18th-April-2026

خبرنامہ نمبر3160/2026
کوئٹہ، 18 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے یہاں پاکستان نیول وار کالج کے 55ویں تربیتی کورس کے شرکاء نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے ملک میں قیامِ امن، استحکام اور قومی سلامتی کے فروغ کے لیے وزیر اعظم پاکستان کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پیشہ ورانہ و قائدانہ کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سول و عسکری قیادت کے مؤثر اشتراک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کے دفاعی و اسٹریٹجک وژن کو مزید مضبوط، واضح اور ہمہ جہت بنایا ہے ملاقات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نیول وار کورس کے شرکاء سے صوبے کی مجموعی سیاسی، سیکیورٹی اور سماجی و معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور تاریخی حوالوں سے گفتگو کی اس موقع پر انہوں نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے قومی و عسکری قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کو ملکی استحکام کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ درپیش چیلنجز کے باوجود ملک کا دفاعی اور اسٹریٹجک وژن مضبوط اور واضح ہے وزیر اعلیٰ نے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور جیو اسٹریٹیجک اہمیت کے تناظر میں بلوچستان کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پاکستان کے مستقبل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے انہوں کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سول و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے اور اسی اشتراک کے تحت ہم آگے بڑھ رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے غیر متوازن ترقی کو تشدد کی وجہ قرار دینا درست تجزیہ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض عناصر ریاست کو غیر مستحکم کرنے کے لیے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کر رہے ہیں انہوں نے نشاندہی کی کہ بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم ریاست ان تمام سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت ان کا مقابلہ کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بلوچستان حکومت نے مکمل ذمہ داری کے ساتھ اون کیا ہے اور اس سلسلے میں ادارہ جاتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 40 ارب روپے جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید 10 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں کو ریاست کا سب سے اہم سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کا محور نوجوان ہیں اور ان کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے میرٹ، شفافیت اور ہر سطح پر بامقصد ڈائیلاگ کو فروغ دیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کی ہر جامعہ اور ہر فورم پر نوجوانوں کو سنا جا رہا ہے تاکہ ان کے مسائل کو سمجھ کر مؤثر حل فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک جامع یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، انہیں مواقع فراہم کرنے اور ترقی کے عمل میں شریک کرنے کا عملی فریم ورک دیا گیا ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ نوجوان جو کسی قسم کے گلے شکوے رکھتے ہیں انہیں سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے ان کے تحفظات و شکایات کا ازالہ کیا جائے گا اور انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مؤثر حکمت عملی، میرٹوکریسی اور نوجوانوں کے ساتھ مسلسل مکالمے کے ذریعے بلوچستان کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رکھے گی انہوں نے کہا کہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر3161/2026
کراچی، 17 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان کو سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے، بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ(BBoIT) کے زیر اہتمام، چینی قونصل خانہ کراچی،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور پاک چین اقتصادی تعاون کونسل کے اشتراک سے چینی قونصل خانہ کراچی میں ”بلوچستان پاکستان کے معاشی مستقبل کی سمت“کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے اپنے خطاب میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالی اور کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ بلوچستان کی معاشی ترقی کو نئی رفتار دی جا سکے۔سیمینار سے خطاب میں چین کے قونصل جنرل ”یانگ یون ڈونگ“ نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر پاک چین اقتصادی تعاون کونسل PCECC))کے صدر بایزید کاسی نے پاکستان اور چین کے مضبوط معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT)کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں بلوچستان کو صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے اگلا اہم مرکز قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان تبدیل ہو رہا ہے، سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہے ہیں،انہوں نے پاکستان اور چین کے تجارتی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین،پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر،پاک چین اقتصادی تعاون کونسل کے نائب صدر میر محمد امید بلوچ،سیکرٹری جنرل رائے لوو نے اپنے خیالات کا اظہار کیااور پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کے مزید فروغ اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا،انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری جامع معاشی ترقی اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔اس موقع پربلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے واجد حبیب نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع پر تفصیلی جائزہ پیش کیا، جس میں معدنیات، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی سہولیات کے شعبوں میں موجود امکانات کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے قدرتی حسن، کاروباری سہولت مرکز، اور معدنی وسائل پر مبنی معلوماتی دستاویزی فلمیں بھی پیش کی گئیں۔سیمینار میں رکن بلوچستان اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علاؤالدین مری، کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے صدرحاجی ایوب مریانی سمیت سرکاری حکام، سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،یہ تقریب بلوچستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے ایک اہم مرکز کے طور پر اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔

خبرنامہ نمبر3162/2026
لورالائی:18اپریل 2026 ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ گزشتہ روز منعقدہ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایم ڈی ڈی کے انجینئر گل محمد خان خروٹی نے کٹوی ندی، لغی اور مرتت کے علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر کام مکمل کیا۔تفصیلات کے مطابق ندی کے اندر بننے والی غیر ہموار سڑک اور رکاوٹوں کو ہٹا کر سیلابی پانی کے بہاؤ کو آبادی سے دور موڑ کر دوبارہ ندی کے قدرتی راستے کی جانب بحال کر دیا گیا ہے، جس سے ممکنہ سیلابی خطرات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف قریبی آبادی کو تحفظ فراہم ہوگا بلکہ نکاسی آب کے نظام میں بھی بہتری آئے گی۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ کی اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ بھی ایسے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر شہر کے دیگر ندی نالوں اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے بھی سروے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حساس مقامات کی نشاندہی کر کے وہاں فوری بنیادوں پر صفائی اور بحالی کے کام کیے جائیں گے تاکہ مون سون سیزن کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر3163/2026
ژوب18اپریل2026 کمشنر ژوب ڈویژن آصف علی فرخ نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک کا شعبہ ملکی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس کی ترقی نہ صرف دیہی معیشت کو مستحکم بناتی ہے بلکہ غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ڈیری اور پولٹری فارمز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور عوام کو براہِ راست فائدہ یقینی بنایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ لائیو سٹاک کے ضلعی دفاتر اور فارمز کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس دوران انہوں نے ڈیری اور پولٹری فارمز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر علاوالدین اور ڈپٹی ڈائریکٹر پولٹری فارم ڈاکٹر محمد طاہر مندوخیل نے کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی، درپیش مسائل، دستیاب وسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وسائل کی کمی، جدید سہولیات کا فقدان اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے مسائل کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں، تاہم بہتری کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔کمشنر نے ڈیری فارم میں مویشیوں کی صحت، خوراک، صفائی کے انتظامات اور دودھ کی پیداوار کا جائزہ لیا، جبکہ پولٹری فارم میں افزائش نسل، ویکسینیشن اور حفظانِ صحت کے اقدامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے بعض شعبوں میں اطمینان کا اظہار کیا، تاہم مجموعی نظام میں مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ مویشی پال حضرات کو جدید طریقہ کار، بیماریوں سے بچاؤ، ویکسینیشن اور بہتر افزائش نسل کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار اور آمدن میں اضافہ کر سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت لائیو سٹاک کے شعبے میں اصلاحات اور سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔کمشنر نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں چھوٹے کسانوں اور مویشی پال افراد کی معاونت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں گے، جن کے تحت مفت ویکسینیشن، موبائل ویٹرنری سروسز اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک ژوب ڈویژن میں بہتری کے لیے جلد نئی اسکیمیں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جن میں جدید ڈیری ٹیکنالوجی کا فروغ، پولٹری انڈسٹری کی ترقی اور مویشیوں کی بہتر نسل کشی کے منصوبے شامل ہیں۔

خبرنامہ نمبر3164/2026
شیرانی18 اپریل 2026ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا ایک اہم اور تفصیلی اجلاس ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحت کے شعبے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سیف الدین بگٹی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبداللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر شیرانی حبیب الرحمان ناصر سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ضلع بھر کے بنیادی مراکز صحت (BHU)، دیہی مراکز صحت (RHC) اور ضلعی ہسپتال کی کارکردگی پر جامع بریفنگ دی۔ بریفنگ میں طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، لیبارٹری سہولیات، حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) پروگرام اور ایمرجنسی سروسز سے متعلق تفصیلات پیش کی گئیں۔اجلاس کے دوران صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری یقینی بنانے، ادویات کی بلا تعطل فراہمی، زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات میں بہتری، ویکسینیشن مہم کی کارکردگی، ہسپتالوں میں صفائی کے نظام اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی رسائی جیسے اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے ہدایت جاری کی کہ تمام طبی مراکز میں عملے کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کسی بھی مرکز میں ادویات کی کمی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضروری ادویات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ہسپتالوں میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانے اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر شیرانی حبیب الرحمان ناصر نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ محکمہ صحت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ انجام دیں اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

خبرنامہ نمبر3165/2026
شیرانی18 اپریل 2026ڈپٹی کمشنر، حضرت ولی کاکڑ کی زیرِ صدارت BSDI پراجیکٹ کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں BSDI انسپیکشن ٹیم (PIU) کے ممبران، انجینئر نجیب اللہ اور انجینئر حافظ اللہ کے علاوہ ضلع بھر کے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں جاری منصوبے مجموعی طور پر مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت کر رہے ہیں، تاہم بعض منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ تمام محکمے باہمی رابطے اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنائیں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ BSDI پراجیکٹ ضلع کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، لہٰذا اس میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ انسپیکشن ٹیم کی سفارشات پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ جہاں بہتری کی گنجائش موجود ہو وہاں عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت، معیار اور احتساب کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔اجلاس کے بعد BSDI انسپیکشن ٹیم (PIU) کے ممبران، انجینئر نجیب اللہ اور انجینئر حافظ اللہ نے لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران کے ہمراہ ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انسپیکشن کے دوران ٹیم نے مختلف منصوبوں کی پیش رفت، معیارِ تعمیر اور عملدرآمد کے طریقہ کار کا بغور جائزہ لیا۔ PIU ٹیم نے مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ کی قیادت اور انتظامی اقدامات کو سراہا۔ٹیم نے ضلع بھر میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی تکمیل میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے کوششیں مزید تیز کی جائیں۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو فروغ دینے، منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنانے اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر3166/2026
وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر انٹرمیڈیٹ (ایف اے، ایف ایس سی) کے سالانہ امتحانات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لییاقدامات پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہیایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج قلات میں جاری امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا کالج پرنسپل پروفیسر شکیل بلوچ نے اے ڈی سی کو امتحانی سینٹرکا دورہ کرایااورسکیورٹی انتظامات سے متعلق آگاہ کیااامتحانی مرکز میں صرف ایک پولیس اہلکارکی موجود۔گی کانوٹس لیکرفوری طور پر ضلعی پولیس افسر سے رابطہ کیا اورامتحانی عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ نقل کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے اے ڈی سی شاہنواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اوروزیراعلی کی ہدایت پر امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے تاکہ حقدار طلبہ کی حوصلہ شکنی نہ ہو انہوں نے امتحانی مراکز کی حدود میں غیر متعلقہ افراد کے رش پر پابندی کی ہدایت کی اور سیکیورٹی اہلکاروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا

خبرنامہ نمبر3167/2026
دکی: 18اپریل 2026ڈپٹی کمشنر دکی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلعی سطح پر صحت کے نظام اور خدمات کی کارکردگی کا جامع جائزہ لیا گیا، اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ، ڈی ایم پی پی ایچ آئی قاہر خان درانی، ملیریا و ٹی بی کنٹرول پروگرامز کے نمائندگان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد، طبی عملے کی حاضری، فیلڈ وزٹس رپورٹس، نظم و ضبط سے متعلق امور اور ڈی ایچ کیو ہسپتال، آر ایچ سیز، بی ایچ یوز، سی ڈیز اور ایم سی ایچ مراکز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ عمودی صحت پروگرامز کی پیش رفت اور طبی سہولیات کی فعالیت کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا، ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں، انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی، اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ دی گئی ہدایات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کریں۔
خبرنامہ نمبر3168/2026
کوئٹہ، 18 اپریل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر شہر اور مضافات میں جاری انسداد پولیو مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ کے افسران نے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے انکاری والدین سے براہ راست ملاقاتیں کیں اور انہیں قائل کر کے رفیوزل کیسز کور کیے۔ مہم کے دوران گھر گھر جا کر والدین کے تحفظات دور کیے گئے اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ثنائاللہ اور تحصیلدار کریم بگٹی نے یو سی کوتوال اور کلی عمر میں جاری مہم کے دوران گھر گھر دورے کیے۔ انہوں نے والدین کو آگاہی دے کر ان کے خدشات ختم کیے اور موقع پر موجود رفیوزل بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔جبکہ تحصیلدار ہمایون خان کاکڑ نے پشتون آباد کے مختلف علاقوں میں پولیو سے انکار کرنے والے والدین کے گھروں کا دورہ کیا۔ انہوں نے والدین سے مؤثر بات چیت کرتے ہوئے پولیو ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کی اور ان کے تحفظات دور کیے۔ اس کے نتیجے میں متعدد رفیوزل کیسز کور کرتے ہوئے بچوں کو قطرے پلانے کو یقینی بنایا گیا اس کے علاوہ اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے سرہ غڑگئی اور ملحقہ علاقوں میں گھر گھر جا کر انکاری والدین سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے والدین کو پولیو ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کیا اور انہیں مطمئن کیا، جس کے بعد رفیوزل بچوں کو بھی کامیابی کے ساتھ قطرے پلا دیے گئے۔ اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے ویلی جیٹ، کلی جیو، شاہ جی چوک اور دیگر مقامات پر جاری پولیو مہم میں متحرک کردار ادا کیا۔ انہوں نے گھر گھر جا کر انکاری والدین سے مؤثر انداز میں بات چیت کی اور انہیں قائل کیا، جس کے نتیجے میں رفیوزل بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مکمل طور پر کور کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ہر گھر تک رسائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ افسران والدین کو آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ انہیں مطمئن کر رہے ہیں کہ پولیو ویکسین بچوں کو معذوری سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مہم کو مؤثر بنانے کے لیے انکاری کیسز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور یہ عمل مہم کے اختتام تک جاری رہے گا۔

خبرنامہ نمبر3169/2026
کوئٹہ 18اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار نے بی ایچ یو سرہ غڑگئی کا دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے مرکز صحت کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا جن میں سٹاف کی حاضری، ادویات کا اسٹاک، طبی مشینری، لیبارٹری اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔اس موقع پر انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت سہولیات کا جائزہ لیا اور موقع پر موجود عملے سے ملاقات کرکے درپیش مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔بی ایچ یو کو درپیش پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے اقدامات اٹھاے گئے تاکہ مریضوں اور عملے کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اسپیشل مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ صحت کے مراکز میں سہولیات کی فراہمی اور بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر3170/2026
استامحمد:صوبائی حکومت بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ استامحمد کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈگری کالج میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقائی معتبرین، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور تمام متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران نے بھرپور شرکت کی کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے شہر کو درپیش اہم مسائل جن میں سیوریج سسٹم کی ابتر صورتحال، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، مختلف پیٹرول پمپس پر غیر یکساں نرخ، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور دیگر شہری مشکلات شامل ہیں، کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے موقع پر موجود افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن مسائل کا حل ضلعی سطح پر ممکن ہے انہیں ترجیحی بنیادوں پر فوری طور پر حل کیا جائے جبکہ دیگر پیچیدہ نوعیت کے مسائل کو اعلیٰ حکام تک پہنچا کر ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام کے مسائل سننا اور ان کا بروقت حل نکالنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے اور کھلی کچہری کا مقصد شہریوں کو براہ راست موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلاجھجھک اپنے مسائل پیش کریں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر سنجیدہ ہے اور جلد مثبت تبدیلی کے لیے مؤثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر3171/2026
شیرانی18 اپریل 2026تعلیم کے فروغ کے لیے حالیہ داخلہ مہم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کا سہرا ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ کی مؤثر قیادت اور عملی اقدامات کو جاتا ہے۔ ان کی خصوصی دلچسپی اور نگرانی کے باعث نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں میں تیزی آئی بلکہ ادارہ جاتی کارکردگی میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے داخلہ مہم کے آغاز کے موقع پر واضح ہدایات جاری کیں کہ ضلع بھر میں کوئی بھی اسکول بند نہیں ہونا چاہیے اور اساتذہ کی غیر حاضری کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سخت مؤقف نے تعلیمی نظام میں نظم و ضبط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے پر مجبور کیا۔ان ہی کوششوں کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر احمد خان قریشی کو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی جانب سے تعریفی لیٹر سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز دراصل ضلع شیرانی میں داخلہ مہم کی کامیابی، تعلیمی معیار میں بہتری، اور انتظامی اقدامات کی مؤثریت کا اعتراف ہے۔داخلہ مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم نے مشترکہ طور پر گھر گھر جا کر والدین کو بچوں کے اسکول میں داخلے کی ترغیب دی۔ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے، بند اسکولوں کو فعال کرنے اور سہولیات کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچوں کا اسکولوں میں داخلہ ممکن ہوا، جو کہ ضلع کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔، ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مسلسل مانیٹرنگ اور فیلڈ وزٹس نے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس عمل نے نہ صرف اساتذہ بلکہ دیگر متعلقہ عملے میں بھی احساس ذمہ داری کو اجاگر کیا۔

خبرنامہ نمبر3172/2026
کراچی، 18 اپریل:بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT)کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے اگلا اہم مرکزہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان تبدیل ہو رہا ہے، سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ(BBoIT) کے زیر اہتمام، چینی قونصل خانہ کراچی،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور پاک چین اقتصادی تعاون کونسل کے اشتراک سے چینی قونصل خانہ کراچی میں ”بلوچستان پاکستان کے معاشی مستقبل کی سمت“کے عنوان سے سیمینارکے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل تھے۔ بلال خان کاکڑ نے پاکستان اور چین کے تجارتی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق بلوچستان کو سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے۔ سیمینار سے خطاب میں چین کے قونصل جنرل ”یانگ یون ڈونگ“ نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر پاک چین اقتصادی تعاون کونسل PCECC))کے صدر بایزید کاسی نے پاکستان اور چین کے مضبوط معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین،پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر،پاک چین اقتصادی تعاون کونسل کے نائب صدر میر محمد امید بلوچ،سیکرٹری جنرل رائے لوو نے اپنے خیالات کا اظہار کیااور پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کے مزید فروغ اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا،انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری جامع معاشی ترقی اور دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔بلوچستان سرمایہ کاری بورڈکے واجد حبیب نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع پر تفصیلی جائزہ پیش کیا، جس میں معدنیات، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی سہولیات کے شعبوں میں موجود امکانات کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے قدرتی حسن، کاروباری سہولت مرکز، اور معدنی وسائل پر مبنی معلوماتی دستاویزی فلمیں بھی پیش کی گئیں۔سیمینار میں رکن بلوچستان اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علاؤالدین مری، کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے صدرحاجی ایوب مریانی سمیت سرکاری حکام، سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،یہ تقریب بلوچستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے ایک اہم مرکز کے طور پر اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔

خبرنامہ نمبر3173/2026
صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی ہدایت پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHED) کی ٹیم نے آکرا ڈیم سے جیوانی جانے والی مین واٹر پائپ لائن میں پیدا ہونے والی لیکیج کو بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں مرمت کر دیا۔ صوبائی وزیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے PHED کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور نقص کی نشاندہی کے بعد مرمتی کام کا آغاز کیا۔ ٹیم نے مسلسل دو راتوں اور ایک مکمل دن انتھک محنت کرتے ہوئے شدید مشکلات کے باوجود لیکیج کو کامیابی سے دور کر دیا۔حکام کے مطابق پائپ لائن کی بحالی کے بعد جیوانی، پشکان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال ہو گئی ہے اور معمول کے مطابق جاری ہے۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے بروقت کارروائی پر سیکریٹری PHED اور دیگر متعلقہ حکام و فیلڈ اسٹاف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور ذمہ داری سے کام کرنے کی بدولت مسئلہ کم وقت میں حل ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے اس موقع پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مجموعی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال محکمہ PHED نے کارکردگی کے لحاظ سے صوبے کے تمام محکموں میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جو اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر حکمت عملی کا ثبوت ہے۔ آکرا ڈیم کی حالیہ لیکیج کے معاملے میں بھی محکمہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 48 گھنٹوں کے اندر مرمتی کام مکمل کیا۔صوبائی وزیر نے آکرا ڈیم سے متعلق حالیہ ٹینڈرز کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم کی تعمیر، دیکھ بھال اور آپریشنل امور طویل عرصے سے محکمہ PHED کے زیر انتظام ہیں، تاہم حال ہی میں اس کی اپ لفٹنگ کے ٹینڈرز ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو دیے گئے ہیں، جو ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے

خبرنامہ نمبر 3174/2026
کراچی17 اپریل: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کو اقتصادی و تجارتی ہب میں تبدیل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم گوادر پورٹ کی تعمیر و فعالیت اور بوستان اکنامک زون میں خصوصی ترقیاتی اقدامات کے ساتھ مقامی تاجروں و صنعتکاروں کی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔ صوبے کے اندر گوادر سے لیکر ژوب تک تمام تاجروں اور صنعتکاروں کو ضروری سہولیات اور مواقع فراہم کر کے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ ممکن بنائیں گے۔ گورنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اس وژن کو حقیقت بنانے کیلئے مزید آسانیاں اور اضافی وسائل لاتے ہوئے وفاقی حکومت سے ہر ممکن تعاون حاصل کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں کے سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں چینی قونصلیٹ اور ملک و صوبے تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ مشترکہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ کی جانب سے گورنر بلوچستان اور دیگر مہمانان گرامی کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام کیا تھا۔ اس موقع پر چین کے صنعتکار و کاروباری حضرات، سابق نگران وزیراعلیٰ علاؤالدین مری، بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ اور صدر پاکستان چائنہ اکنامک اینڈ کلچرل کونسل بایزید کاسی سمیت کوئٹہ صنعت و تجارت کے نمائندے بھی مدعو تھے۔ چائنیز قونصلیٹ میں پاکستان ـ چائنا انویسٹمنٹ سیمینار 2026 کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ کی قیادت میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) نے صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الاقوامی اقتصادی روابط کے استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ دریں اثنا پاکستان-چائنا اکنامک اینڈ کلچرل کونسل (PCECC) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے واجد حبیب جبکہ پاکستان-چائنا اکنامک اینڈ کلچرل کونسل کی نمائندگی مسٹر رائے لو نے کی۔ اس معاہدے کے تحت PCECC کو چین سے متعلقہ امور کیلئے ایک مجاز رابطہ فورم کا درجہ دیا گیا ہے جس کے ذریعے تجارتی وفود کے تبادلے، بزنس ٹو بزنس روابط، اور مستقبل میں مشترکہ منصوبہ بندی کیلئے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کریگا۔ یہ شراکت داری بلوچستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اسطرح بوستان اسپیشل اکنامک زون (SEZ)، گوادر فری ٹریڈ زون، اور گوادر پورٹ جیسے اہم اقتصادی مراکز کی ترویج و ترقی میں بھی معاون ہوگی۔

خبرنامہ نمبر 3175/2026
محمکہ ایکسائز نے خفیہ اطلاع پراسپن چوک، کلی لقمان اور گرد و نواح میں غیر قانونی پوست کی کاشت کے خلاف ایک بھرپور مشترکہ آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصہ لیا اور بڑی کامیابی حاصل کی۔متعلقہ افسران نے کہا کہ انسدادِ منشیات فورس اے این ایف ایکسائز ڈیپارٹمنٹ، فرنٹیئر کور اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کیا آپریشن کے دوران جدید سہولیات جیسے ڈرون، سپرے مشینری اور ٹریکٹرز کا استعمال کیا گیا تاکہ کاشت کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جا سکے۔متعلقہ حکام نے کہا کہ تقریباً 103 ایکڑ پر پھیلی پوست کی غیر قانونی کاشت کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات کی کاشت کے خاتمے کے لیے ایسے آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 3176/2026
لورالائی -محمکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، انسدادِ منشیات فورس اے این ایف انٹیلیجنس بیورو آئی بی اور فرنٹیئر کور ایف سی کی مشترکہ نگرانی میں غیر قانونی پوست کی کاشت کے خلاف ایک مؤثر آپریشن کیا گیا۔یہ کارروائی پیٹو بٹوزئی قلعہ سیف اللہ کے دو مختلف مقامات پر کی گئی، جہاں مجموعی طور پر 30 ایکڑ غیر قانونی زیرِ کاشت رقبے کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔15 ایکڑ اراضی، جو غیر آباد تھی پر کاشت کی گئی پوست کی فصل کو تباہ کیا گیا۔دوسرے مقام پر بھی 15 ایکڑ رقبے پر مشتمل پوست کی فصل کو ختم کیا گیا۔آپریشن کےدوران معلوم ہوا کہ آبپاشی کے لیے سولر پینل ٹیوب ویل استعمال کیا جا رہا تھا،مشترکہ ٹیم نے فصل کو تلف کرنے کے لیے کراپس کٹر مشین، سپرے اور دیگر آلات استعمال کیےحکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات کے خاتمے کے لیے اس قسم کے آپریشنز جاری رہیں گے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 3177/2026
قلات خبرنامہ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کی خصوصی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثار احمد نورزئی نے ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل ثناء اللہ ثناء کے ہمراہ گورنمنٹ کالج آف ایلیمنٹری قلات اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول مغلزئی میں BSDI کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی دورہ کیا، انہوں نے جاری ترقیاتی اسکیمات کے کام کی رفتار اور تعمیرات میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار کا بھی جائزہ لیا اس موقع پر ایلیمنٹری کالج میں ٹھیکدار میر ابرار ملازئی نے جاری کاموں کے حوالے تفصیلی بریفننگ دی کالج ہذا میں تعمیر مرمت کے کام رنگ روغن اور دیگر کاموں کا بغور جائزہ لیا گیا۔

خبرنامہ نمبر 3178/2026
کوئٹہ 18اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے وحدت کالونی میں درپیش پانی کے مسائل پر عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع پر دورہ کیا۔اس موقع پر ان نے اسسٹنٹ کمشنر سٹی، ایکسین پی ایچ ای اور تحصیلدار سٹی کے ہمراہ بروری روڈ، وحدت کالونی اور لہڑی آباد کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دورے کے دوران علاقے کے مکینوں سے براہ راست ملاقات کی گئی، ان کے مسائل سنے گئے اور پانی کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ شہریوں نے پانی کی قلت کو دیرینہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے فوری حل کی درخواست کی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ پانی کے اس دیرینہ مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر انتظامی افسران کو واضح ٹاسک سونپتے ہوئے سختی سے عملدرآمد کی تاکید کی گئی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 3179/2026
محمکہ ایکسائز نے خفیہ اطلاع پراسپن چوک، کلی لقمان اور گرد و نواح میں غیر قانونی پوست کی کاشت کے خلاف ایک بھرپور مشترکہ آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصہ لیا اور بڑی کامیابی حاصل کی۔متعلقہ افسران نے کہا کہ انسدادِ منشیات فورس اے این ایف ایکسائز ڈیپارٹمنٹ، فرنٹیئر کور اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کیآپریشن کے دوران جدید سہولیات جیسے ڈرون، سپرے مشینری اور ٹریکٹرز کا استعمال کیا گیا تاکہ کاشت کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جا سکے۔متعلقہ حکام نے کہا کہ تقریباً 103 ایکڑ پر پھیلی پوست کی غیر قانونی کاشت کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں منشیات کی کاشت کے خاتمے کے لیے ایسے آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 3180/2026
گوادر: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ضلع بھر میں تعلیمی اداروں کی بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تدریسی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زراتون بلوچ نے تحصیل جیوانی کے دور افتادہ علاقوں کا تفصیلی اور جامع دورہ کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گنز، کرگانی پیشکان، کنرکی پیشکان، جیوانی، پانوان اور روبار کرگوشکی جیوانی کے اسکولوں کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران تعلیمی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور اسکولوں میں دستیاب بنیادی سہولیات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ تدریسی معیار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے طلبہ کی ذہنی و تعلیمی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے، جبکہ اسکولوں میں نظم و ضبط، حاضری اور تعلیمی ماحول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر تحصیل جیوانی کے مڈل اسکولز کے ہیڈ ٹیچرز، یونین کونسلز کے چیئرمینز اور کونسلرز کا ایک اہم اور بامقصد اجلاس بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) گوادر نے کی۔ اجلاس میں تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز، انفراسٹرکچر کی کمی، اساتذہ کی دستیابی، پینے کے صاف پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم امور پر تفصیلی اور سنجیدہ غور و خوض کیا گیا۔منتخب عوامی نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اجاگر کیے اور تعلیمی بہتری کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور محکمہ تعلیم مؤثر مانیٹرنگ اور فیلڈ وزٹس کے ذریعے تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری یقینی بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق تعلیم کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو بھی شہری علاقوں کے برابر معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے، جس کی تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور مقامی منتخب نمائندگان کے باہمی اشتراک سے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط، فعال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا تاکہ ہر بچے کو معیاری، یکساں اور بامقصد تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔آخر میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے مقامی عوامی نمائندوں، بالخصوص یونین کونسلز کے چیئرمینز اور کونسلرز کا شکریہ ادا کیا اور اس امر کو سراہا کہ وہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے بھرپور تعاون کر رہے ہیں، جو کہ ایک مثبت اور روشن تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *