خبرنامہ نمبر 2466/2026
تربت.2اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈی سی کیچ آفس تربت میں ضلع کیچ کے بینک منیجران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں بینکوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید موثر بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے بینک مینیجران پر زور دیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت ڈسٹرکٹ کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آر فنڈز کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ بینکوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ فلاحی منصوبوں کو شفاف اور موثر انداز میں پایا تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ باہمی اشتراک سے ضلع کیچ کی مجموعی ترقی اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2467/2026
ہرنائی 2اپریل۔ ضلع ہرنائی اور گردونواح میں طوفانی بارشوں اور شدید ڑالہ باری نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع کر کے مقامی زمینداروں کو بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اس آفت زدہ گھڑی میں بلوچستان حکومت اور ضلعی انتظامیہ عوام کی داد رسی کے لیے میدان میں نکل آئی ہے، جہاں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ نگرانی بحالی کا کام جاری ہے۔?حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور ایس ڈی او ایریگیشن سید آصف شاہ بخاری نے وتی بند کا تفصیلی دورہ کیا۔ اگرچہ بند سے چھوٹے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔ دوسری جانب، سب تحصیل کھوسٹ کے مقام پر زردالو پل کے قریب سیلابی ریلے کے باعث کوئلے سے لدا ٹرک الٹنے سے شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔? اس طرح ہرنائی کے علاقے خوزڑی میں غیر معمولی ڑالہ باری نے باغات اور تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے مقامی زمینداروں کی جمع پونجی ضائع ہو گئی۔صوبائی حکومت اس مشکل وقت میں ہرنائی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر انتظامیہ متاثرین کی مالی معاونت اور نقصانات کے ازالے کے لیے کوشاں ہے۔ ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے بند شاہراہوں کو فوری کھولا جائے اور متاثرہ زمینداروں کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوشاں ہے ?مجموعی طور پر، اگرچہ قدرتی آفت نے ہرنائی کی معیشت اور نقل و حمل کو متاثر کیا ہے، لیکن صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی بروقت مداخلت اور انتھک محنت نے عوام میں امید کی کرن پیدا کر دی ہے۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، شاہراہوں کی بحالی اور متاثرہ طبقات کی مالی پشت پناہی ہے تاکہ ضلع کی رونقیں جلد از جلد بحال ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2468/2026
سبی 2اپریل۔ کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض اور ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کے احکامات پر، جبکہ چیئرمین میونسپل کمیٹی سبی سردار محمد خان خجک کی ہدایت کے تحت شہر میں صفائی ستھرائی کے سلسلے میں بارش کے دوران بھی بھرپور مہم جاری ہے۔ میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر کے گنجان آباد علاقوں، گلیوں اور محلوں میں صفائی کے کام انجام دیتے ہوئے کچرا اٹھا کر مقررہ مقامات پر منتقل کیا۔ اس دوران چیف سینیٹری انسپکٹر محمد سلیم نے صفائی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہوئے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملے کو ہدایات دیں۔ میونسپل کمیٹی سبی کے مطابق شہر کو صاف ستھرا اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کے لیے صفائی ستھرائی کا یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے گا، تاکہ شہریوں کو صحت مند ماحول میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2469/2026
قلات 2اپریل ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر خالق آبادڈاکٹر علی گل عمرانی نے پٹوار خانہ کا دورہ کیاتمام ریونیوریکارڈز،بشمول جمع بندی، تغیرات، اور دیگر متعلقہ دستاویزات۔کی جانچ پڑتال کی اسسٹنٹ کمشنر نے ریونیو کے عملے کو زرعی انکم ٹیکس سے متعلق اہداف کو بڑھانے اور جمع بندی کے ریکارڈ کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2470/2026
لورالائی 2 اپریل۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر و چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی ہدایات پر حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے میونسپل کمیٹی لورالائی کا عملہ ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہے۔ شہر میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں جبکہ میونسپل کمیٹی کی تمام مشینری فیلڈ میں کام کر رہی ہے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر کے مختلف محلوں میں جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو فوری طور پر ٹھکانے لگانے اور بارشوں کے باعث بند ہونے والی نالیوں کو کھولنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ نکاسی آب کا نظام بحال رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے محلہ نالی پل میں بند نالی کو کھول دیا جبکہ کمشنر ہاو¿س روڈ اور کینٹ کے علاقے میں نالیوں سے پانی کی نکاسی کو بھی یقینی بنایا گیا جس سے علاقے میں جمع پانی کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اسی طرح ہائی اسکول کینٹ روڈ کو فوری طور پر کھول کر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔دوسری جانب لیویز لائن ہاشم محلہ میں بارشوں کے باعث ایک مکان گرنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد میونسپل کمیٹی کے عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گھر کا تمام سامان محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جس کے باعث مزید نقصان سے بچاو ممکن ہو سکا۔چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا اور بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صفائی کے عمل میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور کوڑا کرکٹ نالیوں میں پھینکنے سے گریز کریں تاکہ نکاسی آب کا نظام متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ میونسپل کمیٹی کا عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور شہر میں صفائی و نکاسی آب کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی ۔جب تک صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2471/2026
لورالائی، 2 اپریل ۔اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں اور مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نائب تحصیلدار اعظم خان، پرائس کنٹرول کمیٹی انچارج معصوم خان، انجمن تاجران کے نمائندوں، آٹا ڈیلرز، چینی ڈیلرز، بیکری مالکان، تندور مالکان، پرچون ایسوسی ایشن، ہوٹل یونین، قصاب، سیلون اور گرم حمام کے دکانداروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ضلع لورالائی میں اشیائے خورد و نوش کا نیا سرکاری نرخنامہ جاری کر دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیاءمناسب اور مقررہ قیمتوں پر فراہم کی جائیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کے نظام کو مزید موثر بنا رہی ہے۔ انہوں نے تمام دکانداروں اور تاجروں کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخنامہ نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں پر اشیاء فروخت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بازاروں میں باقاعدہ چیکنگ کا عمل جاری رہے گا اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر تاجروں کے نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2472/2026
لورالائی: 2 اپریل ۔نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے سینئر ممبران نے جمعرات کے روز وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی جناب انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران نیو باور کے طلباءکو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسائل خصوصاً یونیورسٹی بس کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے نمائندوں نے وائس چانسلر کو طلباءکو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نیو باور کے طلباء کے لیے یونیورسٹی بس کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ انہیں تعلیم کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات کم ہو سکیں۔اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کی تعلیمی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نیو باور کے طلباء کے بس کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں تعلیمی امور، طلباءکی سہولیات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے ممبران نے وائس چانسلر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ طلباء کو درپیش مسائل جلد حل ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai April 2, 2026A key meeting of the Price Control Committee was held under the chairmanship of Assistant Commissioner Loralai, Nadeem Akram, in which a detailed review of the prices of essential commodities and the overall market situation across the district was conducted.The meeting was attended by Deputy Tehsildar Azam Khan, Price Control Committee In-charge Masoom Khan, representatives of the traders’ association, flour and sugar dealers, bakery and tandoor owners, retail association members, hotel union representatives, butchers, salon owners, and operators of traditional bathhouses.During the session, thorough discussions were held on the prices of essential items. After mutual consultation with all stakeholders, a new official price list for food items in District Loralai was issued.It was emphasized that essential daily-use items should be provided to the public at fair and officially fixed prices to help reduce the impact of inflation.On this occasion, Assistant Commissioner Nadeem Akram stated that the district administration is further strengthening the price control mechanism to provide relief to the public. He directed all shopkeepers and traders to prominently display the official price list and strictly adhere to the prescribed rates.He further added that regular market inspections will continue, and violations of the official price list, hoarding, or profiteering will not be tolerated under any circumstances. Strict legal action will be taken against those found guilty.At the conclusion of the meeting, representatives of the traders assured the district administration of their full cooperation in implementing the official price list to ensure maximum relief for the public.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2473/2026
دکی2اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر آفس دکی میں قومی انسداد پولیو مہم (NID- اپریل 2026) کی تیاریوں کے سلسلے میں یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز کے لیے ایک اہم تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ٹریننگ سیشن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، این اسٹاپ ڈاکٹر عبد الحمید، ڈی ایس او ڈاکٹر عبد اللہ جان، سی سی او کے سعید احمد ناصر ، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین سمیت تمام یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔سیشن کے دوران انسداد پولیو ٹیموں کو مہم کی کامیابی کے لیے جامع رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس موقع پر موثر حکمت عملی کی تیاری، ٹیموں کی ذمہ داریوں کی وضاحت، ریکارڈ کی درست تکمیل، مائیکرو پلان پر عملدرآمد، فیلڈ میں درپیش چیلنجز کے حل اور عوامی تعاون کی اہمیت جیسے اہم پہلووں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔شرکاءکو ہدایت کی گئی کہ مہم کی کامیابی کے لیے ہر گھر اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے اور کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر دکی نے اپنے خطاب میں کہا: “پولیو کا خاتمہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ تمام ٹیمیں بھرپور جذبے اور لگن کے ساتھ فیلڈ میں جائیں اور اس قومی مقصد کے حصول کو یقینی بنائیں۔”انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ آنے والی نسل کو معذوری جیسے موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔یہ ٹریننگ پولیو کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد نہ صرف پولیو ٹیموں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے بلکہ مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے عوامی شراکت داری کو بھی یقینی بنانا ہے۔ آخر میں تمام شرکاءکی محنت اور لگن کو سراہا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2473/2026
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان کے زیرِ انتظام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے صوبے میں جاری بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین موسمی و ریسپانس رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یکم اپریل 2026 کی رات 9 بج کر 30 منٹ تک صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث بعض علاقوں میں نقصانات اور سیلابی صورتحال بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (پی ای او سی) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق آواران، چمن، بارکھان، دکی، ہرنائی، کچھی (بولان)، کیچ (تربت)، کوہلو، لسبیلہ، لورالائی، مستونگ، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، سوراب، ژوب، کوئٹہ، زیارت اور شیرانی میں بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ چاغی، ڈیرہ بگٹی، جعفر آباد، جھل مگسی، قلات، خاران، خضدار، نصیر آباد، نوشکی، پشین، پنجگور، سبی، صحبت پور، اوستہ محمد، واشک اور حب میں مطلع ابر آلود رہا۔رپورٹ کے مطابق ضلع کچھی کی تحصیل ڈھاڈر میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث ایک بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ ضلع کچھی کی تحصیل بالا ناری میں دریائے ناری کے پشتے میں شگاف پڑنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ گوٹھ تاج حبیب اور گوٹھ بلوچانی میں 100 سے زائد مکانات تباہ ہو گئے جبکہ تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ضلع ہرنائی میں بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مسلسل بارشوں کے باعث ضلع ہرنائی میں ہرنائی تا سنجاوی اور ہرنائی تا کوئٹہ شاہراہیں آمد و رفت کے لیے بند ہو گئی ہیں جبکہ متعدد اندرونی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اسی طرح درمیانی سے شدید بارشوں کے باعث ضلع ہرنائی اور چمن میں موسمی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کی صورتحال بھی رپورٹ کی گئی ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں شدید بارشوں کے نتیجے میں قلعہ عبداللہ بازار، حبیب زئی، عبدالرحمن زئی، گلستان، آرامبی اور توبہ اچکزئی کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جبکہ مچھکا اسٹریم، آرامبی اسٹریم، باغک اسٹریم اور گلستان کاریز میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری ریسپانس شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے پی ڈی ایم اے کی مشینری کی مدد سے گلستان اور گردونواح میں ریسکیو آپریشن کیے جن میں باغک پل کے قریب علاقوں کو بھی شامل کیا گیا جہاں پانی کی سطح انتہائی بلند تھی۔ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بندوں کی مضبوطی اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہے۔ ضلع ہرنائی میں ضلعی انتظامیہ نے چھت گرنے کے واقعہ پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو پی ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کردہ امدادی سامان پہنچا دیا ہے جبکہ ضلع کچھی میں ضلعی انتظامیہ بھاری مشینری کے ذریعے پشتے میں پڑنے والے شگاف کو پر کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں گوٹھ تاج حبیب اور گوٹھ بلوچانی میں متحرک ہیں جہاں نقصانات کے تخمینے کا عمل بھی جاری ہے۔دریں اثناء ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں سیلابی ریلے میں پندرہ خواتین اور بچوں کو لے جانے والی ایک منی کوچ پھنس گئی تھی جسے ڈپٹی کمشنر کی ذاتی نگرانی میں ریسکیو آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ پی ڈی ایم اے کی ایکسکیویٹر مشینری کی مدد سے گاڑی کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں مچھکا اسٹریم میں مختلف مقامات پر پھنسنے والی دو گاڑیوں کو بھی کامیاب ریسکیو آپریشن کے ذریعے نکال لیا گیا۔ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غوریزئی کی ہدایات پر صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور تمام ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے صورتحال کی نگرانی اور ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا ریسکیو عملہ اور ریلیف سیکشنز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2466/2026
تربت.2اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈی سی کیچ آفس تربت میں ضلع کیچ کے بینک منیجران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں بینکوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید موثر بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے بینک مینیجران پر زور دیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت ڈسٹرکٹ کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آر فنڈز کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اہم شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ بینکوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاکہ فلاحی منصوبوں کو شفاف اور موثر انداز میں پایا تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ باہمی اشتراک سے ضلع کیچ کی مجموعی ترقی اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2467/2026
ہرنائی 2اپریل۔ ضلع ہرنائی اور گردونواح میں طوفانی بارشوں اور شدید ژالہ باری نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع کر کے مقامی زمینداروں کو بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اس آفت زدہ گھڑی میں بلوچستان حکومت اور ضلعی انتظامیہ عوام کی داد رسی کے لیے میدان میں نکل آئی ہے، جہاں ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی کی زیرِ نگرانی بحالی کا کام جاری ہے۔حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین اور ایس ڈی او ایریگیشن سید آصف شاہ بخاری نے وتی بند کا تفصیلی دورہ کیا۔ اگرچہ بند سے چھوٹے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔ دوسری جانب، سب تحصیل کھوسٹ کے مقام پر زردالو پل کے قریب سیلابی ریلے کے باعث کوئلے سے لدا ٹرک الٹنے سے شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس طرح ہرنائی کے علاقے خوزڑی میں غیر معمولی ڑالہ باری نے باغات اور تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے مقامی زمینداروں کی جمع پونجی ضائع ہو گئی۔صوبائی حکومت اس مشکل وقت میں ہرنائی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر انتظامیہ متاثرین کی مالی معاونت اور نقصانات کے ازالے کے لیے کوشاں ہے۔ ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے بند شاہراہوں کو فوری کھولا جائے اور متاثرہ زمینداروں کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوشاں ہے مجموعی طور پر، اگرچہ قدرتی آفت نے ہرنائی کی معیشت اور نقل و حمل کو متاثر کیا ہے، لیکن صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی بروقت مداخلت اور انتھک محنت نے عوام میں امید کی کرن پیدا کر دی ہے۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، شاہراہوں کی بحالی اور متاثرہ طبقات کی مالی پشت پناہی ہے تاکہ ضلع کی رونقیں جلد از جلد بحال ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2468/2026
سبی 2اپریل۔ کمشنر سبی ڈویژن اسداللہ فیض اور ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کے احکامات پر، جبکہ چیئرمین میونسپل کمیٹی سبی سردار محمد خان خجک کی ہدایت کے تحت شہر میں صفائی ستھرائی کے سلسلے میں بارش کے دوران بھی بھرپور مہم جاری ہے۔ میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر کے گنجان آباد علاقوں، گلیوں اور محلوں میں صفائی کے کام انجام دیتے ہوئے کچرا اٹھا کر مقررہ مقامات پر منتقل کیا۔ اس دوران چیف سینیٹری انسپکٹر محمد سلیم نے صفائی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہوئے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملے کو ہدایات دیں۔ میونسپل کمیٹی سبی کے مطابق شہر کو صاف ستھرا اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کے لیے صفائی ستھرائی کا یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے گا، تاکہ شہریوں کو صحت مند ماحول میسر آ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2469/2026
قلات 2اپریل ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیراحمددرانی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر خالق آبادڈاکٹر علی گل عمرانی نے پٹوار خانہ کا دورہ کیاتمام ریونیوریکارڈز،بشمول جمع بندی، تغیرات، اور دیگر متعلقہ دستاویزات۔کی جانچ پڑتال کی اسسٹنٹ کمشنر نے ریونیو کے عملے کو زرعی انکم ٹیکس سے متعلق اہداف کو بڑھانے اور جمع بندی کے ریکارڈ کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2470/2026
لورالائی 2 اپریل۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے احکامات اور چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر و چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ بلوچ کی ہدایات پر حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے میونسپل کمیٹی لورالائی کا عملہ ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہے۔ شہر میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں جبکہ میونسپل کمیٹی کی تمام مشینری فیلڈ میں کام کر رہی ہے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے شہر کے مختلف محلوں میں جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو فوری طور پر ٹھکانے لگانے اور بارشوں کے باعث بند ہونے والی نالیوں کو کھولنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ نکاسی آب کا نظام بحال رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میونسپل کمیٹی کے عملے نے محلہ نالی پل میں بند نالی کو کھول دیا جبکہ کمشنر ہاوس روڈ اور کینٹ کے علاقے میں نالیوں سے پانی کی نکاسی کو بھی یقینی بنایا گیا جس سے علاقے میں جمع پانی کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اسی طرح ہائی اسکول کینٹ روڈ کو فوری طور پر کھول کر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔دوسری جانب لیویز لائن ہاشم محلہ میں بارشوں کے باعث ایک مکان گرنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد میونسپل کمیٹی کے عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گھر کا تمام سامان محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جس کے باعث مزید نقصان سے بچاو ممکن ہو سکا۔چیئرمین میونسپل کمیٹی طاہر خان ناصر اور چیف آفیسر محب اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا اور بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا میونسپل کمیٹی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صفائی کے عمل میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور کوڑا کرکٹ نالیوں میں پھینکنے سے گریز کریں تاکہ نکاسی آب کا نظام متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ میونسپل کمیٹی کا عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور شہر میں صفائی و نکاسی آب کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی ۔جب تک صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2471/2026
لورالائی، 2 اپریل ۔اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم کی زیر صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں اور مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نائب تحصیلدار اعظم خان، پرائس کنٹرول کمیٹی انچارج معصوم خان، انجمن تاجران کے نمائندوں، آٹا ڈیلرز، چینی ڈیلرز، بیکری مالکان، تندور مالکان، پرچون ایسوسی ایشن، ہوٹل یونین، قصاب، سیلون اور گرم حمام کے دکانداروں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ضلع لورالائی میں اشیائے خورد و نوش کا نیا سرکاری نرخنامہ جاری کر دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیاءمناسب اور مقررہ قیمتوں پر فراہم کی جائیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرائس کنٹرول کے نظام کو مزید موثر بنا رہی ہے۔ انہوں نے تمام دکانداروں اور تاجروں کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخنامہ نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں پر اشیاء فروخت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بازاروں میں باقاعدہ چیکنگ کا عمل جاری رہے گا اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر تاجروں کے نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2472/2026
لورالائی: 2 اپریل ۔نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے سینئر ممبران نے جمعرات کے روز وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی جناب انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران نیو باور کے طلباءکو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسائل خصوصاً یونیورسٹی بس کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے نمائندوں نے وائس چانسلر کو طلباءکو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نیو باور کے طلباء کے لیے یونیورسٹی بس کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ انہیں تعلیم کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات کم ہو سکیں۔اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف لورالائی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ نے نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کی تعلیمی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نیو باور کے طلباء کے بس کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں تعلیمی امور، طلباءکی سہولیات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر نیو باور فلاحی خدمات کمیٹی کے ممبران نے وائس چانسلر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ طلباء کو درپیش مسائل جلد حل ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Loralai April 2, 2026A key meeting of the Price Control Committee was held under the chairmanship of Assistant Commissioner Loralai, Nadeem Akram, in which a detailed review of the prices of essential commodities and the overall market situation across the district was conducted.The meeting was attended by Deputy Tehsildar Azam Khan, Price Control Committee In-charge Masoom Khan, representatives of the traders’ association, flour and sugar dealers, bakery and tandoor owners, retail association members, hotel union representatives, butchers, salon owners, and operators of traditional bathhouses.During the session, thorough discussions were held on the prices of essential items. After mutual consultation with all stakeholders, a new official price list for food items in District Loralai was issued.It was emphasized that essential daily-use items should be provided to the public at fair and officially fixed prices to help reduce the impact of inflation.On this occasion, Assistant Commissioner Nadeem Akram stated that the district administration is further strengthening the price control mechanism to provide relief to the public. He directed all shopkeepers and traders to prominently display the official price list and strictly adhere to the prescribed rates.He further added that regular market inspections will continue, and violations of the official price list, hoarding, or profiteering will not be tolerated under any circumstances. Strict legal action will be taken against those found guilty.At the conclusion of the meeting, representatives of the traders assured the district administration of their full cooperation in implementing the official price list to ensure maximum relief for the public.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2473/2026
دکی2اپریل ۔ ڈپٹی کمشنر آفس دکی میں قومی انسداد پولیو مہم (NID- اپریل 2026) کی تیاریوں کے سلسلے میں یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز کے لیے ایک اہم تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ٹریننگ سیشن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، این اسٹاپ ڈاکٹر عبد الحمید، ڈی ایس او ڈاکٹر عبد اللہ جان، سی سی او کے سعید احمد ناصر ، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین سمیت تمام یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔سیشن کے دوران انسداد پولیو ٹیموں کو مہم کی کامیابی کے لیے جامع رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس موقع پر موثر حکمت عملی کی تیاری، ٹیموں کی ذمہ داریوں کی وضاحت، ریکارڈ کی درست تکمیل، مائیکرو پلان پر عملدرآمد، فیلڈ میں درپیش چیلنجز کے حل اور عوامی تعاون کی اہمیت جیسے اہم پہلووں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔شرکاءکو ہدایت کی گئی کہ مہم کی کامیابی کے لیے ہر گھر اور ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے اور کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر دکی نے اپنے خطاب میں کہا: “پولیو کا خاتمہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ تمام ٹیمیں بھرپور جذبے اور لگن کے ساتھ فیلڈ میں جائیں اور اس قومی مقصد کے حصول کو یقینی بنائیں۔”انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ آنے والی نسل کو معذوری جیسے موذی مرض سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔یہ ٹریننگ پولیو کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد نہ صرف پولیو ٹیموں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے بلکہ مہم کو سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے عوامی شراکت داری کو بھی یقینی بنانا ہے۔ آخر میں تمام شرکاءکی محنت اور لگن کو سراہا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر2473/2026
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان کے زیرِ انتظام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے صوبے میں جاری بارشوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین موسمی و ریسپانس رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یکم اپریل 2026 کی رات 9 بج کر 30 منٹ تک صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث بعض علاقوں میں نقصانات اور سیلابی صورتحال بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (پی ای او سی) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق آواران، چمن، بارکھان، دکی، ہرنائی، کچھی (بولان)، کیچ (تربت)، کوہلو، لسبیلہ، لورالائی، مستونگ، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، سوراب، ژوب، کوئٹہ، زیارت اور شیرانی میں بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ چاغی، ڈیرہ بگٹی، جعفر آباد، جھل مگسی، قلات، خاران، خضدار، نصیر آباد، نوشکی، پشین، پنجگور، سبی، صحبت پور، اوستہ محمد، واشک اور حب میں مطلع ابر آلود رہا۔رپورٹ کے مطابق ضلع کچھی کی تحصیل ڈھاڈر میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث ایک بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ ضلع کچھی کی تحصیل بالا ناری میں دریائے ناری کے پشتے میں شگاف پڑنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔ گوٹھ تاج حبیب اور گوٹھ بلوچانی میں 100 سے زائد مکانات تباہ ہو گئے جبکہ تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ضلع ہرنائی میں بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔مسلسل بارشوں کے باعث ضلع ہرنائی میں ہرنائی تا سنجاوی اور ہرنائی تا کوئٹہ شاہراہیں آمد و رفت کے لیے بند ہو گئی ہیں جبکہ متعدد اندرونی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اسی طرح درمیانی سے شدید بارشوں کے باعث ضلع ہرنائی اور چمن میں موسمی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کی صورتحال بھی رپورٹ کی گئی ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں شدید بارشوں کے نتیجے میں قلعہ عبداللہ بازار، حبیب زئی، عبدالرحمن زئی، گلستان، آرامبی اور توبہ اچکزئی کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جبکہ مچھکا اسٹریم، آرامبی اسٹریم، باغک اسٹریم اور گلستان کاریز میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری ریسپانس شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے پی ڈی ایم اے کی مشینری کی مدد سے گلستان اور گردونواح میں ریسکیو آپریشن کیے جن میں باغک پل کے قریب علاقوں کو بھی شامل کیا گیا جہاں پانی کی سطح انتہائی بلند تھی۔ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بندوں کی مضبوطی اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہے۔ ضلع ہرنائی میں ضلعی انتظامیہ نے چھت گرنے کے واقعہ پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو پی ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کردہ امدادی سامان پہنچا دیا ہے جبکہ ضلع کچھی میں ضلعی انتظامیہ بھاری مشینری کے ذریعے پشتے میں پڑنے والے شگاف کو پر کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں گوٹھ تاج حبیب اور گوٹھ بلوچانی میں متحرک ہیں جہاں نقصانات کے تخمینے کا عمل بھی جاری ہے۔دریں اثناء ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں سیلابی ریلے میں پندرہ خواتین اور بچوں کو لے جانے والی ایک منی کوچ پھنس گئی تھی جسے ڈپٹی کمشنر کی ذاتی نگرانی میں ریسکیو آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ پی ڈی ایم اے کی ایکسکیویٹر مشینری کی مدد سے گاڑی کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں مچھکا اسٹریم میں مختلف مقامات پر پھنسنے والی دو گاڑیوں کو بھی کامیاب ریسکیو آپریشن کے ذریعے نکال لیا گیا۔ریلیف کمشنر و ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جہانزیب خان غوریزئی کی ہدایات پر صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور تمام ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے صورتحال کی نگرانی اور ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا ریسکیو عملہ اور ریلیف سیکشنز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 2474/2026
کوئٹہ2اپریل ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن عبداللہ خان کی ہدایات کی روشنی میں شہر میں ریسٹورنٹس کی نگرانی کی مہم میں تیزی کر دی گئی ہے تاکہ ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹمز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ایئرپورٹ روڈ پر واقع مختلف ریسٹورنٹس سے کیا گیا ہے، جسے مرحلہ وار شہر کے دیگر علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ اس سلسلے میں تشکیل دی گئی مانیٹرنگ ٹیمیں مختلف ریسٹورنٹس کا دورہ کر کے پی او ایس سسٹمز کی فعالیت، سیلز کی درست رپورٹنگ اور ٹیکس کی بروقت ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ دینا، ریونیو میں اضافہ کرنا اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز کے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام ریسٹورنٹ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پی او ایس سسٹمز کو فعال رکھیں، تمام لین دین کا درست اندراج یقینی بنائیں اور مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ریٹرنز جمع کروائیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی صوبے میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت لانے کے لیے ایسی نگرانی مہمات جاری رکھے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر2475/2026
کوئٹہ 2اپریل۔رینج لینڈ پراجیکٹ (شمالی و جنوبی مصلخ) کے تحت مصلخ مینجمنٹ پلان کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کنزرویٹر فارسٹ واٹرشیڈ حافظ محمد مظہر نے کی۔ اجلاس میں کنزرویٹر فارسٹ ریسرچ غلام سرور، ڈپٹی کنزرویٹر فارسٹ پلاننگ ڈاکٹر عمران پناہ زئی اور ڈپٹی کنزرویٹر فارسٹ کوئٹہ و امپلیمنٹنگ آفیسر رینج لینڈ پراجیکٹ خلیل الرحمان کھوسہ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مصلخ رینج کے لیے جامع اور مربوط مینجمنٹ پلان کی تیاری کے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مصلخ رینج کے لیے پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ اور ہمہ جہت مینجمنٹ پلان مرتب کیا جا رہا ہے جو سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منصوبے میں مصلخ کے ماحولیاتی نظام کے تمام اہم پہلوؤں کو شامل کیا جائے گا جن میں جنگلی حیات، نباتات و حیوانات، چراگاہوں کی بحالی، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کے سماجی و معاشی حالات کا جامع جائزہ شامل ہوگا۔اجلاس میں خاص طور پر پائیدار چرا نظام (سَسٹینیبل گریسنگ پیٹرن) کی تشکیل پر زور دیا گیا تاکہ چراگاہوں کا متوازن استعمال یقینی بنایا جا سکے اور قدرتی وسائل کو طویل المدتی بنیادوں پر محفوظ رکھا جا سکے۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی، ماحولیاتی بہتری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کے فروغ میں مدد ملے گی جس سے مقامی کمیونٹی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات جاری رکھے گا اور مصلخ مینجمنٹ پلان اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر 2476/2026
کوئٹہ:2اپریل ۔ بلوچستان میں پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام سے متعلق اہم امور پر غور کے لیے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری سہیل الرحمٰن اور رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین کے درمیان ایک اہم غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا اجلاس کے دوران پانی کی قلت، غیر مؤثر تقسیم کے نظام اور پائیدار انتظامی طریقہ کار کی ضرورت جیسے اہم چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پانی کے تحفظ کو بہتر بنانے، آبپاشی کے نظام کو مؤثر بنانے اور زرعی و شہری صارفین کے درمیان منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے طویل المدتی حکمت عملیوں پر زور دیا گیا۔شرکاء نے جاری آبپاشی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا اور پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فیلڈ دفاتر اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو کامیابی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔اجلاس میں ایگزیکٹو انجینئر (زین) پشین، مسٹر احسان، اور سیکشن آفیسر (B&A) محکمہ آبپاشی، مسٹر انجم بشیر نے بھی شرکت کی۔ دونوں افسران نے تکنیکی مہارت فراہم کی اور زمینی حقائق کی روشنی میں درپیش مسائل اور ممکنہ حل پر قیمتی آراء پیش کیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں جدید واٹر مینجمنٹ تکنیکوں کے نفاذ، بہتر مانیٹرنگ سسٹمز کے قیام اور پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کے لیے کمیونٹی کی شمولیت جیسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پانی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششیں اور مؤثر پالیسی سازی کو یقینی بنایا جائے گا، کیونکہ پانی کا تحفظ صوبے کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
خبرنامہ نمبر 2477/2026
کوئٹہ، 2اپریل۔،بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (BCSW) کی چیئرپرسن محترمہ کرن بلوچ نے خاتون صوبائی محتسب محترمہ طاہرہ بلوچ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں عہدے کا چارج سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ طاہرہ بلوچ کی قیادت میں صوبے میں خواتین کے مسائل کے حل اور صنفی انصاف کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی نظام مزید مضبوط ہوگا۔ملاقات کے دوران خواتین کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خواتین کو درپیش چیلنجز، جن میں انصاف تک رسائی، کام کی جگہ پر ہراسانی، صنفی بنیادوں پر تشدد، سماجی و معاشی خودمختاری میں حائل رکاوٹوں اور دیگر امور پر گفتگو کی۔کرن بلوچ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اور پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے آگاہی مہمات، شکایات کے مؤثر نظام، اور ادارہ جاتی ردِعمل کو بہتر بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ طاہرہ بلوچ نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ محتسب کے دفتر کا بنیادی مقصد خواتین کو درپیش ناانصافیوں اور ہراسانی کے خلاف مؤثر داد رسی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو ایک محفوظ، قابلِ رسائی اور بااعتماد پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرا سکیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2478/2026
لورالائی2اپریل ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت ضلعی انتظامیہ لورالائی متحرک ہوگئی۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے حالیہ بارشوں کے پیش نظر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف ڈیموں اور ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔انتظامی ٹیم نے وریاگی ڈیم، تورخیزی ڈیم، شیخان ڈیم اور پٹھانکوٹ ڈیم سمیت دیگر اہم آبی ذخائر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسین بی اینڈ آر روڈ محمد داؤد خان اور ایس ڈی او ایریگیشن اکرام اللہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حکام نے کلی باور میں PSDP صوبائی فنڈز سے تعمیر ہونے والی سڑک کا بھی جائزہ لیا اور کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ایس ڈی او ایریگیشن اکرام اللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے باوجود تمام ڈیم محفوظ ہیں اور ان کے سپل ویز مکمل طور پر فعال ہیں، جن کے ذریعے اضافی پانی کا اخراج جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ عملہ الرٹ ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ڈیموں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے اور ہنگامی پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، نشیبی علاقوں کے لیے الرٹ جاری دریں اثناء ضلعی انتظامیہ نے لورالائی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے، جو چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ بھاری مشینری بھی حساس مقامات پر منتقل کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ضلعی حکام کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر2479/2026
کوئٹہ2اپریل۔ رینج لینڈ پراجیکٹ (شمالی و جنوبی مصلخ) کے تحت مصلخ مینجمنٹ پلان کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کنزرویٹر فارسٹ واٹرشیڈ حافظ محمد مظہر نے کی۔ اجلاس میں کنزرویٹر فارسٹ ریسرچ غلام سرور، ڈپٹی کنزرویٹر فارسٹ پلاننگ ڈاکٹر عمران پناہ زئی اور ڈپٹی کنزرویٹر فارسٹ کوئٹہ و امپلیمنٹنگ آفیسر رینج لینڈ پراجیکٹ خلیل الرحمان کھوسہ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مصلخ رینج کے لیے جامع اور مربوط مینجمنٹ پلان کی تیاری کے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مصلخ رینج کے لیے پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ اور ہمہ جہت مینجمنٹ پلان مرتب کیا جا رہا ہے جو سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منصوبے میں مصلخ کے ماحولیاتی نظام کے تمام اہم پہلوؤں کو شامل کیا جائے گا جن میں جنگلی حیات، نباتات و حیوانات، چراگاہوں کی بحالی، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مقامی آبادی کے سماجی و معاشی حالات کا جامع جائزہ شامل ہوگا۔اجلاس میں خاص طور پر پائیدار چرا نظام (سَسٹینیبل گریسنگ پیٹرن) کی تشکیل پر زور دیا گیا تاکہ چراگاہوں کا متوازن استعمال یقینی بنایا جا سکے اور قدرتی وسائل کو طویل المدتی بنیادوں پر محفوظ رکھا جا سکے۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی، ماحولیاتی بہتری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کے فروغ میں مدد ملے گی جس سے مقامی کمیونٹی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات جاری رکھے گا اور مصلخ مینجمنٹ پلان اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر2480/2026
کوئٹہ2اپریل۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے چیئرپرسن عبداللہ خان کی ہدایات کی روشنی میں شہر میں ریسٹورنٹس کی نگرانی کی مہم میں تیزی کر دی گئی ہے تاکہ ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹمز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ایئرپورٹ روڈ پر واقع مختلف ریسٹورنٹس سے کیا گیا ہے، جسے مرحلہ وار شہر کے دیگر علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ اس سلسلے میں تشکیل دی گئی مانیٹرنگ ٹیمیں مختلف ریسٹورنٹس کا دورہ کر کے پی او ایس سسٹمز کی فعالیت، سیلز کی درست رپورٹنگ اور ٹیکس کی بروقت ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ دینا، ریونیو میں اضافہ کرنا اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز کے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے تمام ریسٹورنٹ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پی او ایس سسٹمز کو فعال رکھیں، تمام لین دین کا درست اندراج یقینی بنائیں اور مقررہ مدت کے اندر ٹیکس ریٹرنز جمع کروائیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی صوبے میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت لانے کے لیے ایسی نگرانی مہمات جاری رکھے گی۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر2481/2026
کوئٹہ(2 اپریل۔کوئٹہ کے مختلف مضافات اور گوادر میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جاری کارروائیوں کے دوران 50 سے زائد کھانے پینے کے مراکز پر جرمانے عائد کر دیے گئے۔ انسپیکشن ٹیموں کی جانب سے معمولی نقائص پر 65 مراکز اور پروڈکشن یونٹس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔جرمانہ کیے جانے والے مراکز میں بیکریاں، بیکنگ یونٹس، ہوٹل و ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ کارنرز، آئس کریم شاپس اور سپر و جنرل اسٹورز شامل ہیں، جہاں صفائی کے ناقص انتظامات ، مجموعی طور پر ایس او پیز کی خلاف ورزی اور غیر معیاری و مضرِ صحت اشیاء کی فروخت سامنے آئی۔کارروائیوں کے دوران بی ایف اے حکام نے معروف برانڈ کے جعلی مصالحہ جات کے سینکڑوں پیکٹس برآمد کیے جبکہ ایکسپائر کولڈ ڈرنکس، بسکٹ، نمکو اور بچوں کی زائد المیعاد خوراک بھی ضبط کر کے موقع پر تلف کر دی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ترجمان بی ایف اے نے مزید کہا کہ شہری غیر معیاری یا مشکوک اشیاء کی فروخت کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے، جبکہ کاروباری حضرات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفظانِ صحت کے اصولوں اور مقررہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2482/2026
کوئٹہ2اپریل۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کوئٹہ میں 750 روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈز کی 106ویں قرعہ اندازی 15 اپریل 2026 بروز بدھ صبح 9 بجے منعقد ہوگی۔قرعہ اندازی کی تقریب اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کوئٹہ کے دفتر میں منعقد ہوگی جس میں شہر کے معزز شہریوں اور بلوچستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اراکین پر مشتمل کمیٹی بھی موجود ہوگی۔ قرعہ اندازی کی کارروائی کی نگرانی ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ کے اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار کریں گے۔تقریب میں شہر کے معززین، تاجر برادری اور عام شہریوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ قرعہ اندازی کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2483/2026
جعفرآباد2اپریل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ایک اہم اور خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں افغان مہاجرین کے ساتھ منسلک افراد اور ان کے خلاف قانونی کارروائیوں سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی، ڈی ایس پی سرکل صدورا لاشاری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا جعفرآباد سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا کی جانب سے شرکاء کو افغان مہاجرین سے منسلک شناختی کارڈز کے اجرا، ان کے غلط استعمال اور اس ضمن میں درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض افراد غیر قانونی طور پر افغان مہاجرین کے ساتھ منسلک ہو کر قومی شناختی کارڈز حاصل کر رہے ہیں جو کہ ملکی سلامتی اور قانونی نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ڈپٹی کمشنر خالد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نادرا، پولیس اور دیگر ادارے باہمی رابطے کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ غیر قانونی شناختی کارڈز کے اجرا کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مشکوک شناختی کارڈز کی چھان بین کا عمل تیز کیا جائے گا اور افغان مہاجرین کے ساتھ غیر قانونی روابط رکھنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ ضلع میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2484/2026
کوئٹہ 2اپریل۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے زیر صدارت اسکول داخلہ مہم کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، ڈسٹرکٹ یونیسیف آفیسر اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس میں ایسے بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی جو تاحال تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ بالخصوص پہلی جماعت میں داخلوں کی مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری اسکولوں کو درسی کتب کی ترسیل مکمل کر لی گئی ہے اور نئے داخل ہونے والے بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی جائیں گی۔اجلاس میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے اہم فیصلے بھی کیے گئے، جن کے مطابق مختلف اسکولوں میں واش رومز تعمیر کیے جائیں گے، جن اسکولوں میں کلاس رومز کی کمی ہے وہاں نئے کلاس رومز بنائے جائیں گے، جبکہ کوئٹہ کے مختلف اسکولوں میں سولر پینلز نصب کیے جائیں گے۔
مزید برآں، طلبہ کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مختلف اسکولوں میں واٹر ٹینکرز اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ وہ داخلہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانے کو یقینی بنائیں۔
۔۔۔
خبر نامہ نمبر 2485/2026
کوئٹہ 2اپریل۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت وادی کوئٹہ کے گرد و نواح کے پہاڑوں اور رِجز پر شجرکاری کے فروغ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ جنگلات، محکمہ زراعت، محکمہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد اور اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کلیم اللہ بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو مرحلہ وار بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ شجرکاری مہم کے پہلے مرحلے میں مختلف علاقوں میں کامیابی سے درخت اور پودے لگائے جا چکے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے (فیز ٹو) میں شہر کے اہم پہاڑی علاقوں بالخصوص سلیپنگ بیوٹی کے اطراف اور کوئٹہ گیریژن کے اندر و باہر کے علاقوں میں شجرکاری کی جائے گی۔ اس مرحلے کے تحت ابتدائی طور پر اس علاقے میں 31 ہزار پودے لگانے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 85 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی کہ شجرکاری کے لیے ایسے پودوں اور درختوں کا انتخاب کیا جائے جو مقامی آب و ہوا سے مطابقت رکھتے ہوں، اور ان کی افزائش، عمر اور دیکھ بھال کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے تاکہ مہم کے دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ شجرکاری مہم کے تیسرے اور چوتھے مراحل (فیز تھری اور فیز فور) آئندہ چند ماہ میں شروع کیے جائیں گے، جن میں مشرقی پہاڑی علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ فیز تھری اور فیز فور کی فزیبلٹی رپورٹس جلد از جلد تیار کر کے پیش کی جائیں اور جامع سروے کے ذریعے تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت شجرکاری مہم کو بھرپور اہمیت دے رہی ہے اور اس کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے تاکہ اس منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کر کے وادی کوئٹہ کے ماحول کو سرسبز اور خوشگوار بنایا جا سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر2486/2026
کوئٹہ 2اپریل۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج (QDP) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کے حل کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ زاہد خان، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ ڈویژن ظہور احمد، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر QDP عابد علی سمیت کنٹونمنٹ بورڈ اور ریلوے کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں میں درپیش رکاوٹوں اور مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ہدایت دی کہ سمنگلی روڈ کی توسیعی منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اس سلسلے میں کنٹونمنٹ بورڈ اور QDP کے مشترکہ انجینیئرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تاکہ مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے۔
اجلاس میں ایئرپورٹ روڈ پر کھلے مین ہولز کا بھی نوٹس لیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ فوری سروے کر کے انہیں بند کیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس کے علاؤہ ایسے مضبوط ڈھکن نصب کرنے کی تاکید کی گئی جو چوری نہ ہو سکیں۔کمشنر نے سمنگلی روڈ پر کنٹونمنٹ کی حدود میں موجود تجاوزات کے خاتمے اور جناح ٹاؤن و سمنگلی روڈ پر صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ اس حوالے سے صفا کوئٹہ اور کنٹونمنٹ بورڈ کو مشترکہ طور پر کچرے کی بروقت ٹھکانے لگانے کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی۔اجلاس میں بے نظیر پارک کے مرکزی گیٹ کو ٹریفک مسائل کے باعث دوسری جانب منتقل کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ QDP کے تحت جاری سڑکوں کی توسیع کے دوران ٹریفک اور ریلوے کراسنگ کے مسائل کے حل کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے درپیش مسائل کو فوری حل کریں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کریں تاکہ یہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں اور شہر میں ٹریفک کے مسائل میں واضح کمی لائی جا سکے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2487/2026
تربت 2اپریل۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت آل ٹرانسپورٹ یونین کیچ اور ٹرانسپورٹ مالکان کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کو بہتر سے بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور سماجی خدمات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر عوام کی خدمت کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ انہوں نے نہایت مثبت اور تعمیری انداز میں تجویز دی کہ ہر ٹرانسپورٹ کمپنی یا مالک کم از کم ایک فلاحی منصوبہ میں تعاون کریں، جیسے کسی ہسپتال، اسکول یا واٹر سپلائی اسکیم کی معاونت، تاکہ علاقے کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ کی جانب سے کسی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا بلکہ یہ ایک خالصتاً عوامی خدمت کا جذبہ ہے، جس کے ذریعے ضلع کیچ میں فلاحی کاموں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ٹرانسپورٹرز عوام سے وابستہ ہیں اور اسی سے روزگار حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان کا یہ فرض بھی بنتا ہے کہ وہ عوامی بہبود میں اپنا حصہ ڈالیں۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر2488/2026
سبی 2 اپریلڈپٹی کمشنر سبی و چیئرمین ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی میجر (ر) الیاس کبزئی کی نگرانی میں اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم کی فیز فور کے تحت آنے والی اسامیوں سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ امیدواروں کی فہرست پر موصول ہونے والے اعتراضات بھی زیر غور آئے۔ اجلاس کے دوران اعتراضات جمع کروانے والے امیدواران کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنی درخواستوں کے ہمراہ اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، اسسٹنٹ کمشنر یوٹی انضمام قاسم، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر منصور علی شاہ نے کہا کہ تمام امیدواران کے جمع کروائے گئے اعتراضات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امیدواروں کی پروفیشنل ڈگریوں کی بھی باقاعدہ تصدیق کی جائے گی اور تمام تقرریاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت اور میرٹ کی بالادستی حکومت بلوچستان بالخصوص وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کا اہم حصہ ہے، جس پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2489/2026
کوئٹہ، 2 اپریل ۔پارلیمانی سیکرٹری محکمہ جنگلات سردار مسعود لونی نے اپنے حلقہ انتخاب ضلع دکی میں حالیہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر بلوچستان عمران زرکون سے اہم ملاقات کی، جس میں متاثرہ علاقوں کی مجموعی صورتحال، نقصانات اور فوری درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا سردار مسعود لونی نے ملاقات کے دوران دکی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات، متاثرہ آبادی کو درپیش مشکلات اور امدادی سرگرمیوں کی ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے فوری حکومتی توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون نے صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی و بحالی اقدامات کو یقینی بنائیں، متاثرین کی بروقت مدد، خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ کرے اور ریسکیو و ریلیف آپریشنز کو مؤثر اور مربوط انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جا سکے حکومت بلوچستان متاثرہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
۔۔۔
خبرنامہ نمبر 2490/2026
کوئٹہ، 02 اپریل.وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبے میں ادارہ جاتی اصلاحات، گڈ گورننس اور مؤثر سروس ڈلیوری کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار بہتر طرز حکمرانی کا عملی ثبوت سامنے آیا ہے جہاں اسکولوں میں اساتذہ اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی غیر حاضری سے متعلق عوامی شکایات کا مؤثر انداز میں ازالہ کیا گیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران کھلی کچہریوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی غیر حاضری سے متعلق شکایات ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں جو کہ حکومت کی بہتر مانیٹرنگ اور مؤثر گورننس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری خوش آئند ہے اور اس سے عوام کا اعتماد حکومتی اقدامات پر مزید مستحکم ہوا ہے انہوں نے بتایا کہ کھلی کچہریوں میں عوامی شکایات کا ایک بڑا مسئلہ اساتذہ اور ڈاکٹرز کی غیر حاضری تھا تاہم مربوط حکمت عملی، سخت نگرانی اور بروقت شنوائی کے باعث اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ اداروں میں حاضری کو یقینی بنایا جا چکا ہے اور سروس ڈلیوری میں واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران بلوچستان کے 36 اضلاع میں مجموعی طور پر 412 کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں 3675 شکایات موصول ہوئیں ان شکایات کی بڑی تعداد تعلیمی اور صحت کے اداروں کی بندش اور عملے کی غیر حاضری سے متعلق تھی تاہم رواں سال مارچ کے مہینے میں موصول ہونے والی 871 شکایات میں سے صرف چار شکایات غیر حاضری سے متعلق تھیں جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اصلاحاتی اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی حاضری سے متعلق شکایات کا کم تناسب اس بات کا مظہر ہے کہ انتظامیہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سن رہی ہے اور بروقت حل فراہم کر رہی ہے اب جبکہ غیر حاضری جیسے بنیادی مسائل پر قابو پایا جا چکا ہے عوام کی جانب سے سروس ڈلیوری سے متعلق دیگر مسائل کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن کے حل کے لیے بھی حکومت متحرک ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اصلاحاتی ایجنڈے پر مؤثر عملدرآمد اور گورننس کی بہتری کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکرٹریز کمیٹی اور ڈویژنل و ضلعی انتظامی سربراہان کے اجلاسوں کا تسلسل سے انعقاد گڈ گورننس کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوا ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں گڈ گورننس اور شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور حکومت عوامی مسائل کے حل اور سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کا ہر اسکول اور اسپتال فعال کرکے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے الحمدللہ ڈاکٹرز اور اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی و صحت کے اداروں کی فعالیت ایک مؤثر اور جوابدہ نظام حکمرانی کی واضح علامت ہے.
خبرنامہ نمبر2492/2026
موسی خیل 2 اپریل ۔ڈپٹی کمشنر عبد الرزاق خجک کی زیرصدارت ویکسینیٹرز کے لیے دو روزہ RED/REC مائیکرو پلاننگ ٹریننگ (بیچ-2) کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا اس اہم تربیتی سیشن کے ٹرینر پیر محمد اور ایم اینڈ ای آفیسر عبدالروف جعفر نے کی، جنہوں نے اپنی محنت، تجربے اور پیشہ ورانہ انداز سے شرکاء کی بہترین رہنمائی کی۔ اس ٹریننگ کا بنیادی مقصد روٹین امیونائزیشن کو مزید موثر بنانا اور فیلڈ لیول پر مائیکرو پلاننگ کو مضبوط کرنا تھا تاکہ ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی بروقت رسائی ممکن بنائی جا سکے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے نگرانی کی ڈپٹی کمشنر کو ٹریننگ کے مختلف پہلووں پر ڈی ایچ او اور پروینشل ٹرینر کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس سے اس پروگرام کی اہمیت اور سنجیدگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ٹریننگ میں ویکسینیٹرز کے علاوہ ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر نادر ایسوٹ، IHHN کے کوارڈینیٹر مجیب الرحمٰن اور ASV شیر زمان نے بھی شرکت کی۔ تمام شرکائ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے نبھاتے ہوئے ہر بچے تک حفاظتی ٹیکوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2493/2026
گورنر بلوچستان// بی آر ایس پی پریزینٹیشن
بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام نے صوبے کے 36 مختلف اضلاع تک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیکر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ توسیع ہمارے پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے ان کے غیرمتزلزل عزم کا ثبوت ہے۔ ادارے کی تمام سرگرمیوں اور منصوبوں میں خواتین کی شرکت و شمولیت ضروری ہے۔ اب بیوٹمز یونیورسٹی میں قابل تجدید توانائی میں سینٹر آف ایکسیلنس کے آغاز کے ساتھ، وہ دیرپا انرجی کے حل کیلئے ایک بڑی تبدیلی لانے کیلئے تیار ہیں۔ لائیو سٹاک کے شعبے کو یونین کونسل کی سطح تک پھیلانا مقامی معیشت میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہمیں عوام کی ترقی و معاشی آسودگی کی خاطر تمام بین الاقوامی اداروں کی مہارت اور معاونت سے استفادہ کرنا ہوگا کیونکہ اسی میں ایک روشن مستقبل کی تعمیر و ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
کوئٹہ2 اپریل: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (BRSP) نے صوبے کے چھتیس مختلف اضلاع تک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیکر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔ یہ توسیع ہمارے صوبے کے بکھرے ہوئے، پسماندہ اور دورافتادہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے ان کے غیرمتزلزل عزم کا ثبوت ہے۔ گورنر مندوخیل نے ادارے کی تمام سرگرمیوں اور منصوبوں میں خواتین کی شرکت و شمولیت پر زور دیا۔ بیوٹمز یونیورسٹی میں قابل تجدید توانائی میں سینٹر آف ایکسیلنس کے آغاز کے ساتھ، وہ دیرپا انرجی کے حل کیلئے ایک بڑی تبدیلی لانے کیلئے تیار ہیں۔ علاؤہ ازیں لائیو سٹاک کے شعبے کو یونین کونسل کی سطح تک پھیلانا مقامی معیشت میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہم بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی پوری ٹیم کو گزشتہ کئی دہائیوں میں کیے گئے تمام وژنری منصوبوں اور اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کی کارکردگی سے متعلق بریفننگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بریفننگ کے دوران رکن صوبائی اسمبلی حاجی برکت رند، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی ، بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید، سینئر مینیجر نعمت اللہ میریانی اور مینیجر ابرائیم علوی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبے میں جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنا کر ہم نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی اداروں کی توجہ کو مبذول کرانے کی قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ ہم جرمنی اور فرانس کے سابق اعزازی قونصل جنرل مرحوم سردار نصیر ترین اور بی آر ایس پی کے موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید کی شاندار خدمت اور شرکت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت بی آر ایس پی جیسی خدمتگار تنظیموں کی مدد و معاونت کیلئے پرعزم ہے جو صوبے کے غریب عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ اسلیے اپنے عوام کی ترقی و معاشی آسودگی کی خاطر ہمیں تمام قومی اور بین الاقوامی اداروں کی مہارت اور معاونت سے استفادہ کرنا چاہیے اور اسی میں بلوچستان کے روشن مستقبل کی تعمیر و ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
خبر نامہ نمبر 2494/2026
کوئٹہ 2اپریل: ـصوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی ایک باوقار، شریف النفس اور قبائلی روایات کے امین شخصیت تھے، جن کی وفات سے ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی سماجی اور قبائلی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین
خبرنامہ نمبر 2495/2026
کوئٹہ 2 اپریل: ـصوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی، حاجی نور محمد خان دومڑ نے کہا ہے کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ صوبے کے پسماندہ علاقوں میں ترقی کا عمل تیز کیا جا سکے یہ بات انہوں نے آج ایڈیشنل سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں ڈپٹی کمشنر زیارت عبد القدوس اچکزئی بھی شریک تھیں ملاقات میں ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور ان منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری اسکیمات کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد میسر آ سکیں حاجی نور محمد خان دومڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ترقیاتی عمل کو شفاف، موثر اور عوام دوست بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور زیارت و ہرنائی سمیت تمام اضلاع میں جاری منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بنیادی سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا، جو مجموعی طور پر عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے
خبر نامہ نمبر 2026/2496
قلعہ عبداللہ 2 اپریل: ـڈی سی قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی اپنے ایک آگاہی وڈیو پیغام میں حالیہ شدید بارشوں کے دوران سیلابی ریلوں اور ندی نالوں کو پار کرنے کے دوران احتیاط برتنے اور گاڑیوں موٹر سائیکلوں اور پیدل پار کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک یا دو گھنٹے انتظار کریں جب سیلابی ریلے کم ہو جائیں تو پھر احتیاط سے سیلابی ندی نالے پار کریں اور لاپرواہی اور جلد بازی سے اپنے اور دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر نہ لگائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/2497
ضلع چمن 2 اپریل: ـ چمن پاک آفغان سرحدی علاقوں سمیت شمالی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خواجہ عمران، گلستان توبہ آچکزئی، قلعہ عبداللہ میزئی اڈا اور پورے چمن قلعہ عبداللہ اور پشین میں کل رات سے وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئےہیں محکمہ موسمیات نے آئندہ تین دن تک مزید بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات کی ہیں چمن شہر و گردونواح میں موسلا دھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث اکثر میدانی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں اور بعض علاقوں میں ژالہ باری سے فصلوں اور باغات کو نقصانات پہنچنے کا اندیشہ پایا جاتا ہے حالیہ شدید بارشوں کے دوران ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے عوام کو سیلابی ندی نالوں کو پار کرنے سے عوام کو منع کرنے کی درخواست کی ہے ڈی سی چمن نے کہا کہ اگر کسی نے سیلابی ریلوں سے گزرنا ہی ہے تو پھر کسی پل اور سیف جگے پر روڈ پار کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنی زندگیوں کو خطرات سے دو چار نہ کریں انہوں نے کہا کہ کبھی نہ آنے سے دیر سے آنا بہتر ہے کیونکہ جان ہے تو جہان ہے اسلئے عوام الناس احتیاط کو اپنے زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ چمن عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے مستعد ہے اور ضلعی انتظامیہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کےساتھ ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کےلئے الرٹ ہے۔
خبر نامہ نمبر 2026/2498
ضلع قلعہ عبداللہ 2 اپریل: ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے آج کولک کاکوزئی میں گزشتہ روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے سابق لیویز رسالدار اور موجودہ انسپکٹر علی محمد اچکزئی کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے اس موقع پر زخمی اہلکار کے اہلخانہ اور ان کے بھائی حاجی علاؤالدین کولکوال سے بھی ملاقات کی اور انہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون شکن عناصر کی ایسے بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے نہیں ہوں گے اور ایسی بزدلانہ واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور واقع میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اس موقع پر ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین، انسپکٹر حبیب اللہ خان اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ زخمی اہلکار کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ان کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کی قربانیاں قابل قدر ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/2499
ضلع قلعہ عبداللہ2اپریل:ـڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ حسین مگسی کا حالیہ شدید بارشوں کے دوران متاثرہ علاقوں کا دورہ، ڈی سی قلعہ عبداللہ نے بارشوں اور سیلابی ریلوں کے راستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا قلعہ عبداللہ میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ، منور حسین مگسی نے ضلع کے مختلف متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سیلابی ریلوں کے گزرگاہوں، نکاسی آب کے نظام اور مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انجینئر غلام رسول اور ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین ایف سی اور پولیس اہلکاران بھی موجود تھے ڈی سی قلعہ عبداللہ نے مختلف مقامات کا معائنہ کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا اور متعلقہ عملے کو ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ علاقوں میں مقامی افراد سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور انہیں درپیش مشکلات کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور متاثرین تک فوری طور پر امداد پہنچائی جائے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت کسی بھی متاثرہ فرد کو اکیلا نہیں چھوڑے گی اور نقصانات کا تخمینہ لگا کر جلد از جلد ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ضلعی انتظامیہ، سیکیورٹی ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے کام کرتے ہوئے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم سے کم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شدید سیلابی ریلوں اور ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں اور ایک دو گھنٹے انتظار کریں اور جب تک سیلابی ریلے کی بہاؤ کم ہو جائے تو پھر ندی نالوں کو پار کریں اور اپنے اور دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر جلدبازی کی وجہ سے خطرات میں نہ ڈالیں انہوں نے کہا کہ کبھی نہ آنے سے دیر سے آنا بہتر ہے اور کسی بھی شخص کا وقت انکی زندگی سے سے قیمتی نہیں لہذا احتیاط اور انتطار کریں جب تک سیلابی ریلوں میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے تو پھر کسی سیف جگے سے پار کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/2500
زیارت02اپریل:ـوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول کان ڈپومیں بچوں کے داخلے کے بعد کتب فراہم کی گئیں تمام والدین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ضلع زیارت کے تمام گورنمنٹ بوائز اور گرلز اسکولز کے سربراہان اپنے 2 تا 3 اساتذہ پر مشتمل انرولمنٹ ٹیم کے ساتھ اپنے اپنے اسکولوں میں موجود ہیں تاکہ نئے طلباء و طالبات کے داخلے کو یقینی بنایا جا سکے۔لہٰذا تمام والدین سے گزارش ہےکہ وہ، اپنے بچوں اور بچیوں کے داخلے کے لیے اپنے گھر کے قریب سرکاری اسکول تشریف لائیں اور انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق محکمۂ تعلیم کی جانب سے تمام طلباء و طالبات کو مفت درسی کتب فراہم کی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/2501
زیارت 02اپریل :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول کان ڈپومیں بچوں کے داخلے کے بعد کتب فراہم کی گئیں تمام والدین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ضلع زیارت کے تمام گورنمنٹ بوائز اور گرلز اسکولز کے سربراہان اپنے 2 تا 3 اساتذہ پر مشتمل انرولمنٹ ٹیم کے ساتھ اپنے اپنے اسکولوں میں موجود ہیں تاکہ نئے طلباء و طالبات کے داخلے کو یقینی بنایا جا سکے۔لہٰذا تمام والدین سے گزارش ہے کہ وہ، اپنے بچوں اور بچیوں کے داخلے کے لیے اپنے گھر کے قریب سرکاری اسکول تشریف لائیں اور انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام طلباء و طالبات کو مفت درسی کتب فراہم کی جائیں گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/2501
گوادر02اپریل: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی درستگی عمر سے متعلق کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے عمر کی درستگی کے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 20 ملازمین کے کیسز ڈپٹی کمشنر اور کمیٹی کے روبرو پیش کیے گئے، جن کا تعلق محکمہ صحت، بی اینڈ آر، جنگلات، تعلیم، سوشل ویلفیئر اور فشریز سے تھا۔ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی نے تمام کیسز کا مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق باریک بینی سے جائزہ لیا اور متعلقہ دستاویزات کی روشنی میں ان کی پراسیسنگ مکمل کی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عیسیٰ بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر سمیت محکمہ خزانہ اور فشریز کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے ہدایت کی کہ تمام کیسز کو مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر نمٹایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی گنجائش نہ رہے۔ بعض کیسز کو مزید جانچ پڑتال اور تصدیق کے لیے آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/2502
کوئٹہ2 اپریل: آج کا دن کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کی تاریخ میں ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ QDA کی ہاؤسنگ اسکیمز کے کمیونٹی ہالز کی نیلامی کھلے، شفاف اور مسابقتی بڈنگ کے ذریعے کامیابی کے ساتھ منعقد کی گئی۔شفافیت اور منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے میڈیا نمائندگان اور احتسابی دفاتر کو بطور مبصر مدعو کیا گیا، جو کہ QDA کی شفاف حکمرانی اور میرٹ پر مبنی فیصلوں کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مذکورہ کمیونٹی ہالز ماضی میں بغیر کسی باقاعدہ طریقہ کار کے استعمال ہو رہے تھے اور بیشتر غیر فعال حالت میں تھے۔ اس تاریخی اقدام کے ذریعے نہ صرف ان کی مؤثر اور باقاعدہ استعمال کو یقینی بنایا گیا بلکہ ایک پائیدار آمدن کا ذریعہ بھی پیدا کیا گیا ہے۔اس مسابقتی نیلامی کے نتائج درج ذیل ہیں:سیٹلائٹ ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم، کوئٹہ کے کمیونٹی ہال کی کامیاب بولی Rs. 5,16,000/- ماہانہ رہی۔چلتن ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم، کوئٹہ کے کمیونٹی ہال کی کامیاب بولی Rs. 3,52,000/- ماہانہ رہی۔سمنگلی ہاؤسنگ اسکیم، کوئٹہ کے کمیونٹی ہال کی کامیاب بولی Rs. 1,25,000/- ماہانہ رہی۔ان کامیاب بولیوں کے نتیجے میں ماہانہ بنیادوں پر خاطر خواہ آمدن متوقع ہے، جو مالی مشکلات سے دوچار اتھارٹی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔یہ کامیابی معزز وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی اور چیئرمین QDA اسفندیار کاکڑ کی بصیرت افروز قیادت اور اصلاحاتی وژن کا نتیجہ ہے، جن کی رہنمائی میں یہ سنگِ میل حاصل کیا گیا۔کیو ڈی اے آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال، شفافیت اور ادارہ جاتی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے





