13th-April-2026

خبرنامہ نمبر2924/2026
کوئٹہ، 13 اپریل ۔ بلوچستان میں فیلڈ افسران کی حاضری، کارکردگی اور موثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت لائیو لوکیشن پر مبنی حاضری کا مربوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ افسران کی اپنی جائے تعیناتیوں پر موجودگی، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن بنائی جا سکے یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پیر کو یہاں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز نے جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اجلاس میں منصوبوں کی رفتار، معیار، درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کا جامع جائزہ لیا گیا وزیر اعلیٰ نے واضح اور دوٹوک انداز میں ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبے جون سے قبل ہر صورت مکمل کیے جائیں اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ضلعی افسران صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رہنے کے بجائے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور منصوبوں پر اعلیٰ معیار کے مطابق عملدرآمد کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے بروقت حل اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے موثر فیلڈ مانیٹرنگ ناگزیر ہے انہوں نے تمام انتظامی سربراہان کو ہدایت کی کہ ایسے افسران جو 10 دن سے زائد عرصے تک فیلڈ سے غیر حاضر پائے جائیں ان کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے نفاذ سے حکومتی کارکردگی کو نہ صرف موثر بنایا جائے گا بلکہ اسے مکمل طور پر شفاف اور جوابدہ بھی بنایا جائے گا جس سے عوامی وسائل کے درست، شفاف اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور ان اہداف کے حصول کے لیے ایک مربوط، فعال اور سخت نگرانی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ غفلت، سستی یا تاخیر کے مرتکب افسران کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور کارکردگی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کے سلسلے میں سیکرٹریز کمیٹی کے باقاعدہ اور متواتر اجلاسوں کے انعقاد پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی دلچسپی و یکسوئی اور اہداف کے حصول پر ان کی کارکردگی کو سراہا وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس موثر نظام کو مزید مضبوط، مربوط اور نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز رفتار اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2925/2026
کوئٹہ 13اپریل ۔صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی، حاجی نورمحمد خان دمڑ نے ہزار گنجی میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں حکومتِ بلوچستان اور وہ خود متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2926/2026
لورالائی13اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت انجمن تاجران کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کو درپیش تجارتی مسائل، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی سہولیات کی بہتری سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی کاکڑ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے تاجر برادری کے مسائل کو بغور سنا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کیں۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور تاجر برادری کے درمیان موثر رابطہ اور باہمی تعاون ہی پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کاروبار دوست پالیسیوں کے تحت تاجروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انجمن تاجران کے عہدیداران نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں گے اور شہر کی ترقی و خوشحالی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔شہر میں صفائی اور تجاوزات کے خلاف مہم تیز کرنے کا فیصلہ اجلاس کے دوران شہر میں صفائی کی صورتحال اور تجاوزات کے مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹی کو ہدایت دی کہ صفائی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور اہم شاہراہوں و بازاروں میں جاری تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو صاف ستھرا اور منظم ماحول فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2927/2026
قلات13اپریل وِزیراعلی بلوچستان اورچیف سیکرٹری کی خصوصی دلچسپی سے قلات میں بنیادی سہولیات فراہمی کےترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ نے قلات شہرمیں BSDI کے تحت مختلف ترقیاتی اسکیمات کا دورہ کیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے جاری ترقیاتی اسکیمات کے کام کی رفتار اور تعمیرات میں استعمال ہونے والے مٹیریل کے معیار کابھی جائزہ لیاگورنمنٹ بوائز ہائی سکول پولیس لائن گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کوئنگ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول مغلزئی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مغلزئی کرکٹ گراونڈ ملکی گورنمنٹ پرائمری سکول گیاوان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل اورفنانشل پروگریس سے متعلق متعلقہ انجینئرسے بریفنگ لی تعلیمی اداروں میں جاری نئے کمروں کی تعمیر مرمت کے کام رنگ روغن اور دیگر کاموں کا بھی بغور جائزہ لیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنرشاہنواز بلوچ نے کنٹریکٹرزکوہدایت جاری کرتے ہوئےکہا کہ BSDI کے تحت ترقیاتی اسکیمات جلداز جلد مکمل کریں اور تعمیرات کے معیار میں مزید بہتری لائیں تاکہ عوام ان اسکیمات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2928/2026
کوئٹہ13پریل . بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیمی سال 2026 کے دوران درسی کتب کی بروقت پرنٹنگ اور ترسیل کا عمل تیزی سے مکمل کیا جا رہاہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر اسکولز کی ڈیمانڈ پر اس سال درسی کتب کی بڑے پیمانے پر پرنٹنگ کی گئی، جس جوکہ تقریباً ایک کروڑ 15 لاکھ سے زاید کتب کی چھپائی عمل میں لائی گئی ہیں۔ یہ تمام کتب بروقت پرنٹ کر کے متعلقہ اضلاع کو بھیجی جا چکی ہیں، اور اب تک تقریباً 96 فیصد کتب مختلف اضلاع تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ڈاکٹر گلاب خان خلجی کے مطابق بعض علاقوں میں درسی کتب کی جزوی کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں، جن کی بنیادی وجوہات میں سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ سے 96 فیصد سے زائد درسی کتب طبع کرکہ ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن سکولز مقررہ کردہ گودام پہنچا دی ہیں اور ساتھ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران کو فراہم کر دی گئی ہیں حکومت کی جانب سے جاری مثبت تعلیمی پالیسیوں اور داخلہ مہم 2026کے باعث اس سال بڑی تعداد میں بچے سرکاری اسکولوں میں داخل ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کافی بڑھ گئی ہے۔چیئرمین نے یہ بھی وضاحت کی کہ حالیہ سال 2026 میں انگلش میڈیم تعلیم کے رجحان میں اضافے اور بعض نجی اسکولوں کے طلبہ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کے باعث بھی کتابوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ باقی ماندہ کتب کی ترسیل بھی جلد مکمل کر لی جائے گی تاکہ کسی بھی اسکول میں تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2929/2026
لورالائی 13اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) حسیب شجاع نے انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور فیلڈ میں موجود پولیو ٹیموں کی کارکردگی، حاضری اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے بچوں کو پلائے جانے والے پولیو قطروں کے اندراج سے متعلق انسرشیٹس چیک کیں جبکہ بچوں کے فنگر مارکس کی تصدیق بھی کی۔ڈپٹی کمشنر نے ٹیموں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے فیلڈ میں خدمات انجام دینے والے ورکرز کے جذبے اور محنت کو سراہتے ہوئے انہیں معاشرے کے حقیقی ہیرو قرار دیا۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ انہیں اس موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (رینیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم بھی ان کے ہمراہ تھے۔مزید پیش رفت اور انتظامات ضلعی انتظامیہ کے مطابق مہم کے دوران سینکڑوں موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائیں گی۔ حساس یونین کونسلز میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ٹیمیں بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں ہزاروں بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹیموں کی نگرانی کے لیے سپروائزری اسٹاف بھی فیلڈ میں متحرک ہے۔آگاہی مہم میں تیزی عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مساجد، اسکولوں اور مقامی کمیونٹی رہنماوں کے ذریعے آگاہی مہم بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ہر فرد کا کردار نہایت اہم ہے اور عوام کے تعاون کے بغیر اس مقصد کا حصول ممکن نہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2930/2026
کوئٹہ 13 اپریل۔ صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کی زد میں ہے، پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کی بربادی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہےوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق :”بلوچستان ماحولیاتی لحاظ سے ایک حساس صوبہ ہے، ہمیں مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے آج اقدامات کرنے ہوں گے۔ شجرکاری، پانی کے ذخائر کی حفاظت اور صاف توانائی کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبائی مشیر ماحولیات نسیم الرحمن ملاخیل نے کہا کہ:”بلوچستان میں کلائمیٹ چینج کے اثرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے صوبے بھر میں ‘گرین بلوچستان’ مہم کے تحت بڑے پیمانے پر شجرکاری، آلودگی کنٹرول اور ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔”نسیم الرحمن ملاخیل نے مزید بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے عوام، سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔”ماحول صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم ضلعی سطح پر ماحولیاتی کمیٹیاں قائم کر رہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ممکن ہو سکے۔”حکومت بلوچستان کا موقف ہے کہ وفاقی سطح پر کلائمیٹ فنانسنگ میں بلوچستان کو جائز حصہ دیا جائے تاکہ صوبہ اس چیلنج کا موثر طور پر مقابلہ کر سکے۔
خبرنامہ نمبر2931/2026
کوئٹہ 13اپریل ۔ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور قانون و پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین ظفر علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں رکن اسمبلی شاہدہ رو¿ف، ہادیہ نواز، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی نور حسین بلوچ، محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے ڈپٹی سیکرٹری احسان برکت اور منصورالحق نے شرکت کی۔اجلاس میں تین اہم بلز زیر غور آئے جنہیں تفصیلی بحث کے بعد حتمی سفارشات کے ساتھ ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پہلا بل: بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (ترمیمی) بل 2025کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی ایکٹ 2010 پہلے سے نافذ العمل ہے، تاہم اکیڈمی کے بورڈ آف گورنرز کے 14 نومبر 2018 کے اجلاس میں موجودہ تقاضوں کے مطابق تربیتی نظام اور دائرہ کار کو بہتر بنانے کے لیے اس میں ترامیم کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔اس ضمن میں تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی نے متعدد اجلاسوں کے بعد “بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (ترمیمی) ایکٹ 2024” کا مسودہ تیار کیا، جسے محکمہ قانون و پارلیمانی امور سے ویٹنگ کے بعد 9 اگست 2024 کو صوبائی کابینہ نے منظور کیا۔کمیٹی نے اس بل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات منظوری کے لیے ایوان کو ارسال کر دیں۔دوسرا بل: بلوچستان پبلک سروس کمیشن (ترمیمی) بل 2026کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ایکٹ 1989 میں چیئرمین کے عہدے پر دوبارہ تعیناتی کی کوئی شق موجود نہیں۔ اس قانونی خلا کو پ±ر کرنے کے لیے گورنر بلوچستان نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 128(1) کے تحت 3 فروری 2026 کو ایک آرڈیننس جاری کیا۔مذکورہ آرڈیننس کو آئینی تقاضوں کے مطابق “بلوچستان پبلک سروس کمیشن (ترمیمی) بل 2026” کی صورت میں صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کر کے ایوان کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔تیسرا بل: دیوانی ضابطہ کار (بلوچستان ترمیمی) بل 2026کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ عدالتی نظام غیر ضروری اور تاخیری مقدمات کے باعث دباو کا شکار ہے۔ مجوزہ بل میں دیوانی ضابطہ کار 1908 میں ترامیم کے تحت غیر ضروری التوا کو محدود کرنے، بدنیتی پر مبنی مقدمات میں اخراجات عائد کرنے اور حقیقی فریقین کو ریلیف دینے سے متعلق اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے تینوں بلز پر اپنی سفارشات مرتب کر کے منظوری کے لیے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2932/2026
کوئٹہ 13اپریل۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ہزارہ کمیونٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی عبدالصمد گورگیج، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایس ایس پی آپریشن آصف خان، ایس پی سیکیورٹی پولیس نعیم اچکزئی ،اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن اور دیگر متعلقہ افسران کے علاوہ بلوچستان شیعہ کانفرنس، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، شیعہ علماء کونسل، ہزارہ جرگہ، قومی مرکز، انجمن تاجران اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ شہر میں امن و امان کی بہتری کے لیے سیکیورٹی پلان کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہزارہ کمیونٹی کے تعاون سے کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جبکہ شہر میں پولیس پٹرولنگ میں بھی مزید اضافہ کیا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ روٹس پر موثر پٹرولنگ اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور امن و امان میں خلل ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے تعاون سے سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر اور فول پروف بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت نے اس موقع پر کہا کہ عوام کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں حالیہ واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں آخر میں دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2933/2026
سبی 13 اپریل۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے انسداد پولیو مہم کا افتتاح فیلڈ میں جا کر خانہ بدوشوں کی سڑک کنارے قائم کچی آبادی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر ہارون، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان، این سٹاپ ڈاکٹر شہزادہ کامران، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر صلاح الدین مری، ارسلان لاشاری Srip اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف ٹرانزٹ پوائنٹس اور فکس سائٹس کا معائنہ کیا، جہاں انہوں نے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، ٹیلی شیٹس اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اس دوران مختلف علاقوں میں وینوں، بسوں اور موٹرسائیکل سواروں کے ہمراہ موجود بچوں کو پولیو اور وٹامن اے کے قطرے پلائے گئے۔ ضلع سبی میں جاری انسداد پولیو مہم کے دوران 43 ہزار 192 بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ مہم کے لیے 46 فکس ٹیمیں، 22 ٹرانزٹ ٹیمیں اور مجموعی طور پر 292 ٹیمیں مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے اور ٹیمیں دور دراز، خانہ بدوش اور کچی آبادیوں میں خصوصی توجہ کے ساتھ مہم جاری رکھیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ٹیموں کی مانیٹرنگ مو¿ثر بنائی جائے، غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی جائے اور مہم کے دوران معیار اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیو کے مکمل خاتمے تک تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2934/2026
کوہلو 13 اپریل۔ضلعی انتظامیہ کوہلو کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں تمام ٹرانسپورٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی وژن کے مطابق ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد فوری طور پر مختلف روٹس پر کرایوں میں بھی کمی کی جائے۔ اعلامیے کے مطابق کوہلو سے بارکھان، رکنی، ڈیرہ غازی خان، دکی، سبی اور کوئٹہ جانے والی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو پٹرول و ڈیزل کے نئے نرخوں کے مطابق کم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کرایوں میں کمی نہ کرنے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں متعلقہ ضلعی حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹ اڈوں اور روٹس کی مسلسل نگرانی کریں اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2935/2026
کوہلو 13 اپریل۔ضلعی انتظامیہ کوہلو کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں تمام ٹرانسپورٹرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی وژن کے مطابق ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد فوری طور پر مختلف روٹس پر کرایوں میں بھی کمی کی جائے۔ اعلامیے کے مطابق کوہلو سے بارکھان، رکنی، ڈیرہ غازی خان، دکی، سبی اور کوئٹہ جانے والی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو پٹرول و ڈیزل کے نئے نرخوں کے مطابق کم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کرایوں میں کمی نہ کرنے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں متعلقہ ضلعی حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹ اڈوں اور روٹس کی مسلسل نگرانی کریں اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2936/2026
زیارت13اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر محمد عبدالقدوس اچکزئی نےڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلاکر چار روزہ انسداد پولیو مہم کا افتتاح کر دیا اس موقع پرایف سی کیپٹن محمد حارث ،ڈی ایچ او ڈاکٹررفیق احمد مستوئی اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر عرفان الدین بھی موجود تھے۔چار روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران ڈسٹرکٹ زیارت میں ستائیس ہزار بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں جائیں گے انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا ضلع زیارت میں 139 موبائل ٹیمیں گھر گھر جاکر 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے اور اس سلسلے میں 29 فکسڈ سائٹس اور 12 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نےکہا تمام پولیو ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے، زیارت میں کوئی نو گو ایریانہیں لیکن اس کے باوجود اگر کسی نے بھی انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ،حکومت کے ساتھ والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ایک بچہ بھی قطروں سے محروم نہ رہ جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2937/2026
لورالائی: 13ایریل ۔ غیر قانونی واٹر بور کے خلاف کارروائی، انتظامیہ متحرکڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے ماڈل ٹاون کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر نصب کیے گئے واٹر بور کو سیل کر دیا۔ انتظامیہ کے مطابق مذکورہ واٹر بور بغیر اجازت اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کیا گیا تھا، جو زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوامی وسائل، خصوصاً پانی جیسے قیمتی اثاثے کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور کسی بھی غیر قانونی عمل، بالخصوص پانی کے غیر مجاز استعمال یا چوری کی نشاندہی فوری طور پر متعلقہ حکام کو کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی کی زیر نگرانی مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف بھی آپریشن کیا گیا، جہاں سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی ڈھانچے مسمار کر دیے گئے۔ کارروائی کے دوران متعدد دکانداروں کو وارننگ جاری کی گئی جبکہ کچھ مقامات پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2938/2026
کوئٹہ13 اپریل۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چائنا کے تعاون سے یونیورسٹی آف بلوچستان کےکیمپس کا قیام بلوچستان کے نوجوانوں کو مساوی، اعلیٰ معیار کی ہائیر ایجوکیشن کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک احسن اقدام ثابت ہوگا۔ اس کیلئے وفاقی سطح تمام متعلقہ وفاقی حکام بشمول ہائر ایجوکیشن کمیشن اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مناسب اراضی کی الاٹمنٹ اور ضروری منظوری کیلئے باضابطہ بات چیت کی جائیگی۔ اس اقدام کا مقصد اسلام آباد میں بلوچستان کی مستقل تعلیمی موجودگی پیدا کرکے بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا معیار اسلام آباد یونیورسٹیوں کے مطابق ہوگا۔امید ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ہمیں کیمپس کے قیام میں کامیابی حاصل ہوگی۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو صوبے کی امنگوں اور قوم کے فکری دھارے کے درمیان ایک پل کا کام کریگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی اور ترقی فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سینٹ ممبر آف جامعہ بلوچستان امجد رشید سے گورنر ہاوس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد نے گورنر بلوچستان کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یونیورسٹی آف بلوچستان کا کیمپس قائم کرنے کی باضابطہ تجویز پیش کی۔ اس اقدام کا مقصد بلوچستان کے طلبہ و طالبات کو اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے معیاری مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر جامعہ بلوچستان کے مختلف سینٹرز کے تین ڈائریکٹرز بھی موجود تھے۔مذکورہ ڈائریکٹرز نے گورنر بلوچستان کو جامعہ کے سینٹرز کی تعلیمی، تحقیقی سرگرمیوں اور قومی خدمات سے آگاہ کیا اور مراکز کو درپیش مالی مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر مندوخیل نے جامعہ بلوچستان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو سراہا اور مراکز کے مالی مسائل کے حل سمیت اسلام آباد کیمپس کی تجویز پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے گورنر بلوچستان کا صوبے میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے گہری دلچسپی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2939/2026
کوئٹہ، 13 اپریل ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کے بھائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے احمد شاہ اور ان کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم اور دکھ بھری گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ کسی عزیز کا بچھڑ جانا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے جس کا دکھ ہمیشہ دل میں باقی رہتا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا بھی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2940/2026
کوئٹہ، 13 اپریل ۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے ایک تعزیتی بیان میں شاہد رند نے احمد شاہ اور ان کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی شاہد رند نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2941/2026
قلات 13اپریل ۔ وزیراعلی بلوچستان کے پولیو فری بلوچستان وژن ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت پولیو مہم کے پہلے روز کے اختتام پر ایوننگ اجلاس کا انعقادکیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرانجم بلوچ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اقبال نورزئی ڈسٹرکٹ مینیجر پی پی ایچ آئی مجیب بلوچ ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر مجتبی باجوئی پولیس انسپکٹر علی احمد مینگل سمیت محکمہ صحت کے سربراہان مانیٹرنگ آفیسرز یوسی ایم اوز اورایریاانچارجوں نے شرکت کی۔اجلاس میں آج کے پولیومہم سے متعلق رپورٹ پیش کئے گئے اور پولیو ٹیموں کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیاگیا۔ ڈپٹی کمشنر منیردرانی نے کہا کہ پولیو مہم میں حصہ لینے والے ٹیمیں اپنی کارکردگی مزید بہتربنائیں پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت اور لاپروائی برداشت نہیں کی جائیگی ٹیمیں صبح مقررکردہ وقت پر کام شروع کریں تاکہ مقررکردہ ہدف آسانی سےپایہ تکمیل کو پہنچ سکیں ڈپٹی کمشنر قلات کا کہنا ہیکہ پولیو مہم کو کامیابی سے انجام دینے کے لیئے ہم سب کو مل کر پولیو سیکیورٹی پلان کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ضلع میں ایک بھی بچہ پولیو کے قطرے ویکسین کے قطروں سے محروم نہ ہو انہوں نے کہا کہ پولیوسے پاک معاشرہ کی تشکیل ہمارا اولین ترجیح ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2942/2026
نصیرآباد13اپریل ۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے پولیو کے خاتمے کیلئے ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے اس سلسلے میں آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی زیر صدارت پہلی ERM میٹنگ NID منعقد ہوئی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نصیرآباد ڈاکٹر ایاز جمالی سمیت متعلقہ افسران، پولیو ٹیموں کے انچارجز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ٹیموں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام علاقوں میں سو فیصد کوریج کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رکھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کی کامیابی کے لیے فیلڈ میں موجود ٹیمیں پوری ذمہ داری اور جذبے کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیں۔ اجلاس میں درپیش مسائل پر بھی غور کیا گیا اور ان کے فوری حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2943/2026
حب 13اپریل ۔ڈپٹی کمشنر حب کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کا ایک اہم اجلاس ان کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، ڈی ایس ایم PPHI، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال حب، مختلف طبی افسران، ڈرگ انسپکٹرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں صحت کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بنیادی مراکز صحت (BHU)، رورل ہیلتھ سینٹرز (RHC)، سول ہسپتال حب سمیت دیگر صحت مراکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات، طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور صفائی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور ڈی ایس ایم PPHI نے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ مختلف صحت مراکز میں طبی سہولیات میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید بہتری کی ہدایت کی۔اجلاس میں فیلڈ وزٹس کے دوران سامنے آنے والے مسائل، بالخصوص طبی عملے کی غیر حاضری، ادویات کی قلت اور صفائی کی ناقص صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز فیلڈ میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی اپنے اپنے علاقوں میں صحت مراکز کے باقاعدہ دورے کر کے رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔طبی عملے کی غیر حاضری کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے احکامات جاری کیے کہ غیر حاضر اور عادی غیر حاضر عملے کے خلاف فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں، تنخواہیں روکی جائیں اور قواعد و ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت مختلف صحت مراکز کی سولرائزیشن، مرمت اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ مزید مراکز کو بھی ان منصوبوں میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اجلاس میں یونیسیف کے نمائندے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف کلسٹرز میں متعدد صحت مراکز کی اپ گریڈیشن اور مرمت کا کام جاری ہے، جن میں سے بیشتر مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔سول ہسپتال حب اور دیگر صحت مراکز کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کے ہمراہ جلد دورہ کرنے اور مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ضلع حب میں صحت کے نظام کو مزید موثر، فعال اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2944/2026
گوادر13اپریل ۔ ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیرِ اہتمام ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی سربراہی میں ایک منفرد اور بھرپور کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں کو اپنے مسائل براہِ راست اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ کھلی کچہری میں ایس ایس پی گوادر عطا الرحمن خان سمیت مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔یہ کھلی کچہری اپنی نوعیت کی منفرد تھی، جہاں ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی شکایات خود سنی، درخواستیں وصول کیں اور متعدد مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر،ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زائد حسین، ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مومن بلوچ، ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر سوبان بلوچ، پرنسپل بوائز ڈگری کالج نصیر احمد بلوچ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی مکتوم موسیٰ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ، جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر سمیر نثار، محکمہ فشریز کے شاہ فہد، ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر صابر علی، جی ڈی اے کے انجینئر اکبر بلوچ، محکمہ زراعت، کیسکو اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔صحافی برادری نے بھی بھرپور شرکت کی، جن میں پریس کلب کے صدر نور محسن اور ساجد بن رحیم شامل تھے۔کھلی کچہری میں تعلیم، صحت، غیر قانونی ٹرالنگ کی روک تھام، منشیات کے خاتمے، ناجائز تجاوزات، بجلی کے مسائل، اسکولوں میں تقریبات، کلانچ اور گردونواح میں پانی کی فراہمی، واٹر ٹینکس کی تعمیر، اور 2024 کے سیلاب متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی جیسے اہم عوامی مسائل زیرِ بحث آئے۔ایک شہری نے تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے تجویز دی کہ سرکاری اساتذہ کو اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کروانے کا پابند بنایا جائے، جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری ممکن ہو سکے۔ اسی طرح ہر کلانچ میں سیول ڈسپنسری کی خستہ حال عمارت کی مرمت اور اسے بی ایچ یو میں اپگریڈ کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا۔خصوصی افراد کے نمائندوں نے اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کرایوں میں رعایت کا مطالبہ کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری طور پر معذور افراد کے کرایوں میں 50 فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔میسنگ پرسنز کے لواحقین نے بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے درخواستیں پیش کیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔انسدادِ منشیات کے حوالے سے شہری جاوید حیات نے شہر میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈرگ ریہیبلیٹیشن مراکز کو مزید فعال اور جدید بنانے کی تجویز دی، جس پر انتظامیہ نے مو¿ثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ناجائز تجاوزات کے حوالے سے کلاںچی پھاڑا اور بخشی کالونی کے مسائل بھی زیرِ غور آئے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بوائز ڈگری کالج کی چار دیواری کی تعمیر کے پیشِ نظر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے اور اس حوالے سے معاملہ اعلیٰ حکام کو بھجوایا جا چکا ہے۔یونین کونسل کلانچ کے چیئرمین نے پانی کی فراہمی کے منصوبوں اور واٹر ٹینک کی تعمیر کے لیے مشینری کی فراہمی کی درخواست دی، جبکہ شمبے اسماعیل کے وفد نے مولانا حمید انقلابی کی سربراہی میں پانی کے مسائل کے حل کے لیے ملاقات کی، جس پر ڈپٹی کمشنر نے جی ڈی اے حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی۔خواتین نے وومن مارکیٹ میں دکانوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے درخواستیں پیش کیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے میرٹ کی بنیاد پر شفاف الاٹمنٹ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنا مہ نمبر2945/2026
بارکھان 13 اپریل ۔پولیو کے خاتمے کا عزم، ڈی سی بارکھان عبداللہ کھوسو متحرک بارکھان: ضلع بارکھان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو کی زیر صدارت پولیو مہم کے پہلے روز کا ایوننگ ریویو اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں مہم کی مجموعی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری ویکسینیشن سرگرمیوں، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی اور بچوں تک ویکسین کی رسائی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مجیب بگٹی، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر ناصر کھیتران، لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران، یو سی ایم اوز، ٹی ٹی ایس پیز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔فیلڈ ٹیموں کی دن بھر کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ مہم کے دوران درپیش چیلنجز پر باہمی مشاورت سے موثر حل تجویز کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے ٹیموں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا جائے، نگرانی کے نظام کو فول پروف کیا جائے اور والدین میں آگاہی کو گھر گھر تک پہنچایا جائے تاکہ ضلع کا کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور یکجہتی کے ساتھ اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے اور بارکھان کو جلد پولیو فری ضلع بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2946/2026
دکی13اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے مختلف تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کیا، جن میں گورنمنٹ گرلز ماڈل کمیونٹی سکول کلی دین محمد، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی دین محمد اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی فقیر محمد شامل ہیں۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے اسکولوں میں تدریسی عمل، انتظامی امورکلاس رومز کی صورتحال اور طلباء کی حاضری کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف کلاسز میں جا کر طلبائسے سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا معائنہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے اساتذہ کی حاضری بھی چیک کی اور تدریسی عمل کا مشاہدہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں مزید محنت اور دیانتداری سے انجام دیں تاکہ طلباءکو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی، نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ طلباءایک مثبت اور تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر2947/2026
دکی 13اپریل ۔پولیو مہم کے پہلے روز کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ایک ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع بھر میں جاری مہم کی سرگرمیوں، ٹیموں کی کارکردگی اور بچوں کی ویکسینیشن کوریج پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر بہادر خان لونی، ایس ایچ او محمد کاشف سیال، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیرمحمد ناصر ، اے ڈی ایم پی پی ایچ آئی راز محمد ناصر، این سٹاف ڈاکٹر عبد الحمید، سی سی او سعید احمد ناصر ، لائن ڈپارٹمنٹ کے مانیٹرز، یو سی ایم اوز، ٹی ٹی ایس پیز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر فیلڈ ٹیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مختلف امور پر بریفنگ دی گئی اور درپیش چیلنجز پر بھی باہمی مشاورت کی گئی۔ڈپٹی کمشنر دکی نے ہدایت کی کہ پولیو مہم کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹیموں کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جائے، نگرانی کے نظام کو مو¿ثر بنایا جائے اور والدین میں آگاہی بڑھانے کے عمل کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے اس قومی فریضے کو کامیابی سے مکمل کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2948/2026
کوئٹہ 23اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کے حوالے سے پہلے روز کا جائزہ اجلاس (ایویننگ ریویو) منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او کوئٹہ، اسسٹنٹ کمشنر (صدر)، ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر، نیشنل ای او سی کے ممبران، مانیٹرز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پہلے روز کے پولیو کمپین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ یونین کونسل وائز کارکردگی، سکیورٹی صورتحال، اور مجموعی ڈیٹا پر بریفنگ دی گئی۔ اسی طرح ریفیوزل کیسز، زیرو ڈوز، این ٹی اور مجموعی کوریج سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔جن علاقوں میں کوریج کم رہی، ان کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے لیے نیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے خطاب کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ انسداد پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور کسی بھی بچے کو پولیو ویکسین سے محروم نہ رکھا جائے۔والدین کو خصوصاً طور پر بچوں کو قطرے پلانے پر آمادہ کریں۔ا نکاری والدین اور زیرو ڈوز پر توجہ مرکوز کرکے انہیں جلد از جلد کور کریں۔انہوں نے کہاکہ پولیو کا مکمل ختم قومی ذمہ داری ہے لہذا معاشرے کی تمام اکائیوں کو اس قومی ذمہ داری میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا تب جاکر ہمیں پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل کو ممکن بناسکتے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2949/2026
لورالائی 13 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کے حوالے سے ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری مہم کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نورعلی کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ، ایس ڈی پی او کریم خان مندوخیل، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد، پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم فرحان خان کاکڑ، این اسٹاف آفیسر ڈاکٹر فرحان انجم، ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر کو اجلاس کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں میں ٹیموں کی کارکردگی، کوریج، رفیوزل کیسز اور فیلڈ میں درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیشتر علاقوں میں مہم تسلی بخش انداز میں جاری ہے تاہم بعض مقامات پر رفیوزل کیسز سامنے آئے ہیں جن کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے ہدایت کی کہ مہم کو ہر صورت کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ٹیموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ رفیوزل کیسز کے خاتمے کے لیے علما کرام، عمائدین اور مقامی نمائندوں کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تاکہ والدین کو پولیو کے قطرے پلانے کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور اس سلسلے میں مائیکرو پلاننگ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ سیکیورٹی، نگرانی اور ٹیموں کی حاضری کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ مہم کے دوران کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
خبر نامہ نمبر 2950/2026
لورالائی13اپریل: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ضلع لورالائی میں انسدادِ پولیو مہم پر مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیر صدارت قومی انسدادِ پولیو مہم (NID) کے حوالے سے پہلی ای آر ایم (ERM) میٹنگ منعقد ہوئی۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد مقبول احمد سمیت متعلقہ محکموں کے افسران، پولیو ٹیموں کے انچارجز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ٹیموں کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ضلع بھر میں سو فیصد کوریج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کوئی بھی بچہ پولیو کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فیلڈ میں موجود ٹیمیں ذمہ داری، جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں تاکہ مہم کے مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مشکل اور دور دراز علاقوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حکمت عملی اپنائی جائے جبکہ ٹیموں کی مانیٹرنگ کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے۔ اجلاس میں مہم کے دوران درپیش مسائل، خصوصاً سیکیورٹی، رسائی اور آگاہی سے متعلق چیلنجز پر بھی غور کیا گیا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو واضح ہدایات جاری کی گئیں۔دریں اثناء، محکمہ صحت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں سینکڑوں موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے متحرک ہیں۔ حکام کے مطابق والدین میں آگاہی بڑھانے کے لیے مقامی سطح پر علما کرام، اساتذہ اور کمیونٹی رہنماؤں کا تعاون بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مہم کے دوران غیر حاضر بچوں (missed children) کی فہرستیں مرتب کر کے ان تک فوری رسائی حاصل کی جائے گی، جبکہ کارکردگی میں غفلت برتنے والی ٹیموں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2951/2026
گوادر13اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم (این آئی ڈی اپریل) کے پہلے دن کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر سعد کلیم ظفر، ڈی ایس پی (ایس ڈی پی او گوادر) پولیس چاکر بلوچ، ڈویژنل کوآرڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر اشرف خان، مانیٹرنگ افسران اور دیگر متعلقہ افسران و ٹیموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بتایا کہ مہم کے پہلے دن 11 ہزار 888 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ ٹیموں نے 11 ہزار 975 بچوں کو کور کر کے مقررہ ہدف سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اجلاس کے دوران انسداد پولیو ٹیموں کو درپیش مسائل، فیلڈ چیلنجز اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے خاص طور پر ریفیوزل کیسز، ناٹ اویلیبل بچوں اور زیرو ڈوز بچوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ان کیسز کے مؤثر فالو اپ کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں ڈبلیو ایچ او کے ڈویژنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اشرف خان نے آگاہ کیا کہ مارچ کے دوران کیے گئے ماحولیاتی نمونوں (Environmental Samples) کے نتائج منفی آئے ہیں، جو انسداد پولیو اقدامات میں بہتری کی علامت ہے۔ انہوں نے آئندہ مہمات میں مزید بہتری اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے فیلڈ ٹیموں کی مکمل معاونت، سخت مانیٹرنگ اور ریفیوزل کیسز کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔

خبر نامہ 2026/2952
کوئٹہ13 اپریل:ـوزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر پنجاب ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ نے بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے اشتراک سے صوبہ بلوچستان کے ذہین و مستحق طلباء و طالبات کے لیے 460 اسکالرشپس کا اعلان کیا ہے اس اقدام کا بنیادی مقصد مستحق اور باصلاحیت طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مالی معاونت فراہم کرنا اور تعلیمی مواقع کو مزید وسعت دینا ہے اس سلسلے میں بلوچستان کے لوکل/ڈومیسائل رکھنے والے طلباء و طالبات سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں اسکالرشپ کے لیے انٹرمیڈیٹ، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور گریجویشن پروگرامز کے امیدوار وہ ہوں گے جنہوں نے بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی بی آئی ایس ای) کے تحت سال 2025 کے سالانہ امتحانات میں میٹرک، انٹرمیڈیٹ یا ٹیکنیکل ایجوکیشن کسی سرکاری تعلیمی ادارے سے کم از کم 60 فیصد نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہو اسی طرح ایم ایس/ایم فل پروگرام کے لیے وہ طلباء اہل ہوں گے جنہوں نے 2023 تا 2025 کے دوران بی ایس یا مساوی ڈگری کم از کم 2.5 سی جی پی اے یا 60 فیصد نمبروں کے ساتھ بلوچستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے سے مکمل کی ہو اور جنہوں نے فال 2025 یا اسپرنگ 2026 سیشن میں صوبے کی کسی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کیا ہو واضح کیا گیا ہے کہ وہ طلباء جو پہلے سے کسی بھی دیگر اسکالرشپ، بشمول بی ای ای ایف اسکالرشپ، کے تحت مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں وہ اس پروگرام کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔ اسکالرشپس کی تعداد محدود ہے اور انتخاب مکمل طور پر میرٹ اور پی ای ای ایف پالیسی کے مطابق کیا جائے گا۔ اسکالرشپ کے اجرا کے بعد کسی بھی قسم کی منسوخی یا تبدیلی کی درخواست قابلِ قبول نہیں ہوگی، جبکہ نامکمل درخواستیں زیر غور نہیں لائی جائیں گی درخواست فارم کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویزات میٹرک/انٹرمیڈیٹ/بی ایس/ڈی اے ای کا رزلٹ کارڈ، دو عدد پاسپورٹ سائز تصاویر، طالب علم کا شناختی کارڈ یا بی فارم، والدین/سرپرست کا شناختی کارڈ، لوکل/ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور آمدن سرٹیفکیٹ منسلک کئے جانے کی ہدایت کی گئی ہے آمدن سرٹیفکیٹ کے مطابق والدین کی ماہانہ آمدن 60,000 روپے سے زائد نہ ہو یہ سرٹیفکیٹ 100 روپے مالیت کے اسٹامپ پیپر پر تیار کر کے نوٹری پبلک، گزٹیڈ آفیسر یا متعلقہ تعلیمی ادارے سے تصدیق شدہ ہونا لازم ہے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ خالد ماندائی نے کہا ہے کہ یہ اسکالرشپ پروگرام بلوچستان کے طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع فراہم کرنے میں ایک اہم سنگ میل ہے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ مستحق طلباء کو یکساں مواقع بھی میسر آئیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/2953
تربت13اپریل:ـڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے پہلے روز کے حوالے سے ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹرعبدالرؤف بلوچ,ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر ارسلان درازئی,ریاض احمد,زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز نعمان منیر,ماہ نور برکت,ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹری فہد رحیم, ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ کو ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے ہدایت کی کہ مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور رفیوزل کیسز پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/2954
قلعہ سیف اللہ قلعہ13اپریل:ـ سیف اللہ میں انسدادِ پولیو مہم کے سلسلے میں ایک اہم اور تفصیلی اجلاس ڈپٹی کمشنر ساگر کمار کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ یہ اجلاس مڈوائفری ہال میں منعقد کیا گیا جس میں ضلع بھر سے محکمہ صحت اور پولیو پروگرام سے وابستہ تمام متعلقہ افسران اور ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO)، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS)، اور پولیو افسران کے علاوہ دیگر فیلڈ اسٹاف اور نمائندگان بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر ساگر کمار نے اجلاس کے آغاز میں انسدادِ پولیو مہم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے مربوط حکمت عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس کے دوران تمام متعلقہ افسران نے اپنی اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں، جن میں جاری پولیو مہم کی پیش رفت، درپیش چیلنجز، ٹیموں کی کارکردگی، اور عوامی آگاہی مہم کے نتائج شامل تھے۔ مختلف علاقوں میں پیش آنے والی مشکلات، جیسے کہ دور دراز علاقوں تک رسائی، والدین کی عدم دلچسپی، اور سیکیورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ مہم کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کریں اور ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر ٹیموں کی نگرانی، مائیکرو پلاننگ، اور ڈیٹا کی درستگی پر زور دیا تاکہ مہم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تمام افسران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ باہمی تعاون اور محنت کے ذریعے انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنائیں گے اور ضلع کو پولیو فری بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ ساتھ ہی مہم میں مزید بہتری، مؤثر نگرانی، اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/2955
دکی 13اپریل :ـڈسٹرکٹ کونسل کی جانب سے ڈسٹرکٹ چئیرمین حاجی خیراللہ ناصر مدرسہ مظہر العلوم کلی ملا عبداللہ کے حفاظ کرام کےلئے درسگاہ تعمیرکرنے کااعلان کیا تھااج باقاعدہ ڈسٹرکٹ چئیرمین حاجی خیراللہ ناصر اور چئیرمین۔میونسپل کمیٹی ملک کلیم اللہ ترین نے35 لاکھ روپے کی لاگت سے درسگاہ کی سنگ بنیاد رکھ اس منصوبے پر کام کاآغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ درسگاہ جدید سہولیات سے آراستہ ہوگی، جہاں حفاظِ کرام کو نہ صرف بہتر ماحول میسر آئے گا بلکہ دینی تعلیم کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔تقریبِ سنگِ بنیاد میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبدالرازق، قبائلی رہنما حاجی عبدالکریم ناصر، سابق ڈسٹرکٹ کونسل ممبر حاجی جعفر خان ناصر، حسین زرکون سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا جبکہ حافظ صادق کی جانب سے معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف ٹی پارٹی بھی دی گئی۔سنگ بنیاد کے موقع ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیراللہ ناصر نے کہا کہ دینی تعلیم کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ نہ صرف قرآن و سنت کی تعلیم کا مرکز ہیں بلکہ یہ معاشرے کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور اصلاح کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ دینی خدمات کو فروغ دینا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ نئی نسل کو دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس درسگاہ کی تعمیر سے حفاظِ کرام کو بہتر تعلیمی ماحول، سہولیات اور یکسوئی کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے، جو کہ ایک صدقۂ جاریہ اور عظیم دینی خدمت ہے مدرسے کے متمم حافظ عبدالصادق خل نے ان کے اعزاز میں ٹی پارٹی دی گئی۔

خبر نامہ نمبر 2026/2956
جھل مگسی13 اپریل:_ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر علی خان مگسی ، ڈی ایس ایم (پی پی ایچ آئی) جھل مگسی ڈاکٹر شاہجہان مینگل ، اے ڈی ایس ایم ڈاکٹر اظہر حسین مگسی ، اور مختلف ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے دیگر آفیسران نے شِرکت کی اجلاس میں ضلع جھل مگسی کے تمام بی ایچ یوز رورل ہیلتھ سنٹرز ہسپتالوں انفراسٹرکچر ایم ایل سی کے اجراء ، ڈاکٹروں سٹاف کی حاضری اور محکمہ صحت جھل مگسی کے مجموعی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی اجلاس میں ضلع جھل مگسی میں ہیلتھ سہولیات اور ہیلتھ ملازمین کی پرفارمینس حاضریوں اور ہیلتھ سروسز کو بہتر کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللّٰہ شاہ نے کہا کہ ڈاکٹرز اور ہسپتال کے تمام اسٹاف اپنی اپنی حاضری کو یقینی بنائیں بصورت دیگر غیر حاضر اسٹاف کیخلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی انھوں نے کہا تمام محکمہ صحت کے عملے پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اپنی جائے تعیناتی پر حاضری کو یقینی بناکر تمام تر وسائل بروئے کار لائیں تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بہتر سے بہتر علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں اور حکومتی اقدامات سے بھر پور مستفید ہوسکیں ۔

خبر نامہ نمبر 2026/2957
ضلع چمن 13اپریل :ـڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ضلع میں جاری انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کی ایوننگ جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چمن ڈاکٹر نوید بادینی ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر عبدالرشید ڈسٹرکٹ کمیونیکشن آفیسر اشرف خان اچکزئی اور دیگر آفیسرز شریک تھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک تمام ٹیمیں محنت لگن دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات انجام دیں انہوں نے کہا کہ ہر فیلڈ اور کام میں مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اچھے محنتی اور پروفیشنل افسران اور سٹاف اپنے ہدف کو حاصل کرنے کو آرام اور سلیقے سے پایہ تکمیل کو پہنچا دیتے ہیں اجلاس میں ڈی سی چمن کو انسداد پولیو مہم کی پیش رفت اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/2958
موسیٰ خیل 13 اپریل:ـڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال موسیٰ خیل میں بچے کو پولیو سے بچاؤ اور وٹامن (A) کے قطرے پلا کر پانچ روزہ انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر خان اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر اہلکار بھی موجود تھے افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر رزاق خان خجک نے کہا کہ پولیو ایک موذی مرض ہے جو ہماری نسلوں کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کر سکتا ہے، اس کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ وٹامن کے قطرے بھی پلائے جا رہے ہیں تاکہ ان کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہو سکے۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں موسیٰ خیل کے دور افتادہ علاقوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہےڈپٹی کمشنر نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے 5 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو اور وٹامن کے قطرے پلا کر ان کا مستقبل محفوظ بنائیں انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران تمام ٹیمیں اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری اور جانفشانی سے سرانجام دیں، اس قومی مہم میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/2959
ضلع قلعہ عبداللہ 13اپریل:ـڈی سی قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیر صدارت ضلع میں جاری انسداد پولیو مہم کے پہلے روز ایوننگ ریویو اجلاس کا انعقاد کیا گیااجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اطہر رشید، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سلام کوسو، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فضل محمد کاکڑ، ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر دولت خان کاکڑ، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ضیاء الرحمن معسودالرحمن اچکزئی پولیو ٹیموں کے افسران نمائندے اور دیگر متعلقہ ڈاکٹرز و افسران شریک تھے اجلاس میں پولیو مہم کی پہلے روز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران انسداد پولیو مہم کی کارکردگی اور انسداد پولیو مہم کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں افسران نے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی قلعہ عبداللہ نے کہا کہ مہم کی کامیابی تمام سٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون پر مبنی ہے انہوں نے تمام پولیو ٹیموں کی محنت کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے اور پولیو ٹیم کے تمام افسران و اہلکاران دیئے گئے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے خدمات ایمانداری اور دیانتداری سے سرانجام دیں تاکہ پولیو مہم کی سو فیصد کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ ضلع میں پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ڈی سی قلعہ عبداللہ نے پولیو کے خاتمے کے لیے پولیو افسران و اہلکاران اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *