خبرنامہ نمبر 6257/2026
کوئٹہ 18جولائی:گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبائی حکومت اور سانحہ زیارت کی دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کو سراہتے ہوئے اسے امن اور استحکام کی جانب ایک اہم اور مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ یہ پیشرفت صوبہ میں سیاسی استحکام، پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریگی۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ پولیٹیکل ڈائیلاگ اور باہمی افہام و تفہیم درحقیقت تصادم اور محاذ آرائی سے زیادہ موثر اور معتبر وسیلے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے امید ظاہر کی کہ کامیاب مذاکرات کے پیش نظر دیگر مراحل بھی خوش اسلوبی سے طے پا جائیں گے۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں سکیورٹی کے مسائل حل کرنے سے متعلق کامیاب مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جوڈیشل کمیشن شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے گا۔ متفقہ پالیسی کے تحت سانحہ زیارت کے شہداء کو سرکاری طور پر شہید قرار دیکر ان کے اہل خانہ کو امداد دی جائیگی جن میں شہداء کے بچوں کیلئے تعلیمی انتظامات، مالی معاوضہ اور دیگر حقوق بھی شامل ہیں۔ علاؤہ ازیں مختلف سرکاری عمارتوں کو شہداء کی قربانیوں کے اعزاز میں منسوب کیا جائے گا۔ ریونیو سے متعلق عوامی تحفظات کے ازالے کیلئے وزیر ریونیو کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان، مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور خاص طور پر شہداء کے سوگوار خاندانوں کو ان کے صبر، دانشمندی اور بلند عزم پر خراج تحسین پیش کیا۔ اسطرح اب پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو چکا ہے جس سے ناخوشگوار واقعات اور اختلافات کو باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے حل کرنے کی جمہوری روایت مزید مستحکم ہوئی ہے۔
خبرنامہ نمبر 6258/2026
اسلام آباد، 18 جولائی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو صوبے کی موجودہ انتظامی و سیاسی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زیارت سانحے کے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی اور ان کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے حکومت نے بھرپور اقدامات کیے ہیں، جبکہ لواحقین کے مطالبے پر سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جلد آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں پارلیمان کے اندر موجود سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پارلیمان سے باہر سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ دہشت گردی اور امن و استحکام کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کی حالیہ لہر میں شہید ہونے والے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کرتا ہوں اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے زیارت سانحے کے لواحقین کے دکھوں کے ازالے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس مشکل صورتحال میں مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے مذاکراتی عمل کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سیاسی مکالمے میں ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ بامقصد ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے، خواہ وہ حکومت میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں, انہوں نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کا مؤقف پہلے دن سے واضح اور غیر متزلزل ہے، اور پارٹی دہشت گردی کے ناسور کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ریاستی اداروں اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
خبرنامہ نمبر 6259/2026
گوادر18 جولائی :علاقائی بحری صورتحال اور جاری کشیدگی کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں ایک اور ٹرانس شپمنٹ جہاز نے بندرگاہ پر لنگر انداز ہو کر کارگو کی ہینڈلنگ شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق 18 جولائی کو بنگلہ دیشی پرچم بردار جہاز M/V JAHAN BROTHERS II گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز سنگاپور سے گوادر پہنچا ہے اور اس پر 53,064.660 میٹرک ٹن پرائم اسٹیل بلیٹس موجود ہیں۔ مذکورہ کارگو کی منزل متحدہ عرب امارات کی الحمریہ پورٹ ہے۔ کارگو کو گوادر پورٹ پر عارضی طور پر اتار کر ذخیرہ کیا جائے گا، جس کے بعد اسے دوسرے جہاز پر دوبارہ لوڈ کرکے متحدہ عرب امارات روانہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ موجودہ علاقائی بحری صورتحال کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل پاکستان کی بندرگاہی صلاحیتوں اور بحری شعبے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں اضافہ گوادر پورٹ کے اسٹریٹجک محلِ وقوع اور خطے میں ایک اہم متبادل تجارتی راستے کے طور پر اس کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان بندرگاہی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے، بین الاقوامی شپنگ لائنز کو سہولیات فراہم کرنے اور علاقائی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کہا کہ موجودہ علاقائی بحری صورتحال کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی اور بندرگاہی سرگرمیوں کا جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بندرگاہ خطے میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور مؤثر تجارتی مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتیں ثابت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس شپمنٹ کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ سے بین الاقوامی شپنگ لائنز کا گوادر پورٹ پر اعتماد مزید مضبوط ہو رہا ہے، جبکہ بندرگاہ علاقائی تجارت کے تسلسل اور متبادل تجارتی راستے کے طور پر اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ بندرگاہی آپریشنز کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے اور علاقائی تجارت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ گوادر پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیت اور بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے
خبرنامہ نمبر 6260/2026
سکھر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور ارسا قوانین کے تحت بلوچستان کو زرعی پانی کے جائز حصے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کی قیادت میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد خان کھوسہ، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان لہڑی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ نے سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں کمشنر سکھر ڈویژن عابد سلیم قریشی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سندھ ایریگیشن حکام نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر بلوچستان کو اس کے مقررہ حصے کے مطابق پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان کی نہروں میں اس وقت پانی کی شدید قلت ہے اور بوائی کے اہم مرحلے پر کاشتکاروں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دریائے سندھ میں پانی کی مجموعی کمی بھی ہو تب بھی ارسا قوانین کے مطابق بلوچستان کو اس کے مکمل اور جائز حصے کا پانی فراہم کرنا سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، جس کے حصول کے لیے بلوچستان حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی سب ڈویژنل آفیسران امان اللہ گاجانی اور حاجی ممتاز علی سومرو بھی اس موقع پر موجود تھے۔
خبرنامہ نمبر 6261/2026
کوئٹہ: 18 جولائی:بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے سانحہ زیارت کمیٹی اور حکومتی وفد کے مابین مذاکرات کی کامیابی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ سانحہ زیارت کے دلخراش واقعے میں ہمارے پولیس کے افسران اور جوانوں کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شعبان میں دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کے لیے جو کارروائی شروع کی ہے، اس سے علاقے میں جلد ہی امن و خوشحالی کا سورج طلوع ہوگا۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ جمہوری طرزِ عمل کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن ہے۔ حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی نے گفت و شنید کے ذریعے اس اہم مسئلے کا حل نکالا۔ یہ مثبت جمہوری عمل صوبے میں افہام و تفہیم کی سیاست کو فروغ دینے اور قیام امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کو دوام بخشے معاون کردار ادا گا۔ صوبائی وزیر نے تمام شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئےکہا کہ اللّٰہ پاک تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
خبرنامہ نمبر 6263/2026
جعفرآباد: پارلیمانی سیکریٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی انجینئر عبدالمجید بادینی نے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے ہمراہ ضلع جعفرآباد میں مختلف ذیلی کینالز کا دورہ کرکے پانی کی ترسیل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر محکمہ ایریگیشن مراد بخش مری بھی موجود تھے،جنہوں نے پانی کی موجودہ صورتحال، نہروں میں بہاؤ اور کاشتکاروں کو پانی کی فراہمی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی انجینئر عبدالمجید بادینی اور ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت کی کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ٹیل کے کاشتکاروں تک ذرعی پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ کاشتکاروں کو ان کے مقررہ حصے کے مطابق پانی کی بروقت فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کے تحفظ اور کسانوں کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔اس وقت جعفرآباد کے ٹیل کے کاشتکاروں کو ذرعی پانی کمی کی وجہ سے شخت مشکلات درپیش ارہی ہیں جس کا تدارک ہونا انتہائی ضروری عمل ہے۔
خبرنامہ نمبر 6264/2026
کوئٹہ: الحمد اسلامک یونیورسٹی کوئٹہ میں کشمیر کی تاریخ، ثقافت اور عصری مسائل کے عنوان سے ایک شاندار علمی مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچستان بھر کی مختلف جامعات، کالجز اور اسکولوں کے طلباء و طالبات نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی پروگرام کا مقصد نوجوان نسل میں مسئلہ کشمیر کی تاریخ، ثقافتی اہمیت اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے شعور، آگاہی اور تحقیقی سوچ کو فروغ دینا تھا تقریب کی مہمان خصوصی سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق تھی اس موقع پر اساتذہ کرام، مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، طلباء و طالبات اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی علمی مقابلے کے دوران شرکاء سے کشمیر کی تاریخ، ثقافت اور عصری مسائل سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے، جن کے طلباء و طالبات نے اعتماد، معلومات اور بہترین انداز میں جوابات دیئے مقابلے کے مختلف مراحل کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد فائنل راؤنڈ میں الحمد ڈی این این کوئٹہ اور نساء انسٹیٹیوٹ کوئٹہ کی طالبات پہنچیں سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے کے بعد الحمد ڈی این این کوئٹہ کی طالبات نے پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے چیمپئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا، جبکہ نساء انسٹیٹیوٹ کوئٹہ کے طالبات نے رنر اپ کی حیثیت حاصل کی مقابلے کے ججز کے فرائض سید رحیم شاہ (اینکر پرسن، پاکستان ٹیلی ویژن)، زنیرہ درانی (نیشنل ٹرینر) اور منیر خٹک (سینئر لیکچرار، لاء کالج کوئٹہ) نے انجام دیے، جنہوں نے شفاف اور منصفانہ انداز میں شرکاء کی کارکردگی کا جائزہ لیا مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلۂ کشمیر صرف ایک خطے کا نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی ضمیر کا مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو کشمیر کی تاریخ، ثقافت اور موجودہ حالات سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ حقائق کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور دنیا تک کشمیری عوام کی آواز مؤثر انداز میں پہنچا سکیں انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ تعلیمی ادارے ایسے علمی اور فکری پروگراموں کے ذریعے طلباء میں تحقیق، تنقیدی سوچ اور قومی شعور کو فروغ دیتے رہیں گے تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی روبینہ مشتاق نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات میں ٹرافیاں، اسناد (سرٹیفکیٹس) اور نقد انعامات تقسیم کیے، جبکہ فائنل راؤنڈ میں پہنچنے والی دونوں انسٹیٹیوٹ کے طالبات کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی علمی صلاحیتوں کو سراہا شرکاء نے اس علمی مقابلے کو نہایت معلوماتی، مؤثر اور نوجوانوں میں مسئلۂ کشمیر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ایک کامیاب کاوش قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی علمی سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر6265/2026
سنجاوی18جولائی: اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی، مرمن کاکڑ نے کہا ہے کہ کسی کو بھی مستحق خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے یا انہیں ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی رقوم میں غیرقانونی کٹوتی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق، مستحق خواتین کی جانب سے زائد رقم وصول کرنے اور غیرقانونی کٹوتیوں سے متعلق موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے بی آئی ایس پی ادائیگی مرکز کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ادائیگی کے عمل، انتظامی امور اورمستحقین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔مرمن کاکڑ نے ادائیگی کے لیے آنے والی خواتین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ادائیگیوں، عملے کے رویے اور درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر مستحق خاتون کو اس کی مکمل رقم بلا تاخیر اور بغیر کسی کٹوتی کے فراہم کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے ساتھ عزت، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی ایجنٹ یا اہلکار غیرقانونی کٹوتی، مستحقین کے استحصال یا خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے ادائیگی مرکز میں شفافیت برقرار رکھنے، مناسب بیٹھنے کے انتظامات، صاف پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ مستحق خواتین کے حقوق کے تحفظ اور بی آئی ایس پی رقوم کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے اچانک معائنے اور مؤثر نگرانی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر6266/2026
چمن 18جولائی:وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی وطن واپسی کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ضلع چمن میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا ہے۔ شہر بھر میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے مختلف داخلی و خارجی راستوں، شاہراہوں اور حساس مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں، جبکہ شناختی دستاویزات کی جانچ اور سرچ آپریشن بھی جاری ہیں۔کارروائیوں کے دوران غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کے بعد بابِ دوستی کے راستے افغانستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ چمن کے مطابق یہ کارروائیاں وفاقی حکومت کی پالیسی اور قانون کے مطابق جاری ہیں، جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کو یقینی بنانا، امن و امان برقرار رکھنا اور سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک یا غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔
خبرنامہ نمبر6267/2026
لورالائی: سانحہ ریارت میں وطن پر قربان ہونے والے اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کے بہادر جوان شہید جانداد خان شبوزئی کی نمازِ جنازہ لورالائی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ، ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر مختیار، اعلیٰ سول و عسکری حکام، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، انجمن تاجران کے نمائندوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر شہید کے جسدِ خاکی کو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جبکہ سول و عسکری قیادت نے شہید کے تابوت پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔ شرکاء نے شہید کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور ملک میں پائیدار امن کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔نمازِ جنازہ کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ شہداء قوم کا سرمایہ اور وطن کا فخر ہیں، جن کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہید جانداد خان شبوزئی نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بہادری، فرض شناسی اور حب الوطنی کی روشن مثال قائم کی ہے۔سول و عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ریاست دشمن قوتوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔حکام نے کہا کہ سانحہ ریارت جیسے افسوسناک واقعات قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ ایسی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔شرکاء نے اس موقع پر شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر6268/2026
سنجاوی 18جولائی:اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی میرمن کاکڑ نے بی آئی ایس پی ادائیگی مرکز کا اچانک دورہ کیا اور موقع پر انتظامات، ادائیگیوں کے عمل اور مستحقین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز میں موجود مستحق خواتین سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، ادائیگیوں کے طریقہ کار، رقم کی وصولی، عملے کے رویے اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے خواتین کو یقین دلایا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی رقم ان کا حق ہے اور اس حق میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر میرمن کاکڑ نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ ہر مستحق خاتون کو اس کی مکمل امدادی رقم بلاکسی کٹوتی اور بلاکسی رکاوٹ ادا کی جائے، جبکہ خواتین کے ساتھ عزت، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہر اہلکار کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مستحق خاتون کی حق تلفی یا اسے ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ غریب اور مستحق افراد کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کسی شخص، ایجنٹ یا اہلکار کے خلاف زائد رقم وصول کرنے یا مستحقین کو تنگ کرنے کی شکایت درست ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ بی آئی ایس پی مرکز میں شفافیت، نظم و ضبط، صاف ستھرے ماحول، خواتین کے لیے مناسب بیٹھنے کے انتظام، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ مستحق خواتین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی خدمت، شفافیت، احتساب اور مستحق افراد کے حقوق کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں اچانک دوروں اور مؤثر نگرانی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ان کا حق بلاکسی رکاوٹ اور مکمل طور پر مل سکے۔
خبرنامہ نمبر6269/2026
حب: گڈانی بیچ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں لاپتہ ہونے والے پانچویں بچے کی لاش ضلعی انتظامیہ حب نے ایک مشترکہ سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کے دوران برآمد کر لی ہے۔ اس سے قبل اسی واقعہ میں ضلعی انتظامیہ کے لائف گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار بچوں کو بحفاظت ریسکیو کیا تھا، جس سے قیمتی جانیں بچائی گئیں۔پانچویں بچے کی تلاش اور برآمدگی کے لیے جاری آپریشن پاک بحریہ، پاک فوج، ضلعی انتظامیہ حب اور میونسپل کمیٹی کی مشترکہ کاوشوں سے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ تمام اداروں کے باہمی تعاون اور مؤثر حکمت عملی کے باعث سرچ آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ضلعی انتظامیہ اس المناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت پیش کرتی ہے۔ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔شہریوں خصوصاً والدین سے ایک بار پھر اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کریں اور انہیں ساحلی علاقوں میں غیر محفوظ مقامات پر جانے سے روکیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 6270/2026
خضدار18 جولائی: میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرازق ساسولی اور انجینئر ظہور احمد زہری کے ہمراہ ریڈیو اسٹیشن کے علاقے کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں مخیر شخصیت حاجی مہران و فرزندان کی جانب سے خضدار کے عوام کے لیے قبرستان کی غرض سے وقف کی گئی 30 ایکڑ اراضی کا جائزہ لیا گیا۔دورے کے دوران میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی، ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرازق ساسولی اور دیگر متعلقہ حکام نے وقف کی گئی اراضی کا معائنہ کیا اور باقاعدہ طور پر اس مقام پر قبرستان کے لیے مختص زمین کے بورڈ نصب کیے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے باہمی تعاون سے اقدامات جاری رکھیں گے۔میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی نے حاجی مہران و فرزندان کے اس عوام دوست اور فلاحی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ قبرستان کے لیے 30 ایکڑ اراضی وقف کرنا ایک عظیم سماجی خدمت ہے، جس سے خضدار کے شہریوں کو طویل عرصے تک فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میونسپل کارپوریشن خضدار میری نگرانی میں جلد از جلد اس وقف شدہ اراضی کے گرد حفاظتی باؤنڈری وال تعمیر کرے گی تاکہ اس قومی و عوامی اثاثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں قبرستان کی باقاعدہ ترقی و انتظام کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔_آخر میں خضدار کے عوامی، سماجی اور شہری حلقوں نے قبرستان کے لیے زمین وقف کرنے کے اس فلاحی اقدام کو عملی شکل دینے، موقع کا دورہ کرنے اور آئندہ ترقیاتی اقدامات کے اعلان پر میئر خضدار میر محمد آصف جمالدینی، ڈپٹی کمشنر عبدالرازق ساسولی، انجینئر ظہور احمد زہری اور مخیر شخصیت حاجی مہران و فرزندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے عوامی مفاد میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا۔اس موقع پر کونسلر نصیر احمد بزنجو و دیگر پارٹی رہنماء میئر خضدار کے ہمراہ تھے۔







