17th-April-2026

خبرنامہ نمبر3131/2026
کراچی17 اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ”پاکستان? چائنا انویسٹمنٹ سیمینار 2026” محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ یہ نئی معاشی ترقی اور تبدیلی کا آغاز ہے۔ ہم ملکر ایک ایسے شاندار مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں ہمارا پیارا ملک پاکستان اور صوبہ بلوچستان پورے خطے کیلئے جدت اور ترقی کے مرکز کے طور پر چمک رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے روشن اور محفوظ مستقبل کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں۔ اس سیمینار کو وہ چنگاری بننے دیں جو دیرپا اقتصادی تبدیلی کی لہر کو بھڑکاتی ہے۔ مسقبل قریب میں ہم پاکستان کو ایک عالمی سرمایہ کاری کے پاور ہاؤس کے طور پر تصور کرتے ہیں جو جدیدیت اور باہمی تعاون کا حسین امتزاج بنے گا۔ ہر منصوبے کے ساتھ ہم تخلیق کاروں، اختراع کاروں اور بزنس لیڈرز کی ایک نسل کو فروغ دیتے ہیں اور اسکی بنیاد رکھتے ہیں جو تعمیر و ترقی کے جذبے کو ان طے شدہ حدود سے بہت آگے لے جائینگے۔ یہ ہمارے مستقبل کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین وقت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں چائنیز قونصلیٹ کراچی میں منعقدہ پاکستان?چین انویسٹمنٹ سیمینار 2026 کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کراچی میں تعینات چینی قونصل جنرل یانگ یونڈونگ (Mr. Yang Yundong)، بایزید خان کاسی، صدر پاکستان چائنہ اکنامک اینڈ کلچرل کونسل، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ شرکاء سے خطاب میں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمیں محض معدنیات برآمد کرنے کی بجائے یہاں پراسیسنگ پلانٹس لگانے پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ ہم پورے صوبے کو ایک جدید صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے قابل بن سکیں۔ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کے بہت وسیع اور منافع بخش مواقع موجود ہیں جو انرجی تجارت، زراعت، ہائیر ایجوکیشن، صحت، لائیوسٹاک اور دیگر شعبوں میں دنیابھر کے سرمایہ کار ان دستیاب مواقعوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ حکومت مکمل تحفظ فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ ہر انویسٹمنٹ جسکا ہم خیرمقدم کرتے ہیں، ہر شراکت داری جو ہم بناتے ہیں درحقیقت ایک روشن اور زیادہ خوشحال مستقبل کی طرف ایک قدم ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کار صرف متعدد منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کرتے بلکہ وہ ہمارے نوجوانوں کے خوابوں اور روشن مستقبل کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا چین کے ساتھ ہماری دوستی صرف تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ ایک زندہ اور سانس لینے والی قوت ہے جو ہمیں آگے بڑھا رہی ہے۔ جب ہم اس مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں، آئیے ہم جراتمند بنیں، ہمیں تخلیقی بننے دیں اور اتحاد کی طاقت کو کبھی کم نہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور انڈسٹری کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی اشد ضرورت ہے۔ تمام مشاورتی عمل میں ہمارے تاجروں و صنعتکاروں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ جب معیشت کے ماہرین، تاجر و صنعتکار ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں تو طویل المدتی ترقی کی حقیقی بنیادیں پڑ جاتی ہیں۔ بلوچستان کا مستقبل روشن ہے اور ہم اس کے معمار ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ تمام منتظمین، شرکاء، اور روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والوں کیلئے آپ تبدیلی کے حقیقی ایجنٹ ہیں۔ آئیے ملکر اٹھیں، ایک دوسرے میں سرمایہ کاری کریں اور ایک ایسی وراثت بنائیں جس پر آنے والی نسلیں ہم پر فخر کریں۔ آخر میں گورنر جعفرخان نے انویسٹمنٹ سیمینار کے شرکاء اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔

خبرنامہ نمبر3132/2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بارکھان کے قبائلی رہنماء میر عبدالکریم کھیتران نے ملاقات کی جس میں کوہ سلیمان ڈویژن بالخصوص ضلع بارکھان کی سیاسی و علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل پر مشاورت کی گئی اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ منصوبہ بندی کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے گا تاکہ حقیقی معنوں میں مقامی آبادی کو ریلیف مل سکے اس موقع پر میر عبدالکریم کھیتران نے بارکھان میں 50 بیڈڈ اسپتال سمیت دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور پیش رفت پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے جاری اقدامات سے علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوگی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارکھان سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ وہ بیکڑ کے بعد بارکھان کو اپنا دوسرا گھر تصور کرتے ہیں اور علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ان شعبوں میں بہتری لانا حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود اور علاقائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے شامل کیے جائیں گے تاکہ پائیدار ترقی کا عمل تیز کیا جا سکے میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ محرومیوں کا خاتمہ ہو اور عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کے ہر علاقے کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

خبرنامہ نمبر3133/2026
بارکھان17 اپریل:گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول بارکھان کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمن کھیتران کی جانب سے ٹرانسپورٹ بس کی فراہمی پر سکول انتظامیہ کی جانب سے اظہارِ تشکر کیا گیا ہے۔ماڈل ہائی سکول کے پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ نے اپنے مشترکہ بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور ایم پی اے سردار عبدالرحمن کھیتران کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بارکھان کے طلبہ کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔انہوں نے ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد اختر کھیتران اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف کا بھی شکریہ ادا کیا جو تعلیمی شعبے میں بھرپور خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ فراہم کردہ بس دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کے لیے تعلیم کا سفر آسان، محفوظ اور باقاعدہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے نہ صرف طلبہ کی حاضری میں اضافہ ہوگا بلکہ تعلیمی معیار میں بھی بہتری آئے گی۔سکول انتظامیہ نے اس تعلیمی دوست اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت بلوچستان مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کے ذریعے علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر3134/2026
صحبت پور17 اپریل:وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے وژن کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین نے گورنمنٹ انٹر کالج صحبت پور میں قائم انٹرمیڈیٹ امتحانی مرکز کا باقاعدہ دورہ کیا، جہاں انہوں نے امتحانی عمل اور مجموعی انتظامات کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے امتحانی ہالز، سیکیورٹی انتظامات، نگرانی کے مؤثر نظام، عملے کی حاضری اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران و عملے کو سختی سے ہدایات جاری کی گئیں کہ امتحانی عمل کو مکمل شفافیت، منصفانہ اصولوں اور مقررہ ضابطہ کار کے مطابق یقینی بنایا جائے، جبکہ نظم و ضبط کی ہر سطح پر پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے نقل کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امتحانی مراکز میں قانون و ضابطے کی مکمل عملداری ہر صورت برقرار رکھی جائے۔انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ طلبہ کو پرامن، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے امتحانات بہتر انداز میں مکمل کر سکیں۔مزید برآں، انہوں نے ہدایت کی کہ امتحانی عمل کے دوران مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی فوری روک تھام کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

خبرنامہ نمبر3135/2026
نصیرآباد:17 اپریل: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت علماء کرام اور ذاکرین امن کمیٹی کے ممبران کا اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، ذاکرین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں مسلم امہ کو اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے، ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد اسلامی ممالک نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال میں پاکستان نے غیر جانبداری اور امن پسندی کا جو کردار ادا کیا ہے آج پوری دنیا اس کی معترف ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل قدر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ ہمیشہ جاری رہ سکتی ہے،پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات اور بالخصوص نماز جمعہ کے اجتماعات میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں اور اپنے خطبات کے ذریعے پاکستان کے مثبت اور امن پسند کردار کو اجاگر کریں تاکہ عوام میں شعور اور اتحاد کو فروغ ملے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اس نے ہمیشہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے کوششیں کی ہیں، ملک کی سالمیت اور بقاء کے تحفظ کے لیے ہم سب کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور اتحاد مزید مضبوط ہوگا اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔اجلاس کے اختتام پر مسلم امہ کے اتحاد، خطے میں امن کے قیام اور پاکستان کے مؤثر ثالثی کردار کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

خبرنامہ نمبر3136/2026
لورالائی 17 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات جبکہ ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے انٹرمیڈیٹ (ایف ایس سی) کے سالانہ امتحانات کے سلسلے میں قائم میل و فیمیل امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف امتحانی ہالز کا معائنہ کیا اور جاری امتحانی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات، نشستوں کے انتظام، روشنی، پانی کی فراہمی اور دیگر ضروری امور کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر امتحانی مراکز میں صفائی ستھرائی، نظم و ضبط اور سیکیورٹی انتظامات کو بھی چیک کیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے نقل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شفاف، منصفانہ اور پرامن امتحانی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے امتحانی مراکز میں موجود طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں یکسوئی، محنت اور دیانتداری کے ساتھ امتحان دینے کی تلقین کی۔ طلبہ نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری کی ہدایات کے مطابق امتحانات کے صاف و شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تاکہ طلبہ کو بہترین اور منصفانہ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے.

خبرنامہ نمبر3137/2026
جعفرآباد17 اپریل:: ضلع جعفرآباد میں کام کرنے والی این جی اوز کی رابطہ کاری اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف این جی اوز کے نمائندگان نے شرکت کی اور اپنے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور اقدامات کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر ضلع بھر میں جاری ترقیاتی و سماجی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع جعفرآباد میں کام کرنے والی تمام این جی اوز کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ این جی اوز کے سربراہان پر لازم ہے کہ وہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کریں اور مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کریں تاکہ علاقے کی معاشی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تمام این جی اوز اپنے دفاتر ضلع جعفرآباد میں قائم کریں تاکہ عوام کو براہ راست سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ان کے مسائل کا فوری حل ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تمام امور کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جو ادارے حقیقی معنوں میں عوامی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ ضلع میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3138/2026
خضدار17 اپریل:: ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ نے ایک مؤثر اور بروقت کارروائی کے دوران منشیات اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 20 کلوگرام چرس برآمد کر لی۔محمکہ ایکسائز کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ زون محمد زمان خان کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کی قیادت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر سلیم نے کی جبکہ نارکوٹکس انچارج ای میر ذاکر باجوہی، انسپکٹر ممتاز علی اکبر بلوچ اور اہلکار مجید، عمران اور عبید بھی ٹیم کا حصہ تھیکارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جس کے تحت ایک مشکوک پوٹھوہار جیپ کی نگرانی کے بعد ناکہ بندی کی گئی۔ جبکہ محمکہ کے اہلکاروں نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا گیا تو ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم ایکسائز ٹیم نے فوری تعاقب کرتے ہوئے گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لی اور گاڑی کی تلاشی کے دوران 20 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسے آپریشنز کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا، اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر3139/2026
ہرنائی17 اپریل:صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی دلچسپی اور عوامی فلاح و بہبود کے وژن کے تحت ہرنائی میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا۔ بلوچستان سوشیو اکانومک ڈویلپمنٹ پروجیکٹ (فیز ٹو) کے تحت سور پل ندی سے اسپین تنگی تک 17 کلومیٹر طویل اور 24 فٹ چوڑے ڈبل ٹاپ روڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ اس منصوبے پر 74 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی، جس سے علاقے میں آمد و رفت کے جدید ترین ذرائع میسر آئیں گے۔گزشتہ روز منعقدہ پروقار افتتاحی تقریب میں انتظامی افسران، قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین تھے، جبکہ ان کے ہمراہ ایکسین بی اینڈ آر امین اللہ مندوخیل، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ عبدالناصر ترین، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) غلام حیدر ترین، اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ عبدالسلام دمڑ، حاجی محمد رضا ترین اور پاکستان مسلم لیگ کے کارکنوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کر کے اس منصوبے کو علاقے کی تقدیر بدلنے والا اقدام قرار دیا۔حکام کے مطابق یہ سڑک ہرنائی کی معاشی شہ رگ ثابت ہوگی۔ 74 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والا یہ 17 کلومیٹر طویل روڈ نہ صرف اسپین تنگی کو ضلعی ہیڈ کوارٹر سے منسلک کرے گا بلکہ زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی کو بھی تیز تر بنائے گا۔ صوبائی وزیر خوراک کے فوکل پرسن برائے ہرنائی، حاجی باز محمد دمڑ کی مشاورت سے اس منصوبے کے روٹ اور معیار کو حتمی شکل دی گئی ہے تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے اس عزم کا عکاس ہے کہ دور افتادہ علاقوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لایا جائے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی معیار اور بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ مقامی لوگوں نے اس دیرینہ مطالبے کی منظوری پر حاجی نور محمد دمڑ اور حاجی باز محمد دمڑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے علاقے میں بے روزگاری کا خاتمہ اور خوشحالی آئے گی۔

خبرنامہ نمبر3140/2026
گوادر17 اپریل:: گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سربندن میں قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان، سب آفس گوادر کے زیرِ اہتمام انسدادِ بدعنوانی کے حوالے سے ایک باوقار آگاہی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد طالبات میں دیانتداری، شفافیت اور ذمہ دار شہری ہونے کا شعور اجاگر کرنا تھا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر نیب بلوچستان (سب آفس گوادر) ہارون الرشید تھے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زراتون بلوچ، ڈائریکٹر نیب گوادر ارم رشید، ڈپٹی ڈائریکٹر نیب جہانگیر میمن، اسپیشل پراسکیوٹر نیب خالد بلوچ، اور ہائیر سیکنڈری اسکول سربندن کی ہیڈمسٹریس بانڑی بلوچ سمیت دیگر معززین نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بدعنوانی جیسے ناسور لعنت کے معاشرے پر منفی اثرات کو اجاگر کیا اور اس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل بالخصوص طالبات ملک کے روشن مستقبل کی ضامن ہیں، اور اگر انہیں ابتدائی سطح پر ہی دیانتداری اور قانون کی پاسداری کا شعور دیا جائے تو ایک شفاف اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔تقریب کا مرکزی موضوع ”بدعنوانی کے خلاف طالبات کا کردار” تھا، جس کے تحت طالبات کو ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے فرائض کا ادراک دلانے اور انہیں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بدعنوانی کے خلاف شعور اجاگر کرنا اور اس کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔تقریب کے دوران طالبات نے بھی پُرجوش انداز میں تقاریر پیش کیں اور انسدادِ بدعنوانی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں مہمانِ خصوصی نے بہترین تقاریر پیش کرنے والی طالبات میں تعریفی اسناد (Appreciation Certificates) تقسیم کیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔یہ تقریب نہ صرف آگاہی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی بلکہ طالبات میں قومی ذمہ داری کے احساس کو مزید تقویت دینے کا باعث بھی بنی۔

خبرنامہ نمبر3141/2026
پنجگور17 اپریل:: ضلعی انتظامیہ پنجگور کی جانب سے جرگہ ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف محکموں کے ضلعی سربراہان، سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور عمائدینِ شہر نے شرکت کی۔کھلی کچہری کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر پنجگور افتخار ظہیر اور ڈی ایس پی سٹی امیر جان بلوچ نے کی۔ اس موقع پر نمائندہ پنجگور رائفلز میجر حمزہ، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن عزت اللہ بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عابد ریکی، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عبدالغفار بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ظہور احمد بلوچ، ایکسین بی اینڈ آر ظریف بلوچ، ایس ڈی او پی ایچ ای ظفر بلوچ، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی اکرام نور بلوچ، ایس ڈی او کیسکو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و نمائندگان بھی موجود تھے۔اس موقع پر معزز شہریوں اور سماجی و سیاسی نمائندگان نے پنجگور کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔ مقررین نے بالخصوص بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام، صحت کی سہولیات کی بہتری، زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو ریلیف کی فراہمی، اور ٹریفک نظام کی بہتری جیسے امور پر توجہ دلائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیچنگ ہسپتال میں قائم تھلیسیمیا سنٹر میں بلڈ بیگز اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ مستحق مریضوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔دریں اثناء اسسٹنٹ کمشنر پنجگور افتخار ظہیر نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ بھرپور اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو مسائل انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں ہوں گے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جبکہ دیگر مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچا کر ان کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہری میں اٹھائے گئے تمام مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر بلاامتیاز عوامی خدمت کو یقینی بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر3142/2026
ہرنائی17 اپریل: محکمہ جنگلات بلوچستان میں انتظامی تبدیلیوں کے سلسلے میں محمد ذاکر مری کو نیا ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (DFO) ہرنائی تعینات کر دیا گیا، جنہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے۔ اس موقع پر محکمہ جنگلات کے افسران اور علاقائی معززین کی جانب سے ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔محمد ذاکر مری کی تعیناتی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر کوہلو جان محمد کاکڑ، زراعت آفیسر ہرنائی بہاؤالدین کاکڑ، ڈپٹی رینجر فارسٹ مولوی ربانی ترین، فارسٹر عجب خان اور رینج فارسٹ آفیسر جانان ترین نے خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ ملک نجیب ترین، شمس مری، عبدالواجد، مصطفی مری اور محکمہ جنگلات ہرنائی کے دیگر عملے نے بھی نئے ڈی ایف او کو ان کی نئی ذمہ داریوں پر خوش آمدید کہا۔تقریب کے دوران حاضرین نے محمد ذاکر مری کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مٹھائی تقسیم کی۔ شرکاء نے ان کی تعیناتی کو محکمے کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی سربراہی میں ہرنائی میں جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری مہم کو مزید تقویت ملے گی۔ افسران اور عملے نے نئے ڈی ایف او کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد ذاکر مری نے تمام افسران اور عملے کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ضلع ہرنائی میں قدرتی جنگلات کے بچاؤ اور سبزے کی مقدار میں اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ علاقے کے ماحولیاتی حسن کو برقرار رکھا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3143/2026
قلات 17اپریل:وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت کیمطابق نقل سے پاک امتحانی مراکز کے قیام کویقینی بنانے کیلئے قلات انتظامیہ متحرک ہوگء ہیایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شاہنوازبلوچ نیگورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں قائم امتحانی سینٹر کادورہ کیادورے کے موقع پر امتحانات پر تعینات اسٹاف کی حاضریاں چیک کیں طالبات کے پیپرز چیک کیئے اور ان سے سوالات بھی پوچھے اورنقل کی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات اورسینٹرز میں سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے کہاکہ طلباء طالبات ہمارے مستقبل کے معمار ہیں طلباء اپنی تمام ترتوجہ اپنے تعلیم پر دیں خوب محنت کریں اور نقل جیسے ناسور سے گریز کریں نقل انسان کی تمام صلاحیتوں کو ختم کردیتا ہے۔

خبرنامہ نمبر3144/2026
قلات17 اپریل:وزیراعلی کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کی تعمیراتی کام تیزترکردی گء ہیایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے گھروں کی تعمیراتی کام کا تفصیلی دورہ کیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن یونٹ(HRU) بلوچستان کی جانب سے جاری IFRAP پراجیکٹ کی مقاصد سیلاب متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیرات اور درپیش مسائل سے متعلق متعلقہ پرجیکٹ حکام سے ریفنگ لی.ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے تعمیراتی کام کی رفتار اور تعمیرات میں استعمال ہونے والے میٹیریل کے معیار کا بھی جائزہ لیااورسیلاب متاثرین کی بحالی اقدامات میں HRU بلوچستان کی مالی معاونت اور این آرایس پی کی کارکردگی سے متعلق کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کی نگرانی جاری رکھا جائیگی، تعمیراتی کام میں ہر صورت انتظامی و تیکنیکی تعاون جاری رہے گا اور کسی بھی سطح پر کوتاہی و کمزوری کو فوری طورہر دور کیا جائیگا۔ تاکہ بے گھر سیلاب متاثرین کی داد رسی کی جائے این آرایس پی کے ڈسٹرکٹ مینیجر رشید بلوچ نے قلات انتظامیہ کے تعاون کو پراجیکٹ کی کامیابی کے حوالے سے اہم قراردیا اوراس توقع کا اظہار کیا کہ پراجیکٹ کی کامیابی اورتکمیل تک انتظامی افسران تکنیکی تعاون جاری رکھیں گے.

خبرنامہ نمبر3145/2026
کوئٹہ، 17 اپریل انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے جوان پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن و امان کو قائم رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے ابتک عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے 1139کے قریب پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جو کہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں سینٹرل پولیس آفس میں مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ کے زیر تربیت افسران کو دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔ اس موقع پر ڈائر یکٹر جنرل نیپا سید علی رضا شاہ، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز آغا محمد یوسف، ایڈیشنل آئی جی پولیس ایڈمن جاوید علی مہر، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر حسن اسد علوی، ڈی آئی جی ٹیلی شاد ابن مسیح، اے آئی جی آپریشنز نوید عالم کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔ زیر تربیت افسران کو سی پی او آفس میں ڈیٹا کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن سینٹر، لائبریری، میوزیم اور ڈے کیئر سینٹر کا معائنہ بھی کروایا گیا۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایریا اے ایریا میں ضم ہونے سے پہلے اصلاحات پر کام ہو رہا تھا لیکن اب ان پر مزید تیزی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو قائم رکھنے اور عوام کے تحفظ کے لئے گزشتہ سال جاری خصوصی مہم کے دوران 780 اشتہاری، 1466 مفرور اور 1404 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہیں جبکہ 26 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا گیا ہیں۔ اعلیٰ مثالی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے رینجز اور اضلاع کے افسران کو تعریفی اسناد اور نقد انعام سے بھی نوازا جارہا ہے۔ جبکہ گرفتار اشتہاریوں اور مطلوب ملزمان کے جرائم کی فہرست کا تبادلہ دیگر صوبوں سے بھی کی جارہی ہے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ سیریس کرائم ونگ شعبے کے قیام سے پیچیدہ،مشکل اور نہ حل ہونے والے کیسوں میں ملوث ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ رینجز اور اضلاع میں کھلی کچہری کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے جس سے عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا ہے اس کے علاوہ سینٹرل پولیس آفس میں قا ئم شکایا ت سیل ہیں اور آئی جی پولیس بلوچستان کے واٹس ایپ اور ٹول فری کے علاوہ دیگر نمبروں پر عوام کی شکایا ت درج کرکے اس کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک اور جرائم پیشہ عناصر کو مانیٹرنگ کے لئے سیف سٹی کیمروں سے مدد لی جاتی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ سابقہ لیویز کے جوانوں کو پولیس میں ضم ہونے کے بعد جدید تربیت سے آراستہ کیا جارہا ہے ان کی کارکردگی متاثرکن ہے انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء کے خاندانوں کی کفالت کے لئے شعبہ موجود ہے جو اُن کی شکایات کے حل فلاح و بہبود کے لئے ہمہ وقت موجودے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں خود احتسابی نظام کے تحت اچھی کارکردگی پر انعامات سے نوازا جاتا ہے جبکہ ناقص کار کردگی پر سزائیں دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کے لئے مدد گار جذبہ کے تحت دیگر اداروں کے ساتھ ملکر طوفانی بارشوں، شدید برفباری اور سیلاب میں پھنسے مسافروں کو نکال کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی زیارت میں بلوچستان پولیس کی جانب سے ریسکیو یونٹ قائم کیا گیا ہے جس میں خواتین عملہ بھی شامل ہے۔جوسیاحوں کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مدد دیتے ہیں بریفیگ کے اختتام پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے ڈائر جنرل سید علی رضا شاہ کے مابین یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی ہوا۔

خبرنامہ نمبر3146/2026
گوادر17 اپریل:: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زراتون بلوچ نے ضلع کے مختلف تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کیا، جن میں گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول سینیٹر اسحاق وارڈ، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول زربار، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول شینکانی در اور گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سربندن شامل ہیں۔دورے کے دوران انہوں نے تعلیمی و تدریسی ماحول، طلبہ کی حاضری، اساتذہ کی کارکردگی اور جاری تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر اساتذہ کو ہدایت دی گئی کہ تدریسی معیار کو مزید بہتر بنانے، نصابی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے محکمہ جنگلات کے تعاون سے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اسکولوں کو پودے بھی فراہم کیے۔ شینکانی در اور سربندن کے اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کے ہمراہ باقاعدہ شجرکاری مہم میں حصہ لیا گیا، جس کا مقصد طلبہ میں ماحول دوست رویوں کو فروغ دینا تھا۔مزید برآں، فیڈنگ اسکولز کے ہیڈ ٹیچرز کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں تعلیمی مسائل، سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی دستیابی، طلبہ کے داخلوں میں اضافہ اور تعلیمی معیار کی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے اور باہمی رابطہ مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم، مثبت ماحول اور ہم نصابی سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ضلعی سطح پر اس حوالے سے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کو بہتر اور باوقار تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر3147/2026
چمن 17 اپریل:ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج چمن میں جاری ایف اے اور ایف ایس سی کی سالانہ امتحانات کے دوران گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چمن جمال ناصر شھید گراؤنڈ امتحانی سنٹر کا اچانک دورہ کیا اس موقع پر سپرینٹنڈنٹ پروفیسر ایاز خان اور پروفیسر دلبر خان نے امتحانات کے حوالے سے ڈی سی چمن کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں ڈی سی چمن نے امتحانی سنٹر میں صفائی ستھرائی پانی اور امتحانی عملے کی کارکردگی اور امتحانی عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور سٹوڈنٹس کی رولنمبر سلپس چیک کیں اس دوران انہوں نے امتحانی مرکز کے سپرینٹینڈنٹ اور دیگر منتظمین کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ نقل کی روکھ تھام کو یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ ہرگز نہیں کیا جائے کیونکہ نقل کی روک تھام سے طلباء و طالبات کی پڑھائی کی طرف رجحان پیدا ہو کر محنت اور مستقل مزاجی سے مطالعہ کرنے کے عادی بن جائیں گے انہوں نے امتحانی سینٹر کی احاطے میں سکیورٹی کا بھی جائزہ لیا اور امتحانی سینٹرز پر تعینات پولیس اہلکاروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پیپر دینے کے دوران امتحانی احاطے میں کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو نہیں چھوڑا جائے ڈی سی چمن نے پروفیسر ایاز خان کی کارکردگی پوری امتحانی عملے، سنٹر کی سیکیورٹی صورتحال سہولیات امتحانی شفافیت اور نقل کی روکھ تھام کو یقینی بنانے کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا

خبرنامہ نمبر3148/2026
بارکھان 17 اپریل: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول رکھنی میں قائم ایف اے و ایف ایس سی امتحانی مرکز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے امتحانی عمل اور انتظامات کا جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ امتحانی مراکز پر فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ طلبہ پرامن اور سازگار ماحول میں اپنے امتحانات دے سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے شفافیت برقرار رکھنے اور نقل کی روک تھام کے لیے بھی سخت اقدامات کرنے کی تاکید کی۔

خبرنامہ نمبر3149/2026
لورالائی 18 اپریل:ڈی پی ایس سکول لورالائی میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محیب اللہ خان بلوچ نے سکول کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سکول کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے بالخصوص کچرے کی صفائی اور واش رومز کی صورتحال کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران چیف آفیسر نے صفائی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بعض مقامات پر مزید بہتری کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو سختی سے تاکید کی کہ سکول میں صفائی کے نظام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے اور خاص طور پر واش رومز کی صفائی، پانی کی دستیابی اور جراثیم کش اسپرے کے استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول میسر آ سکے۔محیب اللہ خان بلوچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے ہماری نئی نسل کی تربیت کے مراکز ہیں، جہاں صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی شہر بھر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے سکولوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اس شعور کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں سکول انتظامیہ اور طلبہ کو بھی صفائی برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔دورے کے دوران سکول انتظامیہ نے صفائی کے حوالے سے درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا، جس پر چیف آفیسر نے فوری حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر علاقہ مکینوں اور سکول انتظامیہ نے چیف آفیسر کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

خبرنامہ نمبر3150/2026
بارکھان 17 اپریل:ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول رکھنی میں قائم ایف اے و ایف ایس سی امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے امتحانی ہالز کا تفصیلی معائنہ کیا، طلبہ کی حاضری، سوالیہ پرچوں کی ترسیل، امتحانی عملے کی موجودگی اور مجموعی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے امتحانی مراکز میں صفائی، روشنی، بیٹھنے کے انتظام اور دیگر سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سعیدالرحمن کاکڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات کے دوران فول پروف سیکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے پولیس اور لیویز اہلکاروں کو ہدایت دی کہ امتحانی مراکز کے اطراف سخت نگرانی رکھی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بروقت نمٹا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ نقل جیسے غیر قانونی عمل کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے امتحانی عملے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور فرض شناسی کے ساتھ ادا کریں تاکہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رہے۔ڈپٹی کمشنر نے طلبہ سے بھی مختصر گفتگو کی اور انہیں محنت، دیانت اور اعتماد کے ساتھ امتحانات دینے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی کامیابی ہی ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امتحانات پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہوں گے۔

خبرنامہ نمبر3151/2026
بارکھان 17 اپریل:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت ضلع بارکھان میں شفاف امتحانی نظام کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ بھرپور انداز میں متحرک ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سعیدالرحمن کاکڑ نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول رکھنی میں قائم ایف اے و ایف ایس سی امتحانی مرکز کا اچانک دورہ کیا اور انتظامات کا خود جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف بھی ان کے ہمراہ تھے، جبکہ امتحانی مرکز کے سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ادریس احمد، ڈیپارٹمنٹل سپرنٹنڈنٹ محمد اقبال اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جہانزیب خان نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر نے امتحانی ہالز، طلبہ کی حاضری، سوالیہ پرچوں کی ترسیل، عملے کی کارکردگی اور سیکیورٹی انتظامات کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے صفائی، روشنی اور بیٹھنے کے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا، تاہم واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔سعیدالرحمن کاکڑ نے دوٹوک انداز میں پیغام دیا کہ نقل مافیا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے لیے بارکھان میں کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ امتحانی مراکز کے گرد سخت نگرانی کو یقینی بنایا جائے اور ہر مشکوک سرگرمی پر فوری نظر رکھی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی عملے کی معمولی کوتاہی بھی قابل قبول نہیں ہوگی، اور اگر کسی اہلکار کی ملی بھگت سامنے آئی تو اس کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف امتحانی نظام ہی میرٹ اور انصاف کی بنیاد ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے انہیں محنت، دیانتداری اور خود اعتمادی کے ساتھ امتحان دینے کی تلقین کی اور کہا کہ نقل وقتی سہارا تو دے سکتی ہے، مگر اصل کامیابی ہمیشہ محنت اور قابلیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔آخر میں انہوں نے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بارکھان میں امتحانات کو ہر صورت شفاف، منصفانہ اور پرامن بنایا جائے گا، جبکہ نقل کے خاتمے کے لیے اقدامات بھرپور انداز میں جاری رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر3152/2026
خضدار 17 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات جبکہ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے انٹرمیڈیٹ (ایف ایس سی) کے سالانہ امتحانات کے سلسلے میں قائم میل و فیمیل امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیادورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے مختلف امتحانی ہالز کا معائنہ کیا اور جاری امتحانی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے طلبہ کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات، نشستوں کے انتظام، روشنی، پانی کی فراہمی اور دیگر ضروری امور کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر امتحانی مراکز میں صفائی ستھرائی، نظم و ضبط اور سیکیورٹی انتظامات کو بھی چیک کیا گیا اسسٹنٹ کمشنر نے نقل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ شفاف، منصفانہ اور پرامن امتحانی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہیانہوں نے امتحانی مراکز میں موجود طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں یکسوئی، محنت اور دیانتداری کے ساتھ امتحان دینے کی تلقین کی۔ طلبہ نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری کی ہدایات کے مطابق امتحانات کے صاف و شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تاکہ طلبہ کو بہترین اور منصفانہ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے.

خبرنامہ نمبر3153/2026
موسیٰ خیل 17 اپریل:ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے تونسہ ٹو درگئی شبوزئی روڈ پیکج نمبر 04 اور پیکج نمبر 05 پر جاری تعمیراتی پلوں کے کام کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر پروجیکٹ حاجی احمد سعید جعفر نے ڈپٹی کمشنر کو پلوں کی تعمیر اور سڑک کے دیگر ڈھانچے پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ پلوں کی تعمیر سمیت منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تونسہ تا درگئی شبوزئی روڈ کا منصوبہ علاقے کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان تعمیراتی پلوں کی تکمیل سے آمد و رفت میں بڑی سہولت پیدا ہوگی۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ عوامی فلاح کے ان منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ ان منصوبوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ تعمیراتی کام میں شفافیت اور معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر3154/2026
لورالائی 17 اپریل: سپرنٹنڈنگ انجینئر، ایریگیشن سرکل لورالائی، انجینئر نور محمد مندوخیل نے فیلڈ اسٹاف کے ہمراہ مرا تنگی ڈیم منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے اہم حصے، بالخصوص اسپِل وے (Spillway) کی تعمیر اور رسائی سڑک کی کٹائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ کنسلٹنٹ ٹیم بھی موقع پر موجود تھی جو تکنیکی نگرانی اور کام کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔اس موقع پر انجینئر نور محمد مندوخیل نے کہا کہ مرا تنگی ڈیم منصوبہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ایک اہم اسکیم ہے، جسے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اوتمانخیل کی کاوشوں سے تقریباً 5 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے لورالائی شہر کو پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی ممکن ہو سکے گی اور علاقے میں پانی کی شدید قلت کے مسئلے میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیم کی تکمیل نہ صرف شہری آبادی کے لیے پینے کے پانی کی دستیابی کو بہتر بنائے گی بلکہ زیر زمین پانی کی سطح کو بحال کرنے، زرعی ضروریات پوری کرنے اور مقامی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان کے خشک علاقوں میں اس نوعیت کے آبی منصوبے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے اور مستقبل میں پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔علاقہ مکینوں نے بھی اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس کی بروقت تکمیل سے نہ صرف پینے کے پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگا بلکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو بھی فروغ ملے گا۔محکمہ آبپاشی بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں پانی ذخیرہ کرنے، سیلابی پانی کو کارآمد بنانے اور آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام جاری منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر3155/2026
موسیٰ خیل17 اپریل: حکومتِ بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں اور ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل کی خصوصی ہدایات پرگزشتہ روز ہونے والے اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ڈرگ انسپکٹر نے اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ کے ہمراہ میڈیکل اسٹورز کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران ادویات کی تاریخِ تنسیخ (ایکسپائری) اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی دستیابی سمیت اسٹورز کی مجموعی طبی صورتحال کو چیک کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان ڈرگ رولز 2021 کے مطابق معیار پر پورا نہ اترنے والے مالکان کو 30 روزہ وارننگ لیٹر جاری کیے گئے تاکہ وہ ایک ماہ کے اندر تمام ضروری شرائط مکمل کر لیں مزید برآں ادویات کے معیار کی تصدیق کے لیے نمونے حاصل کر کے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) روانہ کر دیے گئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر3156/2026
لورالائی17اپریل:ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات اور اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے، جس میں متعدد غیر قانونی مہاجرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس آپریشن میں پولیس فورس کے ساتھ اے ایس آئی جہانگیر خان نے بھی حصہ لیا۔ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کی نشاندہی میں تعاون کریں تاکہ علاقے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے

خبرنامہ نمبر3157/2026
کوئٹہ 17اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے پانچویں روز کی کارکردگی کے سلسلے میں جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ، ڈپٹی ڈی ایچ او، پولیو آفیسران اور دیگر مانیٹرز نے شرکت کی۔ دورانِ اجلاس پولیو مہم کا مکمل ڈیٹا پیش کیا گیا جس میں رفیوزل، مستقل رفیوزل، این اے کیسز، اسکولز و مدارس کی کوریج سمیت ضلعی سطح پر جاری مہم کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ جہاں ٹیموں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی یا ٹارگٹس حاصل نہیں ہو سکے، وہاں متعلقہ اہلکاران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو روزہ کیچ اپ مہم میں تمام ٹیمیں بھرپور محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں تاکہ مقررہ ٹارگٹس ہر صورت مکمل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے افسران متعلقہ سب ڈویژنز میں خود فیلڈ میں موجود رہیں گے اور رفیوزل کیسز کی کوریج کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام رفیوزل اور این اے کیسز کی مکمل کوریج ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

خبرنامہ نمبر3158/2026
لسبیلہ ۔ 17 اپریل:بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) اور لسبیلہ چیمبر آف کامرس کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیکس کی ادائیگی قانونی تقاضوں اور کاروباری اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا اجلاس کی صدارت چیئرمین بی آر اے عبداللہ خان نے کی جبکہ اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر لیڈا لیاقت علی کاشانی محکمہ خزانہ کے ریونیو و مالیاتی پالیسی کے سربراہ سعداللہ خان کاکڑ اور اسسٹنٹ کمشنر بی آر اے عبیداللہ بھی شریک تھے اجلاس میں لسبیلہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور لیڈا بورڈ کے رکن اسماعیل ستار سیکرٹری جنرل انجم رفت اللہ خان سمیت حب کے صنعتی نمائندوں نے بھی شرکت کی اجلاس کے دوران بلوچستان ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ادائیگی اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 پر عملدرآمد کے حوالے سے اہم گفتگو ہوئی بی آر اے حکام نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے لیے لازم ہے کہ وہ بلوچستان ورکرز ویلفیئر بورڈ ایکٹ 2022 کے مطابق ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ادائیگیاں حکومت بلوچستان کو یقینی بنائیں اس کے علاوہ اجلاس میں غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا جہاں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام کاروباری ادارے اپنی رجسٹریشن مکمل کریں اور باقاعدگی سے ٹیکس ریٹرنز چاہے وہ نِل ہی کیوں نہ ہوں جمع کروائیں تاکہ شفافیت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ممکن ہو سکے لسبیلہ چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے بی آر اے کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ غیر رجسٹرڈ اداروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے اس موقع پر لیڈا نے بھی اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیوں اور فیکٹریوں کی رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کاروباری برادری اور حکومتی اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے نہ صرف ٹیکس نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ صوبے میں صنعتی و معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر 3159/2026
اوتھل – بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع ہندو مذہب کی مقدس عبادت گاہ ہنگلاج ماتا نانی مندر کا سالانہ تین روزہ مذہبی میلہ باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے، جس میں شرکت کے لیے ملک بھر سے ہزاروں ہندو یاتری پہنچ چکے ہیں۔ میلے کے آغاز کے ساتھ ہی یاتریوں کی بڑی تعداد ہنگلاج کے مقام پر جمع ہوگئی ہے، جہاں وہ مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ روایتی طور پر یاتریوں کا پہلا پڑاؤ چندر گوپ میں ہوتا ہے، جہاں ابتدائی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد قافلے ہنگلاج ماتا نانی مندر کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ میلے کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں ضلعی انتظامیہ، ڈسٹرکٹ پولیس لسبیلہ، ایف سی بلوچستان، پاکستان کوسٹ گارڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ یاتریوں کے داخلے کے لیے واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی چیکنگ کے جدید انتظامات بھی یقینی بنائے گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان کی ہدایت پر یاتریوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے میڈیکل ٹیمیں، ڈاکٹرز، پی پی ایچ آئی لسبیلہ، ریسکیو 1122 اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز ہمہ وقت موجود ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی ریسپانس سینٹر (ERC) بھی فعال کردیا گیا ہے۔ ہنگلاج شیوا منڈلی کی جانب سے یاتریوں کے لیے تینوں دن مفت کھانے، صاف پانی اور میڈیکل کیمپ کے ذریعے ادویات کی فراہمی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ اور پاکستان کوسٹ گارڈ کی جانب سے بھی فری میڈیکل کیمپس اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ میلے کے انتظامات کی نگرانی میں ہنگلاج ماتا ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ سوسائٹی کے عہدیداران کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *