10th-June-2026

خبرنامہ نمبر7470/2026
:کوئٹہ 10جون ۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی سے سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ نے ملاقات کی، آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں اور مالی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران آنے والی مالی سال کے بجٹ کی ترجیحات، ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبوں کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ترقیاتی شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں ترقی کا عمل تیز ہو اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور ان شعبوں کے لیے وسائل کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی تاکہ عوام کو معیاری تعلیم اور علاج معالجہ کے لیے جدید سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔اس موقع پر مالی نظم وضبط اور کفایت شعاری کی پالیسی پر بھی خصوصی گفتگو کی۔ اس پر اتفاق کیا گیا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا اور دستیاب وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ نے صوبائی وزیر خزانہ کو بجٹ تیاریوں کی پیش رفت اور مختلف مالی امور سے متعلق بریفنگ دی۔ ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ عوامی ضروریات، ترقیاتی ترجیحات اور مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی استحکام کی فروغ کے لئے انقلابی اقدامات اٹھانا ضروری ہے تاکہ صوبے کی پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7471/2026
کوئٹہ 10جون ۔بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کا اجلاس کمیٹی روم میں چیئرمین فضل قادر مندوخیل کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں راحیلہ حمید خان دورانی اور صفیہ بی بی نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ سائرہ عطاء ، اسپیشل سیکرٹری کمیٹیز عبدالرحمٰن بھی شریک ہوئے۔اجلاس کا ایجنڈا 240 ملین روپے کی لاگت سے سات اضلاع کے بجائے دو اضلاع میں ماڈل سیف ہومز کے قیام کی تجویز پر غور کرنا تھا۔ اجلاس میں حکام کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کا عنوان کوئٹہ، لورالائی، ژوب، سبی، نصیرآباد، رخشان اور قلات میں سیف ہومز کی تعمیرہے، جس کا منظور شدہ تخمینہ 240 ملین روپے رکھا گیا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کا بنیادی مقصد بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تشدد کا شکار، بے سہارا اور مشکلات سے دوچار خواتین اور ان کے بچوں کے لیے محفوظ اور باوقار رہائش فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ سیف ہومز میں خواتین کو رہائش کے ساتھ کونسلنگ، قانونی معاونت، بچوں کی نگہداشت اور بحالی کی سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں محفوظ اور معاون ماحول میسر آسکے۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ اگر 240 ملین روپے سات اضلاع میں تقسیم کیے جائیں تو ہر ضلع کے لیے تقریباً 34 ملین روپے مختص ہوں گے، جو ایک معیاری ماڈل سیف ہوم کی تعمیر کے لیے ناکافی ہیں۔ اس لیے تجویز دی گئی کہ ابتدائی مرحلے میں دو مکمل ماڈل سیف ہومز تعمیر کیے جائیں. اس اقدام کے تحت ہر ضلع کے لیے تقریباً 120 ملین روپے دستیاب ہوں گے، جس سے تمام ضروری سہولیات سے آراستہ معیاری سیف ہومز تعمیر کیے جا سکیں گے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ماڈل سیف ہومز خواتین کو تحفظ، رازداری، عزت، نفسیاتی معاونت، قانونی امداد اور بحالی کی خدمات فراہم کریں گے اور مستقبل میں دیگر اضلاع تک اس منصوبے کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ایک مثال ثابت ہوں گے۔حکام نے مزید بتایا کہ منصوبے کے لیے محکمہ صنعت و حرفت کو بطور ایگزیکیوٹنگ ایجنسی تجویز کیا گیا ہے کیونکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات اس وقت اضافی ذمہ داریوں کے باعث بوجھ کا شکار ہے۔اجلاس میں کمیٹی نے سفارش کی کہ 240 ملین روپے کی لاگت سے سات اضلاع کے بجائے ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کی تعمیر کی منظوری دی جائے اور مرحلہ وار حکمت عملی اپناتے ہوئے ان دو پائلٹ منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے بعد دیگر اضلاع تک اس منصوبے کو توسیع دی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7472/2026
کوئٹہ10 جون ۔سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصرچیف انجینئر قلات و خضدار زون عزیز اللہ خان کاسی چیف انجینئر لورالائی و ڑوب زون قاضی نورالحق ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی اینڈ ڈی کے حکام اور متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف سڑکوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے منصوبوں کی فزیبلٹی تخمینہ لاگت تکنیکی پہلووں اور مجوزہ مدتِ تکمیل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی نے مختلف نئے روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق متعدد اسکیموں کی منظوری کی سفارش بھی کیاجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ منصوبوں پر جلد از جلد عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی انتظامی اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں گے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات صوبے بھر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے اور عوام کو بہتر سفری و تعمیراتی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کاوشیں بھرپور انداز میں جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7473/2026
صحبت پور10جون ۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی DCC کا ایک اہم اور تفصیلی جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران نے بھرپور شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال ضلع بھر میں جاری ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور امن و امان کے قیام و استحکام کے لیے جاری حکمتِ عملی پر سیر حاصل گفتگو کی گئی مزید برآں اجلاس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد سے متعلق مختلف اسکیموں کی سیکیورٹی اور تحفظ کے انتظامات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اس امر پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور بلا تعطل تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے موثر سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی موثر اور پائیدار صورتحال برقرار رکھنے کے لیے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دیا جائے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو ایک محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں نہایت پیشہ ورانہ ذمہ دارانہ اور مربوط انداز میں انجام دیں تاکہ حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7474/2026
صحبت پور10جون ۔محرم الحرام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی اور انتظامی امور کے موثر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر صحبت پور، محترمہ فریدہ ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران، پولیس، لیویز، صحت، میونسپل کمیٹی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع بھر میں محرم الحرام کے موقع پر منعقد ہونے والی مجالسِ عزا اور جلوس ہائے عزاداری کے لیے کیے گئے سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا شرکاء کو مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں کے روٹس، سیکیورٹی پلان، ٹریفک مینجمنٹ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، روشنی کے نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے جامع بریفنگ دی گئیاجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضلع میں یکم محرم الحرام سے مجالسِ عزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جبکہ 7 محرم الحرام کو گوٹھ حمید، 8 محرم الحرام کو بھنڈ، اور 10 محرم الحرام کو صحبت پور شہر میں مرکزی جلوسِ عزاداری برآمد ہوتا ہے ان اہم مذہبی اجتماعات کے پیش نظر تمام روٹس کی نگرانی، سیکیورٹی پوائنٹس کے قیام، واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی اقدامات زیرِ غور آئے۔ڈپٹی کمشنر محترمہ فریدہ ترین نے ہدایت کی کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دی جائے اور مجالس و جلوسوں کے پرامن انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے کہا کہ عزاداروں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کو مضبوط بنائیں، موثر ہم آہنگی کو یقینی بنائیں اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رکھا جائے، جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رکھنے، ایمبولینسز کی دستیابی اور طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محرم الحرام کے تمام مذہبی پروگراموں کو پرامن، منظم اور باوقار انداز میں منعقد کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک رہیں گے تاکہ عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے اور ضلع میں مثالی امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7475/2026
لورالائی، 10 جون ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں کمشنر لورالائی ڈویڑن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محب اللہ خان بلوچ کی ہدایت پر میونسپل کمیٹی لورالائی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی اور انسداد تجاوزات مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔صفائی مہم کے دوران میونسپل کمیٹی کے مختلف زونز میں عملے نے نالیوں کی صفائی، کچرے کی منتقلی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ عجب خان زون میں سردار ہاشم لونی قلعہ کے مقام پر نالیوں کی صفائی کی گئی جبکہ باران زون کے پہاڑی محلہ اور بلوچ کالونی میں بند نالیوں کو صاف کرکے بارش کے پانی کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کام مکمل کیا گیا۔عبدالخالق زون میں گودی محلہ، لیویز لائن اور پرانے ہسپتال کے اطراف جمع شدہ کچرے کو اٹھا کر علاقے کو صاف کیا گیا۔ اسی طرح سلیم داد ولی کمپلینٹ زون میں دوبی گاٹ محلہ کے نالوں کے مین ہولز کو بند اور مرمت کرکے نکاسی آب کے نظام کو مزید موثر بنایا گیا تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا خاتمہ کیا جا سکے۔میونسپل کمیٹی کے صفائی عملے نے ٹریکٹر ٹرالیوں اور سوزوکی گاڑیوں کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں سے کچرا جمع کرکے مقررہ مقامات تک منتقل کیا۔ علاوہ ازیں ماحول کو سرسبز اور خوشگوار بنانے کے لیے شہر کے مختلف شاہراہوں اور عوامی مقامات پر لگائے گئے درختوں کو پانی فراہم کرنے کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔دریں اثناءانتظامیہ نے نیو اڈہ کے مقام پر قائم تجاوزات اور ناجائز قبضے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری اراضی واگزار کرا لی۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ سرکاری اراضی پر کسی قسم کے ناجائز قبضے یا تجاوزات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔میونسپل کمیٹی لورالائی کے مطابق شہریوں کو صاف ستھرا، صحت مند اور بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے صفائی ستھرائی، نکاسی آب، شجرکاری اور انسداد تجاوزات کے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رکھے جائیں گے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ صفائی برقرار رکھنے، کچرا مقررہ مقامات پر ڈالنے اور شہری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7476/2026
استامحمد10جون ۔ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال نے شہریوں کو پینے کے پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے رات گئے تقریباً 3 بجے کھیرتھر کینال خان پور ڈسٹری اور فیز-I تالاب کا ہنگامی دورہ کیا اس غیر معمولی وقت پر کیے گئے دورے کا مقصد پانی کی موجودہ صورتحال کا خود جائزہ لینا اور جاری اقدامات کی موثر نگرانی کو یقینی بنانا تھا دورے کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ کھیرتھر کینال سے پانی کی فراہمی عارضی طور پر بند کرکے پانی کا رخ خان پور ڈسٹری کی طرف موڑ دیا گیا ہے اس اقدام کا مقصد استا محمد شہر کے تالابوں کو ہنگامی بنیادوں پر بھرنا اور شہریوں کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پانا ہے بریفنگ میں مزید آگاہ کیا گیا کہ خان پور ڈسٹری سے پانی کو لفٹ کرکے فیز-I تالاب سمیت دیگر ذخائر میں منتقل کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے، جس سے شہر کے پانی کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر جاری آپریشن کا تفصیلی معائنہ کیا اور کام کی رفتار و معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید بہتری کی ہدایات بھی جاری کیں انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ پانی کی فراہمی اور تالابوں کو بھرنے کے عمل کی چوبیس گھنٹے مسلسل نگرانی کی جائے، تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو درپیش پانی کی قلت کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات میں مزید تیزی اور موثریت لائی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر استا محمد رمضان اشتیاق تحصیلدار استا محمد گامن خان، ایگزیکٹو انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ شکراللہ، محکمہ آبپاشی کے افسران و عملہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے جاری آپریشن میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی سے متعلق بریفنگ دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7477/2026
خضدار10جون۔: ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے آج ضلع کے مختلف سرکاری محکمہ جات کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ڈی ایچ او آفس، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ اور لوکل گورنمنٹ آفس کی کارکردگی اور حاضری کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران سوشل ویلفیئر کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار افسران دفتر میں موجود نہیں تھے۔ جس پر ڈپٹی کمشنر خضدار نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کا دفتر میں موجود رہنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عوامی خدمت میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت دی کہ وہ اپنے دفاتر میں پابندی سے موجود رہیں اور عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ انہوں نے محکمہ جات کو درپیش انتظامی اور فنی مسائل کے بارے میں بھی تفصیلی استفسار کیا اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے کہا کہ عوام کو بروقت اور معیاری سروس فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس مراد گزوزئی بھی ڈپٹی کمشنر خضدار کے ہمراہ تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7478/2026
موسیٰ خیل10جون ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے BHU رڑاہ شم کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد مرکزِ صحت میں طبی سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کے اسٹاک اور ای پی آئی پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا دورانِ دورہ معائنہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور عملے کی حاضری کو چیک کیا۔ انہوں نے ادویات کے دستیاب اسٹاک، اسٹور ریکارڈ اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا اور عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو بروقت اور معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائےاس کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے EPI روم کا بھی معائنہ کیا، جہاں ILR کی مینٹیننس، کولڈ چین سسٹم، ویکسین اسٹاک، درجہ حرارت کے ریکارڈ اور متعلقہ رجسٹرز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے ILR کی کارکردگی کو چیک کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کولڈ چین کے تمام اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ ویکسین کا معیار اور افادیت برقرار رہے دورے کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں اپنی ذمہ داریاں مزید محنت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دینے کی ہدایت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کی سہولیات اور ویکسینیشن پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایسے دورے باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7479/2026
لورالائی10جون ۔: کمشنر ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس، معیاری تعمیرات پر زورلورالائی: کمشنر لورالائی ڈویڑن ولی محمد بڑیچ کی زیر صدارت ڈویلپمنٹ پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ترقیاتی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایکسین پی ایچ ای، ایکسین بی اینڈ آر بلڈنگ احمد دین، ایکسین بی اینڈ آر روڈ محمد داود، ایم ڈی ایم، لوکل گورنمنٹ، اربن پلاننگ اور واٹر مینجمنٹ کے متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران تمام محکموں کے سربراہان نے اپنے اپنے شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ان کی پیش رفت اور درپیش امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ افسران نے بتایا کہ PSDP اور BSDI کے تحت جاری بیشتر ترقیاتی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور متعدد منصوبوں پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی فلاح و بہبود اور علاقے کی پائیدار ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ان منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں اعلیٰ معیار کی تعمیراتی اشیاء اور میٹریل استعمال کیا جائے اور کسی بھی صورت ناقص یا غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔کمشنر نے واضح کیا کہ ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں، اس لیے منصوبوں میں شفافیت، معیار اور میرٹ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کاموں میں کوتاہی، غفلت یا ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے، فیلڈ وزٹس میں اضافہ کیا جائے اور جاری اسکیموں کی تکمیل مقررہ مدت کے اندر ممکن بنائی جائے تاکہ عوام ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ لورالائی ڈویڑن میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کو ا اور عوامی سہولیات میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7480/2026
لورالائی10جون ۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے گورنمنٹ پرائمری سکول پھانکوٹ، گورنمنٹ پرائمری سکول حاجی مجنون اور جدید پرائمری سکول کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) طارق احمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سکولوں میں جاری تدریسی سرگرمیوں، طلبہ و اساتذہ کی حاضری، صفائی ستھرائی کی صورتحال، بنیادی سہولیات اور مجموعی تعلیمی ماحول کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے نصابی مضامین کے حوالے سے سوالات کیے۔ طلبہ نے اعتماد اور بھرپور تیاری کے ساتھ سوالات کے جوابات دیے، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کی تعلیمی استعداد بڑھانے، نظم و ضبط برقرار رکھنے اور حاضری کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں بہتری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے فروغ اور سکولوں میں دستیاب سہولیات کی بہتری کے لیے محکمہ تعلیم کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی تاکہ بچوں کو بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی معاشرتی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اس لیے اس شعبے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) طارق احمد نے بھی سکولوں میں تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا اور اساتذہ سے درپیش مسائل، سہولیات کی کمی اور دیگر ضروریات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مسائل کے حل اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔دورے کے دوران سکول انتظامیہ اور مقامی عمائدین نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں خصوصی دلچسپی لینے اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے دوروں سے نہ صرف تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ اساتذہ اور طلبہ میں ذمہ داری اور احساسِ جوابدہی بھی مزید مضبوط ہوگا۔دورے کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے سکولوں کے ریکارڈ، طلبہ کے داخلوں اور حاضری رجسٹرز کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے فروغ اور معیار کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7481/2026
حب، 10 جون۔ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیرِ صدارت سوک سینٹر حب میں قائم سرکاری دفاتر کی سیکیورٹی، پارکنگ کے مسائل، دفاتر کی تنظیمِ نو (Rationalization)، کرایوں اور بقایا واجبات کی وصولی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں سوک سینٹر کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حب نے ہدایت کی کہ عمارت میں آنے والے شہریوں اور ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنایا جائے، داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی کو بہتر کیا جائے اور غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت پر کڑی نظر رکھی جائے۔اجلاس کے دوران سوک سینٹر میں پارکنگ کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ٹریفک کی بے ترتیبی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ پارکنگ کے لیے باقاعدہ اور منظم نظام وضع کیا جائے گا تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آنے والے شہریوں اور ملازمین کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں مخصوص پارکنگ ایریاز مختص کرنے اور ٹریفک نظم و ضبط کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔مزید برآں، سوک سینٹر میں قائم دفاتر کی تنظیمِ نو اور دستیاب جگہ کے موثر استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ دفاتر کی ضروریات اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع تجاویز پیش کی جائیں تاکہ سرکاری وسائل کے بہتر اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں مختلف دفاتر کے کرایوں اور بقایا واجبات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام بقایا جات اور واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا کہ سوک سینٹر عوام کو سرکاری خدمات کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے، لہٰذا اس کی سیکیورٹی، صفائی، نظم و ضبط اور انتظامی امور میں بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ باہمی تعاون اور موثر ہم آہنگی کے ذریعے سوک سینٹر کے انتظامی امور کو مزید فعال، منظم اور عوام دوست بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7482/2026
قلات 10جون۔ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی نے ٹیچنگ ہسپتال قلات کا اچانک دورہ کیا ڈپٹی کمشرنےڈاکٹروں اور دیگر اسٹاف کی حاضریاں چیک کیں ڈپٹی کمشنرنے ہسپتال کے مختلف شعبوں ایمرجنسی آئی سی یواوپی ڈی ادویات اسٹور لشمینیاسز سینٹر لیبارٹری ایکسرے روم میل فیمیل وارڈز ڈینٹل سیکشن لیبرروم حفاظتی ٹیکہ جات سینٹر ڈینٹل سیکشن اور دیگر شعبوں کا دورہ کیا اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات اور مسائل کا بغور جائزہ لیا ۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ ایک صحت مندمعاشرے کی تشکیل کے لیئے لوگوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف اپنی حاضریاں یقینی بنائیں لوگوں کو صحت سے متعلق بہتر سہولیات فراہم کریں ڈاکٹرز اپنے مقدس پیشے سے مخلص رہیں اور اپنے علاقے لوگوں کی خدمت کریں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں صحت کے شعبے میں کوئی کوتائی برداشت نہیں کی جائیگی دورے کے موقع پر ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر نصراللہ لانگو ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول منیجرڈاکٹر محمدیعقوب زہری نے ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال کے بنیادی مسائل اورشعبہ جات کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7483/2026
کوئٹہ، 10 جون ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مظفرآباد کے قریب پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں شہید ہونے والے افسران و جوانوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ وطن عزیز کے یہ بہادر سپوت قوم کا فخر ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنایا۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، جس پر پوری قوم شدید رنج و غم میں مبتلا ہے۔ پاک فوج کے افسران اور جوان ہر مشکل گھڑی میں ملک و قوم کے تحفظ کے لیے صفِ اول میں کھڑے رہتے ہیں اور ان کی خدمات لائقِ تحسین ہیں وزیر اعلیٰ نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اس دکھ کی گھڑی میں پاک فوج اور شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7484/2026
کوئٹہ 10جون ۔ صوبائی وزیر کموڈیٹی منجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد خان دمڑ نے چیف کیسکو یوسف شاہ سے اہم ملاقات کی، جس میں ضلع ہرنائی کے فوکل پرسن حاجی باز محمد دمڑ، قبائلی و سیاسی رہنماو¿ں ملک اسرار ترین، ملک رضا ترین، میر مراد بلوچ، یونین کونسل چیئرمین سید نقیب اللہ شاہ، مسلم لیگ (ن) ضلع ہرنائی کے صدر ملک منان ترین، کونسلر سید نصراللہ شاہ، پی ایس موسیٰ کاکڑ، حبیب اللہ، عجب خان ترین ملک اور سید نذیر شاہ بھی موجود تھے ملاقات کے دوران ضلع ہرنائی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، ہرنائی اور شاہرگ فیڈرز سے متعلق مسائل اور بجلی کی فراہمی میں درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی نور محمد خان دمڑ نے چیف کیسکو کو آگاہ کیا کہ ضلع ہرنائی کے عوام ایک طویل عرصے سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث عوام کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیاں، تعلیمی امور اور زرعی شعبہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات کے پیش نظر ان مسائل کا فوری اور پائیدار حل ناگزیر ہے چیف کیسکو یوسف شاہ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ہرنائی اور شاہرگ فیڈرز سے متعلق مسائل کے حل، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں کمی اور وولٹیج کی بہتری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو بہتر اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیسکو کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ضلع ہرنائی کے عوام کو درپیش بجلی کے مسائل کے موثر اور بروقت حل کے لیے کیسکو اور مقامی عوامی نمائندوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7485/2026
لورالائی10جون ۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے عوامی اجتماعات، سیمینارز، تربیتی پروگراموں، سرکاری تقریبات اور دیگر سماجی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے مجوزہ ملٹی پرپز ہال کے مقام کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبے کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کے ہمراہ مجوزہ مقام کی موزونیت، عوامی رسائی، دستیاب رقبے، پارکنگ سہولیات، سیکیورٹی انتظامات اور مستقبل میں بڑھتی ہوئی عوامی ضروریات کے تناظر میں اس منصوبے کی افادیت کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہیں منصوبے کے ابتدائی خدوخال اور ممکنہ فوائد سے بھی آگاہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ملٹی پرپز ہال کی تعمیر سے ضلع میں سرکاری و عوامی تقریبات، سیمینارز، ورکشاپس، آگاہی مہمات، مشاورتی اجلاسوں، تعلیمی و تربیتی پروگراموں اور دیگر کمیونٹی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ایک معیاری اور منظم پلیٹ فارم میسر آئے گا، جس سے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت جاری کی کہ منصوبے کے حوالے سے جامع فزیبلٹی رپورٹ، تخمینہ لاگت، سائٹ پلان اور تکنیکی سفارشات جلد از جلد تیار کرکے پیش کی جائیں تاکہ منصوبے پر عملی پیش رفت کے لیے ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جا سکیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ لورالائی عوامی فلاح و بہبود، بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے مو¿ثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بہتر اور پائیدار سہولیات فراہم کرنا اور ضلع کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ مختلف شعبوں میں عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے، تعلیمی و صحت کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور شہری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کی تکمیل سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7486/2026
جعفرآباد:10جون ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات کے سلسلے میں علمائے کرام، متعلقہ محکموں کے افسران اور ضلعی حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی، صفائی ستھرائی، بجلی کی فراہمی، ماتمی جلوسوں کے روٹس اور دیگر انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ محرم الحرام کے تمام ماتمی جلوس مقررہ اور منظور شدہ روٹس سے ہی گزریں گے، جبکہ جلوسوں اور مجالس کے مقامات پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عزاداروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شہر اور جلوسوں کے راستوں میں صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے حکام بالا کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ عزاداروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں امن و امان کے قیام، بین المذاہب ہم آہنگی اور محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7487/2026
لورالائی10جون ۔ : ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ضلع انتظامیہ کے ساتھ منسلک زیرِ تربیت ڈی ایس پیز (DSPs Under Training) کا ایک اہم تعارفی و تربیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں افسران کو ضلعی انتظامیہ کے مختلف شعبہ جات، ذمہ داریوں اور فیلڈ امور سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے زیرِ تربیت افسران کو ضلعی انتظامیہ کے ڈھانچے، ریونیو امور، امن و امان کی صورتحال، عوامی شکایات کے بروقت ازالے، پرائس کنٹرول میکانزم، انسدادِ تجاوزات مہمات، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور قدرتی آفات و ہنگامی حالات میں ضلعی انتظامیہ کے کردار پر جامع بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی، موثر طرزِ حکمرانی اور امن و استحکام کے قیام کے لیے پولیس اور سول انتظامیہ کے درمیان مضبوط رابطہ اور باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہی عوامی مسائل کے موثر حل اور حکومتی پالیسیوں کے کامیاب نفاذ کی ضمانت ہے۔ڈپٹی کمشنر نے زیرِ تربیت افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تربیت کے دوران فیلڈ سرگرمیوں، عوامی سماعتوں، سرکاری معائنہ جات، ترقیاتی منصوبوں کے دوروں اور انتظامی کارروائیوں میں فعال کردار ادا کریں تاکہ انہیں عملی سطح پر انتظامی امور کو سمجھنے اور تجربہ حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔اجلاس میں زیرِ تربیت افسران نے مختلف انتظامی معاملات سے متعلق سوالات بھی کیے، جن کے ڈپٹی کمشنر نے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے طریقہ کار اور عوامی خدمت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زیرِ تربیت پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، انتظامی صلاحیتوں میں اضافے اور فیلڈ تجربے کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ وہ مستقبل میں اپنی ذمہ داریاں موثر، شفاف اور عوام دوست انداز میں انجام دے سکیں۔اجلاس کے اختتام پر شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ پولیس اور سول انتظامیہ کے درمیان موثر ہم آہنگی نہ صرف گورننس کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عوامی اعتماد کے فروغ اور قانون کی بالادستی کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7488/2026
ہرنائی : 10جون۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلع میں عوامی شکایات کے ازالے اور سروسز کی بہتری کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے شہر میں قائم مختلف بینک برانچز کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورہ کیے جانے والے بینکوں میں نیشنل بینک آف پاکستان (NBP)، حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) اور بینک اسلامی شامل ہیں۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بینکوں میں سیکیورٹی کے انتظامات، عوام کو فراہم کی جانے والی کسٹمر سروسز اور دیگر اہم انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے بینکوں میں موجود شہریوں سے بات چیت بھی کی اور ان سے ملنے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ تمام اے ٹی ایم مشینیں ہر وقت فعال اور قابلِ استعمال رہنی چاہئیں تاکہ شہریوں کو رقم کی نکلوائی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بینک عملے کو پابند کیا کہ وہ صارفین کو تمام بینکاری خدمات بروقت اور موثر انداز میں فراہم کریں۔عوام کی سہولت اور انہیں بہترین سروسز کی فراہمی بینکوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ سرکاری یا نجی بینکوں کی جانب سے عوام کو متبادل سہولیات دینے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا سستی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔”اس موقع پر بینک انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر کو یقین دہانی کروائی کہ ان کی ہدایات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا اور صارفین کے لیے بینکنگ کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7489/2026
ہرنائی 10 جون ۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتال ہرنائی کا اچانک دورہ کر کے پورے عملے میں کھلبلی مچا دی۔ سرپرائز وزٹ کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف وارڈز اور شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور موقع پر موجود حاضری رجسٹر اور ڈیوٹی روسٹر کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ہسپتال کے معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فی میل سٹاف تو مستعدی سے اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا، تاہم ڈاکٹرز اور دیگر میل سٹاف (مرد عملہ) اپنی فرائض سے غیر حاضر پایا گیا۔ عملے کی اس سنگین لاپرواہی پر ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کرنے اور وضاحت طلب کرنے کے احکامات دیے۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے میڈیسن سٹور کا رخ کیا جہاں انہوں نے ادویات کے اسٹاک اور مریضوں کو دی جانے والی پرچیوں کا موازنہ کیا۔ اس دوران یہ افسوسناک انکشاف ہوا کہ غریب مریضوں کو مقررہ مقدار سے کم ادویات فراہم کی جا رہی تھیں۔ ڈی سی ہرنائی نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے موقع پر موجود انتظامیہ کی کلاس لے لی۔اس موقع پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی کا کہنا تھا کہحکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ تمام مریضوں کو مفت اور مکمل ادویات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ عوام کی صحت اور زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا کوتاہی کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مریضوں کو کم ادویات دیے جانے کے معاملے پر متعلقہ افسران سے فوری طور پر تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہسپتال کے ذمہ داران کو الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنانے کی سخت ہدایت کی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7490/2026
دکی، 10 جون ۔: ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر دکی، اسسٹنٹ کمشنر لونی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، انسپکٹر پولیس ہدایت اللہ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال دکی، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو (روڈز)، چیف آفیسر ضلع کونسل دکی اور محکمہ لائیو اسٹاک کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران حادثات، قدرتی آفات اور دیگر واقعات سے متاثرہ خاندانوں اور زخمی افراد کے کمپنسیشن کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے زیرِ التواءدرخواستوں پر غور کرتے ہوئے مستحق متاثرین کو حکومتی پالیسی اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مالی معاونت کی بروقت فراہمی کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں اور زخمی افراد کو ان کا جائز حق فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ تمام کیسز کی جانچ پڑتال شفاف انداز میں مکمل کی جائے تاکہ امدادی رقوم کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو اور حقیقی مستحقین تک حکومتی سہولیات بروقت پہنچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود اور متاثرین کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ کمپنسیشن کیسز کی پراسیسنگ میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں مختلف محکموں کے نمائندوں نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق رپورٹس پیش کیں، جبکہ متاثرین کی امداد کے عمل کو مزید موثر اور تیز بنانے کے لیے تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں بھی کمپنسیشن کیسز کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی متاثرہ خاندان یا زخمی فرد کو امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر دکی نے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دکی میں متاثرین کی داد رسی اور بحالی کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مزید مستحکم ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7491/2026
کوئٹہ 10جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی، صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت، پولیس، ایف سی، متعلقہ محکموں کے افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور شیعہ کانفرنس کے عہدیداران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران عزاداران کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ساتویں، نویں اور دسویں محرم کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو جلوسوں کے روٹس پر صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں کیسکو کو بلا تعطل بجلی فراہمی، سوئی سدرن گیس کمپنی کو گیس سپلائی بہتر بنانے جبکہ محکمہ صحت کو ہسپتالوں میں ایمرجنسی، اضافی طبی عملہ، ایمبولینسز اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل باہمی رابطے کے تحت جلوسوں، مجالس اور حساس مقامات کی نگرانی کریں گے جبکہ مچھ، ڈاگاری اور دیگر علاقوں سے آنے والے عزادار قافلوں کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر آفس میں مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7492/2026
کوئٹہ ،10جون ۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کی زیر صدارت پولیس لائن کے شہید حامد شکیل ملٹی پرپز ہال میں محرم الحرام میں سیکورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے ایک اجلاس ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، کمانڈنٹ چلتن رائفلز FCنارتھ بلوچستان ،ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ محمدآصف ،ایف سی سکیٹر کمانڈرز ، ایریا ایس پیز، سنی،ڈی ایس پی سیکورٹی آصف حسین، علماءکرام و معززین ڈاکٹر عطاءلرحمن جامعہ عبدالعزیز کے قاری عبدالراحمن نورزئی جامعہ سفیر مسجد ، انوار الحق حقانی مرکزی جامعہ مسجد سورج گنج بازار ، علامہ شہزاد عطاری میاں اسماعیل مسجد وفا روڈ ، مفتی محمود احمد جامعہ مسجد قندہاری ، قاری عبدالرحمن عید گاہ طوغی روڈ ، پیر اسماعیل مجددی پیر عبدالخیر روڈ ، قاری عبدالحفیظ سنڈیمن ہائی سکول مسجد ، علامہ سید ہاشم موسوی امام بارگاہ کلاں ،علامہ شیخ جمعہ اسدی جامعہ امام صادق ، عاشق حسین صدر شیعہ کانفرنس ، امیر مختیار میر شیعہ کانفرنس ، کاظم علی شیعہ کانفرنس اورعبدالرحیم کاکڑصدر انجمن تاجران ودیگر عہدیداروں ،ٹکری عبدالحمید بنگلزئی ، حضرت علی اچکزئی ، حسن آغا ، اصغر علی گلزری ، رحیم آغا ، امرالدین آغا ، عمران ترین جلوس کے روٹ کے علاقہ سابقہ ناظم و سماجی کارکن میر اسلم رندکے علاوہ دیگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے افسرا ن شریک تھے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام جلوس کے منتظمین کے ساتھ مل کر سیکورٹی پلان پرعملدرآمد کیا جائے رہا ہے۔محرم الحرام کے سلسلے میں مجالسِ ، جلوسوں و دیگر حساس مقامات پر ڈسٹر کٹ پولیس کے علاوہ ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار نگرانی کرینگے۔ سیکورٹی پلان کے تحت شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر چیکنگ اور سیکورٹی کا نظام مضبوط کیا جائے گا  انہوں نے کہا کہ یہ شہر و صوبہ ہمار ا ہے یہاں مختلف مکاتب فکر کے لوگ آباد ہیں۔محرم الحرام کا مہینہ ہمیں یگانگت بھائی چارے اور سب سے بڑھ کر صبر کا درس دیتا ہے ہم پر امن لوگ ہیں اور پرعزم ہیں کہ یگانگت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے عملی نمونہ پیش کرتے رینگے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ امام بارگاہوں ، مجالس کے مقامات پر فورس کے جوانوں سمیت نصب سی سی ٹی کیمروں کی مدد سے نگرانی کی جائے گی اور عاشورہ کے جلوس کے دوران شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے براہ راست مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔ اجلاس میں مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی تاجر برادری ہر ممکن تعاون کرتے ہوئے جلوس کے راستوں پر دکانوں کو سیل کرنے اور جلوس کے موقع پر ان کے ساتھ ہونگے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ نے بتایا کہ تما م ضروری محکموں صحت ، پی ڈی ایم اے ، واسا کیسکو ، سوئی سدرن گیس ، فائر برگیڈ اور کوئٹہ سیف سٹی کے نمائندے بمعہ ضروری آلات ، مشنری و ادویات کے ساتھ ڈپٹی کمشنر آفس میں موجود رہیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علماءکرام نے کہا کہ شہادت حضر ت امام حسین ?کی قربانی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ شہدا ءکربلا کی اسلام کی سربلندی کے لئے قربانی اخوت و بھائی چارے او اتحاد کا درس دیتا ہیں یہ شہر ہمارا ہے اس کے امن وامان کو قائم رکھنے کی ذمہ داری ہر طبقہ فکر کی بنتی ہے۔ ہمیں طاغوتی طاقتوں کے فتنہ پرستوں اور گروہی اختلافا ت پیدا کرنے والوں کے ہر سازش کو ناکام بنانا ہے اور انتشار پیدا کرنے والے عناصر کو مذہبی آ ڑ میں تفرقہ ڈالنے کے لئے افواہوں کا سہار الیتے ہیں ایسے عناصر کے افواہوں پر قطعاً بھروسہ نہ کریں بلکہ ایسے عناصر کے خلاف متحد ہو کر انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی سطح ان کی بیخ کنی کے لیے ذمہداراداروں کے ساتھ مل کر ایسے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔علمائ کرام نے اس عز م کا اعادہ کیا کہ امام بارگاہ ہوں اور مساجد کی سطح کے علاوہ محلوں اور علاقوں کی بھی سطح پر گروہی منافرت کے بیج بونے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں رینگے۔ علمائکرام نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے جلوسوں اور یوم عاشور کے جلوس کی سیکورٹی اور پرامن اختتام یونے تک ہر ممکن تعاون رہے گا۔علمائ کرام نے تمام مکاتب فکر افراد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں محرم الحرام کے دوران اسلام کی سربلندی اور فرقہ واریت کے خاتمے اور اسوہ حسنہ کے اصولوں پر چلنے اور اپنے خطابات خصوصا جمعہ کے خطبہ یگانگت ، بھائی چارے اور صبرپردرس دینے کی ضرورت ہے اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماءنے مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کی تجاویز متفقہ طور پر پیش کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر7493/2026
کوئٹہ10 جون۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے مظفرآباد کے قریب پاک فوج کے ایوی ایشن کے MI-17 ہیلی کاپٹر کے المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والے سپوتوں کی بہادری اور حب الوطنی کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ بحیثیت قوم ہم ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر سوگ مناتے ہیں اور ان کی عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے سوگوار خاندانوں سے مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7494/2026
کوئٹہ:10جون ۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی جان بچانے والے جرات مند نوجوان عبدالرزاق ہمارے حقیقی ہیرو ہیں ایسے نوجوان قوم اور ملک کے ہیرو ہوتے ہیں جو ماں اور بہن کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں، نہ کہ وہ جو اپنی جان بچانے کے لیے خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے عبدالرزاق ترکئی کے گھر جا کر ان کی عیادت کے دوران کیا۔ اس موقعے پر وزیر داخلہ میرضیاءاللہ لانگو نے سول ہسپتال کوئٹہ میں پیش آنے والے تیزاب گردی کے واقعے کے دوران ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی جان بچانے پر نوجوان عبدالرزاق کو شاباش دی اور ان کی خیریت دریافت کی انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق نے بہادری، غیرت اور انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے نوجوان نے اپنی ماں، بہنوں کی عزت و جان کے تحفظ کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا، جو قابلِ تحسین عمل ہے اصل بہادر اور غیرت مند نوجوان وہی ہیں جو اپنی خواتین کی عزت اور تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں، جبکہ ایسے عناصر جو اپنی جان بچانے کے لیے خواتین کو ڈھال بناتے ہیں، وہ کسی صورت ہیرو کہلانے کے مستحق نہیں-
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7495/2026
کوئٹہ، 10 جون ۔: بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 542/2026 اور اس سے منسلک آئینی درخواست نمبر 824/2016 کی سماعت کرتے ہوئے زرغون روڈ اور جوائنٹ روڈ کوئٹہ پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم احکامات جاری کر دیے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں 25 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس کے منٹس اور پاکستان ریلوے کی جانب سے تیار کردہ نقشہ ریکارڈ پر پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ریڈامکو (REDAMCO) کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کی سابقہ اجازت کے باوجود ضلعی انتظامیہ فلنگ اسٹیشن کی تعمیر کے سلسلے میں ضروری تعاون فراہم نہیں کر رہی، جس کے باعث منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔سماعت کے دوران بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو (BTEB) کی رپورٹ بھی زیر غور آئی، جس میں منصوبے سے متعلق بعض بے ضابطگیوں اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مختلف سفارشات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام اور BTEB کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے اور کسی بھی قسم کی اجازت حتمی ٹریفک سفارشات سے مشروط ہوگی۔عدالت نے جوائنٹ روڈ پر موجود دکانوں کی اصل تعداد اور قانونی حیثیت کے تعین کے لیے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے متعلقہ افسران، تحصیلدار سٹی/صدر، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، پاکستان ریلوے کے نمائندے، درخواست گزاروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے نمائندگان شامل ہوں گے۔عدالت نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ میٹروپولیٹن اور تحصیل ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے کر جوائنٹ روڈ کی توسیع سے قبل موجود دکانوں کی حقیقی تعداد اور دیگر متعلقہ حقائق کا تعین کرے اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔بلوچستان ہائی کورٹ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ اور عدالت کے آئندہ احکامات تک زرغون روڈ اور جوائنٹ روڈ کوئٹہ پر ہر قسم کی نئی تعمیرات اور تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر ممنوع رہیں گی۔عدالت نے اپنے حکم کی نقول متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ مقدمہ جوائنٹ روڈ اور زرغون روڈ پر تعمیرات، ٹریفک کے مسائل، سرکاری اراضی کے استعمال اور عوامی مفاد سے متعلق اہم قانونی و انتظامی معاملات سے تعلق رکھتا ہے، جس پر عدالت نے آئندہ سماعت تک سخت نگرانی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7496/2026
کوئٹہ: 10 جون ۔بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی روانی، ترقیاتی منصوبوں، پارکنگ، تجاوزات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق اہم اور دور رس احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ایک ماہ کے اندر عملی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی پٹیشن نمبر 824/2016 کی سماعت کے دوران چیف منسٹرز پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ، بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو، پاکستان ریلوے اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس کا جائزہ لیا۔عدالت نے سمنگلی روڈ کی توسیع کے منصوبے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کی جانب سے زمین کی قیمت 30 ہزار روپے فی مربع فٹ مقرر کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس سے قومی خزانے پر تقریباً 295 ملین روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زمین کے حصول کا واحد مجاز فورم ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ہے اور ڈی سی کے سروے اور قانونی کارروائی کے بغیر کنٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمتی یادداشت یا معاہدہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس معاملے کو وزارت دفاع اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی ادارے کی جانب سے رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ شاپنگ مالز، پلازوں اور ہسپتالوں کے باہر ڈبل پارکنگ کے خاتمے کے لیے ٹریفک مارشل سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت تجارتی مراکز اپنے خرچ پر ٹریفک مارشل تعینات کرنے کے پابند ہوں گے۔ عدالت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ہدایت کی کہ تمام کمرشل پلازوں کے تہہ خانوں اور گراونڈ فلورز کو غیر قانونی استعمال سے واگزار کرا کے صرف پارکنگ کے لیے مختص کیا جائے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے نجی سی سی ٹی وی کیمروں کو کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ سڑکوں پر طویل دورانیے کی پارکنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے فی گھنٹہ بڑھتی ہوئی پارکنگ فیس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے گنجان علاقوں خصوصاً کبیر بلڈنگ کے اطراف پارکنگ سائٹس کی نیلامی کو ٹریفک مسائل میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس پالیسی پر نظرثانی اور معطلی کی ہدایت بھی جاری کی۔عدالت کو مزید بتایا گیا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام اور روانی بہتر بنانے کے لیے بے نظیر فلائی اوور کو ہاکی چوک سے جوائنٹ روڈ کی جانب مستقل ون وے کرنے اور خطرناک یوٹرنز ختم کرنے کی تجویز پر کام جاری ہے۔ اسی طرح کوئلہ پھاٹک کی چار لین سڑک کو چھ لین تک توسیع دینے کے منصوبے کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے کے درمیان معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے جس کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔بلوچستان ہائی کورٹ نے جوائنٹ روڈ پر ریلوے اراضی پر قائم تجاوزات کے خاتمے، حفاظتی رکاوٹوں کی تنصیب اور علاقے کو نو کارٹ زون قرار دینے کی سفارش بھی کی۔ عدالت نے پاکستان ریلوے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی زمین پر جاری اور مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے ٹریفک امپیکٹ اسسمنٹ کی بنیاد پر جامع ماسٹر پلان تیار کر کے متعلقہ اداروں سے اس کی منظوری حاصل کرے۔سماعت کے دوران سرینا چوک پر ٹریفک سگنل نصب ہونے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ تک جج صاحبان، وکلائ اور عوام کی محفوظ رسائی کے لیے متبادل راستوں کی منظوری پر بھی غور کیا گیا۔ عدالت نے زرغون روڈ پر عیدالاضحیٰ کے دوران جانوروں کی آلائشوں کے باعث بند ہونے والے ڈرینیج چیمبرز کا نوٹس لیتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور صفا کوئٹہ پراجیکٹ کو فوری صفائی اور نکاسی آب کی بحالی یقینی بنانے کا حکم دیا۔عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات پر عمل درآمد، زرغون روڈ، انسکومب روڈ اور ہاکی چوک کے لیے جامع ٹریفک پلان جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی 2026 تک ملتوی کر دی اور واضح کیا کہ کوئٹہ شہر کو درپیش ٹریفک اور شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے تمام اداروں کو مربوط اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات اور جدید شہری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر7497/2026
کوئٹہ 10جون۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی سے آل بلوچستان پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ملاقات کی۔ملاقات میں شہر میں پیٹرول کی دستیابی اور اسٹاک کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایسو سی ایشن کے نمائندوں اور پمپ مالکان نے بتایا کہ موجودہ وقت میں طلب سے زیادہ پیٹرول اسٹاک موجود ہے، کسی قسم کے بحران کا کوئی خطرہ نہیں جبکہ کوئٹہ کے تمام پیٹرول پمپ مکمل طور پر فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی مسلسل کاوشوں کے باعث شہر میں ضرورت سے زائد پیٹرول اسٹاک پہنچ چکا ہے۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہدایت کی کہ کسی بھی پیٹرول پمپ پر کین، ڈبوں یا دیگر غیر مجاز اشیائ میں پیٹرول فراہم نہ کیا جائے کیونکہ اوگرا قوانین کے تحت اس پر مکمل پابندی عائد ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہے اور کسی صورت پیٹرول بحران پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر 2026/7498
کوئٹہ 10 جون: ـڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ کا پاک فوج کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار, وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر جوان قوم کا فخر ہیں، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ غزالہ گولہ نے مظفرآباد کے قریب پاک فوج کے ایوی ایشن کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے حادثے میں شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز کے دفاع اور قومی فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ بہادر سپوت پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں قومی تاریخ کا روشن باب ہیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ ڈپٹی اسپیکر نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خبر نامہ نمبر 2026/7499
گوادر10جون: جامعہ گوادر کے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرازق صابر کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جامعہ کے رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، ڈائریکٹر فنانس رحمت اللہ، ڈائریکٹر ORIC ڈاکٹر ارشاد بُلیدی، ڈائریکٹر آئی ٹی شیہک بلوچ، چیئرپرسن کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ حفیظ اللہ، چیئرپرسن فاروق حیدر، ڈپٹی رجسٹرار عبدالماجد، سمیت دیگر تعلیمی سربراہان اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران جامعہ سے متعلق مختلف تعلیمی، انتظامی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرازق صابر نے جامعہ گوادر کی ترقی اور کامیابیوں میں کردار ادا کرنے پر یونیورسٹی کمیونٹی، تدریسی و انتظامی عملے، طلبہ اور بالخصوص سول سوسائٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ گوادر کی مسلسل پیش رفت تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ کاوشوں، تعاون اور اعتماد کا نتیجہ ہے۔ اجلاس میں حال ہی میں منعقد ہونے والے امتحانات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ امتحانات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں اور نتائج کی تیاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس موقع پر امید ظاہر کی گئی کہ امتحانی نتائج جون کے آخری ہفتے میں جاری کر دیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو بروقت اپنی تعلیمی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں آئندہ سیشن کی تعلیمی سرگرمیوں اور انتظامی منصوبہ بندی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں کلاسز کے مؤثر انعقاد، تعلیمی کیلنڈر پر عملدرآمد، تدریسی و غیر تدریسی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے اور طلبہ کے لیے سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔ مزید برآں، اجلاس میں مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق کورسز اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تربیتی پروگراموں کے آغاز اور فروغ پر بھی غور کیا گیا۔ وائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ شعبہ جات کو ہدایت کی کہ طلبہ کے لیے جدید مہارتوں پر مبنی پروگرام متعارف کروانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ انہیں مستقبل کے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر وائس چانسلر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامعہ گوادر اعلیٰ تعلیمی معیار، مؤثر انتظامی نظام اور جدید مہارتوں کے فروغ کے ذریعے طلبہ کو معیاری تعلیم اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے تمام تعلیمی اور انتظامی شعبہ جات کو ادارے کی ترقی، بہتری اور قومی و بین الاقوامی معیار کے حصول کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کرنے کی تلقین کی۔
خبر نامہ نمبر2026/7500
تربت 10 جون: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت بی ایس ڈی آئی (BSDI) منصوبوں سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی اسکیموں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ایکسیئن بی اینڈ آر، ایکسیئن لوکل گورنمنٹ، متعلقہ ٹھیکیداروں، ایف سی حکام، خزانہ آفیسر صدام حسین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور کام کی رفتار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ون کے تحت 41 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جا چکی ہیں جبکہ باقی ماندہ منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور انہیں 30 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کے تحت 11 اسکیمیں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ 7 منصوبوں پر 80 فیصد سے زائد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مزید 15 ترقیاتی اسکیموں پر پیش رفت جاری ہے جنہیں بھی مقررہ مدت یعنی 30 جون تک مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائیں۔یاسر اقبال دشتی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری کے منصوبوں کی تجاویز محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو ارسال کی جا چکی ہیں اور منظوری کے فوراً بعد ان پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے معیار، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو ہر مرحلے پر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور پائیدار سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے سختی سے ہدایت کی کہ ایسے ٹھیکیدار جو منصوبوں پر کام نہیں کر رہے یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، انہیں فوری طور پر بلیک لسٹ کرنے کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ترقیاتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض منصوبوں کی لاگت موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق ناکافی ثابت ہو رہی ہے، لہٰذا متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت ان کی لاگت میں مناسب ردوبدل کیا جائے گا تاکہ مالی مسائل کی وجہ سے ترقیاتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت، معیاری اور شفاف تکمیل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

خبرنامہ نمبر 2026/7501
گوادر10جون: چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے کمرشل کمپلیکس میں کاروبار کے خواہشمند مرد و خواتین کاروباری افراد کے لیے منعقدہ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کمرشل کمپلیکس میں دستیاب کاروباری مواقع، دکانوں کے کرایوں اور ملٹی پرپز اسپیس سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔آگاہی سیشن میں مقامی تاجروں، کاروباری شخصیات اور خواتین کاروباری افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے مختلف کاروباری منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کاروباری آئیڈیاز اور تجاویز چیرمین گوادر پورٹ کے ساتھ شیئر کیں۔چیرمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کا مقصد مقامی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ گوادر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مرد تاجروں کے ساتھ ساتھ خواتین کاروباری افراد کو بھی خصوصی مواقع فراہم کیئے جائیں گے تاکہ وہ معاشی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی سرمایہ کاری اور کاروباری شمولیت کسی بھی معاشرے کی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ گوادر پورٹ اتھارٹی خواتین تاجروں اور کاروباری شخصیات کی حوصلہ افزائی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور انہیں کاروباری مواقع تک رسائی دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ مقامی سطح پر روزگار اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔آگاہی سیشن میں شامل شرکاء نے گوادر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے کاروباری مواقع کی فراہمی اور آگاہی سیشن کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات سے گوادر میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد ملے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7502
گوادر10جون:ـضلع گوادر میں تعلیمی شعبے کی بہتری، ادارہ جاتی استحکام اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے حوالے سے نمایاں پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں ضلع گوادر صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے ایک مثالی ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔گوادر بلوچستان کا پہلا ضلع ہے جہاں یکم فروری سے تمام سرکاری اسکولوں کو باقاعدہ فعال رکھا گیا، جس سے تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنے، طلبہ کی حاضری میں اضافے اور تعلیمی ماحول کو مستحکم بنانے میں اہم کامیابی حاصل ہوئی۔ اس نمایاں پیشرفت کا ذکر وزیراعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی نے متعدد مواقع پر کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو سراہا۔اس کامیابی کے پیچھے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی مؤثر حکمتِ عملی، مسلسل نگرانی اور مربوط انتظامی اقدامات کا کلیدی کردار رہا، جن کی قیادت میں تعلیمی شعبے میں اصلاحات کو عملی شکل دی گئی۔دریں اثناء، ضلع گوادر میں اساتذہ کی بھرتیوں کے عمل میں بھی اہم سنگِ میل عبور کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے گریڈ 1 سے 15 تک اساتذہ کی بھرتیوں کے تمام چار مراحل کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ یہ عمل مکمل شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا گیا، جس سے نہ صرف اہل امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم ہوئے بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔مزید برآں، گوادر بلوچستان کا پہلا ضلع بن گیا ہے جہاں سیکنڈری اسکول ٹیچر (SST) کی بھرتیوں کا عمل بھی باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی عملے کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے مزید مؤثر تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات، اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور تعلیمی اداروں کی فعالیت حکومت بلوچستان کے وژن کے مطابق انسانی ترقی اور پائیدار سماجی ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب اہم پیشرفت ہے۔ گوادر میں ہونے والی یہ کامیابیاں نہ صرف تعلیمی معیار کی بہتری کا باعث بنیں گی بلکہ مستقبل میں ضلع کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کریں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/7503
زیارت 10 جون:ـڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ کاشانی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لطیف اللہ غرشین، ڈی او فیمیل میمونہ فہیم، ڈی ڈی او فیمیل فرزانہ ارباب، ڈی ڈی او فیمیل سنجاوی فرزانہ کلثوم، بی ایف فیض خلجی، ڈسٹرکٹ آئی ٹی آفیسر، جی ٹی اے کے صدر محمد نور دمڑ، آر ٹی ایس ایم بدرالدین سمیت مختلف کلسٹر ہیڈز نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور، اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے تمام کلسٹر ہیڈز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام فیڈنگ اسکولوں کو بروقت اور مکمل تعلیمی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تدریسی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جو اساتذہ بغیر پیشگی اطلاع کے دس دن سے زائد عرصہ اسکول سے غیر حاضر رہیں گے، ان کی تنخواہوں سے قواعد و ضوابط کے مطابق کٹوتی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، اگر کوئی استاد اپنی جگہ غیر مجاز عوضی (Substitute) استاد تعینات کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف بیڈا ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں، افسران اور اساتذہ کو اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی۔ اجلاس کے شرکاء نے تعلیمی نظام میں بہتری، اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/7504
کوئٹہ10 جون:ـمحکمہ صحت بلوچستان نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی کے معاملات پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 23 ڈاکٹروں کو معطل جبکہ 25 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا کہ معزز عدلیہ کے صادر کردہ احکامات کے مطابق انسانی جانوں اور صحت سے متعلق اداروں میں ہڑتال، کام کی بندش اور عوامی خدمات میں تعطل پیدا کرنا غیر قانونی اقدام ہے، جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی پروگرام سے وابستہ 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ تربیتی رجسٹریشن بھی معطل کر دی گئی ہے جبکہ ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حقائق اور ذمہ داریوں کا مکمل تعین کیا جا سکے معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری اسپتال، طبی مراکز اور صحت کے ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور عوام کو طبی خدمات کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قانون اور سروس رولز کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی شاہد رند نے مزید کہا کہ سینئر ڈاکٹروں کی تجاویز اور مشاورت کی روشنی میں حکومت بلوچستان نے صوبے کے سرکاری صحت کے اداروں میں سیکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کمیٹی میں صوبائی حکومت کے متعلقہ افسران، سینئر ڈاکٹرز، محکمہ صحت کے نمائندگان اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے، جو صحت کے اداروں میں موجود سیکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کریں گے انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ براہِ راست انسانی جانوں سے وابستہ ہے، اس لیے عوامی مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام، خدمات میں تعطل یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں ادارہ جاتی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے شاہد رند نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر برادری کے جائز مسائل اور پیشہ ورانہ تحفظات سے مکمل آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، تاہم قانون، عدالتی احکامات اور سروس رولز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ تمام معاملات میں شفاف، غیر جانبدارانہ اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کے ذریعے حقائق اور ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، احتساب، گورننس میں بہتری اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی تاکہ صوبے کے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/7505
موسی خیل10جون:_ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال موسیٰ خیل میں ماہانہ جائزہ اجلاس (MRM) منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر ایسوٹ، WHO کے ڈویژنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر محمد حنیف IHHN کے کوآرڈینیٹر مجیب الرحمٰنPPHI کے نمائندہ عمران M&E آفیسر عبدالرؤف ، DSV گل داد، میل آفیسر احسان لاشاری سمیت ضلع کے تمام ویکسینیٹرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر میں جاری EPI پروگرام کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ویکسینیٹرز کی ماہانہ کارکردگی، NIER انرولمنٹ، یونین کونسل وار حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج، زیرو ڈوز اور مس شدہ بچوں کی نشاندہی، کولڈ چین مینجمنٹ، ویکسین اسٹاک، ILR کی فعالیت، ریکارڈ کی درستگی اور فیلڈ سرگرمیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے تمام ویکسینیٹرز اور متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں، مس شدہ اور دور دراز آبادیوں تک رسائی کو یقینی بنائیں، زیرو ڈوز بچوں کے اندراج اور ویکسینیشن پر خصوصی توجہ دیں اور فیلڈ سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنائیں۔ انہوں نے کولڈ چین کے مؤثر انتظام، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور معیاری رپورٹنگ کی اہمیت پر بھی زور دیا اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے ضلع موسیٰ خیل میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں مزید اضافہ، زیرو ڈوز اور مس شدہ بچوں تک بروقت رسائی، کولڈ چین نظام کی بہتری اور EPI پروگرام کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ضلعی ناظمِ صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے تمام متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیتے ہوئے عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *