خبرنامہ نمبر4831/2026
کوئٹہ15جون۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے مردان کے قریب تربیتی طیارے کے حادثے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک تعزیتی بیان میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے شہید ہونے والے دونوں پائلٹس کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبر عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4832/2026
کوئٹہ 15 جون ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا ہے کہ جنوبی بلوچستان کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنا اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ان علاقوں کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے سدرن بلوچستان ڈیولپمنٹ پیکج کے تحت جنوبی بلوچستان میں جاری روڈ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ پراجیکٹ ڈائریکٹر سدرن بلوچستان ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کرنل (ر) جمال احمد فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نیسپاک اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران سدرن بلوچستان ڈیولپمنٹ پیکج کے تحت جاری تمام شاہراہوں اور سڑکوں کے منصوبوں پر پیش رفت درپیش تکنیکی مسائل تعمیراتی معیار اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی شرکاءکو منصوبوں کی موجودہ صورتحال تکمیل کے مراحل اور آئندہ لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا گیا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ جنوبی بلوچستان کا وسیع و عریض خطہ دور دراز علاقوں پر مشتمل ہے جہاں عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید اور معیاری روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے نیٹ ورک میں بہتری نہ صرف مقامی آبادی کے لیے سہولت کا باعث بنے گی بلکہ تجارت سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر پورے صوبے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گی انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں میں حائل تمام تکنیکی اور انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور منصوبوں کی رفتار کو مزید تیز کرتے ہوئے عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات فراہم کیے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4833/2026
نصیرآباد15جون۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت ضلع صحبت پور محکمہ تعلیم کی سی آر سی (CRC) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن عبدالواسع کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر صحبت پور پنھل خان کھوسہ اور کمیٹی کے دیگر اراکین شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران میل اور فیمیل امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 22 امیدواروں نے اپنے اعتراضات اور داد رسی کے حوالے سے کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی کے تمام اراکین نے امیدواروں کے تحفظات اور اعتراضات تفصیل سے سنے جبکہ ان کے متعلقہ دستاویزات اور تعلیمی اسناد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اعتراضات جمع کرانے والے امیدواروں کی داد رسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ان کی ڈگریوں و دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال بھی کی جائے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ میرٹ، شفافیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا اور تمام فیصلے حکومتی پالیسی، قواعد و ضوابط اور مروجہ قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔انہوں نے زور دیا کہ حقدار، اہل اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنایا جائے تاکہ محکمہ تعلیم میں بہترین افرادی قوت کی شمولیت ممکن ہو سکے۔ کمشنر نے کہا کہ مفاد عامہ کے تحت تمام اقدامات شفاف انداز میں انجام دیے جائیں گے اور کسی بھی امیدوار کی حق تلفی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں امیدواروں کے اعتراضات کے ازالے اور بھرتیوں کے عمل کو میرٹ کے مطابق مکمل کرنے کے حوالے سے مختلف امور پر بھی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4834/2026
تربت. 15 جون ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی سربراہی میں دشت ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سنٹر کو فعال بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز سخی، ڈرگ سنٹر تربت کے انچارج اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کیچ میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور علاج کے لیے قائم مراکز کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امتیاز سخی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع کیچ میں تین ڈرگ سنٹرز قائم ہیں جن میں تربت، دشت اور بلیدہ شامل ہیں انہوں نے بتایا کہ تربت سنٹر مکمل طور پر فعال اور عوام کو خدمات فراہم کر رہا ہے جبکہ دشت اور بلیدہ کے مراکز بجٹ کی عدم دستیابی کے باعث غیر فعال ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ منشیات ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے بحالی مراکز کا فعال ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بجٹ سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں دشت ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سنٹر کو فوری طور پر فعال کیا جائے گا جس کے بعد بلیدہ سنٹر کو بھی بحال کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود اور نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ دشت سنٹر کی بحالی کے لیے تمام ضروری انتظامات جلد مکمل کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد کو علاج اور بحالی کی سہولیات میسر آسکیں۔اجلاس کے شرکاءنے ڈپٹی کمشنر کیچ کی عوام دوست اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان مراکز کی بحالی سے ضلع کیچ میں منشیات کے خلاف جاری اقدامات کو مزید تقویت ملے گی اور نوجوانوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4835/2026
کوئٹہ 15جون ۔چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان کی خصوصی ہدایات اور احکامات کی روشنی میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان نے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کوئٹہ شہر میں بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات آفیسر-IV کی سربراہی میں مختلف علاقوں میں خصوصی ٹیموں نے کارروائیاں کرتے ہوئے ایسے کمرشل اور رہائشی یونٹس کی جائیدادیں سیل کر دی ہیں جن کے ذمہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں قابلِ ذکر واجبات بقایا تھے۔ائکسائز ای ٹی او جہانزیب خان کا مزید کہنا تھا کہ ایکسائز یہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکس کی بروقت ادائیگی ہر شہری کی قانونی اور قومی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محصولات کی وصولی صوبے کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جون 2026 کے اختتام تک بلا تعطل جاری رہے گا۔تمام پراپرٹی مالکان، کاروباری اداروں اور نادہندگان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے واجب الادا ٹیکس فوری طور پر جمع کروائیں تاکہ قانونی کارروائی، جرمانوں، جائیدادوں کی سیلنگ اور دیگر تادیبی اقدامات سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِمنشیات بلوچستان ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد اور محصولات کی شفاف وصولی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4836/2026
تربت 15 جون ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے یونین کونسل جت بلور کے عمائدین کے ایک وفد نے سماجی شخصیت جمیل عمر کی سربراہی میں ان کے دفتر ملاقات کرکے علاقے کو درپیش مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ملاقات میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت منظور شدہ چار واٹر اسٹوریج منصوبوں پر پیش رفت نہ ہونے، علاقے میں اسکول کے قیام، ہسپتال کی فعالیت اور واٹر سپلائی سمیت دیگر عوامی مسائل زیر بحث آئے۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ یونین کونسل میں اسکول کی عدم دستیابی ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس کے باعث بچوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ اس پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے یونیسیف کے تعاون سے علاقے میں اسکول کے قیام کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت منظور شدہ چار واٹر اسٹوریج منصوبوں پر کام مکمل نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے فوری طور پر متعلقہ ایکسین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبوں کو 10 جولائی تک مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے تاکہ عوامی خدشات کا ازالہ ہو سکے۔انہوں نے مقررہ تاریخ تک منصوبوں کے تکمیل کی سخت ہدایت کی اور کہاکہ جو ٹھیکیدار اگر کام پورا نہ کرسکا تو اسے بلیک لیسٹ کیا جائے.واٹر سپلائی اسکیم کے مطالبے پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ بی ایس ڈی آئی منصوبوں میں یونین کونسل جت اور بلور کے لیے واٹر سپلائی اسکیم شامل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مسائل ان کی خصوصی ترجیحات میں شامل ہیں اور انہیں مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر وفد نے مسائل پر فوری توجہ، عملی اقدامات اور یقین دہانیوں پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4837/2026
کوئٹہ 15جون۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے مسجد روڈ پر شیشہ (چلم) اور اس سے متعلقہ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔اس کارروائی کے دوران 15 دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ 18 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیائ کی فروخت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4838/2026
کوئٹہ 15جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت این ایچ اے این-25 کوئٹہ کی حدود میں واقع پٹرول پمپس، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور دیگر بڑے کاروباری مراکز کے این او سیز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے افسران اور ضلع کوئٹہ کی تمام سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران این ایچ اے کی حدود میں قائم مختلف کاروباری و تجارتی مراکز کے این او سیز، قانونی تقاضوں اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔شرکاء نے این او سیز کے اجرا، تجدید اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید موثر بنائیں تاکہ این ایچ اے کی حدود میں قائم تمام کاروباری مراکز کو قانونی تقاضوں کے مطابق لایا جا سکے۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کے افسران پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی اس حوالے سے مشترکہ اقدامات اٹھائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4839/2026
کوئٹہ 15جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے شیشہ (چلم) اور اس سے متعلقہ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف کچلاک بازار میں اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری کی نگرانی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اس کارروائی کے دوران 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ شیشہ (چلم) سے متعلق سامان ضبط کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیاءکی فروخت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4835/2026
کوئٹہ 15جون ۔چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان کی خصوصی ہدایات اور احکامات کی روشنی میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات بلوچستان نے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کوئٹہ شہر میں بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِ منشیات آفیسر-IV کی سربراہی میں مختلف علاقوں میں خصوصی ٹیموں نے کارروائیاں کرتے ہوئے ایسے کمرشل اور رہائشی یونٹس کی جائیدادیں سیل کر دی ہیں جن کے ذمہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں قابلِ ذکر واجبات بقایا تھے۔ائکسائز ای ٹی او جہانزیب خان کا مزید کہنا تھا کہ ایکسائز یہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکس کی بروقت ادائیگی ہر شہری کی قانونی اور قومی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محصولات کی وصولی صوبے کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جون 2026 کے اختتام تک بلا تعطل جاری رہے گا۔تمام پراپرٹی مالکان، کاروباری اداروں اور نادہندگان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے واجب الادا ٹیکس فوری طور پر جمع کروائیں تاکہ قانونی کارروائی، جرمانوں، جائیدادوں کی سیلنگ اور دیگر تادیبی اقدامات سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و انسدادِمنشیات بلوچستان ٹیکس قوانین پر مو¿ثر عملدرآمد اور محصولات کی شفاف وصولی کے لیے پ±رعزم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4836/2026
تربت 15 جون ۔: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے یونین کونسل جت بلور کے عمائدین کے ایک وفد نے سماجی شخصیت جمیل عمر کی سربراہی میں ان کے دفتر ملاقات کرکے علاقے کو درپیش مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ملاقات میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت منظور شدہ چار واٹر اسٹوریج منصوبوں پر پیش رفت نہ ہونے، علاقے میں اسکول کے قیام، ہسپتال کی فعالیت اور واٹر سپلائی سمیت دیگر عوامی مسائل زیر بحث آئے۔وفد نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ یونین کونسل میں اسکول کی عدم دستیابی ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس کے باعث بچوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ اس پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے یونیسیف کے تعاون سے علاقے میں اسکول کے قیام کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت منظور شدہ چار واٹر اسٹوریج منصوبوں پر کام مکمل نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے فوری طور پر متعلقہ ایکسین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبوں کو 10 جولائی تک مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے تاکہ عوامی خدشات کا ازالہ ہو سکے۔انہوں نے مقررہ تاریخ تک منصوبوں کے تکمیل کی سخت ہدایت کی اور کہاکہ جو ٹھیکیدار اگر کام پورا نہ کرسکا تو اسے بلیک لیسٹ کیا جائے.واٹر سپلائی اسکیم کے مطالبے پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ بی ایس ڈی آئی منصوبوں میں یونین کونسل جت اور بلور کے لیے واٹر سپلائی اسکیم شامل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مسائل ان کی خصوصی ترجیحات میں شامل ہیں اور انہیں مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر وفد نے مسائل پر فوری توجہ، عملی اقدامات اور یقین دہانیوں پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4837/2026
کوئٹہ 15جون۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے مسجد روڈ پر شیشہ (چلم) اور اس سے متعلقہ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی یہ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔اس کارروائی کے دوران 15 دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ 18 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیائ کی فروخت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4838/2026
کوئٹہ 15جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت این ایچ اے این-25 کوئٹہ کی حدود میں واقع پٹرول پمپس، شاپنگ مالز، تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور دیگر بڑے کاروباری مراکز کے این او سیز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے افسران اور ضلع کوئٹہ کی تمام سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران این ایچ اے کی حدود میں قائم مختلف کاروباری و تجارتی مراکز کے این او سیز، قانونی تقاضوں اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔شرکاء نے این او سیز کے اجرا، تجدید اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مو¿ثر بنائیں تاکہ این ایچ اے کی حدود میں قائم تمام کاروباری مراکز کو قانونی تقاضوں کے مطابق لایا جا سکے۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کے افسران پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی اس حوالے سے مشترکہ اقدامات اٹھائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4839/2026
کوئٹہ 15جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے شیشہ (چلم) اور اس سے متعلقہ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف کچلاک بازار میں اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری کی نگرانی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اس کارروائی کے دوران 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ شیشہ (چلم) سے متعلق سامان ضبط کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور ممنوعہ اشیاءکی فروخت کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4840/2026
کوئٹہ 15جون اجلاس کی صدارت غزالہ گولہ، ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی اور چیئرپرسن ویمن پارلیمنٹری کاکس (WPC) نے کی۔ اجلاس میں ویمن کاکس کی اراکین راحیلہ حمید خان درانی، شاہدہ روف، فرح عظیم شاہ، کلثوم نیاز، سلمیٰ کاکڑ، شہناز عمرانی، جسٹس (ر) کیلاش ناتھ کوہلی، محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون کے نمائندگان،یو این ویمن کے نمائندگان جبکہ صوبائی اسمبلی بلوچستان کے اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جسٹس (ر) کیلاش ناتھ کوہلی نے پاکستان میں تیزاب گردی اور تیزاب سے متعلق جرائم کے حوالے سے موجود قانونی فریم ورک پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے شرکاء کو سال 2016 میں تیار کیے گئے مجوزہ صوبائی قانون کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ محکمہ داخلہ کے نمائندگان نے بلوچستان میں تیزاب گردی کے واقعات سے متعلق سرکاری اعداد و شمار اجلاس کے سامنے پیش کیے اور بتایا کہ سال 2021 سے اب تک صوبے میں تیزاب پھینکنے کے سات مقدمات درج کیے گئے، جبکہ سال 2022 میں پانچ واقعات کو نمٹا دیے گئے۔تفصیلی مشاورت کے بعد شرکاءنے متفقہ طور پر ایک مشترکہ جائزہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا، جو موجودہ مسود قانون کا جائزہ لے گی اور اس میں تیزاب کی ضابطہ کاری، متاثرین کے تحفظ، بحالی، معاوضے اور ادارہ جاتی ردعمل کے موثر طریقہ کار سے متعلق دفعات شامل کرے گی۔اجلاس میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ آئندہ مشاورتی اجلاس میں محکمہ صنعت، محکمہ صحت, محکمہ پراسیکیوشن، ترقی نسواں محکمہ قانون، سینئر وکلاءمحکمہ داخلہ اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان کو مدعو کیا جائے تاکہ وہ مجوزہ قانون سازی کو مزید موثر بنانے کے لیے اپنی آراء اور سفارشات پیش کر سکیں۔شرکاءنے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مجوزہ بل کے تحت قائم کیے جانے والے بورڈ کی تشکیل کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور اس میں ویمن پارلیمنٹری کاکس (WPC) سمیت دیگر متعلقہ فریقین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ محکمہ داخلہ سے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے اراکین کو آئندہ مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ قانون سازی کے حوالے سے وسیع تر اتفاقِ رائے اور بہتر رابطہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔شرکاءنے اس امر پر زور دیا کہ تیزاب گردی کے واقعات کی موثر روک تھام، تیزاب اور دیگر ضرر رساں کیمیائی مادوں کی فروخت اور استعمال کو منظم کرنے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کو موثر معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط صوبائی قانون ناگزیر ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرپرسن غزالہ گولا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان ایسے قوانین کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی جو کمزور اور متاثرہ طبقات کے تحفظ، انصاف کے فروغ اور بلوچستان میں ہر قسم کے تشدد کے خلاف موثر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4841/2026
کوئٹہ15جون۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک عالمی مسئلہ ہے لہٰذا اس کا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ انہیں تمام متعلقہ محکموں، مقامی حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو مدد اور رہنمائی ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ سرینا ہوٹل میں یو این ڈی پی کے زیر اہتمام بلوچستان میں کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ریپریزٹیٹو آف یو این ڈی پی پاکستان (Dr. Samuel Risk) ڈپٹی ریپریزٹیٹو (Ms. Van Nyegum ), اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سردار عبدالرحمن کھتران، راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہو این ڈی پی کے صوبائی ہیڈ ذوالفقار درانی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، سابق سینیٹر روشن خورشید ںروچہ اور ایڈوکیٹ زرغونہ بڑیچ سمیت متعدد ماہرین اور مہمانان گرامی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ک بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ گوادر سے لیکر ڑوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ ماحولیاتی تناو، گورننس اور سماجی استحکام کیلئے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا اور ملک بھر میں 9 ملین سے زائد افراد کو غربت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سے 7 فیصد سے زیادہ بلوچستان میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ چینج سے متعلق قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے ساتھ UNDP کا کردار لائق تحسین ہے بشمول ہاوسنگ کی تعمیر نو اور بحالی کی امداد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعہ معاش اور عوامی اداروں کے ساتھ تعمیری مکالمے کے ذریعے آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کی مدد و رہنمائی کی ہے۔ ایسی کوششوں کو دیکھنا حوصلہ افزا ہے جو شہریوں کو مکالمے، ثالثی اور شکایات کے ازالے کے ذریعے اپنے خدشات کو اٹھانے میں مدد کرتے ہیں جبکہ حکومتی اداروں کو ان طریقوں سے جواب دینے میں مدد دیتے ہیں جو اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں، رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہیں اور بڑے پیمانے پر عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بلوچستان اپنے منفرد جغرافیہ پہاڑوں، صحراوں، معدنی وسائل اور ایک طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ نسلوں سے مشکل ماحولیاتی حالات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ریزیلنس کو ایک نظریہ کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حصے کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اسلئے بلوچستان کو ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو عملی اور ہمارے معروضی حالات پر مبنی ہوں۔ بحیثیت چانسلر آف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں ہر وائس چانسلر اور اپنی گورنر ہاوس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے کام کو عملی طور پر مرتب کریں۔ بلوچستان میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی، دریا، جنگلات، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں اور سب سے بڑھ کر ہمارے لوگوں کی ریزیلنس یہ سب بڑی طاقتیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی دباو زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی کی کمی، خشک سالی، جنگلات کی کٹائی، زمین کی کٹائی اور ساحلی کشیدگی صوبے بھر میں زندگی اور معاش دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔ گوادر اور مکران کی ساحلی پٹی میں، کمیونٹیز کو بلیو اکانومی، پینے کے پانی، ماہی گیری اور بدلتے ہوئے سمندری حالات سے منسلک چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ مسائل ایک عملی اور سائنسی نقطہ نظر کے متقاضی ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہمارے لوگوں کی فلاح و بہبود، وقار اور معاشی مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی 2024 کے ذریعے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اگلا مرحلہ مضبوط رابطہ کاری، عملی منصوبہ بندی اور کمیونٹیز کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے اس کے نفاذ کی حمایت کرنا ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمارا سپورٹر جرمن حکومت ہے۔ چونکہ جرمنی عظیم مفکرین اور فلاسفرز کی سرزمین ہے اسلئے جرمنی کے لوگ اپنے فلسفیانہ ورثے کی وجہ سے آفاقی نظریات کو بہتر سمجھ سکتے ہیں اور عملی حل بھی پیش کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4842/2026
کوئٹہ، 15 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پیر کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں اتحادی پارلیمانی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ، ترقیاتی ترجیحات، عوامی فلاحی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماوں نے بجٹ سے متعلق مختلف تجاویز اور سفارشات پیش کیں اس موقع پر اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئندہ صوبائی بجٹ کو عوامی ضروریات، زمینی حقائق اور صوبے کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے گا تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کے وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود، روزگار کے مواقع کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، آبنوشی، مواصلات اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بجٹ میں ان شعبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ کی قیادت میں پارلیمانی پارٹی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں آئندہ صوبائی بجٹ، سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے صوبائی حکومت کی کارکردگی، ترقیاتی وژن اور عوام دوست پالیسیوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں اور منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ایسا متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا جو عوامی امنگوں کا حقیقی ترجمان اور صوبے کی ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کا ضامن ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی استحکام، باہمی مشاورت اور جمہوری روایات کے فروغ کے ذریعے بلوچستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے سردار کمال خان بنگلزئی کی قیادت میں عمائدین کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی وفد نے اپنے علاقوں کو درپیش مختلف عوامی مسائل، ترقیاتی ضروریات اور بنیادی سہولیات سے متعلق امور سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا وزیراعلیٰ نے وفد کے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کا حل اور دور دراز علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام علاقوں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنا موجودہ حکومت کے وژن کا اہم حصہ ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی نمائندوں، سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور مختلف مکاتب فکر کے افراد سے مسلسل مشاورت کے عمل پر یقین رکھتی ہے تاکہ صوبے کے عوام کی حقیقی ضروریات کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ صوبائی بجٹ بلوچستان کے عوام کی توقعات، ترقیاتی تقاضوں اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جا رہا ہے جو صوبے میں ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4843/2026
کوئٹہ: 15 جون ۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سر فراز بگٹی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے دوران امن و امان کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمدخان، آئی جی پولیس، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ فوجی و سول حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، محرم الحرام کے سیکیورٹی انتظامات اور سول و عسکری باہمی تعاون کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے لیے تمام متعلقہ اداروں، مختلف مکاتبِ فکر، تاجر برادری اور تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مذہبی رہنماوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان خراب کرنے والے عناصر کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر متحرک ہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ تشدد کی اجازت نہیں ہوگی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور مذہبی اجتماعات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4844/2026
کوئٹہ 15جون ۔چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیرصدارت صوبے میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینے، موجودہ پیداوار میں اضافہ کرنے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں سیکرٹری زراعت داو¿د خلجی، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ قاسم نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بلوچستان کے 24 اضلاع میں زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں اور مجموعی طور پر 24 لاکھ سے زائد زیتون کے پودے رہائشی و زرعی اراضی میں لگائے گئے ہیں۔ ان پودوں کی مکمل نشوونما اور متوقع پیداوار کے حساب سے تقریباً 2.5 لاکھ لیٹر زیتون کا تیل حاصل ہونے کی گنجائش رکھی جا رہی ہے، جو خطے کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں صوبے میں تقریباً 80 لاکھ جنگلی زیتون کے درخت بھی موجود ہیں، جو جیو بایولوجیکل تنوع اور مقامی معاشی سہارے کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید طریق? کاشت، آبپاشی کے جدید نظام، مناسب کھاد اور غذائیت کی فراہمی کے طریقوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اجلاس میں شرکائ نے زرعی تحقیق اور تربیتی ورکشاپس کے ذریعے کاشتکاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی سفارش کی تاکہ پیداوار اور تیل کی کوالٹی دونوں میں بہتری آئے۔ بین الاقوامی سطح پر بلوچستان خاص طور پر لورالائی سے حاصل کردہ زیتون کے تیل نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ تازہ اندازے کے مطابق عالمی مقابلوں میں لورالائی کا زیتون کا تیل مجموعی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ اجلاس میں اس کامیابی کو مستحکم رکھنے اور مارکیٹ شیئر بڑھانے کے لیے برآمدی معیار کی پابندی، بین الاقوامی سرٹیفیکیشن، اور جدید پیکنگ معیارات اپنانے کی تجویز دی گئی۔چیف سیکریٹری نے اجلاس میں ہدایت دی کہ زیتون کی افزائش اور پروسسنگ کے لیے ایک مربوط حکمت عملی بنائی جائے جس میں متعلقہ محکموں کے مابین کوآرڈینیشن، فنڈنگ میکانزم اور مانیٹرنگ شامل ہوں۔ ڈسٹرکٹ سطح پر پائلٹ پراجیکٹس شروع کیے جائیں تاکہ بہترین طریقے قائم کیے جا سکیں اور کامیاب ماڈلز کو پورے صوبے میں نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے مقامی کسانوں کے لیے تربیتی پروگرام، اسٹیک ہولڈر کانفرنسیں اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے تاکہ پودوں کی صحت اور تیل کی کوالٹی بہتر ہو۔انہوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت نہ صرف زرعی تنوع اور مقامی آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ برآمدات بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بلوچستان کے دیہی علاقوں کی معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4845/2026
نصیرآباد 15جون ۔غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف نصیر آباد ضلعی انتظامیہ کا بڑا کریک ڈاون، 4 افراد گرفتار، 4 دکانیں سیل ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کی سربراہی میں شہر بھر میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے دوران چار دودھ فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ چار دکانیں سیل کر دی گئیں۔اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے شہر میں ایک درجن کے قریب دودھ کی دکانوں کا معائنہ کیا اور مختلف مقامات سے دودھ کے نمونے بھی حاصل کیے۔ کارروائی کے دوران سید سجاد شاہ، سرفراز مجید اور بابو اصغر رند بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو خالص، معیاری اور صاف دودھ کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملاوٹ، غیر معیاری دودھ کی فروخت اور عوامی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4846/2026
صحبت پور15جون ۔ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین نے آج زیرِ تعمیر ہال کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے جاری تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور کام کی رفتار، معیار اور منصوبہ بندی کے مختلف پہلووں پر متعلقہ حکام سے بریفنگ حاصل کی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ تعمیراتی فرم اور ذمہ دار افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ زیرِ تعمیر ہال ایک کثیر المقاصد منصوبہ ہے جسے سرکاری تقریبات کانفرنسز، اجلاسوں اور دیگر اہم سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے استعمال میں لایا جائے گا لہٰذا اس منصوبے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگا انہوں نے مزید زور دیا کہ تعمیراتی کام کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور اس عمل میں مکمل شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے، تاکہ یہ ہال جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور عوامی و سرکاری ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل سے ضلع میں سرکاری و سماجی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ایک بہترین سہولت میسر آئے گی، جو عوام کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4847/2026
استا محمد15جون ۔ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے آج ایس پی استا محمد معاذ الرحمٰن اور اسسٹنٹ کمشنر استا محمد رمضان اشتیاق کے ہمراہ مرکزی امام بارگاہ استا محمد کا دورہ کیا اس موقع پر شیعہ علماء کونسل بلوچستان کے نائب صدر ممتاز علی عمرانی بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران محرم الحرام کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات جلوسوں اور مجالس کے انعقاد ٹریفک مینجمنٹ صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس کے علاوہ علمائے کرام اور امام بارگاہ کے منتظمین سے مشاورت کی گئی، ان کے مسائل سنے گئے اور تجاویز پر غور کیا گیا ڈپٹی کمشنر اور ایس پی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، عزاداروں کی جان و مال کے تحفظ اور تمام انتظامات کو موثر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس مشترکہ طور پر ہر ممکن اقدامات کریں گے اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ مجالس اور جلوسوں کا پرامن انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4848/2026
استا محمد 15جون ۔ڈپٹی کمشنر استا محمد، محمد رمضان پلال نے آج بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو BSDI کے تحت جاری خزانہ آفس استا محمد کی مرمت و بحالی کے منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر ونگ کمانڈر رضوان طیب ونگ 114 اور اسسٹنٹ کمشنر استا محمد رمضان اشتیاق بھی ان کے ہمراہ موجود تھے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے عمارت میں جاری مرمت و بحالی کے مختلف مراحل، تعمیراتی معیار اور کام کی مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے منصوبے کی موجودہ صورتحال مکمل ہونے والے کام اور باقی ماندہ مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ معیار اور ٹائم لائن کے مطابق یقینی بنائی جائے اور کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے تاکہ خزانہ آفس استا محمد کو جلد از جلد ضلع جعفرآباد سے منتقل کیا جا سکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے عوام کو مالیاتی اور سرکاری خدمات اپنے ہی ضلع میں بآسانی دستیاب ہوں گی جس سے انہیں دیگر اضلاع کے چکر لگانے کی زحمت سے نجات ملے گی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کام کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے، معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام مراحل کو شفاف اور بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4849/2026
جعفرآباد:15جون ۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی، ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی اور ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی کے علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوئے۔ اجلاسوں میں پولیس، ایف سی، حساس اداروں کے نمائندگان اور مختلف محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سرکاری احکامات پر عملدرآمد، بین الادارہ رابطوں کے فروغ اور محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع بھر میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حکومتی احکامات پر موثر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفاد عامہ کے منصوبوں اور حکومتی پالیسیوں کے بہتر نفاذ کے لیے اداروں کے درمیان مربوط رابطہ انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ محرم الحرام کے مقدس مہینے کے دوران امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں سیکیورٹی کے غیر معمولی اور موثر انتظامات کیے جائیں۔ تمام جلوسوں، مجالس اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کو مزید سخت بنایا جائے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کو موثر اور فعال رکھا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ضلع میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں مکمل احساس کے ساتھ ادا کریں تاکہ شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے اور محرم الحرام کے تمام مذہبی اجتماعات بخیروخوبی اور پرامن انداز میں منعقد ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4850/2026
مچھ: 15 جون ۔: انسپکٹوریٹ آف مائنز مچھ کے زیر اہتمام کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے لیے ایک روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں مائنز مینیجران، مائنز سرداروں اور متعلقہ عملے نے بھرپور شرکت کی۔ تربیتی پروگرام کے دوران انسپکٹر آف مائنز قربان علی عمرانی، جونئر انسپکٹر آف مائنز غلام قادر مری اور الیکٹرک انسپکٹر آف مائنز عارف حسین عمرانی نے شرکاء کو جنرل الیکٹرک سیفٹی، مائنز میں برقی نظام کے محفوظ استعمال، حادثات سے بچاو اور مائنز گیسز کے خطرات و تدارک سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کان کنی کے دوران حفاظتی اصول و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد انسانی جانوں کے تحفظ، حادثات کی روک تھام اور پیداواری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مائنز میں پیدا ہونے والی مختلف خطرناک گیسوں کی اقسام، ان کی بروقت نشاندہی، ممکنہ نقصانات اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ایک روزہ تربیتی سیشن کے دوران شرکاء کو عملی مثالوں، جدید حفاظتی طریقہ کار اور تکنیکی رہنمائی کے ذریعے پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے مواقع فراہم کیے گئے، جبکہ سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء کے مختلف سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیے گئے۔ پروگرام کے اختتام پر شرکائ نے تربیتی سرگرمی کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کانوں میں حفاظتی ضوابط پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنا کر محفوظ، ذمہ دارانہ اور پائیدار کان کنی کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور انسانی جانوں کی حفاظت یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4851/2026
سبی 15 جون ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں محرم الحرام کے سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا جس میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی، صفائی، اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ونگ کمانڈرز کرنل زبیر، کرنل عبدالمنان، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، علماءکرام، شیعہ کونسل کے رہنماوں اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں اور مجالس کے روٹس متعین کر دیے گئے ہیں جبکہ جلوسوں کے ہمراہ ڈاکٹرز اور ایمبولینسز بھی موجود رہیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے میونسپل کمیٹی کو ہدایت جاری کی کہ جلوسوں اور مجالس کے راستوں سمیت متعلقہ علاقوں میں صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 6 سے 10 محرم الحرام تک امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات پر سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں گے۔ ضلع سبی اور تحصیل لہڑی کی یونین کونسل تریہڑ میں محرم الحرام کے جلوس برآمد ہوں گے جہاں سکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے انجمن تاجران، علماءکرام اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ مذہبی ہم آہنگی، امن و امان اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر میجر(ر) الیاس کبزئی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور محرم الحرام کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ عزاداروں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر4852/2026
کیچ /تمپ 15جون ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ، ڈاکٹر نوروز یعقوب کی کاوشوں سے محکمہ صحت کے 284 ملازمین کو ضلع کیچ سے ضلع تمپ منتقل کر دیا گیا۔ تمپ: نئے ضلع تمپ کے قیام کے بعد مختلف سرکاری محکموں کی تنظیمِ نو کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر توانائی میر اصغر رند نے محکمہ صحت کے ملازمین کی ضلع کیچ سے ضلع تمپ منتقلی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔میر اصغر رند کی خصوصی دلچسپی، خواہش اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب کی انتھک محنت اور موثر اقدامات کے باعث محکمہ صحت کے 284 ملازمین کو ضلع کیچ سے ضلع تمپ منتقل کر دیا گیا۔منتقل ہونے والے ملازمین میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف، درجہ چہارم کے ملازمین اور دیگر عملہ شامل ہے۔ اس اقدام سے ضلع تمپ میں صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر4853/2026
کوئٹہ 15جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے شیشہ (چلم) کے سامان، فلیورز اور متعلقہ اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن کیا۔ان کارروائیوں کے دوران مسجد روڈ، کچلاک بازار، ائیرپورٹ روڈ، نواں کلی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 25 دکانیں سیل کی گئیں، جبکہ 32 افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں شیشہ (چلم) کا سامان، فلیورز اور دیگر متعلقہ اشیاء بھی ضبط کر لی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی اور عوامی صحت کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی غیر قانونی کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر4854/2026
کوئٹہ15جون:۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کا ایک اہم اجلاس چیئرمین عبداللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی کے معزز اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف پالیسی امور، ادارے کو درپیش انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کی ضروریات، تنظیمی ترقی، انٹرن شپ پروگرامز اور استعداد کار میں اضافے سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران بلوچستان ریونیو اتھارٹی ایکٹ کے تحت پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انتظامی ڈھانچے کی تشکیل پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مضبوط انسانی وسائل، پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافہ ادارے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کیلئے ناگزیر ہیں۔اجلاس میں محصولات کی وصولی کی موجودہ صورتحال اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری، ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ اور خدمات کی فراہمی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کیلئے مختلف تجاویز اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر نامہ نمبر4855/2026
کوئٹہ15جون:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن، وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی کی رہنمائی اور چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ہدایات پر بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی جانب سے رجسٹریشن اور ٹیکس تعمیل مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔اس سلسلے میں نانفائلرز اور زیر التواء رجسٹریشن کے معاملات کے جائزے کیلئے بی آر اے کی ٹیم نے مختلف ہسپتالوں اور لیبارٹریز کے دورے کیے۔ دورہ کیے جانے والے ہسپتالوں میں ڈاکٹر زویا ہسپتال، بی اے ہیلتھ کیئر، النصر ہسپتال، حاجی سنگین خان ہسپتال اور ڈاکٹر عبدالخالق ہسپتال شامل تھے، جبکہ شیخ لیبارٹری اور زاہد لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا گیا۔ اس دوران متعلقہ انتظامیہ سے ملاقاتیں کی گئیں اور انہیں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت رجسٹریشن، بروقت ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس ادائیگی کی قانونی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔ بی آر اے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ تمام قابلِ ٹیکس سروس فراہم کنندگان کا رجسٹرڈ ہونا اور قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی ناگزیر ہے۔متعلقہ اداروں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن اور ٹیکس تعمیل کے معاملات مکمل کریں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق نوٹسز، جرمانے، بینک اکاؤنٹس کی اٹیچمنٹ اور دیگر قانونی اقدامات عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، شفافیت کو فروغ دینے اور صوبے کی ترقی کیلئے محصولات میں اضافے کے مقصد سے رجسٹریشن و کمپلائنس مہم جاری رکھی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر4856/2026
خضدار15جون:۔ نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بولان مائننگ انٹرپرائزز بی ایم ای ٹیچنگ ہسپتال خضدار کو 8 جدید انکیوبیٹرز فراہم کر دیے ہیں۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، پہلے نوزائیدہ وارڈ میں درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی سہولیات محدود تھیں۔ سردی اور لوڈشیڈنگ کے دوران قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئے انکیوبیٹرز کی تنصیب کے بعد اب 8 بچوں کو ایک ساتھ مستقل گرم ماحول اور مسلسل نگرانی کی سہولت میسر ہو گی۔ جھالاوان ٹیچنگ ہسپتال خضدار کے ایم ایس نے بی ایم ای کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ انکیوبیٹرز ہمارے نوزائیدہ وارڈ کے لیے زندگی بچانے والے ثابت ہوں گے۔ قبل از وقت اور کم وزن بچوں کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی آئے گی۔ بی ایم ای منیجمنٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ضلع خضدار میں مادرانہ و نوزائیدہ صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی ایم ای صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں۔ ادارہ خضدار و مضافات میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے جن میں تعلیم کی بہتری، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، مستحق طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور دیگر فلاحی منصوبے شامل ہیں۔ بی ایم ای مینجمنٹ کی دور اندیش پالیسی اور عوام دوست اقدامات کو مقامی حلقوں نے سراہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بی ایم ای کی یہ کاوشیں خضدار کے لوگوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو رہی ہیں۔
خبر نامہ نمبر4857/2026
نصیرآباد15جون:۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے محرم الحرام کے سلسلے میں مرکزی امام بارگاہ، ماتمی جلوسوں کے روٹس اور دیگر اہم مقامات کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد سیکیورٹی، صفائی ستھرائی، بجلی، طبی سہولیات اور دیگر انتظامی انتظامات کا جائزہ لینا تھا تاکہ یوم عاشورہ اور دیگر اہم ایام کے دوران عزاداران کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اس موقع پر ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، ڈی ایس پی شمن علی سولنگی، پرسنل سیکرٹری منظور شیرازی، ایس ایچ او سٹی غازی عبدالرؤف جمالی اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ایس ایس پی نصیرآباد نے ڈپٹی کمشنر کو محرم الحرام کے لیے مرتب کردہ سیکیورٹی پلان، نفری کی تعیناتی، جلوسوں کے روٹس، داخلی و خارجی راستوں، سیکیورٹی چیک پوائنٹس، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے موقع پر متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، عزاداران کے جان و مال کے تحفظ، صفائی ستھرائی، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور طبی سہولیات کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جلوسوں کے تمام روٹس اور امام بارگاہوں کے اطراف صفائی کے انتظامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں اور تمام محکمے باہمی رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ ساتویں، نویں اور یوم عاشورہ کے مرکزی جلوس سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت برآمد ہوں گے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ رہیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران ضلع بھر میں امن، مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر4858/2026
گوادر15جون:۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ کی زیر صدارت محکمہ مذہبی امور و زکوٰۃ کے محکمہ ریونیو کو منتقلی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر کلیم ظفر، تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ، تحصیلدار گوادر منیر احمد بلوچ، تحصیلدار سیٹلمنٹ اکبر بلوچ، تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ آفیسر نوید بلوچ سمیت ریونیو اور متعلقہ محکموں کے افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ مذہبی امور و زکوٰۃ کی صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق محکمہ ریونیو کو منتقلی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت گڈ گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف محکموں کی تنظیمِ نو اور انتظامی بہتری کے اقدامات جاری ہیں۔اجلاس میں محکمہ مذہبی امور و زکوٰۃ کے ملازمین، ریکارڈ، جائیداد، واجبات (Liabilities)، اثاثہ جات، مالی و انتظامی امور اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے ہدایت کی کہ محکمہ مذہبی امور کے زیرِ انتظام تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں، ریکارڈ اور وسائل کی مکمل فہرست مرتب کرکے محکمہ ریونیو کے حوالے کی جائے تاکہ منتقلی کا عمل شفاف، منظم اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اگر محکمہ مذہبی امور کے نام پر کوئی زمین، عمارت یا دیگر اثاثہ موجود ہیں تو ان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ مزید برآں تمام اثاثہ جات، ریکارڈ اور انتظامی امور کی بروقت منتقلی کو یقینی بنایا جائے تاکہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی خدمات کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔اجلاس کے شرکاء نے محکمہ مذہبی امور و زکوٰۃ کے ڈیولوشن کے عمل کو مؤثر، شفاف اور مقررہ قواعد کے مطابق مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
خبر نامہ نمبر4859/2026
استامحمد15جون۔ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے کنٹریکٹر ریاض لانگاہ کے ہمراہ فیصل پارک کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد پارک میں جاری دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اور شجرکاری کے انتظامات کا جائزہ لینا تھا تاکہ شہریوں کو بہتر اور معیاری تفریحی سہولیات فراہم کی جا سکیں دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پارک کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور صفائی کی مجموعی صورتحال، گرین بیلٹس، گھاس کی حالت اور پودوں کی افزائش کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت جاری کی کہ پارک میں صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ آنے والے شہریوں کو صاف، صحت مند اور خوشگوار ماحول میسر آ سکے انہوں نے پارک کی خوبصورتی اور سرسبزی کو برقرار رکھنے پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ گھاس کی بروقت کٹائی، مناسب آبپاشی اور پودوں کی مسلسل دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے ان کا کہنا تھا کہ پارکس شہریوں کے لیے نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اس موقع پر پارک کو درپیش پانی کی فراہمی کے مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں، تاکہ پارک کی شادابی اور بحالی کا عمل متاثر نہ ہوڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فیصل پارک کو شہریوں کے لیے ایک مثالی، خوبصورت اور معیاری تفریحی مقام بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر4860/2026
ْؒقلات 15جون:۔ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کیمطابق 16 جون2026 بروز منگل بوقت 12:00بجے اسسٹنٹ کمشنر قلات کے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقادکیاجارہاہے عوام الناس اورعلاقہء عمائدین کے نام ضلعی انتظامیہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ 16 جون کو ہونے والے کھلی کچہری میں شرکت کریں اور اپنے جائزمسائل بیان کریں تاکہ انکے حل کے لیئے ضلعی انتظامیہ بروقت اقدامات اٹھاسکے۔
پریس ریلیز
کوئٹہ 15 جون:۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP) کے زیر اہتمام فلڈ ری کنسٹرکشن اینڈ کوآرڈینیشن پروگرام کے تحت حکومت جرمنی کے تعاون سے سیلاب سے متاثرہ علاقے ہنہ اوڑک میں 700 کلائمیٹ ری زلینٹ (موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ) مکانات کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔منصوبے کے تحت منعقدہ تقریب میں 187 مکمل شدہ مکانات کی چابیاں متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی گئیں۔ حکام کے مطابق اس سے قبل بھی 118 اور بعد ازاں 40 مکانات مکمل کرکے متاثرین کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی مکانات پر تعمیراتی کام جاری ہے۔تقریب سے یو این ڈی پی کے نمائندے ڈاکٹر سیموئیل رزق (Dr. Samuel Rizk)، سیکرٹری پلاننگ بلوچستان ذیشان جاوید اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے ڈائریکٹر نوید احمد شیخ نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ یہ منصوبہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور انہیں محفوظ رہائش فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ ری زلینٹ مکانات کی تعمیر متاثرہ آبادیوں کو مستقبل میں قدرتی آفات کے خطرات سے بہتر طور پر محفوظ بنانے میں مدد دے گی۔انہوں نے حکومت جرمنی کے تعاون اور یو این ڈی پی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے عمل کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/4861
کوئٹہ15 جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی وزراء اور اراکین بلوچستان اسمبلی نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آئندہ صوبائی بجٹ برائے 2026-27 پر تبادلہ خیال کیا۔ باہمی مشاورت اور اتحاد کے مظاہرے میں دونوں پارٹیوں کے نمائندوں نے خیالات کا تبادلہ کیا اور باہمی مشاورت اور تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے کسی بھی ضلع کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ گورنر جعفرخان مندوخیل اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی دونوں نے متوازن اور مساوی ترقی کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ بلوچستان کے ہر علاقے کو ترقی اور توجہ کا اس کا حصہ ملے۔








