13th-October-2026

خبرنامہ نمبر8884/2026
کوئٹہ، 13 اکتوبر ۔بلوچستان ہائیکورٹ نے سریاب روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباو¿ کو کم کرنے اور شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مجوزہ فلائی اوور منصوبے کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) سے پی ٹی سی ایل ایکسچینج تک تعمیر کرنے کے لیے جامع اور قابلِ عمل تجویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں شامل 600 میٹر طویل فلائی اوور کی مجوزہ اسکیم نہ تو قابلِ عمل دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی یہ سریاب روڈ پر ٹریفک کے موجودہ دباو¿ کو مو¿ثر انداز میں کم کرنے کا مقصد پورا کر سکے گی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کے دوران یہ احکامات جاری کیے۔ سماعت کے موقع پر متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندے، وکلا اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے حکام بھی موجود تھے، جبکہ ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر نے سریاب سروس روڈ اور دیگر ترقیاتی کاموں سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان سے منیر احمد مینگل روڈ چوک تک تقریباً 600 میٹر طویل فلائی اوور کی منظوری دی گئی ہے۔ منصوبے کے دائر? کار میں توسیع کے لیے دو مزید تجاویز بھی زیرِ غور ہیں، جن میں پہلی تجویز کے تحت مگسی چوک/کیو ڈی اے آفس انٹرسیکشن سے برما ہوٹل تک، جبکہ دوسری تجویز کے تحت اسی مقام سے پی ٹی سی ایل ایکسچینج تک فلائی اوور تعمیر کرنے کی تجویز شامل ہے۔عدالت نے مجوزہ منصوبے اور پیش کردہ متبادل تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ان تجاویز میں عملی دشواریاں موجود ہیں۔ عدالت کے مطابق مجوزہ متبادل منصوبوں کی صورت میں فلائی اوور کا ابتدائی مقام ہیلپر ہسپتال تک لے جانا پڑے گا، جس سے منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق خدشات بھی پیدا ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ منصوبے کو بہتر منصوبہ بندی کے تحت ازسرنو ڈیزائن کیا جائے۔عدالت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ فلائی اوور کا آغاز جیولوجیکل سروے آف پاکستان سے اور اختتام پی ٹی سی ایل ایکسچینج پر رکھنے کے لیے ایک جامع، قابلِ عمل اور تکنیکی بنیادوں پر مبنی تجویز تیار کرکے متعلقہ حکام کے سامنے منظوری اور غور کے لیے پیش کی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کیو ڈی اے آفس/مگسی چوک سے جیولوجیکل سروے آف پاکستان تک سڑک کو فلائی اوور کے بجائے زمینی سطح پر بہتر بنایا جائے، جہاں مناسب ٹی جنکشن کی تعمیر اور سڑک کی توسیع کے ذریعے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے دستیاب اراضی کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کے سامنے باقاعدہ تجویز پیش کی جائے اور اس پر ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔سماعت کے دوران سریاب سروس روڈ اور طوفانی پانی کی نکاسی کے منصوبے سے متعلق پیش رفت رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کے مطابق سریاب سروس روڈ کو تین حصوں میں مکمل کرنے کے لیے مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15,140 میٹر میں سے 14,500 میٹر سڑک پر اسفالٹک بیس کورس کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ 15,140 میٹر میں سے 8,500 میٹر پر اسفالٹک وئیرنگ کورس مکمل ہوا ہے۔ پل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام کا تقریباً 98 فیصد کام مکمل ہے۔ کرب اسٹون اور پیورز کی تنصیب کا تقریباً 33 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی ماندہ کام جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر رکاوٹوں کے باعث کام کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔عدالت نے حکم کی نقل معلومات اور ضروری تعمیل کے لیے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔ متعلقہ حکام کو منصوبے سے متعلق نئی تجاویز پر پیش رفت رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ آئینی درخواست کو دیگر متعلقہ مقدمے، سی پی نمبر 824 آف 2016، کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8885/2026
کوئٹہ، 13 اکتوبر ۔ بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ کے جوائنٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹوں، مجوزہ فلنگ اسٹیشن کے سامنے قائم دکانوں اور سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے جامع سروے کرانے اور متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کو ہدایت کی کہ ڈائریکٹر جنرل ٹریفک انجینئرنگ بیورو کو آگاہ کرکے ایڈووکیٹ جنرل آفس، پاکستان ریلوے اور درخواست گزار یا اس کے وکیل کی موجودگی میں جوائنٹ روڈ کا جامع سروے یقینی بنایا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ مجوزہ فلنگ اسٹیشن کے سامنے موجود دکانوں کے باعث سڑک پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور ایک مزید تنگ مقام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ریڈیمکو کے نمائندے کے ہمراہ موقع کا معائنہ بھی کیا گیا، جبکہ مجوزہ فلنگ اسٹیشن کے سامنے سڑک کی دوسری جانب قائم دکانوں کو ہٹانے کا اصولی فیصلہ ہونے کے باوجود اس ضمن میں ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔عدالت نے قرار دیا کہ معاملے کو مناسب موقع کے معائنے اور جامع سروے کے بغیر حل کرنا ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کو ہدایت کی گئی کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور متعلقہ تحصیلدار یا ریونیو افسر سے جوائنٹ روڈ کے دونوں اطراف پہلے سے قائم، نئی تعمیر شدہ اور مجوزہ دکانوں کے حوالے سے رپورٹس حاصل کرکے عدالت میں پیش کی جائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کو سروے کے لیے قائم کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سروے کی تاریخ ایڈووکیٹ جنرل آفس کا نمائندہ طے کرے گا۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کمشنر کوئٹہ ڈویڑن اور پاکستان ریلوے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس پر اعتراضات بھی پیش کیے، جن کی نقول فریقین کو فراہم کر دی گئیں۔ متعلقہ فریقین نے رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے مہلت طلب کی۔ عدالت نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سڑک کی توسیع سے متعلق پی سی ون مکمل طور پر فراہم نہیں کیا گیا اور صرف ایک صفحہ جمع کرایا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کے وکیل کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔پاکستان ریلوے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر اجلاس کی کارروائی کے منٹس جمع کرائے گئے تھے، جن کے مطابق ریڈیمکو نے جوائنٹ روڈ کے مشرقی جانب فلنگ اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔عدالت نے پہلے جاری کردہ عبوری حکم میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے حکم نامے کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو بھجوانے کی ہدایت کی، تاکہ متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی اور تعمیل کے لیے آگاہ کیا جا سکے۔ یہ کارروائی 2016ء کے آئینی درخواست نمبر 824 کے ساتھ منسلک مقدمے میں کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8886/2026
کوئٹہ 13 اکتوبر:۔ ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے کہا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کے فروغ اور ماضی کی کامیابیوں کی بحالی کے لیے سکولوں کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اونوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں تربیت اور سہولیات فراہم کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔وہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن، بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم اور محکمہ کھیل کے اشتراک سے منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ کے 25 سکولوں کے طلباءمیں ہاکی کٹس اور کھیلوں کا سامان تقسیم کرنا قومی کھیل کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے معیاری کوچنگ، باقاعدہ تربیت، کھیلوں کی سہولیات اور مسلسل حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور ماضی میں اس کھیل میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ہاکی کی جانب راغب کرکے سکولوں سے باصلاحیت کھلاڑی سامنے لائے جائیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے پی ایس او اور بلوچستان ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سید امین شاہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت اور بلند حوصلہ ہیں۔ انہیں مناسب سہولیات اور مواقع فراہم کرکے قومی سطح کے کھلاڑی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، برداشت اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔اسپیشل سیکرٹری محکمہ تعلیم بلوچستان رضوان قدیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ طلباءکی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے کر طلباء کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔مقررین نے ہاکی کے فروغ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن، بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم اور محکمہ کھیل کی مشترکہ کوششوں کو اہم قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور قومی کھیل کو فروغ دینے کے لیے ایسی کاوشیں جاری رہنی چاہئیں۔ تقریب میں ڈائریکٹر سپورٹس سجاد اسلم بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8887/2026
لورالائی:13اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ مائنز لیزان کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع میں جاری معدنی سرگرمیوں، مائننگ لیزز، مقامی آبادی کے تحفظات، کان کنی سے متعلق تنازعات اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور ضلع میں معدنی وسائل کے استعمال، کان کنی کے علاقوں کی صورتحال، لیز ہولڈرز اور مقامی آبادی کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کی جانب سے معدنی سرگرمیوں اور زیرِ غور معاملات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ بھی دی گئی اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلع میں تمام معدنی سرگرمیاں متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط اور سرکاری پالیسی کے مطابق انجام دی جائیں، جبکہ کان کنی کے دوران مقامی آبادی کے جائز حقوق، مفادات اور تحفظات کو بھی مدنظر رکھا جائےڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے کہا کہ معدنی وسائل ضلع کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم کان کنی کے عمل میں قانون کی بالادستی، شفافیت، مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ اور امن و امان کا قیام اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیےانہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مائننگ سے متعلق معاملات میں تمام فریقین کو قانون کے مطابق سنا جائے اور تنازعات کو باہمی مشاورت، گفت و شنید اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور بروقت معلومات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کان کنی سے متعلق شکایات اور مسائل کو بلاوجہ زیرِ التوا رکھنے کے بجائے مقررہ طریقہ کار کے تحت فوری طور پر نمٹایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مائننگ ایریاز میں قانونی تقاضوں، حفاظتی اقدامات اور دیگر متعلقہ امور کی موثر نگرانی کی جائے، جبکہ غیر قانونی یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ معدنی سرگرمیوں کو قانونی دائرہ کار میں فروغ دیتے ہوئے مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ، تنازعات کا منصفانہ حل اور کان کنی کے علاقوں میں پائیدار امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8888/2026
گوادر13 اکتوبر ۔: ڈویژنل ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن مکران نے گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کسان کارڈ کے اجرا، زرعی زمینوں پر ناجائز تجاوزات، پسنی فارم کے ترقیاتی منصوبوں اور محکمہ زراعت کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ دفتری امور میں بہتری، کسانوں کے مسائل کے حل اور زرعی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں ڈویژنل ڈائریکٹر نےافسران کے ساتھ اجلاس میں کسان کارڈ کے اجرا، کسانوں کو درپیش مسائل اور محکمہ زراعت کی جاری سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا ڈویژنل ڈائریکٹر کو ذرعت آفیسر کوکونٹ فارم وسیم نور فارم سے متعلق تفصیلی بریفنگ اور پی سی ون سمیت ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر نے حکام کو ہدایت کی کہ تمام کام مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں تاکہ آئندہ کمشنر کے ساتھ اجلاس میں پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جا سکے انہوں نے زرعی اراضی اور دفتری احاطے پر ناجائز تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور کمشنر مکران کے تعاون سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ زرعی زمینوں کو اصل مقاصد کے لیے بحال کیا جا سکے اس موقع پر واٹر مینجمنٹ کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ متعلقہ افسر عباس نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈویژنل ڈائریکٹر نے تمام افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں، سرکاری فرائض پابندی اور ذمہ داری سے انجام دیں اور اپنی ماہانہ کارکردگی رپورٹس باقاعدگی سے مرتب کرکے متعلقہ دفتر کو ارسال کریں، تاکہ محکمانہ کارکردگی کی موثر نگرانی اور بہتری کو یقینی بنایا جا سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8889/2026
دکی، 13 اکتوبر ۔ : ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت نومبر 2026 کی ذیلی قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم (SNID) کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (DPEC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایم پی پی ایچ آئی قاہر خان، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، این اسٹاپ ڈاکٹر عزیز اللہ، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیر محمد، سی سی او سعید احمد، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران نومبر میں منعقد ہونے والی SNID پولیو مہم کی تیاریوں، ٹیموں کی تشکیل، مائیکرو پلاننگ، ٹرانزٹ پوائنٹس، حساس علاقوں کی نشاندہی، ویکسین کی دستیابی، فیلڈ ٹیموں کی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیااس موقع پر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر کو پولیو مہم کے حوالے سے جاری تیاریوں اور مختلف یونین کونسلز میں بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے لیے مرتب کیے گئے لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں کی موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں تک رسائی حاصل کی جا سکے ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور موثر انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے .۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں، رہائشی آبادیوں، خانہ بدوش خاندانوں اور دیگر حساس علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ مسنگ اور انکاری بچوں کو کور کرنے کے لیے موثر فالو اَپ میکانزم بھی وضع کیا جائےڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ والدین اور عوام میں پولیو سے بچاوکے قطروں کی اہمیت کے حوالے سے بھرپور آگاہی پیدا کی جائے اور علماءکرام، قبائلی عمائدین، اساتذہ، سماجی رہنماوں اور میڈیا کے تعاون سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے تاکہ ہر والدین اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت، پولیو پروگرام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری لگن اور ذمہ داری سے انجام دیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت سے گریز کیا جائےاجلاس کے اختتام پر نومبر 2026 کی SNID مہم کو کامیاب بنانے، مقررہ اہداف کے حصول اور ضلع دکی میں پولیو سے پاک مستقبل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8890/2026
گوادر 13 اکتوبر ۔: چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گوادر شئے مختار نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت کوسٹل ہائی وے سے پلیری، کڈ اور پشکان روڈ کے ایک سیکشن پر جاری تعمیراتی کام کا دورہ کیا اور منصوبے کے معیار، پیش رفت اور تعمیراتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا دورہ کے موقع پر ایس ڈی او عبید شئے طارق اور ٹھیکیدار عبدالغفور بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ایس ڈی او نے چیئرمین کو منصوبے پر جاری کام، اب تک کی پیش رفت اور تکنیکی پہلووں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر چیئرمین شئے مختار نے ہدایت کی کہ سڑک کی تعمیر میں مقررہ معیار اور منظور شدہ تکنیکی ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے، معیاری تعمیراتی مواد استعمال کیا جائے اور منصوبے کو مقررہ مدت میں شفاف انداز سے مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل نے کہا کہ معیاری سڑکوں کی تعمیر سے علاقے کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی، آمدورفت آسان ہوگی اور مقامی آبادی کو ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع گوادر میں پائیدار بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی مثر نگرانی ڈسٹرکٹ کونسل کی ترجیحات میں شامل ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8891/2026
دکی، 13 اکتوبر .۔ ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت انٹیگریٹڈ سروس ڈیلیوری (ISD) کے تحت ڈسٹرکٹ لیول کوآرڈینیشن اجلاس اور تیسری سہ ماہی (Q3) کے جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ISD کوآرڈینیٹر صدام حسین، ڈی ایم پی پی ایچ آئی قاہر خان، ای پی آئی آفیسر ڈاکٹر پیر محمد، این اسٹاپ ڈاکٹر عزیز اللہ، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، سی سی او سعید احمد سمیت محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کیاجلاس میں ضلع دکی میں عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی صحت کی سہولیات، حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام، پولیو کے خاتمے کی سرگرمیوں، ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، صاف پانی و صفائی اور دیگر بنیادی طبی خدمات کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیااس موقع پر ISD کوآرڈینیٹر صدام حسین نے اجلاس کو جاری پروگرامز، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور تیسری سہ ماہی کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء کو مختلف صحت مراکز میں خدمات کی فراہمی، حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج، پولیو مہمات، خواتین اور بچوں کو طبی سہولیات کی فراہمی سمیت درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ صحت کے شعبے میں جاری تمام پروگرامز کی موثر نگرانی اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیںانہوں نے کہا کہ ISD کے تحت مختلف اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔ انہوں نے بالخصوص خواتین اور بچوں کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات، پولیو کے مکمل خاتمے، غذائیت اور صاف پانی و صفائی سے متعلق خدمات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جائے اور فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کی حاضری، کارکردگی اور عوامی خدمات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے ان کے فوری ازالے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے واضح کیا کہ صحت عامہ سے متعلق کسی بھی پروگرام میں غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران اپنے فرائض ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ اجلاس کے اختتام پر تیسری سہ ماہی کے اہداف کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ سہ ماہی میں کارکردگی مزید بہتر بنانے اور عوام کو بروقت، موثر اور معیاری صحت کی خدمات کی فراہمی کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8892/2026
گوادر13 اکتوبر ۔: جامعہ گوادر کے شعبہ چینی زبان اور شعبہ سیاحت کے طلباءنے اساتذہ یونس اور میڈم شنیلہ غفور کی رہنمائی میں چائنیز بزنس سینٹر گوادر کا دورہ کیا اور اپنے چینی دوستوں کے ہمراہ روایتی چینی تہوارِ وسطِ خزاں منایا اس موقع پر طلباء نے چینی ثقافت، روایات اور رسم و رواج سے آگاہی حاصل کی اور روایتی مٹھائی مون کیک سے بھی لطف اندوز ہوئے۔ تقریب کا مقصد ثقافتی تبادلے، باہمی احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا اس سرگرمی نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرنے، نوجوانوں کے مابین روابط بڑھانے اور تعلیمی و ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8893/2026
قلات13اکتوبر۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ پولیو مہم سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرڈاکٹر عبدالمالک ڈسٹرکٹ پولیوآفیسر ڈبلوایچ او ڈاکٹرمجتبی باجوئی ڈی ایم پی پی ایچ آئی جہانگیر زہری ڈی ایس پی قلات شکیل عمرانی سمیت محکمہ صحت قلات اوردیگر تمام محکموں کے سربراہان ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں آنے والے پولیو مہم سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا.ڈبلیوایچ او کے DPO ڈاکٹرمجتبی باجوئی نے پولیومہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوے کہا کہ پولیو مہم 2 نومبر 2026 سے شروع ہوکر 5 نومبر 2026 چار روز تک جاری رہیگا۔پولیو کے اس مہم میں ضلع قلات کے دو تحصیل کے19 یونین کونسلز میں 40269بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اس مہم میں ضلع قلات میں تمام یونین کونسلز میں پولیو ٹیمیں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے . اسسٹنٹ کمشنر قلات ندیم اکرم نے کہا کہ پولیو ایک موضی مرض ہے اس مرض سے بچوں کو بچانے کیلئے پولیو کے قطرے پلانا بہت ضروری ہے ایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کیلئے بچوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے پولیو سے پاک معاشرہ کی تشکیل کیلئے ہم سب کو مل کر پولیو جیسے مرض کے خلاف لڑنا ہوگا جسکے لیئے ہمیں لوگوں میں شعور اجاگر کرناہے علاقے کے خطیب علمائے کرام صحافی برادی شعراءادباء کی ذمہ پداری ہیکہ وہ پولیو سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کریں تاکہ ہمارا معاشرہ پولیو سے پاک معاشرہ بن سکے پولیو مہم کو سنجیدگی سے انجام دینے کیلئے مانیٹرنگ ٹیموں کی ذمہ داری ہیکہ وہ بھرپور اپناکردار اداکریں تاکہ کوئی بھی بچہ اس مہم میں قطرہ پلائے بغیر رہ نہ جائے پولیو مہم کے دوران کوئی غفلت لاپروائی برداشت نہیں کی جاآئیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8894/2026
گوادر 13 اکتوبر ۔: صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیرِ اہتمام عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے کی، جبکہ اسسٹنٹ ضلعی آفیسر پولیس چاکر خان بھی موجود تھے۔ کھلی کچہری میں عوامی مسائل، اشیائے خورونوش کے معیار، تعلیمی اداروں کی بہتری، ٹریفک کی روانی اور شہری سہولیات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر رومیل نعیم جان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی شکایات کا ازالہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کے ساتھ فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، تاکہ شہریوں کے مسائل کا بروقت ادراک کرکے عملی اقدامات کیے جا سکیں کھلی کچہری میں اشیائے خورونوش، آٹا، دودھ اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کے معیار، قیمتوں اور دستیابی کی نگرانی پر زور دیا گیا۔ واضح کیا گیا کہ عوام کو معیاری اشیا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام موثر نگرانی کریں اور خلاف ورزیوں کی صورت میں قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تعلیمی شعبے کے حوالے سے تعلیمی اداروں میں تدریسی ماحول اور سہولیات کی بہتری، اساتذہ اور والدین کے درمیان موثر رابطے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اسی طرح شہر میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں سے متعلق مسائل کے حل اور سڑکوں پر آمدورفت کو سہل بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں موثر طریقے سے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی، تاکہ شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے کھلی کچہری میں بتایا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، عوامی شکایات پر فوری توجہ دیں اور سرکاری امور میں شفافیت، جواب دہی اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، تاکہ صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کے ثمرات شہریوں تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8895/2026
نصیرآباد13اکتوبر۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت ڈویڑنل لوکل گورنمنٹ کے افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ترقیات حماد فارس کمبرانی ،عبدالصمد سمیت نصیرآباد، جعفرآباد، صحبت پور اور جھل مگسی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی اجلاس میں لوکل گورنمنٹ کے زیر انتظام جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں ان پر ہونے والی پیش رفت اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران لوکل گورنمنٹ کے افسران نے کمشنر نصیرآباد ڈویڑن کو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ان منصوبوں میں شہری و دیہی علاقوں میں گلیوں اور محلوں کی بہتری کے لیے ٹف ٹائلز بچھانے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے سڑکوں کی تعمیر و مرمت سولر سسٹم کی تنصیب پارکوں کی تعمیر اور عوام کو بہتر تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات شامل تھے. اجلاس میں بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی صفائی ستھرائی نکاسی آب کے مسائل کے حل اور عوامی مقامات کی بہتری سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد پہ غور کیا گیا، تاکہ سرکاری وسائل کو موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اجلاس میں تمام ترقیاتی منصوبوں کے معیار، تعمیراتی مواد کے معیار مقررہ ڈیزائن تکنیکی تقاضوں اور منظور شدہ تخمینوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ، اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کی پائیداری اور افادیت بھی زیر غور رہا۔لوکل گورنمنٹ کے منصوبوں کا بنیادی مقصد عوام کو دیرپا سہولیات فراہم کرنا ہےکمشنر نے خصوصی طور پر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اسکیموں پر توجہ دینے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ صاف پانی انسانی صحت کے لیے بنیادی ضرورت ہے اس لیے پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں معیار شفافیت اور فعالیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر آ aسکے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے مختص منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادویات طبی آلات اور ضروری سامان کی فراہمی سے متعلق منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی متعلقہ افسران اس بات کو یقینی بنائیں کہ فراہم کردہ وسائل اور سہولیات مستحق افراد تک پہنچیں اور عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات عملی طور پر حاصل ہوں کمشنر صلاح الدین نورزئی نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیں اور کسی بھی قسم کی خامی یا تاخیر کی صورت میں فوری اقدامات اٹھائیں انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری فنڈز عوام کی امانت ہیں اور ان کا استعمال شفافیت ذمہ داری اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے اجلاس میں شریک افسران پر زور دیا کہ آئندہ اجلاسوں میں شرکت سے قبل اپنے اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں ان کی مالی و عملی پیش رفت درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مکمل تیاری کے ساتھ شرکت کریں تاکہ اجلاس کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے اور مسائل کے حل کے لیے بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8896/2026
بارکھان: 13 اکتوبر ۔ ضلعی ناظمِ صحت بارکھان ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے بیسک ہیلتھ یونٹ (BHU) رکنی اور ایم سی ایچ سینٹر رکنی کی مارننگ شفٹ کا اچانک دورہ کیا اور طبی سہولیات، عملے کی حاضری اور حفاظتی ٹیکہ جات کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران ای پی آئی مراکز پر آئی ایل آر (ILR) کی دیکھ بھال، مستقل رجسٹر، اسٹاک رجسٹر، ویکسین کی دستیابی اور کولڈ چین کے انتظامات کا معائنہ کیا گیا۔ضلعی ناظمِ صحت نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ تمام ریکارڈ باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے، ویکسین کی مناسب دستیابی اور کولڈ چین برقرار رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور مریضوں کو بروقت معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8897/2026
ہرنائی 13 اکتوبر ۔:ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلع میں سرکاری اداروں کی کارکردگی، عملے کی حاضری اور عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) اسپتال اور گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کا اچانک تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد طبی و تعلیمی شعبوں میں بہتری لانا اور اپنے فرائض میں غفلت و لاپرواہی برتنے والے عناصر کا سدباب کرنا تھا اسپتال کے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ڈیوٹی روسٹر اور ملازمین کی حاضری کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی، مختلف وارڈز اور دیگر شعبوں کا تفصیلی دورہ کرکے صفائی ستھراہی کے امور اور مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا معائنے کے دوران بعض ملازمین کی غیر حاضری اور ڈیوٹی سے غفلت پر ڈپٹی کمشنر نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موقع پر سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ مریضوں کے علاج معالجے اور اسپتال میں عملے کی حاضری پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ اسٹاف کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیوٹی کے اوقات میں ہمہ وقت موجود رہ کر عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں۔ڈی ایچ کیو اسپتال کے بعد ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کا بھی رخ کیا، جہاں انہوں نے کلاس رومز، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے اور طلبہ کو بہتر آموزشی ماحول فراہم کرنے پر زور دیا۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے تمام سرکل آفیسران اور ادارہ جاتی سربراہان کو متنبہ کیا کہ ضلع بھر میں سرکاری اداروں کی مانیٹرنگ کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا اور آئندہ بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک دورے کیے جائیں گے تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8898/2026
موسیٰ خیل 13اکتوبر۔بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام موسیٰ خیل میں ملیریا کنٹرول پروگرام اور انٹیگریٹڈ کمیونٹی کیس مینجمنٹ کی مہارتوں کی منتقلی کے حوالے سے چار روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ تحصیل درگ میں منعقد کی گئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن بگٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ماسٹر ٹرینر اقبال بی آر ایس پی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر شفیق جعفر اور نمائندہ انڈس ہاسپٹل ظہور احمد خان نے بھی شرکت کی تقریب کا مقصدضلعی سطح پر صحت کے کارکنان اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ملیریا اور دیگر موسمی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے جدید تکنیکی مہارتیں منتقل کرنا۔ اس ورکشاپ میں مقامی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی بیسڈ موٹیویٹرز اور صحت کے شعبے سے وابستہ ضلعی عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ماہرین نے شرکاء کو ICCM پروٹوکولز، ملیریا کی علامات، ٹیسٹنگ کے طریق کار، اور مریضوں کی بروقت دیکھ بھال کے بارے میں تفصیلی عملی تربیت دی۔کمیونٹی کی سطح پر ملیریا سے بچاو کے لیے حفاظتی تدابیر جیسے مچھر دانیوں کا استعمال ٹی بی ایڈز اور صفائی ستھرائی کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس اقدام سے موسیٰ خیل کے دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات بالخصوص ملیریا کی روک تھام اور اس کے موثر علاج میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8899/2026
کوئٹہ، 13 اکتوبر۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے بورڈ کے گیارہویں اجلاس میں آئندہ سال تک صوبے کے 25 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا گیا، جبکہ 30 ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھجوانے کے پروگرام پر پیش رفت تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فنی تعلیم کے فروغ، نوجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فنی تعلیم کی استعداد کار میں اضافے، اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے انسٹی ٹیوٹ رجسٹریشن پورٹل کا افتتاح کیا۔ اس پورٹل کے ذریعے فنی تربیتی اداروں کی رجسٹریشن اور کارکردگی کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سازگار ماحول کا فروغ ضروری ہے۔ فنی تعلیم اور ہنر مندی کا فروغ نوجوانوں کو معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار حاصل کرکے اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ملکی ترقی میں بھی موثر کردار ادا کرسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سال تک فنی تربیت مکمل کرنے والے 25 ہزار نوجوانوں کو قومی اور عالمی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگراموں کو روزگار کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو محض تربیت فراہم کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی طور پر روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جاسکے۔اجلاس میں 30 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھجوانے کے پروگرام پر پیش رفت تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ہنر میں ڈھال کر انہیں ملکی اور عالمی سطح پر روزگار کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے فنی تربیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، تربیت کے معیار کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ اجلاس میں چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے اہداف کے حصول میں سست روی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام پر عمل درآمد میں تاخیر اور مقررہ اہداف کے حصول میں غفلت برتنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ فنی تربیت کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں درست سمت میں بروئے کار لاکر صوبے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے موثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگراموں کو نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آئیں، ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہو اور وہ قومی و عالمی معیشت کا فعال حصہ بن سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8900/2026
کوئٹہ، 13 اکتوبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے میر بہروز ریکی کی قیادت میں مائنز اونرز کے نمائندہ وفد نے یہاں ملاقات کی جس میں معدنیات کے شعبے کو درپیش مسائل، مشکلات اور اس کی ترقی و بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مائنز اونرز کو درپیش مسائل اور عملی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے معدنیات کے شعبے کی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور دستیاب معدنی وسائل سے موثر انداز میں استفادہ کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ معدنیات کا شعبہ بلوچستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس شعبے کی ترقی سے نہ صرف صوبے کے قدرتی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور صوبائی معیشت کو مستحکم کرنے کی راہیں بھی ہموار ہو سکتی ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے وفد کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور معدنیات کے شعبے سے متعلق قابل عمل تجاویز کا جائزہ لینے اور درپیش مسائل کے حل کے سیکرٹری مائنز کو احکامات جاری کیے میر سرفراز بگٹی نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ صوبے کے قدرتی وسائل کو عوامی مفاد، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے لیے موثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز سیدال خان لونی سمیت دیگر حکام شریک تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8901/2026
کوئٹہ، 13 اکتوبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں نیشنل پارٹی کے رہنما مہراب بلوچ اور جلال بلوچ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، صوبے کی مجموعی صورتحال اور بلوچستان کو درپیش مختلف مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں صوبے میں سیاسی رابطوں، عوامی مسائل کے حل اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8902/2026
کوئٹہ 13اکتوبر۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ کی زیرِ صدارت آٹے کی حالیہ قیمتوں کا جائزہ لینے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن، مختلف فلور ملز کے مالکان، محکمہ خوراک اور محکمہ صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک بھر میں آٹے کی موجودہ قیمتوں، قیمتوں میں اضافے کے عوامل اور اس سے متعلق مختلف پہلووں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام کو آٹے کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر حکمتِ عملی کے تحت اقدامات کریں۔اس موقع پر فلور ملز ایسوسی ایشن اور ملز مالکان نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ محکموں اور فلور ملز کے باہمی تعاون سے جلد کوئٹہ کے عوام کو آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8903/2026
سیوی 13 اکتوبر کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت محکمہ کمیونیکیشن ورکس، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ (CWPP&H) سیوی ڈویڑن کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، بلڈنگز اور روڈز کے متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز اور سب ڈویژنل آفیسرز (SDOs) نے کمشنر کو محکمے کی کارکردگی، جاری منصوبوں پر پیش رفت اور تعمیراتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر کمشنر عرفان اللہ خان نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور کام کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام تعمیراتی منصوبے منظور شدہ ڈیزائن، مقررہ معیار، تکنیکی اصولوں اور متعلقہ اسپیسفکیشنز کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ سرکاری وسائل کا موثر استعمال اور عوام کو معیاری ترقیاتی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے میٹریل کی کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر مرحلے پر میٹریل ٹیسٹنگ کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعمیراتی کام کے مختلف مراحل میں میٹریل کی جانچ اور تکنیکی معیار کی تصدیق لازمی بنائی جائے تاکہ ناقص میٹریل کے استعمال کی روک تھام اور منصوبوں کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمشنر سیوی ڈویژن نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل نگرانی کریں، فیلڈ میں کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیتے رہیں اور مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کی تکمیل کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8904/2026
لورالائی 13اکتوبر ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ نے آج شہر میں مختلف منی پمپس اور ہوٹلوں کا دورہ کیا دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے معیار، کھانا پکانے کے مقامات کی صفائی ستھرائی، باورچی خانوں اور اشیائے خوردونوش کو ذخیرہ کرنے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا، تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور معیاری کھانا فراہم کیا جا سکےاس موقع پر مختلف منی پمپس کی پیمائش بھی چیک کی گئی تاکہ عوام کو مقررہ مقدار کے مطابق پیٹرول فراہم کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ پیمائش میں بے ضابطگی سامنے آنے پر ایک منی پمپ کو سیل کر دیا گیااسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش کی فراہمی، صفائی ستھرائی کے معیار کو برقرار رکھنے اور منی پمپس پر درست پیمائش کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی مفاد، صحت عامہ اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8905/2026
گوادر،13 اکتوبر ۔: چیئرمین ضلع کونسل شئے مختار نے نگور شریف کے مقام پر انکاڑہ کورڈیم سے جیوانی شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی مین سپلائی پائپ لائن کا دورہ کیا اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار پائپ لائن کی موجودہ صورتِ حال اور جاری مرمتی کام کا جائزہ لیا۔ پائپ لائن متاثر ہونے کے باعث جیوانی شہر کو پانی کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اس موقع پر ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مومن بلوچ نے چیئرمین ضلع کونسل شئے مختار کو متاثرہ پائپ لائن کی مرمت، جاری کام کی پیش رفت اور جیوانی شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پائپ لائن کو درپیش مسائل اور پانی کی ترسیل بحال کرنے کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔چیئرمین ضلع کونسل شئے مختار نے موقع پر پائپ لائن کا معائنہ کرتے ہوئے مرمتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ جیوانی شہر کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی بحال کرنے میں مزید تاخیر نہ واضح رہے کہ انکاڑہ کورڈیم سے جیوانی شہر کو پانی فراہم کرنے والی مین سپلائی پائپ لائن نگور شریف کے مقام پر ٹوٹنے کے باعث متاثر ہوئی ہے، جس کی بحالی کے لیے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے عملے کی جانب سے مرمتی کام جاری ہے۔ اس پائپ لائن کی مرمت سے جیوانی شہر میں پانی کی فراہمی بحال کرنے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8906/026
کوئٹہ13 اکتوبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کے انٹرنیشنل ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمارے صوبے کو اکثر زلزلوں، سیلابوں، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے جیسے ہی ایک آفت کا سلسلہ روکتا ہے تو دوسری آفت سر اٹھا لیتی ہے۔ ان قدرتی آفات کے باعث انسانی جانوں، بنیادی انفراسٹرکچر، زراعت، مالداری اور عوام کے معاشی وسائل کو شدید خطرات لاحق رہتے ہیں=لہذا قدرتی آفات سے نمٹنے کی خاطر مختص فنڈز کا درست اور شفاف استعمال، عملی کارکردگی کا قابلِ پیمائش ہونا اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانا لازمی ہے۔ گورنر نے کہا کہ قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کی خاطر ایک جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی تشکیل دینا ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے قدرتی آفات سے قبل حفاظتی اقدامات، بروقت امدادی کارروائیوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کو یکساں اہمیت دیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ اگرچہ انسان نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے کئی مراحل طے کیے ہیں پھر بھی قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ابھی ممکن نہیں۔ جدید سائنٹفک ریسرچ، موسمیاتی پیش گوئی، دانشمندانہ منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال سے ان آفات کے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں قدرتی آفات کو محض ہنگامی صورتحال کی بجائے ان سے نمٹنے کی پیشگی تیاریوں کو حکومتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ بلوچستان میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کی گمبھیر صورتحال اور خشک سالی سے نمٹنے کیلئے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، زیرِ زمین پانی کا پائیدار استعمال اور شجرکاری مہم کو وسعت دینا ہوگا۔ گورنر نے زور دیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے صوبائی اور ضلعی سطح پر اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں اور ریسکیو اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ کریں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں، ماہرینِ ماحولیات اور مقامی آبادی کے باہمی تعاون سے ایک ایسا جامع نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو بلوچستان کو قدرتی آفات کے حوالے سے محفوظ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے۔

خبرنامہ نمبر8908/026
چمن 13 اکتوبر 2026:
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی سے آل اقراء پرائیویٹ سکولز آرگنائزیشن ضلع چمن کے صدر ضیاء اللہ خان عابد کی قیادت میں ضلعی کابینہ کے وفد نے ملاقات کی، جس میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، تعلیمی ترقی کے فروغ اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران تنظیم کے وفد نے اس امر پر زور دیا کہ ضلع چمن میں منعقد ہونے والے تعلیمی فیسٹیولز، سرکاری تقریبات اور دیگر اہم سرگرمیوں میں نجی تعلیمی اداروں کو بھی اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے نمائندگی اور بھرپور شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ اور طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے وفد کے مؤقف کو سراہتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ ضلع میں تعلیمی ترقی، طلبہ کی صلاحیتوں کے نکھار اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور باہمی اشتراک ناگزیر ہے۔
ضلعی انتظامیہ چمن تعلیم کے فروغ، تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کے استحکام اور طلبہ کو مثبت و تعمیری سرگرمیوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔*

خبرنامہ نمبر8909/026
چمن: اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ نے شہر میں نانبائیوں، قصائیوں، جنرل اسٹورز، مشروبات کے مراکز اور دیگر دکانوں کا دورہ کیا۔ اس دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، معیار، صفائی ستھرائی، فوڈ سیفٹی ایس او پیز اور زائدالمیعاد و غیر معیاری اشیاء کا جائزہ لیا۔انہوں نے دکانداروں کو سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد، صفائی ستھرائی برقرار رکھنے اور معیاری اشیاء کی فروخت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی صحت اور حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر8910/026
اسلام آباد،13اکتوبر 2026:
مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں بلوچستان ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کی مؤثر شرکت یقینی بنانے کے لیے سازگار مواقع کی فراہمی ضروری ہے۔ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ نہ صرف ان کی معاشی خودمختاری میں معاون ہے بلکہ پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’جامع اور مستحکم معاشی بااختیاری و ترقی‘‘ میں بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کاروباری شخصیات کی نمائندگی کے حوالے سے کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کاروباری شخصیات کی قیادت کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں بلوچستان کی خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی آواز کو مؤثر انداز میں متعلقہ حلقوں تک پہنچانے اور خواتین کی قیادت میں معاشی ترقی کے فروغ کے امکانات کو اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں کاروبار، جدت اور معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، کاروباری مواقع تک رسائی اور معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے مناسب پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں۔ مشیر ترقیِ نسواں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی معاشی بااختیاری، کاروباری استعداد میں اضافے اور ان کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا رہے گا، تاکہ بلوچستان کی خواتین صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

خبرنامہ نمبر8911/026
اسلام آباد، 13 اکتوبر 2026
مشیر برائے محکمہ ترقیِ نسواں بلوچستان ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کی مؤثر شرکت یقینی بنانے کے لیے سازگار مواقع کی فراہمی ضروری ہے۔ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ نہ صرف ان کی معاشی خودمختاری میں معاون ہے بلکہ پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’جامع اور مستحکم معاشی بااختیاری و ترقی‘‘ میں بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کاروباری شخصیات کی نمائندگی کے حوالے سے کیا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کاروباری شخصیات کی قیادت کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں بلوچستان کی خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی آواز کو مؤثر انداز میں متعلقہ حلقوں تک پہنچانے اور خواتین کی قیادت میں معاشی ترقی کے فروغ کے امکانات کو اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں کاروبار، جدت اور معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، کاروباری مواقع تک رسائی اور معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے مناسب پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں۔ مشیر ترقیِ نسواں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی معاشی بااختیاری، کاروباری استعداد میں اضافے اور ان کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا رہے گا، تاکہ بلوچستان کی خواتین صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

خبرنامہ نمبر 8907/026
کوئٹہ 13 اکتوبر:2026; ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے اور خصوصی طور پر قومی کھیل ہاکی کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں سبی میں ہاکی گراؤنڈ کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے، جو علاقے کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن، بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم اور محکمہ کھیل کے اشتراک سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی کیا۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے علاقے مری آباد میں بھی ہاکی گراؤنڈ کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے، جہاں اب صرف لائٹس کی تنصیب کا کام باقی ہے، جو آئندہ چند روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔مری آباد ہاکی گراؤنڈ میں لائٹس کی تنصیب کے بعد کھلاڑیوں کو دن کے علاوہ شام کے اوقات میں بھی پریکٹس اور کھیلنے کی سہولت میسر آئے گی، جس سے ہاکی کے فروغ، نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ان اقدامات کو صوبے میں کھیلوں کے فروغ، نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور قومی کھیل ہاکی کو دوبارہ مقبول بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کھیلوں کی سہولیات میں اضافے سے بلوچستان کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے اور صوبے و ملک کا نام روشن کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کے فروغ اور ماضی کی کامیابیوں کی بحالی کے لیے سکولوں کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں تربیت اور سہولیات فراہم کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ کے 25 سکولوں کے طلباء میں ہاکی کٹس اور کھیلوں کا سامان تقسیم کرنا قومی کھیل کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے معیاری کوچنگ، باقاعدہ تربیت، کھیلوں کی سہولیات اور مسلسل حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور ماضی میں اس کھیل میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ہاکی کی جانب راغب کرکے سکولوں سے باصلاحیت کھلاڑی سامنے لائے جائیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے پی ایس او اور بلوچستان ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سید امین شاہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت اور بلند حوصلہ ہیں۔ انہیں مناسب سہولیات اور مواقع فراہم کرکے قومی سطح کے کھلاڑی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، برداشت اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔اسپیشل سیکرٹری محکمہ تعلیم بلوچستان رضوان قدیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ طلباء کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے کر طلباء کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
مقررین نے ہاکی کے فروغ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن، بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم اور محکمہ کھیل کی مشترکہ کوششوں کو اہم قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور قومی کھیل کو فروغ دینے کے لیے ایسی کاوشیں جاری رہنی چاہئیں۔ تقریب میں ڈائریکٹر سپورٹس سجاد اسلم بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے

خبرنامہ نمبر8912/026
کوئٹہ 13اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کوئٹہ ویسٹ کی مجموعی صورتحال، امن و امان کے قیام، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری، عوامی مسائل اور ضلعی سطح پر درپیش اہم انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل اور سرکاری امور کی مؤثر انجام دہی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں مختلف محکموں کی ذمہ داریوں، کارکردگی اور باہمی اشتراک کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض پوری ذمہ داری، مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں اور عوامی شکایات کے ازالے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے عوامی مفاد کے امور پر باہمی مشاورت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کام کریں تاکہ انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے ساتھ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ نے مزید کہا کہ تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ضلعی سطح پر درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دیں اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر8913/026
سوراب (13 اکتوبر 2026): ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) سلمان علی بلیدی کی زیر صدارت SAP سسٹم میں عمر کی درستگی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈی ایس پی سوراب بلاول احمد محمد حسنی، ایم ایس ڈاکٹر یوسف ثانی، ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ آفیسر حبیب اللہ میروانی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن گدر فارم رئیس حبیب اللہ، سپریڈنٹ ڈی سی آفس فضل محمد قمبرانی، ایگریکلچر افیسر علی نواز، خزانہ افیسر مسعود احمد، سمیع اللہ قمبرانی سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی اجلاس میں عمر کی درستگی کے امور کا جائزہ لیا گیا

خبرنامہ نمبر8914/026
سوراب: (13 اکتوبر 2026) ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر دشت گوران ڈاکٹر ثناء اللہ نے پٹوار خانہ سوراب کا دورہ کیا جہاں قانون گو نور بخش میروانی اور دیگر عملے نے انہیں دفتری امور اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر دفتری امور کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو عوامی مسائل کے حل اور سرکاری امور کی بہتر انجام دہی پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی

خبرنامہ نمبر8915/026
کوئٹہ، 13 اکتوبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاک فوج کی جانب سے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل فتح-2 ایکسٹینڈڈ رینج (ای آر) کے کامیاب تجرباتی لانچ پر قوم، مسلح افواج، سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت قومی خود اعتمادی اور سائنسی و تکنیکی مہارت کا مظہر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جدید نیویگیشن سسٹم، جدید ترین ایویونکس ٹیکنالوجی، غیر معمولی درستگی اور توسیع شدہ رینج کی حامل اسلحہ جاتی صلاحیتیں پاکستان کے دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت قابل تحسین ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں پیش رفت قومی دفاع کو مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کامیاب تجرباتی لانچ پر متعلقہ اداروں اور اس منصوبے سے وابستہ تمام ماہرین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مزید ترقی دے گا۔

خبرنامہ نمبر8916/026
تربت ۔گورنمنٹ بوائز عطاء شاد ڈگری کالج تربت کے آرٹس کے طالب علموں کے ایک وفد نے پروفیسر بلوچ خان اور پروفیسر نور محمد کی سربراہی میں ریڈیو پاکستان تربت کا تفصیلی مطالعاتی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد طلباء کو نشریاتی ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار اور جدید دور میں ریڈیو کی اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔اس موقع پر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان تربت عبدالحمید شاکر، سینئر پروڈیوسر جلیل احمد، انجینئر اکرم بلوچ، نیوز ایڈیٹر عبدالصمد خالق اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔
وفد کو ریڈیو پاکستان تربت کے تمام شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کرایا گیا۔انجینئر اکرم بلوچ نے طلباء کو ریڈیو پاکستان تربت کے اسٹوڈیو بلاک، کنٹرول روم، ٹرانسمیٹر اور دیگر تکنیکی شعبوں کا دورہ کرایا اور انہیں شعبہ انجینئرنگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک پروگرام ریکارڈنگ سے لے کر سامعین تک پہنچتا ہے اور اس میں جدید ٹیکنالوجی کا کیا کردار ہے۔اس موقع پر طلباء نے انجینئر اکرم بلوچ سے ریڈیو ٹیکنالوجی، نشریات اور ساؤنڈ سسٹم سے متعلق مختلف سوالات کیے جن کے انہوں نے تسلی بخش جوابات دیے۔ سینئر پروڈیوسر جلیل احمد نے طلباء کو ریڈیو پاکستان تربت کے معلوماتی، تعلیمی، ادبی اور تفریحی پروگراموں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان تربت بلوچی اور اردو زبانوں میں کیچ اور مکران کے عوام کی ثقافت، تعلیم اور مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔اس دوران طلباء نے ریڈیو پاکستان تربت کے براہ راست پروگرام میں بھی حصہ لیا اور سامعین کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا، جسے طلباء کے لیے ایک یادگار تجربہ قرار دیا گیا۔آخر میں اسٹیشن ڈائریکٹر عبدالحمید شاکر نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے دورِ جدید میں ریڈیو پاکستان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں بھی ریڈیو کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو آج بھی دنیا کا سب سے سستا، قابل رسائی اور بااعتماد ذریعہ ابلاغ ہے۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں، دیہاتوں اور سرحدی پٹی میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے، وہاں ریڈیو ہی عوام کو بروقت خبریں، موسم کی صورتحال، تعلیمی معلومات اور تفریح فراہم کرتا ہے۔ ریڈیو پاکستان قومی یکجہتی، تعلیم اور عوامی شعور اجاگر کرنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔اسٹیشن ڈائریکٹر نے طلباء پر زور دیا کہ وہ ریڈیو سے جڑے رہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ریڈیو پاکستان کے پلیٹ فارم سے اپنی آواز عوام تک پہنچائیں۔دورے کے اختتام پر کالج کے لیکچرار اور طلباء نے ریڈیو پاکستان تربت کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اس مطالعاتی دورے کو انتہائی معلوماتی اور مفید قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر8917/026
کوئٹہ 13اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی زیرِ صدارت محکمہ تعلیم کے افسران، بشمول ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، کے ساتھ ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ضلع کوئٹہ ویسٹ میں تعلیمی امور، تعلیمی اداروں کی کارکردگی، طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ تعلیمی معیار کی بہتری، اداروں میں نظم و ضبط اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور باہمی رابطہ کاری کے ذریعے درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں

خبرنامہ نمبر 8918/026
چمن 13 اکتوبر 2026:
چمن: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے BSDI فیز تھری کے تحت اے ڈی سی کے پرانے گھر کے احاطے میں زیرِ تعمیر 10 کوارٹرز کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ٹھیکیدار اور متعلقہ محکموں کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی مراحل اور دیگر امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔
ڈپٹی کمشنر نے تعمیراتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ منصوبے میں معیاری تعمیراتی میٹریل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ متعلقہ افسران منصوبے کی مسلسل نگرانی کریں اور سرکاری ہدایات کے مطابق تعمیراتی کام کی بروقت، شفاف اور معیاری تکمیل یقینی بنائیں۔

خبرنامہ نمبر8919/026
تربت۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی نے محکمہ آثارِ قدیمہ کے افسران ریاض احمد اور دلجان کے ہمراہ شاہی تمپ قلعہ اور تربت قلعہ (ملائی قلعہ) کے اطراف میں مبینہ غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کا معائنہ کیا۔معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے تاریخی قلعوں کے اطراف میں موجود تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کا جائزہ لیا اور متعلقہ افراد کو وارننگ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے یا تعمیرات سے گریز کریں اور تاریخی و سرکاری مقامات کی حدود کا احترام یقینی بنائیں۔
اس موقع پر تاریخی ورثے کے تحفظ اور قدیم قلعوں کی اصل حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ تاریخی مقامات پر غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کی روک تھام کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ کیچ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ اور سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

خبرنامہ نمبر8920/026
تربت: انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے تعلیمی پروگراموں میں مزید جدت لانے، انہیں ایچ ای سی گائیڈ لائنز اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کا فیصلہ
جامعہ تربت کے انسٹی ٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر (آئی بی ایل سی) کا ایک اہم اجلاس ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبد الصبور کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں نئے داخلوں، تعلیمی پروگراموں میں مزید جدت لانے، انہیں ایچ ای سی گائیڈ لائنز اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے علاوہ آئندہ ہونے والے بورڈ آف اسٹڈیز و فیکلٹی بورڈ کے اجلاسوں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبد الصبور نے کہا کہ بلوچی زبان و ادب اور ثقافت کی ترویج و تحفظ کے لیے تعلیمی پروگراموں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی متعدد مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے نصاب کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز اور مارکیٹ کی ضروریا ت کے مطابق آراستہ کرنے اور معیار کو برقرار رکھنے کے علاوہ یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 کے اہداف کے حصول پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ یہ تمام تجاویز و منصوبے غور و خوض اور حتمی منظوری کے لیے ڈیپارٹمنٹل بورڈ آف اسٹڈیز اور فیکلٹی بورڈ سمیت آئندہ آئینی اجلاسوں میں پیش کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، سید ہاشمی سال کی مناسبت سے رواں برس نومبر کے آخر میں ایک روزہ قومی سیمینار کے انعقاد کی بھی منظوری دی گئی۔

خبر نامہ نمبر 2026/8921
سوراب13 اکتوبر:ـ ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد شکیل عالیزئی، ایکسئین بی اینڈ آر حبیب شاہ، ایس ڈی او مقصود احمد مینگل اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز و گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول سوراب، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر آفس اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل آفس سوراب کا دورہ کیا اس موقع پر متعلقہ حکام نے ڈپٹی کمشنر سوراب کو تعلیمی اداروں میں مجوزہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے مختلف مقامات کا معائنہ کیا اور ترقیاتی کاموں کے لیے درکار ضروریات اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا دورے کا مقصد تعلیمی اداروں میں ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی اور ضروری سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لینا تھا تاکہ طلبہ و طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے اس موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ ترقیاتی کاموں کے تمام امور مؤثر انداز میں آگے بڑھائے جائیں اور تعمیراتی کاموں کے معیار کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/8922
قلات13اکتوبر:ـایس ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ نے پولیس بھرتی کے عمل سے متعلق ایک انتہائی اہم اور واضح بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ پولیس میں تمام بھرتیاں بالکل شفاف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی یا زیادتی ہرگز نہیں ہونے دی جائے گی۔وزیراعلی بلوچستان اورآئ جی بلوچستان پولیس کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیاجائیگاایس ایس پی قلات نے کہاکہ صرف وہی نوجوان پولیس فورس کا حصہ بنیں گے جو اپنی محنت، جسمانی اہلیت اور قابلیت کے معیار پر پورا اتریں گے۔ کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی امیدوار نے پولیس بھرتی کے لیے پیسہ (رشوت) دینے یا بااثر افراد سے سفارش کروانے کی کوشش کی، تو اسے نہ صرف فوری طور پر نااہل (Disagree/Disqualify) قرار دیا جائے گا بلکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/8923
اوتھل13اکتوبر:ـاوتھل میں مچھر مار اسپرے مہم کا آغاز کردیا گیاہےکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا اور ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ کی خصوصی ہدایت پر اوتھل میں مچھروں کے خاتمے کے لیے اسپرے مہم کا آغاز کر دیا گیا۔مچھر مار مہم کا باقاعدہ افتتاح اسسٹنٹ کمشنر اوتھل میرمن کاکڑ نے مہم کا افتتاح کیا جو 12 اکتوبر سے 26 اکتوبر تک جاری رہے گی مہم کے شیڈول کے مطابق اوتھل میں 4 دن جبکہ لسبیلہ کے دیگر علاقوں بیلہ میں 4 دن، لاکھڑا اور لیاری میں 3 دن جبکہ کنراج میں 4 دن مچھر مار اسپرے کیا جائے گا،اسپرے مہم کے افتتاح کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر اوتھل ڈاکٹر میرمن کاکڑ، DHO لسبیلہ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ ہاشمی، چیئرمین میونسپل کمیٹی اوتھل سید سومار شاہ کاظمی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر وقار بلوچ، لسبیلہ کے معروف سماجی کارکن ڈاکٹر عبدالحکیم لاسی، وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی اوتھل وسیم احمد خاصخیلی، اسسٹنٹ میونسپل کمیٹی عبداللہ رونجھو، میروائس اور ثناء اللہ بھی موجود تھے۔ اس مہم کا مقصد مچھروں کی افزائش کو روکنے اور عوام کو مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/8924
سنجاوی13اکتوبر:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی احکامات کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی کی زیرِ قیادت سنجاوی میں خواتین کے مسائل سننے، ان کی شکایات کے ازالے اور جائز مسائل کے حل کے لیے خواتین کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ افسران نے شرکت کی ۔کھلی کچہری کا مقصد خواتین کو درپیش سماجی، انتظامی اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل سے آگاہی حاصل کرنا، ان کی شکایات کو براہِ راست سننا اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے ان کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی نے کہا کہ گورنمنٹ آف بلوچستان کی واضح ہدایات ہے کہ خواتین کے مسائل ان کی دیلیز پر حل کئے جائیں۔

خبرنامہ نمبر2026/8925
موسیٰ خیل13اکتوبر:ـبلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام موسیٰ خیل میں ملیریا کنٹرول پروگرام اور انٹیگریٹڈ کمیونٹی کیس مینجمنٹ کی مہارتوں کی منتقلی کے حوالے سے چار روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ تحصیل درگ میں منعقد کی گئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب الرحمن بگٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ماسٹر ٹرینر اقبال بی آر ایس پی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر شفیق جعفر اور نمائندہ انڈس ہاسپٹل ظہور احمد خان نے بھی شرکت کی تقریب کا مقصدضلعی سطح پر صحت کے کارکنان اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ملیریا اور دیگر موسمی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے جدید تکنیکی مہارتیں منتقل کرنا۔اس ورکشاپ میں مقامی ہیلتھ ورکرز، کمیونٹی بیسڈ موٹیویٹرز اور صحت کے شعبے سے وابستہ ضلعی عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ماہرین نے شرکاء کو ICCM پروٹوکولز، ملیریا کی علامات، ٹیسٹنگ کے طریق کار، اور مریضوں کی بروقت دیکھ بھال کے بارے میں تفصیلی عملی تربیت دی۔
کمیونٹی کی سطح پر ملیریا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر جیسے مچھر دانیوں کا استعمال ٹی بی ایڈز اور صفائی ستھرائی کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس اقدام سے موسیٰ خیل کے دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات بالخصوص ملیریا کی روک تھام اور اس کے موثر علاج میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *