خبرنامہ نمبر7115/2026
کوئٹہ 29 آگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ضروری ہے کہ انہیں درست سمت، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کی مخصوص نفسیات اور اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنا ناگزیر ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ہم نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں یوتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے زیر اہتمام یوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ میں نمائندگی کی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا کے سامنے بلوچستان کے نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں، امنگوں اور مستقبل کے حوالے سے ان کے خوابوں کو اجاگر کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں نوجوانوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو مستقبل کے معمار ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں برابر کے شراکت دار سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں کو اعتماد میں لے کر ان کی مایوسی کے خاتمے، باعزت روزگار کی فراہمی اور جدید مواقع تک رسائی یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر جعفرخان نے کہا کہ میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنائے بغیر ہم عوام بالخصوص نوجوانوں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتے۔ نوجوان طبقے کی بنیادی ضروریات، ترجیحات اور مسائل کا درست ادراک حاصل کرنا اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے نئے پروگرامز ڈیزائن کرنے کا مقصد نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی بنانے کے بجائے انہیں ہنرمند، خودمختار اور روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں کی فراہمی کے پروگرامز میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جن میں پروفیشنل ٹریننگ، آن لائن انفارمیشن ٹیکنالوجی کورسز اور میڈیکل ڈپلومہ پروگرامز شامل ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو مقامی اور عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے روزگار کے مواقع کیلئے تیار کیا جائے گا۔ گورنر جعفر خان مندوخیل نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کریں، علم و ہنر کے حصول کو اپنی ترجیح بنائیں، اپنی حب الوطنی کو عملی خدمت میں تبدیل کریں اور ملک و قوم تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر7105/2026
صحبت پور۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے ہمراہ آج گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول گوٹھ عبدالفتح کھوسہ کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سکول میں جاری تدریسی عمل تعلیمی ماحول طلبہ کی حاضری اساتذہ کرام کی حاضری اور سکول میں دستیاب بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کرتے ہوئے طلبہ سے تعلیمی سرگرمیوں اور نصاب سے متعلق سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد کا جائزہ لیا انہوں نے اساتذہ کرام سے بھی تدریسی طریقہ کار طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور سکول کو درپیش مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سکول میں نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جائے انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ اساتذہ ہی بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے سکول میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ طلبہ کو درپیش مسائل اور ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ بچوں کو سازگار اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر7106/2026
صحبت پور۔۔ ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کا گورنمنٹ گرلز ہائی سکول عبدالفتح کھوسہ صحبت پور کا دورہ تعلیمی و تدریسی امور کا جائزہ واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر صحبت پور کے ہمراہ آج گورنمنٹ گرلز ہائی سکول صحبت پور کا تفصیلی دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے سکول کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور تعلیمی ماحول تدریسی عمل اساتذہ کرام کی حاضری طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں اور سکول میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کلاس رومز کا دورہ کرتے ہوئے طالبات سے مختلف سوالات کیے اور ان کی تعلیمی استعداد نصاب سے متعلق معلومات اور تدریسی عمل کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کی انہوں نے اساتذہ کرام کی حاضری اور تدریسی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا اور اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بروقت حاضری اور مؤثر تدریسی عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں شعبہ تعلیم کی بہتری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی اور طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی اور ترقی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے انہوں نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے طالبات کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ نہ صرف طالبات کو نصابی تعلیم دیں بلکہ ان کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلع صحبت پور میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور طالبات کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے متعلقہ محکمہ تعلیم کے افسران کو ہدایت کی کہ سکولوں میں اساتذہ کی حاضری تدریسی معیار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے نگرانی کی جائے انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بچیاں مستقبل میں ایک بہتر باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
خبرنامہ نمبر7107/2026
سیوی؍بختیارآباد 29 اگست:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزء کی ہدایات کی روشنی میں گزشتہ روز بختیارآباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی نے کی۔ کھلی کچہری میں ایس ڈی پی او محمد آصف خجک، چئرمین یونین کونسل میر محمد اکبر سولنگی سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر علاقہ مکینوں نے انتظامیہ کے سامنے صاف پینے کے پانی کی فراہمی، بجلی کے نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب، صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی، اسکولوں میں اساتذہ کی عدم حاضری سمیت دیگر عوامی مسائل اور مشکلات پیش کیں۔ اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی نے شہریوں کی شکایات اور مسائل تفصیل سے سنے اور متعلقہ محکموں کے افسران سے مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بعض مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو ضروری احکامات جاری کیے۔ اسسٹنٹ کمشنر میر بہادر خان بنگلزئی نے کہا کہ کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو ضروری کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی عوامی شکایات پر فوری پیش رفت یقینی بنائی جائے اور مسائل کے حل سے متعلق رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو پیش کی جائے، تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر7108/2026
قلات :۔ ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا اچانک دورہ کیا۔اس موقع پر پرنسپل گرلز ڈگری کالج محترمہ عدیلہ زیب نے ڈپٹی کمشنر کو کالج کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا اور کالج میں دستیاب بنیادی سہولیات، درپیش مسائل، اسٹاف کی تعداد، اساتذہ کی حاضری، کلاس رومز میں طالبات کی تعداد، جاری کورسز، لائبریری میں دستیاب کتابوں سمیت نئی تعمیر شدہ عمارت کے معیار اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کیدورے کے موقع پر اساتذہ کی غیر حاضری کانوٹس لیا اورطالبات سے ملاقات کی ان کے مسائل دریافت کیے۔ڈپٹی کمشنر نے کالج میں نئی تعمیر شدہ عمارت میں ناقص مٹیریل کے استعمال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ تعلیم کے شعبے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کالج میں تعینات تمام اساتذہ اپنی حاضری یقینی بنائیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اساتذہ اپنی تمام تر توجہ طالبات کی تعلیم و تربیت پر مرکوز رکھیں۔ بہتر تعلیم ہی سے ملک و قوم کی ترقی ممکن ہوسکتی ہیڈپٹی کمشمر نیکہا کہ تعلیم ہی انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کالج کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر7109/2026
قلات: 29اگست: ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری کی جانب سے محلہ مغلزئی میں ہیضہ دست اور الٹی کی وبا کیفوری نوٹس لینے پرضلعی محکمہ صحت قلات کے ساتھ میونسپل کمیٹی بھی متحرک ہوگء ہیمحلہ مغلزئی میں منظم صفائی ستھرائی مہم کافوری آغازکردیا گیا ہیڈپٹی کمشنرقلات انجینئر عائشہ زہری کے احکامات پر متعلقہ محکموں کے سربراہان نیضروری اقدامات پرعملدرآمد جنگی بنیادوں پر شروع کی ہے چیف آفیسر شاہد علیزئی کی زیرِ نگرانی سینٹری انسپکٹرزاورعملینے میونسپل کمیٹی کے عملے کے ہمراہ محلہ مغلزئی میں نالیوں اورکچرے کی صفائی کا عمل تیز کر دیا ہے ڈپٹی کمشنرقلات انجینئر عائشہ زہری کاکہناہیکہ قلات کے عوام کوصحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تروسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں شہر میں صفائی ستھرائی کے عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف بیماریوں سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکیانہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی اور صحت عامہ کے حوالے سے اقدامات میں کوئی غفلت نہ برتی جائے اور عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔
خبرنامہ نمبر7110/2026
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی وژن اور خصوصی ہدایات جبکہ پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی کی رہنمائی میں محکمہ سماجی بہبود حکومت بلوچستان کی جانب سے معذور افراد (PwDs) کی فلاح و بہبود، شمولیت اور بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ‘‘کمک پروگرام’’ کے تحت معذور افراد میں ٹرائی سائیکلیں تقسیم کرنے کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد انہیں نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرنا، خودمختاری کو فروغ دینا اور معاشرتی و معاشی سرگرمیوں میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود بلوچستان میر سیف اللہ کھیتران نے سرکاری ذرائع ابلاغ کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت معذور افراد کو عملی معاونت اور مساوی مواقع فراہم کرنے اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘کمک پروگرام’’ کے تحت ٹرائی سائیکلوں کی تقسیم ایک اہم اقدام ہے، جس کا مقصد معذور افراد کو درپیش نقل و حرکت کے مسائل کو کم کرنا اور انہیں زیادہ خودمختار، باوقار اور فعال زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ڈی جی سماجی بہبود نے کہا کہ ٹرائی سائیکلوں کی تقسیم کے عمل کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ یہ سہولت شفاف انداز میں مستحق اور اہل معذور افراد تک پہنچائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ معذور افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور حکومت ان کی رسائی، نقل و حرکت، تعلیم، بحالی اور معاشی و سماجی مواقع میں بہتری کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔ میرسیف اللہ کھیتران نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمد نورزئی کی رہنمائی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ بلوچستان بھر میں معذور افراد کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ‘‘کمک پروگرام’’ ایک ایسے جامع معاشرے کے قیام میں معاون ثابت ہوگا جہاں معذور افراد کو عزت، مساوی مواقع اور معاشرتی و معاشی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔کمک پروگرام -97 معذور افراد کو بااختیار بنانے اور ایک جامع بلوچستان کی تعمیر کی جانب اہم قدم ہے
خبرنامہ نمبر7111/2026
پسنی، 29 اگست :صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت ضلع گوادر میں تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار، بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر الٰہی بخش کے ہمراہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مستانی ریک بازار پسنی کا دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈی ای او گوادر نے اسکول کے تدریسی عمل اور تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جبکہ نئے کلاس رومز، اسکول لائبریری، کمپیوٹر لیب، سائنس لیب، فٹسال گراؤنڈ، امتحانی ہال سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا۔انہوں نے اسکول میں طلبہ کو فراہم کیے جانے والے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی کارکردگی اور تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ادارے میں جاری ترقیاتی و تزئین و آرائش کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی سے طلبہ کو بہتر اور سازگار ماحول میسر آ رہا ہے، جو ان کی تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بہتری کا باعث بنے گا۔اس موقع پر اسکول انتظامیہ اور اساتذہ نے ڈی ای او گوادر کو ادارے کی تدریسی سرگرمیوں، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈی ای او گوادر زاہد حسین نے اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم، بہتر تدریسی ماحول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
خبرنامہ نمبر7112/2026
بارکھان29 اگست :سب تحصیل بغاؤ میں گزشتہ شب دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں رمیانی برادری کے دو افراد زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے بی ایچ یو رکھنی منتقل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق بی ایچ یو رکھنی میں ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے پر لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے لاش رکھنی بائی پاس، این-70 پر رکھ دی، جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر تحصیل رکھنی فہد حسین عمرانی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے بی ایچ یو رکھنی کا دورہ کیا۔ انہوں نے مرکز صحت میں ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری، ڈیوٹی روسٹر اور زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ، ڈی این پی پی ایچ آئی اور ڈی ایچ او بارکھان کی جانب سے غیر حاضر ڈاکٹرز اور متعلقہ طبی عملے کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے احکامات دیے گئے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل رکھنی فہد حسین عمرانی کو واقعے کی انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انکوائری کے دوران جس اہلکار کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا غفلت ثابت ہوئی، اس کے خلاف قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مراکز صحت میں ہنگامی صورتحال کے دوران فوری طبی امداد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔انتظامیہ کی جانب سے فوری کارروائی اور ذمہ داران کے تعین کی یقین دہانی پر لواحقین نے احتجاج ختم کر دیا، جس کے بعد رکھنی بائی پاس، این-70 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
خبرنامہ نمبر7113/2026
گوادر29 اگست :ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت واٹر سیکشن کا ا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر میں پانی کی فراہمی، دستیاب ذخائر اور آئندہ کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں بتایا گیا کہ سوڈ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور موجودہ ذخیرہ تقریباً دو سے تین ماہ کے لیے کافی ہے۔ پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے شادی کور ڈیم سے سپلائی فعال کر دی گئی ہے اور دونوں ذرائع سے روزانہ تقریباً 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے ڈائریکٹر جنرل نے دستیاب آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور متبادل ذرائع کو بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے 1.2 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ کو مکمل استعداد پر چلانے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی اجلاس میں گوادر کے پانی کی فراہمی کے نظام کی مجموعی کارکردگی، ڈسٹری بیوشن، بلنگ اور ریکوری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ گزشتہ پانی کے بحران کے بعد شہر میں پانی کی فراہمی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ شادی کور ڈیم سے منسلک متعدد دیہات میں بھی طویل عرصے سے جاری پانی کی قلت دور کرکے سپلائی بحال کی گئی ہے واجبات کی وصولی کے حوالے سے بھی اقدامات کی ہدایت کی گئی ھے۔
خبرنامہ نمبر7114/2026
بارکھان، 29 اگست :ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ نے بی ایچ یو رکھنی میں زخمی افراد کی آمد کے وقت عملے کی مبینہ غیر موجودگی سے متعلق شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور کل تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سرکاری مراکز صحت میں عوام کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ غفلت یا کوتاہی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں حقائق سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر7116/2026
کوہلو 29 اگست ۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوہلو ڈاکٹر خالد مری کی سربراہی میں ہیپاٹائٹس سے آگاہی، بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جو ڈسٹرکٹ پریس کلب سے شروع ہوکر ختم نبوت چوک تک پہنچ گیا جس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر خالد مری ، ڈسٹرکٹ چئیرمین میر نثار احمد مری سمیت محکمہ صحت کے اہلکاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے اس موقع پر ڈپٹی ڈی ایچ او کوہلو ڈاکٹر خالد مری نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس ایک خطرناک مگر قابلِ تدارک بیماری ہے جس سے بچاؤ کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اس موقع پر انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ کروائیں، غیر محفوظ انجیکشنز، آلودہ طبی آلات اور غیر صحت بخش طریقوں سے اجتناب کریں جبکہ ذاتی صفائی اور صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔واک کے شرکاء نے ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی پیغامات پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ واک کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاشرے میں ہیپاٹائٹس سے بچاؤ اور بروقت تشخیص کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 7117/2026
شیرانی 29اگست :ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے ضلع میں ڈپٹی کمشنر آفس اور جدید ضلعی کمپلیکس کے قیام کے لیے مختلف پہاڑی علاقوں کا تفصیلی دورہ اور جائزہ لینے کے بعد ایک موزوں اور اہم مقام کا انتخاب کر لیا ہے۔ یہ اقدام ضلع شیرانی میں انتظامی ڈھانچے کی بہتری، سرکاری اداروں کے قیام اور مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ کاکڑ نے مجوزہ مقام کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے جغرافیائی صورتحال، رسائی کے ذرائع، دستیاب اراضی، مستقبل کی ضروریات اور عوامی سہولیات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ مجوزہ منصوبے کے لیے تمام تکنیکی اور انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری کارروائی جلد مکمل کی جائے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ ضلعی کمپلیکس میں ڈپٹی کمشنر آفس سمیت مختلف سرکاری محکموں کے دفاتر کے قیام کے علاوہ افسران اور سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی منصوبوں کی گنجائش بھی رکھی جائے گی، جس سے ضلع میں سرکاری امور کو ایک مربوط اور منظم نظام کے تحت چلانے میں مدد ملے گی ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کاکڑ نے کہا کہ ضلعی ہیڈکوارٹر اور سرکاری دفاتر کے لیے مناسب انفراسٹرکچر کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جدید اور مربوط ضلعی کمپلیکس کے قیام سے نہ صرف مختلف سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بھی ایک ہی مقام پر متعدد سرکاری سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہوگی انہوں نے کہا کہ ضلع شیرانی کی ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کوشش ہے کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار اور عوام دوست منصوبے شروع کیے جائیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر شیرانی کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی کمپلیکس اور سرکاری رہائشی منصوبوں کے قیام سے ضلع کی انتظامی اور شہری ترقی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جبکہ سرکاری خدمات کی فراہمی مزید مؤثر، منظم اور عوام کے لیے آسان بن سکے گی۔
خبرنامہ نمبر 7118/2026
کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر بشیر احمد بڑیچ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں کوئٹہ شہر کو صاف، منظم، خوبصورت اور شہریوں کیلئے بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ شہر کی بہتری، خوبصورتی، صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے، تعمیراتی قوانین اور بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں اور کاروباری برادری کو ساتھ لے کر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر صدر محمد ایوب بریانی اور دیگر عہدیداران و کابینہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایڈمنسٹریٹر بشیر احمد بڑیچ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کا وژن ہے کہ کوئٹہ کو ایک صاف، خوبصورت، منظم اور شہری سہولیات سے آراستہ شہر بنایا جائے، اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسی وژن کو عملی شکل دینے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے متعلقہ اداروں، تاجر برادری اور شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور کوئٹہ کی تاجر و کاروباری برادری کے درمیان مضبوط رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہر کے مسائل کسی ایک ادارے کی کوششوں سے حل نہیں ہوسکتے، اس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بشیر احمد بڑیچ نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں بلڈنگ کوڈز اور دیگر تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ شہر کے تجارتی و رہائشی علاقوں میں عوامی سہولیات اور ٹریفک کی روانی کو متاثر کرنے والی تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زیر نگرانی جاری ترقیاتی اور دیگر شہری امور کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تمام امور قانون، قواعد و ضوابط اور میرٹ کے مطابق انجام دیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں نئی ٹیم کے ساتھ شہر کی بہتری کیلئے مربوط اور مؤثر انداز میں کام کیا جائے گا۔ تمام افسران و اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے کی ہدایت کی جائے گی۔ ہماری اولین ترجیح وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق کوئٹہ کو صاف، منظم، خوبصورت اور شہریوں کیلئے ایک بہتر شہر بنانا ہے۔انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران سے اپیل کی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے، بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد، صفائی ستھرائی، شہر کی خوبصورتی اور دیگر شہری مسائل کے حل کیلئے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔بشیر احمد بڑیچ نے کہا کہ تاجر برادری شہر کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کاروباری برادری کے جائز مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ باہمی مشاورت اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کوئٹہ کو ایک بہتر، صاف، خوبصورت اور منظم شہر بنانے کیلئے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔اس موقع پر کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب بریانی اور دیگر عہدیداران نے بھی شہر کی بہتری اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ساتھ تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خبرنامہ نمبر 7119/2026
لورالائی 29اگست: یونیورسٹی آف لورالائی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (F&PC) کا 11واں اہم اجلاس 27 اگست 2026 کو یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ ہال میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے مالی امور، بجٹ اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق مختلف اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران خزانچی ناصر ریحان نے مالی سال 2025-26 کے حقیقی اخراجات اور مالی سال 2026-27 کے نظرثانی شدہ بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کے اراکین نے یونیورسٹی کی مالی ضروریات، جاری اخراجات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔طویل مشاورت اور مختلف مالی امور کے جائزے کے بعد فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے مجوزہ بجٹ کی متفقہ طور پر منظوری دیتے ہوئے اسے حتمی منظوری کے لیے یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ اور سینیٹ کو ارسال کرنے کی سفارش کردی اجلاس میں حکومت بلوچستان کے محکمہ خزانہ، چانسلر آفس اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے نمائندگان سمیت یونیورسٹی کے سینئر افسران، فیکلٹی ممبران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ بطور چیئرمین، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عادل زمان کاکڑ، خزانچی ناصر ریحان، ڈین ڈاکٹر عبدالصمد، ڈاکٹر خالد خان، محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے نمائندے بشیر احمد، چانسلر آفس کے نمائندے حافظ نور، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر بجٹ سہیل ہمایوں، ڈائریکٹر ORIC اسلم زیب، ڈاکٹر نقیب اللہ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہ جی، شعبہ حیوانیات کی لیکچرار محترمہ سلمیٰ درانی اور اکاؤنٹس آفیسر اسد مغل سمیت دیگر اراکین شریک ہوئےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے یونیورسٹی میں مضبوط مالی منصوبہ بندی، شفافیت، مؤثر ادارہ جاتی نظم و نسق اور دستیاب وسائل کے بہترین استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ یونیورسٹی آف لورالائی کی پائیدار ترقی، تعلیمی معیار کی بہتری اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی معاملات کو مربوط اور مؤثر انداز میں چلایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر مالی نظم و ضبط اور جامع منصوبہ بندی کے ذریعے یونیورسٹی آف لورالائی کو ایک مضبوط، فعال اور جدید اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر مزید ترقی دی جائے گی، تاکہ خطے کے طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم اور بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
خبرنامہ نمبر 7120/2026
کوئٹہ29 آگست :چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبائی محکموں کی کارکردگی، سالانہ اہداف اور مستقبل کی ترجیحات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، اہداف کی تکمیل، نمایاں کامیابیوں، درپیش چیلنجز اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (P&D)، زراعت، کالجز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی، لوکل گورنمنٹ، فشریز اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سیکرٹریز نے شرکت کی اور اپنے محکموں کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اس موقع پر واضح کیا کہ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو عملی اور بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لیے تمام محکمے اپنی کارکردگی کو عوامی سہولیات اور نتائج سے جوڑیں۔ انہوں نے محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ سالانہ اہداف کے حصول میں تیزی لائی جائے، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور دستیاب سرکاری وسائل کا شفاف اور بہترین استعمال کیا جائے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ اچھی حکمرانی، شفافیت، میرٹ، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی خدمت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ تمام محکمے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے درپیش رکاوٹوں کو دور کریں تاکہ حکومتی اقدامات کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ محکموں کی کارکردگی میں مزید بہتری کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں، ان پر باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے اور جہاں رکاوٹیں موجود ہوں وہاں بروقت اقدامات کیے جائیں۔
چیف سیکرٹری بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کے انتظامی معاملات میں کارکردگی، جوابدہی اور عوامی مفاد کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی اور تمام محکموں کو نتائج پر مبنی طرزِ حکمرانی کی جانب مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 7121/2026
ہرنائی میں نوجوانوں کو مثبت، صحتمندانہ اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے 4 بین الاضلاعی (انٹر ڈسٹرکٹ) فٹبال ٹورنامنٹ کا باقاعدہ اور شاندار آغاز کر دیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کا سنسنی خیز افتتاحی میچ ہرنائی فٹبال کلب اور لورالائی فٹبال کلب کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔ اس عظیم الشان ٹورنامنٹ کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی اور اسسٹنٹ کمشنر کھوسٹ اسرار احمد شاھوانی نے بال کو کِک لگا کر کیا۔افتتاحی تقریب میں شائقینِ کھیل اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ کھلاڑیوں میں بے پناہ جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ اس وسیع پیمانے پر منعقدہ ٹورنامنٹ میں مختلف اضلاع سے تقریباً 50 سے زائد ٹیمیں باقاعدہ طور پر شرکت کر رہی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کھیلوں کے انعقاد کا بنیادی اور اولین مقصد علاقے کے نوجوانوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں سے جوڑنا، ان کے اندر نظم و ضبط اور سپورٹس مین شپ کے جذبے کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے اس موقع پر کہا کہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں اور انہیں مثبت سمت میں گامزن رکھنے کے لیے ہر سطح پر کھیلوں کے میدان آباد رکھے جائیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر اسرار احمد شوانی نے بھی تمام شرکت کرنے والی ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ٹورنامنٹ کی انتظامی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا۔ شائقینِ کھیل نے انتظامیہ کے اس قدم کو بے حد سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے مقابلے آگے بھی جاری رہیں گے۔






