17th-July-2026

خبرنامہ نمبر6231/2026
کوئٹہ 17 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی حقیقی خودمختاری کیلئے ہر ذمہ دار انٹرنیشنل فورم پر آواز اٹھائی ہے۔ ہم آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ یہاں ہمارے صوبے بلوچستان میں ہم ان کے وقار کا بہت احترام کرتے ہیں اور ان کی سماجی اور تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام بلوچستان نعیم کریم کی قیادت میں آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی کارکنان اور کوئٹہ میں رہنے والے کشمیری برادری کے سرکردہ افراد پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہماری قومی اقدار اور روایات کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مقامی آبادی اور کشمیری کمیونٹی کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات دیکھ کر اطمینان ملتا ہے۔ یہ برادرانہ بندھن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ باہمی احترام اور بھائی چارہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

خبرنامہ نمبر6232/2026
کوئٹہ، 17 جولائی :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام مکمل کرنے والی 500 خواتین کو مبارکباد دی ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اسی وژن کے تحت خواتین کو جدید کاروباری مہارتوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام صوبے میں خواتین کی معاشی ترقی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کے ذریعے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی خواتین کو جدید کاروباری مہارتوں، مارکیٹنگ، کاروباری منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کی جامع تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیت خواتین کو نہ صرف خود کفیل بنانے میں مدد دے گی بلکہ وہ صوبے اور ملک کی معیشت میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کی صلاحیتوں پر حکومت کو مکمل اعتماد ہے اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے لیے ہنر مندی، کاروباری ترقی اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے ایسے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسیع کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں میر سرفراز بگٹی نے مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، محکمہ ترقی نسواں اور پروگرام کے انعقاد میں شامل تمام متعلقہ اداروں اور ٹیم کو اس کامیاب اقدام پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کے اقدامات بلوچستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری، کاروباری ترقی اور پائیدار خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

خبرنامہ نمبر6233/2026
کوئٹہ، 17 جولائی :- ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفئر بلوچستان سیف اللہ خان کھیتران نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان معاشرے کے تمام محروم، کمزور اور نادار طبقات کی فلاح و بہبود، سماجی تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خصوصی افراد، خواتین، یتیم بچوں، بزرگ شہریوں اور دیگر مستحق افراد کو یکساں مواقع اور بہتر سماجی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ معاشرے میں باوقار زندگی گزار سکیں ان خیالات کااظہارانہوں نے سماجی تنظیموں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ڈی جی سوشل ویلفئر نے کہا کہ محکمہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے اور عوام کو مثر خدمات فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں محکمہ کی تمام فلاحی اسکیموں کو شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ حقیقی مستحقین تک حکومتی سہولیات بروقت پہنچ سکیں انہوں نے بتایا کہ محکمہ سوشل ویلفئر بلوچستان نے گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں خصوصی افراد میں وہیل چئرز، الیکٹرک وہیل چئرز، خصوصی موٹر سائیکلیں (ٹرائی سائیکلز) اور دیگر معاون آلات تقسیم کیے ہیں، جبکہ مزید مستحق افراد میں ان سہولیات کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد خصوصی افراد کو بااعتماد، خودمختار اور معاشرے کا فعال رکن بنانا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال محکمہ کی جانب سے سینکڑوں مستحق، نادار اور ہنر مند افراد میں مختلف روزگار کٹس اور فنی آلات تقسیم کیے گئے، جن میں سلائی مشینیں، واشنگ مشینیں، دستکاری کے آلات، پلمبنگ اور الیکٹریشن ٹول کٹس، موبائل فون ریپئرنگ کٹس اور دیگر پیشہ ورانہ سامان شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد مستحق خاندانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا، غربت میں کمی لانا اور نوجوانوں کو خود کفیل بنانا ہے۔نشے کے عادی افراد کی بحالی سے متعلق انہوں نے بتایا نے کہا کہ محکمہ نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے موثر کردار ادا کیا ہے۔ بحالی مراکز کے ذریعے متعدد افراد کا علاج، نفسیاتی بحالی، مشاورت اور سماجی بحالی کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں کوئٹہ شہر کو منشیات کے عادی افراد سے پاک اور ایک محفوظ و صحت مند معاشرہ بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو مزید مثر بنانے، بحالی مراکز کی استعداد کار میں اضافے اور مزید مستحق افراد تک سہولیات پہنچانے کے لیے اقدامات جاری ہیں سیف اللہ خان کھیتران نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفئر آئندہ بھی حکومت بلوچستان کی پالیسی کے مطابق فلاحی منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کرے گا، تاکہ خصوصی افراد، مستحق خاندانوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات، ہنر، روزگار اور سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت، شفافیت، میرٹ اور بہتر گورننس محکمہ کی اولین ترجیحات ہیں اور اسی وژن کے تحت سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ کو ایک مضبوط، فعال اور عوام دوست ادارہ بنایا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر6234/2026
کوئٹہ 17 جولائی: بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ اختتامی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی? نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پروگرام مکمل کرنے والی 500 خواتین میں ٹیبلٹس تقسیم کیے، جبکہ شرکاء کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹول کٹس اور اسناد بھی فراہم کی گئیں۔ اس پروگرام میں بلوچستان کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی، جنہیں جدید کاروباری مہارتوں، ڈیجیٹل ٹولز، مارکیٹنگ، کاروباری منصوبہ بندی اور عالمی تقاضوں کے مطابق اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے حوالے سے جامع تربیت فراہم کی گئی۔ تقریب میں سیکرٹری ویمن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میڈم سائرہ عطا سمیت مختلف سرکاری افسران، سماجی شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی? نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں اور حکومت انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام صوبے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا جامع اقدام ہے، جس کا مقصد خواتین کو جدید کاروباری مہارتوں سے آراستہ کرکے انہیں قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے انہوں نے اس کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے لیے روزگار، کاروبار اور ہنر مندی کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے ایسے پروگراموں کا دائرہ کار وسیع کرے گی تاکہ صوبے کی زیادہ سے زیادہ خواتین اپنے کاروبار قائم کرکے ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ان کی محنت، لگن اور عزم کا ثمر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔تقریب کے اختتام پر تربیت مکمل کرنے والی خواتین میں ٹیبلٹس، ٹول کٹس اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ شرکاء نے اس پروگرام کو بلوچستان میں خواتین کے معاشی استحکام، کاروباری ترقی اور ویمن ایمپاورمنٹ کی جانب ایک تاریخی اور قابلِ ستائش پیش رفت قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر6235/2026
بارکھان 17 جولائی 2026:- ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ کی زیرِ صدارت آل پارٹیز ضلع کے رہنماؤں اور معززینِ شہری کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر کو درپیش عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں بارکھان۔رکھنی شاہراہ کی تعمیر میں سست روی کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ اس موقع پر منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ظفر علی کھوسو نے جاری کاموں سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شاہراہ کی تعمیر کا کام آئندہ روز سے دوبارہ شروع کیا جائے گا، جبکہ منصوبے کی روزانہ بنیادوں پر پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ رکھا جائے گا تاکہ کام بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہو سکے اجلاس کے شرکاء نے بارکھان ٹاؤن اور رکھنی سٹی میں بجلی کی فراہمی کا سابقہ شیڈول بحال کرنے، دیہی علاقوں کے فیڈرز کی بجلی کی بحالی، ناہڑ کوٹ روڈ پر زیرِ تعمیر پل کی جلد تکمیل اور بغاو میں یوفون کی فور جی (4G) سروس فعال کرنے کے مطالبات بھی پیش کیے اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلع بھر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ شرکاء نے 2022ء کے سیلاب متاثرین کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے ایک کمرہ تعمیر کرنے کے منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا محکمہ تعلیم کے کلسٹر بجٹ سے متعلق بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ پرائمری اور مڈل سکولوں کے بجٹ کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے، مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں اور ہر سکول کو جاری ہونے والے بجٹ کی تفصیلات عوامی آگاہی کے لیے نمایاں مقام پر آویزاں کی جائیں اجلاس میں آل پارٹیز کی جانب سے صدیق کھیتران، حاجی طارق خان کھیتران، انجینئر جمال خان کھیتران، تاج محمد قاسمانی، مولوی عبدالرزاق بہدیانی اور وڈیرہ نیک محمد باڈانی جبکہ معززینِ شہری کی جانب سے وڈیرہ غلام سرور خان کھیتران اور محمد حنیف کھیتران نے شرکت کی ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے شرکاء کی تجاویز کو سراہتے ہوئے متعلقہ محکموں کو عوامی مسائل کے بروقت حل، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

خبرنامہ نمبر6236/2026
بارکھان،17 جولائی 2026:- وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن کے تحت ضلع بارکھان میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ نے بی ایچ یو رکھنی میں جدید GeneXpert مشین کا باقاعدہ افتتاح کیا افتتاحی تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر مجیب الرحمن بگٹی، ڈسٹرکٹ منیجر (DM) پی پی ایچ آئی غلام رسول کھیتران، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے افتتاح کے بعد ڈپٹی کمشنر نے لیبارٹری کا تفصیلی معائنہ کیا اور GeneXpert مشین کی استعداد، تشخیصی نظام اور مختلف تکنیکی پہلوؤں کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ جدید مشین تپ دق (TB) کی بروقت، معیاری اور درست تشخیص میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے مریضوں کو فوری تشخیص اور بروقت علاج کی سہولت میسر آئے گی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ نے پی پی ایچ آئی، محکمہ صحت اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہم ہے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ GeneXpert مشین کی مؤثر فعالیت، بروقت دیکھ بھال اور مسلسل استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع بھر کے شہری اس جدید تشخیصی سہولت سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔

خبرنامہ نمبر6237/2026
موسی خیل17 جولائی 2026:- ضلعی چئرمین عصمت اللہ اوراختر محمد ناصرنے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موسیٰ خیل کلیم اللہ کاکڑسے ان کے دفتر میں ایک اہم ملاقات کی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں علاقے کے وسیع تر مفاد خصوصاً امن و امان کی صورتحال اور زراعت سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا وفد نے ضلع میں بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنے اور امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کی کاوشوں کو سراہا ایس پی موسیٰ خیل نے یقین دلایا کہ عوام اور خصوصاً زمینداروں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہیملاقات کے دوران علاقے میں غیر ممنوعہ (ممنوعہ؍غیر قانونی) فصلات کی کاشت پر پابندی اور اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ زمینداروں کو آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ قانونی فصلات کی کاشت کو فروغ دے کر ملکی معیشت اور علاقے کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ علاقے کی خوشحالی اور جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس اور مقامی زمیندار ایکشن کمیٹی کے مابین کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا ایس پی ضلع موسیٰ خیل نے اس موقع پہ کہا کہ عوام اور زمینداروں کا تعاون امن و امان کے قیام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا ممنوعہ فصلات کی کاشت کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاہم اس سلسلے میں مقامی عمائدین اور زمیندار کمیٹی کا تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔

خبرنامہ نمبر6238/2026
موسی’ خیل۔ مورخہ 17 جولائی 2026:- ڈپٹی کمشنر دفتر میں ایک قبائلی وفد نے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک سے ملاقات کی ملاقات میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) 2026-27 کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ضلعی انتظامیہ اور مقامی وفود کی ملاقاتوں کا ایک اہم حصہ ہے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ BSDI کے تحت نہ صرف ضلع موسیٰ خیل بلکہ پورے صوبے میں نچلی سطح پر بنیادی سہولیات، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام کیا جا رہا ہے ملاقات کے دوران ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے واضح کیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیاری تعمیری کام اور وقت کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ موسیٰ خیل ڈویلپمنٹ پلان حکومتِ بلوچستان کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں واشک کی طرز پر موسیٰ خیل ڈویلپمنٹ پلان کا خصوصی منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت ضلع میں بڑے پیمانے پر فلاحی و ترقیاتی کام شروع کیے جا رہے ہیں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ میں خود مسلسل ضلع کے تعلیمی اداروں کا معائنہ کررہا ہوں (جیسے حال ہی میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول ڈاکیان کا دورہ) اور میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی سمیت تعلیمی نظام کی مانیٹرنگ کو ترجیح دے رہے ہیں وفد نے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی کارکردگی کو سراہا اور ہرممکن تعاون کا یقین دلایا

خبرنامہ نمبر6239/2026
خضدار 17 جولائی 2026:- خضدار: علم و ادب کے فروغ کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے خضدار میں نیشنل ہائی سے منسلک ڈی پی سی کے احاطے میں جدید سہولیات سے آراستہ شہید عثمان عاشق کے نام سے منسوب لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی اور دیگر ضلعی حکام کے ہمراہ تختی کی نقاب کشائی کر کے لائبریری کا افتتاح کردیا افتتاحی تقریب میں آفیسرز اور شہر کی شخصیات موجود تھیں ہر چہرے پر خوشی اور امید کے آثار نمایاں تھے کیونکہ ایک ایسا علمی منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے جو علمی باب بنے گا تاریخ بنے گی اور نئی نسل کی امیدوں کی کا محور بنے گا اس منصوبے کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ جس عمارت کو لائبریری میں تبدیل کیا گیا ہے وہ 1994 سے غیر آباد اور ویران پڑی تھی کمشنر قلات ڈویژن کی بلند و بالا سوچ اور ضلعی انتظامیہ کی دلچسپی نے اس خستہ حال بلڈنگ کو مکمل طور پر بحال کر کے اسے علم کا گہوارہ بنا دیا ہے ان کی تعمیری سوچ نے اس عمارت میں ایسا ہیرا تراشا ہے کہ اب شاہراہ سے گزرتے ہوئے ہر شہری یہاں علم و کتاب کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے گزرے گا بولان مائننگ انٹرپرائزز خضدار بی ایم ای نے نہ صرف اس کی عمارت تعمیر کی تھی بلکہ اب اسے جدید سولر سسٹم سے بھی لیس کر دیا ہے سولر سسٹم کی بدولت اب لوڈشیڈنگ اور برقی قلت کے باوجود طلبہ کو بلاتعطل مطالعے کا موقع ملے گا یہ اقدام بی ایس ڈی آئی کے تحت وسائل کے استعمال کی بہترین مثال ہے یہ لائبریری امتحانات کی تیاری کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں CSS, PMS, NTS اور دیگر ٹیسٹوں کی کتابیں، آن لائن ڈیٹا بیس اور خاموش مطالعے کا ماحول طلبہ کو گھر بیٹھے وہ سہولیات فراہم کرے گا جو پہلے صرف بڑے شہروں میں میسر تھیں۔لائبریری میں مرد و خواتین کیلئے علیحدہ مطالعہ ہالز، ریسرچ روم، کانفرنس ہال اور ڈیجیٹل سیکشن قائم کیے گئے ہیں جدید کمپیوٹرز اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت سے طلبہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے ریسرچ پیپرز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ خضدار کے علمی و ادبی حلقوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا ہے لائبریری کی افتتاحی تقریب میں موجود مہمانان اور پروفیسرز اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ لائبریری خضدار کے ذہین مگر وسائل سے محروم طلبہ کیلئے ایک نئی امید کی کرن ہے ان کا ماننا ہے کہ اس سے علاقے میں تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور مقابلے کا رجحان بڑھے گا۔شہریوں نے کمشنر قلات اور ڈپٹی کمشنر خضدار کے ویژن کو اعلیٰ اور تعمیری سوچ قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے منصوبے ہی نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھ کر انہیں تعمیر و ترقی کی طرف راغب کرتے ہیں کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لائبریری صرف ایک عمارت نہیں بلکہ خضدار کیلئے علمی انقلاب کا آغاز ہے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں علم تک رسائی ہی ترقی کی ضمانت ہے اور یہ لائبریری نوجوانوں کو وہ پلیٹ فارم دے گی جہاں وہ عالمی معیار کے مطالعہ سے روشناس ہونگے انہوں نے مزید کہا کہ لائبریری کو جدید ترین ڈیزائن، انٹرنیٹ، کمپیوٹرز اور ریسرچ میٹریل سے آراستہ کیا گیا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح نوجوانوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔اس طرز کی لائبریری کی مثال پورے ریجن میں نہیں ملتی دیکھنے والا ہر شخص اس شاہکار کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے افتتاحی تقریب میں ایس ایس پی خضدار دوستی دشتی اسسٹنٹ کمشنر وڈھ علی اکبر مزارزئی اے ڈی سی جنرل علم دین اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر نال عبداللہ جان اسسٹنٹ کمشنر زہری روزین جمالی ایجوکیشن آفیسر عابد حسین بلوچ ایگزیکٹو آفیسرز قاضی عتیق انجینئر سلیم رزاق عمرانی انجینیر لیاقت علی ایم ایس ایس خضدار ہاسپیٹل آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے صدر بشیر احمد جتک عبدالحمید بلوچ ٹھیکیدار نواز حمید اللہ سمیت لائبری اسٹاف اور دیگر موجود تھے۔ یاد رہے کہ بولان مائننگ انٹرپرائزز خضدار بی ایم ای نے نہ صرف اس کی عمارت تعمیر کی تھی بلکہ اب اسے جدید سولر سسٹم سے بھی لیس کر دیا ہے سولر سسٹم کی بدولت اب لوڈشیڈنگ اور برقی قلت کے باوجود طلبہ کو بلاتعطل مطالعے کا موقع ملے گا۔

خبرنامہ نمبر6240/2026
سنجاوی, بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی ادائیگیوں کے دوران مستحق خواتین سے زائد رقم وصول کیے جانے کی مسلسل شکایات موصول ہونے پر اسسٹنٹ کمشنر سنجاوی میرمن کاکڑ نے بی آئی ایس پی ادائیگی مرکز کا اچانک دورہ کیا اور موقع پر انتظامات، ادائیگیوں کے عمل اور مستحقین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز میں موجود مستحق خواتین سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، ادائیگیوں کے طریقہ کار، رقم کی وصولی، عملے کے رویے اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے خواتین کو یقین دلایا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی رقم ان کا حق ہے اور اس حق میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر میرمن کاکڑ نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ ہر مستحق خاتون کو اس کی مکمل امدادی رقم بلاکسی کٹوتی اور بلاکسی رکاوٹ ادا کی جائے، جبکہ خواتین کے ساتھ عزت، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہر اہلکار کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مستحق خاتون کی حق تلفی یا اسے ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ غریب اور مستحق افراد کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کسی شخص، ایجنٹ یا اہلکار کے خلاف زائد رقم وصول کرنے یا مستحقین کو تنگ کرنے کی شکایت درست ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ بی آئی ایس پی مرکز میں شفافیت، نظم و ضبط، صاف ستھرے ماحول، خواتین کے لیے مناسب بیٹھنے کے انتظام، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ مستحق خواتین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی خدمت، شفافیت، احتساب اور مستحق افراد کے حقوق کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں اچانک دوروں اور مؤثر نگرانی کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ان کا حق بلاکسی رکاوٹ اور مکمل طور پر مل سکے۔

خبرنامہ نمبر6241/2026
نصیرآباد:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں ضلع نصیرآباد سے جہالت کے اندھیروں کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری فیز تھری کے تحت بند اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے ضلع نصیرآباد میں نئے 11 میل اور فیمیل اساتذہ کو تقرری کے آرڈرز تقسیم کیے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل ایس ایس پی اسد ناصر ڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز عبدالواسع کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نصیرآباد حفیظ اللہ کھوسہ نے بھی امیدواروں میں آرڈر تقسیم کئیکمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ جن اساتذہ کو تعیناتی کے آرڈرز دیے گئے ہیں، ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ضلع نصیرآباد سے جہالت کے اندھیروں کے خاتمے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں، بچوں کی بہترین انداز میں تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ مستقبل میں ملک و صوبے کا نام روشن کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ تعینات ہونے والے اساتذہ کی مؤثر مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنائے گی، جبکہ اسکولوں کو فعال رکھنا، طلبہ کی حاضری یقینی بنانا اور معیاری تدریس فراہم کرنا اساتذہ کی اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا تمام اساتذہ پوری دیانتداری، احساسِ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں

خبرنامہ نمبر6242/2026
کوئٹہ:، 17جولائی :انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ جدید پولیسنگ پر عملدرآمد کرتے ہوئے عام شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کی جاسکتی ہے۔ پولیس کے مثبت تشخص کو مضبوط بنا کر عوام میں احساسِ تحفظ کی فضا کو مزید بہتر کیا جائے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سینٹرل پولیس آفس میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے براہِ راست نئے تقرر ہونے والے ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ آف پولیس کے منعقدہ تعارفی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔آئی جی پولیس نے کہا کہ ماتحت عملے کی سطح پربہتر کارکردگی لینا سپروائزری افسران کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ افسران اپنا کمانڈنگ کردار کو مزید مو-04ثر انداز میں ادا کرینگے تو ایک عام شہری کوانصاف کی فراہمی بروقت ہوگی اور ان کی شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہوسکے گا۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ سمارٹ اور کمیونٹی پولیسنگ کی گائیڈ لائنز کے مطابق شہریوں کو معیاری خدمات کی فراہمی اور جرائم کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے فرائض میں دی گئی ذمہ داریاں بروقت کارروائی سے ہی جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔ اجلاس میں شریک افسران نے شہریوں کی خدمت ان کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز حسن اسد علوی، ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

خبرنامہ نمبر6243/2026
کوئٹہ 17 جولائی:سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا کردار نہایت اہم ہیصوبے میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور پائیدار ترقی کا انحصار محکمہ کی مؤثر کارکردگی پر ہے اگر اس کارکردگی میں سستی یا کوتاہی ہو تو صوبے کے ترقی کا پہیہ جام ہو جائے گا جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ان خیالات کا اظہار سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے صوبے میں جاری اسٹریٹجک منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ضلعی ایگزیکٹو انجینئرز نے بذریعہ زوم شرکت کی اجلاس کے دوران مختلف اضلاع کے انجینئرز نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری اسٹریٹجک منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور منصوبوں کو درپیش مالی اور تکنیکی مسائل سے آگاہ کیا سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایت کی کہ اہم نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ وقت کم اور چیلنجز زیادہ ہیں لہٰذا تمام انجینئرز اس بات کو یقینی بنائیں کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل محکمہ کی اولین ترجیح رہے انہوں نے مزید ہدایت دی کہ منصوبوں کو درپیش تمام تکنیکی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے تمام ایگزیکٹو انجینئرز بلڈنگز کو ٹاہم لاہن دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت تک ان منصوبوں کی تکمیل کو ہر صورت میں یقینی بنائی جائے بصورت دیگر متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مذید کہا کہ ان منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائیسیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چیف انجینئرز اور ایس ایز کو ہدایت کی کہ وہ خود منصوبوں کا باقاعدگی سے دورہ کریں اور ہر دو ہفتے بعد پیش رفت رپورٹ ارسال کریں ان رپورٹس میں تکنیکی مسائل کی نشاندہی بھی شامل کی جائے تاکہ منصوبوں کی رفتار متاثر نہ ہو اور کام بلا تعطل جاری رہے۔

خبرنامہ نمبر6244/2026
پنجگور ۔ 17 جولائی 2026: یونیورسٹی آف مکران نے نیب (بلوچستان) کے اشتراک سے طلبہ کے لیے انسدادِ بدعنوانی مقابلوں 2026 کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد شفاف پاکستان کے پیغام کو عام کرنا اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ ان مقابلوں میں مضمون نویسی، تقریری مقابلے، مصوری، پوسٹر سازی اور خطاطی کے زمرے شامل ہیں جن میں طلبہ انگریزی اور اردو زبانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں گے۔ ان مقابلوں میں حصہ لینے کے خواہشمند طلبہ کے لیے نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026 مقرر کی گئی ہے، جبکہ حتمی مقابلے ستمبر 2026 میں کوئٹہ میں منعقد ہوں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی بھرپور شرکت کی توقع ظاہر کی ہے تاکہ وہ اپنے ہنر کے ذریعے معاشرے میں ایمانداری اور شفافیت کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔

خبرنامہ نمبر6245/2026
سوراب: وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت شرح خواندگی بڑھانے اورتعلیمی اداروں میں سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات جاری ہیں ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی نے اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بگٹی، اسسٹنٹ کمشنر مہرآباد محمد طحہ اور اسسٹنٹ کمشنر دشت گوران ثناء اللہ خان کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سوراب کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران افسران نیششماہی امتحانات کے انعقاد کا تفصیلی جائزہ لیا اور امتحانی عمل میں شفافیت، نظم و ضبط اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معائنہ کیااسکول انتظامیہ نے ادارے کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی سرگرمیوں اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر (BSDI) کے تحت اسکول میں جاری ترقیاتی کاموں کا بھی معائنہ کیا گیا۔ افسران نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام اعلیٰ معیار کے مطابق اور مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور جدید سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ دورے کے اختتام پر افسران نے تعلیمی معیار میں مزید بہتری، امتحانی نظام کی مؤثر نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

خبرنامہ نمبر6246/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر مختلف نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز، جن میں ایم ایس ایف (MSF) اور سی ایل ایف (CLF) کے نمائندگان شامل تھے نے بھی ان سے ملاقات کی اور جاری طبی منصوبوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کی دورے کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی نے ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ عوام کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر سول ہسپتال کی تین عمارتیں نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز کے حوالے کی جا رہی ہیں انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نیو سی ایم ایچ ریڈیالوجی بلڈنگ ایم ایس ایف کے سپرد کی جا رہی ہے جہاں جدید تشخیصی سہولیات فراہم کی جائیں گی اسی طرح ایک عمارت جو پہلے ریسکیو 1122 کے زیر استعمال تھی اسے واپس لے کر سی ایل ایف کے حوالے کیا جا رہا ہے تاکہ اس ادارے کے ذریعے ضلع بھر کے بچوں کو معیاری اور مؤثر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکیں ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ ان اداروں کے تعاون سے ہسپتال میں آغا خان ہسپتال کے طرز پر جدید طبی سہولیات متعارف کروانے کا منصوبہ ہے جس سے علاقے کے عوام کو بہتر بروقت اور معیاری علاج میسر آئے گا انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایس ایف نے مقامی ضروریات اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے طبی سہولیات میں مزید توسیع کا عندیہ بھی دیا ہے جس سے صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری متوقع ہیاس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ہسپتال میں جاری ترقیاتی اور طبی اقدامات کا خود جائزہ لینا اور نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندگان سے براہ راست معلومات حاصل کرنا ہے انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ ادارے عوامی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمدردانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں.انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ ان اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز کی مشترکہ کاوشوں سے نہ صرف ہسپتال کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ علاقے کے عوام کو جدید معیاری اور قابلِ رسائی طبی سہولیات بھی میسر آئیں گی.

خبرنامہ نمبر6247/2026
استامحمد۔۔ پرنسپل گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج استامحمد، پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے کہا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ 1973 میں قائم کیا گیا تھا جہاں ابتدا میں صرف انٹرمیڈیٹ سطح (ایف اے، ایف ایس سی) تک تعلیم فراہم کی جاتی تھی اُس وقت کی آبادی کے پیش نظر یہ ادارہ اپنی ضروریات کے مطابق تھا تاہم گزشتہ پچاس برسوں کے دوران آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ کالج کی عمارتوں کلاس رومز اور بنیادی سہولیات میں خاطر خواہ توسیع نہیں کی گئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد، نیک محمد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی ایس کوآرڈینیٹر محمد طاہر سمیت دیگر اساتذہ بھی موجود تھے انہوں نے بتایا کہ کالج میں اب بی ایس پروگرام کا بھی باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں طلباء و طالبات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اس وقت ادارے میں تقریباً 2200 طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے تقریباً 1500 انٹرمیڈیٹ (ایف اے ایف ایس سی) جبکہ 600 سے زائد بی ایس پروگرام میں زیرِ تعلیم ہیں۔ کالج میں تدریسی عملہ 44 افراد پر مشتمل ہے جن میں لیکچررز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور پروفیسرز شامل ہیں.پروفیسر عبیداللہ زہری نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وسائل اور ناکافی انفراسٹرکچر کے باعث ادارہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور موجودہ صورتحال میں مزید طلباء کا بوجھ برداشت کرنا مشکل ہو چکا ہے انہوں نے حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کالج کی بہتری کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ کالج میں بی ایس کمپلیکس کی تعمیر جدید تعلیمی آلات کی فراہمی اضافی تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تعیناتی مناسب فرنیچر کی فراہمی اور طالبات کے لیے بس سروس کے اجرا کو یقینی بنایا جائے مزید برآں انہوں نے طالبات کی تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں بچیوں کے لیے بی ایس سطح کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اس وقت طالبات کے لیے ایوننگ کلاسز کا اجرا کیا گیا ہے، تاہم اساتذہ کی کمی اور سیکیورٹی خدشات اس نظام کو مؤثر بنانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مارننگ شفٹ میں طلباء و طالبات کو اکٹھا پڑھانے کی صورت میں بھی والدین کی جانب سے طالبات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث علیحدہ تدریسی انتظامات اور مؤثر سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہے مزید یہ کہ شام کی شفٹ میں بی ایس پروگرام پڑھانے والے اساتذہ کو اضافی معاوضہ یا وظیفہ مقرر نہ ہونے کے باعث ان میں عدم دلچسپی پائی جا رہی ہے جسے اساتذہ ناانصافی تصور کرتے ہیں اور اس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے.انہوں نے زور دیا کہ کالج کے لیے ایک جامع سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے طالبات کے لیے علیحدہ اور محفوظ تدریسی سہولیات فراہم کی جائیں اور ایسا سازگار تعلیمی ماحول یقینی بنایا جائے جہاں طالبات بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام کالج کو درپیش ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں گے تاکہ علاقے کے نوجوانوں، خصوصاً طالبات، کو معیاری اور محفوظ تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں

خبرنامہ نمبر6248/2026
موسیٰ خیل17جولائی:حکومت بلوچستان کے صاف ستھرا عوام دوست وژن کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق کی نگرانی میں زراعت کالونی، سرکاری دفاتر اور شہر کے دیگر حصوں میں مضر صحت جڑی بوٹیوں کے خلاف سپرے کا عمل شروع کیا گیا ہے یہ مہم حکومتِ بلوچستان کے ماحول دوست وژن کی عملی عکاسی کرتی ہے۔ نقصان دہ اور خود رو جڑی بوٹیاں نہ صرف ماحول کی خوبصورتی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ مچھروں، حشرات اور مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بھی بنتی ہیں اس مہم کے حوالے سے کچھ اہم پہلو جو اس کے فائدے کو مزید بڑھا سکتے ہیں گلیوں اور سرکاری دفاتر سے ان جڑی بوٹیوں کا خاتمہ مچھروں اور دیگر موذی حشرات کی افزائش کو روکے گا، جس سے ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ صفائی ستھرائی کی اس مہم سے ضلع موسیٰ خیل کا قدرتی حسن اور نکھر کر سامنے آئے گا ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ سپرے کے دوران اور اس کے فوراً بعد شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ احتیاط برتیں، خاص طور پر بچوں اور پالتو جانوروں کو سپرے شدہ حصوں سے دور رکھیں تاکہ کیمیکل کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔امید ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کی یہ مشترکہ کاوشیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ موسیٰ خیل کو ایک مثالی، صاف ستھرا اور سرسبز ضلع بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر6249/2026
لورالائی17جولائی 2026: کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ڈویژنل سطح پر محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور تعلیمی ترقی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لورالائی بختیار کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دکی امیر شاہ بخاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر موسیٰ خیل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) فوزیہ درانی، آر ٹی ایس ایم محمد خان، یونیسف کے نمائندوں سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران لورالائی ڈویژن کے تمام اضلاع کے تعلیمی افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں تعلیمی صورتحال، تعلیمی ترقی، داخلہ مہم، اساتذہ کی حاضری، اسکولوں میں بنیادی سہولیات، طلبہ کی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء نے تعلیمی معیار بہتر بنانے، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کی شرح کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ وزٹس کو مزید مؤثر اور باقاعدہ بنایا جائے، تمام سرکاری اسکولوں کی مسلسل نگرانی کی جائے، اور جن تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولیات، تدریسی عملے یا دیگر مسائل کا سامنا ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔کمشنر نے کہا کہ “ہر بچے کو بہتر اسکول” کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام اضلاع میں مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ ہر بچے کو معیاری، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ داخلہ مہم کو مزید فعال بنایا جائے، اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، اور طالبات کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شرحِ خواندگی میں مزید اضافہ ہو۔انہوں نے ہدایت کی کہ اساتذہ کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تدریسی فرائض میں غفلت، غیر حاضری اور ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ فرض شناسی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔کمشنر ولی محمد بڑیچ نے مزید کہا کہ جدید تدریسی طریقوں، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل لرننگ، طلبہ کی مسلسل جانچ، شفاف امتحانی نظام اور والدین کی شمولیت کے ذریعے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ، یونیسف اور دیگر شراکت دار اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ہی ہر بچے تک معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر لورالائی ڈویژن نے تمام اضلاع کے تعلیمی افسران کو ہدایت کی کہ وہ تعلیمی اہداف کے حصول، اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلوں میں اضافے اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مربوط اقدامات کو مزید تیز کریں اور اپنی کارکردگی کو قابلِ پیمائش نتائج کے ذریعے نمایاں بنائیں۔

خبرنامہ نمبر 6250/2026
سوراب 17 جولائی:ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی، آر ٹی ایس ایم ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، خزانہ افسر، مختلف سب ڈویژنز کے میل و فیمیل ڈی ڈی اوز، محکمہ تعلیم کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کی تعلیمی صورتحال، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی حاضری، تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنرصاحبزادہ نجیب اللہ نے ہدایت دی کہ اسکولوں میں اساتذہ کی باقاعدہ حاضری، تدریسی سرگرمیوں کے تسلسل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے اساتذہ کی غیر حاضری پر سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ضلع سوراب میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر 6251/2026
سوراب17 جولائی: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی، اسسٹنٹ کمشنر گدر عبدالجبار بگٹی، ایم ایس/ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف ثانی، ڈی ایم (پی پی ایچ آئی) داؤد خان کاکڑ، سپرنٹنڈنٹ فضل محمد قمبرانی، خزانہ افسر مسعود احمد اور محکمہ صحت کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کی طبی سہولیات، ڈاکٹرز و عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، اسپتالوں کی کارکردگی اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام طبی مراکز میں عملے کی حاضری، معیاری علاج، صفائی اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

خبرنامہ نمبر 6252/2026
کوئٹہ، 17 جولائی :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ نے جمعہ کو یہاں ملاقات کی جس میں نصیر آباد ڈویژن میں آبپاشی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا میر سلیم خان کھوسہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو نصیر آباد ڈویژن کی نہروں میں پانی کی شدید قلت اور اس سے زراعت اور کاشتکاروں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس سلسلے میں فوری طور پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے دوران دونوں وزراء اعلیٰ کے درمیان آبی صورتحال اور بین الصوبائی آبی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا دونوں وزرائے اعلیٰ نے بلوچستان اور سندھ کے درمیان آبی مسائل کے حل، پانی کی منصفانہ تقسیم اور موجودہ صورتحال میں بہتری کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا شاہد رند کے مطابق دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں کے وزرائے آبپاشی کو فوری طور پر سکھر پہنچنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ متعلقہ حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے آبی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور قابلِ عمل حل پر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے نصیر آباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین اسمبلی بھی سکھر میں آبپاشی سے متعلق ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں پانی کی قلت اور اس کے مستقل حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان کسانوں اور زمینداروں کے مفادات کے تحفظ اور صوبے کے حصے کے پانی کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس ضمن میں سندھ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ آبی مسائل کو باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 6253/2026
ڈپٹی کمشنر چمن
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کو طبی اور انسانی بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چمن میں قائم افغان مہاجرین کیمپ میں پاکستان ہلالِ احمر کی جانب سے مفت طبی معائنہ، ادویات، ایمبولینس سروس، وہیل چیئر، بچوں کے لیے کتابیں، کھلونے، موبائل چارجنگ سمیت مختلف بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان ہلالِ احمر کے مطابق گزشتہ 14 ماہ کے دوران ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج اور طبی معائنہ کیا جا چکا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ چمن، حکومتِ بلوچستان، محکمہ صحت بلوچستان اور محکمہ صحت چمن بھی متعلقہ اداروں کے تعاون سے افغان مہاجرین کو علاج، طبی سہولیات اور ضروری انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ہر ضرورت مند کو بروقت اور معیاری طبی خدمات میسر آ سکیں۔

خبرنامہ نمبر 6254/2026
تربت:17 جولائی 2026: میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی کی خصوصی ہدایت پر چیف آفیسر بلدیہ عظمیٰ تربت شعیب ناصر نے میر عیسیٰ قومی پارک کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انجینئر ناصر بلوچ اور پی اے ٹو میئر کریم بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران چیف آفیسر نے پارک کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور پارک کے منتظمین سے صفائی، شجرکاری، دیکھ بھال اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی۔چیف آفیسر شعیب ناصر نے کہا کہ میر عیسیٰ قومی پارک شہریوں، بچوں اور اہلِ خانہ کے لیے شہر کا ایک اہم تفریحی مقام ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارک کو مزید سرسبز، خوبصورت اور شہریوں کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت شجرکاری، سبزہ زاروں کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ پارک اپنی اصل خوبصورتی کے ساتھ مزید بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکے۔انہوں نے کہا کہ میئر تربت بلخ شیر قاضی کی ہدایت پر پارک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور فوری طور پر پارک میں نئی شجرکاری، بورنگ کے ذریعے پانی کی فراہمی اور تمام سبزہ زاروں کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا تاکہ پورا پارک دوبارہ سرسبز و شاداب بنایا جا سکے۔چیف آفیسر نے انجینئر ناصر بلوچ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پارک میں شہریوں اور سرکاری افسران کے لیے جدید طرز کا واکنگ ٹریک بھی تعمیر کیا جائے، جبکہ بچوں اور فیملیز کے لیے مزید تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلدیہ عظمیٰ تربت عوام کو صاف، سرسبز اور خوبصورت تفریحی ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور قومی عیسیٰ پارک کو شہر کا ایک مثالی، دلکش اور پرکشش پارک بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 6255/2026
کوئٹہ، 17 جولائی :حکومت بلوچستان نے پولیس شہداء کے معاوضے اور پلاٹ یا اراضی کے بدلے نقد ادائیگی کی مقررہ شرح میں اضافے کا فیصلہ کر لیا، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے منظوری کے لیے سمری طلب کر لی۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر پولیس شہداء کے اہل خانہ کے لیے مالی معاونت کے پیکیج کو مزید بہتر بنانے کے لیے موجودہ شرحوں پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ محکموں سے منظوری کے لیے سمری طلب کر لی گئی ہے شاہد رند کے مطابق مجوزہ نظرثانی کے تحت بی-1 سے بی-16 تک کے پولیس شہداء، جن میں کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل، اے ایس آئی، سب انسپکٹر اور انسپکٹر شامل ہیں، کے لواحقین کے لیے نقد معاوضہ ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے اسی طرح بی-1 سے بی-8 تک کے کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے لیے پلاٹ یا اراضی کے بدلے نقد ادائیگی کی رقم 11 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کرنے کی سفارش بھی سمری میں شامل کی جا رہی ہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا واضح مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فورسز کے شہداء قوم کا فخر ہیں اور ان کے اہل خانہ کی مالی کفالت اور فلاح حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کی ہر ممکن معاونت اور ان کی بہبود کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور معاوضوں میں مجوزہ اضافہ اسی وژن کا مظہر ہے۔

خبرنامہ نمبر 6256/2026
کوئٹہ، 17 جولائی 2026
حکومت بلوچستان نے زیارت میں دہشت گردوں کے خلاف فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس کے بہادر جوانوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کوئٹہ کے تاریخی کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل کرکے “شہداءِ زیارت چوک” رکھنے کا فیصلہ کیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا انہوں نے کہا کہ شہداء نے بلوچستان میں امن، ہم آہنگی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت شہداء کی قربانیوں کو محض الفاظ تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں قومی تاریخ کا مستقل حصہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ عوامی مقامات کو شہداء کے نام سے منسوب کرنا نئی نسل کو ان عظیم قربانیوں سے روشناس کرانے اور وطن کے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک اہم روایت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء اور ان کے اہل خانہ کی عزت، تکریم اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور ان کی بے مثال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *