16th-July-2026

خبرنامہ نمبر 6204/2026
کوئٹہ۔16 جولائی ۔ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع اوستا محمد اورضلع صحبت پور میں محکمہ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے خصوصی ہدایات اور سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے زیر نگرانی روزانہ کی بنیاد پر ڈی ایس سی کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ صوبے ان اسکیموں کو جلد از جلد شروع کیا جائے اجلاس میں چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی اینڈ ڈی فنانس کے حکام اور متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران ان اضلاع میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف سڑکوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے منصوبوں کی فزیبلٹی تخمینہ لاگت تکنیکی پہلووں اور مجوزہ مدتِ تکمیل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی نے مختلف نئے روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق متعدد اسکیموں کی منظوری کی سفارش کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ منصوبوں پر جلد از جلد عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی انتظامی اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں گے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6205/2026
لسبیلہ16 جولائی : ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے سب تحصیل لیاری میں قائم بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور مجموعی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت تعمیر کیے گئے بنیادی مرکز صحت کے اضافی کمروں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب کی نمایاں بات یہ رہی کہ ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ نے خواتین کی حوصلہ افزائی اور صحت کے شعبے میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے مرکز کی لیڈی ہیلتھ وزیٹر (LHV) کے ہاتھوں فیتہ کٹوا کر اضافی کمروں کا افتتاح کرایا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے کہا کہ BSDI کے تحت تعمیر کیے گئے اضافی کمروں سے بنیادی مرکز صحت کی استعداد کار میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں علاقے کے عوام کو بہتر، معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے شعبے کی بہتری، عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے مراکز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ بعدازاں ڈپٹی کمشنر نے بی ایچ یو اور ریسکیو 1122 کے عملے سے ملاقات کی اور ان کی کارکردگی، خدمات اور درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ منیجر (PPHI) ڈاکٹر ملک منصور نے بنیادی مرکز صحت میں جاری طبی سرگرمیوں، عملے کی حاضری، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر حمیرا بلوچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہسپتال آنے والے مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام سے پیش آیا جائے، ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور طبی خدمات کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ دورے کے دوران مقامی عمائدین اور علاقہ مکینوں نے بھی ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی اور انہیں علاقے کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جس پر انہوں نے مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سید فریداللہ شاہ ہاشمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عمران، ڈسٹرکٹ منیجر (PPHI) ڈاکٹر ملک منصور، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر منیر بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر بلڈنگ عبداللطیف، عمران ستار کھوسہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6206/2026
جعفرآباد16جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن ریفرل سسٹم کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں چائلڈ پروٹیکشن کیس مینجمنٹ اور ریفرل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران ریفرل پاتھ ویز میں موجود چیلنجز اور خامیوں کی نشاندہی، مختلف اداروں کے درمیان موثر رابطہ، معلومات کے تبادلے، چائلڈ پروٹیکشن سروسز کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے، متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور عوامی آگاہی کی سرگرمیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ بچوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہر بچے کو محفوظ ماحول، بروقت قانونی و سماجی تحفظ اور بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق تمام کیسز کو فوری، شفاف اور موثر انداز میں نمٹایا جائے، اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو مزید فعال بنایا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے بچوں کے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ چائلڈ پروٹیکشن نظام کو مزید موثر، مربوط اور فعال بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6207/2026
برشور.16 جولائی ۔.ڈپٹی کمشنر برشور فلائٹ لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) خالد شمس کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (DDC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں تمام محکمہ جات کے ضلعی آفسران نے شرکت کی،اجلاس میں نئے قائم شدہ ضلع برشور کے لیے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI)تھری کے تحت متعدد فلاحی اور تعمیراتی منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی،اجلاس میں نئے ضلع کی پسماندگی دور کرنے اور اسے دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر تفصیلی غور کیا گیا،ڈپٹی کمشنر خالد شمس نے واضح کیا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) فیز تھری کے تحت ضلع میں پینے کے صاف پانی،تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اولین ترجیح دی جائے گی،جبکہ دور دراز کے پسماندہ علاقوں اور یونین کونسلوں میں سرکاری اسکولوں کی بحالی اور بنیادی ہیلتھ سینٹرز (BHUs) میں طبی سہولیات کی بہتری کے منصوبوں کو فوری شروع کرنے کی ہدایت دی گئی,فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) خالد شمس نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو تاکید کی کہ کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام اسکیمیں مقررہ وقت کے اندر مکمل کی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6208/2026
تربت: 16 جولائی ۔:اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے میونسپل کارپوریشن تربت کے عملے کے ہمراہ شہر کے علاقے اسٹار پلس میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری جگہوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات ہٹا دیں۔کارروائی کے دوران سڑک اور فٹ پاتھ پر رکھا گیا سامان ضبط کر لیا گیا، جبکہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی پر ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔ بعد ازاں مذکورہ شخص کو مارکیٹ کمیٹی کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف کبزئی نے کہا کہ عوامی راستوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری املاک پر کسی قسم کی تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے دکانداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور عوامی گزرگاہوں پر قبضے سے گریز کریں تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بلاامتیاز جاری رہیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6209/2026
موسیٰ خیل16 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حافظ جمال الدین بزدار اور دیگر کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر ڈیوٹی میں غفلت برتنے اور دورانِ وزٹ غیر حاضر پائے جانے والے اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر / چیئرمین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایسے اساتذہ کو فوری طور پر شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں اور ان کی تنخواہیں منہا کی جائیں۔ مزید برآں، جو اساتذہ عرصہ دراز سے بغیر اطلاع غیر حاضر پائے گئے، ان کی ملازمت سے برطرفی کے عمل کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں حاضری اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا عمل مزید سخت کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6210/2026
جعفرآباد:16جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے محکمہ ریونیو کے افسران اور عملہ مال کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری واجبات کی وصولی کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور اب تک کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت کی کہ زمینداروں اور کاشتکاروں سے سرکاری واجبات کی وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جن افراد پر واجبات تاحال بقایا ہیں انہیں فوری نوٹسز جاری کیے جائیں، جبکہ نادہندگان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وصولی کے عمل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ سرکاری ریونیو میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6211/2026
موسیٰ خیل 16جولائی ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے تحصیل کنگری کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کنگری سمیت علاقے کے مختلف بنیادی مراکز صحت کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے درج ذیل اہم امور کا جائزہ لیا انہوں نے ILR (کولڈ چین سسٹم) کا معائنہ کیا اور ویکسینز کے محفوظ اسٹاک اور درجہ حرارت کی جانچ پڑتال کی ہسپتال کی لیبارٹری میں دستیاب سہولیات اور ٹیسٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا حاضری رجسٹرڈ باقاعدگی سے چیک کیے اور تمام طبی و نیم طبی عملے کو وقت کی پابندی اور فرائض کی تندہی سے ادائیگی کی سخت ہدایت کی ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر سروسز کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6212/2026
خضدار 16جولائی ۔عالمی یومِ آبادی کے موقع پر محکمہ بہبودِ آبادی کے زیرِ اہتمام آگاہی تقریب، متوازن خاندان اور نوجوانوں کے روشن مستقبل پر زورمحکمہ بہبودِ آبادی ضلع خضدار کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ آبادی کے موقع پر ایک آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد آبادی میں توازن، خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت، نوجوان نسل کی ضروریات اور ان کے بہتر مستقبل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔تقریب سے ضلعی پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر خالدہ عمر، فیلڈ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر لبنا علی، پاپولیشن ویلفیئر آفیسر سائرہ غلام دستگیر اور عبدالحلیم نے خطاب کیا۔ضلعی پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر خالدہ عمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی کا انحصار صرف آبادی کی تعداد پر نہیں بلکہ دستیاب وسائل کے متوازن اور موثر استعمال پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر مستحکم خاندان ہی اپنے بچوں کو معیاری تعلیم، بہتر طبی سہولیات اور روشن مستقبل فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ غیر متوازن آبادی میں اضافہ اکثر خاندانوں کو معاشی، تعلیمی اور صحت سے متعلق مسائل سے دوچار کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد آبادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ والدہ اور بچے کی صحت کا تحفظ، خاندان کی خوشحالی اور معاشرے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ بہبودِ آبادی اس مقصد کے لیے عوام کو مفت مشاورت اور مختلف طبی سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر لبنا علی، سائرہ غلام دستگیر اور عبدالحلیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی یومِ آبادی منانے کا مقصد نوجوان نسل کی ضروریات، خوابوں اور بہتر مستقبل کے لیے ان کی رہنمائی اور معاونت کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے ان کی تعلیم، صحت، ذہنی نشوونما اور مثبت کردار سازی پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔مقررین نے والدین پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ خاندانی منصوبہ بندی اختیار کریں تاکہ بچوں کی بہتر تعلیم، صحت اور پرورش کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خواتین کو محکمہ بہبودِ آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنے اور اپنے گھروں و معاشرے میں بھی اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی تلقین کی۔تقریب کے اختتام پر شرکاء میں خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق معلوماتی بروشرز تقسیم کیے گئے، جبکہ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایسی آگاہی سرگرمیوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6213/2026
نصیرآباد16جولائی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی ہدایت پر عوامی مسائل کے فوری حل اور ضلعی انتظامیہ سے براہِ راست رابطے کو موثر بنانے کے لیے تحصیل میر حسن میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا اس کھلی کچہری کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ اور اسسٹنٹ کمشنر چھتر بشیر احمد نے مشترکہ طور پر کی کھلی کچہری میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل بلاجھجھک تحریری و زبانی طور پر پیش کیے عوام کی جانب سے جن اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی ان میں تعلیم اور صحت کی سہولیات میں بہتری، ادویات کی دستیابی، ایمبولینس سروس کی فراہمی، فائر بریگیڈ کے قیام، تعلیمی نظام کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و بحالی، زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم، امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر بنیادی عوامی مسائل شامل تھےکھلی کچہری میں تمام ضلعی محکموں کے سربراہان اور ان کے نمائندگان بھی موجود تھے، جنہوں نے موقع پر ہی متعدد مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کیے جبکہ بعض مسائل کو متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی کے لیے بھجوا دیا گیااس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست اور موثر رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے مسائل بغیر کسی رکاوٹ کے پیش کر سکتے ہیںانہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہری میں سامنے آنے والے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری اور موثر اقدامات یقینی بنائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے انتظامیہ عوامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6214/2026
قلات خبرنامہ 16جولائی ۔ وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی کے زیر صدارت کھلی کچہری ک انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں ایف سی کرنل نوید ڈی ایس پی ماہیوال تحصیلدارقلات حاجی عبدالغفار لہڑی سمیت تمام محکموں کے سربراہان علاقہ معززین سیاسی سماجی رہنماوں نے شرکت کی کھلی کچہری سے انجمن تاجران کے صدر میرمنیرشاہوانی مشترکہ ملازمین کے صدر حاجی غلام قادر عمرانی بلوچستان نیشنل پارٹی قلات کے رہنماء وڈیرہ رحیم مینگل اور دیگر نے مسائل اجاگرکئے کھلی کچہری میں ٹیچنگ ہسپتال میں سکیورٹی کی فراہمی لیبر روم میں صفائی ستھرائی امن وامان کی موجودہ صورتحال شہر میں کالے شیشے والے گاڑیوں کے اضافے زاوہ ندی میں تجاوزات کاخاتمہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اسٹریٹح لائٹس کی مرمت لوکل کمیٹی کی فعالی سرکاری ملازمتوں میں میرٹ پر تعیباتی دس سال سے بڑے بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول میَں مشکلات اور دیگر اہم نسائل کی نشاندہی کی گء کھلی کچہری سے اسسٹنٹ کمشنر اسدسمالانی نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ برائے راست رابطہ ہے اس سے عوام محکموں کے سربراہان کو برائے راست اپنے مسائل سے آگاہ کرتےہیں ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی کے سربراہی میں کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے لوگوں کے کافی مسلے حل ہورہے ہیں علاقہ معززین اور عوام نے ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے کھلی کچہریوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں سے عوامی مسائل اور مشکلات میں نمایاں کمی ہوئی ہے ڈپٹی کمشنر منیردرانی اور اسسٹنٹ کمشنر اسدسمالانی عوامی مساحل کے حل کے لیئے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6215/2026
کوئٹہ16جولائی ۔ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیے کے مطابق حکومت بلوچستان نے یکم جولائی 2026 سے وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں بلوچستان اے آئی ٹیسٹنگ ریکر وٹمنٹ یونٹ قائم کرلیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6216/2026
تربت. 16 جولائی ۔: مکران ڈویژن میں فضائی سفر کے ایک نئے دور کا آغاز کردیا گیا۔ پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ساوتھ ایئر لائن کی پہلی پرواز کراچی سے مسافروں کو لے کر تربت پہنچ گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، ایس ایس پی کیچ کیپٹن (ر) زوہیب محسن اور دیگر حکام نے ساوتھ ایئر لائن کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ سیکیورٹی بریگیڈیئر عامر، بورڈ آف گورنرز کے ممبر شاہد گچکی اور دیگر معزز مہمانوں اور مسافروں کا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر استقبالی تقریب میں ڈی ایس پی (یو ٹی) دانش بلوچ، ساوتھ ایئر لائن تربت کا عملہ، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ شرکاء نے ساوتھ ایئر لائن کی سروس کو مکران کے عوام کیلئے ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید شہروں کیلئے پروازوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔بعد ازاں یہ پرواز تربت سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس موقع پر ساوتھ ایئر لائن کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ سیکیورٹی بریگیڈیئر عامر نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکران اور بلوچستان کے عوام کو درپیش سفری مشکلات، طویل زمینی سفر اور فضائی سہولیات کی محدود دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے ساوتھ ایئر لائن نے اپنی سروس کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کا مقصد عوام کو محفوظ، معیاری اور کم خرچ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کی جانب سے مثبت ردعمل ملا اور مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو مستقبل میں مزید پروازیں اور نئی منزلیں بھی شامل کی جائیں گی۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تربت سمیت پورے مکران میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ساتھ دیگر نجی ایئر لائن کی سروس کا آغاز ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ فضائی سفر میں مسابقت پیدا ہونے سے مسافروں کو مزید آسانیاں بھی حاصل ہوں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ساوتھ ایئر لائن خطے کے عوام کی توقعات پر پورا اترے گی۔دریں اثناءساوتھ ایئر لائن کے بورڈ ممبر اور مکران بلوچستان کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت شاہد گچکی نے میڈیا کو بتایا کہ ساوتھ ایئر لائن کی سروس سے مکران ڈویژن کا کراچی، کوئٹہ اور ملک کے دیگر بڑے شہروں کے ساتھ فضائی رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں طویل زمینی سفر کی وجہ سے کاروباری افراد، طلبہ، مریضوں اور دیگر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم اس نئی فضائی سروس سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکران جیسے وسیع خطے میں جدید اور معیاری فضائی سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت تھی، اور ساوتھ ایئر لائن اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6217/2026
کوئٹہ،16جولائی ۔ ایس ایس پی ٹریفک پولیس محمد بلوچ نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شروع کی گئی حفاظتی مہم کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ آگاہی مہم اور قانون پر عمل درآمد کے باعث شہر میں متعدد ٹریکٹر مالکان نے اپنی ٹرالیوں کو ترپال سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ریت، بجری، مٹی، اینٹوں اور دیگر تعمیراتی سامان کو دورانِ سفر سڑکوں پر گرنے سے روکنا، ٹریفک حادثات کی روک تھام اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا ہے۔ایس ایس پی ٹریفک نے کہا کہ ٹرالیوں پر ترپال استعمال کرنے سے تعمیراتی سامان سڑکوں پر بکھرنے کے واقعات اور ٹریفک حادثات کے کمی کے علاوہ ٹریفک کی روانی میں بہتری آئیگی۔جس سے موٹر سائیکل سواروں، پیدل چلنے والوں شہریوں کی ممکنہ حادثات سےتحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے ٹریکٹر اور ٹرک مالکان پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین اور حفاظتی ہدایات پر مکمل کرتے اپنی ٹرالیوں کو لازمی طور پر ترپال سے ڈھانپ کر چلائیں شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کے تعاون سے نہ صرف ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ کوئٹہ کو صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک شہر بنانے کے مقصد کے حصول کے لئے ہم سب کو اپنا اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے اپنا اہم کردار ادا کر نا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6218/2026
کوئٹہ ، 16جولائی ۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس لورالائی رینج، جنید احمد شیخ نے سنجاوی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیس اہلکاروں کے مسائل سننے کے لیے پولیس دربار منعقد کیا۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے کہا کہ شہادت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جانے والا عظیم رتبہ ہے، جس پر پوری قوم اور محکمہ پولیس کو فخر ہے پولیس فورس کا حوصلہ آج بھی بلند ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس ہر وقت صفِ اول میں کھڑی رہے گی۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مانگی ڈیم میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے ملاقات کے دوران تعزیت اور شہداءکے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہوئے کیا۔ ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے کہا کہ شہداءکے لواحقین کو یقین دلایا کہ وہ خود کو ہرگز تنہا نہ سمجھیں محکمہ پولیس ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداءنے وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور ایک عظیم اعزاز ہے۔ محکمہ پولیس ہر سطح پر شہداءکے خاندانوں کی بھرپور معاونت اور حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔بعدازاںڈی آئی جی پولیس نے سنجاوی میں پولیس دربار کا انعقاد کیا دربار کے دوران پولیس ملازمین نے اپنے پیشہ ورانہ اور انتظامی مسائل پیش کیے، جن پر ڈی آئی جی نے تفصیلی غور کیا اور متعدد مسائل کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور مسائل کا بروقت ازالہ محکمہ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6219/2026
لورالائی:16جولائی ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ڈویژنل پولیو ٹاسک فورس کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، سابقہ مہم کی کارکردگی اور بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر مقبول احمد سمیت ڈویڑن کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، پی پی ایچ آئی، عالمی ادار صحت (ڈبلیو ایچ او)، محکمہ صحت، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) اور متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام اضلاع کے ہیلتھ افسران نے انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت، بچوں تک رسائی، ٹیموں کی کارکردگی، مس شدہ بچوں کی تعداد، سیکیورٹی انتظامات اور مائیکرو پلاننگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی یقینی بنانے اور مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ پولیو ایک مہلک اور عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والی بیماری ہے، جس کا مکمل خاتمہ حکومت، محکمہ صحت، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جاری مہم کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی بچہ اس موذی مرض سے متاثر نہ ہو۔کمشنر نے تمام ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کی موثر نگرانی، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بچوں تک رسائی، غیر حاضر اور انکاری والدین سے موثر رابطہ، اور مہم کے دوران ڈیٹا کی درست رپورٹنگ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے بین الادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے اور تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عوام میں پولیو ویکسین کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے علماء کرام، قبائلی عمائدین، اساتذہ، منتخب نمائندوں اور میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاوکے قطرے لازماً پلوائیں، کیونکہ بار بار پلائے جانے والے قطرے ہی بچوں کو اس موذی مرض سے مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر کمشنر ولی محمد بڑیچ نے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطے، موثر حکمت عملی اور فیلڈ میں مسلسل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی ڈویژن کو پولیو فری بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6220/2026
کوئٹہ 16جولائی ۔ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے کوئٹہ، ژوب اور صحبت پور میں بیک وقت خصوصی معائنہ مہم چلائی۔ کارروائیوں کے دوران دودھ و دہی میں ملاوٹ، صفائی کی ابتر صورتحال، فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں اور فوڈ بزنس لائسنس کی عدم دستیابی پر مجموعی طور پر 12 فوڈ بزنس مالکان کو جرمانے جبکہ 20 سے زائد اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ ترجمان بی ایف اے کے مطابق کوئٹہ میں شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر آپریشنز فخرالدین مری کی سربراہی میں بی ایف اے انسپیکشن ٹیموں نے گلستان روڈ پر واقع ملینیم مال میں قائم مختلف فوڈ آوٹ لیٹس کا تفصیلی معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر 3 معروف فاسٹ فوڈ پوائنٹس اور ایک آئس کریم شاپ کے مالکان پر جرمانے عائد کیے گئے۔چیکنگ کے دوران متعدد مراکز میں انتہائی ناقص صفائی، ورکرز کی ذاتی صفائی کے فقدان، کھلے کوڑے دان، پراسیسنگ ایریاز میں گندگی، نکاسی آب کے ناقص انتظامات، مکھیوں کی بھرمار، بند گوبھی میں پھپھو ندی و آلودگی، خام مال کی غیر محفوظ اسٹوریج، اشیاء خورونوش پر مینوفیکچرنگ و ایکسپائری تاریخ درج نہ ہونا، کٹنگ بورڈ کے بجائے براہِ راست میزوں پر سبزیاں کاٹنے اور تیار شدہ خوراک کو غیر مناسب انداز میں محفوظ رکھنے جیسے سنگین نقائص سامنے آئے جن پر متعلقہ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اسی طرح بی ایف اے ملک سیفٹی ٹیم نے کرانی روڈ، بروری روڈ اور اے ون سٹی میں قائم ملک شاپس کا معائنہ کرتے ہوئے دودھ اور دہی کے سیمپلز کی موقع پر جانچ کی۔ ٹیسٹ کے دوران دودھ اور دہی میں پانی اور سکمڈ ملک پاوڈر کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 4 دودھ فروشوں کو جرمانہ کیا گیا جبکہ معمولی نوعیت کے نقائص پر 6 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔دوسری جانب صحبت پور میں بی ایف اے زونل فوڈ سیفٹی ٹیم نے مختلف کریانہ اسٹورز، بیکریز اور دیگر فوڈ بزنس مراکز کی چیکنگ کے دوران فوڈ بزنس لائسنس کے بغیر کاروبار کرنے اور دیگر فوڈ سیفٹی خلاف ورزیوں پر متعدد مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے جبکہ متعدد مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ حکام نے واضح کیا کہ جن کاروباری افراد کو پہلے بھی لائسنس کے حصول کی ہدایت کی جا چکی ہے لائسنس حاصل نہ کرنے پر ان کے خلاف آئندہ مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھر ژوب میں بی ایف اے زونل انسپیکشن ٹیم نے مختلف ہوٹلوں، چاٹ شاپس اور دیگر فوڈ بزنس مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ فوڈ بزنس لائسنس کی عدم دستیابی اور دیگر خلاف ورزیوں پر متعدد مالکان کو جرمانے کیے گئے جبکہ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو ترجیحی بنیادوں پر فوڈ بزنس لائسنس حاصل کرنے اور فوڈ سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ غیر معیاری، ملاوٹ شدہ اور غیر محفوظ خوراک کی تیاری و فروخت، نیز فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث عناصر کے خلاف صوبہ بھر میں بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی اسی تسلسل سے جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6221/2026
چمن 16جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ماہانہ جائزہ اجلاس ان کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی شعبے کی کارکردگی اور جاری اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالقدوس اچکزئی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل) نادر شاہ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) عرفانہ قمر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالاحد، ای ایم آئی ایس سیل انچارج جعفر خان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم ولی خان، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر آئی آر سی ایاز خان، ڈسٹرکٹ منیجر ای ایس پی جمیل کاکڑ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع چمن میں تعلیم کے معیار میں بہتری، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے، طلبہ کے اسکول چھوڑنے کی شرح (Dropout Rate) میں کمی، داخلہ مہم، اور تعلیمی اداروں کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ وزٹس کو مزید موثر بنایا جائے، اسکولوں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، اور ضلع میں “ہر بچے کو بہتر اسکول” کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مربوط اور موثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کو یقینی بنائیں تاکہ ضلع چمن کے ہر بچے کو محفوظ، معیاری اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6223/2026
چمن 16جولائی۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ایم ایس ڈاکٹر محمد اویس، پی پی ایچ آئی ضلع چمن کے سربراہ اکرم خان اچکزئی اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے بی ایچ یوز (BHUs)، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اور ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی، انفراسٹرکچر، طبی عملے کی حاضری، ویکسینیشن اور عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ تمام ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضر یا فرائض میں کوتاہی برتنے والے ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/6224
گوادر/پسنی 16 جولائی: مقامی ماہی گیروں کے ایک نمائندہ وفد نے اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور ہفتلار (اسٹولہ) جزیرے پر مقامی کشتیوں کی لنگر اندازی سے متعلق درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ وفد نے اس حوالے سے ایک تحریری درخواست بھی اسسٹنٹ کمشنر کو پیش کی۔
ملاقات میں بی این پی پسنی زون کے صدر نعیم کمال، ماہی گیر رہنما عنایت بلوچ اور بی این پی پسنی زون کے جنرل سیکرٹری ہدایت اللہ حمزہ سمیت دیگر ماہی گیروں نے شرکت کی۔
وفد نے اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا کہ اس وقت مشکا مچھلی اور دیگر اقسام کی مچھلیوں کے شکار کا سیزن جاری ہے، جس کے باعث سینکڑوں مقامی کشتیاں ہفتلار جزیرے کے اطراف میں شکار کی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں۔ ماہی گیر دورانِ شکار کئی روز تک جزیرے کے قریب قیام کرتے ہیں اور خراب موسمی حالات، سمندری طوفانوں اور تیز لہروں کی صورت میں ہفتلار جزیرہ ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔وفد نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ مقامی ماہی گیر صدیوں سے اس جزیرے کو روایتی طور پر لنگر اندازی اور پناہ کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی جانب سے مقامی کشتیوں کو وہاں لنگر انداز ہونے سے روکنے کے باعث ماہی گیروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ان کے روزگار اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔وفد نے اسسٹنٹ کمشنر کو پیش کی گئی تحریری درخواست میں استدعا کی کہ متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے اس معاملے کا جائزہ لیا جائے اور مقامی ماہی گیروں کو روایتی طریقہ کار کے مطابق ہفتلار جزیرے پر لنگر اندازی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے وفد کے مؤقف اور تحفظات کو تفصیل سے سنا اور یقین دلایا کہ عوامی مفاد، ماہی گیروں کے روزگار اور متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو پاکستان کوسٹ گارڈز کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھایا جائے گا تاکہ باہمی مشاورت کے ذریعے اس مسئلے کا مناسب، پرامن اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔
یہ انداز ڈی جی پی آر کوئٹہ کی سرکاری خبر نویسی کے مطابق متوازن، منطقی اور سرکاری طرزِ تحریر پر مبنی ہے، جس میں کسی بھی فریق کے مؤقف کو غیر ضروری طور پر تقویت دیے بغیر تمام حقائق کو منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6225
ہرنائی 16 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے فلاحی وژن اور صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی محمد سلیم ترین اور اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسرار احمد شاھوانی نے تحصیل شاہرگ کا ایک انتہائی اہم اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس اعلیٰ سطحی دورے کا بنیادی مقصد علاقے میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کے نرخوں اور معیارِ زندگی کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام الناس کو بنیادی خدمات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہےدونوں افسران نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہرگ کا تفصیلی دورہ کیا۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ایمرجنسی وارڈز، لیبارٹری، ادویات کے اسٹاک کی دستیابی اور ہسپتال کی مجموعی صفائی کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹرز اور نیم طبی عملے کی حاضری کے رجسٹرز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام کو بروقت، مفت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے بعد ازاں، انتظامی وفد نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول شاہرگ کا رخ کیا۔ معائنے کے دوران کلاس رومز کا ماحول، اساتذہ و طلبہ کی حاضری کے تناسب اور سکول کے بنیادی ڈھانچے (پانی، بجلی، اور واش رومز) کی صورتحال کو پرکھا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسرار احمد شاھوانی نے زور دیا کہ تعلیمی معیار میں جدت لائی جائے اور طلبہ کی روزانہ کی بنیاد پر حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا مستقبل ان اداروں سے وابستہ ہے، لہٰذا تدریسی فرائض کی ادائیگی میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے دورے کے آخری مرحلے میں ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شاہرگ بازار کا تفصیلی گشت کیا دکانوں پر سرکاری نرخناموں کی موجودگی، اشیائے خوردونوش کے معیار اور تجاوزات کی صورتحال کا معائنہ کیا گیا۔ افسران نے گراں فروشوں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کا استحصال کرنے والے منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور قانون شکن عناصر کو براہِ راست جیل جانا پڑے گا اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے عوام نے ضلعی انتظامیہ کے اس فعال اقدام کو زبردست الفاظ میں سراہا اور امید ظاہر کی کہ ایسے دوروں کے تسلسل سے علاقے میں دیرپا اصلاحات ممکن ہوں گی اور عام آدمی کو حقیقی معنوں میں ریلیف حاصل ہوگا ۔
خبرنامہ نمبر 2026/6226
بارکھان/رکھنی16 جولائی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوامی ترقیاتی وژن کے تحت کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن، مجیب الرحمٰن قمبرانی کی زیرِ صدارت کمشنر آفس رکھنی میں ماڈل بازار اور مین بازار منصوبوں سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبوں کی پیش رفت، تعمیراتی معیار، درپیش مسائل اور آئندہ لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سید الرحمن کاکڑ، متعلقہ محکموں کے افسران، انجمن تاجران، بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ متعلقہ حکام نے منصوبوں کی تازہ ترین پیش رفت، تکنیکی و انتظامی امور اور تعمیراتی سرگرمیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بروقت تکمیل کے لیے سفارشات پیش کیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے کہا کہ رکھنی کو بلوچستان کے جدید اور منصوبہ بند (Planned) شہروں میں شامل کرنے کا وژن حکومت بلوچستان کی ترجیحات میں شامل ہے، جس کے تحت شہری منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور منظم تجارتی مراکز کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل بازار اور مین بازار منصوبے مستقبل کے اس وژن کا اہم جزو ہیں، جو شہری سہولیات، کاروباری ماحول اور مقامی معیشت کو نئی جہت فراہم کریں گے۔کمشنر نے ہدایت کی کہ منصوبوں میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں، تعمیراتی کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور ہر مرحلے پر معیار، شفافیت اور مقررہ ٹائم لائن کی سختی سے پابندی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف رکھنی کے تاجروں اور شہریوں کو جدید کاروباری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ یہ شہر کو بلوچستان کے ایک ماڈل اور منصوبہ بند شہری مرکز کے طور پر ترقی دینے کی بنیاد بھی ثابت ہوں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6227
تربت16 جولائی:میئر میونسپل کارپوریشن تربت بلخ شیر قاضی نے ٹیچنگ ہسپتال تربت کا اچانک دورہ کیا اور ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی سے ملاقات کرکے ہسپتال میں طبی سہولیات، مریضوں کو درپیش مسائل اور جاری ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر چیف آفیسر شعیب ناصر، انجینئر ناصر، میئر کے پی ایس کریم بلوچ اور سماجی شخصیت حاجی شوکت بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ملاقات کے دوران ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے میئر تربت بلخ شیر قاضی کو ہسپتال کے اہم اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ممبر صوبائی اسمبلی اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خصوصی کاوشوں اور ذاتی دلچسپی سے ٹیچنگ ہسپتال تربت کے لیے جدید کیتھ لیب (Cath Lab) اور انجیوگرافی کی سہولت کے قیام کے لیے 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی منصوبے کے تحت ٹیچنگ ہسپتال تربت میں دل کے امراض کی تشخیص، علاج اور انجیوپلاسٹی کی جدید ترین سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس کے بعد مکران بھر کے دل کے مریضوں کو کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں ضلع کیچ کے متعدد غریب مریض امراضِ قلب کے باعث بروقت علاج اور سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے تھے، تاہم اس منصوبے سے مکران میں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔دورانِ دورہ میئر بلخ شیر قاضی نے کیچ میں ادویات کی کولنگ کا نظام نہ ہونے اور غیر محفوظ ترسیل پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تربت میں ادویات غیر محفوظ ہیں اور ان کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کا کوئی متبادل انتظام نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ادویات کو براہِ راست پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے لایا جاتا ہے اور اکثر ادویات شدید گرمی کے موسم میں کئی کئی دن تک ٹرانسپورٹ میں پڑی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے یا تو ان ادویات کی افادیت و اثر ختم ہو جاتا ہے یا پھر یہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔بعد ازاں، میئر بلخ شیر قاضی نے بلدیہ عظمیٰ کے فنڈز سے ہسپتال میں مریضوں کے تیمارداروں کے لیے تیار کیے گئے روایتی سایہ دار سائبان کا باقاعدہ افتتاح کیا اور تعمیراتی معیار کا معائنہ کیا۔اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ کے اس فنڈ سے چبوترے کی تعمیر سے آئی سی یو اور میڈیسن وارڈ میں داخل مریضوں کے تیمارداروں کو شدید گرمی میں بیٹھنے اور آرام کرنے کی بہترین سہولت میسر آئی ہے اور وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایم ایس نے میئر بلخ شیر قاضی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ تربت ہر سال اپنے بجٹ سے ہسپتال کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز مختص کر رہی ہے جو کہ صحت دوست اور مثالی اقدام ہے۔بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر تربت بلخ شیر قاضی نے کہا کہ ہمارا بنیادی وژن عوام کو صحت کی تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے تاکہ غریب عوام کو علاج کے لیے دور دراز کے شہروں اور مہنگے ہسپتالوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع کیچ کے لیے ادویات کی محفوظ ترسیل اور کولنگ کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جلد ایک بہترین اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے گا تاکہ گرم موسم میں ادویات کی اثر پذیری اور افادیت کو مکمل محفوظ بنایا جا سکے۔
خبر نامہ 2026/6228
کوئٹہ 16 جولائی: ـپاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ بلوچستان کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی اسپیکر بلوچستان، محترمہ غزالہ گولہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹرز پر مشتمل ٹیم نے شرکت کی اور صوبہ بلوچستان میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں، ان کی پیش رفت اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران پروگرام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے باہمی تعاون اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کے ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران نے بھی شرکت کی، جہاں تنظیمی امور، پارٹی کی فعالیت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر ملک و صوبے کے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور وطنِ عزیز میں پائیدار امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ ہیں اور ان کی لازوال خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔

خبر نامہ نمبر 2026/6229
کوئٹہ 16جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم کے چوتھے روز کا ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل ای او سی کے ممبران، ڈی ایچ او کوئٹہ، ڈسٹرکٹ مانیٹرز، متعلقہ افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جاری پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو ڈور ٹو ڈور کوریج، اسکول کوریج، رفیوزلز، نان ایکسیسبل (NA)، اسٹل نان ایکسیسبل (Still NA)، کلسٹرز کی صورتحال، اسکولوں میں بچوں کی ویکسینیشن کوریج اور مہم کے دوران درپیش مشکلات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ رفیوزلز کی روزانہ کی بنیاد پر مؤثر فالو اپ اور کوریج کو یقینی بنایا جائے، جبکہ نان ایکسیسبل علاقوں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مہم کے آخری دنوں میں ٹیمیں مزید محنت، مؤثر نگرانی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6230
سوراب16 جولائی:_حکومت بلوچستان اور ڈپٹی سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کے خصوصی احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر گدر عبد الجبار بگٹی نے تحصیلدار محمود احمد کرد، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سوراب عبد الخالق شاہوانی، محکمہ لائیو اسٹاک اور بازار پنچائیت کے نمائندگان کے ہمراہ سوراب بازار کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران سبزی، فروٹ، گوشت، بیکری، جنرل اسٹورز اور دیگر کاروباری مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ سرکاری نرخ ناموں، صفائی کی صورتحال، اشیائے خوردونوش کے معیار اور وزن و پیمائش کا جائزہ لیا گیا جبکہ ناجائز منافع خوری اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف موقع پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران متعدد دکانداروں کو جرمانے کیے گئے، مختلف دکانداروں کو وارننگ جاری کی گئی، خلاف ورزی پر بعض دکانوں کو سیل کیا گیا جبکہ بازار میں قائم غیر قانونی تجاوزات بھی ہٹا دی گئ تاکہ عوام کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد، صفائی کے اصولوں کی پابندی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *