خبرنامہ نمبر3503/2026
کوئٹہ، 03 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نیشنل پارٹی کے رہنماء سردار محمد اسلم بزنجو اور سینیٹر طاہر بزنجو کے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے انتقال کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں .
خبرنامہ نمبر3504/2026
کوئٹہ، 03 اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے نیشنل پارٹی کے رہنماء سردار محمد اسلم بزنجو اور سینیٹر طاہر بزنجو کے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اپنے تعزیتی بیان میں شاہد رند نے مرحوم کے انتقال کو سوگوار خاندان کے لیے ایک بڑا صدمہ قرار دیتے ہوئے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے معاون وزیر اعلیٰ برائے سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں بزنجو خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں .
خبرنامہ نمبر3505/2026
کوئٹہ، 03 اپریل:بلوچستان میں نوجوانوں، خواتین، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی سمیت نظر انداز طبقات کی سماجی ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومت بلوچستان نے تاریخ ساز اور جامع اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جن کے مثبت اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایف ڈی آئی پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عظمیٰ یعقوب نے ملاقات کی جس میں خواتین، نوجوانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے جاری منصوبوں اور پالیسی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ٹرانس جینڈر پالیسی کی تشکیل میں ایف ڈی آئی پاکستان کی معاونت کو سراہتے ہوئے ادارے کی سربراہ عظمیٰ یعقوب کو حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹ دیا اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام، ویمن اکنامک انڈومنٹ فنڈ، پنک بس سروس اور پنک اسکوٹیز اسکیم جیسے منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے ویمن اکنامک انڈومنٹ فنڈ کے تحت خواتین کو کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ روپے تک کے بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مالی طور پر خودمختار ہو سکیں اسی طرح پنک بس سروس اور پنک اسکوٹیز اسکیم خواتین کی محفوظ اور باعزت سفری سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی پہلی جامع یوتھ پالیسی کی منظوری سے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جبکہ ٹرانس جینڈر پالیسی کے تحت معاشرے کے اس نظر انداز طبقے کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اقلیتوں کی بہبود کے لئے بلوچستان میں پہلا خصوصی انڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا جا چکا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا ہے بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے ذریعے میٹرک سے اعلیٰ تعلیم تک دنیا کی 200 عالمی جامعات کے دروازے بلوچستان کے طلبہ کے لیے کھول دیے گئے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والے شہداء اور سویلین شہداء کے بچوں کے 16 سالہ تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کررہی ہے جبکہ اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے سالانہ ایک سو سے زائد خصوصی اسکالرشپس بھی مختص کی گئی ہیں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ترقی کے عمل میں کسی بھی طبقے کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں شمولیتی پالیسیوں کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا رہا ہے سماجی انصاف کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات جاری ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں، خواتین، اقلیتوں اور دیگر نظر انداز طبقات کو بااختیار بنانا ایک ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد ہے اور صوبائی حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے.
خبرنامہ نمبر3506/2026
کوئٹہ (3 اپریل 2026) — چیف جسٹس عدالت عدلیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کوئٹہ میں لوکل ٹرانسپورٹ اور شہری ٹریفک سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن کا ترمیم شدہ عنوان عدالت میں جمع کرایا گیا جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے آرڈر ون رول 10 سی پی سی کے تحت دائر سی ایم اے نمبر 664/2026 کا جواب اور دیگر متعلقہ دستاویزات عدالت میں جمع کرائیں جن کی نقول درخواست گزاروں کے وکیل ولی خان نصر ایڈووکیٹ کو فراہم کر دی گئیں۔ وکیل نے دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے مہلت طلب کی جبکہ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تمام جوابات مکمل ہو چکے ہیں اور حکومت دلائل کے لیے تیار ہے۔عدالت کے روبرو بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو اور بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی جانب سے پیش رفت رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں رکشہ روٹ پرمٹس سے 50 لاکھ 38 ہزار روپے جبکہ 2025 میں ایک کروڑ 4 لاکھ 54 ہزار 800 روپے ریونیو وصول کیا گیا۔ اسی طرح 2024 کے دوران مجموعی طور پر 815 کمپیوٹرائزڈ رکشہ روٹ پرمٹس جاری کیے گئے جبکہ 2025 میں ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3300 تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر قانونی رکشوں اور ٹریفک خلاف ورزیوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ اکتوبر 2024 سے دسمبر 2024 تک 820 رکشے ضبط کیے گئے جن میں سے 622 تصدیق شدہ جبکہ 198 غیر قانونی تھے۔ سال 2025 میں 849 رکشے ضبط کیے گئے جبکہ یکم جنوری 2026 سے 26 مارچ 2026 تک مزید 117 رکشوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اسی طرح ٹینٹڈ شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف بھی ہزاروں گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید آلات اور گاڑیاں خریدنے کی تجویز دی گئی ہے جن میں فورک لفٹرز، جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم سے لیس گاڑیاں، پٹرولنگ بائیکس اور ایس ایس پی ٹریفک آفس کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ، جی پی او چوک، سیرینا چوک اور دیگر اہم مقامات پر ٹریفک سگنلز اور انفراسٹرکچر کی تنصیب کا عمل جاری ہے جو اپریل 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں الیکٹرک وہیکلز (ای وی) منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں تین روٹس پر 30 الیکٹرک گاڑیاں چلائی جائیں گی جبکہ حکومت چارجنگ انفراسٹرکچر، سولر سسٹم اور بیٹری سوئپنگ اسٹیشنز فراہم کرے گی۔ منصوبے کے لیے قومی سطح پر ٹینڈر جاری کیا گیا جس میں ایم/ایس تاج انٹرپرائزز اور ایم/ایس ٹریکٹیو سلوشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مشترکہ منصوبے کو بہترین بولی دہندہ قرار دیا گیا ہے۔ ورک آرڈر جاری ہونے کے بعد 60 سے 75 دن کے اندر الیکٹرک گاڑیوں کے آپریشن شروع ہونے کی توقع ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل عبدالظاہر کاکڑ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ کچلاک کے ٹرانسپورٹرز کی بسوں کو پرانی قرار دے کر شہر میں داخلے سے روک دیا گیا ہے جبکہ دیگر اضلاع کی بسوں کو کوئٹہ میں داخلے کی اجازت ہے جو امتیازی سلوک ہے۔دوسری جانب کوئٹہ کے لوکل بس مالکان کے وکیل سلطان خالد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے مرکزی شاہراہوں پر گرین بس سروس تو شروع کر دی ہے مگر اندرونی روٹس پر لوکل بسوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک حکومت متبادل ٹرانسپورٹ کا بندوبست نہیں کرتی، اندرون شہر بسوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ کی شرط کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹری آر ٹی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ موٹر وہیکل رولز 1969 کے تحت پانچ سال سے زیادہ پرانی پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کی اجازت نہیں ہے اور اسی قانون کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاضلاعی بسوں کو صرف مقررہ اسٹاپس تک آنے کی اجازت ہے اور کسی بھی بس کو شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ منصوبے کی منظوری ہو چکی ہے اور عالمی خریداری کے عمل کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی تاہم آئندہ دو سے تین ماہ کے اندر الیکٹرک ٹرانسپورٹ سروس شروع ہونے کا امکان ہے۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ فیڈر روٹس کے تعین کے لیے سروے کا عمل تیز کیا جائے اور جامع رپورٹ پیش کی جائے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ گرین بس، منی بس، کوسٹر یا ویگن کون سے روٹس پر چلائی جائے گی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 اپریل 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھجوانے کی ہدایت کی تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کر کے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3507/2026
لورالائی03اپریل:ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے فارسٹ آفس کا دورہ کیا، جہاں ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر نے انہیں ضلع میں جاری جنگلاتی منصوبوں، شجرکاری مہم اور جنگلات کے تحفظ سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔دورے کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم اور اسسٹنٹ کمشنر (یو ٹی) محمد اسحاق ناصر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے فارسٹ آفس کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور گرین ہاؤس کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں پودوں کی افزائش، نرسریوں کی تیاری اور ماحولیاتی بہتری کے لیے جاری اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر متعلقہ افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ شجرکاری مہم کو مزید مؤثر اور منظم انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلات اور درخت ماحول کو صاف رکھنے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور علاقے کی خوبصورتی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ سرسبز و شاداب ماحول نہ صرف انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ علاقے کی قدرتی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ ماحول کے تحفظ اور شجرکاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس مقصد کے لیے عوامی تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔
خبرنامہ نمبر3508/2026
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق محکمہ کھیل حکومت بلوچستان کے زیرِ اہتمام“جشنِ گوادر اسپورٹس فیسٹیول 2026”کا شاندار افتتاح کر دیا گیا۔تقریبِ کے افتتاح کے موقع پر رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کرکٹ میچ کا باقاعدہ افتتاح کیااور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسپورٹس سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت صوبائی حکومت کی جانب سے“جشنِ گوادر”کے سلسلے میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں کرکٹ، فٹبال، والی بال سمیت دیگر کھیل شامل ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا اور کھیلوں کے کلچر کو مضبوط بنانا ہے۔
خبرنامہ نمبر3509/2026
ہرنائی: حکامِ بالا کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے ضلع میں حالیہ موسلادھار بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سروتی بند کے حفاظتی پشتوں کا ہنگامی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی او آبپاشی سید آصف شاہ بخاری بھی ان کے ہمراہ تھے، جہاں انہوں نے بند کی مضبوطی اور پانی کے بہاؤ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ضلع ہرنائی میں حالیہ دنوں میں ہونے والی مسلسل بارشوں اور پہاڑی سلسلوں سے آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے فیلڈ کا دورہ کیا اور سروتی بند کے حفاظتی پشتوں کی تکنیکی حالت کا معائنہ کیا۔دورانِ معائنہ ایس ڈی او آبپاشی سید آصف شاہ بخاری نے اے ڈی سی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ آبپاشی تمام حساس مقامات کی نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود عملے کو ہدایات جاری کیں کہ پشتوں کی بحالی اور مضبوطی کے کام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ قریبی آبادیوں اور زرعی اراضی کو سیلابی بردگی سے بچایا جا سکے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے عوامی تحفظ کے حوالے سے خصوصی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے ضلع بھر کے عوام، بالخصوص ندی نالوں کے قریب رہنے والے مکینوں سے اپیل کی کہ وہ موسم کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔سیلابی ریلوں کے دوران غیر ضروری آمد و رفت اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔حکومتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی چوبیس گھنٹے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوامی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ مانیٹرنگ کا یہ عمل بارشوں کے موجودہ سلسلے کے اختتام تک جاری رہے گا تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں فوری ردِعمل ظاہر کیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3510/2026
ضلع نصیرآباد: بچوں کو مہلک وبائی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے ٹیموں کی استعداد کار بڑھانے کا سلسلہ جاری، دو روزہ تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں فیلڈ میں کام کرنے والے ویکسینیٹرز اور متعلقہ عملے کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی گئی، تربیتی سیشن میں ٹرینر ثناء اللہ چکھڑا، ڈی ایس وی نعمان بشیر ایم این ای افیسر نے خصوصی طور پر شرکاء کو مختلف وبائی امراض، ویکسینیشن کے طریقہ کار، کمیونٹی آگاہی اور فیلڈ میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز جمالی نے دو روزہ ٹریننگ کا جائزہ لیا اور اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت بچوں کو مہلک امراض سے بچانے کے لیے بھرپور اور مؤثر اقدامات کر رہا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے تاکہ ہر گھر تک ویکسینیشن کا پیغام پہنچ سکے، انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں میں والدین کو حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس تربیت کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ویکسینیٹرز کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ گھر گھر جا کر نہ صرف بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائیں بلکہ والدین اور کمیونٹی میں شعور بھی بیدار کریں، ڈاکٹر ایاز جمالی نے مزید کہا کہ تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو مہلک وبائی امراض سے محفوظ بنانے کو یقینی بنائیں تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3511/2026
ہرنائی:حالیہ مون سون/بارشوں کے طاقتور اسپیل کے پیشِ نظر ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے ضلعی نفری کے ہمراہ شاہراہوں کا طوفانی دورہ کیا، جس کا مقصد ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے انتظامی تیاریوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ انہوں نے مختلف مقامات پر نکاسیِ آب اور ٹریفک کی روانی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انتظامیہ کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے گزشتہ روز ہونے والی شدید بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم قومی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ انتظامی افسران اور متعلقہ محکموں کی نفری بھی موجود تھی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے شاہراہوں پر پانی کے بہاؤ، ندی نالوں کی صورتحال اور نکاسی آب کے عمل کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں موجود عملے کو سخت ہدایات جاری کیں کہ شاہراہوں پر پھسلن اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر مسافروں اور ڈرائیور حضرات کی رہنمائی اور امداد کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید حکم دیا کہ تمام حساس مقامات اور ندی نالوں کے قریب بھاری مشینری اور ریکوری ٹیمیں 24 گھنٹے الرٹ رہنی چاہئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ یا سڑک کی بندش کی صورت میں فوری طور پر بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو تاکید کی کہ وہ فیلڈ میں رہ کر عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل یقینی بنائیں، کیونکہ بارشوں کے دوران معمولی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور اس ہنگامی صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کر کے ہی کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکتا ہے۔ ضلعی کنٹرول روم کو بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی شکایت پر فوری ریسپانس دیا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3512/2026
ہرنائی: ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے حالیہ بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے آفت زدہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھ دیا۔ انہوں نے ان گھروں کا بذاتِ خود معائنہ کیا جن کی چھتیں اور دیواریں شدید بارشوں کے باعث منہدم ہو چکی ہیں، اور متاثرین میں ضروری اشیاء اور امدادی سامان تقسیم کیا۔ اس موقع پر انہوں نے انتظامیہ کو دو ٹوک ہدایات دیں کہ متاثرہ افراد کی بحالی میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ضلع ہرنائی میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بعد ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ بستیوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے ان سوگوار اور متاثرہ خاندانوں سے فرداً فرداً ملاقات کی جن کے رہائشی کمرے گر چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں تسلی دی کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر کی زیرِ نگرانی متاثرہ خاندانوں میں ٹینٹ، کمبل، خوراک کے پیکٹس اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی گئیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو جائے وقوعہ پر ہی احکامات جاری کیے کہ نقصانات کا درست تخمینہ فوری طور پر لگایا جائے تاکہ متاثرین کی مالی معاونت اور مکانات کی تعمیرِ نو کے عمل کو جلد شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جائے تاکہ دور دراز علاقوں میں ہوئے متاثرین تک بھی ریلیف پہنچ سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اپنے محدود وسائل کے باوجود عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جائے گا اور ریلیف آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری متاثرہ شخص کی داد رسی نہیں ہو جاتی۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کی بروقت آمد اور امداد کی فراہمی پر انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا۔
خبرنامہ نمبر3513/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ایران کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر وہاں سے آنے والے پاکستانی شہریوں اور مسافروں کے استقبال اور سہولت کاری کے لیے مؤثر انتظامات کیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرحدی راستوں کے ذریعے آنے والے تمام افراد کو باعزت طریقے سے ریسیو کیا جا رہا ہے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔واضح رہے کہ 28 فروری 2026 سے ایران میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث اب تک ہزاروں پاکستانی شہری سرحدی گزرگاہوں جیونی، گبد اور ریمدان کے راستے گوادر پہنچ چکے ہیں۔ ان میں طلبہ، زائرین، ایران میں مقیم محنت کش پاکستانی، سفارتی عملہ اور دیگر شہری شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر نگرانی ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات اٹھائے ہیں، جن کے تحت رہائش (ہوٹلنگ)، معیاری کھانا، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، مسافروں کو باحفاظت اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرتے ہوئے خصوصی بسوں کے ذریعے ان کی منزلوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومتی ہدایات کے تحت یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا اور ہر آنے والے شہری کو مکمل تحفظ، عزت اور سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
خبرنامہ نمبر3514/2026
جعفرآباد۔۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ربیع سیزن کی تیار فصلات کی گرداوری کے سلسلے میں ضلع جعفرآباد کے مختلف علاقوں رمضے پور، ٹھرڑی اور برڑو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کاشت کی گئی فصلات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ بابو رفیق احمد ابڑو، نائب تحصیلدار، پٹواری اور دیگر عملہ مال بھی موجود تھا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے موقع پر موجود کاشتکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق فصلات کی درست گرداوری نہایت اہم ہے تاکہ کاشتکاروں سے زرعی محصولات کی وصولی شفاف اور منصفانہ انداز میں ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ وہ دیانتداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فصلات کا درست ریکارڈ مرتب کریں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جائے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زرعی شعبہ مزید مستحکم ہو۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور زرعی ترقی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
خبرنامہ نمبر3514/2026
بارکھان 03 اپریل:وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمن قمبرانی نے ڈویژنل ہیڈکوارٹر رکھنی میں مجوزہ کمشنر کمپلکس اور دیگر سرکاری دفاتر کی تعمیر کے لیے مختص زمین کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران زمین کی حدود، دستیابی اور تعمیراتی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسہ، ریونیو اسٹاف اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جنہوں نے کمشنر کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے زمین کے انتخاب، قانونی تقاضوں اور دیگر امور پر آگاہ کیا۔کمشنر مجیب الرحمن قمبرانی نے افسران کو ہدایت کی کہ مجوزہ منصوبوں کے لیے درکار تمام قانونی و انتظامی تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ تعمیراتی کام میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ رکھنی میں جدید طرز کے کمشنر کمپلکس اور سرکاری دفاتر کے قیام سے نہ صرف سرکاری امور کی انجام دہی میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بھی ایک ہی جگہ پر بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دور دراز علاقوں میں بھی بنیادی سہولیات اور سرکاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور ایسے منصوبے علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر3515/2026
بارکھان 03 اپریل: کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن رکنی مجیب الرحمن قمبرانی نے محکمہ جنگلات کے دفتر اور نرسری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری امور اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر عبداللہ کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر زبیر احمد سمیت دیگر متعلقہ افسران اور عملہ بھی موجود تھا۔ کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن کو نرسری میں پودوں کی افزائش، اقسام اور شجرکاری مہم کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔کمشنر مجیب الرحمن قمبرانی نے نرسری میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ شجرکاری مہم کو مزید مؤثر بنائیں اور عوام میں آگاہی پیدا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس قومی فریضے میں حصہ لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرسبز و شاداب ماحول نہ صرف انسانی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ یہ علاقے کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے، لہٰذا تمام متعلقہ ادارے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں۔
خبرنامہ نمبر3516/2026
صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی، حاجی نور محمد خان دمڑ نے ہرنائی، زیارت اور سنجاوی میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں میں اپنے ضلع کے عوام کے ساتھ مدد کیلئے کھڑا ہوں انہوں نے کہا کہ یہ وقت متاثرہ عوام کی خدمت اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ہے انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران پوری قوم کو یکجہتی اور اخوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے انسانی جانوں کا تحفظ اور بروقت امداد کی فراہمی ہر چیز پر مقدم ہے حاجی نور محمد خان دمڑ نے کہا کہ وہ خود ہرنائی، زیارت اور سنجاوی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ریلیف آپریشن کو تیز کیا جائے، بند سڑکوں کی بحالی یقینی بنائی جائے اور نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت متاثرہ عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں صبر و حوصلے کا مظاہرہ کریں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں آخر میں صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خود فیلڈ میں موجود رہ کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے اور متاثرہ علاقوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
خبرنامہ نمبر3517/2026
سبی 3 اپریل:ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی اور ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور آئندہ لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ونگ کمانڈر 52 ونگ کرنل زبیر، ونگ کمانڈر 63 ونگ کرنل شہریار، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیارآباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران، گورنمنٹ کنٹریکٹرز اور دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میجر(ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ فیز ون منصوبے افسران اور عملے کی محنت و لگن کی بدولت کامیابی سے مکمل ہوئے، جن میں 95 اسکیمات مقررہ مدت کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے باعث ضلع سبی نے بلوچستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جو ایک قابلِ فخر کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیز ٹو کے ورک آرڈرز جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں محکمہ صحت کی 21، الیکٹریفکیشن کی 1، پی ایچ ای کی 4، سڑکوں کی 7، سولرائزیشن کی 5 اور محکمہ تعلیم کی 44 اسکیمات شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران اور کنٹریکٹرز کو ہدایت کی کہ فیز ٹو کے تمام منصوبے اسی ماہ مکمل کیے جائیں اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے سے مرحلہ وار مکمل ہونے والے منصوبوں کا افتتاح کیا جائے گا تاکہ عوام کو ان کے ثمرات فوری طور پر میسر آ سکیں۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور گراس روٹ لیول پر عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مزید برآں تمام محکموں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ ترقیاتی عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3518/2026
لورالائی:3اپریل:ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں متوقع طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایف سی کے میجر کامران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، اسسٹنٹ کمشنر میختر یحییٰ خان کاکڑ، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محیب اللہ بلوچ، ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر مقبول احمد، ایم ایس ڈاکٹر محمد انور مندوخیل، ایکسین بی اینڈ آر محمد داؤد خان، ڈی ایس پی پولیس سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے دوران تمام اداروں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ مشینری، افرادی قوت، ڈی واٹرنگ مشینز اور سکشن واٹر باؤزرز کو ہر وقت فعال اور تیار حالت میں رکھا جائے۔ انہوں نے شہری اور مضافاتی علاقوں میں نشیبی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے بارش کے پانی کی فوری نکاسی کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ردِعمل کے لیے تمام افسران الرٹ رہیں، اپنی ڈیوٹی اسٹیشنز پر موجودگی یقینی بنائیں اور بلا ضرورت اسٹیشن چھوڑنے سے گریز کریں۔ اجلاس میں عوامی تحفظ، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور پیشگی احتیاطی تدابیر پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تاکہ ممکنہ طوفانی بارشوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔لورالائی میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ضلعی انتظامیہ نے متوقع طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر ہنگامی اقدامات کے تحت ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے، جو چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔ذرائع کے مطابق کنٹرول روم میں تربیت یافتہ عملہ تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ ریسکیو 1122، میونسپل کمیٹی، محکمہ صحت اور پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر کنٹرول روم یا متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں تاکہ بروقت امدادی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید برآں، حساس علاقوں میں عارضی پناہ گاہوں کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر متاثرہ افراد کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3519/2026
اسلام آباد،03اپریل:پاک چین اقتصادی و ثقافتی کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کا سیمینار بعنوان“چین کی جدیدیت کا سفر،کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت، وژن اور مشترکہ مستقبل”کا انعقاد کیاگیا، جس کی صدارت پاک چین اقتصادی و ثقافتی کونسل کے صدر بایزید کاسی نے کی۔سیمینار سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل نمائندہ اکرم ذکی،بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ، کاروباری شخصیات ارسلان، عمر ملک اورمالیاتی ماہر اویس طارق نے خطاب کیا۔ دیگر شرکاء میں نبیلہ جعفر، مصطفیٰ حیدر سید، میاں ابرار حسین، فرمان اللہ انجم، انجینئر احسان اللہ خان، یاسر تابا ن اور دیگر شریک ہوئے۔بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں چین کی سماجی و معاشی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چین کی تیز رفتار ترقی اور بٖڑھتی ہوئی معیشت خطے کے تمام ممالک کیلئے رول ماڈل ہے، انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست اور شراکت دار ہے، سی پیک جیسے منصوبے اس دوستی کو مزید بلندیوں کی جانب لے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سی پیک کے منصوبے اور چینی سرمایہ کاری صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں کردار ادا کر رہی ہے، بلوچستان کی حکومت اور عوام اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،مقررین نے چین کی سماجی و معاشی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی بصیرت افروز قیادت کے تحت چین نے غربت کے خاتمے، تیز رفتار صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی میں جدت، اور پائیدار معاشی نمو جیسے اہم اہداف حاصل کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کا طرزِ حکمرانی، جو طویل المدتی پالیسی تسلسل، میرٹ پر مبنی قیادت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہے، نے ایک ارب سے زائد افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
خبرنامہ نمبر3520/2026
لورالائی03 اپریل:حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی متحرک ہو گئی۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات کی روشنی میں چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ نے صفائی اور نکاسی آب کے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے۔گورنمنٹ ہائی سکول اور ڈگری کالج کے سامنے مرکزی نالہ بارش کے پانی اور ملبے کی وجہ سے بند ہو گیا تھا جس کے باعث سڑک پر پانی جمع ہو کر آمد و رفت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ خود موقع پر پہنچے اور عملے کے ہمراہ اپنی نگرانی میں نالہ کھلوایا جبکہ جنریٹر کے ذریعے جمع پانی نکال کر سڑک کو فوری طور پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔ادھر میونسپل کمیٹی کے صفائی عملے نے شہر کے مختلف علاقوں میں بھی ہنگامی بنیادوں پر صفائی اور نکاسی آب کا کام جاری رکھا۔ کینٹ روڈ، عرب سین محلہ، ملک عیسیٰ ٹپ، سردار ہاشم قلعہ، احمد دکان اور ہاشم ہسپتال کے اطراف کچرے کی صفائی اور کھڑے پانی کی نکاسی کی گئی تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسی طرح باران زون میں کباڑی بازار پل، عجب زون تحصیل روڈ جبکہ سلیم داد ولی کمپلینٹ زون میں صدر بازار، باگی بازار اور کاکڑی مسجد روڈ پر نالیوں کی صفائی کا عمل جاری رکھا گیا۔ شہر میں صفائی کے لیے ٹریکٹر ٹرالی اور سوزوکی کے ذریعے کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔میونسپل کمیٹی حکام کے مطابق عملہ مسلسل فیلڈ میں موجود ہے اور شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ شہر کو صاف ستھرا اور نکاسی آب کے نظام کو بحال رکھا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3521/2026
بارکھان 03 اپریل بارکھان /رکھنی کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن رکھنی مجیب الرحمن قمبرانی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر فرائض کی انجام دہی شروع کر دی ہے۔ ان کی تعیناتی پر عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجیب الرحمن قمبرانی ایک باصلاحیت اور تجربہ کار افسر ہیں اور ان کی آمد سے ڈویژن میں انتظامی امور میں بہتری آئے گی۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔شہریوں نے مزید کہا کہ نئے کمشنر عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے جس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تاکہ اجتماعی کوششوں سے علاقے کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3522/2026
موسی خیل:ضلع موسی’ خیل میں بارشوں کے بعد ضلعی انتظامیہ کی فوری کارروائی قبرستان اور دیگر رہائشی علاقے سیلابی ریلے سے محفوظ گزشتہ روز موسیٰ خیل میں موسلادھار بارش کے بعد ضلعی انتظامیہ نے میونسپل کمیٹی اور محکمہ بی اینڈ آر کے تعاون سے فوری کارروائی کرتے ہوئے بڑے نقصان کا خدشہ ٹال دیا۔ انتظامیہ نے ماڈل ہائی اسکول کے سامنے واقع اجتماعی قبرستان میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کا رخ موڑا اور محلہ جعفر آباد کے برساتی نالوں کی صفائی کر کے نکاسی آب کو یقینی بنایا بروقت اقدامات پر اہل محلہ اور شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک نے شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا لوگوں سے مسائل پوچھے اور انتظامیہ کو عوام کے مسائل حل کرنے کی ہدایات جاری کی کہ تمام نقصانات کی رپورٹ مرتب کرکے پیش کی جائے تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جاسکے.
خبرنامہ نمبر3523/2026
بارکھان 03 اپریل:کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن رکھنی مجیب الرحمن قمبرانی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر فرائض کی انجام دہی شروع کر دی ہے۔ ان کی تعیناتی پر عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجیب الرحمن قمبرانی ایک باصلاحیت اور تجربہ کار افسر ہیں اور ان کی آمد سے ڈویژن میں انتظامی امور میں بہتری آئے گی۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔شہریوں نے مزید کہا کہ نئے کمشنر عوامی مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائیں گے، جس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تاکہ مشترکہ کوششوں سے علاقے کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3524/2026
حب: ڈپٹی کمشنر ضلع حب جمعہ داد خان مندوخیل کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے سرکاری محکموں میں ملازمین کی حاضری، کارکردگی اور نظم و ضبط کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے دوران مختلف محکموں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بعض اداروں میں غیر حاضری اور عملے کی کمی جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ تمام لائن محکموں کے ملازمین کی جسمانی تصدیق کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا، جس کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ تاریخوں پر اپنے مکمل عملے کے ہمراہ پیش ہوں اور خالی آسامیوں، تعینات ملازمین اور ان کی حاضری سے متعلق تصدیق شدہ تفصیلات جمع کرائیں۔ یہ گوشوارے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر سے تصدیق شدہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ تصدیقی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غیر حاضری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ غیر حاضر پائے جانے والے ملازمین کے خلاف بی ای ای ڈی اے (BEEDA) قوانین کے تحت بلا امتیاز سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس اقدام سے سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ متعلقہ افسران نے حکومتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
خبرنامہ نمبر3525/2026
کوئٹہ 03اپریل۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے حالیہ بارشوں کے پیش نظر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنہ اوڑک، زرغون اور دیگر علاقوں میں مختلف ڈیموں اور پانی کے گزرگاہوں کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا جبکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مشینری بھی مہیا کر دی گئی۔ زرغون کے علاقے کے لیے بروقت تمام ضروری مشینری فراہم کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3526/2026
گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق“ہر بچہ اسکول میں ”انرولمنٹ مہم کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زائد حسین سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومتِ بلوچستان تعلیم کے فروغ اور تعلیم کو عام کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت ڈویژنل، ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال ضلع گوادر میں 5 ہزار 500 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹس اور فیس سے متعلق مسائل درپیش تھے، جنہیں ضلعی انتظامیہ نے کامیابی سے حل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انرولمنٹ مہم کے ذریعے شہر سے لے کر دور دراز دیہات تک آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلع گوادر میں اس وقت تمام 313 اسکول فعال ہیں اور کسی بھی اسکول کی بندش کا مسئلہ درپیش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ مزید بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی حکومت کے اسٹریٹجک منصوبے کے تحت جہاں بھی کلاس رومز کی ضرورت ہوگی، وہاں نئے کلاس رومز تعمیر کیے جائیں گے۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینِ اسلام میں علم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور جہالت تمام مسائل کی جڑ ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ حکومتی ہدف سے بڑھ کر بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زائد حسین نے کہا کہ اگرچہ اب تک مقررہ ہدف مکمل حاصل نہیں ہو سکا، تاہم دستیاب وقت میں تمام تر کاوشوں کے ذریعے اس ہدف کو یقینی بنایا جائے گا اور درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر طلبہ و طالبات نے مہمانوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ یادگاری تحائف پیش کیے۔ اس موقع پر حکومتِ بلوچستان اور یونیسیف کے تعاون سے بچوں میں اسکول بیگز اور اسٹیشنری بھی تقسیم کی گئی، جبکہ طالبات نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خوبصورت ٹیبلو بھی پیش کیا۔
خبرنامہ نمبر3527/2026
گوادر۔ 3 اپریل:رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمن اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان نے آج جی ڈی اے اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت شاہین چوک، بی اینڈ آر چوک، ہسپتال روڈ، تھانہ وارڈ، بی اینڈ آر لنک روڈ سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔اس موقع پر شاہین چوک اور بی اینڈ آر چوک میں افتتاحی تختیوں کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، سپرٹینڈنگ انجینیئر روڈ نادر بلو، پی ڈی واٹر میرجان بلوچ، ڈپٹی پی ڈی اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبہ محمد آصف سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی شریف میاں داد، کونسلرز اور جی ڈی اے کے افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔اس موقع پر ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے ماضی میں بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال اور تالاب کا منظر پیش کرتے تھے، تاہم جی ڈی اے کے ترقیاتی منصوبوں کی بدولت آج بارشوں کے چند دن بعد ہی یہ علاقے صاف ستھرے اور بہتر حالت میں نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے تحت شہر کے بیشتر علاقوں میں نکاسی آب کا نظام بہتر ہوا ہے جس کے مثبت نتائج حالیہ بارشوں میں واضح طور پر دیکھنے میں آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ باقی ماندہ علاقوں، جن میں ٹی ٹی سی کالونی، بخشی کالونی، شمبے اسماعیل وارڈ اور پرانی آبادی کے دیگر حصے شامل ہیں، میں بھی جلد ترقیاتی کام شروع کیے جائیں گے تاکہ پورے شہر میں یکساں بہتری لائی جا سکے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان نے کہا کہ جی ڈی اے گوادر شہر کو ماسٹر پلان کے تحت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ترقی دے رہی ہے۔ ساتھ ہی پرانی آبادی کی بہتری، اپ گریڈیشن، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و توسیع، ڈرینج اور سیوریج سسٹم کی بحالی سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد شہر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، گوادر کو مزید خوبصورت بنانا اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ڈی جی جی ڈی اے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ اپنے تمام منصوبوں میں معیار اور مقررہ مدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا اور ان اصولوں پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔بعد ازاں ایم پی اے گوادر اور ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے ینگ جان فٹسال گراؤنڈ کا دورہ کرکے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔
خبرنامہ نمبر3528/2026
گوادر: رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے محکمہ تعلیم کے افسران کے ہمراہ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے منصوبے کے تحت پی ٹی ایس ایم سیز (PTSMCs) کے ذریعے منعقدہ ایک تقریب میں مختلف اسکولوں کو چیکس تقسیم کیے۔تقریب میں پروجیکٹ کے انچارج ثناء اللہ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین سمیت متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جون تک ضلع کے 50 اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ترجیح اُن تعلیمی اداروں کو دی جائے گی جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے اور کلاس رومز یا شیلٹرز کی کمی درپیش ہے۔رکن صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر کہا کہ تعلیمی سہولیات کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں کی جانب راغب کیا جا سکے گا۔تقریب کے دوران 10 اسکولوں کے سربراہان اور نمائندوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے چیکس تقسیم کیے گئے،جبکہ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں تعلیمی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
خبرنامہ نمبر3529/2026
زیارت 03اپریل:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق آج گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کواس غربی کی داخلہ کمیٹی کی جانب سے باقاعدہ داخلہ مہم کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلے میں اساتذہ نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، دکانوں اور گھروں میں جا کر والدین اور طلبہ سے ملاقات کی۔اساتذہ نے والدین اور طلبہ کو یہ پیغام پہنچایا کہ کل سے اسکول باقاعدہ طور پر کھل رہے ہیں، لہٰذا طلبہ اپنی حاضری یقینی بنائیں اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں۔اس موقع پر مختلف بینرز اور پوسٹرز بھی تقسیم کیے گئے اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اسکول کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بچوں کا مستقبل روشن بنایا جا سکے۔گوادر/پسنی: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی عادل بشیر کے ہمراہ فوراً شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے سڑکوں، بازاروں اور اہم مقامات کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ کسی ہنگامی صورتحال یا ممکنہ نقصان سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے آر ایچ سی پسنی کا بھی معائنہ کیا تاکہ ہنگامی حالات میں میڈیکل سہولیات کی دستیابی، ایمرجنسی رومز، دوا اور طبی عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس دوران شہر میں صفائی، نکاسی آب کے نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ شہریوں کے لیے ہنگامی حالات میں مکمل تیاری موجود ہو۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ شہری علاقوں میں ہنگامی صورتحال کے حوالے سے فالو اپ اقدامات کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل رکھی جائے۔
خبرنامہ نمبر3530/2026
کوئٹہ (03 اپریل):چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کے توسیعی منصوبے اور بلیلی میں زیرِ تعمیر جوڈیشل کمپلیکس و بار کونسل منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان چیف انجینئر کویٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی چیف آرکیٹیکٹ ڈاکٹر سہراب مری ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ کچلاک ڈویژن عمر منیر سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھیدورے کے دوران سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے چیف جسٹس کو جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے منصوبوں سے متعلق تکنیکی امور ڈیزائن درپیش مسائل اور تکمیل کے مجوزہ ٹائم فریم پر تفصیلی بریفننگ دی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کا کہنا تھا کہ تمام منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور وہ خود ان کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اس موقع پر چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ہدایت دی کہ ان اہم نوعیت کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ عدالت عالیہ آنے والے سائلین کو مزید سہولیات میسر آسکیں انہوں نے بلیلی میں جاری جوڈیشل کمپلیکس اور بار کونسل منصوبوں کے ڈیزائن پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے ازسرِ نو چیک کیا جائے تاکہ دستیاب تمام جگہ کو مؤثر اور کارآمد انداز میں استعمال کیا جا سکے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے بتایا کہ بلیلی منصوبہ ایک جامع نوعیت کا منصوبہ ہے جس میں جوڈیشل اکیڈمی بار کونسل اور دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر شامل ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو ایک ماسٹر پلان کے تحت مکمل کیا جائے گا جس میں جدید طرز کی سڑکیں گرین بیلٹس اور دیگر بنیادی سہولیات بھی شامل ہوں گی تاکہ اسے ایک مکمل اور جدید عدالتی کمپلیکس کی شکل دی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر3531/2026
کوئٹہ (03 اپریل):سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیک سینٹر میں جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ شہک بلوچ ایڈیشنل سیکرٹری ثاقب خان ایم ڈی کارڈیک سینٹر چیف انجینئر کوئیٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی ایگزیکٹو انجینئر بلڈنگ سریاب ڈویژن چاکر رفیق بلوچ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھیدورے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر چاکر رفیق بلوچ نے منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے جامع بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ کارڈیک سینٹر کا یہ اہم منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس وقت فنشنگ کا کام تیزی سے جاری ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے منصوبے پر جاری کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ کارڈیک سینٹر ایک نہایت اہم نوعیت کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے کوئیٹہ شہر اور گردونواح کے عوام کو دل کے امراض کے علاج کے لیے جدید اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے باقی ماندہ کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ کارڈیک سینٹر کو باقاعدہ فعال کر کے عوام کو اس کے ثمرات فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل سے نہ صرف مقامی سطح پر علاج کی سہولت بہتر ہوگی بلکہ مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ممکن ہوگی۔
خبرنامہ نمبر 3631/2026
کوئٹہ، 03 اپریل :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دوراندیش، عوام دوست اور تاریخی کردار کے حامل شخصیت تھے، جنہوں نے پاکستان کی ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت، آئینی، سیاسی اور معاشرتی بنیادیں مضبوط کیں اور محروم طبقات کے حقوق و وقار کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ملک کا دفاع جوہری ٹیکنالوجی کی بدولت ناقابل تسخیر ہے، اس کی ابتداء قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کی انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے آئینی طور پر عوام کو طاقتور بنایا اور سیاست کو اشرافیہ کے گرد گھومنے والی سرگرمیوں سے نکال کر عوام تک پہنچایا۔ ان کی قیادت میں عوام کو ووٹ کی طاقت ملی، قومی ادارے مضبوط ہوئے، اور ملکی پالیسی سازی میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کو یقینی بنایا گیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھٹو شہید نے ملکی دفاع، ایٹمی پروگرام اور قومی خودمختاری کے لیے تاریخی فیصلے کیے اور پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مستحکم بنایا۔ ان کی وژنری قیادت آج بھی ملکی خارجہ پالیسی، عالمی تعلقات اور ترقی کی سمت کا رہنما اصول ہے انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مسلم دنیا کو متحد کرنے، فلسطینی کاز کی حمایت اور ترقی پذیر ممالک کے تعاون کے لیے متوازن پلیٹ فارم قائم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو مسلم امہ کے موجودہ چیلنجز اور عالمی مسائل بالکل مختلف ہوتے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوام کے لیے ان کی جدوجہد کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے بلوچستان میں بھی شفاف حکمرانی، مؤثر سروس ڈلیوری اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ترقی، خوشحالی اور استحکام کے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے تاکہ بلوچستان کے عوام کو بہتر سہولیات، مساوی مواقع اور روشن مستقبل فراہم کیے جا سکیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قائدین کی قربانیاں اور وژن ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عوامی فلاح، مساوات اور عدل کے اصولوں کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے، اور یہی عزم بلوچستان اور پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔






