خبرنامہ نمبر4113/2026
کوئٹہ، 17 مئی:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو جدید ڈیجیٹل نظام، شفاف حکمرانی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنا کر ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا جا رہا ہے صوبائی حکومت نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور حکومتی امور میں شفافیت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی نظام ترقی، معیشت اور گورننس کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور ای گورننس اصلاحات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے کی پہلی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026 متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد جدید ابلاغی نظام کو فروغ دینا، نوجوانوں کو ڈیجیٹل شعبے میں مواقع فراہم کرنا اور مثبت معلوماتی ماحول کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید بھرتی نظام کے ذریعے میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کو مضبوط بنایا گیا ہے، جبکہ آئی ٹی پارکس، یوتھ آئی ٹی پروگرامز اور ڈیجیٹل اسکلز منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ روٹ 164 بس سروس کی ڈیجیٹلائزیشن، کلائمیٹ ٹیک منصوبے اور جدید عوامی فلاحی پروگرامز بلوچستان کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے کر صوبے کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوانوں کو ترقی کے مساوی مواقع، جدید سہولیات اور بہتر مستقبل کی فراہمی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی تاکہ بلوچستان کو ایک جدید، مستحکم اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار صوبہ بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر4114/2026
کوئٹہ، 17 مئی:عدالتِ عالیہ بلوچستان کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BDA) کے چیئرمین اور ڈائریکٹر کی تقرری و توسیع سے متعلق اہم آئینی درخواستوں نمبر 399 اور 535 آف 2025 کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔عدالت نے اپنے مشترکہ فیصلے میں قرار دیا کہ جواب دہندہ نمبر 5، جاوید خان، کو بطور ڈائریکٹر بی ڈی اے سروس میں توسیع اور بعد ازاں چیئرمین بی ڈی اے کی حیثیت سے تعیناتی بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1974 اور بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BPS-16 اور اوپر) سروس رولز 2024 کے منافی اور قانونی اختیار کے بغیر کی گئی۔عدالت کے مطابق جاوید خان 28 فروری 2025 کو ریٹائر ہو چکے تھے، تاہم حکومت بلوچستان نے 06 فروری 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں مزید تین سال کے لیے بطور ڈائریکٹر خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی اور بعد ازاں یکم مارچ 2025 کو انہیں چیئرمین بی ڈی اے مقرر کر دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ توسیع اور تقرری متعلقہ سروس رولز میں درج اہلیت، طریق? کار اور قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ رول 18 کے تحت کسی بھی ریٹائرڈ افسر کی دوبارہ ملازمت صرف غیر معمولی حالات میں، اتھارٹی کے مفاد اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پیشگی منظوری سے ممکن ہے، جبکہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ جاوید خان کی دوبارہ ملازمت ناگزیر تھی یا بورڈ نے پیشگی منظوری دی تھی۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ چیئرمین بی ڈی اے کا عہدہ قواعد کے مطابق صرف BCS/BSS کیڈر کے مساوی گریڈ کے حاضر سروس افسران میں سے پُر کیا جا سکتا ہے، جبکہ جواب دہندہ ریٹائرمنٹ کے بعد نہ تو حاضر سروس تھے اور نہ ہی متعلقہ کیڈر سے تعلق رکھتے تھے، لہٰذا ان کی تعیناتی قواعد کے صریح خلاف تھی۔بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عوامی عہدوں پر تقرریاں صرف قانون کے مطابق کی جا سکتی ہیں اور کسی بھی انتظامی یا سیاسی منظوری کے ذریعے قانونی قواعد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعد ازاں پیش کیے گئے بورڈ اجلاس کے منٹس میں خود جواب دہندہ نے اپنی تقرری کی توثیق کے اجلاس کی صدارت کی، جو شفافیت اور غیر جانبداری کے اصولوں کے منافی ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ غیر قانونی توسیع نے بی ڈی اے کے اہل افسران کے ترقی کے حق کو متاثر کیا اور قواعد کے تحت ان کے جائز قانونی حقوق سلب کیے گئے۔عدالت عالیہ بلوچستان نے اپنے فیصلے میں 06 فروری 2025 اور یکم مارچ 2025 کے تمام متعلقہ نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1974 اور سروس رولز 2024 کے مطابق فوری طور پر مستقل چیئرمین اور دیگر متعلقہ عہدوں پر تقرریاں عمل میں لائے۔عدالت نے موجودہ عہدے دار کو 24 گھنٹوں کے اندر چارج چھوڑنے کا بھی حکم دیا۔یہ تفصیلی فیصلہ عدالت کے اُس مختصر حکم نامے کی وجوہات پر مشتمل ہے جو پہلے ہی سنایا جا چکا تھا۔
خبرنامہ نمبر4115/2026
قلات:ضلعی محکمہ صحت قلات کی زیرنگرانی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت الابراہیم ٹرسٹ ہسپتال کراچی کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال قلات میں دو روزہ فری آئی کیمپ کا انعققد گیا فلاحی کیمپ کا افتتاح ایم ایس سول ہسپتال قلات ڈاکٹر نصراللہ لانگو اور جمعیت علمائے اسلام قلات کے رہنما طاہر مجید لہڑی نے مشترکہ طور پر کیا کیمپ کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم میں ڈاکٹر ستار، ڈاکٹر فخر الدین اور ڈاکٹر شاہ جہاں شامل تھے۔ قلات اور گردونواح کے مستحق مریضوں کے لیے اس دو روزہ فری آئی کیمپ میں مریضوں کیآنکھوں کامفت آپریشن آنکھوں کے لیے معیاری لینز کی مفت فراہمی یقینی بنائی گئی آء کیمپ کے پہلے دن 45 سرجریز کی گئیں،اور او پی ڈی میں 402 مرد و خواتین مریضوں کا علاج معائنہ کیا گیا آء کیمپ کے انعقاد کے موقع پر ایم ایس ڈاکٹر نصراللہ لانگو اور طاہر مجید لہڑی نے کہا کہ کیمپ کا مقصد غریب اور مستحق مریضوں کو ان کی دہلیز پر علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنا ہینہوں نے الابراہیم ٹرسٹ ہسپتال کراچی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے سینکڑوں مریض دوبارہ بینائی کے تحفے سے مستفید ہو سکیں گیانہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس فری کیمپ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
خبرنامہ نمبر4116/2026
قلات: بلوچستان کے شہرقلات میں چار روزہ پولیومہم کا افتتاح ہوگیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے بچوں کو قطرے پلاکر پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کردیا ڈی ایچ او ڈاکٹرانجم ضیاء ڈپٹی ڈی ایچ اوڈاکٹرمحمداقبال نورزئی پولیو فوکل پرسن وحید بلوچ ٹی ایس اے ڈبلیو ایچ او قلات عمیراحمد نے بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور فنگر مارکنگ کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرانجم ضیائنے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوچار روزہ پولیو مہم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ پولیو مہم 18مئی 2026 سے شروع ہوکر21مئی 2026 تک جاری رہیگا پورے ضلع کے 19 یونین کونسلز میں 40269 بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے جائیں گے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے کہاکہ پولیو ٹیمیں گھرگھر جاکر پانچ سال تک کیتمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں ایریا سپروائزرز ٹیموں کی اچھی طرع نگرانی کریں پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیئے والدین سیاسی سماجی کارکنان علماء کرام شعراء ادباء اور صحافی برادری اپنا مثبت کردار ادا کریں پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کا بنیادی مقصد ہے۔
خبرنامہ نمبر4117/2026
برشور۔۔۔ ڈپٹی کمشنر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامی امور کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں،اور بہت جلد ایک جوائنٹ ڈسٹرکٹ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا،جہاں تمام سرکاری محکمہ جات کے دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نئے قائم شدہ ضلع برشور میں سرکاری محکموں کی فوری منتقلی اور ملازمین کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پرانی سرکاری عمارات کے استعمال اور نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے جامع پلان کا اعلان کرتے ہوئے کیا، جبکہ انہوں نے دفاتر کے لیے مختص کردہ پرانی عمارات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ بھی کیا،اس موقع پر تمام ضلعی آفسران،محکمہ ریونیو (Revenue) اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کے نمائندوں سمیت قبائلی عمائدین بھی موجود تھے، ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے کہا کہ بجٹ کی بچت اور کام کی فوری شروعات کے لیے کسی بھی نجی عمارت کو کرائے پر نہیں لیا جائے گا،بلکہ پہلے سے موجودہ سرکاری وسائل کو ہی بروئے کار لایا جائے گا،انہوں نے ضلعی محکمہ مواصلات و تعمیرات کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ضلع میں موجود تمام غیر فعال،پرانی اور خالی سرکاری عمارات، مکانات، ریسٹ ہاؤسز اور دیگر موجود پرانے املاک کا فوری سروے کیا جائے،اور ان عمارات کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور تزئین و آرائش کرکے انہیں عارضی دفاتر اور ملازمین کی فوری رہائش کے لیے استعمال میں لایا جائے،تاکہ ضلعی امور بخوبی جاری رہیں اور کوئی تعطل پیدا نہ ہو،ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلع کے مرکزی مقام پر موجود پرانی عمارت میں ایک جدید ”جوائنٹ ڈسٹرکٹ سیکریٹریٹ” بنایا جائے گا جہاں تمام سرکاری محکموں کے دفاتر قائم ہوں گے،جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کے لیے تمام بنیادی سہولیات سے لیس ایک ”سرکاری رہائشی کالونی” کے لیے بھی اقدامات کئے گئے ہیں،تاکہ ملازمین کو اپنے فرائض کی آدائیگی میں رہائش کا کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو،ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کو پابند کیا ہے کہ وہ پرانی عمارات کی مرمت کے تخمینے اور نئی تعمیرات کے لیے پی سی ون (PC-1) ایک ہفتے کے اندر جمع کریں تاکہ صوبائی حکومت سے فنڈز کی فوری وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر4118/2026
: سبی / 17 مئی:وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات پر بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تیسرے مرحلے کے آغاز اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی سربراہی میں بابر کچھ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں بابر کچھ، بادرہ اور ملحقہ علاقوں کے عوام کی کثیر تعداد نے بھرپور شرکت کی اور اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔ اس موقع پر ونگ کمانڈر 136 ونگ لیفٹیننٹ کرنل احتشام، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔علاقہ مکینوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سبی کی تاریخ میں پہلی بار انتظامیہ کی جانب سے بابر کچھ جیسے دور افتادہ علاقے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جہاں نہ صرف عوامی مسائل سنے گئے بلکہ ان کے فوری حل کے لیے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیم، تمام ذیلی محکموں کے افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دشوار گزار راستوں اور دریا کے اندر سے ٹم ٹم کے ذریعے بابر کچھ پہنچے۔ راستہ انتہائی کٹھن ہونے کے باعث ٹم ٹم کا انتخاب کیا گیا۔کھلی کچہری کے دوران عوامی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری اقدامات کرتے ہوئے علاقے میں اسکول کے قیام، پروٹیکشن بند کی تعمیر، ٹیوب ویل بور کی سولرائزیشن، اور پولیس تھانے کے لیے دو نئے کمروں کی تعمیر کی منظوری دی۔عوام کی جانب سے شناختی کارڈز، ب فارم، ہوم سولر سسٹم اور دیگر بنیادی سہولیات کے مطالبات بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں، اس لیے ہوم سولر فراہم کیے جائیں تاکہ روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا ہو سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ ہوم سولر براہِ راست حکومتی فنڈنگ کے ذریعے فراہم نہیں کیے جا سکتے، تاہم اس اہم مسئلے کے حل کے لیے کسی این جی او کے ذریعے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا جائے گا تاکہ عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔شناختی کارڈز اور ب فارم کے اجرا کے حوالے سے بھی عوام نے مسائل بیان کیے، جس پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے نادرا کی ٹیم علاقے میں بھیجی جائے گی تاکہ مقامی لوگوں کے شناختی کارڈز اور دیگر ضروری دستاویزات کے اجرا کو یقینی بنایا جا سکے۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر4119/2026
سبی، 17 مئی:بچوں کو موذی مرض پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر) الیاس کبزئی نے بابر کچھ میں 18 مئی سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب میں لیفٹیننٹ کرنل احتشام، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ایم اینڈ ای آفیسر پی پی ایچ آئی لالہ صمد خان عثمانی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان، این اسٹاپ ڈاکٹر شہزادہ کامران، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد طارق، لیڈی ڈاکٹرز، میل ڈاکٹرز کی ٹیم، ڈی پی او صلاح الدین مری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور دیگر ذیلی محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر سبی نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر باقاعدہ مہم کا افتتاح کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ ضلع بھر، خصوصاً دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جس کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں اور کسی بھی علاقے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر محکمہ صحت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیو مہم کے دوران ضلع بھر میں پانچ سالسے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گی۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس مہم کے ذریعے بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنانے میں مؤثر پیش رفت حاصل ہوگی۔
خبرنامہ نمبر4120/2026
برشور۔17 مئی 2026.ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے پانچ سال تک کی عمر کے بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر ضلع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے ضلعی ناظم،پولیو نمائندگان و ورکرز اور انتظامی آفسران بھی موجود تھے،افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جس کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،انہوں نے واضع کیا کہ ضلعی انتظامیہ پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی،انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں،تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے،انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران موبائل ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی،جبکہ تعلیمی اداروں،بس اڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر بھی خصوصی ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ سکے،جبکہ اس دوران پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
خبرنامہ نمبر4121/2026
لورالائی17مئی2026 ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈی ایچ او ڈاکٹر مقبول احمد، ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر زرک، ڈاکٹر فرحان انجم سمیت محکمہ صحت کے افسران، پولیو ورکرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہر بچے کو اس بیماری سے محفوظ بنانا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ آنے والی نسل کو ہمیشہ کے لیے معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں ضلع کے شہری اور دور دراز علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی جبکہ ٹرانزٹ پوائنٹس، بس اڈوں اور داخلی و خارجی راستوں پر بھی خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ مہم کے دوران سو فیصد کوریج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈی ایچ او ڈاکٹر مقبول احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہم کے دوران ضلع بھر میں سینکڑوں ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیموں کی سکیورٹی اور نگرانی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ والدین میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں شعور بیداری مہم جاری ہے۔تقریب کے دوران مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ افتتاحی تقریب کے اختتام پر ملک سے پولیو کے مستقل خاتمے اور بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
خبرنامہ نمبر4122/2026
کوئٹہ 17 مئی چھٹا آل پاکستان چیف منسٹر بلوچستان گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے سلسلے میں خیبر افغان فٹبال کلب کوئٹہ اور ینگ سرکی فٹبال کلب کوئٹہ کے درمیان صادق شہید فٹبال گراؤنڈ مالی باغ کوئٹہ میں ایک شاندار اور سنسنی خیز میچ کھیلا گیا۔ میچ کے پہلے ہاف میں خیبر افغان فٹبال کلب کے مایہ ناز کھلاڑی سہراب نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو خوبصورت گول اسکور کیے اور اپنی ٹیم کو مضبوط برتری دلائی دوسرے ہاف میں ینگ سرکی فٹبال کلب نے بھرپور کوشش کرتے ہوئے ایک گول اسکور کیا، تاہم خیبر افغان فٹبال کلب نے اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے میچ ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیت لیا اور اگلے راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کر لیا میچ کے مہمانِ خصوصی محترم مشر عبد الودود تھے، جنہوں نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے تعارف حاصل کیا۔ اس موقع پر کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ فوٹو سیشن بھی منعقد ہوا شائقینِ فٹبال کی بڑی تعداد نے میچ میں دلچسپی لی اور کھلاڑیوں کے بہترین کھیل کو خوب سراہا۔ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے کامیاب میچ کے انعقاد پر تمام ٹیموں، آفیشلز اور تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر4123/2026
گوادر/پیشکان: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن، پائیدار ترقیاتی پالیسی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے عزم کے تحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ گوادر کی جانب سے پی ایس ڈی پی پروگرام کے تحت پیشکان میں جدید واٹر اسٹیشن کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس اہم منصوبے کا مقصد علاقے میں پینے کے صاف پانی کی مستقل اور مؤثر فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے عوام کو درپیش پانی کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل فراہم کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات اور ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مومن بلوچ کی نگرانی میں جاری اس ترقیاتی منصوبے کا دورہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ گوادر کے انجینئر ساجد سخی نے چیئرمین پیشکان جمیل آدم کے ہمراہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں، استعمال ہونے والے میٹریل، فنی معیار اور کام کی رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر انجینئر ساجد سخی نے متعلقہ ٹھیکیدار کو سختی سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے تمام تعمیراتی مراحل کو اعلیٰ معیار، شفافیت اور حکومتی تکنیکی اصولوں کے مطابق مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد اس اہم منصوبے سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے۔چیئرمین پیشکان جمیل آدم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واٹر اسٹیشن منصوبہ پیشکان اور گردونواح کے عوام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس کی تکمیل سے صاف پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور عوام کو درپیش مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ضلعی انتظامیہ گوادر اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگڈیپارٹمنٹ کی عوامی خدمت پر مبنی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے بھی جاری ترقیاتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ گوادر اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کو صحت مند اور بہتر طرزِ زندگی کی سہولیات بھی میسر آئیں گی، جو حکومت بلوچستان کے عوامی خدمت کے وژن کا عملی مظہر ہے۔ڈیپارٹمنٹ کی عوامی خدمت پر مبنی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان ساحلی علاقوں کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔علاقہ مکینوں نے بھی جاری ترقیاتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ گوادر اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کو صحت مند اور بہتر طرزِ زندگی کی سہولیات بھی میسر آئیں گی، جو حکومت بلوچستان کے عوامی خدمت کے وژن کا عملی مظہر ہے۔
خبرنامہ نمبر 4124/2026
کوئٹہ میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ایف اے او نے یورپی یونین کے تعاون سے خواتین کی معاشی خودمختاری، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار چراگاہی نظام کے فروغ کے لیے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی۔ یہ ورکشاپ 11 سے 15 مئی 2026 تک سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں جاری رہی۔ ورکشاپ کا انعقاد “انٹرنیشنل ایئر آف رینج لینڈز اینڈ پاسٹورلسٹس 2026” اور “انٹرنیشنل ایئر آف ویمن فارمرز” کے سلسلے میں کیا گیا، جس کا مقصد خواتین کو پائیدار چراگاہی نظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور گرین اکانومی سے متعلق جدید مہارتیں فراہم کرنا تھا۔ اس تربیتی پروگرام میں بلوچستان کے مختلف سرکاری محکموں، جامعات، غیر سرکاری تنظیموں، ماحولیاتی ماہرین اور خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ شرکاء میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات، محکمہ لائیو اسٹاک، محکمہ زراعت اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت مختلف اداروں کے نمائندگان شامل تھے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان سائرہ عطا نے کہا کہ دیہی خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضمن میں ایف اے او کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دے کر نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ دیہی معیشت کو بھی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ ایف اے او بلوچستان کے پروگرام کوآرڈینیٹر اور ہیڈ آف آفس ولید مہدی نے قدرتی وسائل کے مؤثر اور مربوط انتظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کا تحفظ اور دانشمندانہ استعمال چراگاہوں کی بحالی اور دیہی معیشت کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت مند چراگاہیں مویشی پالنے اور غذائی تحفظ کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کے ایڈیشنل سیکریٹری منیر احمد نے کہا کہ صوبے میں موجود جڑی بوٹیوں اور روایتی ماحولیاتی علم کو محفوظ بنا کر خواتین کے لیے گرین اکانومی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ورکشاپ کے دوران شرکاء کو نہ صرف کلاس روم تربیت فراہم کی گئی بلکہ فیلڈ وزٹس کے ذریعے عملی مشاہدہ بھی کروایا گیا۔ شرکاء نے انسٹیٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹسز کا دورہ کیا جہاں انہیں پانی کے تحفظ، مربوط فارمنگ سسٹم، کمپوسٹنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ دیہی ترقی کے ماڈلز سے آگاہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں، کرخسہ اسٹیٹ فاریسٹ اور دیگر مقامات کے دوروں کے دوران جنگلی حیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور ایکو ٹورازم پر بریفنگ دی گئی۔ تربیتی سیشنز میں پائیدار چراگاہی نظام، نرسری ڈویلپمنٹ، بائیو ڈائیورسٹی کنزرویشن، میڈیسنل پلانٹس، خواتین کی قیادت، کوآپریٹو ماڈلز اور کلائمٹ اسمارٹ روزگار جیسے اہم موضوعات شامل رہے۔ شرکاء نے تربیت کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے علاقوں میں ماحول دوست ترقی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولید مہدی نے شرکاء کو کامیابی سے تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ایف اے او بلوچستان میں خواتین کی قیادت میں ماحول دوست معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور چراگاہوں کے تحفظ کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے کہا کہ جامعات، سرکاری اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان مضبوط اشتراک سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ خواتین کی ترقی کے نئے در بھی کھولے جا سکتے ہیں۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور بلوچستان بھر میں پائیدار چراگاہی نظام اور خواتین کی گرین اکانومی میں شمولیت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 4125/2026
لورالائی 17مئی:پریس کلب میں انسداد پولیو مہم اور میڈیا کے کردار کے حوالے سے ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں محکمہ صحت کے حکام، صحافیوں، سوشل میڈیا نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد پولیو کے خاتمے کے لیے جاری حکومتی اقدامات کو مؤثر بنانے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مقبول احمد نے کہا کہ پولیو ورکرز سخت موسمی حالات اور دشوار گزار علاقوں میں خدمات انجام دے کر قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے اور میڈیا اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔اس موقع پر محمد ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف ہیں۔تقریب سے ایس ایم سلطان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ میڈیا عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سمیت تمام ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خلاف آگاہی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ پاکستان کو پولیو فری ملک بنایا جا سکے۔تقریب کے دوران مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، محکمہ صحت، میڈیا اور عوام کے باہمی تعاون سے پولیو جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔ آخر میں انسداد پولیو مہم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ورکرز اور میڈیا نمائندوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 4126/2026
تربت[17مئی 2026] یونیورسٹی آف تربت کے سنڈیکیٹ کا سولہواں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی اور مالی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ترجمان یونیورسٹی آف تربت کے مطابق سنڈیکیٹ ممبران نے اجلاس کی کارروائی میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی، مالی وسائل میں اضافے، گورننس و انتظامی امور میں بہتری اور تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے علاوہ طلبہ کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں کے منٹس کی توثیق سمیت سنڈیکیٹ کےفیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا اور ان کے حل کے لیے مختلف عملی اقدامات تجویز کیے گئے۔ترجمان کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
طلبہ اور علاقے کے نوجوانوں کی ڈیجیٹل اسکلز میں اضافہ کرنے کے لئے تربت یونیورسٹی ایک جامع پروگرام پر عمل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں تقرریوں، تبادلوں، تعیناتیوں، اپ گریڈیشنز اور ترقیوں سمیت تمام تدریسی و انتظامی معاملات میں میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایاجائے گااور تمام فیصلے یونیورسٹی ایکٹ اور مروجہ سروس رولز کے مطابق کیے جائیں گے تاکہ ادارے میں گورننس کو مزید موثر بنایا جا سکے اور معیاری تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے جس کا براہِ راست فائدہ طلبہ کو پہنچے گا۔وائس چانسلر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ جاتی نظم و نسق، مالی شفافیت اور طلبہ کے روشن مستقبل کویقینی بنانا یونیورسٹی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد طلبہ کو معیاری تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں۔اجلاس کے دوران سنڈیکیٹ ممبران نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھیوں کی گمشدگی کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرزور اپیل کی کہ ان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پرباحفاظت رہاکیاجائے۔اجلاس میں مختلف انتظامی، مالی اور پالیسی امور پر تفصیلی بحث و مباحثہ کیا گیاجن میں تربت یونیورسٹی ٹیسٹنگ سروس کا قیام، مالی سال 2024-2025 کی آڈٹ رپورٹ، مالی سال 2025-2026 کے نظرِ ثانی شدہ بجٹ اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ تخمینوں کی منظوری شامل ہیں۔اس کے علاوہ یونیورسٹی کے ایچ بی ایل بینک اکاؤنٹ کو روایتی بینکاری سے اسلامی بینکاری میں منتقل کرنا، یونیورسٹی فیسوں کی وصولی کے لیے ون لنک کے ساتھ معاہدہ، نئے تدریسی بلاک کو مرحوم انجینئر شاہ جہاں کریم کے نام سے منسوب کرنا، میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد کی اشاعت سے متعلق پالیسی مرتب کرنے اور جامعہ بلوچستان کوئٹہ کے ایریا اسٹڈی سینٹر اور یونیورسٹی آف تربت کے درمیان ملازمین کے ٹرانسفر اورباہمی تبادلے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا اور ضروری فیصلے کئے گئے۔
خبرنامہ نمبر 4127/2026
کوئٹہ ، 17 مئی 2026
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ 13 مئی سے منگلہ زرغون غر کے علاقے میں ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 35 سے زائد خوارج کو جہنم واصل کیا گیا جبکہ دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے اور کیمپس مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں شاہد رند نے کہا کہ کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے تین اہم کمانڈرز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن سے انتہائی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں ان معلومات کی بنیاد پر مزید ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں اور فتنہ الخوارج کے سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والے عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی بلوچستان کے امن کو خراب کرنے والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنا رہے ہیں شاہد رند نے کہا کہ یہ آپریشن نہ صرف علاقے بلکہ پورے ملک کے امن، استحکام اور قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہے اور یہ کارروائیاں فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی انہوں نے علاقے کے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں مشکوک عناصر کی نشاندہی کریں اور دہشتگردی کے خلاف قومی جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں کیونکہ دشمن پاکستان کے امن اور ترقی کا مخالف ہے جبکہ پوری قوم اپنی بہادر افواج اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے کہا کہ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی آقاؤں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھا جائے گا





