28th-August-2026

خبرنامہ نمبر7057/2026
کوئٹہ، 28 اگست: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت جمعہ کو یہاں سنٹرل پولیس آفس میں بلوچستان پولیس میں اصلاحات، مختلف شعبہ جات کی ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز حسن اسد علوی نے بلوچستان پولیس کی جانب سے فعال کی گئی 16 مختلف ڈیجیٹل ایپس اور دیگر ڈیجیٹل اقدامات سے متعلق وزیر اعلیٰ بلوچستان کو تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں پولیس کے مختلف شعبہ جات کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے، پولیسنگ کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کو مؤثر اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اجلاس کے دوران مختلف ڈیجیٹل ایپس کی فعالیت اور عملی افادیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈیجیٹل انیشیٹوز کے عملی مظاہرے کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے مختلف ایپس کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے دائرہ کار سے متعلق معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان پولیس کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، ڈیجیٹل سہولیات کے مؤثر استعمال اور پولیس سروسز کو مزید جدید، مؤثر اور عوام دوست بنانے سے متعلق اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر7058/2026
کوئٹہ، 28 اگست:بلوچستان پولیس نے پولیسنگ کے نظام کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کے لیے جدید ہینڈ ہیلڈ آئیڈینٹی فکیشن ڈیوائس متعارف کرادی۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے ڈیوائس وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو پیش کی اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات بھی موجود تھے ہینڈ ہیلڈ آئیڈینٹی فکیشن ڈیوائس کے ذریعے موقع پر ہی شہریوں کی شناخت کی تصدیق اور دستیاب پولیس و کریمنل ریکارڈ تک فوری رسائی ممکن ہوگی، جس سے پولیس اہلکاروں کو شناخت اور ریکارڈ کی جانچ کے عمل میں سہولت میسر آئے گی جدید ڈیوائس بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد پولیسنگ کے روایتی طریقہ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پولیس کی استعداد کار میں اضافہ اور شہریوں کو بہتر اور بروقت خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور پولیسنگ کے نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات کے اقدامات کو سراہا۔

خبرنامہ نمبر7059/2026
کوئٹہ، 28 اگست:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان سے تبادلہ ہونے والے سینئر پولیس افسر اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز حسن اسد علوی کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے لیٹر آف اپریسی ایشن کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو بلوچستان پولیس ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس سروس آف پاکستان کے سینئر افسر حسن اسد علوی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعیناتی کے دوران انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی احسن انداز میں انجام دیں اور پولیس کے نظام میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حسن اسد علوی ایک قابل، محنتی اور پیشہ ور افسر ہیں جنہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران بلوچستان پولیس میں جدیدیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت بلوچستان ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں لیٹر آف اپریسی ایشن دے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حسن اسد علوی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

خبرنامہ نمبر7060/2026
کوئٹہ، 28 اگست :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مستونگ میں انگور کے باغات سے صوبائی وزیر داخلہ یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوتا ہے تو جائیداد کے مالکان جرم سے بری الذمہ نہیں بلکہ سہولت کار تصور ہوں گے، بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں تحصیلداروں کی بھرتی سے متعلق شکایات پر کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس کی رپورٹ میڈیا کے سامنے لائی جائے گی، حکومت بلوچستان گورننس کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جانے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ ڈیجیٹلائزیشن سے عوامی خدمت، شفافیت اور سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آتی ہے بلوچستان پولیس کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی اور اپ گریڈ کی گئی ایپلی کیشنز عام شہری کو نہ صرف کریمنل جسٹس سسٹم بلکہ روزمرہ کی شکایات اور مشکلات کے ازالے میں بھی سہولت فراہم کریں گی، جبکہ خواتین اور شہداء کے خاندانوں کے لیے متعارف کرائی گئی ڈیجیٹل سہولیات عوامی اعتماد میں اضافے کا باعث بنیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضیاء اللہ لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان سمیت بلوچستان پولیس کے افسران و جوان اور میڈیا نمائندگان موجود تھے قبل ازیں ایک بریفنگ میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو لانچ کی جانے والی 16 ایپس سے متعلق تفصیلی آگاہی دی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز کو سراہتے ہوئے آئی جی پولیس، ان کی ٹیم اور آئی ٹی ٹیم کو مبارکباد دی اور کہا کہ حکومت کی پہلے دن سے یہ سوچ رہی ہے کہ گورننس کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جایا جائے تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں اور نظام میں شفافیت اور بہتری کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی آٹھ پرانی ایپلی کیشنز کو بہتر بنایا گیا ہے جبکہ آٹھ نئی ایپلی کیشنز متعارف کرائی گئی ہیں یہ اقدام بلوچستان کے عام آدمی کے لیے یقیناً فائدہ مند ثابت ہوگا اور اسے نہ صرف کریمنل جسٹس سسٹم بلکہ روزمرہ بنیادوں پر درپیش شکایات اور مشکلات کے ازالے میں بھی مدد ملے گی وزیراعلیٰ نے پولیس کی آئی ٹی ٹیم اور اس منصوبے پر کام کرنے والے افسران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے ڈی ائی جی ہیڈ کوارٹرز احسن اسد علوی کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا تبادلہ بلوچستان سے ہوچکا ہے ان کی بلوچستان کے عوام کے لیے خدمات قابل قدر ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں مستقبل کی ذمہ داریوں میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل انیشیٹوز میں شہداء کے خاندانوں کے لیے متعارف کرائی گئی سہولت ان کے دل کے بہت قریب ہے۔ ان ایپس کے ذریعے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم رکھنے، ان کی ضروریات سے آگاہی حاصل کرنے اور ان کی فلاح و بہبود اور دیکھ بھال کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ پولیس کی ڈیجیٹلائزیشن کے تحت خدمت مرکز، ہوٹلنگ، ٹریولنگ اور آئی جی پولیس شکایات سیل سمیت مختلف شعبوں کے لیے سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں، ان اقدامات سے عام شہری کو یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ بلوچستان پولیس عوام کی خدمت اور ان کی مشکلات کے ازالے کے لیے دستیاب ہے وزیراعلیٰ نے خواتین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ایپ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ورک پلیس، سڑکوں اور سفر کے دوران ہراسمنٹ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس حوالے سے متعارف کرائی گئی ایپ کو مزید بہتر بنانے اور اس کے بارے میں عوام بالخصوص طالبات کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں بھرپور آگاہی مہم شروع کرے گی تاکہ یونیورسٹیوں، کالجز جانے والی، ملازمت کرنے والی اور سفر کرنے والی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ یہ ایپ انہیں ایک کلک کے ذریعے ایمرجنسی ڈکلئر کرنے اور اپنے والدین اور پولیس کو فوری اطلاع دینے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے ہراسمنٹ کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ معاشرے کو آگے لے جانے کے لیے خواتین اور بچیوں کو تعلیم، مواقع اور تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ جن عناصر کی جانب سے بلوچ قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کی جا رہی ہے اور بچیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، اس کا جواب یہی ہے کہ حکومت اپنی بچیوں کو اسکالرشپس دے گی، انہیں ہارورڈ اور آکسفورڈ بھیجے گی، پنک سکوٹیز اور پنک بسز فراہم کرے گی، ورک پلیس ہراسمنٹ کے خلاف موجود قوانین کو مزید مؤثر بنائے گی اور جدید ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرے گی تاکہ بچیاں آگے بڑھیں اور اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ صوبے اور ملک کی خدمت کریں۔ وزیراعلیٰ نے پولیس ڈیجیٹل انیشیٹوز پر کام کرنے والی ٹیم کے لیے 50 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن افسران اور اہلکاروں نے اس منصوبے پر کام کیا ہے انہیں 50 لاکھ روپے کا کیش انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے بلوچستان پولیس کی مزید ڈیجیٹلائزیشن کے لیے رواں سال 5 کروڑ روپے فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ اس نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے انہوں نے پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کی جانب سے بلوچستان میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے اچھے اقدامات سے استفادہ کرنے میں کوئی عار نہیں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور گلگت بلتستان حکومت نے چئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بلوچستان کے میرٹ بیسڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیسٹنگ سسٹم کے حوالے سے معاونت مانگی ہے اور وہ اس نظام کو اپنے صوبوں میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس صوبے میں بھی کوئی اچھا انیشیٹو موجود ہو، ہمیں اس سے استفادہ کرنا چاہیے اور اپنے تجربات بھی دوسرے صوبوں کے ساتھ شئر کرنے چاہئیں۔ پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس نے بلوچستان کی ڈیجیٹلائزیشن میں جس فراخ دلی سے تعاون کیا ہے وہ قابل تحسین ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی کوئی حد نہیں، جتنا زیادہ نظام ڈیجیٹلائز کیا جائے گا اتنی ہی سروس ڈیلیوری بہتر ہوگی۔ انہوں نے شہداء کے ورثاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، حکومت بلوچستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بہتر سطح پر لانے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے، پولیس کے جوان ہمارے اپنے بچے ہیں اور انu کی فلاح و بہبود حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص فائٹنگ فورس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈبلیو کی تنخواہوں میں پہلے ہی اضافہ کیا جا چکا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو اے ایریا قرار دیے جانے کے بعد پولیسنگ کے پورے نظام کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں کچھ وقت لگے گا تاہم حکومت کی اس وقت تمام تر توجہ پولیس کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے تاکہ دہشت گردی اور جرائم کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آج سے تین یا چار سال بعد بلوچستان پولیس ایک مضبوط اور بااختیار پولیس سروس کے طور پر سامنے آئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تنخواہوں کے معاملے میں بھی توازن پیدا کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔ بلوچستان پولیس آئی جی محمد طاہر خان کی قیادت میں جس بہادری، دلیری اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو بعض ایسے فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں جو فوری طور پر مقبول نہ ہوں اور جن سے سیاسی سرمایہ بھی متاثر ہو سکتا ہے لیکن ریاست کے فیصلے سیاسی مفادات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ حقیقی قیادت ہمیشہ مقبول فیصلے نہیں کرتی بلکہ درست فیصلے کرتی ہے۔ تاریخ ثابت کرے گی کہ بلوچستان میں پولیسنگ کے حوالے سے کیے گئے فیصلے درست تھے انہوں نے کہا کہ ابتدا میں پولیسنگ کے نئے نظام میں مشکلات اور تکالیف ضرور آئیں گی تاہم موجودہ نسل ان مشکلات کو برداشت کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں بلوچستان میں ایک مؤثر پولیسنگ سسٹم قائم ہو سکے۔ انہیں کامل یقین ہے کہ آنے والے وقت میں بلوچستان پولیس پاکستان کی بہترین پولیس سروسز میں سے ایک بن کر ابھرے گی اور حکومت بلوچستان اس کے لیے تمام ضروری وسائل اور سازگار ماحول فراہم کرے گی ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھانہ کلچر میں تبدیلی صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان کا دیرینہ مسئلہ ہے تاہم اب دنیا بہت آگے جا چکی ہے اور پولیسنگ کے روایتی طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے معاملے میں پولیس کو درخواست میں موجود قابل عمل مواد کا جائزہ لینا ہوتا ہے کیونکہ ایف آئی آر کے بعد پراسیکیوشن سمیت پورا نظام انصاف حرکت میں آتا ہے انہوں نے کہا کہ پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں ممکن ہو معاملات کو ابتدائی سطح پر باہمی طور پر حل کیا جائے تاکہ غیر ضروری طور پر پورے نظام کو متحرک نہ کرنا پڑے، تاہم آئی جی پولیس کی سطح پر قائم شکایات سیل کے ذریعے اب عام شہری کو اپنی شکایت اعلیٰ سطح تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب کوئی شہری آئی جی پولیس کمپلنٹ پورٹل پر شکایت درج کرتا ہے تو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے وہ شکایت فوری طور پر آئی جی پولیس کے کنٹرول سینٹر کی اسکرین پر ظاہر ہوتی ہے، متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور شکایت کے ازالے کے لیے ٹائم فریم مقرر کیا جاتا ہے درخواست پر ہونے والی پیش رفت کی بھی نگرانی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو مکمل طور پر مؤثر ہونے میں کچھ وقت لگے گا لیکن عوام کو واضح بہتری نظر آئے گی سیف سٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں شہید کیے گئے تاجروں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہ نور کے کیسز اس بات کی واضح مثال ہیں کہ سی سی ٹی وی اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے جرائم اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے میں کس قدر مدد ملتی ہے انہوں نے کہا کہ بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد 40 سے 50 سے زائد افراد کی گرفتاری میں بھی سیف سٹی کے نظام نے اہم کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیف سٹی اتھارٹی قائم کر دی ہے اور اس حوالے سے قانون سازی بھی مکمل ہو چکی ہے وزیراعلیٰ نے سیکرٹری آئی ٹی کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں آئی ٹی سیکرٹریز کا ٹینور بعض اوقات صرف دو ماہ تک ہوتا تھا، ایسے مختصر عرصے میں کوئی بڑا نظام تشکیل دینا ممکن نہیں تھا لیکن موجودہ سیکرٹری آئی ٹی کو اکتوبر میں تین سال مکمل ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ سیکرٹری آئی ٹی نے پورے نظام کو صفر سے شروع کیا اور آج اسے اس مقام تک پہنچایا ہے کہ سیف سٹی ایکٹ کے ذریعے اتھارٹی قائم کی گئی اور اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سسٹمز مسلسل بہتر ہو رہے ہیں اور ان شاء اللہ انہیں مزید بہتر بنایا جائے گا ریاستی رٹ اور بلوچستان میںu سیکیورٹی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، حکومت نے نہ کبھی اس ذمہ داری سے آنکھیں چرائی ہیں اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ بلوچستان اس وقت جنگ کی کیفیت میں ہے اور یہ پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ جنگ ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی صورتحال اور بعض کمزوریوں کے باعث صوبہ اس جنگ میں بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس انٹیلی جنس بیسڈ جنگ کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق کے ٹھوس اور واقعاتی شواہد موجود ہیں، جن میں کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی شامل ہے، جبکہ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم کی جانب سے عالمی برادری کو فراہم کیے گئے ڈوزئرز بھی موجود ہیں وزیراعلیٰ نے حالیہ معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئےh کہا کہ پاکستان کی فوج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اور حکومت پاکستان کے تعاون سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو مؤثر جواب دیا، اب مخالف عناصر اسی جنگ کو دوسرے ڈومین میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے دہشت گردی میں حالیہ اضافے کی دو بڑی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی وجہ افغانستان میں نیٹو فورسز کی جانب سے چھوڑا گیا جدید اسلحہ اور فوجی سازوسامان ہے جو بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ نیٹو فورسز نے 30 سال افغان نیشنل آرمی کو کابل کے دفاع کے لیے تربیت دی لیکن وہ 30j گھنٹے بھی کابل کا دفاع نہ کر سکی اور بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان بلیک مارکیٹ میں پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اس چیلنج کا مقابلہ کرنا اس لیے وقت طلب ہے کیونکہ ہماری خریداری کے تمام مراحل باقاعدہ نظام کے تحت ہوتے ہیں دوسری وجہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچ عوام اور نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں اور وہ اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن قوتوں کے اشارے پر یہ راستہ اختیار کیا گیا اور جن نظریات سے یہ عمل اخذ کیا گیا، ان کے نتائج خطے میں سب کے سامنے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال نہ اتنی خراب ہے جتنی بعض اوقات پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی اتنی اچھی ہے، حکومت کو صورتحال کا مکمل ادراک ہے اور اس کے پاس اس سے نمٹنے کا واضح منصوبہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال کے دوران ایک ہزار سے زائد سخت گیر دہشت گردوں کو غیر مؤثر کیا جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے تو ریاست کے ردعمل اور انسداد دہشت گردی کے میکانزم میں بھی اضافہ ہوا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد چند منٹ کے لیے کسی شاہراہ پر آکر پورے بلوچستان کی ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے صوبے کی تمام شاہراہیں ان کے کنٹرول میں ہوں حالانکہ بلوچستان میں چار ہزار کلومیٹر سے زائد شاہراہیں ہیں اور ریاست کو اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا ہوتی ہے، جبکہ دہشت گردوں کو صرف ایک مقام پر حملے کے لیے کامیابی درکار ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ گوریلا وار فئر ہے جس میں حملے کے وقت اور ہدف کا انتخاب دہشت گرد کرتے ہیں تاہم ریاست اس جنگ سے تھکنے والی نہیں، دہشت گردوں کو تھکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہزار سال کی جنگ نہیں بلکہ ایک دو سال میں ختم ہونے والی جنگ ہے، تاہم ریاست اپنے عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گی۔مستونگ میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور انگور کے باغات اور نجی جائیدادوں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایسی کارروائی نہیں چاہتی جس سے عام شہری متاثر ہوں کیونکہ دہشت گرد اکثر انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے انہوں نے مستونگ میں انگور کے باغات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیکیورٹی فورسز کے قافلوں یا وزیر داخلہ پر کسی باغ سے حملہ ہوتا ہے تو باغات کے مالکان یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی زمین پر کوئی دہشت گرد موجود ہے انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کی نجی ملکیت دہشت گردی کے لیے استعمال ہوگی تو اس کے مالک کو بھی دہشتگردوں کا سہولت کار ہی تصور کیا جائے گا وزیراعلیٰ نے کہا کہ باغات کے مالکان کو بار بار وارننگ دی جا رہی ہے اور اگر دہشت گردی کے لیے نجی جائیدادوں کا استعمال جاری رہا تو حکومت کے پاس دو آپشنز ہوں گے، ایک بڑے پیمانے پر لوگوں کو وہاں سے منتقل کرکے دوسری جگہ آباد کرنا اور دوسرا دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے باغات کو ختم کرنا ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کا خون ان کے لیے انتہائی مقدس ہے، یہ قابل قبول نہیں کہ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جوان شہید ہو اور اس کے خون کو اتنا سستا سمجھا جائے کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو جبکہ کسی کی نجی جائیداد دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہے۔ حکومت اس صورتحال کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی بھرتیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحصیلداروں کی بھرتی کے عمل میں ایک اندرونی غلطی ان کے نوٹس میں آئی ہے جسے درست کرنے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سات سے دس دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی رپورٹ موصول ہونے کے بعد میڈیا اور عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت کی پالیسی صرف اور صرف میرٹ ہے، میرٹوکریسی، میرٹوکریسی اور میرٹوکریسی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اس نوجوان نسل کو ریاست کے ساتھ دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے جسے پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستان اور ریاست سے دور کرنے کی کوشش کی گئی وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت میرٹ کو فروغ دے گی اور کسی بھی صورت میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کرے گی خواہ اس کے لیے سیاسی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ پبلک سروس کمیشن ہو یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیسٹنگ سسٹم، حکومت میرٹ پر قائم رہے گی انہوں نے حالیہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی بھرتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے سے تقریباً 20 سے 25 افراد نے درخواستیں دی تھیں، اگر وہ چاہتے تو بحیثیت سیاستدان اور اپنے حلقے کے نمائندے کی حیثیت سے انہیں ملازمت دلوا سکتے تھے، لیکن حالیہ بھرتیوں میں ڈیرہ بگٹی کا ایک بھی امیدوار شامل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھرتیاں خالصتاً میرٹ پرv ہوئی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کا کوئی نوجوان میرٹ پر آنا اور آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے میدان کھلا ہے، لیکن اگر کوئی میرٹ پر آنے کے بجائے یہ توقع رکھے کہ وزیراعلیٰ میرٹ کی خلاف ورزی کرکے اسے کسی عہدے پر لے جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ سیاستدان ہیں، ان کا حلقہ انتخاب اور ووٹرز بھی ہیں اور سیاسی توقعات بھی، تاہم اگر میرٹ پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے انہیں الیکشن ہارنا پڑے یا سیاسی سرمایہ ضائع ہو تو وہ اس کی بھی پروا نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ریاست ان کے لیے ہر سیاسی مفاد سے زیادہ اہم ہے، حتیٰ کہ وہ ریاست کو اپنی 70 سالہ والدہ سے بھی زیادہ اہم سمجھتے ہیں اس لیے باقی تمام معاملات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ ہی کلید ہے اور اچھی گورننس کی بنیاد بھی میرٹ پر ہی رکھی جاتی ہے۔

خبرنامہ نمبر7061/2026
گوادر، 27 اگست 2026ء: حکومتِ بلوچستان کے احکامات اور ہدایات پر ضلعی انتظامیہ گوادر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ضلع گوادر کی سمندری حدود میں ماہی گیری کرنے والے تمام ماہی گیروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر محکمہ فشریز گوادر کے دفتر سے ماہی گیری کا لائسنس حاصل کریں اور اپنی کشتیوں کی رجسٹریشن کی لازمی طور پر تصدیق کروائیں۔محکمہ فشریز کے حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر لائسنس حاصل نہ کرنے اور کشتیوں کی رجسٹریشن کی تصدیق مکمل نہ کروانے والے ماہی گیروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق بغیر لائسنس ماہی گیری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکام نے ضلع گوادر کے تمام ماہی گیروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قانونی کارروائی یا مشکلات سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر محکمہ فشریز کے دفتر سے رابطہ کریں اور اپنے لائسنس کے حصول سمیت کشتیوں کی رجسٹریشن کی تصدیق سے متعلق تمام ضروری امور مکمل کریں۔محکمہ فشریز کے مطابق اس اقدام کا مقصد سمندری وسائل کا مؤثر تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کو منظم بنانا اور ضلع گوادر کی سمندری حدود میں متعلقہ قوانین و ضوابط پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

خبرنامہ نمبر7062/2026
بیجنگ؍ اسلام آباد، 27 اگست : پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کی ترقی سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWG) کا نواں اجلاس بیجنگ اور اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں گوادر میں جاری، مکمل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈاکٹر محمد طاہر نور جبکہ چینی جانب سے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (NDRC) کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر پان جیانگ نے کی۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزارتوں، اداروں اور چینی حکام و ماہرین نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داؤد کلمتی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اسلام آباد میں قائم چینی سفارتخانے کے کمرشل ونگ کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس کے دوران پاکستانی اور چینی حکام کی جانب سے اپنے اپنے متعلقہ شعبوں اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں، زیرِ تعمیر منصوبوں اور مستقبل کے لیے تجویز کردہ منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں گوادر کے اہم سماجی و معاشی منصوبوں، بالخصوص پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ (PCTVI)، جی ڈی اے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اور 1.2 ملین گیلن یومیہ (MGD) سمندری پانی کے ڈیسالینیشن پلانٹ کی پیشرفت اور افادیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔چینی حکام نے گوادر میں مکمل کیے گئے سماجی و معاشی منصوبوں کی کارکردگی اور ان سے مقامی آبادی کو براہِ راست حاصل ہونے والے فوائد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چینی حکام نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اور 1.2 MGD ڈیسالینیشن پلانٹ سمیت چین کے تعاون سے مکمل کیے گئے منصوبے گوادر کے شہریوں کو عملی اور براہِ راست سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔چینی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے چین کا تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا اور مقامی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے منصوبوں پر بھی تعاون اور غور و خوض کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اجلاس میں جی ڈی اے کی جانب سے مستقبل کے لیے پیش کی جانے والی مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کی توسیع، اس کی استعداد کو ایک سو سے 300 بستروں تک بڑھانے، میڈیکل اور نرسنگ کالج کے قیام سمیت گوادر کے صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔اسی طرح گوادر کے ویسٹ بے؍پدی زر میں جدید فش لینڈنگ جیٹی، فش ہاربر اور بوٹ میکنگ انڈسٹری کے قیام کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا، جن کا مقصد ماہی گیری کے شعبے کو جدید سہولیات فراہم کرنا، مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار و کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور گوادر کی مقامی معیشت کو مزید مستحکم کرنا ہے اسی طرح گوادر سمارٹ انوارمنٹ سنٹینیشن سسٹم اینڈ لینڈ فل پروجیکٹ کی تجویز شامل کیا گیا۔اجلاس میں گوادر پورٹ اور فری زون، ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز-II، بریک واٹر کی تعمیر، برتھنگ ایریاز اور چینلز کی ڈریجنگ، گوادر پورٹ کی ملکی اقتصادی مراکز سے رابطہ کاری، ایم ایٹ موٹروے اور منرل کوریڈور سے گوادر تک رابطہ سڑکوں سمیت متعدد منصوبوں کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

خبرنامہ نمبر7063/2026
گوادر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے گوادر پورٹ کی موجودہ آپریشنل صورتحال، گوادر فری زون فیز-I اور فیز-II اور بندرگاہ سے متعلق مستقبل کی ضروریات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں گوادر پورٹ کے ذریعے کارگو اور امریکہ ایران جنگ کے تناظر میں ٹرانزٹ تجارت میں اضافے، فری زون میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ گوادر میں سی پیک کے تحت ترقیاتی عمل کو محض بندرگاہ اور تجارتی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے صحت، تعلیم، پانی، روزگار، شہری سہولیات اور مقامی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ مربوط بنایا جائے تاکہ گوادر کے عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات براہِ راست حاصل ہوں۔چینی شراکت دار نے گوادر میں مکمل ہونے والے سماجی و معاشی منصوبوں سے عوام کو حاصل ہونے والے فوائد کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں تجویز کردہ نئے منصوبوں پر مزید غور اور انہیں متعلقہ فورمز سے باقاعدہ منظوری دلانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی کے لیے جاری تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور باہمی مشاورت سے نئے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے گوادر کو جدید بندرگاہی، شہری اور معاشی مرکز بنانے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر7064/2026
گوادر 28 اگست :حکومتِ بلوچستان کی صحتِ عامہ اور حفاظتی ٹیکہ جات کی پالیسی کے تحت وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے عوام دوست اور صحت دوست وژن کی روشنی میں ضلع گوادر میں اگست 2026 کے دوران 16 روزہ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) آؤٹ ریچ سرگرمی کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد حفاظتی ٹیکوں سے محروم اور کم ویکسین شدہ بچوں تک رسائی یقینی بنانا اور معمول کی ویکسینیشن کوریج کو مزید مؤثر بنانا ھے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر فاروق کے مطابق ضلع بھر میں بچوں کو حفاظتی ویکسین فراہم کرنے کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جبکہ آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے ذریعے دور دراز، پسماندہ اور کم رسائی والے علاقوں میں بھی ویکسینیشن کی سہولیات پہنچائی جا رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان کی صحتِ عامہ کی ترجیحات کے مطابق کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے، اس مقصد کے لیے معمول کی ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ آؤٹ ریچ سرگرمیوں کو بھی مؤثر اور منظم انداز میں جاری رکھا جا رہا ہے اوٹ ریچ سرگرمی کے دوران گوادر شہر، نیو آباد، پشکان، شمبے اسماعیل، پسنی سمیت ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں خصوصی ویکسینیشن سیشنز کا انعقاد کیا گیا، جہاں بچوں کو مقررہ ویکسینیشن شیڈول کے مطابق حفاظتی ٹیکے فراہم کیے گئے۔ اس موقع پر والدین اور مقامی کمیونٹی کو بچوں کی بروقت ویکسینیشن کی اہمیت، حفاظتی ٹیکوں کے فوائد اور قابلِ انسداد بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کی گئی.

خبرنامہ نمبر7065/2026
گوادر28 اگست :جامعہ گوادر کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس شعبہ تعلیم کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر رابعہ اسلم کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں شعبہ تعلیم کے B.Ed پروگرامز کے معیار، نصاب میں جدت اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگی سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں B.Ed پروگرامز کے لیے پروفیشنل سرٹیفکیشن، لازمی انٹرن شپ، سمسٹر فریز کے بعد طلبہ کی دوبارہ شمولیت کی پالیسی اور منتخب کورسز کے نصاب میں نظرثانی کی منظوری دی گئی طلبہ کو جدید اور بین الشعبہ جاتی علوم سے روشناس کرانے کے لیے چینی زبان کو آرٹس اینڈ ہیومینٹیز جبکہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو بین الشعبہ جاتی کورس کے طور پر شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ڈاکٹر زرینہ وحید، ایس بی کے ویمن یونیورسٹی کوئٹہ، ڈاکٹر کرن ہاشمی، انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IoBM) کراچی، مس شائستہ نور، لیکچرر شعبہ تعلیم جامعہ گوادر، مختار بشیر، لیکچرر شعبہ تعلیم جامعہ گوادر، عبدالحفیظ، جامعہ گوادر، اور مس فرح، شعبہ تعلیم نے شرکت کی.

خبرنامہ نمبر7066/2026
کوئٹہ28اگست: بلوچستان ہائیکورٹ کے معزز دو رکنی بینچ نے پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سینٹر کے شعبہ کرنٹ افئرز کے پروڈیوسر محب اللہ ترین کی پاکستان ٹیلی ویژن میں تعیناتی سے متعلق دائر آئینی درخواست کو میرٹ سے عاری قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔معزز عدالت کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس اللہ داد روشن اور جسٹس شوکت علی رخشانی شامل تھے، نے مقدمے کی سماعت اور دستیاب قانونی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 24 اگست 2026 کو فیصلہ سنایا۔یاد رہے کہ محب اللہ ترین کی پاکستان ٹیلی ویژن میں تعیناتی سے متعلق معاملہ اس سے قبل رفیق مگسی کی جانب سے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) میں اٹھایا گیا تھا، جہاں محب اللہ ترین کی پی ٹی وی میں تعیناتی سے متعلق دائر مقدمہ معزز عدالت کی جانب سے خارج کر دیا گیا تھا۔بعد ازاں محمد علی لانگو، جو پاکستان ٹیلی ویژن کے ملازم ہیں، کی جانب سے محب اللہ ترین کی پاکستان ٹیلی ویژن میں تعیناتی سے متعلق اسی معاملے کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔بلوچستان ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے معاملے کا قانونی جائزہ لینے کے بعد آئینی درخواست کو میرٹ سے عاری قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ عدالت کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ درخواست گزار کے حق میں ایسا قابلِ نفاذ قانونی حق موجود نہیں جس کی بنیاد پر مطلوبہ عدالتی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔عدالتی فیصلے کے اختتامی حصے میں قرار دیا گیا.

خبرنامہ نمبر7067/2026
سوراب، 28 اگست :ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر عبدالجبار بلوچ کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایم ایس ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف سپرنٹنڈنٹ فضل محمد قمبرانی، خزانہ افسر مسعود احمد سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران شریک ہوئے اجلاس کے دوران ضلع بھر میں دستیاب طبی سہولیات، ڈاکٹرز و طبی عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، اسپتالوں کی کارکردگی اور صفائی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اسسٹنٹ کمشنر عبدالجبار بلوچ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام طبی مراکز میں ڈاکٹرز اور عملے کی بروقت حاضری، معیاری علاج معالجے، صفائی کے مؤثر انتظامات اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کو ہر صورت یقینی بنایا جائیانہوں نے واضح کیا کہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری اور شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے.

خبرنامہ نمبر7068/2026
گوادر28 اگست: یونیورسٹی آف گوادر کے شعبہ زولوجی کے زیرِ اہتمام طلبہ نے فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ گوادر، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات اور گوادر فش ہاربر کا مطالعاتی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد طلبہ کو زولوجی کے نظریاتی علم کے عملی اطلاق، سمندری و آبی وسائل، حیاتیاتی تنوع، جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری سے روشناس کرانا تھا شعبہ زولوجی کی انچارج عتیقہ بلوچ اور فیکلٹی ممبر سمیعہ کریم کی قیادت میں طلبہ نے فشریز مینجمنٹ، پائیدار ماہی گیری، بلیو اکانومی، جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کے انتظام سے متعلق عملی معلومات حاصل کیں فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر صغیر زمان، شاہ فہد، اور عملے نے طلبہ کو فشریز کے انتظام اور پیشہ ورانہ مواقع، جبکہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات میں ڈپٹی کنزرویٹر اسداللہ نے حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر طلبہ میں پودے بھی تقسیم کیے گئے گوادر منی پورٹ؍فش ہاربر میں انجینئر لیاقت بلوچ نے طلبہ کو مچھلی کی لینڈنگ، ہینڈلنگ، نیلامی اور مارکیٹنگ کے عملی مراحل سے آگاہ کیا یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ مطالعاتی دورہ حکومتی تعلیمی پالیسی کے تحت عملی و تجرباتی تعلیم کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے، جس سے طلبہ میں سائنسی مشاہدے، عملی مہارت اور پیشہ ورانہ استعداد کو فروغ ملتا ہے۔ جامعہ نے متعلقہ محکموں کے افسران و عملے کے تعاون اور رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔

خبرنامہ نمبر7069/2026
کوئٹہ 28اگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت 31 اگست سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پولیو مہم کے لیے جامع پلان کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران صرف اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو پولیو کے قطرے اور ویکسین پلائی جائے گی، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے اور ویکسین دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مہم کے دوران مؤثر سیکیورٹی پلان یقینی بنانے، پولیو ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اقدامات کی ہدایت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کوئٹہ، پولیو حکام، متعلقہ اہلکاران اور پولیس افسران نے شرکت کی۔انہوں نے اسکول اور مدرسہ انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ زیر تعلیم بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے میں پولیو ٹیموں کے ساتھ بھر پور تعاون کرے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلاکر اور ویکسین لگا کر انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔

خبرنامہ نمبر7070/2026
کوئٹہ (27 اگست): ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف عمر اور اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم نے ویسٹرن بائی پاس پر غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اس کارروائی کے دوران مختلف کرش پلانٹس کا معائنہ کیا گیا، جہاں سپریم کورٹ کے احکامات اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر متعدد غیر قانونی کرش پلانٹس کو سیل کر دیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق ویسٹرن بائی پاس اور گردونواح میں کرش پلانٹس پر پابندی کی بنیادی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی، گرد و غبار کے باعث فضائی آلودگی اور شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات شامل ہیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، عوامی صحت اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی پلانٹ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر7071/2026
کوئٹہ 28اگست۔کوئٹہ شہر کو تجاوزات سے پاک اور شہریوں کی آمدورفت و خریدوفروخت کے ماحول کو مزید آسان بنانے کے عزم کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی جانب سے شہر بھرتجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اس سلسلے میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد کی ہدایات پر اینٹی انکروچمنٹ زون 1 کے انچارج علی رضا کی نگرانی میں طوغی روڈ، لیاقت بازار اور عبدالستار روڈ پر کارروائی کی گئی۔اس کارروائی کے دوران عارضی و مستقل تجاوزات ہٹا دی گئیں جبکہ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر رکاوٹ بننے والا تجاوز شدہ سامان میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے ضبط کر لیا۔ شہریوں کی آمدورفت اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں دور کرتے ہوئے عوامی راستے بحال کیے گئے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے دکانداروں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو کھلا رکھیں اور تجاوزات کے خاتمے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔کوئٹہ کی سڑکیں اور فٹ پاتھ عوام کے لیے ہیں، ان کی بحالی اور حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

خبرنامہ نمبر7072/2026
نصیرآباد۔۔ ہندو جنرل پنچایت ڈیرہ مراد جمالی کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری، ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے عہدیداران سے حلف لیا واضح رہے کہ آج ہندو جنرل پنچایت ڈیرہ مراد جمالی کی جانب سے ہندو محلہ میں شادی ہال ڈیرہ مراد جمالی میں ایک پروقار تقریبِ حلف برداری کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل تھے تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہندو جنرل پنچایت کی متفقہ طور پر منتخب ہونے والی تین سالہ نئی کابینہ کے عہدیداران سے حلف لیا تقریب میں ہندو برادری کے معززین، پنچایت کے اراکین، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی متفقہ طور پر منتخب ہونے والی کابینہ میں مکھی مانک لال پریانی چئرمین ہپل داس اجوانی وائس چئرمین، سیٹھ تارا چند کالرا صدر، گھنشام داس ککریجا سینئر نائب صدر جبکہ دیگر عہدیداران بھی شامل ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے نومنتخب کابینہ کے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حلف محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اہم ذمہ داری عہد اور اعتماد کی علامت ہے نومنتخب عہدیداران پر لازم ہے کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے ہندو برادری کی فلاح و بہبود اجتماعی مسائل کے حل اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ ہندو جنرل پنچایت ایک اہم نمائندہ فورم کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے کابینہ کے اراکین کو باہمی اتحاد اتفاقِ رائے مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے برادری کے مسائل کو متعلقہ فورمز تک پہنچانا چاہیے ضلعی انتظامیہ بھی عوامی مسائل کے حل اور اقلیتی برادری کو درپیش جائز مشکلات کے ازالے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال اور جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوان نسل کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول ناگزیر ہے نوجوان اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں جدید علوم اور فنی مہارتیں حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی برادری ملکی آبادی کا ایک اہم حصہ ہے اور ماضی میں ہندو برادری کی بڑی تعداد نے کاروبار اور تجارت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں تاہم موجودہ دور مسابقت اور جدید تعلیم و مہارت کا دور ہے اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کاروبار اور تجارت کے ساتھ ساتھ تعلیم ٹیکنالوجی جدید ہنر اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی آگے بڑھے تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندان اور برادری بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکیں.انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اس لیے والدین برادری کے بزرگوں اور منتخب نمائندہ اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم تربیت اور رہنمائی پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کریں.تقریب کے اختتام پر ہندو جنرل پنچایت ڈیرہ مراد جمالی کی نومنتخب کابینہ کے عہدیداران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی اتحاد اتفاق مشاورت اور اجتماعی سوچ کو فروغ دیتے ہوئے ہندو برادری کے اجتماعی مسائل کے حل فلاح و بہبود تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کی بہتر رہنمائی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ برادری کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے معاشرے میں بھائی چارے رواداری اور باہمی احترام کی فضا کو مزید مضبوط بنایا جائے گا.

خبرنامہ نمبر7073/2026
اُستا محمد28اگست:ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت گوٹھ غلام نبی خان جمالی خانپور میں کھلی کچہری منعقد کی گئی عوام نے اپنے مسائل سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہی فراہم کی واضح رہے کہ آج وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل ان کی دہلیز پر سننے اور ان کے فوری و مؤثر حل کے لیے آج ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت گوٹھ غلام نبی خان جمالی خانپور میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری، اسسٹنٹ کمشنر استامحمد محمد رمضان اشتیاق،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی سمیت ضلع اُستا محمد کے تمام متعلقہ ضلعی افسران سیاسی و سماجی شخصیات زمینداروں عمائدینِ علاقہ تاجر برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر شہریوں اور علاقے کے مکینوں نے کھل کر اپنے اجتماعی و انفرادی مسائل ڈپٹی کمشنر اور ضلعی افسران کے سامنے پیش کیے کھلی کچہری کے دوران عوام کی جانب سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پینے کے صاف پانی کی فراہمی گیس کی کمی ہسپتالوں میں ادویات اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی بنیادی مراکزِ صحت میں سہولیات کی بہتری سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب مچھر مار اسپرے غیر معیاری کھاد اور بیجوں کی فروخت سمیت مختلف اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی علاقے کے مکینوں نے خانپور پل سے اُستا محمد روڈ براستہ خانپور ڈسٹری کی تعمیر و بہتری خانپور پل سے ڈگری کالج اُستا محمد تک طلبہ و طالبات کے لیے اسکول بس کی فراہمی اور علاقے میں سفری و مواصلاتی سہولیات بہتر بنانے کے مطالبات بھی پیش کیے زمینداروں نے زرعی شعبے سے متعلق مسائل غیر معیاری کھاد و بیجوں کی فروخت اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے محکمہ زراعت کی جانب سے زمینداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا عوام نے محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی جائے تاکہ ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت میں بھی کمی لائی جا سکے اس موقع پر سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کی مد میں فراہم کیے جانے والے فنڈز کے مبینہ طور پر کسی دوسرے صوبے منتقل ہونے سے متعلق شکایات بھی ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کی گئیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کے پیسے کسی اور صوبے منتقل نہیں ھوئے ہیں ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے تمام متعلقہ سربراہان عوام کے سامنے موجود ہوں اور ان کے مسائل کو براہِ راست سن کر موقع پر ہی ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ کھلی کچہری کے اس اہم فورم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کریں ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی جائز مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھلی کچہری کے دوران عوام کی جانب سے پیش کیے گئے متعدد مسائل پر موقع پر ہی متعلقہ ضلعی افسران کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ضلعی انتظامیہ کے دائر? اختیار میں آنے والے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے جبکہ ایسے مسائل جو ضلعی انتظامیہ کے دائر? اختیار سے باہر ہیں انہیں تحریری طور پر اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا جائے گا تاکہ ان کے حل کے لیے مؤثر پیروی کی جا سکے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے اور متعلقہ محکمے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کے لیے کھلی کچہری ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے عوامی مسائل کو نچلی سطح پر سمجھنے اور ان کے فوری ازالے میں مدد ملتی ہے انہوں نے یقین دلایا کہ عوامی فلاح و بہبود بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شہریوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی.

خبرنامہ نمبر7074/2026
تربت: 28 اگست :ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت مشترکہ ضلعی ترقیاتی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز تربت میں منعقد ہوا، جس میں ضلع کیچ میں جاری ترقیاتی امور، مشترکہ ضلعی ترقیاتی منصوبوں اور سماجی بہبود سے متعلق مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس بی آر ایس پی کے پسنی روڈ، تربت میں واقع دفتر میں منعقد ہوا، جس میں میونسپل کارپوریشن تربت، محکمہ صنعت و تجارت، محکمہ ماہی گیری، محکمہ زراعت توسیع، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ امورِ حیوانات، محکمہ ترقیِ نسواں، ضلعی محکمہ کھیل، مقامی سماجی تنظیموں کے رابطہ افسران اور بی آر ایس پی کیچ کے ضلعی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نور احمد سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کیچ کے مختلف ترقیاتی امور، مشترکہ ضلعی ترقیاتی منصوبوں اور رائز پروگرام کے تحت مقررہ اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے پروگرام کے مقررہ اہداف کو بروقت، مؤثر اور شفاف انداز میں مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر رائز پروگرام کے تحت ضلع کیچ کی تین رجسٹرڈ سماجی تنظیموں میں مالی معاونت کے چیکس بھی تقسیم کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ سماجی تنظیموں کے نمائندگان میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کیے۔اجلاس میں بی آر ایس پی کیچ کے انچارج نور احمد اور ضلعی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں، پیش رفت اور آئندہ کے لائح? عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اس موقع پر کہا کہ ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سماجی بہبود کے پروگراموں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے ثمرات حقیقی معنوں میں مقامی آبادی تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور ذمہ داری کے ساتھ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع کیچ میں ترقیاتی اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد، مقررہ اہداف کی بروقت تکمیل اور عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے اپنا کردار ادا کریں گے۔

خبرنامہ نمبر7075/2026
نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اثاثہ جات اور ٹریفک نظام کا جائزہ واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع نصیرآباد کے تمام متعلقہ ضلعی محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی جاری ترقیاتی منصوبوں سرکاری اثاثہ جات ملازمین کی حاضری اور ٹریفک کے نظام سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت ضلع نصیرآباد میں جاری اور مکمل ہونے والے مختلف تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران سے منصوبوں کی موجودہ صورتحال تعمیراتی معیار تکمیل کی رفتار اور عوام کو فراہم ہونے والے فوائد کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے تمام ضلعی محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے سرکاری اثاثہ جات گاڑیوں، مشینری دستیاب وسائل ملازمین کی مجموعی تعداد اور دیگر ضروری معلومات پر مشتمل مکمل تفصیلات ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں تاکہ تمام سرکاری وسائل کا درست ریکارڈ مرتب کرتے ہوئے ان کے مؤثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے افسران پر یہ بھی زور دیا کہ اپنے محکموں میں افسران و اہلکاران کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور مسلسل غیر حاضر رہنے والے افسران و اہلکاران کی مکمل تفصیلات بھی ضلعی انتظامیہ کو فراہم کی جائیں انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں میں افسران و اہلکاران کی بروقت حاضری اور فرائض کی انجام دہی عوام کو بہتر اور فوری سہولیات کی فراہمی کے لیے نہایت ضروری ہے اجلاس میں ٹریفک کے نظام کو مزید بہتر اور فعال بنانے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ڈپٹی کمشنر نے ایس پی ٹریفک کو ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے غیر قانونی پارکنگ تجاوزات اور ٹریفک کی رکاوٹوں کے خاتمے سمیت ٹریفک نظام کو مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ شہر کے پرانے بس و ویگن اسٹینڈ کو بند کرکے نئے بس ٹرمینل کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے اور بسوں، ویگنوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو نئے بس ٹرمینل میں منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نئے بس ٹرمینل کو فعال بنانے سے شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور مسافروں کو بھی بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک منظم مقام پر منتقل کرنے سے سڑکوں اور اہم شاہراہوں پر غیر ضروری رش اور ٹریفک میں خلل پیدا ہونے کے واقعات پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نئے بس ٹرمینل کے اطراف ریڑھی بانوں اور دیگر تجاوزات کے حوالے سے بھی مناسب انتظام کیا جائے تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام امور کو باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت پایہ? تکمیل تک پہنچایا جائے ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور شہر میں ٹریفک کے نظام کو منظم بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی.

خبرنامہ نمبر7076/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج ڈسٹرکٹ لائبریری کا دورہ کیا اور وہاں مطالعہ کے لیے آنے والے طلبہ سے ملاقات کرکے لائبریری میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں واضح رہے کہ گزشتہ دنوں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران لائبریری سے مستفید ہونے والے طلبہ نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو لائبریری میں بجلی کی عدم دستیابی پنکھوں کی کمی اور دیگر ضروری سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا تھا ڈپٹی کمشنر نے طلبہ کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کے بلا تاخیر حل کے احکامات جاری کیے تھے جس کے نتیجے میں لائبریری میں بجلی کی بحالی پنکھوں کی تنصیب اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا کھلی کچہری کے دوران طلبہ نے ڈپٹی کمشنر سے لائبریری کا دورہ کرنے کی بھی درخواست کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے آج لائبریری کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے طلبہ سے لائبریری میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور درپیش کسی بھی نئے مسئلے کے بارے میں دریافت کیا طلبہ نے لائبریری میں بنیادی سہولیات کی فوری بحالی اور ضروری سامان کی فراہمی پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بروقت اقدامات کیے گئے جس سے انہیں مطالعہ کے لیے بہتر اور سازگار ماحول میسر آیا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ تعلیم اور علم کے زیور سے آراستہ ہوئے بغیر معاشرے اور ملک کو ترقی کی منازل طے کرانا ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ لائبریریاں علم کا خزانہ ہیں جہاں طلبہ کو مختلف موضوعات کا مطالعہ کرنے اپنی معلومات میں اضافہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع میسر آتے ہیں انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ لائبریری کی سہولیات سے بھرپور استفادہ کریں مطالعہ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنی تعلیم پرخصوصی توجہ مرکوز کریں ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل ہی ملک و قوم کا مستقبل ہے اس لیے انہیں معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ طلبہ کو درپیش جائز مسائل کے حل اور تعلیمی اداروں و لائبریریوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر7077/2026
کوئٹہ 28اگست۔ کمشنر آفس کوئٹہ میں ٹرانسفر ہونے والے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ ڈویژن آغا سمیع اللہ،اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوئٹہ سید کلیم اللہ،سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نعمت اللہ،ڈائریکٹر آئی ٹی محب اللہ کے علاوہ سپرینٹنڈنٹ صاحبان،سرکاری افسران، کمشنر آفس کے افسران و اہلکاروں اور دیگر متعلقہ نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن میں تعیناتی کے دوران انہیں افسران اور عملے کا بھرپور تعاون حاصل رہا، جس پر وہ سب کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں ٹیم ورک اور باہمی تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن میں اپنے دورِ تعیناتی کے دوران عوامی مسائل کے حل، انتظامی امور میں بہتری اور حکومتی اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ انہوں نے افسران و اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ آئندہ بھی اپنے فرائض محنت، دیانتداری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیتے رہیں۔اس موقع پر شرکاء نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی آئندہ ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے دعا کی۔ تقریب کے اختتام پر شاہزیب خان کاکڑ نے تمام افسران اور اہلکاروں سے فرد وفرد ہاتھ بھی ملایا۔

خبرنامہ نمبر7078/2026
کوئٹہ 27اگست۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت ہنہ وڑک کے مسائل اور وہاں جاری و مجوزہ ترقیاتی کاموں سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ہنہ وڑک میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں اور علاقے کی تعمیر و ترقی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ہنہ وڑک میں بڑے ایف سی اسکول کے قیام کے حوالے سے بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں کمانڈنٹ ایف سی غزہ بند اسکاؤٹس، ہنہ وڑک کمیٹی کے ممبران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے ہنہ وڑک کے مسائل کے حل اور علاقے میں ترقیاتی کاموں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اور باہمی رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

خبرنامہ نمبر7079/2026
موسیٰ خیل 28 اگست :ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے بی ایس ڈی آئی کے تحت واٹر سپلائی اسکیم محلہ مدرسہ مصباح العلوم، نیو بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے اسکیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ محلے کے مکینوں کو پینے کے پانی کی بلاتعطل اور بروقت فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر7080/2026
لسبیلہ 28اگست :کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے ضلع لسبیلہ کی تحصیل کنراج کا دورہ کیادورے کے موقع پر ڈی سی لسبیلہ حمیرابلوچ اور ڈی آئی جی لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم پتافی ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی انکے ہمراہ تھیں ددرپراجیکٹ سائٹ کیمپ آفس تحصیل کنراج آمد پر کمشنر اوردیگرانتظامی افسران کو چائنیز حکام نے ویلکم کیا چئرمین ددر پراجیکٹ کی جانب سے کمشنر کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ اور پریزنٹیشن دی گئی، جس میں پراجیکٹ کی مجموعی کارکردگی پیداواری ،سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ امور سے آگاہ کیا گیا۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو دوران بریفنگ بتایا گیا ددر پراجیکٹ (Duddar Zinc and Lead Project) پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا زیرِ زمین دھاتی مائننگ پراجیکٹ ہے،جو بلوچستان میں زنک (جست) اور لیڈ (سیسہ) نکالنے کے لیے ضلع لسبیلہ کی تحصیل کنراج میں قائم کیا گیا ہییہ منصوبہ پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PMDC) اور حکومتِ بلوچستان کی چینی مائننگ کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر شراکت داری کے تحت قائم ہے۔اس مائن کو MCC Huaye Duddar Mining Company (MHD) چلاتی ہہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مکمل فعال انڈر گراؤنڈ (زیرِ زمین) میٹل مائننگ پراجیکٹ ہیبریفنگ میں چینی حکام نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن کو بتایا گیا کہ مائننگ کان سے نکالے جانے والے مواد کو صاف کر کے زنک کنسنٹریٹ اور لیڈ کنسنٹریٹ تیار کیا جاتا ہے،جسے بعد میں برآمد یا پراسیس کیا جاتا ہے۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن اور ڈی آئی جی لسبیلہ نے پراجیکٹ کی مجموعی سیکیورٹی،امن و امان، سیکیورٹی انتظامات، CSR (کارپوریٹ سماجی ذمہ داری) اقدامات،حفاظتی انتظامات اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیااورپراجیکٹ انتظامیہ سے مختلف امور پر سوالات کیے۔اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے پراجیکٹ کی سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے پراجیکٹ منیجمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

خبرنامہ نمبر7081/2026
رکھنی28 اگست :اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی نے چارج سنبھالتے ہی رکھنی بازار کا اچانک دورہ کیا اور کھاد، بیج اور زرعی اسپرے فروخت کرنے والی دکانوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر نائب تحصیلدار رکھنی اللہ نواز، پٹواری وقار احمد اور دیگر متعلقہ اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران حکومت کی جانب سے کھاد کی فروخت پر عائد پابندی اور دیگر مقررہ ضوابط پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کے لائسنس و ضروری دستاویزات، کھاد کے وزن، زرعی اسپرے کے معیار و ایکسپائری ڈیٹ، بیج کے معیار اور مقررہ نرخوں کی چیکنگ کی۔چیکنگ کے دوران مکمل کاغذات نہ رکھنے والے ڈیلرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ ایک دکان کو سیل کر دیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ کھاد، بیج اور زرعی اسپرے کی فروخت میں حکومتی قوانین، معیار اور مقررہ نرخوں کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر7082/2026
گوادر، 28 اگست: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت واٹر سیکشن کا اجلاس ہوا، جس میں گوادر میں پانی کی فراہمی، آبی ذخائر، ڈسٹری بیوشن، بلنگ اور ریکوری کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پی ڈی واٹر میرجان، ڈائریکٹر فنانس عبدالشکو بلوچ، ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹری بیوشن محمد اکبر بلوچ سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سوڈ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور موجودہ ذخیرہ آئندہ تقریباً دو سے تین ماہ کے لیے کافی ہے۔ پانی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے شادی کور ڈیم سے بھی پانی کی سپلائی فعال کر دی گئی ہے، جبکہ دونوں ذرائع سے روزانہ مجموعی طور پر تقریباً 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے دستیاب آبی ذخائر کو مؤثر انداز میں مینج کرنے اور تمام متبادل ذرائع بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں چین کی جانب سے فراہم کردہ 1.2 ایم جی ڈی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور اسے مکمل استعداد پر چلانے کے لیے گوادر پورٹ حکام سے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں گوادر شہر کو پانی کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالنے کے تقریباً ایک سالہ عرصے کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ سال کے پانی کے بحران اور بعد ازاں معمول کی صورتحال میں بھی شہر کو مؤثر انداز میں پانی فراہم کیا گیا اور کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔ اجلاس میں آئندہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر اور پائیدار بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں واٹر بلنگ اور ریکوری کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کے ذمے جی ڈی اے کے پانی کے تقریباً 157 ملین روپے واجب الادا ہیں۔ متعلقہ شعبہ کو بڑے صارفین اور سرکاری اداروں سے واجبات کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی۔شادی کور ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کو بجلی کی سہولت نہ ہونے کے باعث 24 گھنٹے ڈیزل پر چلائے جانے سے آپریشنل اخراجات میں اضافے کے پیش نظر شہریوں سے پانی کے استعمال میں کفایت شعاری اور پانی کے بلوں کی بروقت ادائیگی میں تعاون کی اپیل کی گئی۔اجلاس میں شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے منسلک مختلف دیہات میں پانی کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ متعدد دیہات میں طویل عرصے سے جاری پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرتے ہوئے سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں اور دیہی آبادیوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

خبرنامہ نمبر7083/2026
کوئٹہ 28اگست۔ضلعی انتظامیہ کا زیادہ آبادی والے علاقوں میں غیر قانونی منی پیٹرول پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن،25 غیر قانونی منی پیٹرول پمپس سیل، 16 افراد گرفتار تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر زیادہ آبادی والے علاقوں میں غیر قانونی منی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں سب ڈویژن سریاب میں اسپیشل مجسٹریٹ سریاب نے کارروائی کرتے ہوئے 25 غیر قانونی منی پیٹرول پمپس سیل کر دیے، جبکہ 16 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور غیر قانونی منی پیٹرول پمپس کے خاتمے کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔

خبرنامہ نمبر7084/2026
لورالائی، 28 اگست 2026: ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے شہر میں غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں، مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی اور عوام کو غیر معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی سربراہی میں مختلف علاقوں میں ایرانی پٹرول پمپس، تندوروں اور گوشت و مٹن کی دکانوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیاکارروائی کے دوران متعلقہ ٹیم نے مختلف پٹرول پمپس اور کاروباری مراکز پر قانونی دستاویزات، نرخ ناموں، صفائی ستھرائی، اشیائے خورونوش کے معیار اور دیگر ضروری امور کا جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی پر دو ایرانی پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا، جبکہ دیگر کاروباری مراکز کو بھی حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی سخت ہدایات جاری کی گئیں اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے کارروائی کے دوران تندور مالکان اور گوشت فروشوں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ نرخوں کی پابندی، صفائی کے معیار اور گوشت کے معیار کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام سے زائد نرخ وصول کرنے، غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے یا حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گیَانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا، اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر دستیابی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ اس مقصد کے لیے بازاروں، پٹرول پمپس، تندوروں، گوشت کی دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ اہلکاروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کا معائنہ کریں اور خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں اور کاروباری افراد کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ مقررہ نرخوں سے زائد وصولی، غیر معیاری اشیائے خورونوش کی فروخت یا دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکیضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی مفاد میں شروع کی گئی یہ کارروائیاں آئندہ بھی بلاامتیاز اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا کاروباری ادارے کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر7085/2026
دکی: ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ نارکوٹکس کنٹرول سیل کمیٹی (DNCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع دُکی میں منشیات کی روک تھام، غیر قانونی کاشت کے خاتمے اور انسدادی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایس پی دُکی منصور احمد بزدار، نمائندہ اینٹی نارکوٹکس فورس، حساس اداروں کے افسران، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر سمیت دیگر متعلقہ ضلعی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چرس؍بھنگ تلفی مہم 2026 کے حوالے سے ضلع دُکی میں غیر قانونی منشیات کی کاشت کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور مشترکہ کارروائیوں کو مزید مربوط بنانے پر زور دیا گیا۔ نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی مہمات کو مؤثر بنانے، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر شعور اجاگر کرنے اور منشیات کے کاروبار کی روک تھام کے لیے قانون کے مطابق کارروائیوں کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی، اینٹی نارکوٹکس فورس، متعلقہ سکیورٹی اداروں اور دیگر محکموں کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر دُکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلع دُکی کو منشیات سے پاک بنانے، نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے اور منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں گے۔

خبرنامہ نمبر7086/2026
دُکی: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے مطابق ڈپٹی کمشنر دکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت تحصیل دکی کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سننے اور ان کے فوری حل کے لیے نظامی پبلک ہائی سکول دکی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، ایس پی دکی منصور احمد بزدار، اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال سمیت تمام متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو مزید مؤثر بنانا اور شہریوں کو اپنے مسائل و شکایات کے اظہار کے لیے ایک باقاعدہ اور کھلا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ کھلی کچہری کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے صاف پانی کی فراہمی، تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، نکاسی آب، معذور افراد کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کے قیام اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق اپنے مسائل اور مشکلات ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے شہریوں کے مسائل اور شکایات کو توجہ اور تحمل سے سنا اور موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے ضلعی سربراہان سے ہر مسئلے کے حوالے سے تفصیلات اور موجودہ صورتحال دریافت کی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو عوامی مسائل کے فوری ازالے، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور زیرِ التوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور کھلی کچہریوں کے انعقاد کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر7087/2026
ہرنائی میں لاپتہ شہری علی اکبر کی جلد از جلد بازیابی اور کیس میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ہرنائی کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے کی.اجلاس میں ڈی ایس پی ؍ ایس ڈی پی او ہرنائی، اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی، اور ضلع ہرنائی کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ حساس اور سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ نمائندگان-97بشمول آئی ایس آئی (ISI)، ایم آئی (MI)، ایف سی 81 ونگ (FC 81 Wing)، سی ٹی ڈی (CTD)، اسپیشل برانچ اور انٹیلی جنس بیورو (IB)-97نے بالخصوص شرکت کر کے کیس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اجلاس کے دوران لاپتہ علی اکبر کے معاملے پر اب تک کی جانے والی کارروائیوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور تمام اداروں کی جانب سے باہمی معلومات کے تبادلے کو مزید تیز کرنے پر اتفاق ہوا۔ ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی نے تمام پولیس افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور جدید سائنسی و انٹیلی جنس وسائل پریکٹس میں لاتے ہوئے کیس کی سُراغ رسانی کو یقینی بنائیں اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ شہری علی اکبر کی حفاظت اور اس کی جلد بازیابی کے لیے ضلع انتظامیہ، پولیس اور تمام سیکیورٹی ادارے مکمل یکسوئی اور باہمی تعاون کے ساتھ متحرک ہیں، اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر7088/2026
شیرانی:28اگست 2026 ضلع شیرانی کے ہیڈکوارٹر مانی خواں میں ڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ کی زیرِ صدارت اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام کو درپیش مسائل براہِ راست سننا، متعلقہ حکام تک پہنچانا اور ان کے حل کے لیے فوری و مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔کھلی کچہری میں مانی خواں سمیت ضلع شیرانی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں، عمائدین اور عوامی نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل و شکایات ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے افسران کے سامنے پیش کییاس موقع پر شہریوں کی جانب سے تعلیم، صحت، آبنوشی، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بجلی، مواصلات، زراعت، بلدیاتی امور، ریونیو، جنگلات، پولیس اور دیگر سرکاری شعبوں سے متعلق مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا گیاڈپٹی کمشنر شیرانی کلیم اللہ نے عوام کی شکایات اور مسائل غور سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ عوامی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی بنیادی ذمہ داری عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور ان کی مشکلات کا ازالہ ہے، اس لیے تمام محکمے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے مسائل کو محض شکایات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی بہتری اور شہریوں کودرپیش مشکلات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہیکھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کی موجودگی کے باعث شہریوں کو اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ افسران تک پہنچانے کا موقع ملا، جس سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملی اس موقع پر عوامی حلقوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شہریوں کو اپنے مسائل براہِ راست ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ انتظامیہ کو بھی علاقے کے زمینی مسائل اور عوامی ضروریات سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ڈپٹی کمشنر کلیم اللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی کوششیں جاری رکھے گی، جبکہ مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون کے ذریعے عوامی شکایات کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی خدمت، مسائل کا فوری حل اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

خبرنامہ نمبر7089/2026
کوئٹہ 28اگست۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت 31 اگست سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران مدارس میں بچوں کی 100فیصد کوریج یقینی بنانے کے حوالے سے علماء کرام کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں نیشنل ای او سی کوآرڈینیٹر انعام الحق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، علماء کرام اور پولیو ٹیموں کے اہلکاران نے شرکت کی۔اجلاس میں مدارس میں پولیو مہم کو کامیاب بنانے، کسی بھی قسم کے ریفیوزل کے خاتمے اور تمام اہل بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے 100 فیصد کوریج یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے علماء کرام اور مدارس انتظامیہ ضلعی انتظامیہ اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران تمام اسسٹنٹ کمشنرز فیلڈ میں موجود رہیں گے اور مدارس میں پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر7090/2026
دُکی: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی زیرِ صدارت (District Implementation Committee) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس پی دکی منصور احمد بزدار، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر محمد حسین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع دُکی میں امن و امان کی صورتحال، غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک اور قانون پر مؤثر عملدرآمد کے حوالے سے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران BISA اور PIFTAC ڈیش بورڈ، غیر قانونی اسپیکٹرم، غیر قانونی اسلحہ کے مقدمات، دھماکہ خیز مواد، بھتہ خوری،منشیات کے مقدمات، اسمگلنگ، نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں، مدارس کی رجسٹریشن، گداگری، جوئے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں، غیر قانونی پٹرول پمپس اور تجاوزات سمیت مختلف اہم معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر دُکی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے باہمی رابطہ اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنایا جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں متعلقہ اداروں کی جانب سے اپنے اپنے شعبوں میں جاری اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ادارے اپنے فرائض ذمہ داری اور مستعدی سے انجام دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون اور مؤثر کوآرڈینیشن کو یقینی بنائیں۔

خبرنامہ نمبر7091/2026
نصیرآباد۔۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے آج ڈسٹرکٹ لائبریری کا دورہ کیا اور وہاں مطالعہ کے لیے آنے والے طلبہ سے ملاقات کرکے لائبریری میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں واضح رہے کہ گزشتہ دنوں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران لائبریری سے مستفید ہونے والے طلبہ نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو لائبریری میں بجلی کی عدم دستیابی پنکھوں کی کمی اور دیگر ضروری سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا تھا ڈپٹی کمشنر نے طلبہ کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کے بلا تاخیر حل کے احکامات جاری کیے تھے جس کے نتیجے میں لائبریری میں بجلی کی بحالی پنکھوں کی تنصیب اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا کھلی کچہری کے دوران طلبہ نے ڈپٹی کمشنر سے لائبریری کا دورہ کرنے کی بھی درخواست کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے آج لائبریری کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے طلبہ سے لائبریری میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور درپیش کسی بھی نئے مسئلے کے بارے میں دریافت کیا طلبہ نے لائبریری میں بنیادی سہولیات کی فوری بحالی اور ضروری سامان کی فراہمی پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بروقت اقدامات کیے گئے جس سے انہیں مطالعہ کے لیے بہتر اور سازگار ماحول میسر آیا ہے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا کہ تعلیم اور علم کے زیور سے آراستہ ہوئے بغیر معاشرے اور ملک کو ترقی کی منازل طے کرانا ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ لائبریریاں علم کا خزانہ ہیں جہاں طلبہ کو مختلف موضوعات کا مطالعہ کرنے اپنی معلومات میں اضافہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع میسر آتے ہیں انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ لائبریری کی سہولیات سے بھرپور استفادہ کریں مطالعہ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنی تعلیم پرخصوصی توجہ مرکوز کریں ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل ہی ملک و قوم کا مستقبل ہے اس لیے انہیں معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ طلبہ کو درپیش جائز مسائل کے حل اور تعلیمی اداروں و لائبریریوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔

خبرنامہ نمبر 7092/2026
زیارت، 27 اگست:ڈپٹی کمشنر زیارت، عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت بی ایس ڈی آئی فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری کی ترقیاتی سکیمات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی/ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں لیفٹیننٹ کرنل/ونگ کمانڈر 155 ونگ کرنل زیشان، میجر عامر، ایکسین, اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی ،ایریگیشن عمیر علی، ایکسین پی ایچ ای تیمور آغا، تحصیلدار نور احمد کاکڑ ،لائن سپرنٹینڈنٹ کیسکو اسرار احمد، سب انجینئر پی ایچ ای عبد الغنی اور نمائندہ میونسپل کمیٹی زیارت میرا جان نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ون کی تمام 11 سکیمات کامیابی کیساتھ مکمل ہو چکی ہیں۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی فیز ٹو کی 37 سکیمات میں سے 22 سکیمات مکمل ہوچکی ہیں، باقی سکیمات پر 90 فیصد سے زائد پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری میں بھی عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اہم ترقیاتی سکیمات شامل ہیں جس کی ٹینڈرنگ پروسس جاری ہے اورجلد کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبے بروقت، شفاف اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناقص اور غیر معیاری کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر 7093/2026
لورالائی:28اگست: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل نے لورالائی میں بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے ایک جنرل کونسلر اور دو یونین کونسل کونسلرز سے حلف لیا.حلف برداری کی تقریب میں نومنتخب بلدیاتی نمائندوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھاتے ہوئے عوامی خدمت، آئین و قانون کی پاسداری اور اپنے فرائض ایمانداری و ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کے عزم کا اظہار کیا.اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل نے نومنتخب نمائندوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نظام عوامی مسائل کے حل اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔نومنتخب نمائندے اپنے اپنے علاقوں کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اجاگر کریں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے عوام اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطے کا ذریعہ ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی، ترقیاتی امور اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں حلف برداری کے بعد نومنتخب بلدیاتی نمائندوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اسماعیل مینگل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی اعتماد پر پورا اترنے اور اپنے علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

خبرنامہ نمبر 7094/2026
کوئٹہ 28 اگست:سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو خصوصی بنچز 31 اگست سے 4 ستمبر 2026 تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے جاری کردہ عدالتی شیڈول کے مطابق معزز عدالتِ عظمیٰ کے دو بنچز کوئٹہ میں بیٹھیں گے، جہاں ہائی کورٹ آف بلوچستان کے فیصلوں اور احکامات سے پیدا ہونے والے مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔ سماعت کے لیے مقررہ بنچ نمبر ایک میں جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف جسٹس آف پاکستان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جبکہ بینچ نمبر دو میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے یہ بنچز پیر 31 اگست 2026 سے جمعہ 4 ستمبر 2026 تک کوئٹہ میں مقدمات کی سماعت کریں گے۔ اس مقصد کے لیے پہلے سے جاری شدہ مقدمات کی کاز لسٹ/فہرست سپریم کورٹ آف پاکستان کی آن لائن کیس انفارمیشن ویب سائٹ پر دستیاب کر دی گئی ہے۔
https://scp.gov.pk/OnlineCaseInformation

خبرنامہ نمبر 7095/2026
قلات: مغلزئی میں ہیضہ دست، الٹی کے وبا کی اطلاع،پر ڈپٹی کمشنر قلات کےبروقت ایکشن سے محکمہ صحت کی تجربہ کارٹیم کی ریسکیو ٹریٹمنٹ ٹیم نے بروقت کاروائ کرتے ہوئے 300 سے زائدمریضوں کی جانیں بچالیں سرکاری ذرائع کیمطابق ڈسٹرکٹ قلات کے علاقے مغلزئی میں ہیضہ پھیلنے کی خبر سوشل میڈیا پروائرل یوتے ہی ڈپٹی کمشنر قلات انجینئرعائشہ زیری نےسخت ایکشن لیتے ہوئے متاثرہ علاقے میں محکمہ صحت کی ٹیم بھیج دی ریپڈرسپانس ٹیم نےڈپٹی ڈی ایچ او قلات ڈاکٹر محمد اقبال نورزئی کی قیادت میں پی پی ایچ آئی قلات کے تعاون سے علاقے میں مریضوں کا معائنہ کیا،جہاں300 سے زائد مریضوں کی طبی حالت کا جائزہ لینے کے ساتھ ضروری طبی امداد اور ادویات بھی فراہم کیں طبی ٹیم میں پی پی ایچ آئی قلات کے ایڈمن آفیسر غلام فاروق شاہوانی،ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ عمیر بلوچ، موبائل ٹیم انچارج علی حسن مینگل، محمد اقبال نوشیروانی، ثناء اللہ سمیت دیگر طبی عملہ موجود تھےاہلِ علاقہ کے مطابق علاقے میں دست، الٹی اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ صفائی کی ناقص صورتحال ہوسکتی ہے۔جس سے بیماریاؓ وبائ امراض کی شکل اختیارکرتی ییں ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کی جانب سے بروقت طبی ٹیم مغلزئی پہنچنے اور مریضوں کا چیک اپ کرنے پر اہلِ علاقہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے*

خبرنامہ نمبر 7096/2026
پنجگور ۔ گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول پنجگور میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی، انتظامی امور، طلبہ کے داخلوں اور کلسٹر بجٹ کے استعمال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پنجگور نظام رحیم بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عابد حسین، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول ملک مقبول، ڈی او ای میل سعید اکبر، ڈی او ای فیمیل محترمہ روبینہ، تمام ڈی ڈی اوز، آر ٹی ایس ایم پنجگور قاسم اور ضلع بھر کے ہیڈ ماسٹرز، ہیڈ مسٹریسز و ہیڈ کلسٹرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سکولوں کی مجموعی کارکردگی، طلبہ کے داخلوں، فیڈنگ سکولز اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سکول سربراہان کو ہدایت کی گئی کہ داخلوں میں بہتری، تعلیمی معیار اور اداروں کے نظم و نسق پر خصوصی توجہ دیں، جبکہ فیڈنگ سکولز کا ریکارڈ باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے۔کلسٹر بجٹ کے حوالے سے ہدایت کی گئی کہ فنڈز شفاف طریقے سے اور قواعد و ضوابط کے مطابق استعمال کیے جائیں، مکمل ریکارڈ رکھا جائے اور تمام اخراجات کی دستاویزات محفوظ کی جائیں۔ عوام کی شکایات اور رہنمائی کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر میں ایک شکایتی سیل بھی قائم کیا جائے گا، جہاں کلسٹر بجٹ سے متعلق شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تعلیمی و انتظامی امور میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام افسران و سکول سربراہان اپنی ذمہ داریاں مؤثر، شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر 7097/2026
کوئٹہ 28اگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر شہر کے مختلف علاقوں میں کم وزن روٹی فروخت کرنے والے تندوروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے فقیر محمد روڈ، جان محمد روڈ، سرکی روڈ اور طوغی روڈ پر کارروائیاں کرتے ہوئے کم وزن روٹی فروخت کرنے والے متعدد تندوروں کو چیک کیا۔اسی طرح اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سریاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران 12 تندور سیل جبکہ 23 افراد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو مقررہ وزن کے مطابق روٹی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خبرنامہ نمبر 7098/2026
ضلع چمن میں آئندہ پولیو مہم کی تیاریوں، سیکیورٹی انتظامات اور بچوں کی مؤثر ویکسینیشن کے حوالے سے اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اے ڈی سی چمن فدا احمد بلوچ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکولوں اور مدارس میں زیرِ تعلیم 5 سے 10 سال تک عمر کے بچوں کو پولیو کے قطروں سمیت متعلقہ امیونائزیشن پروگرامز کے تحت ویکسین کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ کوئی بھی اہل بچہ حفاظتی ویکسین سے محروم نہ رہے۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی بروقت تعیناتی، بچوں کی مکمل کوریج، ویکسینیشن ریکارڈ کی تکمیل اور فیلڈ میں مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے والدین، اساتذہ، علماء، انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کا تعاون ناگزیر ہے۔
اجلاس میں پولیو ٹیموں اور فیلڈ اسٹاف کی سیکیورٹی کے لیے جامع انتظامات، حساس علاقوں میں اضافی نفری کی تعیناتی اور مہم کے دوران سیکیورٹی و انتظامی امور کو مؤثر بنانے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت فرائض انجام دیے جائیں، تاکہ ضلع چمن میں ہر اہل بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 7099/2026
کوئٹہ 28 اگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ قوموں کی پہچان مشکلات سے نہیں بلکہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے عزم، حوصلے اور مستقبل کی اسٹرٹیجی سے ہوتی ہے۔
موجودہ حکومت نے ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب ملک کو کئی پیچیدہ چیلنجز درپیش تھے۔ معاشی دباؤ، سیاسی بےیقینی، توانائی کے مسائل، عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال اور خطے کے چیلنجز ہمارے سامنے تھے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ان مشکل حالات میں کئی بحرانوں پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کیے اور ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کیلئے کوششیں کیں۔ ان خیالات کا اظہار آج انہوں نے مختلف اراکین اسمبلی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال صرف ہمارے اندرونی فیصلوں سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ زیادہ تر عالمی اور خطے کے کشیدہ حالات بھی اس پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب ہم ایک مسئلے کے حل کی طرف بڑھتے ہیں تو خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال بعض اوقات نئے چیلنجز سامنے لے آتی ہے۔ اس لیے ہمیں مستقل مزاجی، دانشمندی اور دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ ہم مایوسی اور ناامیدی کے اندھیروں سے نکل کر امید اور دیرپا ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔ مشکلات کی طویل رات ختم ہونے کے قریب ہے اور ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے۔ پورے خطے میں سیاسی، تجارتی اور معاشی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور پاکستان و بلوچستان کیلئے ترقی و خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ان رونما ہونے والے مواقعوں اور دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہم سب کا کردار نہایت اہم ہے۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ بلوچستان کی ترقی سے وابستہ ہے۔ اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع، وسیع ساحلی پٹی، قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور وسطی ایشیا، اور مشرقِ وسطیٰ سے رابطے کی صلاحیت کے باعث بلوچستان پورے خطے کے معاشی جمود کو توڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ حالات ہمارے اجتماعی مفاد میں بدل رہے ہیں، نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ہمیں ان مواقع کو حقیقت میں تبدیل کرنے کیلئے متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

خبرنامہ نمبر 7100/2026
اُستامحمد: آٹا مہنگے داموں فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی متعدد دکانداروں پر جرمانے عائد ایک آٹا شاپ سیل کردیا گیا واضح رہے کہ آج
ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد محمد رمضان اشتیاق نے شہر کے مختلف علاقوں میں آٹا کی قیمتوں اور سرکاری نرخوں پر فروخت کا جائزہ لینے کے لیے اچانک معائنہ کیا۔ اس دوران مختلف دکانوں اور آٹا شاپس پر آٹا کی دستیابی معیار اور مقررہ نرخوں کے حوالے سے تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی۔معائنے کے دوران حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آٹا مہنگے داموں فروخت کرنے والے متعدد دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب دو آٹا شاپس کو سیل کر دیا گیا اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد محمد رمضان اشتیاق نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخ نامے کے مطابق آٹا اور دیگر اشیائے ضروریہ فروخت کریں اور عوام سے مقررہ قیمت سے زائد وصولی ہرگز نہ کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی، مصنوعی مہنگائی یا عوام کو ناجائز منافع خوری کے ذریعے لوٹنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی
واضح رہے کہ آج منعقدہ کھلی کچہری کے دوران شہریوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال کو آٹا مہنگے داموں فروخت کیے جانے کی متعدد شکایات پیش کی گئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر نے عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد کو ہدایت جاری کی کہ آٹا کی قیمتوں کی چیکنگ کی جائے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے فیلڈ میں کارروائی کی جس کے نتیجے میں متعدد دکانداروں کو جرمانے کیے گئے جبکہ دو آٹا شاپس کو سیل کر دیا گیا ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے کہا ہے کہ عوام کو مقررہ سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ بازاروں میں باقاعدگی سے قیمتوں کی نگرانی کریں تاکہ شہریوں کو ناجائز منافع خوری اور گرانفروشی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 7101/2026
سوراب:ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں سیکیورٹی اور امن و امان کے قیام کے لیے سنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او بلاول بلوچ،ایڈیشنل ایس ایچ او سٹی محمد اسماعیل نیچاری اور ڈپٹی افسر محمد رحیم کی نگرانی میں داخلی و خارجی راستوں سمیت مختلف اہم مقامات پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔چیکنگ کے دوران مشکوک افراد، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تلاشی کے ساتھ شناختی کارڈز، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ غیرقانونی ڈارک شیشوں کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے متعدد گاڑیوں سے ڈارک شیشے اتار دیے گئے اور خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کو سخت تنبیہ کی گئی۔پولیس کے مطابق سنیپ چیکنگ کا مقصد جرائم پیشہ اور مشتبہ عناصر کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

خبرنامہ نمبر 7102/2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی ہدایات پر چمن شہر کو صاف، سرسبز، شاداب اور خوبصورت بنانے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے جاری خصوصی صفائی مہم کو مزید مؤثر اور تیز کرنے کے لیے اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا  بلوچ کی سربراہی میں میونسپل کارپوریشن، لوکل گورنمنٹ اور متعلقہ اداروں کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شہر کے مختلف علاقوں میں جاری صفائی کے عمل، کچرے کے خاتمے، صفائی کے نظام کو مزید فعال بنانے اور مہم کو مقررہ اہداف کے مطابق مکمل کرنے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چمن شہر کے تمام اہم شاہراہوں، بازاروں، گلی محلوں اور دیگر مقامات پر صفائی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور دستیاب وسائل و ہیوی مشینری کو مؤثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے شہر کو مکمل طور پر صاف ستھرا بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ شہر کی صفائی کے ساتھ ساتھ شجرکاری، سبزہ اور خوبصورتی کے اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ چمن کو ایک صاف، سرسبز، خوبصورت اور مثالی شہر بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے آئندہ چند روز میں چمن کے متوقع دورے کے پیش نظر صفائی مہم اور شہر کی خوبصورتی کے اقدامات کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور بھرپور تعاون کے ساتھ صفائی مہم کو کامیابی سے مکمل کریں تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر 7102/2026
دُکی: ڈپٹی کمشنر دُکی فضل الرحمن کبدانی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں عوامی گزرگاہوں کی روانی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران گودی محلہ میں ریڑھیوں کے لیے مختص مقام کے راستے میں کھڑی ریڑھیوں کو ہٹا کر عوامی گزرگاہ کلیئر کی گئی، جبکہ لورالائی روڈ، زمان روڈ سمیت شہر کے مختلف مقامات پر راستوں میں رکاوٹ بننے والی ریڑھیوں اور دیگر تجاوزات کو بھی ہٹا دیا گیا۔ انتظامیہ نے ریڑھی بانوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ریڑھیاں مقررہ اور مختص کردہ مقامات پر لگائیں تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ ہو اور شہر میں ٹریفک و عوامی گزرگاہوں کی روانی برقرار رہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو بہتر اور منظم ماحول کی فراہمی کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

خبرنامہ نمبر 7103/2026
استامحمد۔۔ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے ناجائز منافع خوری اور زائد نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد محمد رمضان اشتیاق کی زیرِ صدارت آج پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انجمن تاجران کے نمائندگان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں بالخصوص آٹے کے نرخوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پر موجودہ مارکیٹ صورتحال اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد سے متعلق امور زیرِ بحث آئے اسسٹنٹ کمشنر اُستامحمد محمد رمضان اشتیاق نے تاجر برادری کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخ ناموں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کو مقررہ قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے انہوں نے کہا کہ آٹا اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش عوام کی روزمرہ ضروریات کا لازمی حصہ ہیں اس لیے ان کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ ناجائز منافع خوری ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ دکانیں سیل کرنے سمیت دیگر قانونی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ تاجر برادری انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے سرکاری نرخ ناموں کو نمایاں جگہ پر آویزاں کرے اور صارفین سے مقررہ نرخوں سے زائد رقم وصول کرنے سے گریز کرے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کے نظام کو مزید مؤثر بنائے گی اور مارکیٹوں میں باقاعدگی سے چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں بھی تجارت میں دیانت داری انصاف اور اعتدال پر زور دیا گیا ہے جبکہ ناجائز منافع خوری اور عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے تاجر برادری کا فرض ہے کہ وہ جائز منافع کے ساتھ کاروبار کرے اور عوام کو مناسب نرخوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے اجلاس کے اختتام پر اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔

خبرنامہ نمبر 7104/2026
قلات:ضلعی انتظامیہ قلات کی جانب سے منعقد کردہ کھلی کچہری میں عوامی حلقوں کی جانب سے بازار میں تجاوزات سے متعلق شکایات سامنے آئے جسکا فوری نوٹس لیتے ہوے اسسٹنٹ کمشنر اسدسمالانی کے خصوصی ہدایات پر تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی نے قلات بازار کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں تجاوزات کے خاتمے کے لیئے عملی اقدامات اٹھاتے ہوے دکانوں کے سامنے سڑک کے حدود میں رکھے گئے سامان اٹھادیئے اور تجاوز کرنے والے دکانداروں کو جرمانے کرکے انہیں سخت تنبیہ بھی کردیاتحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر انجینیئرعائشہ زہری کی سربراہی میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کا عمل جاری رکھی جائیگی تاجربرادری تجاوزات سے گریز کریں اس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامناہے اور ٹریفک کی روانی بھی کافی متاثر ہوتی ہے کسی بھی تاجر نے تجاوز کی اور اپنے سامان دکان سے باہر سڑک کے حدود میں رکھ دیا تو اسکے خلاف مقدمہ درج کرکے اسکے دکان کو سیل کردیاجائیگا تاجر برادری ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *