال یا غیر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے تاکہ نظام کو مو¿ثر اور فعال بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3209/2026
کوئٹہ20 اپریل۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کوئٹہ شہر میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ بوتل بند پانی کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعدد واٹر پلانٹس کو سیل کر دیا۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران پرانا سبزل روڈ، مغربی بائی پاس اور جبل نور میں 3 واٹر پلانٹس سیل کیے گئے جہاں ناقص صفائی، چوہوں کی بیٹ، غیر رجسٹریشن اور غلط لیبلنگ جیسے سنگین مسائل سامنے آئے۔علاوہ ازیں متعدد بوتل بند پانی کے نمونے لیکر تفصیلی لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے بھجوا دئیے گئے۔اسی طرح نوا کلی، کلی شابو اور چشمہ اچوزئی میں بھی مزید 3 واٹر پلانٹس کو سیل کیا گیا جہاں ٹینکوں میں الجی کی موجودگی، ایکسپائری تاریخوں میں گڑبڑ اور حفاظتی اقدامات کا فقدان پایا گیا۔ سرکی روڈ اور گردونواح میں 6 آر او پلانٹس کی جانچ کے دوران ایک یونٹ کو سیل جبکہ ایک کو جرمانہ کیا گیا۔ ڈبل روڈ اور سیٹلائٹ ٹاون میں بھی کارروائی کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 4 واٹر پلانٹس سیل کیے گئے جبکہ لیبارٹری تجزیہ کیلئے متعدد نمونے حاصل کیے گئے۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کہ عوام کو محفوظ اور معیاری پینے کا بوٹلڈ واٹر فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر رجسٹرڈ اور ناقص پانی کی فراہمی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری اپنی صحت کے تحفظ کیلئے صرف مستند اور رجسٹرڈ بوتل بند پانی کا استعمال یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں کی آمد کے پیش نظر کریک ڈاون مزید تیز کیا جا رہا ہے اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ناقص پانی سے ہونے والی ممکنہ بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3210/2026
دکی 20 اپریل ۔: وزیراعلیٰ بلوچستان کے شفاف امتحانی نظام کے وژن کے تحت ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے گورنمنٹ ڈگری کالج دکی میں قائم امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے امتحانی عمل، سیکیورٹی انتظامات اور نگرانی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈپٹی کمشنر نے امتحانی ہالز میں موجود انتظامی عملے اور نگران اسٹاف سے ملاقات کرتے ہوئے ہدایت کی کہ امتحانی عمل کو ہر صورت شفاف، منظم اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نقل کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ طلبہ کی اصل صلاحیتیں سامنے آ سکیں اور میرٹ کا مکمل احترام یقینی بنایا جا سکے۔مزید پیش رفت اور انتظامی اقدامات دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی کو ہدایت کی کہ امتحانی مراکز میں CCTV کیمروں کی فعالیت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ سپرنٹنڈنٹس اور نگران عملے کی باقاعدہ چیکنگ بھی سخت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی غیر قانونی معاونت یا بیرونی مداخلت کو فوری طور پر روکا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امتحانی مراکز کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف افسران اچانک دورے کر کے امتحانی عمل کی نگرانی کریں گے۔ضلعی انتظامیہ نے والدین اور طلبہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ نقل کے رجحان کے خاتمے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ایک صحت مند تعلیمی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شفاف امتحانی نظام ہی مستقبل میں قابل اور باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری کی بنیاد ہے، اور اسی مقصد کے تحت ضلع دکی میں سخت اور موثر اقدامات جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3211/2026
کوئٹہ20اپریل ۔ بلوچستان پبلک سروس کمیشن نے امیدواروں کی سہولت کے لیے فیس جمع کرانے کا نیا آن لائن نظام متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے بھر کے امیدوار اب اپنی فیس 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن آن لائن بینکنگ، موبائل ایپس، اے ٹی ایم یا ون لنک سہولت کے ذریعے جمع کرا سکیں گے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت امیدواروں کو بینکوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ گھر بیٹھے باآسانی اپنی فیس ادا کر سکیں گے۔ آن لائن فیس جمع کرانے کا یہ نظام 5 مئی 2026 سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوگا جبکہ مکمل طریقہ کار اور رہنما اصول کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر فراہم کر دیے گئے ہیں۔اعلامیہ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ 5 مئی 2026 کے بعد مشتہر کردہ آسامیوں کے لیے گرین چالان کے ذریعے جمع کرائی گئی فیس کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی واپسی ممکن ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai, April 20, 2026 — Police successfully thwarted a major (terrorism) plan through a timely and effectiv
operation. Addressing a press conference, DIG Loralai Range, Junaid Ahmed Sheikh, alongside SSP Loralai, Dr. Fahad Ahmed, stated that the operation was carried out yesterday in the Podi Tik mountain area following intelligence reports, leading to the recovery of a large quantity of explosive materials.According to police, the recovered ???? (materials) included 10 kilograms of TNT, 8 kilograms of black explosive substance, 4 improvised explosive devices (IEDs)—2 small and 2 large—11 detonators, 6 meters of safety fuse, 165 rounds of SMG ammunition, 1 kilogram of ball bearings, and 11 meters of detonation cord. Authorities indicated that the ???? were intended for a major sabotage operation.DIG Junaid Ahmed Sheikh emphasized that police have always played a frontline role in combating terrorism and will continue to fulfill their responsibilities to maintain peace. He added that close coordination with sensitive agencies is helping to further strengthen the law and order situation in the region.SSP Dr. Fahad Ahmed stated that a search operation has been launched in the area following the recovery to apprehend possible facilitators and other ????? (elements). He also urged the public to immediately report any suspicious activities to the nearest police station to ensure timely action.Meanwhile, security sources revealed that intelligence-based operations have been intensified across various districts of Balochistan in recent days, resulting in significant setbacks to terrorist networks. Authorities further stated that security has been tightened after Eid-ul-Fitr, with increased surveillance at key installations, highways, and public places.Experts believe that such timely actions by police and security agencies not only help prevent potential loss of life but also weaken the morale of terrorist elements.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3212/2026
کوئٹہ، 20 اپریل ۔ صوبائی وزیر و پاکستان پیپلز پارٹی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن حاجی علی مدد جتک نے خضدار کے علاقے بَجوئی میں شرپسند عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والی بہادر لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ناز نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بہادری، فرض شناسی اور حب الوطنی کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بیٹی نے عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنی جان قربان کر کے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید ملک ناز کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی خدمات کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ شہید کے شوہر بھی لیویز فورس میں خدمات انجام دیتے ہوئے دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں، جو اس خاندان کی لازوال قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید ملک ناز اپنے پیچھے تین بچوں کو سوگوار چھوڑ گئی ہیں اور حکومت بلوچستان ان کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن مالی و سماجی معاونت یقینی بنائے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ امن کو سبوتاڑ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور شہداء کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3213/2026
قلات 20 اپریل۔ صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے جھالاوان ہاوس کوئٹہ میں چیئرمین میونسپل کمیٹی قلات نوابزادہ میر شعیب زہری کی قیادت میں ضلع قلات کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع قلات میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر چیئرمین میونسپل کمیٹی قلات میر شعیب زہری نے محکمہ بلدیات کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق آگاہ کیا، جبکہ یونین کونسل نیچارہ اور منگچر سے تعلق رکھنے والے وفد کے اراکین نے اپنے علاقوں کے مسائل پیش کیے صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے اس موقع پر کہا کہ قلات کی ترقی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف جھالاوان نواب ثنائ اللہ خان زہری کی خصوصی ہدایات پر عملدرآمد جاری ہے اور خضدار، زہری اور قلات کی ترقی و خوشحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ متعلقہ حکام منصوبوں کی نگرانی کو مزید موثر بنائیں ملاقات میں ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار حاجی صلاح الدین زہری، چیئرمین میونسپل کمیٹی زہری میر فیصل رحیم زہری اور خان محمد زہری بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3214/2026
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبے میں انٹر پرائز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انٹر پرائز ڈیویلپمنٹ پروگرام میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بلوچستان میں معاشی ترقی اور صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کی بہترین فراہمی کے لیے صوبائی حکومت صوبے کے متعدد اضلاع میں بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے اشتراک سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہوگا اور صوبے کی معیشت میں بہتری اور نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع میسر آسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 80000 گھرانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، 12000 لوگوں کو اخوت کے ذریعے بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد بلوچستان کے پسماندہ اضلاع میں معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے اور اس پروگرام کے تحت صوبے کے چھ منتخب اضلاع کے ہزاروں نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور انہیں روزگار کی بجائے خود روزگار پیدا کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام ٹارگٹڈ اضلاع میں ضلع اور تحصیل دفاتر قائم کیے گئے ہیں اور 275 عملے کی بھرتی اور تربیت مکمل ہوئی۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں وفاقی وزیر، صوبائی وزراء، سینیٹرز، ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اورینٹیشن سیشن منعقد کی جائے گی۔ امن اور ہم آہنگی پر ثقافتی اور مو ضوعاتی سیمینار ضلعی سطح پر شروع کیے گئے۔11 تقریبات جن میں 3946 شرکاء میں 34 فیصد خواتین نے شرکت کی۔ امن اور سماجی ہم آہنگی پروگرام کے تحت 215 گرانٹس CBOs/LSOs اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کریں گی۔ 550 نوجوانوں کے قومی سطح کے نمائشی دورے منقعد کیے جارہے ہیں۔ اجلاس کے شرکائ کو مزید بتایا گیا کہ اگلے مالی سال میں انٹرپرائز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے 25,400 غریب ترین گھرانوں کو تربیت اور آمدنی میں اضافہ کے لئے اثاثہ جات کی تقسیم، 2,565 نوجوانوں کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ اور انٹرپرائز ڈویلپمنٹ ٹریننگ، 124 چھوٹے/درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو گرانٹس دی جائینگی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ذاہد سلیم، سیکرٹری انڈسٹریز خالد سرپرہ، سی سی او بی آر ایس پی ڈاکٹر طاہر رشید و دیگر نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3215/2026
تربت 20اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت جشنِ بہاراں اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ اور اسپورٹس سے وابستہ افسران و عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو تابش علی، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر مہنور بلوچ، بی آر ایس پی کے ڈویڑنل ڈائریکٹر التیاز سخی سمیت مختلف کھیلوں کے نمائندہ عہدیدار موجود تھے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے ہدایت دی کہ اس سال جشنِ بہاراں اسپورٹس فیسٹیول کو بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ سے نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت رجحانات کو بھی فروغ ملتا ہے۔انہوں نے اجلاس میں شریک تمام متعلقہ افسران اور اسپورٹس عہدیداروں کو مختلف ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فیسٹیول کے انعقاد کو کامیاب بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ اس موقع پر مختلف کھیلوں کے مقابلوں، شیڈول، سیکیورٹی انتظامات اور دیگر انتظامی امور پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ جشنِ بہاراں اسپورٹس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کو بھرپور تفریحی اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 3216/2026
لورالائی 20اپریل ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر {جنرل} نور علی کاکڑ نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت قائم بک ڈسٹری بیوشن سٹور کا تفصیلی دورہ۔ اس موقع پر انہوں نے کتابوں کے ذخیرے، ریکارڈ اور تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے موقع پر موجود عملے سے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سکولوں کو درسی کتب کی بروقت اور منصفانہ فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ طلباءکی تعلیم متاثر نہ ہو۔دورے کے دوران انہوں نے کتابوں کی ترسیل کے طریقہ کار، دستیاب اسٹاک اور مختلف سکولوں کو فراہم کی جانے والی کتب کی مکمل تفصیلات (ڈیٹیل) بھی طلب کیں، اور متعلقہ فوکل پرسن کو ہدایت جاری کی کہ ریکارڈ کو مکمل، شفاف اور اپڈیٹ رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تعلیمی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3217/2026
تربت20اپریل ۔.ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ میر ہوتمان بلوچ نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں ضلع کیچ کی مجموعی صورتحال، سیاسی و سماجی امور اور بالخصوص پاک-ایران بارڈر ٹریڈ سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے علاقے کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور سرحدی تجارت کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود اور علاقے کی معاشی ترقی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے جبکہ بارڈر ٹریڈ کو مزید موثر اور منظم بنانے کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل میر ہوتمان بلوچ نے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل میں بھرپور تعاون جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ پاک-ایران سرحدی تجارت علاقے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کے استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی ۔جس میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور عوامی خدمت کے عمل کو تیز تر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر3218/2026
تربت، 20 اپریل:کمشنر مکران ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیر صدارت پیر کے روز ڈینگی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر آفس تربت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسداللہ بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل) محمد جان بلوچ، میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی، ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز مکران ڈاکٹر مہب اللہ بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدی، صوبائی محکمہ صحت کی ٹیم، ہیلتھ مینجمنٹ ٹیمیں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کے نمائندگان، این آر ایس پی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔اجلاس میں تربت شہر کے مختلف علاقوں میں ڈینگی وائرس کے پھیلاو اور پنجگور و گوادر سے رپورٹ ہونے والے کیسز میں اضافے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ ٹیم نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈینگی کے پھیلاوکی وجوہات اور اس کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔کمشنر مکران ڈویژن نے تمام متعلقہ اداروں، بشمول ضلعی صحت ٹیموں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکموں کو ہدایت جاری کی کہ مربوط اور موثر حکمت عملی کے تحت ڈینگی کے پھیلاو کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور فعال اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ شہر بھر میں مچھر مار اسپرے (فوگنگ) کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے، متاثرہ علاقوں میں مچھر دانیاں فراہم کی جائیں، جبکہ اسکولوں، بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی مراکز صحت (RHCs) اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں احتیاطی تدابیر سے متعلق بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔اجلاس کے فیصلوں کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کیچ کو آگاہی مہم کی ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سے ہنگامی بنیادوں پر مچھر دانیوں کی فراہمی کے لیے رابطہ کیا گیا۔ مزید برآں، ڈپٹی کمشنر کیچ نے نجی ہسپتالوں کو ہدایت دی کہ ڈینگی ٹیسٹ کی فیسوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈینگی کے پھیلاو کی روک تھام اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر3219/2026
کوئٹہ20 اپریل:۔چیف منسٹر بلوچستان الیکٹرک بائیک اسکیم کے پہلے فیز کی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی پیر کے روز کردی گئی ہے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے تمام درخواست دہندگان کو ان کے فارم میں فراہم کردہ رابطہ نمبر پر بذریعہ ایس ایم ایس مطلع کر دیا گیا ہے درخواست دہندگان آفیشل ویب سائٹhttps://ebikes.finance.gob.pkپر بھی اپنی درخواست کا اسٹیٹس چیک کر سکتے ہیں حکام کے مطابق یہ کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی مکمل طور پر شفاف تھی جس میں کسی بھی قسم کی سفارش یا پسند و ناپسند کا انسانی عمل دخل شامل نہیں تھا قرعہ اندازی کے بعد ضروری کارروائی کی تکمیل پر کامیاب درخواست دہندگان کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی شروع کردی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تمام کامیاب درخواست دہندگان کو مبارکباد دی ہے انہوں نے کہا کہ جن افراد کا نام اس قرعہ اندازی میں نہیں نکلا وہ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں واضح رہے کہ چیف منسٹر الیکٹرک بائیک منصوبہ طلبہ، ورکنگ ویمن اور عوام الناس کو بہتر اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ایندھن کے متبادل کے طور پر الیکٹرک چارجنگ کو فروغ ملے گا بلکہ آسان اقساط پر سبسڈائزڈ الیکٹرک بائیکس فراہم کرکے عوام کو معاشی ریلیف بھی دیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر3220/2026
کوئٹہ 20 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں تندور مافیا کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر آپریشن کرتے ہوئے عوامی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کی ٹیموں نے روٹی کی قیمتوں اور وزن میں کمی کرنے والوں کے خلاف شکنجہ کس لیا ہے،اس حوالے سے شہر بھر کے 128تندوروں کا معائنہ کیا گیا اور خلاف ورزی پر 68 تندور مالکان گرفتار اور 35 تندور سیل کردیا گیا۔انتظامیہ کی ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں تندوروں کا اچانک دورہ کیا۔جہاں روٹی کے وزن میں کمی اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے پر 68 تندور مالکان کو موقع پر گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ جبکہ خلاف ورزیوں پر 35 تندوروں کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تمام متعلقہ افسران کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام کا استحصال کرنے والے تندور مافیا سے کسی صورت رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ عوامی شکایات کی بنیاد پر اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے گی اور ناجائز منافع خوروں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر3221/2026
کوئٹہ 20 اپریل:۔وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیائاللہ لانگو نے کہا کہ خضدار میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان کی تاریخ پہلی خاتون کانسٹیبل ملک ناز نے بہادری کی نئی مثال قائم کرکے جام شہادت نوش کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں حکومت شہدائکے لواحقین کیساتھ کھڑی ہے ملک کی خاطر ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اپنے جاری کردہ بیان میں میر ضیائاللہ لانگو نے کہا کہ ملک ناز کی قربانی نہ صرف پولیس فورس بلکہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے، ان کی بہادری اور فرض شناسی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ شہدائنے فرض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر کبھی ہتھیار نہیں ڈالے، یہی جذبہ دہشت گردی کے خلاف ہماری اصل طاقت ہے بلوچستان پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گاانہوں نے کہاکہ شہیدلیڈی کانسٹیبل ملک ناز کی قربانی اس لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ ان کے شوہر عبدالغنی بھی پہلے ہی وطن پر قربان ہو چکے ہیں حکومت شہدائکے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کسی صورت تنہائنہیں چھوڑا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر3222/2026
خضدار 20 اپریل:۔کھٹان ندی فلڈ پروٹیکشن بند کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی، ایک شخص گرفتارتفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایات پر انتظامیہ نے ایکشن لیتے ہوئے فلڈ پروٹیکشن بند کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ چیف آفیسر وڈیرہ صالح جاموٹ پٹواری مہراللہ خدرانی،پٹواری حامد اور پولیس کے ہمراہ کھٹان ندی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر فلڈ پروٹیکشن بند کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے والے ایک شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ خضدار کے مطابق عوامی املاک اور حفاظتی تدابیر میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ حفاظتی بند (فلڈ پروٹیکشن بند) مقامی آبادی کو سیلابی ریلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔اس کا مقصد قریبی رہائشی علاقوں اور قیمتی زرعی اراضیات کو بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے کہا کہ میں خضدار کے عوام سے سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قومی اثاثوں کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ فلڈ پروٹیکشن بند یا کسی بھی حفاظتی بند کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی فوری نشان دہی کریں انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ یہ بند ہزاروں زندگیاں بچانے کا ذریعہ ہیں پروٹیکشن بند کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
خبرنامہ نمبر3221/2026
لورالائی20اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ نے دوسڑکہ کے مقام پر قبائلی افراد کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں دی گئی ہڑتال کے باعث بند کی گئی شاہراہ کو کامیاب مذاکرات ذریعے بحال کروا دیا۔تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے مرکزی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی اور اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ موقع پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کا آغاز کیا۔کامیاب بات چیت کے بعد مظاہرین نے روڈ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی اور پھنسے ہوئے مسافروں نے سکھ کا سانس لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر یحییٰ خان کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کی سہولت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور کسی کو بھی عوامی مشکلات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔
خبرنامہ نمبر3222/2026
موسیٰ خیل20اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیمی وژن اور ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ نے گورنمنٹ ڈگری کالج میں قائم HSSC امتحانی مرکز کا دورہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے امتحانی ہال کا معائنہ کیا طلباء کو فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لیا اور امتحانی عمل کی شفافیت سمیت سیکیورٹی انتظامات کو چیک کیا امتحانی عملے کی جانب سے ہال کے قریب بورنگ کے کام سے پیدا ہونے والے شور کی شکایت پر، انہوں نے فوری طور پر ٹھیکیدار کو طلب کیا اور سختی سے ہدایت کی کہ پرچے کے اوقات میں کام مکمل بند رکھا جائے تاکہ طلباء کے ارتکاز میں خلل نہ پڑے اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ کاکڑ نے امتحانی مرکز کے مجموعی ماحول اور نظم و ضبط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تعلیمی معیار کی بہتری اور شفاف امتحانات کا انعقاد حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
خبرنامہ نمبر3223/2026
موسیٰ خیل20اپریل:۔ حکومتِ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں (PSDP اسکیمات) کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورے کی تفصیلات درج ذیل ہیں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کلی حسین ابراہیم زئی: اسسٹنٹ کمشنر نے پی ایس ڈی پی اسکیم نمبر Z2022-1954 کے تحت زیرِ تعمیر اسکول کا دورہ کیا۔ دو کمروں برآمدے اور چار دیواری پر مشتمل یہ عمارت اپنے آخری مراحل میں ہے۔ کام کے مجموعی معیار کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔واٹر سپلائی اسکیم کلی غوث شاہ: اسکیم نمبر Z2024-2346 (واٹر سپلائی اسکیم اسماعیل) کا معائنہ کیا گیا جو کہ مکمل ہو چکی ہے۔ اس منصوبے میں پانی کا بور، سولر یونٹ اور واٹر ٹینک شامل ہیں۔ دورے کے دوران مقامی معززین نے واٹر ٹینک سے پانی کے رساؤ (لیکج) کی نشاندہی کی، جس پر فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی۔چیک ڈیم، کلی حبیب کبلزئی (تحصیل کنگری): اسسٹنٹ کمشنر نے اسکیم نمبر Z2023-2272 کے تحت تعمیر ہونے والے چیک ڈیم کا جائزہ لیا۔ ڈیم کی تعمیر اپنے آخری مراحل میں ہے اور اسپِل وے (Spillway) پر کام جاری پایا گیا۔زیرِ تعمیر ڈیم چاپ سدوزئی (تحصیل کنگری): تحصیل کنگری کے علاقے چاپ سدوزئی میں جاری ایک اور ڈیم کے تعمیراتی کام کا بھی خصوصی معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر جاری کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا تاکہ علاقے میں پانی کے ذخائر کی صورتحال اور زرعی ضروریات کو بہتر بنایا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور عوامی فلاح کے ان منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے۔
.

خبر نامہ نمبر 2026/3224
کوئٹہ20 اپریل:_وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کے روز یہاں چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد اسحاق نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ نے ادارے میں جاری اصلاحاتی عمل اور صوبہ بھر میں ہونے والے امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے وزیر اعلیٰ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جبکہ ملاقات میں تعلیمی نظام کی بہتری اور امتحانی عمل کو شفاف بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی نظام میں شفافیت، میرٹ اور دیانتداری کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل جیسے ناسور کا خاتمہ نہ صرف تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے بلکہ اس سے طلبہ میں محنت اور قابلیت کے رجحان کو بھی فروغ ملے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا جہاں صرف میرٹ کی بنیاد پر طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہوں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس اسپیشل برانچ کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں جاری امتحانات کے دوران امتحانی مراکز کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور اس حوالے سے متواتر رپورٹس فراہم کریں تاکہ کسی بھی بے ضابطگی یا نقل کے واقعات کی بروقت روک تھام ممکن بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی اداروں میں اصلاحات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3225
کوئٹہ20اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل مقدس سنگ میلوں پر عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روانہ ہونے والی پہلی حج پرواز کے زائرین کو الوداع کہیں گے۔ شام 7:00 بجے روانگی سے قبل گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل، پہلی حج فلائٹ کے تمام زائرین، اور کوئٹہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے متعلقہ ذمہ دران ایک خصوصی اجتماعی دعا کریں گے۔ سفر حجاز کے مسافروں کے محفوظ سفر کے ساتھ پاکستان کے امن، ترقی اور سلامتی کیلئے بھی دعائیں مانگیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3226
کوئٹہ20اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے قائد اعظم لائبریری کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد لائبریری میں تعلیمی سہولیات کا جائزہ لینا اور طلباء کو درپیش دیرینہ مسائل کا فوری حل نکالنا تھا۔دورے کےموقع پر ڈپٹی کمشنر نے لائبریرین سے ملاقات کی۔ لائبریرین نے انہیں ادارے کی مجموعی صورتحال، کتب کی دستیابی اور انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی نے لائبریری کے تمام سیکشنز کا خود معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں موجود مطالعہ میں مصروف طلباء سے براہ راست بات چیت کی اور ان کے مسائل سنے۔ طلباء نے لائبریری میں پینے کے صاف پانی کی کمی۔پرانا اور ناکافی فرنیچر۔انٹرنیٹ (Wi-Fi) کی عدم دستیابی یا سست رفتار اورواش رومز کی ابتر صورتحال کی نشاندہی کی۔طلباء کی شکایات سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے موقع پر ہی بنیادی مسائل حل کرنے کے احکامات جاری کیے انہوں نے کہا کہ لائبریری میں پانی کا مسئلہ فوری طور پر حل،طلباء کی تحقیق اور مطالعہ کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت ،لائبریری میں موجود واش رومز کی صفائی اور مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کا کہنا تھا کہ طلباء ہمارا مستقبل ہیں اور انہیں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ قائد اعظم لائبریری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ نوجوان پرسکون ماحول میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3227
ضلع چمن21اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ر عبدالخالق اچکزئی کے وژن کے مطابق بلوچستان میں ون ڈاکومنٹس رجیم کی پالیسی لاگو ہونے کے بعد چمن بارڈر سے منسلک نوجوانوں کی روزگار متاثر ہونے کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ چمن نے چمن کے بے روزگار نوجوانوں کیلئے چمن میں ایک ہنر مند پروگرام جس کو امید روزگار سنٹر چمن ڈسٹرکٹ چمن میں قائم کر دیا گیا ہے اس سنٹر میں نوجوانوں کو مختلف قسم کے ہنر سکھائے جائیں گے جوکہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انھیں خودکفیل بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے پاک افغان سرحد کشیدگی اور ون ڈاکومنٹس رجیم کی پالیسی کی وجہ سے چمن کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے ضلعی انتظامیہ چمن نے امید روزگار سنٹر چمن میں نوجوانوں کو باقاعدہ تربیت فراہم شروع کر دیا گیا ہے ان سنٹر میں میکینک سلائی مشین پلمبری اور دیگر چھوٹی چھوٹی کاروبار کے سامان فراہم کئے گئے اور تربیت بھی دی جائے گی اس خیالات کا اظہار آج اے ڈی سی چمن فدا بلوچ نے امید روزگار سنٹر کے دورے کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے حوالےسے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3228
ضلع چمن20اپریل:ـاے ڈی سی چمن فدا بلوچ نے چمن میں جاری ایف اے اور ایف ایس سی کی سالانہ امتحانات کے دوران گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چمن جمال ناصر شھید گراؤنڈ امتحانی سنٹر کا اچانک دورہ کر رہے ہیں ڈی سی چمن امتحانی سنٹر میں نقل کی روکھ تھام صفائی ستھرائی پانی اور امتحانی عملے کی کارکردگی اور امتحانی عمل کا باریک بینی سے جائزہ لے اور سٹوڈنٹس کی رولنمبر سلپس چیک کر رہےہیں.
خبر نامہ نمبر 2026/3229
قلعہ سیف اللہ 20اپریل:ـصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل و ریلیف کمشنر جہانزیب خان غوریزئی نے حالیہ ژالہ باری اور شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے جائزے کے لیے ضلع قلعہ سیف اللہ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔پیر کے روز ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غوری زئی نے ڈائریکٹر ریسکیو نوید احمد شیخ اور پی ڈی ایم اے ٹیم کے ہمراہ متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار نے انہیں نقصانات سے متعلق بریفنگ دی اور تباہ شدہ مکانات، باغات اور زرعی اراضی کا تفصیلی دورہ کرایا۔دورے کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبد الواسع سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں قدرتی آفت کے باعث زراعت خصوصاً باغات اور فصلوں کو پہنچنے والے شدید نقصان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹر مولانا عبد الواسع نے مقامی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے متاثرین کے لیے فوری امداد اور بحالی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ریلیف کمشنر جہانزیب خان غوری زئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر نقصانات کے تخمینے کا سروے جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد اور ان کی روزگار کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کا مقصد نقصانات کا جامع جائزہ لے کر مقامی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مؤثر امدادی اور بحالی حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *