28th-September-2026

خبر نامہ نمبر8312/2026
نصیرآباد28ستمبر۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ایس ایم بی آر قمبر دشتی کے احکامات کی روشنی میں نصیرآباد ڈویژن میں سرکاری ملازمین کی ترقی اور محکمانہ امور میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے 2017 سے پرموشن کے منتظر مزید 17 پٹواریوں کو قانون گوز B.9سے B11 کے عہدے پر تعیناتی کے آرڈرز تقسیم کر دیے۔اس موقع پر کمشنر افس کے سپرنٹنڈنٹس بابو عبدالصمد کھوسہ اور بابو شیراللہ کھوسہ بھی موجود تھے اس موقع پر کمشنر نصیرآباد نے ترقی پانے والے ملازمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پروموشن سرکاری ملازمین کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کرتی ہے، اب ترقی پانے والے افسران و اہلکار اپنی نئی ذمہ داریوں کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ ادا کریں اور محکمہ مال کے امور میں شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی واضح پالیسی ہے کہ اہل اور حقدار ملازمین کو ان کا جائز حق بروقت فراہم کیا جائے، تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی مزید بہتر ہو اور عوام کو ریلیف کی فراہمی میں آسانی پیدا ہو۔ 17 پٹواریوں کی قانون گو کے عہدے پر تعیناتی کو محکمہ مال کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ محکمہ مال کے انتظامی امور کو مزید موثر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8313/2026
بارکھان/ رکھنی۔ 28ستمبر ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر رکنی فہد حسین عمرانی کی زیر نگرانی رکنی شہر میں تجاوزات کے خلاف مو¿ثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران 3.5 ایکڑ قیمتی سرکاری کمرشل اراضی کو غیر قانونی قبضے سے واگزار کرا لیا گیا۔واگزار کرائی گئی اراضی رکنی ماڈل بازار کے لیے مختص ہے، جہاں تعمیراتی و ترقیاتی کام جاری ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائی کی گئی تاکہ ماڈل بازار کے منصوبے پر ترقیاتی کام مقررہ رفتار کے مطابق جاری رکھے جا سکیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر رکنی فہد حسین عمرانی نے کہا کہ سرکاری اراضی کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، سرکاری زمین پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے اور تجاوزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ واگزار کرائی گئی اراضی کی نگرانی یقینی بنائی جائے اور دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہونے دی جائیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رکنی ماڈل بازار کی تکمیل سے شہریوں اور تاجروں کو بہتر، منظم اور سہل تجارتی سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ تجاوزات کے خاتمے سے شہر کی خوبصورتی، ٹریفک کے نظام اور مجموعی نظم و نسق میں بھی بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8314/2026
گوادر28 ستمبر۔محکمہ فشریز نے غیر قانونی اور ممنوعہ جال کے استعمال کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے گوادر کے سمندر پدی زر بیچ پر کشتیوں اور کائیکوں کی چیکنگ کا سلسلہ جاری ھے ڈائریکٹر فشریز میرین احمد ندیم کی ہدایت اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر شاہ فہد کی نگرانی میں فشریز کی مانیٹرنگ ٹیم نے مختلف کشتیوں اور کائیکوں میں موجود جالوں کے چمگ سائز کا معائنہ کیا اور ماہی گیروں کو ممنوعہ جال کے استعمال سے سختی سے گریز کرنے کی ہدایت کی محکمہ فشریز کے مطابق جال چمگ سائز 26، 27، 28 اور 114 کے استعمال کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جاری ھے ان کا کہنا تھا کہ ممنوعہ جال کے ذریعے چھوٹی مچھلیوں کے شکار سے مچھلیوں کی افزائش اور سمندری حیات کے قدرتی توازن کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث ایسے جالوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والے ماہی گیروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور اس کی ذمہ داری متعلقہ شخص پر عائد ہوگی۔ محکمہ فشریز کی جانب سے پدی زر بیچ سمیت ساحلی علاقوں میں مانیٹرنگ اور چیکنگ کا عمل جاری رہے گا محکمہ فشریز نے ماہی گیروں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف قانونی اور منظور شدہ جال استعمال کریں، چھوٹی مچھلیوں کے شکار سے گریز کریں اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے محکمہ فشریز سے تعاون کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8315/2026
کوئٹہ۔ 28 ستمبر۔دفتر الیکٹرک انسپکٹر، محکمہ توانائی بلوچستان، حب کے زیرِ اہتمام کے الیکٹرک کے صارفین کو درپیش بجلی سے متعلق مسائل اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے 2 اکتوبر 2026ءکو کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔محکمہ توانائی کے ترجمان کے مطابق کھلی کچہری کا مقصد ضلع حب کے کے الیکٹرک صارفین کو بجلی کی فراہمی، زائد بلنگ، غلط ریڈنگ، بجلی کے بلوں میں بے ضابطگیوں، تکنیکی خرابیوں اور دیگر متعلقہ مسائل کے حل کے لیے براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں صارفین اپنی شکایات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کر سکیں گے۔ترجمان نے ضلع حب کے تمام متاثرہ صارفین اور عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ کھلی کچہری میں بھرپور شرکت کریں اور اپنی شکایات کے ساتھ متعلقہ دستاویزی ثبوت، بالخصوص بجلی کے بل، سابقہ درخواستوں یا شکایات کی نقول اور دیگر ضروری دستاویزات ہمراہ لائیں، تاکہ شکایات کا موقع پر جائزہ لے کر ان کے ازالے کے لیے ضروری احکامات جاری کیے جا سکیں۔کھلی کچہری دفتر الیکٹرک انسپکٹر، محکمہ توانائی بلوچستان، حب میں منعقد ہوگی، جہاں الیکٹرک انسپکٹر صارفین کی شکایات براہِ راست سنیں گے جبکہ کے الیکٹرک کے متعلقہ حکام کو بھی شکایات کے فوری ازالے اور ضروری کارروائی کے لیے موقع پر ہدایات جاری کی جائیں گی۔محکمہ توانائی بلوچستان نے کہا ہے کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوام کو ان کے بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے موثر، شفاف اور براہِ راست شکایتی نظام فراہم کرنا اور صارفین کی مشکلات کا بروقت ازالہ یقینی بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8316/2026
کوئٹہ، 28 ستمبر: رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم خان بازئی کی قیادت میں بازئی قبائل کے ایک وفد نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری سے ملاقات کی،جس میں اغبرگ اور نوحصار میں قبائل کو درپیش مسائل، امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی چیک پوسٹوں سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران قبائلی معتبرین نے سکیورٹی چیک پوسٹوں کے حوالے سے اپنے تحفظات اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات سے کمشنر کو آگاہ کیا۔ قبائلی وفد نے مختلف چیک پوسٹوں کی افادیت، موجودہ مقامات، فعالیت اور ممکنہ منتقلی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ بعض سکیورٹی چیک پوسٹیں علاقے کے امن و تحفظ کے لیے اہم ہیں، تاہم بعض مقامات پر عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیک پوسٹوں کی منتقلی اور فعالیت کے حوالے سے مقامی آبادی کے تحفظات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے قبائلی وفد کو مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کو چیک پوسٹوں سے متعلق قبائل کے تحفظات دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔کمشنر نے ہدایت کی کہ متعلقہ علاقوں کا موقع پر دورہ کرکے چیک پوسٹوں کی موجودہ صورتحال، ضرورت اور عوام کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا جائے اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں کی منتقلی اور فعالیت سے متعلق زمینی حقائق کا جائزہ لے کر جلد رپورٹ پیش کی جائے۔ذیشان لاشاری نے کہا کہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ عوام اور قبائلی عمائدین کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور باہمی مشاورت سے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ملاقات میں ملک عبدالرحمان بازئی سمیت دیگر قبائلی معتبرین اور معززین بھی شریک تھے۔ قبائلی وفد نے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 8317/2026
سیوی 28 ستمبر ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی (MCKRU) کا دورہ کیا، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ سے تفصیلی ملاقات کی گئی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی میر بہادر خان بنگلزئی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت یونیورسٹی میں قائم کی گئی ڈیجیٹل آئی ٹی لیب کا تفصیلی معائنہ کیا۔لیب میں 55 جدید لیپ ٹاپس، 2 ایل ای ڈی اسکرینز، سولر سسٹم اور ایئرکنڈیشنز نصب کیے گئے ہیں، جو طلبہ کو جدید تعلیمی و تکنیکی سہولیات فراہم کریں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ BSDI کے تحت میر چاکر خان رند یونیورسٹی میں ڈیجیٹل آئی ٹی لیب کا قیام علاقے کے طلبہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے وہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور سیوی میں تعلیمی و تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل لیب کے قیام سے یونیورسٹی کے طلبہ کو تحقیق اور جدید تعلیمی سرگرمیوں میں بڑی مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8318/2026
سیوی / لہڑی 28 ستمبر.ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لہڑی لیاقت علی لغاری نے تحصیل لہڑی کے نصیر آباد بارڈر سے متصل دور دراز علاقوں میں قائم مختلف سرکاری اسکولوں کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول سونا خان گبول اور گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول ہندو محلہ بختیار آباد ڈومکی کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اساتذہ اور طلبائ کی حاضری چیک کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیوں اور تدریسی امور کا بھی جائزہ لیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لیاقت علی لغاری نے اساتذہ کو موثر طریقہ تدریس، طلبائ کے ساتھ بہتر رویے اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے ضروری رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے مستحق طلباء میں یونیفارم بھی تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے طلبائ کو سالانہ امتحانات کی تیاری کے لیے بھرپور محنت کرنے اور امتحانات میں نقل جیسے ناسور سے مکمل طور پر اجتناب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کی کامیابی کا انحصار محنت، دیانت داری اور تعلیمی نظم و ضبط پر ہے، جبکہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلباء کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی اخلاقی تربیت بھی فراہم کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8319/2026
ہرنائی28ستمبر۔ خوست/ ہرنائی : عوام الناس کو ریلیف کی فراہمی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور شہر میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے اپنی ٹیم کے ساتھ مقامی بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مارکیٹ کا جائزہ لیتے ہوئے تجاوزات، ریٹ لسٹوں اور مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی خود پڑتال کی۔اسسٹنٹ کمشنر نے بازار میں واقع سبزی و پھل کی دکانوں، گوشت کی دکانوں اور جنرل اسٹورز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے دکانداروں کی جانب سے آویزاں کی گئی سرکاری ریٹ لسٹوں کی چیکنگ کی اور ہدایت کی کہ تمام دکاندار انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی دکاندار کو من مانے دام وصول کرنے، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ?عوامی سہولت، تجاوزات کے خاتمے اور صفائی پر زور بازار میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قائم ناجائز تجاوزات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو اپنی حد میں رہنے کی ہدایت کی تاکہ پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل نہ پڑے سبزی، گوشت اور عام استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں کا معائنہ تمام دکانوں پر اپ ڈیٹ شدہ سرکاری ریٹ لسٹیں آویزاں کرنے کا حکم۔سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو عوام کی آسان آمدورفت کے لیے فوری صاف کرنے کی تنبیہ اشیائے خوردونوش کے معیار اور دکانوں میں صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنے کی ہدایت اسسٹنٹ کمشنر خوست نے تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد تاجروں کو پریشان کرنا نہیں بلکہ عوام کو معیار اور واجب قیمت پر اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ گرانفروشوں اور تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس طرح کے سرپرائز دورے آئندہ بھی باقاعدگی سے جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر8320/2026
29ستمبر۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کہا ہیکہ ہنگامی حالات میں اورخاص طورپرموجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایمرجنسی ریسکیو سینٹر 1122کی خدمات قابل تحسین ہیں لسبیلہ ڈویژن کی انتظامیہ ریسکیوادارے کی ہرممکن حوصلہ افزاءکریگی یہ بات انہوں نے پیر کے روزکمشنر لسبیلہ ڈویژن کے حب کیمپ آفس میں ایمرجنسی ریسکیو سینٹرملازمین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی کمشنر لسبیلہ نےکوسٹل ہائیوے اورآرسی ڈی شاہراہ ہر آتشزدگی کے واقعات میں ریسکیو 1122 ملازمین کے فائرفائنٹنگ آلات کی عدم سہولیات اورریسکیوادارےکے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی کراءکمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطائنے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن کے طول و عرض میں انسانی جانیں بچانے والے سب سےبڑے ہنگامی ادارےMERCریسکیو 1122* *کے مسائل ترجیجی بنیادوں پر حل کئےجائیں گےٹیکنیکل ہیومین ریسورس کو جدید سہولیات فراہم کی جائینگی کمشنرلسبیلہ ڈویژن کو مرک ایمرجنسی ریسکیو سینٹرکے مانیٹرنگ افسیر نے بریفنگ میں بتایا کہ ادارے کے 128 ریسکیو ملازمین گزشتہ تین مہینوں سے تنخوایوں کےب منتظر ہیں کوسٹل ہائیوے اورآرسی ڈی ہائیوے پرمرک ایمرجنسی ریسپانس سینٹرز میں تعینات ڈرائیورز، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز، فائر ریسکیورز اور کنٹرول روم آپریٹرز سال *2019 سے پروجیکٹ کی بنیاد پر*اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔نومبر 2025 میں پراجیکٹ کی معیادمکمل ہوتے ہی ہیلتھ ڈییارٹمنٹ نےانڈریکنگ لیاگزشتہ 8 سالوں کے دوران ریسکیوملازمین نے ہزاروں روڈ ایکسیڈنٹس، دل کے دوروں زچگی کے کیسز، آتشزدگی اور قدرتی آفات میں اپنی جان پر کھیل کر ہزاروں قیمتی جانیں بچائی ہیں کمشنر لسبیلہ کومانیٹرنگ افسر نے بتایا کہ جب ہم بھرتی ہوئے تھےتو ہم جوان تھے،آج ہماری زیادہ تر عمر40 سال سے تجاوز کر چکی ہےاور اب ہمیں کسی اور سرکاری محکمے میں اپلائی کرنے کا موقع بھی نہیں مل رہاہم نےاپنی جوانی اپنی صحت اور اپنا وقت اس ادارے صوبے کے لوگوں کی خدمت کو دیا اب حکومت ہمارا مستقبل محفوظ بنائے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے سیکیورٹی صورتحال کےتناظر میں کوسٹل ہائیوے اورکوئٹہ کراچی شاہراہ پرہنگامی ریسکیو سروسز فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹرجنرل کوکوآرڈینیشن میٹنگ کیلئے فوری طور پر لسبیلہ طلب کرلیاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8321/2026
کوئٹہ 28ستمبر۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر عوامی شکایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی محمد امیر حمزہ اور مجسٹریٹ سٹی اعجاز حسین کھوسہ نے سیٹلائٹ ٹاون، منی مارکیٹ اور ڈبل روڈ کے علاقوں میں پرائس کنٹرول کے حوالے سے کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر اشیاءکی فروخت اور گرانفروشی پر 9 تندور مالکان اور 2 قصابوں کو گرفتار کر لیا گیا۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائ کی فراہمی، قیمتوں میں استحکام اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 8322/026
کوئٹہ، 28 ستمبر 2026: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے بلیدہ میں ایک گھر پر راکٹ حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت انسانی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایکس (X) پیغام میں میر ظہور بلیدی نے کہا کہ انسانی جانوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کا تحفظ، بالخصوص خواتین اور بچوں کی سلامتی، ہر صورت مقدم ہونی چاہیے۔
میر ظہور بلیدی نے کہا کہ گھر اور چاردیواری کی حرمت کی پامالی انسانی اقدار کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچ روایات اور معاشرتی اصولوں کے بھی خلاف ہےانہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

خبرنامہ نمبر 8323/026
کوئٹہ، 28 ستمبر 2026: وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے نورستان کے واقعے سے متعلق افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر عائد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خود گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔میر ظہور بلیدی نے اپنے ایکس (X) پیغام میں کہا کہ افغان حکام کو پاکستان کے خلاف الزامات عائد کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق شواہد پیش کرنے چاہئیں اور افغان سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ عمل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے لیے حقائق، ذمہ داری اور باہمی تعاون ضروری ہیں، بے بنیاد الزامات نہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج مسلسل دہشت گردی کباے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ نورستان کے ضلع کامدیش میں 28 جنگجو ہلاک اور 32 زخمی ہوئے، جبکہ اس نے ان افراد کو پاکستان سے آنے والا قرار دیتے ہوئے پاکستانی حمایت کا الزام عائد کیا۔ تاہم پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ میر ظہور بلیدی نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے الزام تراشی کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور باہمی تعاون کو ترجیح دینا ہو گا

خبرنامہ نمبر 8324/026
لسبیلہ 28ستمبر*2026
*کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا ہے کہ ہنگامی حالات میں اورخاص طورپرموجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایمرجنسی ریسکیو سینٹر 1122کی خدمات قابل تحسین ہیں لسبیلہ ڈویژن کی انتظامیہ ریسکیوادارے کی ہرممکن حوصلہ افزائ کریگی یہ بات انہوں نے پیر کے روزکمشنر لسبیلہ ڈویژن کے حب کیمپ آفس میں ایمرجنسی ریسکیو سینٹرملازمین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی کمشنر لسبیلہ نےکوسٹل ہائیوے اورآرسی ڈی شاہراہ ہر آتشزدگی کے واقعات میں ریسکیو 1122 ملازمین کے فائرفائنٹنگ آلات کی عدم سہولیات اورریسکیوادارےکے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی کرائ کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن کے طول و عرض میں انسانی جانیں بچانے والے سب سےبڑے ہنگامی ادارےMERCریسکیو 1122 *کےمسائل ترجیجی بنیادوں پر حل کئےجائیں گےٹیکنیکل ہیومین ریسورس کو جدید سہولیات فراہم کی جائینگی کمشنرلسبیلہ ڈویژن کو مرک ایمرجنسی ریسکیو سینٹرکے مانیٹرنگ افسیر نے بریفنگ میں بتایا کہ ادارے کے 128 ریسکیو ملازمین گزشتہ تین مہینوں سے تنخوایوں کےبمنتظر ہیں کوسٹل ہائیوے اورآرسی ڈی ہائیوے پرمرک ایمرجنسی ریسپانس سینٹرز میں تعینات ڈرائیورز، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز، فائر ریسکیورز اور کنٹرول روم آپریٹرز سال *2019 سے پروجیکٹ کی بنیاد پراپنے فرائض انجام دیتے رہےہیں۔نومبر 2025 میں پراجیکٹb کی معیادمکمل ہوتے ہی ہیلتھ ڈییارٹمنٹ نےانڈریکنگ لیاگزشتہ 8 سالوں کے دوران ریسکیوملازمین نے ہزاروں روڈ ایکسیڈنٹس، دل کے دوروں زچگی کےکیسز، آتشزدگی اور قدرتی آفات میں اپنی جان پر کھیل کر ہزاروں قیمتی جانیں بچائی ہیں کمشنر لسبیلہ کومانیٹرنگ افسر نے بتایا کہ جب ہم بھرتی ہوئے تھےتو ہم جوان تھے،آج ہماری زیادہ تر عمر40 سال سے تجاوز کر چکی ہےاور اب ہمیں کسی اور سرکاری محکمے میں اپلائی کرنے کا موقع بھی نہیں مل رہاہم نےاپنی جوانی اپنی صحت اور اپنا وقت اس ادارے صوبے کے لوگوں کی خدمت کو دیا اب حکومت ہمارا مستقبل محفوظ بنائے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نےسیکیورٹی صورتحال کےتناظر میں کوسٹل ہائیوے اورکوئٹہ کراچی شاہراہ پرہنگامی ریسکیو سروسز فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹرجنرل کوکوآرڈینیشن میٹنگ کیلئے فوری طور پر لسبیلہ طلب کرلیاہے*

خبرنامہ نمبر 8325/026
کوئٹہ، 28 ستمبر 2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ بلوچستان کا چہرہ ہے، صوبائی دارالحکومت کی خوبصورتی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ کوئٹہ آنے والے ملکی و غیر ملکی مہمانوں کو صوبے کی ترقی، ثقافت اور خوبصورتی کا مثبت تاثر ملنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کی پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ان کے معیار کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سڑکوں، گرین بیلٹس، پارکس، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولیات میسر آسکیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ صرف صوبائی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی شناخت اور صوبے کا چہرہ ہے، اس لیے شہر کی ترقی، خوبصورتی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔

خبرنامہ نمبر 8326/026
لاہور، 28 ستمبر 2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے۔ حقائق اور تصور میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے بد قسمتی سے دور حاضر میں بلوچستان کی درست تاریخ بیان نہیں کی جاتی، پسماندگی پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے، تاہم اس بنیاد پر کہیں بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔ بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا ، آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے، نوجوان نسل اور ریاست کے مابین خلیج کو کم کرنے کے لیے ہر سطح پر اپنے نوجوانوں کو سن رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو حقائق اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے حالات کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی تاریخی حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضامندی سے ہوا تھا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے تاریخی حقائق اور اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بیوروکریسی کی جانب سے صوبے میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے بعض تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے بعض بیوروکریٹس بلوچستان آنا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک افسران گراؤنڈ پر آکر حالات کا مشاہدہ نہیں کریں گے انہیں زمینی حقائق کا درست علم کیسے ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اور وہاں کے عوام کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے زمینی حقائق سے آگاہی ضروری ہے پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں مقامی حالات، عوامی ضروریات اور حقیقی مسائل کو سامنے رکھنا ہوگا۔

خبرنامہ نمبر 8327/026
تمپ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تمپ ڈاکٹر نوروز یعقوب کی خصوصی دلچسپی اور مؤثر اقدامات کی بدولت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تمپ کی ایمبولینس کو مرمت مکمل کرکے عوامی سہولت کے لیے دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ایمبولینس کی بحالی سے علاقے کے مریضوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور ہنگامی حالات میں مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوروز یعقوب نے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کے تحت ہسپتال کے غیر فعال طبی وسائل کی بحالی پر خصوصی توجہ دی ہے ان کی کاوشوں سے کئی ماہ سے خراب ایمبولینس کی مرمت ممکن ہوئی، جس سے علاقے کے عوام کو درپیش سفری مشکلات میں کمی آئے گی ایمبولینس کی بحالی کو نو تشکیل شدہ ضلع تمپ میں عوامی خدمت اور صحت کے شعبے میں سہولیات کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اس اقدام سے نہ صرف مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں سہولت ملے گی بلکہ ہنگامی طبی ضروریات کے دوران ایمبولینس کی دستیابی بھی ممکن ہوگی۔دریں اثناء عوامی حلقوں کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نوروز یعقوب کی جانب سے عوامی صحت کے مسائل کے حل اور ہسپتالوں میں دستیاب وسائل کو فعال بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی جارہی ہے ۔

خبرنامہ نمبر 8328/026
28 ستمبر ۔ کویٹہ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت یونیورسٹیز فنانس کمیشن (UFC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، سیکرٹری کالجز ہاشم غلزئی اور صوبے کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز و نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے جامعات کو مختص کیے گئے 8 ارب روپے کے فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار اور مجوزہ فارمولے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے کی مختلف جامعات کو درپیش مالی مسائل اور ضروریات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
جامعات کے نمائندگان نے یونیورسٹیز فنانس کمیشن کے فورم پر اپنی جامعات کو درپیش مالی مشکلات اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے یقین دہانی کرائی کہ جامعات کے مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ امور کو حکامِ بالا کے نوٹس میں لایا جائے گا اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کیے جائیں گے۔اجلاس میں جامعات کے نمائندگان نے تنخواہوں اور پنشن کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر خزانہ، یونیورسٹیز فنانس کمیشن اور حکومتِ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات کے باعث اس وقت جامعات کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر مسئلہ درپیش نہیں۔اجلاس میں بالخصوص یونیورسٹی آف بلوچستان کے پنشن واجبات کے معاملے پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ حکومتِ بلوچستان کی منظوری سے محکمہ خزانہ نے یونیورسٹی آف بلوچستان کو 50 کروڑ روپے بطور قرض فراہم کیے ہیں، تاکہ یونیورسٹی کے دیرینہ پنشن واجبات (Pension Liabilities) کے مسئلے کے حل میں مدد مل سکے۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کی جامعات کو درپیش مالی مشکلات کے حل اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں مالی استحکام نہ صرف اساتذہ اور ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے بلکہ معیاری تعلیم اور تحقیق کے تسلسل کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

خبرنامہ نمبر 8329/026
نصیرآباد:ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے ضلع نصیرآباد میں مواصلات و تعمیرات روڈز کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر مواصلات و تعمیرات روڈز بوستان خان چانڈیو نے ڈپٹی کمشنر کو مختلف ترقیاتی منصوبوں پر جاری تعمیراتی کام، پیش رفت اور معیار کے حوالے سے بریفنگ دی، جبکہ سب ڈویژنل آفیسران نادر علی پہنور اور اصغر علی چنہ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے روپا شاخ تا گوٹھ بیبرک رند، روپا شاخ تا گوٹھ اللہ ڈتہ اور عبدالمالک رند تا گوٹھ غلام محمد مگسی سمیت دیگر جاری منصوبوں کا موقع پر معائنہ کیا اور تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور مقررہ معیار کے مطابق کام کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے، کام کی رفتار تیز کی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

خبرنامہ نمبر 8330/026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ کی سربراہی میں کھاد ڈیلرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع نصیرآباد میں کھاد کی دستیابی، نقل و حمل، سرکاری سطح پر بنائے گئے پورٹل کے ذریعے کھاد کی ترسیل اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد سمیت دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کھاد ڈیلرز نے شرکت کی اور انہیں کھاد کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے حوالے سے جاری ہدایات سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں کھاد کی غیر قانونی نقل و حمل پر مکمل پابندی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کھاد کی نقل و حمل اور فراہمی کے حوالے سے واضح احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن پر تمام ڈیلرز کو ہر صورت عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے ڈیلرز کو ہدایت کی کہ سرکاری پورٹل پر درج طریقہ کار کے مطابق کھاد کی نقل و حمل اور ریکارڈ کو مکمل رکھا جائے تاکہ کسانوں کو مقررہ نرخوں پر کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کھاد کی نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر8331/026
کوئٹہ۔ سٹی وائیڈ انکلیوسیو سینیٹیشن (CWIS) کی صورتحال کے تجزیے سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کنسلٹیٹو اینڈ ڈسیمینیشن ورکشاپ کا انعقاد مقامی ہوٹل کوئٹہ میں کیا گیا، جس کا اہتمام بلوچستان میں عوامی خدمت اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے کام کرنے والی قومی غیر سرکاری تنظیم HOPE کے زیر اہتمام کیا گیا۔ ورکشاپ میں سرکاری محکموں، انسانی ہمدردی کے شراکت داروں، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ریلیف کمشنر/ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غلزئی کی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان اصغر علی جمالی نے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے ورکشاپ میں شرکت کی اور بلوچستان میں ہنگامی حالات کے دوران صاف پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کی سہولیات کی فراہمی سمیت پی ڈی ایم اے کے کردار اور اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے اصغر علی جمالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان WASH سیکٹرل گروپ کے لیڈ ادارے کی حیثیت سے قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال کے دوران متاثرہ آبادیوں کو صاف پانی، نکاسی آب، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی ذمہ داریاں صرف ہنگامی صورتحال تک محدود نہیں بلکہ دیرپا اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کی خصوصی ہدایت پر پی ڈی ایم اے بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے لوکل گورنمنٹ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ساتھ تعاون کیا، جس کے تحت پی ڈی ایم اے کی افرادی قوت اور مشینری کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر سے کچرے کی صفائی، منتقلی اور مقررہ مقامات پر مناسب تلفی کے عمل میں معاونت فراہم کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ بھی WASH سیکٹر کے طویل المدتی منصوبوں اور پالیسیوں کی تیاری میں تعاون کر رہا ہے تاکہ صوبے میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔ورکشاپ کے اختتام پر HOPE کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے عوامی خدمت، خصوصاً مشکل اور ہنگامی حالات میں غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ تعاون اور معاونت کو سراہتے ہوئے ادارے کے کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے HOPE کی جانب سے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ساتھ مستقبل میں بھی تعاون اور شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ حکومت، انسانی ہمدردی کے اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے کوئٹہ اور بلوچستان میں صاف ستھرے، صحت مند اور باوقار ماحول کے قیام اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

خبرنامہ نمبر8332/026
کوئٹہ 28 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور جمہوریت کی پاسداری، سیاسی جدوجہد اور ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔ قائد میاں محمد نواز شریف کی جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے خدمات اور قربانیاں قابلِ قدر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک، فرینڈز آف یونیورس اور پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے زیرِ اہتمام ’’دی رئیل ڈیموکریٹ میاں محمد نواز شریف انٹرنیشنل سول ایوارڈ‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سیاسی و جمہوری قائدین میں خان عبدالولی خان کے بعد میاں محمد نواز شریف ایک بڑے سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے ملک کی سیاست میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اصولی سیاست پر یقین رکھتے ہوئے پشتون، بلوچ قوم پرست قائدین سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کے ساتھ خوشگوار اور احترام پر مبنی تعلقات کے قائل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت سازی کے وقت میاں محمد نواز شریف کی واضح ہدایت تھی کہ بلوچستان میں سب کو ساتھ لیکر آگے بڑھیں۔ ان کی یہ سوچ کہ تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم رکھا جائے اور ہر ایک کو عزت دی جائے، ایک قابلِ ستائش سیاسی روایت ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ ’’دی رئیل ڈیموکریٹ انٹرنیشنل سول ایوارڈ‘‘ کو میاں محمد نواز شریف سے منسوب کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایوارڈ نہ صرف ایک شخصیت کی سیاسی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ جمہوری جدوجہد، سیاسی برداشت اور عوامی خدمت کے اصولوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں سیاسی رہنماؤں کی خدمات کا اعتراف نئی نسل کو سیاسی جدوجہد، جمہوری اقدار اور عوامی خدمت کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسی مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہیگا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ یہ ایوارڈ ان کی نظر میں بہت مقدم ہے اور جمہوری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا یہ سفر جاری رہیگا۔
تقریب رونمائی میں اراکین قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ، اختر بی بی، صوبائی وزراء میر عاصم کرد گیلو، راحیلہ حمید خان درانی، سینیٹر سعید الحسن مندوخیل، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر نسیم الرحمٰن ملاخیل، خلیل جارج، حاجی یونس بلوچ سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں، کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے ’’دی رئیل ڈیموکریٹ میاں محمد نواز شریف انٹرنیشنل سول ایوارڈ‘‘ کو جمہوری خدمات کے اعتراف اور سیاسی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک مثبت کاوش قرار دیا۔

خبرنامہ نمبر8333/026
لاہور، 28 ستمبر2026؛
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور ان کی مزاج پرسی کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔وزیر اعلیٰ نے چوہدری شجاعت حسین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

خبرنامہ نمبر8334/026
کوئٹہ28 ستمبر 2026: صوبائی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن نے بلوچستان میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر، مضبوط اور شواہد پر مبنی بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کی نشاندہی، ان کے سائنسی تجزیے اور مؤثر حل کیلئے آپریشنل ریسرچ کو صوبائی نظامِ صحت کا باقاعدہ حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں سے صحت عامہ کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد ملے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں Structured Operational Research and Training Initiative (SORT-IT) کے تحت منعقد ہونے والے پہلے تاریخی آپریشنل ریسرچ کورس 2026-27 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری صحت نے SORT-IT کے تحت صوبے میں پہلی مرتبہ آپریشنل ریسرچ کورس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور متنوع جغرافیائی حالات رکھنے والے صوبے میں صحت کے مسائل کے مؤثر حل کیلئے مقامی سطح پر تحقیق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر منصوبہ بندی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے آپریشنل ریسرچ کے فروغ کیلئے اٹھایا گیا یہ اقدام صحت کے شعبے میں پائیدار اور مثبت تبدیلی کیلئے معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ثبوت پر مبنی فیصلہ سازی (Evidence-Based Decision Making) جدید نظامِ صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپریشنل ریسرچ کے ذریعے صحت کے شعبے میں موجود عملی مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے قابلِ عمل اور مؤثر حل تلاش کیے جا سکتے ہیں، جس سے صحت کی سہولیات، خدمات کی فراہمی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔سیکرٹری صحت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آپریشنل ریسرچ کے نتائج کو بلوچستان ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت صوبائی صحت کی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ تحقیق کو عملی پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور صحت کی خدمات کی بہتری کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے تربیت، رہنمائی اور ادارہ جاتی معاونت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
محکمہ صحت بلوچستان کی SORT-IT ٹیم نے اس تربیتی پروگرام میں بین الاقوامی سطح کے ماہرین اور سہولت کاروں کو مدعو کیا ہے، جن میں ڈاکٹر رونی زکریا، ڈاکٹر راضیہ فاطمہ، ڈاکٹر پرتھو تھیکر، ڈاکٹر شیراز خان، مریم غلام ہدہ اور TDR Lead ڈاکٹر مارکس لاسرڈا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قومی سطح کے مینٹرز، منتظمین اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحت کے شعبے کے شرکاء بھی کورس میں شریک ہیں۔کورس کے پہلے روز شرکاء کو آپریشنل ریسرچ کے بنیادی تصورات، تحقیق کے طریقہ کار، مسئلے کی نشاندہی، تحقیقی سوالات کی تشکیل، شواہد کے حصول، اعداد و شمار کے تجزیے اور تحقیق کے نتائج کو صحت کے نظام کی بہتری کیلئے استعمال کرنے سمیت مختلف اہم موضوعات پر آگاہی اور عملی تربیت فراہم کی گئی۔تربیتی سیشنز کے دوران شرکاء کو اس امر کی بھی رہنمائی فراہم کی گئی کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع اور اداروں میں صحت کے شعبے کو درپیش عملی مسائل کو تحقیقی موضوعات میں تبدیل کرتے ہوئے ان کے شواہد پر مبنی حل تلاش کریں۔ ماہرین نے شرکاء کو تحقیق کے مختلف مراحل، ڈیٹا کے مؤثر استعمال اور تحقیقی نتائج کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات سے منسلک کرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ آپریشنل ریسرچ صرف تحقیقی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے صحت کے نظام میں موجود کمزوریوں اور خلا کی نشاندہی کرکے ایسے قابلِ عمل حل تجویز کیے جا سکتے ہیں جو محدود وسائل میں بھی عوام کو بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہوں۔شرکاء نے SORT-IT کورس کے انعقاد کو بلوچستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق اور پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور مہارتوں کو اپنے متعلقہ اداروں اور اضلاع میں صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔تربیتی پروگرام کے دوران بین الاقوامی و قومی ماہرین کی جانب سے شرکاء کو مسلسل رہنمائی فراہم کی جائے گی، جبکہ کورس کے ذریعے بلوچستان میں آپریشنل ریسرچ کے ایک مؤثر نیٹ ورک کے قیام اور مستقبل میں صحت کے شعبے سے متعلق تحقیق کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دینے کیلئے بھی بنیاد فراہم ہوگی۔

خبرنامہ نمبر8335/026
قلات :حکومت بلوچستان کے احکامات پرضلعی انتظامیہ قلات کی زیرنگرانی اسسٹنٹ کمشنر کے دفترمیں کھلی کچہری کا انعقادکیا گیا
تحصیلدار حاجی عبدالغفارلہڑی کی سربراہی میں منعقدہ کھلی کچہری میں تمام محکموں کے سربراہان علاقہ معززین سیاسی سماجی رہنماوں نے شرکت کی۔
کھلی کچہری میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ شہر میں صفائی نیو مغلزئی 3 میں پینے کے پانی کی فراہمی بجلی کی فراہمی سیوریج سسٹم کی تعمیر مصطفی آباد سمندر کے سڑک کو بلیک ٹاپ کرنے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کوئنگ کو یونین کونسل ایم سی سے نکال کر یونین کونسل ملکی میں شامل کرنے میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو تنخواؤں کی عدم ادائگی شہر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال اور دیگراہم مسائل اجاگر کیئے گئے۔
میونسپل کمیٹی کے چیرمین نوابزادہ شعیب جان زہری کے نمائندے نے تمام وارڈز میں جاری صفائی مہم سے متعلق تفصیلی آگاہی دی۔
تحصیلدار حاجی عبدالغفارلہڑی نے لوگوں کے مسائل توجہ سے سنے اور انہیں فوری حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوے کہاکہ ڈپٹی کمشنر انجینیئر عائشہ زہری کی سربراہی میں علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیئیے تمام تروسائل بروئے کار لآئےجائینگے
کھلی کچہری میں حاجی غلام قادر عمرانی۔ محمدحنیف۔ محمدوارث. عبدالخالق سمالانی۔ قاری غلام مصطفی نیچاری۔ مصطفی پردیسی ۔ اور دیگر نے مسائل اجاگرکئے۔

خبر نامہ نمبر 2026/8336
ضلع چمن28ستمبر:ـچمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ضلع چمن حبیب احمد بنگلزئی کو ضلع میں انتظامی امور کی بہتری، مؤثر اقدامات اور کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کے فروغ کی غرض سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے تعریفی سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔تعریفی سرٹیفکیٹ صدر چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عبدالنافع جان اچکزئی نے ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی کو پیش کیا۔ اس موقع پر چمن چیمبر کے سابق صدر حاجی حمیداللہ بھی موجود تھے۔اس موقع پر چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے ضلع چمن میں انتظامیہ اور کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، تجارتی امور سے متعلق مسائل کے حل اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کی جانے والی مثبت کاوشوں کو سراہا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8337
ہرنائی28ستمبر:ـعوام الناس کو بہترین اور بلاعطل طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ہرنائی کا سرپرائز اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا، مریضوں کی عیادت کی اور انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے شعبہ حادثات (ایمرجنسی)، او پی ڈی، مردانہ و زنانہ وارڈز، لیبارٹری اور فارمیسی کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے موقع پر موجود ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈیوٹی پر مامور عملے کی حاضری کا ریکارڈ چیک کیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام عملے کی پابندی وقت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ دور دراز سے آنے والے مریضوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اس موقع پر انہوں نے ہسپتال کے اسٹور اور فارمیسی میں موجود ادویات کے اسٹاک کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح ہدایت جاری کی کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مفت ادویات کی مستحق اور غریب مریضوں تک شفاف اور بلا تاخیر رسائی کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے وارڈز میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کی، ان کی مزاج پرسی کی اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور عملے کے رویے کے بارے میں دریافت کیا مریضوں اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد نے چند امور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر نے موقع پر ہی ہسپتال انتظامیہ کو فوری ازالے کے احکامات جاری کیے ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے ہسپتال میں صفائی و ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور تمام طبی آلات کو فعال حالت میں رکھنے کی سخت تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری و جدید صحتی سہولیات کی ان کی دہلیز پر فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل کو کارآمد بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/8388
ہرنائی28ستمبر:ـضلع میں تعلیمی معیار کی بہتری اور تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کی بحالی کے سلسلے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول ہرنائی کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا بنیادی مقصد سکول میں تدریسی عمل کی دیکھ بھال، اساتذہ کی حاضری اور طلباء کو میسر بنیادی سہولیات کا جائزہ لینا تھا۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول کا دورہ کر کے تعلیمی سرگرمیوں، کلاس رومز کے ماحول اور انتظامی امور کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع کے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار کو بلند کرنا اور طلباء کو سازگار ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے مختلف کلاس رومز میں جا کر تدریسی عمل کا مشاہدہ کیا اور طلباء سے ان کے نصاب اور تعلیمی پیش رفت کے حوالے سے سوالات کیے۔ انہوں نے سکول کے حاضری رجسٹر کا معائنہ کرتے ہوئے تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حاضری کی سخت پڑتال کی اور غیر حاضر عملے کے خلاف فوری قانونی و انتظامی کارروائی کی ہدایت جاری کی علاوہ ازیں، انہوں نے سکول میں پینے کے صاف پانی، سائنس لیب، فرنیچر، بجلی کی فراہمی اور واش رومز سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پرنسپل اور اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے تعلیمی معیار کی بہتری، طلباء کی اخلاقی تربیت اور سکول میں نظم و ضبط کی پابندی پر خصوصی زور دیا۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سکول کی عمارت اور صحن کی صفائی ستھرائی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلع کے تمام سکولوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ طلباء کو معیارِ تعلیم کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/8389
کوئٹہ 28ستمبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کے دفتر میں شہریوں کو لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ کمپیوٹر سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمپیوٹرائزڈ نظام کا مقصد شہریوں کو شفاف، آسان اور تیز تر سہولیات فراہم کرنا ہےتاکہ انہیں لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے غیر ضروری مشکلات اور انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کمپیوٹر سیل میں لوکل سرٹیفکیٹ کی پراسیسنگ و اجرا، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی پراسیسنگ و اجرا اور درخواستوں کی کمپیوٹرائزڈ پراسیسنگ سمیت دیگر متعلقہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ نظام سے شفاف اور منظم طریقہ کار کو فروغ ملے گا جبکہ شہریوں کے لیے رہنمائی اور سہولت بھی بہتر ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ لوکل اور ڈومیسائل سے متعلق خدمات کے لیے کمپیوٹر سیل سے استفادہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *