16th-May-2026

خبرنامہ نمبر4095/2026
کوئٹہ، 16 مئی 2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں ریاست دشمن عناصر کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کا قتل بلوچستان کے امن، قانون کی بالادستی اور ریاستی رٹ پر حملہ ہے انہوں نے کہا کہ خواتین، اساتذہ اور بچوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد عناصر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لیڈی پولیس اہلکار کے خاندان پر حملہ دہشت گردوں کی سفاک ذہنیت کا واضح ثبوت ہے اور معصوم شہریوں پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اساتذہ اور علمی شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات کو بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری شناخت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قلم اور شعور کے دشمن عناصر صوبے کے روشن مستقبل کے دشمن ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے عناصر کو قانون کے شکنجے میں لا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔

خبرنامہ نمبر4096/2026
صحبت پور۔۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین کی خصوصی کاوشوں اور عوامی فلاح و بہبود کے وژن کے تحت ضلع کے دور دراز علاقے گوٹھ درگی کے مکینوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں فری کسان فری پاکستان آرگنائزیشن کراچی سے ایمبولینس کی فراہمی کے لیے باضابطہ درخواست کی گئی تھی، جس پر تنظیم نے فوری مثبت ردعمل دیتے ہوئے ایک ایمبولینس فراہم کر دی فراہم کردہ ایمبولینس کو ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین، کی جانب سے باقاعدہ طور پر پی پی ایچ آئی صحبت پور کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ گوٹھ درگی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے عوام کو بروقت اور معیاری طبی و ہنگامی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اس موقع پر ضلعی انتظامیہ صحبت پور نے فری کسان فری پاکستان آرگنائزیشن کراچی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلاحی اداروں کے اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف صحت کے شعبے میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے فوری طبی امداد کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ضلعی انتظامیہ صحبت پور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ عوام کو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے اور معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے.

خبرنامہ نمبر4097/2026
صحبت پور۔۔حکومتِ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبہ بھر میں تعلیمی شعبے کی بہتری، معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں اسی سلسلے میں ضلع صحبت پور میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت مختلف ترقیاتی اسکیموں پر تیزی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول سخی در محمد کھوسہ اور گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز ہائی اسکول مانجھی پور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نئے تعمیر شدہ تدریسی کمروں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں اور تعمیراتی معیار کا تفصیلی جائزہ بھی لیا منصوبے کے تحت نہ صرف نئے کمروں کی تعمیر مکمل کی گئی بلکہ خستہ حال کمروں کی مرمت اور بحالی کا کام بھی انجام دیا گیا ہے تاکہ طلبہ و طالبات کو محفوظ، بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی ترقی، بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے فروغ کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے ضلعی انتظامیہ صحبت پور کے مطابق تعلیم صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا، تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ضلع کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے

خبرنامہ نمبر4098/2026
خضدار 16 مئی 2026 جی او سی 33 ڈویژن کا خضدار میں بی آر سی اور شہید عاشق لائبریری کا دورہ، اساتذہ طلباء اور عملے سے ملاقات۔ ان سے خطاب بھی کیا ۔ جی او سی 33 ڈویژن میجر جنرل شہر یار منیر حفیظ نے خضدار میں بلوچستان ریزیڈنشل کالج خضدار اور کیپٹن (ر) شہید محمد عاشق عثمان پبلک لائبریری خضدار کا معائنہ کیا۔ یہ دونوں منصوبے بی ایس ڈی آئی فیز-1 کے تحت تعمیر و بحالی کے بعد عوام کے لئیے فعال کیے گئے ہیں۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کمانڈنٹ ایف سی قلات اسکاؤٹس کرنل عرفان بنگش ایکسیئن محکمہ مواصلات و تعمیرات انجینئر سلیم رزاق عمرانی سمیت اسٹاف افسران اور متعلقہ محکموں کے افسران بھی ہمراہ تھے۔ جی او سی 33 ڈویژن میجر جنرل شہر یار منیر حفیظ نے سب سے پہلے بی آر سی خضدار پہنچ کر پرنسپل سے ملاقات کی اور کالج کے تدریسی و انتظامی امور، طلبہ کی سہولیات اور درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ فیکلٹی ممبران سے ملاقات کے دوران اساتذہ نے درسی سرگرمیوں اور وسائل سے متعلق اپنے نکات پیش کیے۔ اس کے بعد جی او سی نے طلبہ سے براہ راست مکالمہ کیا، ان کے تعلیمی اہداف، کیرئیر پلاننگ اور درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے طلبہ کی محنت اور جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل انہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے، اور پاک فوج تعلیمی فروغ کے لیے ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گی۔ دوسرے مرحلے میں جی او سی نے بی ایس ڈی آئی فیز-1 کے تحت بحال ہونے والی کیپٹن (ر) شہید محمد عاشق عثمان پبلک لائبریری کا معائنہ کیا۔ انہوں نے لائبریری کے اسٹڈی ہال، ڈیجیٹل سیکشن اور کتب خانے کا دورہ کرکے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مقامی طلبہ اور عام شہریوں سے ملاقات کی گئی، جنہوں نے لائبریری کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور مزید بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی اور ایکسیئن انجینئر سلیم رزاق عمرانی نے منصوبے کی تکمیل اور عوامی رسائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ جی او سی نے خواہش ظاہر کی کہ لائبریری کو نوجوانوں کے لیے علم و تحقیق کا فعال مرکز بنایا جائے اور تمام سہولیات کو معیاری سطح پر برقرار رکھا جائے۔ جی او سی 33 ڈویژن جی او سی 33 ڈویژن میجر جنرل شہر یار منیر حفیظ کا کہناتھا کہ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبے بلوچستان کی ترقی اور عوامی اعتماد کے ضامن ہیں۔ پاک فوج سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان منصوبوں کی تکمیل اور پائیداری کے لییہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر4099/2026
ڈپٹی کمشنر قلات اورڈی ایچ او قلات کی کوششوں سے 50بیڈڈ پرنس عبدالکریم خان ہسپتال قلات گردے کے امراض میں مبتلاء مریضوں کیلئے امید کی کرن بن چکا ہے ڈائلیسز یونٹ آپریشنل ہونیسے قلات ڈویژن کے دوردرازعلاقوں سے لوگ علاج کی دستیاب سہولت سے مستفید ہونے کیلئے ہسپتال کا رخ کررہے ہیں سرکاری ذرائع کے مطابق پرنس عبدالکریم خان ہسپتال قلات کے ڈائیلاسز یونٹ میں گزشتہ 5 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 236 ڈائلیسز سیشنز کامیابی سیمکمل ہو چکے ہیں جو طبی عملے کی محنت اورپیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے واضح رہے کہ قلات ڈویژن کی اکثریتی آبادی دشوارگزارپہاڑی علاقوں میں رہائش پزیراورغربت کے باعث گردے کے امراض میں مبتلاء مریضوں کو علاج کیلئے کراچی اورکوئٹہ جانا پڑتاتھا مالی دشواریوں کے باعث اکثر مریض ڈائیلاسز کروانے سے محروم رہ جاتے تھے2012میں ایم پی اے قلات آغاعرفان کریم نے عوامی مشکلات کے پیش نظر قلات میں ڈائلیسز یونٹ قیام کی منظوری دی تھی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن قلات اورڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی دلچسپی کی بدولت ڈائلیسز یونٹ مکمل فعال ہونے سے علاقے کے عوام کو انکے اپنے علاقے میں مفت ڈائلیسیز کی سہولت میسراورسینکڑوں مریض مستفید یورہے ہیں

خبرنامہ نمبر4100/2026
استامحمد۔۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی DDC کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت معیار اور تکمیل کے مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران اور متعلقہ نمائندگان نے شرکت کی جن میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج استامحمد محمد کے پرنسپل عبیداللہ زہری ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگز محمد یاسین چانڈیو اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ یاسین جمالی ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ شکراللہ بلوچ، ایس ڈی او ایریگیشن عابد علی سیال جبکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اُستامحمد عبد الکریم مستوئی شامل تھے اجلاس کے دوران BSDI کے تحت جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا متعلقہ افسران نے منصوبوں کی موجودہ صورتحال پیش رفت درپیش مسائل اور تکمیل کے معیار سے متعلق بریفنگ دی مکمل ہونے والے منصوبوں کی فزیکل ویریفکیشن کے بعد ان کی بلنگ کی منظوری دی گئی جسے مزید کارروائی اور اے سی ایس ڈویلپمنٹ کی حتمی منظوری کے لیے PMTS پورٹل پر ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیامزید برآں اجلاس میں BSDI فیز III کے تحت نئی ترقیاتی تجاویز بھی طلب کی گئیں تاکہ ضلع استامحمد میں عوامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق مزید مؤثر اور دیرپا ترقیاتی منصوبے شامل کیے جا سکیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے متعلقہ تمام محکموں کو سختی سے ہدایت کی کہ جاری منصوبوں میں معیارِ کار شفافیت اور مقررہ مدت میں تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کرنا ہے اس لیے کسی بھی قسم کی سستی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام منصوبے شفافیت اور معیار کے ساتھ مکمل کیے جائیں گے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں

خبرنامہ نمبر4101/2026
جعفرآباد: چھٹی کے روز ڈپٹی کمشنر جعفرآباد میر خالد خان نے ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا اچانک دورہ کرتے ہوئے مختلف اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا اور ترقیاتی عمل کی رفتار، معیار اور شفافیت کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بریفنگ لی۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پروگرام فیز ون کے تحت جاری اہم عوامی منصوبوں کا معائنہ کیا جن میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے واٹر کورسز، ٹیمپل ڈرین پر گیٹ کی تنصیب، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ اللہ یار اور گورنمنٹ گرلز کالج ڈیرہ اللہ یار میں جاری ترقیاتی کام شامل تھے۔ اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر محمد صدیق زہری نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبوں کی نوعیت، پیش رفت اور درپیش امور کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی جبکہ میر خالد خان کھوسہ اور میر نوبت خان جکھرانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد میر خالد خان نے جاری منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی اسکیمیں مفاد عامہ کے لیے ہیں لہٰذا ان کی بروقت اور معیاری تکمیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے کہ ہر منصوبہ مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہو تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ انجینیئرز اور افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی عمل کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں اور فیلڈ میں اپنی موجودگی ہر صورت برقرار رکھیں کیونکہ کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا ناقص نگرانی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایریگیشن و ڈرینیج سسٹم پر جاری ترقیاتی منصوبے موجودہ موسمی اور زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیے گئے ہیں، اس لیے ان منصوبوں کی حساسیت کے پیش نظر افسران پر لازم ہے کہ وہ کڑی مانیٹرنگ کریں تاکہ مستقبل میں عوام کو ممکنہ مشکلات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی یا فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے حکام بالا کو رپورٹ ارسال کی جائے گی۔ میر خالد خان نے مزید کہا کہ تعمیراتی منصوبوں میں سخت نگرانی کا مقصد صرف اور صرف معیار کو بہتر بنانا، سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنانا اور عوامی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع انتظامیہ آئندہ بھی اسی طرح سرپرائز وزٹس کے ذریعے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتی رہے گی تاکہ ہر منصوبہ شفافیت، معیار اور عوامی توقعات کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔

خبرنامہ نمبر4102/2026
کوئٹہ، 16 مئی 2026: عدالت عالیہ بلوچستان کے ایک علامہ کے مطابق ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ (اپائنٹمنٹ اینڈ کنڈیشن آف سروس) رولز 2020 کے پہلے شیڈول اور محکمہ خزانہ حکومتِ بلوچستان کے خط نمبر FD (R-1)III-55/2006/2591-2690 مورخہ 06 دسمبر 2006 کے پیرا نمبر (1) کی روشنی میں، معزز چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے اسد اللہ خان ترین، ڈپٹی رجسٹرار (BPS-19) کو قائم مقام بنیادوں پر سیکرٹری ٹو چیف جسٹس (BPS-20) کے عہدے کا اضافی چارج سونپنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تقرری 08 دسمبر 2025 سے نافذ العمل ہوگی اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔ اعلامیے کے مطابق قائم مقام چارج کی یہ تفویض کسی بھی صورت باقاعدہ ترقی کا حق تصور نہیں ہوگی، جبکہ اس چارج کے اختتام پر متعلقہ افسر اپنے اصل عہدے پر واپس فرائض انجام دیں گے۔

خبرنامہ نمبر4103/2026
کوئٹہ 16 مئی: محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان نے کاروباری اوقات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ 16 مئی 2026 کو جاری اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو یکم جون 2026 تک مقررہ بندش اوقات سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سے قبل 7 اپریل 2026 کے جاری کردہ حکم کے دیگر تمام شرائط و ضوابط بدستور برقرار رہیں گے۔

خبرنامہ نمبر4104/2026
موسی خیل 16 مئی:ڈپٹی ڈی ایچ او موسی’ خیل ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے جاری 16 روزہ (IOA) مہم کے سلسلے میں مختلف Ucs کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام، کولڈ چین مینجمنٹ، ویکسین کی دستیابی، فیلڈ مانیٹرنگ اور عوامی آگاہی کے عمل کا جائزہ لینا تھا تاکہ ہر بچے تک بروقت اور معیاری حفاظتی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر نادر ایسوٹ نے سب سے پہلے فکس سائٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ILR کی مینٹیننس، درجہ حرارت کے ریکارڈ، ویکسین اسٹاک، رجسٹرز اور کولڈ چین سسٹم کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ ویکسین کے معیار اور حفاظت کو برقرار رکھا جائے بعد ازاں انہوں نے فیلڈ وزٹ کے دوران مختلف علاقوں میں جا کر ویکسینیٹرز کی کارکردگی، مائیکرو پلاننگ، ہاؤس ٹو ہاؤس کوریج اور کمیونٹی انگیجمنٹ کا جائزہ لیا۔ اس دوران ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ نے ایسے گھروں کا بھی دورہ کیا جہاں بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے والدین سے نہایت مؤثر اور ہمدردانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے انہیں حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت، بچوں کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کے حوالے سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند بچہ ہی ایک مضبوط اور روشن معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور ہر والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوا کر انہیں موذی بیماریوں سے محفوظ بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر دور دراز علاقوں میں بھی بچوں تک حفاظتی ٹیکوں کی سہولت پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔دورے کے اختتام پر ڈاکٹر نادر خان ایسوٹ نے ویکسینیٹرز کی محنت کو سراہتے ہوئے تاکید کی کہ فیلڈ مانیٹرنگ، کمیونٹی موٹیویشن اور ڈیٹا کوالٹی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ جاری مہم کو مؤثر، شفاف اور کامیاب بنایا جا سکے

خبرنامہ نمبر4105/2026
تربت (16 مئی 2026) یونیورسٹی آف تربت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پی ایس جی۔2023 فریم ورک کے تحت اپنے انڈرگریجویٹ پروگراموں کے معیار کو مذید بہتر بنانے کے لیے پروگرام ریویو فار ایفیکٹیونیس اینڈ انہانسمنٹ (پری)کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ ریویو کا یہ مرحلہ 14 مئی 2026 کو اختتام پذیر ہوا اور آخر میں فیلڈ وزٹ کا بھی اہتمام کیاگیا۔تفصیلات کے مطابق تربت یونیورسٹی میں تدریسی معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لئے مختلف جائزہ کمیٹیوں نے مجموعی طور پر بارہ انڈرگریجویٹ پروگراموں کا الگ الگ جائزہ لیا۔فیلڈ وزٹ کے دوران جائزہ کمیٹیوں نے تدریسی اور انتظامی معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیلف اسسمنٹ رپورٹس، پروگرام و کورس فائلز، کوالٹی ایشورنس و مانیٹرنگ سسٹم اور لیبارٹریزولائبریریوں میں موجود سہولیات کے علاوہ دیگر تدریسی سہولیات کا بھی جائزہ لیاگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹیوں نے تدریسی طریقہ? کار، تعلیمی نتائج اور مجموعی تعلیمی ماحول کا جائزہ لینے کے لیے اساتذہ اور طلبہ سے براہ راست ملاقاتیں بھی کیں۔ فیلڈ وزٹ کے اختتام پر جائزہ کمیٹیوں نے اپنی مشاہدات اور سفارشات تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد کے سامنے پیش کیں۔ ان سفارشات میں طلبہ کے داخلوں، اصلاحات کے نظام کومذید بہتر بنانے، مانیٹرنگ اور رہنمائی فراہم کرنے کے نظام میں اصلاحات لانے، ریکارڈ اور دستاویزات کو محفوظ بنانے، جدید اور ابھرتے ہوئے شعبہ جات میں تعلیمی مواقع کو وسعت دینے اور لیبارٹریوں اور لائبریریوں سمیت ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ سہولیات میں مزید بہتری لانے پر زور دیا گیا۔وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن نے جائزہ کمیٹیوں کی تعمیری تجاویز کو سراہتے ہوئے کہاکہ تربت یونیورسٹی ان سفارشات پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔کیو ای سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد نے تعلیمی سال 2025-26 کے دوران اس ریویو مرحلے کی کامیاب تکمیل میں تعاون کرنے پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس مرحلے کی کامیاب تکمیل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تربت یونیورسٹی نے انٹرنل کوالٹی ایشورنس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیمی بہتری لانے کا عزم کرکھا ہے۔

خبرنامہ نمبر4106/2026
کوہلو 16 مئی..۔صوبائی حکومت کے وژن کے تحت عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کیلئے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں بوائز ڈگری کالج کوہلو میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوانوں، طلباء اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی ہیشہریوں نے پینے کے پانی کی قلت، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، آمدورفت کے مسائل، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی،دور دراز علاقوں میں صحت کے بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کئے۔کئی اہم نوعیت کے مسائل کے حل کیلئے موقع پر ہی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کئے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دومڑ نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو سننا اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جبکہ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ شکایات کے ازالے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، بجلی اور سڑکوں کی بہتری کیلئے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کو مزید تیز کرکے دور دراز علاقوں کو بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے عمل میں شامل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صوبائی حکومت کی وژن کے تحت کھلی کچہریوں کے انعقاد سے ترقی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔کھلی کچہری کے اختتام پر شہریوں نے اپنے مسائل براہ راست ضلعی انتظامیہ تک پہنچانے کے اقدام کو خوش آئند قراردیا ہے کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر کے علاوہ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل طحہ علی خان، ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈاکٹر اصغر مری، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر زمان مری، ڈی ایس ایم رفیق بزدار،، ڈی ایس پی پولیس غوث بخش، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر بہادر شاہ زرکون، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن حفیظ مری، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر جمعہ خان، تحصیلدار جلال مری، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ آفیسر عبدالباری، ایم ایم ڈی افسر غلام قادر مری،ایکسین بی اینڈ آر جعفر و دیگر آفیسران نے کھلی کچہری میں شرکت کی ہے۔۔۔

خبرنامہ نمبر4107/2026
کوئٹہ 16 مئی: صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گزشتہ روز بلوچستان میں صحت کے شعبے سے متعلق متعدد اہم منصوبوں کا افتتاح کیا گیا، جن سے صوبے میں ہیلتھ کے شعبے میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے عوام کو صحت کے شعبے میں تاریخی منصوبے دے کر ایک نئی امید پیدا کی ہے۔صوبائی مشیر ماحولیات نے کہا کہ 150 بستروں پر مشتمل جدید ٹراما سینٹر کے قیام سے حادثات اور ہنگامی صورتحال میں فوری اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئیں گی، جو صوبے میں ایمرجنسی ہیلتھ سروسز کو مزید مؤثر بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ بینظیر ایمبولینس سروس کا آغاز ایک اہم سنگ میل ہے، جس کے ذریعے حاملہ خواتین، زخمی افراد اور دیگر مریضوں کو بروقت اسپتال منتقل کیا جا سکے گا، جبکہ بلوچستان کی پہلی سرکاری ایئر ایمبولینس سروس دور دراز اور دشوار گزار علاقوں سے مریضوں کی فوری فضائی منتقلی یقینی بنائے گی۔ نسیم اہرحمن خان نے مزید کہا کہ باچا خان میموریل اسپتال خواتین اور بچوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرے گا، جبکہ 164 بنیادی صحت مراکز کی بحالی سے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو ان کی دہلیز پر علاج کی سہولت میسر آئے گی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کی بہتری، چائلڈ لائف ایمرجنسی سروس کی توسیع، محکمہ صحت بلوچستان کے جدید ڈیجیٹل نظام، پیپلز ویلفیئر پروگرام، حاملہ خواتین کے جدید ریفرل سسٹم اور 10 ضلعی اسپتالوں میں ٹی بی علاج مراکز کے قیام جیسے اقدامات صوبے کے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں گینسیمرحمن نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں صحت، تعلیم اور عوامی فلاح کے شعبوں میں جاری ترقیاتی اقدامات سے بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے

خبرنامہ نمبر4108/2026
ژوب: 16 رکنِ بلوچستان اسمبلی حاجی فضل قادر مندوخیل نے گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول نیو ٹاؤن میں سولر پلانٹ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ایم پی۔اے فضل قادر مندوخیل نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور کہا کہ تمام سرکاری سکولوں کو مرحلہ وار سولر سسٹم سے مستفید کیا جارہا ہے تاکہ طلباء کو جدید اور بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اساتذہ، طلباء نے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی فضل قادر مندوخیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی اداروں کو سکولوں کو سولر سسٹم پر بتدریج لانے سے نہ صرف اساتذہ و طلبا وطالبات کو سہولت بلکہ تعلیم کے فروغ میں بھی اہم پیش رفت مستقبل میں ثابت ہوگی۔

خبرنامہ نمبر4109/2026
کوئٹہ میں یوتھ انٹرپرینیورشپ اینڈ اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت بزنس اسکلز مقابلوں کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے جدید کاروباری آئیڈیاز اور پراجیکٹس پیش کیے۔تقریب کے دوران نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور جدت پر مبنی منصوبوں کو بے حد سراہا گیا، جبکہ مختلف بزنس ماڈلز اور جدید کاروباری تصورات کی نمائش بھی کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے پروگرام نوجوانوں کو خود روزگار کی جانب راغب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔شرکاء نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے نہ صرف اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عملی مہارتوں کو فروغ دینے میں بھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور میڈیا نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

خبرنامہ نمبر4110/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ترقیاتی ویژن اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے پی ایس ڈی پی کے تحت زیر تعمیر انٹر کالج پیشکان کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے تعمیراتی کام کی رفتار، معیار اور مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ سال 2022 میں منظور کیا گیا تھا تاہم گزشتہ چھ ماہ سے تعمیراتی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث طلبہ کو متوقع تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر پیش آرہی ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے کے طلبہ کو بہتر اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آسکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر4111/2026
گوادر/پیشکان: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن، گڈ گورننس، ریاستی رٹ کے استحکام اور شہری مسائل کو اُن کی دہلیز پر حل کرنے کی پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر پیشکان میں ایک جامع کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے کی، جس میں عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور بی ایس ڈی آئی فیز ون و فیز ٹو کے تحت مکمل اور جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ فیز تھری میں عوامی ضروریات سے ہم آہنگ مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر عوامی رائے، منتخب نمائندوں کی سفارشات اور تجاویز بھی زیر غور آئیں۔کھلی کچہری میں چیئرمین یونین کونسل پیشکان جمیل آدم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ دوست محمد بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ، تحصیلدار گوادر منیر بلوچ، انجینیئر پبلک ہیلتھ ساجد سخی، ایس ڈی او بی اینڈ آر خلیل بلوچ، ایس ڈی او کیسکو نصیر احمد، ڈپٹی ڈی او ایجوکیشن عبدالرحیم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز نور اللہ، ایس ڈی او اربن پلاننگ تاج ظفر، ایس ایچ او پولیس، مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران، عسکری نمائندگان، معتبرینِ علاقہ، ماہی گیر برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران شرکاء نے پیشکان جیٹی کی موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے کی جانب سے تعمیر کردہ فش ہاربر جیٹی ریت بھر جانے کے باعث کشتیوں کی آمد و رفت میں مشکلات پیدا کر رہی ہے، جس سے مقامی ماہی گیروں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ جیٹی کی فوری صفائی اور بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔عوامی نمائندوں اور شہریوں نے پیشکان لنک روڈ کی خستہ حالی، گرلز ہائی اسکول کے تین کمروں کی مرمت، ہائی اسکول کی بحالی، بی ایچ یو میں ادویات کی کمی، انٹر کالج پیشکان کے تعمیراتی کام کی بندش، اور رحمانیہ اسکول کے زیرِ التواء کمروں کی تعمیر جیسے مسائل بھی تفصیل سے پیش کیے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔کھلی کچہری میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، پانی کی سپلائی کے دورانیے میں کمی، بریسی وارڈ میں واٹر سپلائی ٹینک کی تعمیر، اور اسکولوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کے مطالبات بھی سامنے آئے۔ شرکاء نے کہا کہ آلودہ پانی بچوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بن رہا ہے، لہٰذا تعلیمی اداروں میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔شہریوں نے کیسکو کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے کھمبے، لائنیں اور ٹرانسفارمرز خستہ حال ہیں، جن کی فوری مرمت اور تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کی کمزور صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے علاقے میں بہتر ڈیجیٹل اور مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے پیشکان میں ایک ڈیجیٹل لائبریری اور پبلک پارک کے قیام کی تجویز بھی پیش کی تاکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں اور تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔کھلی کچہری میں ملیریا اور ڈینگی کے خلاف خصوصی مہم چلانے، اسپرے مہم شروع کرنے، آوارہ کتوں کی روک تھام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق مسائل کے حل، سمندری حدود میں چوری کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے اور 2024 کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے معاوضوں اور حفاظتی بندات کی بحالی جیسے اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ شرکاء نے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری تقرریوں کا مطالبہ بھی کیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے شرکاء کو بی ایس ڈی آئی پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبے مختصر مدت، یعنی تقریباً چھ ماہ میں مکمل کیے جاتے ہیں، اور یہ منصوبے عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کے مطابق ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر4112/2026
کوئٹہ 16مئی۔حکومتِ بلوچستان کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور نے کارپوریشن املاک کے کرایہ نادہندگان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دکانیں خالی کروائیں۔ متعلقہ دکاندار جولائی 2021 سے کرایہ ادا نہیں کر رہے تھے۔متعدد نوٹسز اور یاددہانیوں کے باوجود عدم ادائیگی پر کارروائی عمل میں لائی گئی، تاہم مارکیٹ نمائندوں کی یقین دہانی پر نادہندگان کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 2 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔جن کرایہ داروں نے مقررہ وقت میں واجبات ادا کیے، ان کی دکانیں فوری طور پر ڈی سیل کر دی گئیں۔یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ میونسپل مجسٹریٹ، ایم سی کیو حکام، اینٹی انکروچمنٹ ٹیم اور پولیس کی مشترکہ نگرانی میں انجام دی گئی۔حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق ریونیو ریکوری، ادارہ جاتی استحکام اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *