15th-April-2026

خبر نامہ نمبر3024/2026
کوئٹہ15 اپریل:۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مسلم ہینڈ زکے ریجنل ہیڈ ملک نعیم کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی جس میں صوبے میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم، فلاح و بہبود اور ان کے روشن مستقبل کی فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں رکن صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ بھی موجود تھے ملاقات کے دوران وفد نے بلوچستان میں جاری فلاحی و تعلیمی سرگرمیوں پر بریفنگ دی اور یتیم و نادار بچوں کے لیے معیاری تعلیمی ادارے کے قیام سمیت مختلف قابل عمل تجاویز پیش کیں اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے اداروں کا قیام نہ صرف بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرے گا بلکہ انہیں ایک محفوظ، باوقار اور سازگار تعلیمی ماحول بھی میسر آئے گا جو ان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ناگزیر ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فلاحی اداروں کے ساتھ مؤثر اشتراک کو فروغ دے کر ایسے پائیدار منصوبے متعارف کرائے گی جن کے ذریعے نادار بچوں کو معیاری تعلیم، بہترین تربیت اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں یتیم و مستحق بچوں کے لیے معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے نجی و فلاحی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اس سہولت سے مستفید کیا جا سکے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایسے تمام اقدامات کی بھرپور سرپرستی کرے گی جو بچوں کے محفوظ مستقبل اور معاشرے کی مجموعی ترقی کا باعث بنیں اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وفد کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیش کی گئی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر قابل عمل منصوبوں کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بھرپور تعاون اور مثبت پیش رفت کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی اشتراک سے فلاحی و تعلیمی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر3025/2026
کوئٹہ15 اپریل:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی حکومت اور آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے درمیان باہمی اشتراک کے فروغ سے متعلق ایک اہم اجلاس بدھ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس میں صحت کے شعبے میں سرکاری و نجی شراکت داری کے فروغ، کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں عوام کو بروقت، معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ایمرجنسی سروسز کی بہتری، کینسر اور دیگر موذی امراض کے علاج معالجے کی دستیابی اور طبی خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان میں صحت عامہ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نجی شعبے کی مہارت، وسائل اور جدید طبی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا اس سلسلے میں آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ساتھ ممکنہ اشتراک کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جن کے ذریعے ہسپتالوں کی استعداد کار میں اضافہ، تشخیصی و علاج معالجے کی سہولیات کی بہتری، جدید طبی خدمات کی فراہمی اور خصوصی طور پر کینسر سمیت پیچیدہ امراض کے علاج کو مقامی سطح پر یقینی بنایا جا سکے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت معیاری نجی طبی اداروں کی خدمات حاصل کرکے عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ کینسر اور دیگر موذی امراض کا معیاری علاج صوبے کے اندر ہی ممکن بنایا جائے گا تاکہ مریضوں کو دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات، جدید نظام کے نفاذ اور پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مؤثر شراکت داری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اس ضمن میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جو فوری نتائج کے حامل ہوں اور عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کریں وزیر اعلیٰ نے طبی تعلیم اور ریسرچ کے فروغ پر خصوصی زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا کر ماہر افرادی قوت تیار کی جائے تاکہ صوبے میں صحت کے نظام کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مجوزہ اشتراک کے تحت ایسے عملی اور قابل عمل منصوبے ترتیب دیے جائیں جو نہ صرف قلیل مدت میں نتائج دیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر بھی صحت کے شعبے میں بہتری کا باعث بنیں اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر امین خان مندوخیل، آریا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سہیل خان اور متعلقہ حکام شریک تھے
خبر نامہ نمبر3025/2026
کوئٹہ 15 اپریل۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کی زیر صدارت انتظامی افسران کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور افسران کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں پرائس کنٹرول، انسداد تجاوزات، امتحانی مراکز میں ڈیوٹی، مختلف ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کے دوروں اور اسکولوں کی مانیٹرنگ کو روزانہ کی بنیاد پر یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہر کے مرکزی شاہراہوں لیاقت بازار، قندہاری بازار، جناح روڈ، جوائنٹ روڈ اور ائیرپورٹ روڈ پر بلا امتیاز تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں۔ انہوں نے گرانفروشوں کے خلاف بھی روزانہ کی بنیاد پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کیے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے ناجائز منافع خوروں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز روزانہ کی بنیاد پر اپنی کارکردگی رپورٹس جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔ انہوں نے تندوروں اور قصابوں کی جانب سے مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی پر بھی فوری اور سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ شہر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے تمام مین شاہراہوں سے تجاوزات کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر3026/2026
کوئٹہ 15 اپریل۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے شہر کے بنیادی مراکز صحت کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے بی ایچ یو کلی مبارک چوک اسپنی روڈ اور بی ایچ یو رحیم کالونی کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران افسران نے طبی عملے کی حاضری رجسٹر چیک کیا، مریضوں کے لیے ادویات کے اسٹاک اور دستیابی کا جائزہ لیا اور او پی ڈی، لیبارٹری و دیگر شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے موقع پر موجود انچارجز کو مراکز میں صفائی ستھرائی، سہولیات کی بہتری اور آنے والے مریضوں کو بروقت و معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام بی ایچ یوز کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری رہے گا اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر3027/2026
کوئٹہ 15 اپریل: کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت این-25 نیشنل ہائی وے کے منصوبے پر جاری کام کی پیشرفت اور حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، ڈپٹی کمشنر چمن منصور احمد، ڈپٹی کمشنر پشین، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے افسران اور متعلقہ انجینئرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران این-25 نیشنل ہائی وے پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر این ایچ اے حکام کی جانب سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کوئٹہ ڈویژن میں کوئٹہ تا چمن سیکشن کا منصوبہ دو سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا، جس کے لیے درکار فنڈز جاری ہو چکے ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پشین میں زمینوں کی سیٹلمنٹ کے کچھ مسائل درپیش ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ منصوبے میں تاخیر نہ ہو۔ جبکہ کوئٹہ میں زمین کے حصول کے لیے سیکشن-4 کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے، جس سے زمین کے حصول کے عمل اور تعمیراتی کام کی رفتار میں نمایاں تیزی آئے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ این-25 نیشنل ہائی وے کا منصوبہ صوبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس شاہراہ کی تکمیل سے نہ صرف کوئٹہ، پشین اور چمن سمیت دیگر شہروں کے مابین رابطے میں بہتری آئے گی بلکہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کر کے حادثات کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے متعلقہ تمام محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی راہ میں حائل تمام انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔کمشنر نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ این ایچ اے حکام سے مکمل تعاون کریں اور زمین کے حصول و سیٹلمنٹ کے مسائل کو مقررہ مدت میں حل یقینی بنائیں تاکہ یہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ بروقت مکمل ہو سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر3028/2026
کوئٹہ 15اپریل:۔بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں محکمہ داخلہ سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت رکن اسمبلی خیر جان بلوچ نے کی۔اجلاس میں اراکین اسمبلی عبید اللہ گورگیج، اصغر علی ترین، میر ضیاء اللہ لانگو، علی مدد جتک، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان پروبیشن اینڈ پیرول بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے بل کے مختلف پہلوؤں پر جامع بحث کی۔ اس بل کا بنیادی مقصد صوبہ بلوچستان میں مجرموں کی پروبیشن کے مؤثر نظام کا قیام، ان کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کو یقینی بنانا، اور پیرول سے متعلق امور کو منظم انداز میں نافذ کرنا ہے۔بل کے تحت صوبے میں پروبیشن اور پیرول سے متعلق قوانین کو یکجا اور مربوط بنایا جائے گا تاکہ حکومتی سطح پر نگرانی، اصلاح اور بحالی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ مزید برآں، بل میں کمیونٹی سروس، فنی تربیت اور بحالی کے پروگرامز کے ذریعے معاشرتی شمولیت کو فروغ دینے، ڈائریکٹوریٹ جنرل پروبیشن اینڈ پیرول کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، اور ایک متوازن، انسانی اور اصلاحی انصاف کے نظام کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔یہ قانون عوامی تحفظ کو یقینی بنانے، متاثرین کے حقوق کے تحفظ، جرائم کی شرح میں کمی، اور بہتر طرز حکمرانی و عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
خبر نامہ نمبر3029/2026
کوئٹہ15اپریل:۔ زونل رویت ہلال کمیٹی کوئٹہ کا اہم اجلاس 18 اپریل 2026 بروز ہفتہ بعد از مغرب طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ اجلاس اسلامی مہینے ذوالقعدہ 1447ھجری کا چاند دیکھنے کے حوالے سے منعقد کیا جا رہا ہے۔تمام زونل کمیٹی ممبران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چاند کی رویت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں چاند کی شہادتوں کو اکٹھا کیا جائے گا جس کے بعد ذوالقعدہ کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر3030/2026
کوئٹہ15 اپریل:۔حکومت بلوچستان نے گندم کاشت کرنے والے چھوٹے زمینداروں اور خصوصاً کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تھریشر سبسڈی اسکیم پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کاشتکاروں کو درپیش مالی دباؤ میں کمی لانا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ اب تک 3 ہزار 102 کسانوں کے اکاؤنٹس میں سبسڈی کی رقم منتقل کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ دو سے تین روز میں مزید 13 ہزار 128 کسانوں کو سبسڈی فراہم کر دی جائے گی اسی طرح بتدریج تمام کسانوں کے اکاؤنٹس کے تصدیقی عمل کے ساتھ ہی تھریشر سبسڈی کی فراہمی کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا محکمہ زراعت حکومت بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں 85 ہزار 821 کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جن میں سے 74 ہزار 202 کی تصدیق مکمل کی جا چکی ہے بلوچستان میں گندم کاشت کرنے والے زمینداروں کی تعداد 68 ہزار 972 ہے جبکہ 50 ہزار 329 ایسے کاشتکار ہیں جن کے پاس 12.5 ایکڑ یا اس سے کم زرعی زمین موجود ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کہا کہ خطے میں کشیدگی کے دوران فیول کی قیمتوں میں اضافے نے زراعت سے وابستہ افراد کو شدید متاثر کیا ہے خصوصاً وہ چھوٹے زمیندار اور کسان جن کی گندم کی فصلیں تیار ہو چکی ہیں اور اب تھریشر کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں انہوں نے کہا کہ ایسے کاشتکاروں کو فی ایکڑ کے حساب سے فیول سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اضافی بوجھ کم کیا جا سکے اور وہ اپنی فصل کی بروقت کٹائی اور تھریشر کا عمل مکمل کر سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے لیے عملی ریلیف فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سبسڈی کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق کسان اس سے مستفید ہو سکیں اور صوبے میں زرعی پیداوار کو فروغ حاصل ہو۔
خبر نامہ نمبر3031/2026
کوئٹہ15اپریل:۔ بلو چستان ریونیو اتھارٹی کی چیئرپرسن کی زیر صدارت Balochistan Tax Bar Association کے اراکین کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیکس قوانین، ٹیکس تعمیل اور کاروباری برادری کیلئے سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں بی آر اے کے ٹیکس قوانین، سروس فراہم کنندگان کی رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرنز کی بروقت فائلنگ اور بلوچستان کے عوام کیلئے محصولات میں اضافے کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر کاروباری افراد اور سروس فراہم کنندگان کو درپیش مسائل کے حل اور سہولت کاری کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔بلوچستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے بی آر اے کی ٹیم کی جانب سے ٹیکس نظام میں بہتری، شفافیت اور کاروبار دوست اقدامات کو سراہا اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کو فروغ دینے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر دونوں اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سروس فراہم کنندگان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ٹیکس تعمیل کو فروغ دے کر صوبے میں محصولات میں اضافہ اور عوامی فلاح کے منصوبوں کیلئے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر3032/2026
کوئٹہ15اپریل:۔ بلو چستان ریونیو اتھارٹی نے صوبے بھر میں بیوٹی پارلرز کی رجسٹریشن اور ٹیکس ادئیگی کو فروغ دینے کیلئے ایک سہولت پر مبنی عمل کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیوٹی سروسز فراہم کرنے والوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرتے ہوئے انہیں قانونی اور کاروباری سہولیات فراہم کرنا ہے۔اتھارٹی کے مطابق بیوٹی پارلرزکے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں، بروقت ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں اور واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ بی آر اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کاروباری حضرات کو رجسٹریشن اور ٹیکس معاملات میں ہر ممکن رہنمائی اور سہولت فراہم کی جائے گی۔بی آر اے نے مزید کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی بہتر ہوگی بلکہ شفافیت میں اضافہ اور صوبے کیلئے محصولات میں بہتری بھی ممکن ہو سکے گی۔
خبر نامہ نمبر3033/2026
کوئٹہ 15اپریل:۔نیب بلوچستان نے 1.41 ٹریلین سے زائد مالیت کی سرکاری اراضی کی تاریخی ریکوری کی۔قومی احتساب بیورو (بلوچستان)نے قومی اثاثوں کے تحفظ، عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے اپنے مینڈیٹ کے مطابق، احتساب اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ریاستی اراضی کو بازیاب کرا کے ایک شاندارتاریخی مثال قائم کی ہے۔ مسلسل کاوش اور بہترین حکمت عملی کے مؤثر نفاذ کے ذریعے، نیب بلوچستان نے کامیابی کے ساتھ 1.02 ملین ایکڑ سرکاری اراضی سال 2025 کے دوران بازیاب کرالی ہے جس کی مالیت1.374 ٹریلین ہے۔2026 کے پہلے عشرے میں نیب بلوچستان نے 51،576 ایکٹر کی غیر قانونی قبضہ کی گئی مزید زمین بازیاب کرالی ہے جس کی مالیت 36.54 بلین روپے ہے۔ مجموعی طور پر، ان کوششوں کے نتیجے میں 1.07 ملین ایکڑ ریاستی اراضی کی بازیابی ہوئی ہے، جس کی کل تخمینہ قیمت 1.41 ٹریلین روپے ہے۔ یہ شاندار کامیابی نیب بلوچستان کے بالغ نظری، مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی اور غیر قانونی زمینوں پر قبضوں کو ختم کرنے اور عوامی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔ سرکاری اراضی کی بازیابی نہ صرف ریاست کے لیے کافی معاشی فائدہ کی نمائندگی کرتی ہیں بلکہ احتسابی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی تقویت دیتی ہیں۔نیب بلوچستان شفافیت کو آگے بڑھانے،بدعنوانی اور ریاستی اثاثوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے کے اپنے مشن میں ثابت قدم ہے۔ نیب بلوچستان عوامی بہبود اور قومی ترقی کے لیے ریاستی اراضی کی بازیابی کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے گا۔

خبر نامہ نمبر3034/2026
لاہور15اپریل:۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ وٹاکڑی میں گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور یہ ادارہ علاقے کی بچیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس اسکول کی تکمیل ایک اہم سنگِ میل ہے،جس کا مقصد دور دراز علاقے کی بچیوں کو تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اب طالبات کو تعلیم کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے نہیں کرنے پڑیں گے۔سردار کھتیران نے مزید کہا کہ حکومت بچیوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور اسی سلسلے میں مختلف علاقوں میں تعلیمی منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ بچی پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے حلقے میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وٹاکڑی کے اس نئے اسکول سے علاقے میں تعلیمی شعور میں اضافہ ہوگا اور بچیوں کا مستقبل روشن ہوگا۔
خبر نامہ نمبر3035/2026
کوئٹہ 15 اپریل:۔ وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے محنت کشوں اور مزدوروں کے بچوں کے اسلام آباد،لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں معیاری تعملیمی ادارے میں داخلوں کیلیے خصوصی اسکالرشپ کااعلان کرکے مزدوروں کے دل جیت لیے ہیں، اس لیے اب ناگزیر ہیکہ محنت مزدوری کرنے والے غریب محنت کش وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے اعلان کردہ خصوصی وظائف سے فائدہ اٹھا کر اپنے بچوں کو ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں، یہ بات انھوں نے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی مشیر نے کہا کہ حلال رزق کمانے والے محنت کش اور مزدور طبقہ ہمارے دل کے بہت قریب ہیں اب محنت مزدوری کرنے والے کا قابل و محنتی بچہ بلوچستان حکومت کے ورکرز ویلفیر بورڈ اور محکمہ محنت وافرادی قوت کے مفت اسکالرشپ سے استفادہ اٹھائیں،انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے کم وسائل اور محروم طبقے کے بچوں کے لیے اسکالرشپ کا اجرا کرکے ان کیلیے علم وہنر اور شعور کے دروازے کھول دیے ہیں اس لیے اب بلوچستان کے ہر نادار و غریب بچے کے لیے تعلیم کا حصول جو پہلے محض ایک خواب تھا اب وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک و قوم کی ترقی و معیشت کی مضبوطی میں محنت کشوں کے کلیدی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان حکومت مستقبل میں بھی مزدوروں کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کے تسلسل کو جاری رکھے گی۔
خبر نامہ نمبر3036/2026
قلعہ سیف اللہ15اپریل:۔ ژوب ڈویژن کے کمشنر آصف علی فرخ کی زیر صدارت سی آر سی (Complaint Redressal Committee) کا ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سید حسین شاہ ترمذی سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی مقصد مختلف امیدواروں کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایات اور اعتراضات کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر متعدد امیدواروں نے اپنی درخواستیں پیش کرتے ہوئے بھرتیوں اور دیگر امور سے متعلق اپنے تحفظات اور اعتراضات بیان کیے۔کمشنر ژوب ڈویژن آصف علی فرخ نے تمام امیدواروں کو مکمل موقع فراہم کیا کہ وہ بلا جھجھک اپنے مسائل اور شکایات پیش کریں۔ انہوں نے ہر شکایت کو نہایت غور و توجہ سے سنا اور متعلقہ ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے پر خاص زور دیا گیا۔کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ تمام شکایات کو میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔ بعض معاملات میں موقع پر ہی احکامات جاری کیے گئے جبکہ دیگر کیسز کو مزید جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ حکام کے سپرد کیا گیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام فیصلے مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جائیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر3037/2026
قلات 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر خالق آبادڈاکٹر علی گل عمرانی نے مندے حاجی روڈ پروجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا۔پراجیکٹ فرم پی ٹی اے کمپنی کے زیرتعمیر سڑک کی پیش رفت کا بغور جائزہ لیا گیاروڈ سائٹ مانی?رنگ کے موقع پر انتظامی افسر نے کام کے معیار اور ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا۔متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں اور تعمیراتی معیار کو برقرار رکھیں۔
خبر نامہ نمبر3038/2026
سوراب 15اپریل:۔سوراب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر شہید سکندر آباد سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ اور ایس پی سوراب خورشید احمد بلوچ کے زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی سمیت پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران علاقے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بازاروں میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، پولیس گشت کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی موجودگی کو مزید بڑھایا جائے گا تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطہ اور تعاون کو فروغ دیں تاکہ عوامی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سوراب میں پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر3039/2026
قلات 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کیسکوقلات کے لائن سپرنٹنڈنٹ منیر احمد مینگل کو بہترین کارکردگی پیش کرنے پر تعریفی سند سے نوازا۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ شہر میں بجلی کی فراہمی غیرقانونی کنکشنز کے خلاف بھرپور کاروائی نئے میٹرز کی تنصیب اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی قابل تعریف ہے جوبھی گورنمنٹ ملازم اپنے پیشے سے مخلص رہیگا اپنے فیلڈ میں بہترکارکردگی پیش کریگا اسکی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔

خبر نامہ نمبر3040/2026
تربت15اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر کچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت کیچ میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، ڈپٹی ڈی ای او دشت شیرجان دشتی، ڈپٹی ڈی ای او تربت نعیم جان،ڈپٹی ڈی ای او فیمیل تمپ شاری بلوچ، میڈم ماہ پری، جنت عزیز، ممتاز بلوچ، مختلف تحصیلوں کے ڈپٹی ڈی ای اوز، آر ٹی ایس ایم کے کوار ڈینیٹر حلیم بلوچ، فلائیٹ کے نزیر گاجیزئی، یونیسیف کے فیض الرحمان اور دیگر سرکل ہیڈز نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تفصیلی غور خوص کیا گیا۔ حکام کے مطابق ضلع میں کل 718 اسکولز میں سے 85 شلٹرلیس اسکول فعال ہیں جب کہ مجموعی طور پر 116 اسکول عمارت سے محروم ہیں۔ شلٹر لیس 44 اسکولوں کے بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جبکہ 58 اسکولوں میں پی ٹی ایس ایم سی تشکیل دی گئی ہے۔ 11 اسکولوں کو فنڈز کے چیکس جاری کیے گئے جبکہ مزید 14 کے چیکس منظور ہو چکے ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شلٹرلیس اسکولوں کو فعال بنانے کے لیے مقامی کمیونٹی کو شامل کیا جائے گا اور بچوں کے داخلے کو یقینی بنایا جائے گا۔اس دوران ڈپٹی کمشنر کو بتایا گیا کہ بی ایس ڈی پی کے تحت 41 نامکمل اسکولوں کا دورہ کیا گیا جن میں پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دشت کے بعض علاقوں میں ایسے اسکولوں کی نشاندہی بھی کی گئی جہاں فنڈز کے اجرا کے باوجود کوئی کام نہیں ہوا جس پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوراً کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کی گئی اور ایجوکیشن آفس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے بھی احکامات جاری کیے گئے نصابی کتب کے حوالے سے بتایا گیا کہ ضلع کیچ کو 6 لاکھ 50 ہزار کتابیں موصول ہوئی ہیں جب کہ ضرورت 7 لاکھ کتابوں کی ہے۔ اس دوران تین کلسٹر اسکولوں کی جانب سے تاحال کتابیں وصول نہ کرنے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔داخلہ مہم کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں کیچ ضلع سرفہرست ہے اور ایک مخصوص ایپ کے ذریعے تمام ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء ڈپٹی کمشنر کیچ کی ہدایت پر جعلی داخلوں کے تدارک اور کراس چیکنگ کو لازمی قرار دیا گیا اس کے لیے مقامی معتبرین اور کونسلرز سے رابطہ کی ضرورت پر زوردیا گیا۔اجلاس میں اساتذہ کی تعداد اور کارکردگی پر بھی گفتگو ہوئی۔ بتایا گیا کہ ضلع کیچ میں 4600 اساتذہ اور 2000 نان ٹیچنگ اسٹاف تعینات ہیں جن کی چیک اینڈ بیلنس اور حاضری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر دورہ کیا جاتا ہے۔ افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اسکولوں کے دورے مذید بڑھائیں اور غیر حاضری کے مسئلے پر قابو پائیں۔اجلاس کے اختتام پر یونیسیف کے نمائندے کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے تمام جاری منصوبوں کی تفصیلی اور جامع رپورٹ مکمل ریکارڈ کے ساتھ جلد از جلد پیش کریں جب کہ آئندہ ماہ کے لیے جامع منصوبہ بندی پر بھی زور دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر3041/2026
لورالائی15اپریل: ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے بدھ کے روز سول ہسپتال لورالائی کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ایمرجنسی وارڈ، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی)، لیبارٹری سمیت دیگر اہم شعبوں کا جائزہ لیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا بغور معائنہ کیا۔ انہوں نے موقع پر موجود مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے بھی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔اس موقع پر سپروائزر ٹیچنگ ہسپتال ناصر اور دیگر متعلقہ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کی مجموعی صورتحال، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حاضری کو چیک کیا اور انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ عوام کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ معیاری طبی خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔، اسسٹنٹ کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ایمرجنسی وارڈ میں عملے کی تعداد بڑھائی جائے اور مریضوں کے رش کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے ادویات کے اسٹاک کو ہمہ وقت مکمل رکھنے اور مشینری کو فعال حالت میں رکھنے پر بھی زور دیا۔دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آئندہ دنوں میں ضلع بھر کے دیگر صحت مراکز کے بھی اچانک دورے کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3042/2026
تربت15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے ایوننگ فالو اَپ جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر عبدالرؤف بلوچ، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر ارسلان درازئی، ریاض احمد، زیرِ تربیت اسسٹنٹ کمشنرز نعمان منیر اور ماہ نور برکت، ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر کیچ کو ضلع بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ مہم کے دوران درپیش مسائل اور رکاوٹوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے ہدایت کی کہ مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور رفیوزل کیسز کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے ضلع کیچ کی تمام یونین کونسلوں میں پولیو مہم کی کارکردگی اور اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا، اور محکمہ صحت و دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ مہم کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔آخر میں انہوں نے ڈی ایچ او کیچ کو ہدایت دی کہ فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے ایریا انچارجز کے خلاف فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں۔
خبر نامہ نمبر3043/2026
قلات15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت محکمہ ریونیو کا اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شاہنواز بلوچ اسسٹنٹ کمشنر خالق آباد ڈاکٹرعلی گل عمرانی تحصیلدار قلات حاجی عبدالغفار لہڑی سمیت قلات خالق آباد گزگ جوہان کے نائب تحصیلداروں قانون گو اور پٹواریوں سمیت دیگر اسٹاف نے شرکت کی۔اجلاس میں ایگریکلچر انکم ٹیکس کی وصولی خسرہ گرداوری رجسٹری انتقال فیس سمیت ریونیوریکارڈ کی درستگی سمیت دیگر ایم امور سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہا کہ محکمہ ریونیو قلات کے تمام اسٹاف اپنی کارکردگی بہتر بنائیں غفلت اور لاپروائی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی۔
خبر نامہ نمبر3044/2026
مستونگ 15 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم بلوچ کے زیر صدارت ڈسٹرکٹ کانفرنس ہال میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر احکام ساتکزئی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سعید احمد سرپرہ ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر مختیار گچکی نوراحمد ڈی ڈی او ای میل کردگاپ ڈی ڈی او ای فیمیل پری گل بخاری ناصر حسین ڈی ڈی او ای میل مستونگ ڈی ڈی او ای کھڈکوچہ احمد شاہ فیصل ندیم ڈی ڈی او ای میل دشت ڈی ڈی او ای فیمیل دشت مارخ روف آرٹی ایس ایم آفیسران نصیر احمد فہیم اقبال بلوچ جی ٹی اے بی مستونگ کے صدر زوئیب احمد جنرل سیکرٹری سید طاہر شاہ فوکل پرسن ڈی سی آفس عبدالحفیظ موجود تھے اجلاس میں ضلع مستونگ می محکمہ تعلیم و تعلیمی اداروں کی بہتری اور نئے سال کیلئے اسکولوں میں طلباء و طالبات کے داخلوں اسکولوں میں سہولیات اور اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے فیز فور کے تحت نئے اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بہرام سلیم بلوچ نے کہاکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے بی ایس ڈی آئی کے تحت صوبے بھر کے اضلاع کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اور تعمیر و ترقی کیلئے فنڈز دیئے گئے ہیں جن سے ضلع مستونگ میں بھی مختلف محکموں کے توسط سے بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی سمیت صحت و تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے ضلع مستونگ میں لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی کے حوالے سے کمی نہیں ہوگی ہماری کوشش ہے کہ صحت کے بعد تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طلباء و طالبات اور اساتذہ کو تمام سہولیات میسر ہو تاکہ ہمارے مستقبل کے مہمار بہتر سے بہتر انداز میں زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوں اور ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

خبر نامہ نمبر3045/2026
جعفرآباد15اپریل:۔ ضلع جعفرآباد میں انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے مختلف ٹرانزٹ پوائنٹس اور صوبائی سرحدی حدود کا دورہ کرتے ہوئے جاری مہم کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے جیکب آباد سے آنے والے بچوں کو خود پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے اور ان کی فنگر مارکنگ بھی کی تاکہ کسی بچے کی ویکسینیشن رہ نہ جائے۔ دورے کے دوران بابو رفیق ابڑو بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے فیلڈ میں موجود پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا معائنہ کیا اور انہیں ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں پولیو کے کیسز سامنے آنے کے پیش نظر جعفرآباد میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور خاص طور پر صوبائی سرحدی علاقوں پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ورکرز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضلع بھر میں بالخصوص داخلی و خارجی راستوں پر آنے جانے والے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسینیشن کے بغیر بلوچستان میں داخل نہ ہو سکے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کا واحد حل بچوں کو حفاظتی قطرے پلانا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو لازمی طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائیں تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3046/2026
جعفرآباد15اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تعلیم کے شعبے میں جاری اصلاحات، سابقہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد اور مجموعی تعلیمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر RTSM کی پیشرفت، فیلڈ اسٹاف کی کارکردگی اور ان کی ترقی کے عمل کی نگرانی، غیر حاضر عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی اور تنخواہوں سے کٹوتی جیسے امور زیر غور آئے۔ اجلاس میں ٹائم اسکیل کیسز، سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حالت، PTSMCs کی فعالیت، غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے کے اقدامات اور تعلیم کے شعبے میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی اسکیموں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں یونیسیف کے تعاون سے جاری منصوبوں اور ان کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اساتذہ اور عملہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر فعال اسکولوں کو ہر صورت فعال کیا جائے اور جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے وہاں فوری اقدامات کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں جا کر مسلسل مانیٹرنگ کریں اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ ضلع جعفرآباد میں تعلیم کے معیار کو مزید بلند کیا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر3047/2026
نصیرآباد15اپریل:۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، اکاؤنٹس آفیسر امجد بہرانی اور سپرنٹنڈنٹس شیراللہ کھوسہ و عبدالصمد کھوسہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے افسران کے پروموشن کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر نائب تحصیلدار، قانون گو اور محاسب کے عہدوں پر فائز ملازمین کی سینیارٹی لسٹ، فٹنس اور ورکنگ پیپرز کو باریک بینی سے جانچا گیا۔ کمیٹی نے تمام معاملات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اہل ایک محاسب آٹھ قانون گوز کو نائب تحصیلدار کے عہدے پر ترقیوں کی منظوری دے دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ پروموشن کے تمام کیسز کو مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر نمٹایا گیا ہے تاکہ مستحق اور اہل افسران کو ان کا حق دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پانے والے افسران پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سرکاری امور کی انجام دہی میں بہتری لائیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مزید موثر اقدامات کریں۔ کمشنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے میرٹ، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر3046/2026
استامحمد15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر اُستا محمد، محمد رمضان پلال نے ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس فیروز علی کے ہمراہ میر عبدالنبی خان جمالی پی سی بی اسٹیڈیم اُستا محمد کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد اسٹیڈیم میں دستیاب سہولیات، موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل کا جامع جائزہ لینا تھا تاکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے دورے کے دوران اسٹیڈیم میں پانی کی شدید کمی اور بجلی کی عدم دستیابی جیسے اہم مسائل سامنے آئے، جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ اسٹیڈیم کو فعال بنایا جا سکے اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس فیروز علی اور ایس ڈی او بلڈنگ عاشق علی بوہڑ بھی موجود تھے، جنہوں نے اسٹیڈیم کی موجودہ حالت اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے ہدایت کی کہ اسٹیڈیم کی مکمل بحالی اور بہتری کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل کنسیپٹ پیپر تیار کیا جائے، جسے آئندہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی DCC اجلاس میں پیش کر کے منظوری حاصل کی جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اسٹیڈیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو معیاری اور محفوظ کھیلوں کی سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، اور اسٹیڈیم کو جلد از جلد فعال اور مثالی کھیلوں کے مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔

خبر نامہ نمبر3047/2026
استامحمد15اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر اُستامحمد، محمد رمضان پلال نے تحصیل آفس گنداخہ کی مرمت و بحالی کے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر تحصیلدار گنداخہ، محمد ابراہیم پلال بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ڈپٹی کمشنر نے موقع پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کرتے ہوئے کام کی رفتار، معیار اور درپیش مسائل کا بغور جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ تعمیراتی کام کو مقررہ معیار کے مطابق اور طے شدہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر اور جدید سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کام میں کسی قسم کی غفلت یا معیار پر سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور تمام مراحل کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے واضح رہے کہ تحصیل آفس گنداخہ کی عمارت 2022 کے تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث دفتری امور بری طرح متاثر ہوئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اب بلوچستان سوشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو BSDI کے تحت اس اہم سرکاری عمارت کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد انتظامی نظام کو بحال اور مضبوط بنانا ہے ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اس موقع پر کہا کہ سرکاری دفاتر کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ ان اداروں کے مؤثر طریقے سے فعال ہونے سے عوام کو بروقت اور معیاری خدمات کی فراہمی ممکن بنتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کو یقینی بنا رہی ہے بلکہ عوامی سہولیات میں بہتری کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحصیل آفس گنداخہ کی بحالی سے نہ صرف سرکاری امور میں بہتری آئے گی بلکہ علاقے کے عوام کو بھی بہتر، تیز اور مؤثر خدمات میسر آئیں گی، جو عوامی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خبر نامہ نمبر3048/2026
تربت15اپریل:۔ یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ انگریزی کے دو ایم فل اسکالرز مہا اور حاجر ملک نے کامیابی کے ساتھ اپنے تھیسز کا دفاع کیا۔تھیسز ڈیفنس اور زبانی امتحان کے اجلاس کی صدارت فیکلٹی آف بزنس اینڈ اکنامکس کے ڈین نے کی جبکہ ڈائریکٹر گریجویٹ اسٹڈیز، کنٹرولر امتحانات اور پروگرام کوآرڈینیٹر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایس بی کے ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کی پروفیسر ڈاکٹر مہوش ملغانی اور جامعہ بلوچستان کوئٹہ کی لیکچرر ڈاکٹر صائمہ یوسف خان نے بطور ایکسٹرنل ایگزامینرزاجلاس میں شرکت کی۔ان ایم فل اسکالرز نے اپنی تحقیقی مقالہ جات یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہ میر بلوچ اور ڈاکٹر عدنان ریاض کی زیر نگرانی مکمل کیے۔ترجمان تربت یونیورسٹی کے مطابق یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، فیکلٹی آف لٹریچر اینڈ لینگویجز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور (تمغہ امتیاز) اور شعبہ انگریزی کے چیئرپرسن ڈاکٹر شاہ میر بلوچ نے دونوں اسکالرز کو ایم فل تھیسز کے کامیاب دفاع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی علمی کاوشوں کو سراہا۔
HANDOUT NUMBER 2026/3049
QUETTA 15 April:-NAB Balochistan Achieves Landmark Recovery of State Land Worth over Rs. 1.41 Trillion The National Accountability Bureau (Balochistan), in line with its mandate to safeguard national assets and uphold public trust, has achieved a landmark recovery of State land while reflecting its firm commitment to accountability and rule of law. Through sustained efforts and effective enforcement, NAB Balochistan has successfully recovered 1.02 million acres of State land with an estimated value of Rs. 1.374 trillion during the year 2025. In addition to this significant achievement, in the first quarter of 2026, the Bureau has further secured 51,576 acres of illegally occupied land, valued at Rs. 36.54 billion. Cumulatively, these efforts have resulted in the recovery of 1.07 million acres of State land, with a total estimated value of Rs. 1.41 trillion. This remarkable accomplishment underscores NAB Balochistan’s proactive approach, strengthened institutional coordination and firm resolve to eliminate illegal land encroachments / occupations and ensure protection of public resources. The recoveries not only represent a substantial economic gain for the State but also reinforce public confidence in accountability institutions. NAB Balochistan remains steadfast in its mission to pursue transparency and take indiscriminate action against corruption and illegal occupation of State assets. The Bureau will continue its efforts to identify reclaim and restore State lands for public welfare and national development.
خبر نامہ نمبر3050/2026
استامحمد15اپریل:۔ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی، ڈاکٹر عبدالحئی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق دیہی علاقوں میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ وہ خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور لگن کے ساتھ انجام دینے کے لیے یہاں تعینات ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآباد ڈویژن، نیک محمد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدام حسین بنگلزئی بھی موجود تھے ڈاکٹر عبدالحئی نے بتایا کہ ان کی تعیناتی حال ہی میں ہوئی ہے اور وہ ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ پی پی ایچ آئی کے زیر انتظام دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں ڈاکٹر عبدالحئی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی خدمت کے لیے وقف کریں گے اور صحت کے نظام کو مزید مؤثر، فعال اور عوام دوست بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
خبر نامہ نمبر3051/2026
لورالائی 15 اپریل:۔لورالائی میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع سے جمعیت علماء اسلام ضلع لورالائی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں ضلع بھر کے اہم تنظیمی عہدیداران اور تاجر و سماجی نمائندگان شامل تھے۔ ملاقات میں شہر کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کی قیادت ضلعی امیر مولانا محمد امین زاہد نے کی ملاقات کے دوران وفد نے شہر میں پانی کی قلت، صفائی کی ناقص صورتحال، ٹریفک کے مسائل، اور ترقیاتی منصوبوں میں سست روی جیسے اہم عوامی مسائل کی نشاندہی کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور متعلقہ محکموں کو فوری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون سے ہی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ضلعی سطح پر ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو شہری مسائل کی نگرانی اور ان کے حل کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی۔ علاوہ ازیں، شہر میں صفائی مہم اور ٹریفک کی بہتری کے لیے جلد خصوصی اقدامات کا آغاز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

خبر نامہ نمبر3052/2026
موسیٰ خیل15 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے پری فیب (PRE-FEB)عمارت کی مجوزہ زمین اور ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کی زیرِ تعمیر رہائش گاہ کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پری فیب عمارت کے لیے مختص اراضی کے محلِ وقوع کا جائزہ لیا اور ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کی رہائش گاہ پر جاری تعمیراتی کام کے معیار کو بھی پرکھا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جدید پری فیب ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سرکاری ڈھانچے کی تیزی سے تکمیل ممکن ہو سکے۔ انہوں نے تمام جاری منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق اور جلد مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبر نامہ نمبر3053/2026
ضلع چمن 15اپریل:۔ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی چمن کی مختلف اسکولوں کا دورہ کیاڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کلی معصوم خان اور گورنمنٹ ہائی سکول پرانا چمن کے تفصیلی دور کے دوران کلاس رومز میں طلباء سے ان کی پڑھائی اور سبجیکٹس کے حوالے سے سوالات پوچھ رہے ہیں اور اسکول میں اساتذہ کرام کی حاضریاں چیک کر رہے ہیں اور دونوں اس کو لوگوں کے ہیڈ ماسٹرز سکولوں میں داخل طلباء سلیبس اور دیگر ضروری حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر3054/2026
ضلع چمن 15اپریل:۔ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی بی ایچ یو ملت آباد کا دورہ کیاڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی بی ایچ یو ملت آباد چمن کے دورے کے دوران ڈاکٹروں کی حاضریاں اور مریضوں کی انٹری رجسٹر ادویات سٹور صفائی ستھرائی اور بی ایچ یو کی مختلف وارڈز ڈیوائسز اور لیبارٹری آلات اور مشینری چیک کر رہیہیں اور بی ایچ یو میں ڈاکٹر ڈی سی چمن کو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
خبر نامہ نمبر3055/2026
کوئٹہ15 اپریل۔خواتین کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات پر ٹیکس میں کمی کے لیے قانون سازی پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ اختر بی بی، رحمت صالح بلوچ، خیر جان سیکرٹری عبداللہ خان، ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ اور اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خواتین کی صحت سے متعلق بنیادی مصنوعات پر ٹیکس میں پچاس فیصد کمی یا مکمل خاتمے کے لیے بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ قرارداد پیش کی جائے گی۔ شرکاء نے کہا کہ اس اقدام سے کم آمدنی والی خواتین کو معاشی ریلیف ملے گا اور ان کی صحت کے معیار میں بہتری آئے گی۔

خبر نامہ نمبر3056/2026
استامحمد15اپریل:۔ ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن سے شہریوں نے ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل و شکایات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی شکایت سیل عبدالغنی پٹھان بھی موجود تھے۔ شہریوں نے امن و امان، جرائم کی روک تھام، پولیس رویے اور دیگر انتظامی امور سے متعلق اپنے مسائل پیش کیے جس پر ایس پی استامحمد نے تمام درخواستوں کو توجہ سے سنا اور فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے واضح ہدایات دیں کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اس موقع پر ایس پی حافظ معاذ الرحمٰن نے کہا کہ پولیس اور عوام کے درمیان باہمی تعاون سے ہی جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے اور شہریوں کا اعتماد بحال رکھنا پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں اور براہ راست ملاقاتوں کا مقصد عوام کے مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس عزم کا اظہار کیا کہ موصول ہونے والی تمام شکایات کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور ان کے حل تک فالو اپ جاری رکھا جائے گا۔پولیس عوامی مسائل کے حل، میرٹ پر انصاف کی فراہمی اور علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو بہتر اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔
خبر نامہ نمبر3057/2026
لورالائی15 اپریل:۔گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کینٹ لورالائی میں کلسٹر ہیڈز اور ڈسٹرکٹ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی امور اور اسکول مینجمنٹ سے متعلق مختلف نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کی صدارت ڈویژنل ڈائریکٹر سلیم زرکون نے کی، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حمید ابڑو، ڈی او ای (فیمیل) فوزیہ درانی، ڈی ڈی او (فیمیل) قمر سلطانہ، ڈی ڈی او (میل) طارق سمیت مرد و خواتین کلسٹر ہیڈز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں ڈویژنل ڈائریکٹر نے شرکاء کو ان کے قواعد و ضوابط، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور فرائض سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حمید ابڑو نے اجلاس کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیمی نظم و نسق کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کلسٹر ہیڈز کی ذمہ داریاں نہایت اہم ہیں، کیونکہ وہ بیک وقت بطور استاد، منتظم اور ادارہ جاتی رہنما خدمات انجام دیتے ہیں۔اجلاس میں کلسٹر سسٹم کی فعالیت، بجٹ مینجمنٹ، شفاف مالی امور، اور ریکارڈ کی درست دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس موقع پر فیڈر اسکولوں کو بروقت وسائل کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔بعد ازاں ڈویژنل ڈائریکٹر نے اسکولوں کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے اساتذہ کی کردار سازی، طلبہ کے یونیفارم، درسی کتب کی دستیابی اور تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے ہوئے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مؤثر نکات پیش کیے۔اجلاس میں اسکول ڈیولپمنٹ پلان پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں اسٹاف اسٹیٹمنٹس کی دستیابی، واش رومز کی صفائی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں توازن اور رخصتوں کے مؤثر انتظام جیسے اہم امور زیر بحث آئے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تعلیمی معیار کی بہتری اور مؤثر اسکول مینجمنٹ کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ مجموعی طور پر اجلاس کو معلوماتی اور رہنمائی سے بھرپور قرار دیا گیا، جس نے شرکاء کو عملی اقدامات کے لیے واضح سمت فراہم کی۔
خبر نامہ نمبر3058/2026
قلات 15اپریل:۔بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر سیکرٹری ایجوکیشن لعل جان جعفر کی خصوصی کاوشوں سے بچوں کے روشن مستقبل اور داخلہ مہم میں 100 فیصد اہداف حاصل کرنے کیلئے صوبے بھر میں اقدامات جاری ہیں تعلیمی سال کے ْاغاز پر تاریخی شہر قلات کے اسکولوں کیلئے 80فیصد درسی کتابیں فراہم کردی گئی ہیں اسکول داخلہ مہم کے حوالے سے وزیراعلی بلوچستان کے وژن اورسیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفرکے احکامات کی روشنی میں ضلع قلات کے اسکولوں مئں بچوں اور بچیوں کی شرح داخلہ میں اضافے تعلیمی ترقی کیلئے اساتذہ کی میرٹ ہر تعیناتیوں نیروشن بلوچستان کی ضمانت فراہم کردی ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر فیمیل فرزانہ احمدزء کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرقلات منیر احمددرانی کی گائیڈ لائن کے مطابق علم کی روشنی پھیلانے میں ہراسکول کلیدی کرداراداکریگاوزیر اعلیٰ بلوچستان کے عزم کی تکمیل کیلئے بربچہ اسکول میں ہوگا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل فرزانہ احمدزئی کہتی ہیں کہ اسکول ”داخلہ مہم کی آگاہی کے حوالے سے ریلی واک کا اہتمام کیا جارہا ہے اوروالدین کمیٹی کی مشاورت سے جکومتی ہالیسی کی کامیابی کیلئے پرعزم ہیں آگاہی مہم کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مفت کتابیں اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں

خبر نامہ نمبر3059/2026
لورالائی 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع سے پولیو پروگرام کے صوبائی سربراہ انعام قریش نے ملاقات کی، جس میں ضلع میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت اور درپیش امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ضلع کے ہر بچے تک ویکسین کی مؤثر رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر صوبائی سربراہ انعام قریش نے فیلڈ میں درپیش چیلنجز، ٹیموں کی کارکردگی اور عوامی آگاہی مہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ والدین میں شعور اجاگر کرنے اور ٹیموں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

خبر نامہ نمبر3060/2026
کوئٹہ15اپریل:۔ بلوچستان میں خواتین کی صحت، صنفی مساوات اور معاشی بااختیار بنانے کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے، بنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کے لیے قانون سازی پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے کی لاکھوں خواتین کو صحت کی بنیادی سہولیات تک سستی رسائی فراہم کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کی اجلاس میں سیاسی قیادت، بیوروکریسی اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی، جن میں رکن قومی اسمبلی اختر بی بی اور ارکین صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ،خیر جان سیکرٹریپاپولیشن ویلفیئر عبداللہ خان، ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ۔اور اقوام متحدہ (UN) کے متعلقہ ذیلی اداروں کے نمائندے موجود تھے اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بنیادی حفظانِ صحت (ہائجین) کی مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کی خواتین ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان اسمبلی میں ایک مشترکہ قرارداد پیش کی جائے گی جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ ان مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں کم از کم 50 فیصد کمی کی جائے یا انہیں مکمل طور پر ٹیکس فری قرار دیا جائے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اسے قانونی شکل دینے کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے گی تاکہ یہ ریلیف مستقل بنیادوں پر فراہم کیا جا سکیصوبائی وزیر راحیلہ حمید درانی اور دیگر شرکاء نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ٹیکسوں میں کمی سے کم آمدنی والے خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہوگا۔ سستی مصنوعات کی دستیابی سے خواتین میں بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ دور افتادہ علاقوں میں خواتین کو بنیادی صحت اور صفائی کے حوالے سے شعور فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائی جائیں گیاقوام متحدہ کے نمائندوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا پہلا صوبہ بن سکتا ہے جو اس نوعیت کی انقلابی قانون سازی کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کی جانب عملی قدم اٹھائے گا۔یہ اقدام نہ صرف بلوچستان کی خواتین کی صحت کے تحفظ کی ضمانت بنے گا بلکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس بھی ہوگا۔

خبر نامہ نمبر3063/2026
کوئٹہ: 15 اپریل۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اراکین کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیکس قوانین، ٹیکس تعمیل اور کاروباری برادری کیلئے سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں بی آر اے کے ٹیکس قوانین، سروس فراہم کنندگان کی رجسٹریشن، ٹیکس ریٹرنز کی بروقت فائلنگ اور بلوچستان کے عوام کیلئے محصولات میں اضافے کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر کاروباری افراد اور سروس فراہم کنندگان کو درپیش مسائل کے حل اور سہولت کاری کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔بلوچستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے بی آر اے کی ٹیم کی جانب سے ٹیکس نظام میں بہتری، شفافیت اور کاروبار دوست اقدامات کو سراہا اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کو فروغ دینے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سروس فراہم کنندگان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ٹیکس تعمیل کو فروغ دے کر صوبے میں محصولات میں اضافہ اور عوامی فلاح کے منصوبوں کیلئے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر3064/2026
سبی 15 اپریل:۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز ایوننگ رویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری پولیو مہم کی مجموعی پیش رفت اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر قادر، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر صلاح الدین مری،ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایس ڈی میر وائس خان سمیت محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور پولیو مہم سے وابستہ دیگر ٹیموں و حکام نے شرکت کی۔ مختلف یونین کونسلز سے موصول رپورٹس، ٹیموں کی کارکردگی، کوریج اور رہ جانے والے بچوں سے متعلق تفصیلات پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر میجر(ر) الیاس کبزئی نے ہدایت دی کہ جن علاقوں میں بچوں تک رسائی باقی ہے وہاں خصوصی توجہ دی جائے اور تمام ٹیمیں فیلڈ میں مزید متحرک انداز میں کام کریں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور مہم کے اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

خبر نامہ نمبر 2026/3065
ضلع چمن15اپریل :ـاسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان اچکزئی کے ویژن تعلیمی ترقی و تربیت کے مطابق گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج چمن میں اسپیشل بچوں کے لیے قائم کیے گئے تعلیم و تربیت سینٹر کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی، ڈی ایچ او ڈاکٹر نوید بادینی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر حاجی عطاء اللہ اچکزئی، ڈسٹرکٹ منیجر یونیسف جمیل کاکڑ سمیت دیگر افسران اور افراد نے شرکت کی۔ سپیشل بچوں کی سینٹر کا باقاعدہ افتتاح مہمانِ خصوصی سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی نے کیا، جبکہ اس موقع پر اسپیشل بچوں کے استاد نے ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سینٹر کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دی۔تقریب کے شرکاء نے اس اقدام کو خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3066
کوئٹہ15 اپریل:گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسیف پرائمری تعلیم کے فروغ جدید مہارتیں سیکھانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ امید ہے کہ حکومت کے تعلیم دوست اقدامات اور دیگر انٹرنیشنل اداروں کی کوششوں اور معاونت سے صوبے کا پورا تعلیمی منظرنامہ بدل جائیگا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بلوچستان میں بچوں کی ایک بڑی اکثریت شدید غربت اور علاقائی پسماندگی کی وجہ سے اسکولوں سے باہر ہے، یونیسیف کی کوششوں سے ان غریب بچوں کی ایک بڑی تعداد کے اندراج میں مدد ملی ہے جو پہلے تعلیم کے متحمل نہیں تھے۔ یونیسیف ٹیم کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ہماری مسلسل یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ صوبہ میں کوئی بچہ یا بچی بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ایجوکیشن اسپشلسٹ سحرش ناگی کی قیادت میں یونیسیف وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیسیف بلوچستان کی ٹیم پر زور دیا کہ وہ اپنے تعلیمی منصوبوں اور امدادی کارروائیوں کو صوبے کے دور دراز پسماندہ اضلاع تک پھیلائے تاکہ ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ پرائمری سیکٹر کو تعلیمی نظام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس خصوصی توجہ مرکوز رکھیں ۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ ایک احسن اقدام ہے کہ یونیسف کی ٹیم اسکول کی سطح پر تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ہنر بھی سکھا رہی ہے ۔ہنرمند افراد معاشی طور پر کسی پر بوجھ نہیں بنتے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3067
کوئٹہ 15 اپریل:ـکمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ سے شہر میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ (IWMI) کے وفد نے ڈاکٹر محمد ارشد کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنااور زیر زمین پانی کو محفوظ بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔اس موقع پر وفد نے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کو کوئٹہ کے بلڈنگ بائی لاز کا لازمی حصہ بنانے کی تجویز پیش کی۔ڈاکٹر محمد ارشد نے کمشنر کوئٹہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام نئی تعمیر ہونے والی رہائشی و کمرشل عمارتوں میں نصب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سالانہ ہونے والی بارشوں کو اگر سائنسی طریقے سے ذخیرہ کیا جائے تو نہ صرف زیر زمین پانی پر انحصار کم ہوگا بلکہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی قلت پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے درخواست کی کہ اس منصوبے کو ان کی سرپرستی میں آگے بڑھایا جائے تاکہ تمام متعلقہ محکمے اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنا سکیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں IWMI کی جانب سے تکنیکی معاونت، آگاہی مہم اور پالیسی سازی میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے IWMI کی کاوشوں اور پانی کے تحفظ کے لیے پیش کی گئی تجویز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ڈویژن کو اس وقت شدید آبی بحران کا سامنا ہے اور رین واٹر ہارویسٹنگ جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ اس تجویز کو جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے متعلقہ اداروں بشمول کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ساتھ مشاورت کی جائے گی تاکہ بلڈنگ بائی لاز میں ضروری ترامیم کے ذریعے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کو نئی تعمیرات کے لیے لازمی قرار دیا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3068
کوئٹہ 15 اپریل:_ بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچستان بار کونسل کے قواعد میں حالیہ ترامیم کے خلاف دائر آئینی درخواست پر اہم سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار عطااللہ لانگو اور میر رؤف عطا کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2020 میں 2 اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی ترامیم، بالخصوص رول 13.5 اور نئے شامل کیے گئے رول 13.5-A، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی دفعات، خاص طور پر سیکشن 10(1)(b)، سے متصادم ہیں، اس لیے یہ ترامیم غیر قانونی، بلا اختیار اور کالعدم ہیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نئی ترامیم کے ذریعے انرولمنٹ کمیٹی کے آئینی کردار کو محدود کیا گیا ہے اور عارضی سرٹیفکیٹس کو بعض صورتوں میں حتمی سرٹیفکیٹس کے برابر قرار دینا قانون کی روح اور طریقہ کار کے خلاف ہے۔ وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ ان ترامیم کو معطل اور بعد ازاں کالعدم قرار دیا جائے، اور انرولمنٹ کا عمل صرف قانون کے مطابق تشکیل دی گئی کمیٹیوں کے ذریعے ہی انجام دیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے. ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس اجلاس کا مکمل ریکارڈ اور منٹس پیش کریں جس میں ان ترامیم کی منظوری دی گئی، جبکہ متعلقہ حکام کو نوٹیفکیشن کے اجرا اور اس پر عملدرآمد سے متعلق تمام ریکارڈ پیش کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔مزید برآں، عدالت نے نئی ترامیم کے بعد جاری کیے گئے عارضی انرولمنٹ سرٹیفکیٹس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں تاکہ ان کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔دو رکنی بینچ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2 اپریل 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی تمام ترامیم اور ان کے تحت ہونے والی کارروائیاں آئندہ سماعت تک معطل رہیں گی۔عدالت نے اپنے حکم کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر اور دیگر متعلقہ فریقین کو فوری تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔کیس کی مزید سماعت 23 اپریل 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3069
ضلع چمن 15 اپریل :ـڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں مشتبہ افغان باشندوں نے پاکستانی ہونے کے حوالےسے اپنی دستاویزات معلومات بمع ثبوتوں کے کمیٹی کو پیش کیے گئے اجلاس میں مختلف لوگوں کو شک کی بنا پر ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی میں اپنے پاکستانی دستاویزات اور مکمل معلومات فراہم کرنے اور ثبوتوں کے ساتھ پیش ہونے کی اطلاع دی گئی تھی جس میں ضلع چمن میں مقیم مختلف لوگوں نے ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی میں 1974ء کے شناختی کارڈ اور دیگر اسناد پیش کئے گئے ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی کے اجلاس میں آفیسران نے تمام افراد کی دستاویزات اور ثبوتوں کی جانچ پڑتال کی گئی اور اجلاس میں شریک لوگوں کی دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اجلاس میں پیش ہونے والے اشخاص کو پاکستانی شہری اور ضلع چمن کے باشندے ڈکلیئر کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ جن لوگوں کو اجلاس میں مشتبہ افغان باشندوں کو اپنی پاکستانی شناخت کی تصدیق کیلئے بلایا جاتا ہے وہ افراد اس بات سے دلبرداشتہ اور ناراض نہ ہوں کیونکہ قومی شناخت کی تصدیق کرنے سے کسی کی دلآزاری ہرگز ہماری مقصد نہیں بلکہ یہ اقدامات ملک وقوم کی وسیع تر مفاد میں اٹھائے جا رہے ہیں اور بحیثیت ایک قوم ہمیں اپنے اداروں کیساتھ کوآپریشن کرنے پر فخر محسوس کرنا چاہیے تب جاکر ہم ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں

خبر نامہ نمبر RECAST 2026/3060
کوئٹہ15 اپریل: ـبلوچستان کی خواتین کے لیے ببنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں غیر معمولی کمی کی تیاری بلوچستان میں خواتین کی صحت، صنفی مساوات اور معاشی بااختیار بنانے کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے، بنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کے لیے قانون سازی پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے کی لاکھوں خواتین کو صحت کی بنیادی سہولیات تک سستی رسائی فراہم کرنا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کی اجلاس میں سیاسی قیادت، بیوروکریسی اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی، جن میں رکن قومی اسمبلی اختر بی بی اور ارکین صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ،خیر جان، چیئرپرسن بلوچستان رینو اتھارٹی عبداللہ خان ، ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ۔اور اقوام متحدہ (UN) کے متعلقہ ذیلی اداروں کے نمائندے موجود تھے اجلاس میں شرکاء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بنیادی حفظانِ صحت (ہائجین) کی مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کی خواتین ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان اسمبلی میں ایک مشترکہ قرارداد پیش کی جائے گی جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ ان مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں کم از کم 50 فیصد کمی کی جائے یا انہیں مکمل طور پر ٹیکس فری قرار دیا جائے۔قرارداد کی منظوری کے بعد اسے قانونی شکل دینے کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے گی تاکہ یہ ریلیف مستقل بنیادوں پر فراہم کیا جا سکےصوبائی وزیر راحیلہ حمید درانی اور دیگر شرکاء نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ٹیکسوں میں کمی سے کم آمدنی والے خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہوگا۔ سستی مصنوعات کی دستیابی سے خواتین میں بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ دور افتادہ علاقوں میں خواتین کو بنیادی صحت اور صفائی کے حوالے سے شعور فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائی جائیں گی اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا پہلا صوبہ بن سکتا ہے جو اس نوعیت کی انقلابی قانون سازی کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کی جانب عملی قدم اٹھائے گا۔
یہ اقدام نہ صرف بلوچستان کی خواتین کی صحت کے تحفظ کی ضمانت بنے گا بلکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس بھی ہوگا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3070
ضلع چمن15اپریل:ـ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کے حوالے سے تیسرے روز کا جائزہ اجلاس (ایویننگ ریویو) منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او چمن، اسسٹنٹ کمشنر ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر، نیشنل ای او سی کے ممبران، مانیٹرز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دوسرے روز کے پولیو کمپین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ یونین کونسل وائز کارکردگی، سکیورٹی صورتحال، اور مجموعی ڈیٹا پر بریفنگ دی گئی۔ اسی طرح ریفیوزل کیسز، زیرو ڈوز، این ٹی اور مجموعی کوریج سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔جن علاقوں میں کوریج کم رہی، ان کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے لیے نیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں والدین کو خصوصاً طور پر بچوں کو قطرے پلانے پر آمادہ کریں۔
انہوں نے کہاکہ پولیو کا مکمل ختم قومی ذمہ داری ہے لہذا معاشرے کی تمام اکائیوں کو اس قومی ذمہ داری میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا تب جاکر ہمیں پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل کو ممکن بناسکتے ہیں۔

خبر نامہ نمبر 3071/2026
کوئٹہ 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز کا کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او، ڈپٹی ڈی ایچ او، نیشنل ای او سی کے نمائندگان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، پولیس حکام اور دیگر مانیٹرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جاری پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شرکاء کو اسکولوں میں جاری مہم، نان ٹریسڈ (NT) کیسز، رفیوزلز، کور رفیوزلز اور نان ٹریسڈ ہاؤسز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت دی کہ مقررہ ٹارگٹ ہر صورت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام درپیش مسائل کو فوری حل کیا جائے گا جبکہ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں کارکردگی مزید بہتر بنائی جائے اور مہم کو کامیاب بنایا جائے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3069
ضلع چمن 15 اپریل:ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں مشتبہ افغان باشندوں نے پاکستانی ہونے کے حوالیسے اپنی دستاویزات معلومات بمع ثبوتوں کے کمیٹی کو پیش کیے گئے اجلاس میں مختلف لوگوں کو شک کی بنا پر ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی میں اپنے پاکستانی دستاویزات اور مکمل معلومات فراہم کرنے اور ثبوتوں کے ساتھ پیش ہونے کی اطلاع دی گئی تھی جس میں ضلع چمن میں مقیم مختلف لوگوں نے ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی میں 1974ء کے شناختی کارڈ اور دیگر اسناد پیش کئے گئے ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی کے اجلاس میں آفیسران نے تمام افراد کی دستاویزات اور ثبوتوں کی جانچ پڑتال کی گئی اور اجلاس میں شریک لوگوں کی دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اجلاس میں پیش ہونے والے اشخاص کو پاکستانی شہری اور ضلع چمن کے باشندے ڈکلیئر کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ جن لوگوں کو اجلاس میں مشتبہ افغان باشندوں کو اپنی پاکستانی شناخت کی تصدیق کیلئے بلایا جاتا ہے وہ افراد اس بات سے دلبرداشتہ اور ناراض نہ ہوں کیونکہ قومی شناخت کی تصدیق کرنے سے کسی کی دلآزاری ہرگز ہماری مقصد نہیں بلکہ یہ اقدامات ملک وقوم کی وسیع تر مفاد میں اٹھائے جا رہے ہیں اور بحیثیت ایک قوم ہمیں اپنے اداروں کیساتھ کوآپریشن کرنے پر فخر محسوس کرنا چاہیے تب جاکر ہم ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3070
ضلع چمن15اپریل: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کے حوالے سے تیسرے روز کا جائزہ اجلاس (ایویننگ ریویو) منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او چمن، اسسٹنٹ کمشنر ڈپٹی ڈی ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیو کوآرڈینیٹر، نیشنل ای او سی کے ممبران، مانیٹرز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران دوسرے روز کے پولیو کمپین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ یونین کونسل وائز کارکردگی، سکیورٹی صورتحال، اور مجموعی ڈیٹا پر بریفنگ دی گئی۔ اسی طرح ریفیوزل کیسز، زیرو ڈوز، این ٹی اور مجموعی کوریج سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔جن علاقوں میں کوریج کم رہی، ان کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے لیے نیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے اور پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں والدین کو خصوصاً طور پر بچوں کو قطرے پلانے پر آمادہ کریں۔انہوں نے کہاکہ پولیو کا مکمل ختم قومی ذمہ داری ہے لہذا معاشرے کی تمام اکائیوں کو اس قومی ذمہ داری میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا تب جاکر ہمیں پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل کو ممکن بناسکتے ہیں۔
خبر نامہ نمبر 3071/2026
کوئٹہ 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے تیسرے روز کا کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈی ایچ او، ڈپٹی ڈی ایچ او، نیشنل ای او سی کے نمائندگان، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر، پولیس حکام اور دیگر مانیٹرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جاری پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شرکاء کو اسکولوں میں جاری مہم، نان ٹریسڈ (NT) کیسز، رفیوزلز، کور رفیوزلز اور نان ٹریسڈ ہاؤسز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ہدایت دی کہ مقررہ ٹارگٹ ہر صورت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام درپیش مسائل کو فوری حل کیا جائے گا جبکہ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں کارکردگی مزید بہتر بنائی جائے اور مہم کو کامیاب بنایا جائے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3072
گوادر15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر نوجوانوں کو جدید مہارتیں سیکھنا ہوں گی تاکہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ ملک کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی آر ایس پی (BRSP) کے زیر اہتمام آر سی ڈی کونسل گوادر میں رائز پروگرام کے تحت منعقدہ سیمینار و پینل ڈسکشن بعنوان ”ڈیجیٹل اسکلز سیکھیں، اپنا مستقبل بنائیں ” سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں یونیورسٹی آف گوادر کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرپرسن حفیظ اللہ، میونسپل کمیٹی گوادر کے چیف آفیسر مکتوم موسیٰ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف، لیکچرار شہناز ہوت اور گوادر پریس کلب کے صدر نور محسن نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ پروگرام کی میزبانی سمیرہ خالد نے کی۔ تقریب میں طلبہ، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور حصہ لیا۔پینل ڈسکشن کے دوران مقررین نے جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ آج کے دور میں ایسے جدید ٹولز دستیاب ہیں جو تحقیق، تدریس اور سیکھنے کے عمل کو نہایت آسان اور مؤثر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ Google NotebookLM، Google Lens، YouTube اور Khan Academy جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نہ صرف معلومات تک فوری رسائی ممکن ہے بلکہ تعلیمی مواد کو آڈیو، خلاصہ اور تدریسی انداز میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔مقررین نے مصنوعی ذہانت کے محتاط استعمال پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے طلبہ میں تحقیق اور تخلیقی سوچ متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔نوجوانوں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ نسل بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے، تاہم انہیں محض سوشل میڈیا کے صارف بننے کے بجائے تخلیق کار (Creators) بننے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا کے الگورتھمز، ڈیجیٹل ذمہ داریوں اور مثبت استعمال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔اختتامی خطاب میں ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے حکومت بلوچستان کے RISE پروگرام کو نوجوانوں اور مستحق طبقات کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت چھ اضلاع کے لیے تقریباً 16.79 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے 3 لاکھ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد معاشی استحکام، ہنر مند افراد کی معاونت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔انہوں نے خواتین کی معاشی خودمختاری کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں وومن مارکیٹ کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ خواتین کو باوقار اور محفوظ کاروباری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کی تمام 13 یونین کونسلز بشمول دور دراز علاقوں کو ترقیاتی عمل میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ترقی کے ثمرات ہر سطح تک پہنچ سکیں۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق جدید مہارتوں، مثبت سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/3073
گوادر15اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت انسدادِ پولیو مہم (NID) کے تیسرے روز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ، زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز شاہان دشتی و سرفراز رحمدل سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے تیسرے روز کی تفصیلی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی کوریج 98 فیصد رہی، جبکہ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے اور بیشتر علاقوں میں اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے تمام یو سی ایم اوز اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ جن علاقوں میں زیرو ڈوز بچوں، گھر پر موجود نہ ہونے والے (Not Available) بچوں اور انکاری والدین کے کیسز سامنے آئے ہیں، انہیں کل ہر صورت ٹارگٹ کرکے مکمل کوریج یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ خود فیلڈ میں متحرک رہیں اور حساس و کمزور علاقوں کی براہِ راست نگرانی کریں، جبکہ ضرورت کے مطابق ڈاکٹرز اور اضافی ٹیموں کو فوری طور پر تعینات کیا جائے تاکہ مہم کے اہداف بروقت اور مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت بھرپور اقدامات جاری رکھیں گے اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/3074
قلات 15اپریل:۔پولیو مہم کے تیسرے روز کے اختتام پر جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت منعقد ہوا اجلاس میں DHO ڈاکٹر انجم بلوچ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر محمداقبال نورزئی ڈبلیو ایچ او کے ڈی پی او ڈاکٹر مجتبی باجوئی سمیت مانیٹرنگ آفیسران یوسی ایم اوزنے شرکت کی اجلاس میں آج کے پولیو مہم ٹیموں کی کارکردگی درپیش مسائل مقررکردہ ہدف اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیایوسی ایم اوز اور مانیٹرنگ آفیسران نے آج کے مہم ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق رپوٹ پیش کیئے۔ڈپٹی کمشنرمنیردرانی نے کہا کہ پولیو ٹیمیں کل آخری روز کیچ اپ کے دن میں گھرگھر جاکر رہ جانے والے بچے رفیوزلز مہمان بچوں کو پولیوویکسین کے قطرے پلائیں تاکہ پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3075
سوراب15 اپریل:۔پولیو مہم کے تیسرے دن کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیر صدارت ایوننگ ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مہم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی، ڈی ایچ او ڈاکٹر سلیم احمد مستوئی، ایم ایس/ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر یوسف ثانی، ڈی پی او ڈاکٹر ارسلان لہڑی، ڈی ایس ایم (پی پی ایچ آئی) سپرنٹنڈنٹ فضل محمد قمبرانی، انسپیکٹر پولیس عطاء اللہ رودینی سمیت مانیٹرز، یو سی ایم اوز، ٹی ٹی ایس پیز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تیسرے دن کی ویکسینیشن کوریج، ٹیموں کی کارکردگی اور درپیش مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے شرکت کی اور فیلڈ صورتحال سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ ٹیموں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے اور رہ جانے والے بچوں تک ہر صورت رسائی یقینی بنائی جائے، جبکہ کسی بھی غفلت کو برداشت نہ کرنے کا اعادہ کیا۔

خبر نامہ نمبر 2026/3076
موسی خیل 15اپریل:۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر موسیٰ خیل، ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے پولیو مہم (این آئی ڈی) اپریل 2026 کے تیسرے روز نہایت جامع اور مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ کی۔ اس دوران انہوں نے ٹرانزٹ پوائنٹ تنگی سر،درگ باء پاس اور سمیت مختلف علاقوں کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ مہم کی پیش رفت کا براہِ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے BHU عبداللہ آباد اور RHC درگ کا بھی اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسٹاف کی حاضری، ڈیوٹی کی پابندی اور مجموعی کارکردگی کو چیک کیا دورے کے دوران انہوں نے پولیو ٹیموں کی محنت اور کارکردگی کو قریب سے دیکھا، بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی کی اور والدین سے مؤثر گفتگو کے ذریعے انہیں پولیو سے بچاؤ کی اہمیت اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے فیلڈ اسٹاف کو ہدایت دی کہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے اس قومی فریضے کو انتہائی ذمہ داری، دیانتداری اور جذبہ? خدمت کے ساتھ سرانجام دینے پر زور دیا تاکہ ایک صحت مند اور پولیو سے پاک معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3077
سنجاوی 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی, ایس پی زیارت سید طلال احمد شاہ، چیئرمین میونسپل کمیٹی حاجی خان محمد دمڑایف سی محمد حارث اور اسسٹنٹ کمشنر شیرشاہ شاہ غلزئی نے سنجاوی گھوڑا ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیادورے کے دوران ہسپتال میں حیوانات کے مسائل فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی کے نظام اور مالکان کو درپیش مسائل کا بغور جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کیں کہ حیوانات کے لیے بہتر اور بروقت ویٹرنری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیاس موقع پر چیئرمین حاجی نصرالدین ترین، حاجی نور اللہ دومڑ، ثناء اللہ دومڑ، شہر بہادر دومڑ، چودھری سلیم دومڑ، چیئرمین امین اللہ زخپیل، کونسلر مولوی فقیر اللہ دومڑ سمیت مختلف محکموں کے افسران اور علاقے کے معزز عمائدین بھی موجود تھے۔تمام شرکاء نے ہسپتال کی بہتری اور جانوروں کو معیاری علاج و معالجہ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ دورہ علاقے میں ویٹرنری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا
خبر نامہ نمبر 2026/3078
زیارت 15اپریل:۔ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی، ایس پی زیارت سید طلال احمد شاہ،چئیرمین میونسپل کمیٹی سنجاوی حاجی خان محمد دمڑ،ایف سی کیپٹن محمد حارث اور اسسٹنٹ کمشنر شیر شاہ غلزئی کے ہمراہ آج سنجاوی مین بازار کی سیورج لائن کا تفصیلی دورہ کیااس موقع پر مختلف محکموں کے افسران اور علاقے کے معزز عمائدین بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران سیورج سسٹم کا جائزہ لیا گیا اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیاڈپٹی کمشنرعں دالقدوس اچکزئی نے حکام کو ہدایت کی کہ سیورج کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔یہ دورہ سنجاوی مین بازار میں صفائی اور بہتر نکاسی آب کے نظام کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3079
گوادر15 اپریل:۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، معین الرحمٰن خان کی سربراہی میں پشکان جیٹی سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، اور ایگزیکٹو انجینئر پشکان جیٹی اکبر بلوچ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے ڈائریکٹر جنرل کو پشکان جیٹی منصوبے کی مجموعی پیشرفت پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر کام مکمل ہوچکا ہے جس میں فش لینڈنگ جیٹی، ایمبینکمنٹ، ریکلیمیشن، آکشن ہال، ایڈمنسٹریشن بلڈنگ، ٹریننگ وال، سیڈیمنٹ کنٹرول وال، کمپاؤنڈ وال، واٹر ٹینک اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں، مکمل کی جا چکی ہیں جبکہ سائٹ کلیئرنس اور ڈریجنگ کے بعض امور پر کام جاری ہے۔اجلاس میں مزید آگاہ کیا گیا کہ بریک واٹر کو مزید 200 میٹر تک توسیع دی جا رہی ہے، جبکہ جیٹی کے بیسن اور چینل ایریا کی ڈریجنگ بھی منصوبے میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جیٹی سے منسلک ایک مجوزہ سڑک کا منصوبہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے اس موقع پر کہا کہ جی ڈی اے نے گوادر کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے فروغ کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ دو فشنگ جیٹیز سر بندر اور پشکان جیٹیز قائم کی ہیں، جن سے مقامی ماہی گیر بھرپور استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ ان جدید جیٹیز پر ماہی گیروں کو اپنی روزانہ کی پکڑ (کیچ) کی مفت اَن لوڈنگ کی سہولت میسر ہے، جس سے ان کے اخراجات میں نمایاں کمی اور آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کے ایسٹ بے اور ویسٹ بے پر تعمیر کیے گئے بریک واٹرز نے بھی ماہی گیروں کو اپنی کشتیوں کو محفوظ انداز میں لنگر انداز کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ جی ڈی اے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے 200 ایکڑ اراضی پر فشرمین کالونی کے منصوبے پر بھی کام کا آغاز کر چکا ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد گوادر کے اصل وارث، مقامی ماہی گیروں کی معاشی و سماجی بہتری، ان کے معیارِ زندگی میں اضافہ، اور ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/3080
گوادر15اپریل:۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کلانچی پاڑہ کا تفصیلی دورہ کرتے ہوئے سرکاری اراضی اور ناجائز تجاوزات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کا دورہ کیا جہاں بی ایس ڈی آئی (BSDI) کے تحت تعمیر ہونے والی چار دیواری، حدود اور کالج کے احاطے کا معائنہ کیا۔دورے کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر، تحصیلدار گوادر منیر بلوچ، نائب تحصیلدار حاجی جاوید اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے موقع پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری زمینوں پر کسی قسم کا قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور قبضہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح سرکاری اراضی کا تحفظ ہے اور اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر اینٹی انکروچمنٹ آپریشن جلد شروع کیا جائے گا۔انہوں نے مزید ہدایت جاری کی کہ کلانچی پاڑہ سمیت دیگر علاقوں میں جہاں کہیں بھی سرکاری زمینوں پر ناجائز تجاوزات قائم ہیں، ان کی نشاندہی کرکے فوری طور پر واگزار کرایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے خاص طور پر بوائز ڈگری کالج کے احاطے میں قائم تجاوزات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کالج کی حدود میں کی گئی تمام غیر قانونی قبضہ گیری کو جلد ختم کیا جائے گا تاکہ تعلیمی ماحول کو محفوظ اور بہتر بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اس حوالے سے مکمل سروے، ریکارڈ کی تصدیق اور مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں، اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری اراضی کا تحفظ اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس ضمن میں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/3081
کوئٹہ15 اپریل:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل فرحان بشیر پر فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم میں مصروف ٹیموں اور ان کی سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو نشانہ بنانا ایک بزدلانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر دراصل قوم کے مستقبل اور بچوں کی صحت کے خلاف سازش کر رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کو یقینی بنایا جائے وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور پولیو جیسے قومی فریضے کی انجام دہی میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے کام کرنے والے تمام اہلکاروں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور شہداء کے ورثاء کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *