خبرنامہ نمبر1640/2026
کوئٹہ، 26 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت نصیر آباد ڈویژن کے پارلیمانی اراکین اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نصیر آباد ڈویژن میں آبپاشی کے شعبے میں جاری ترقیاتی اور بحالی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں دریائی ذرائع کی بہتر منصوبہ بندی، نہری نظام کی تنظیم نو اور زرعی علاقوں میں آبپاشی کی استعداد بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں ضلع صحبت پور میں پانچ ارب روپے کی لاگت سے جاری حیر دین ڈرینج منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مانجھوٹی اور اوچ کینال کی بحالی کے منصوبوں کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ کاشتکاروں کو درپیش پانی کی قلت کے مسائل کا پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ آبپاشی منصوبوں کی نگرانی اور مؤثر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام نہروں اور ڈرینج سسٹم کی مرحلہ وار تنظیم نو کی جائے گی اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز ترجیحاً متعلقہ محکموں سے تعینات کیے جائیں گے تاکہ شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھا جا سکے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آبپاشی کے منصوبے زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن صوبے کا گرین بیلٹ اور فروٹ باسکٹ ہے، جہاں زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جامع اقدامات ناگزیر ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زرعی شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی سہولت اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور زرعی پیداوار والے علاقوں میں آبپاشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنا کر ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو دیرپا بنایا جائے گا تاکہ سرکاری وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عبدالمجید بادینی، صوبائی وزیر نوابزادہ میر طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی محمد خان لہڑی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن، لعل جان جعفر اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
خبرنامہ نمبر1641/2026
لورالائی 26فروری:پولیس تھانہ چنجن اور تھانہ سرکی جنگل نے مشترکہ کامیاب کارروائی کرتے ہوئے سرکاری بجلی تاریں چوری کرنے والے گروہ کے 7 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ایس ایچ او تھانہ چنجن سب انسپکٹر منان اوتمانخیل اور ایس ایچ او تھانہ سرکی جنگل انسپکٹر محمود ناصر کی سربراہی میں پولیس ٹیموں نے تنگ چین اور سرکی جنگل کے علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے ملزمان: کامل ولد، سفر خان، عبدالمجید (قوم دمڑ، سکنہ نری ڈاگ)، سیف اللہ، اختر شاہ، اکرم شاہ (قوم زخپل، سکنہ چنجن) اور سرفراز (قوم حمزازئی) کو گرفتار کیا۔پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ایک پیک اپ، ایک کار، ایک موٹر سائیکل اور بھاری مقدار میں چوری شدہ سرکاری بجلی تار برآمد کرلی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف تھانہ چنجن اور تھانہ سرکی جنگل میں مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر1642/2026
لورالائی 25 فروری :وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات کی روشنی میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران مستحق اور نادار افراد کے لیے خصوصی رمضان ریلیف پیکیج کی باوقار تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم نے عادی منشیات ہسپتال لورالائی میں زیرِ علاج مستحق افراد میں راشن تقسیم کیا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شفافیت، منظم حکمتِ عملی اور مستحقین کے وقار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے لورالائی کے مختلف علاقوں میں راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے عوام دوست ویژن کے مطابق ماہِ صیام میں امداد کی فراہمی شفاف اور باعزت انداز میں جاری رکھی جائے گی تاکہ حقیقی مستحقین تک بروقت ریلیف پہنچ سکے۔گوادر 26 فروری 2026 ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس مکران ریجن عمران قریشی نے گزشتہ روز گوادر پریس کلب کا دورہ کیا اور پروگرام ‘حال احوال’ میں خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صدر پریس کلب نور محسن سمیت ضلع کے سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔گفتگو کے دوران ڈی آئی جی نے کہا کہ ضلع سے منشیات کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن و امان کا قیام پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر میں مثالی امن برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس مقصد کے حصول میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں پولیس، عوام اور میڈیا کے درمیان مؤثر رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ باہمی تعاون اور بہتر ورکنگ ریلیشن شپ سے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ عوامی مسائل کے بروقت حل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ پروگرام کے اختتام پر پریس کلب کی جانب سے ڈی آئی جی عمران قریشی کو روایتی بلوچی چادر پہنائی گئی اور اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔
خبرنامہ نمبر1643/2026
کوئٹہ 26 فروری: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے ٹیکنیکل، سائنسی اور انجینئرنگ کنسلٹنسی خدمات فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی لازمی رجسٹریشن مکمل کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔ اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت ایسی ٹیکنیکل، سائنسی اور انجینئرنگ کنسلٹنسی خدمات، جن کی ادائیگی وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، مقامی حکومت یا کنٹونمنٹ بورڈ کے بجٹ سے کی جاتی ہے، پر 6 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ کنسلٹنٹس اور فرموں کیلئے ضروری ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں، قابلِ ادا ٹیکس جمع کرائیں اور مقررہ وقت کے اندر ٹیکس ریٹرنز فائل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام متعلقہ سروس فراہم کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے ٹیکنیکل، سائنسی اور انجینئرنگ کنسلٹنسی خدمات فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اتھارٹی کے ساتھ اپنی لازمی رجسٹریشن مکمل کریں اور ہر ٹیکس پیریڈ کی ریٹرنز بروقت جمع کرائیں تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔اتھارٹی کے مطابق بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (BSTS) ایکٹ 2015 کے تحت ایسی ٹیکنیکل، سائنسی اور انجینئرنگ کنسلٹنسی خدمات، جن کی ادائیگی وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، مقامی حکومت یا کنٹونمنٹ بورڈ کے بجٹ سے کی جاتی ہے، پر 6 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔بی آر اے نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ کنسلٹنٹس اور فرموں کیلئے ضروری ہے کہ وہ قانون کے مطابق اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں، قابلِ ادا ٹیکس جمع کرائیں اور مقررہ وقت کے اندر ٹیکس ریٹرنز فائل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔اتھارٹی نے تمام متعلقہ سروس فراہم کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔کوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق ایم/ایس زرک کنسٹرکشن کمپنی (گورنمنٹ کنٹریکٹر) کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق پہلے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن کام کی بحالی کے بعد تاحکمِ ثانی معطل (Held in Abeyance) کر دیا گیا ہے۔
خبرنامہ نمبر1644/2026
کوئٹہ ۔ 26 فروری :سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے زیر صدارت ریڈ زون سیکیورٹی بنکرز اور کنکریٹ دیوار منصوبے کے حوالے سے جاہزہ اجلاس منعقد ہوا اس موقع پر چیف انجینئر کوئٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی، چیف انجینئر فیڈرل پروجیکٹس ڈاکٹر سجاد بلوچ سمیت محکمہ مواصلات و تعمیرات کے دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے اجلاس کو ایگزیکٹو انجینئر مینٹیننس ون اویس پرویز نے منصوبے کی پیش رفت، تکنیکی پہلوؤں اور تعمیراتی مراحل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے منصوبے کو درپیش مختلف چیلنجز، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی مسائل سے بھی آگاہ کیا، جن کے باعث منصوبے کی تکمیل میں درپیش رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ریڈ زون کی سیکیورٹی پلان کے حوالے سے واضح اور سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ریڈ زون ایک انتہائی حساس مقام کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مضبوط، مؤثر اور مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی بنکرز اور کنکریٹ دیوار منصوبہ نہ صرف حساس سرکاری عمارات کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے میں معیار، شفافیت اور رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام تکنیکی و سیکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کو بروقت مکمل کیا جائے.
خبرنامہ نمبر1645/2026
کوئٹہ: صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمٰن کھیتران کی زیر صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا ایک اہم محکمانہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی، چیف انجینئرز، سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور ایگزیکٹو انجینئرز سمیت اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سیکرٹری پی ایچ ای نے محکمانہ امور، جاری ترقیاتی منصوبوں، فزیکل اور فنانشل پراگریس سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جبکہ محکمہ کی مجموعی کارکردگی، انتظامی معاملات، ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات اور ریونیو کلیکشن کی صورتحال کا بھی جامع جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر افسران کی حاضری، نظم و ضبط اور کارکردگی پر خصوصی غور کیا گیا۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے مالی نظم و ضبط اور شفافیت کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے واٹر ٹیکس کلیکشن ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام پرانے اور نئے ٹیوب ویلز کی محکمانہ اونرشپ لی جائے گی جبکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تمام اضلاع میں سرپرائز وزٹس کیے جائیں گے تاکہ کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر نے سیکرٹری پی ایچ ای اور تمام افسران کو نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے تاہم آئندہ بھی اس پوزیشن کو برقرار رکھنا اصل چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ ای سے متعلق منفی تاثر کو بہتر کارکردگی کے ذریعے ختم کیا گیا ہے اور محکمہ عوامی خدمت کے جذبے سے کام کر رہا ہے۔سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے واضح کیا کہ ہم سب ایک ٹیم ہیں اور کسی ایک کی بدنامی ہم سب کی بدنامی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اسٹیشنز پر ہر وقت موجود رہیں، غیرحاضری کی صورت میں تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی صدقہ جاریہ ہے اور عوام تک صاف پانی کی بروقت فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔اجلاس کے اختتام پر بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
خبرنامہ نمبر1646/2026
کوئٹہ 26فروری :نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی جانب سے مرتب کردہ “زلزلہ گائیڈ لائنز 2026” کے عملی نفاذ کے لیے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بلوچستان نے ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد صوبے میں زلزلے سے قبل کی پیمائش، سائنسی منصوبہ بندی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔ اس اہم بیٹھک میں بلوچستان کے تمام متعلقہ انتظامی اداروں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں ان کے انفرادی کردار اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا تفصیلی تعین کیا گیا۔ اجلاس میں خاص طور پر بلوچستان کے ان حساس علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی جہاں حالیہ دنوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک خضدار، جھل مگسی اور جعفرآباد میں 5.6 شدت تک کے زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن کی وجہ سے ان اضلاع کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ زلزلہ پیما مرکز کے ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ان حالیہ لرزشوں کے بعد بڑے پیمانے پر ‘آفٹر شاکس’ یا مزید طاقتور جھٹکوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، جس کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ‘ہائی الرٹ’ پر رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔صوبائی حکام نے زلزلہ گائیڈ لائنز کے تحت ایک ہمہ گیر حفاظتی منصوبہ تیار کیا ہے جس میں تعمیراتی قوانین (Building Codes) پر سمجھوتہ نہ کرنے کا سخت فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تمام نئی تعمیرات میں زلزلہ مزاحم ٹیکنالوجی کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمارتوں کی مضبوطی اور حفاظتی معیار کی کڑی نگرانی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ تباہی کی صورت میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کرنے کے لیے فوری امدادی کارروائیوں (Rapid Response) کا ایک ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے، جس میں تربیت یافتہ ٹیموں کی تشکیل اور حساس علاقوں میں بھاری مشینری کی پیشگی دستیابی شامل ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گنجان آباد علاقوں اور عوامی مقامات پر ہنگامی اخراج کے راستوں کی واضح نشاندہی کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں افراتفری سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ نے عوام الناس میں زلزلے سے بچاؤ کی تدابیر، جیسے کہ محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش اور ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کے لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان کی جغرافیائی پوزیشن اور فالٹ لائنز کی موجودگی کے باعث ان احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ عوامی تحفظ کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
خبرنامہ نمبر1647/2026
تربت.وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایت پر چیئرمین ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی و ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی سربراہی میں محکمہ تعلیم کی عارضی بھرتیوں کے سلسلے میں جمع کرائے گئے امیدواروں کی تعلیمی اسناد کی جامع جانچ پڑتال اور دائر کردہ اعتراضات کی باقاعدہ شنوائی کا عمل نہایت شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کیچ تابش علی بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کیچ اسداللہ بلوچ، ڈائریکٹر ایجوکیشن صابر علی بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تربت امجد شہزاد، اصغر علی، ممتاز بلوچ اور خزانہ آفیسر تربت صدام بلوچ بھی موجود تھے۔چیئرمین ڈی آر سی و ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے میل اور فی میل امیدواروں کے اعتراضات فرداً فرداً سنے اور پیش کردہ اسناد کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ جانچ کے دوران ایک امیدوار کی ڈگری جعلی ثابت ہوئی جس پر موقع پر ہی متعلقہ امیدوار کو قانون کے مطابق حراست میں لے لیا گیا اور مزید کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ نے اس موقع پر واضح کیا کہ بھرتیوں کے تمام مراحل مکمل شفافیت، میرٹ اور قانون کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی جعلسازی یا بدعنوانی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور میرٹ کے فروغ کیلئے پرعزم ہے تاکہ اہل اور مستحق امیدواروں کو ان کا حق فراہم کیا جاسکے۔
خبرنامہ نمبر1648/2026
قلات26فروری :وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پرعوامی مسائل سے آگہی اورانکے حل سے متعلق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد کےا گےا۔ ڈی سی کمپلیکس میں کیاگیاکھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنرمنیراحمددرانی کرنل زرار 329بریگیڈ اسسٹنٹ کمشنر طاہرسنجرانی ڈی ایس پی ماہیوال سمیت دیگرسرکاری محکموں کے سربراہاں سیاسی قبائلی رہنماوں کونسلران صحافی برادری اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی کھلی کچہری میں عوام نے کھل کر اپنے مسائل بیان کیٰے کھلی کچہری سے مبارک خان محمدحسنی میر قادر بخش مینگل بی بی نور محمدحسنی احمدنواز بلوچ عبدالغفور شاہوانی رحیم خان سرفراز عمرانی رئیس ظہور احمددہوار ندیم دہوار چیرمین عبدالواحد پندرانی غلام علی محمدنور فاروقی کاکا اقبال دہوارعبدالرزاق زہری محمدجاوید شفیق الرحمن نصیب اللہذولقرنین نوشیروانی مولانا رحمددل حلیمی مولانا منیراحمد ٹکری عبدالحفیظ عمرانی اور دیگر نے عوامی مسائل بیان کیئے کھلی کچہری میں سبزی منڈی میں مسجد کی تعمیر زاوہ ڈیم تعمیراتی کام میں تاخیرمختلف علاقوں میں پانی کی قلت شہر میں سولر لائٹس کی مرمت بازار میں چوکیداروں کی کمی بجلی کی اوور بلنگ رمضان پیکج کے راشن کی تقسیم اسکلکو چشمہ چیل کی صفائی گورنمنٹ ماڈل داود سکول میں کلاس رومز کی کمی کلی مغلزئی میں بنیادی سہولیات کے فقدان سیلاب متاثرین کی بحالی محمدتاوہ کےایمبولینس کی مرمت ڈاکخانہ میں اسلحہ لائسنس کے لیئے ٹکٹ کی عدم دستیابی اورضلعی محکموں کے سربراہان کی دفاتر میں عدم موجودگی محکمہ زراعت میں مشینری اور نرسری کانہ ہونا میونسپل کمیٹی کے ملازمین کے تخواہوں کی فراہمی میں تاخیر اور دیگر اہم مسائل کی نشاندہی کی گئ کھلی کچہری میں ڈی سی منیراحمددرانی نے لوگوں کےشکایات ازالے کیلئےموقع پر احکامات جاری کئے اوردیگر مسائل کے حل کے لئے محکموں کے سربرہان کو سختی سے ہدایات جاری کردی ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کا برائے راست رابطہ کرانا ہےتاکہ عوام برائے راست اپنے مسائل بیان کرسکیں ہمیں لوگوں کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیئے کام کرناہےاورہم سروسز ڈیلیوری کیلئےآئے ہیں وزیراعلی اورچیف سیکرٹری کی واضح ہدایات ہیں کہ انتظامی افسران گڈگورننس یقینی بنانے کیلئے عوام کے مسائل حل کریں ڈی سی قلات نے کہا کہ بلاتفریق عوام کی خدمت کرنا میرا ایمان ہے سرکاری محکموں کے سربراہان عوام کے خادم ہوتے ہیں عوامی مسائل حل کرنا انکی ذمہ داری ہے ہرکسی کو اپنے حصے کاکام ایمانداری سے کرناہوگامحکموں کے سربراہاں اپنے دفاتر میں حاضری یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی درخواست گزار کو مشکلات پیش نہ ہو۔عوام اپنے علاقے کے نمائندے ہوتے ہیں آپ سب اپنے علاقوں میں مسائل کی نشادہی کریں تاکہ انکے فوری حل سے متعلق اقدامات کیئے جاسکیں عوامی مسائل کے حل کے لیئے علاقہ معززین سیاسی وقبائلی رہنمائ صحافی برادری ضلعی انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔
خبرنامہ نمبر1649/2026
سبی 26 فروری:ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں تعلیمی امور، اساتذہ کی حاضری، انرولمنٹ اور دیگر اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی انضمام قاسم، اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی ڈاکٹر حمزہ لاشاری، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر عبدالستار لانگو، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آر ٹی ایس ایم مرزا اطہر بیگ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر میل طارق الماس، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر فیمیل سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر عبدالستار لانگو نے ڈپٹی کمشنر کو تعلیمی اداروں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، جاری ترقیاتی امور اور نئے تعلیمی سال کی تیاریوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے ہدایت کی کہ اساتذہ کی بھرتیوں کے فیز فور مرحلے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بچوں کی زیادہ سے زیادہ انرولمنٹ کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی، جس میں آگاہی واک، سیمینارز اور پینا فلیکس کے ذریعے شعور و آگاہی مہم چلانے پر زور دیا گیا تاکہ سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ ہو سکے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ دو مارچ کو ایک پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ آگاہی واک اور سیمینارز ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر کے تعلیمی ادارے شجرکاری مہم میں بھی بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ طلبہ کے لیے مفت درسی کتب ضلع میں پہنچ چکی ہیں اور ضرورت کے مطابق تمام تعلیمی اداروں میں فراہم کی جائیں گی۔ مزید برآں غیر حاضر اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سبی نے ہدایت کی کہ بچوں کی زیادہ سے زیادہ انرولمنٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، موثر آگاہی مہم چلائی جائے اور شجرکاری مہم میں بھرپور شرکت کی جائے تاکہ تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1650/2026
سبی 26 فروری:حکومتِ بلوچستان کے رمضان پیکج کے تحت ضلع سبی کے مختلف مقامات پر مستحقین میں راشن تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں سائبان ویلفیئر ٹرسٹ، پردہ کلب اور وومن ہاسٹل سبی میں خصوصی افراد، بیواؤں، نادار خاندانوں اور مستحق خواتین میں راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔سائبان ویلفیئر ٹرسٹ میں راشن کی تقسیم ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی بھی موجود تھے۔ پردہ کلب اور وومن ہاسٹل سبی میں راشن کی تقسیم اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ کی نگرانی میں شفاف اور منظم انداز میں کی گئی۔ ان مواقع پر اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی، ڈویژنل ڈائریکٹر سماجی بہبود امجد لاشاری اور مینیجر بے نظیر بھٹو وومین شیلٹر ہومز وومن سینٹر رخشندہ کوکب بھی موجود تھیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ امدادی اشیائ حقیقی مستحقین تک باعزت اور منصفانہ طریقے سے پہنچیں۔ ضلعی انتظامیہ سبی رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کو بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندان حکومتی ریلیف پیکج سے مستفید ہو سکیں۔ مستحقین نے راشن کی فراہمی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر1651/2026
سبی 26 فروری:ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کے تمام طبی مراکز، بنیادی صحت کے مراکز، آر ایچ سیز اور دیگر ہسپتالوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی انضمام قاسم، اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی ڈاکٹر حمزہ لاشاری، ایڈیشنل ڈی ایچ او ڈاکٹر ذیشان بشیر، ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جہانزیب گشکوری، ڈی ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ تمام افسران نے موجودہ صورتحال، حاضری، ادویات کی دستیابی اور دیگر اہم امور پر ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر جہانزیب گشکوری نے تین مستقل غیر حاضر ڈاکٹرز اور اسٹاف کو ٹرمینیٹ کرنے کی سفارش کی، جس پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے فوری احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں کو نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔ ڈی ایم پی پی ایچ آئی ممتاز علی رند نے آگاہ کیا کہ تمام ادویات دستیاب ہیں، حاضری کا معیار بہتر ہے اور غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کے لیے سفارشات ارسال کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا صحت کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی اولین ترجیح ہے۔ ہر طبی مرکز میں عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیں، غیر حاضر یا غفلت برتنے والے عملے کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔ ہم ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ سبی کے شہری صحت کے شعبے سے مکمل طور پر مستفید ہوں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی سطح پر تمام طبی عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور مریضوں کے لیے دستیاب سہولیات میں کوئی کمی نہ آئے۔
خبرنامہ نمبر1652/2026
قلات۔خبرنامہ26جنوری:محکمہ تعلیم کی عارضی آسامیوں پر بھرتیوں سے متعلق DRC ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کا جلاس ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیرصدارت منعقدہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثاراحمدنورزئی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن فیمیل محترمہ فرزانہ احمدزئی ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر عبدالفتاح سپرنٹنڈنٹ حاجی محمدابراہیم بنگلزئی ودیگرنے شرکت کی جلاس میں شارٹ لسٹڈ امیدواران کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے کمیٹی ممبران نے امیدواروں کے میرٹ لسٹ شناختی کارڈ لوکل سرٹیفکیٹس اور تعلیمی اسنادکی جانچ پڑتال کی ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان میرسرفرازبگٹی کے احکامات کی روشنی میں محکمہ تعلیم قلات کے اساتذہہ کی بھرتیوں پر میرٹ کوانتظامیہ یقینی بنارہی ہے کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائیگی تمام تعلیمی اسناد کی ویریفکیشن کرائ جائیگی جن امیدواروں کے ڈگری جعلی نکلے انکے خلاف سخت قانونی کاروائی کرکے انکے خلاف مقدمہ درج کرلیاجائیگا اور تین سال تک کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیئے درخواست دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔
خبرنامہ نمبر1653/2026
اسلام آباد/کوئٹہ:میر عثمان گورگیج، ڈائریکٹر جنرل، انٹرنیشنل اوورسیز اکنامک کوریڈور (IOEC) پاکستان چیپٹر نے عہدہ سنبھالتے ہی ملک اور صوبے کے اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا وژن واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ، اوورسیز پاکستانی بزنس نیٹ ورک کی فعال شمولیت اور ملکی تجارتی مواقع کو عالمی منڈیوں سے مؤثر انداز میں جوڑنے کے لیے فوری اور جامع اقدامات کریں گے۔ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ IOEC ایک فعال اور مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا جو سرمایہ کاروں اور کاروباری کمیونٹی کو براہِ راست ملکی معاشی ترقی میں شراکت کے مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ نہ صرف ملکی تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ نوجوانوں، نئے کاروباری منصوبوں اور اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاروں کو ملک کے معاشی ترقیاتی عمل میں شامل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔میر عثمان گورگیج نے کہا کہ ان کے بنیادی اہداف میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اور پاکستان کی عالمی اقتصادی راہداریوں میں موجودگی کو مستحکم بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے اقتصادی مفادات، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور تجارتی مواقع کے مؤثر استعمال کے لیے کلیدی ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ IOEC کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع کو زیادہ شفاف، قابل رسائی اور مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ملک میں معیشت مضبوط ہو، نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا ہوں اور صوبوں خصوصاً بلوچستان کے مفادات کو بین الاقوامی سطح پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا وژن یہ ہے کہ IOEC ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پل کے طور پر کام کرے اور پاکستان کو عالمی اقتصادی منظرنامے میں فعال اور مستحکم شریک کے طور پر پیش کرے۔میر عثمان گورگیج نے یہ بھی کہا کہ نوجوان قیادت اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی شمولیت ملک کے اقتصادی مواقع میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی تعلقات کے مؤثر استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی.
خبرنامہ نمبر1654/2026
خضدار 26 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کے خصوصی ہدایت پر رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں ضلعی انتظامیہ خضدار کی جانب سے جناح اسٹیڈیم خضدار میں خصوصی افراد، بیواؤں اور مستحقین میں رمضان پیکج کے تحت راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خضدار علم دین تاجک ڈویژنل انفارمیشن افیسر شبیر احمد بلوچ خضدار پریس کلب کی صدر عبداللہ شاہوانی دانش مینگل بشیر احمد رئیسانی اور عبدالواحد رند موجود تھے۔ راشن کی تقسیم کے تمام عمل کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خضدار علم دین تاجک نے کی معذور نادار بیواؤں اور مستحق افراد میں شفاف اور منظم طریقے سے راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کے مطابق مستحق اور نادار افراد تک بروقت اور باعزت انداز میں امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کا مقصد معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بھی ماہِ صیام کی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی قیادت میں عوامی ریلیف کے اقدامات کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ خضدار بھی حکومتی وژن کے تحت عوامی خدمت، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناتے ہوئے ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ راشن تقسیم کا یہ سلسلہ ضلع خضدار کے تمام علاقوں میں جاری رہے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو مستفید کیا جا سکے۔ خصوصی افراد اور دیگر مستحقین نے راشن کی فراہمی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق سا سولی کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر1655/2026
خضدار26فروری 2026 :حاجی عید محمد میموریل ٹرسٹ کی چیئرپرسن گودی یاسمین زہری نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے ان کے دفتر میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں درپیش علاقائی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر علم دین، ڈپٹی کمشنر خضدار کے اسٹاف آفیسر عنایت اللہ بلوچ عارف غلامانی، سعود زہری اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر عوامی نوعیت کے امور پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا اور باہمی مشاورت کے ذریعے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔چیئرپرسن حاجی عید محمد میموریل ٹرسٹ گودی یاسمین زہری نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب سے عبدالرزاق ساسولی نے ڈپٹی کمشنر خضدار کا چارج سنبھالا ہے، ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت میں انتظامی معاملات میں تیزی، عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور دفاتر میں نظم و ضبط کی فضا نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔ گودی یاسمین زہری نے اس بات پر زور دیا کہ ڈپٹی کمشنر خضدار نہ صرف مسائل کو سنجیدگی سے سنتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لئے عملی اقدامات بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ یاسمین زہری نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی متحرک حکمت عملی اور مسلسل کاوشوں کے باعث جلد ایک اہم خوشخبری متوقع ہے۔ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نے اس موقع پر کہا کہ عوامی خدمت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ خضدار کو درپیش مسائل کے حل کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ شفافیت، میرٹ اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔گودی یاسمین زہری نے اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب انتظامیہ اور سماجی قیادت ایک صفحے پر ہوں تو مثبت نتائج ناگزیر ہوتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ قیادت میں ضلع مزید استحکام اور بہتری کی جانب گامزن ہوگا۔
خبرنامہ نمبر1656/2026
کوئٹہ26فروری: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نیوٹیک کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وزیراعظم پاکستان اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ثمرات بلوچستان کے تمام دور دراز اضلاع تک پہنچائے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے مستفید ہو سکیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آن لائن بزنس، مائنز، ہاسپیٹیلٹی اور دیگر مارکیٹ ڈیمانڈ پر مبنی کورسز وقت کی ضرورت ہیں جن کے ذریعے نوجوان اندرون و بیرون ملک باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین بخش مگسی سے ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران صوبے میں اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز، فنی و تکنیکی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان نے کہا کہ اسکلز ڈویلپمنٹ پر کام نہایت اہمیت کا حامل ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے میں نیوٹیک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند نوجوان ہی اپنے فن و مہارت کے ذریعے موجودہ دور کے چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ گورنر نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کی سطح پر بھی طلبا و طالبات کو جدید تکنیکی علوم اور عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ تعلیمی ڈگری کے ساتھ پریکٹیکل مہارت حاصل کریں اور ملک و قوم کی بہتر انداز میں خدمت بھی کر سکیں۔ قبل ازیں ڈاکٹر حسین بخش مگسی نے گورنر جعفرخان مندوخیل کو جاری پروگرامز کی تفصیلات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔
خبرنامہ نمبر1657/2026
کوئٹہ 26فروری: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ موجودہ تعلیمی رحجان روایتی ڈگریوں کے مقابلے میں مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گورنر نے تمام پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ اکیڈمک مضامین کو جدید مہارتوں کی نشوونما کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ایسے ہنرمند افراد پیدا کریں جو عملی زندگی میں معاشی طور پر کسی کا محتاج نہ بن سکیں۔ وقت آپہنچا ہے کہ ہم اپنے بیروزگار نوجوانوں کو پل پل بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں سے آراستہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئی میں لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ اور وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اسکلز ڈویلپمنٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف لورالائی گیارہ میں سے نو (9) مختلف سیکٹرز میں جدید مہارتیں سیکھانے کے پروگرام کا آغاز کر دیا جو لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کی ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور کے آن لائن کاروبار میں ہمارے بےروزگار نوجوانوں کیلئے بھی بےشمار منافع بخش مواقع دستیاب ہیں. اب تو بےروزگار نوجوانوں اپنے گھر بیٹھے دنیابھر کی عالمی معاشی و تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کر کے سرکاری ملازمت کی تلاش میں رہنے کی بجائے دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتا ہے. گورنر بلوچستان نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری سروس سیکٹر بہت محدود ہے علاوہ ازیں ہمارے بڑے تعلیمی اداروں سے ہر سال لاکھوں افراد فارغ التحصیل ہوتے جا رہے ہیں جبکہ حکومت ان لاکھوں میں سے چند ہزار کو بھی روزگار فراہم کی پوزیشن میں نہیں ہے. اسی لیے ہر گزرتے برس کے ساتھ بےروزگار نوجوانوں کی تعداد میں بےتحاشا اضافہ ہو رہا ہے. اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم پبلک سیکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی مستحکم بنائیں، کارخانے اور انڈسٹری کے قیام کو ترقی اور تقویت فراہم کریں اور نئی نسل کو کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ جدید مہارتیں سکھانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
خبرنامہ نمبر1658/2026
کوئٹہ، 26 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں ”عزمِ استحکام“ مہم کے تحت انڈین اسپانسرڈ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کامیابی کے ساتھ جاری ہیں اور ریاستی ادارے امن و امان کے قیام کے لیے پوری قوت کے ساتھ متحرک ہیں سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام ایک وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ژوب میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت، جرات اور بروقت حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیاب کارروائی دہشت گردی کے خلاف ریاست کے عزمِ مصمم کا منہ بولتا ثبوت ہے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان میں قیامِ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ”عزمِ استحکام“ مہم صوبے میں مکمل امن اور پائیدار استحکام کی بحالی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت، سیکیورٹی اداروں اور عوام کے باہمی تعاون سے بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر1659/2026
گوادر/پسنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر نگرانی اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے رمضان المبارک ریلیف پیکج اور راشن اسکیم کے تحت تحصیل پسنی کے نواحی علاقوں میں مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں میں راشن تقسیم کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے گرانی سمیت مختلف دیہات کا دورہ کیا اور راشن کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کے عمل کی خود نگرانی کی۔ تقسیم کے دوران پاک فوج کے نمائندگان بھی موجود تھے، جنہوں نے انتظامی امور میں تعاون فراہم کیا۔ راشن پیکجز میں آٹا، چاول، دالیں، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں تاکہ مستحق خاندانوں کو ماہِ صیام میں حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ تقسیم کے عمل میں مکمل شفافیت، میرٹ اور مستحقین کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری ازالہ کیا جائے اور مستحق افراد کو بلا امتیاز سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے مستحق خاندانوں سے ملاقات بھی کی، ان کے مسائل سنے اور حکومتی اقدامات سے متعلق ان کی آرائ حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کے لیے متحرک ہے، خصوصاً رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحق طبقات کی معاونت اولین ترجیح ہے۔مقامی عمائدین اور شہریوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے اس احسن اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فلاحی سرگرمیوں کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر1660/2026
زیارت 26 فروری :ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوااجلاس میں عارضی ٹیچرز فیزفور کی تعیناتی کے سلسلے میں درخواست گزاروں نے اعتراضات اور شکایات کو سن کر فیصلے کئے گئے اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لطیف اللہ غرشین،ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن عبدالمالک تاج،ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن فیمیل میمونہ فہیم ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر علی اصغرنے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنرعںدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ عارضی ٹیچرز کی تعیناتی سے اسکولوں میں ٹیچرز کی کمی دور ہوگی اور تعلیم کو فروغ ملے گا،تعیناتیاں مکمل طور میرٹ پر کی جانے گی کسی سے بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔
خبرنامہ نمبر1661/2026
موسیٰ خیل۔26 فروری :ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ اینیشیٹو (BSDI) فیز ون اور فیز ٹو کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 12 کور کے نمائندے انجینئر اسد اور متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران فیز ون کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا اور فیز ٹو کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل کی تعمیر و ترقی حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیز ون کے جاری منصوبوں میں تیزی لائی جائے اور فیز ٹو کے کاموں کو بھی مکمل شفافیت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تاکہ عوام ان سہولیات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 12 کور کے نمائندے انجینئر اسد نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کے وژن اور ضلعی انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے ان منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی ماہرین کی زیرِ نگرانی دونوں فیز کے کاموں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہو آخر میں ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ وہ فیلڈ میں جا کر منصوبوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کریں اور کام کی رفتار میں حائل کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
خبرنامہ نمبر1662/2026
چمن 26 فروری :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے آج بھی شہر کے مختلف بازاروں اور مارکیٹوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران قصائیوں، نانبائیوں، درزیوں اور جنرل اسٹورز کا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر سرکاری نرخ ناموں کی نمایاں آویزاں کرنے، مقررہ قیمتوں پر فروخت، اشیائ کے وزن اور معیار کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کا بغور جائزہ لیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عوام کو معیاری، صاف ستھرا اور مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران خصوصی مانیٹرنگ کر رہی ہے اور بازاروں کے دوروں کا یہ سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہے گا تاکہ عوام الناس کو سرکاری نرخ نامے کے مطابق معیاری سستی اور صاف ستھری اشیائ خوردونوش کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے.
خبرنامہ نمبر1663/2026
چمن 26 فروری :بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں طور پل کے قریب مکان میں سلنڈر پھٹنے کے دھماکے سے 7 بچے شہید 17 زخمی ہوگئے ہیں زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا دئیے گئے واقع کا اطلاع ملنے ہی اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اور اے سی چمن امتیاز علی بلوچ ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن پہنچے اور زخمیوں کو فوری طور طبی امداد دینے کا جائزہ لیا اس موقع پر اے ڈی سی چمن نے ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال اور وہاں موجود ڈاکٹروں کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی احکامات جاری کیے گئے اور انہوں نے لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی اور اے ڈی سی چمن خود زخمیوں کی علاج و معالجہ کی نگرانی کرتے رہیں انہوں نے کہا کہ زخمیوں کیلئے ضروری تمام ادویات کی دستیابی یقینی بنایا جا رہا ہے چمن ‘ سیلنڈر دھماکے کے مقام پر ملبے سے 5 بچوں کی لاشیں نکال لی گئی ہے ‘ پولیس اے ڈی سی چمن نے کہا کہ دھماکے سے گھر کے متعدد کمرے منہدم ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اب تک دھماکہ میں زخمی ہونے والے 20 افراد کی اسپتال میں علاج و معالجہ جاری ہے اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اور اے سی چمن امتیاز علی بلوچ اور دیگر افسران دھماکے میں منہدم ہونے والے گھر گئے اور سائٹ کا جائزہ لیا۔
خبرنامہ نمبر1664/2026
سبی 26 فروری:اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی انضمام قاسم اور اسسٹنٹ کمشنر یو ٹی ڈاکٹر حمزہ لاشاری کی صدارت میں سرکاری ملازمین کا SAP سسٹم میں تاریخِ پیدائش کی درستگی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران، اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، انچارج لوکل و ڈومیسائل برانچ علی بزدار سمیت متاثرہ سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے تمام کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ گزشتہ اجلاس میں جمع کرائے گئے ان کیسز پر غور کیا گیا جن میں ملازمین کی تاریخِ پیدائش SAP سسٹم میں غلط درج تھی۔ مکمل اور درست دستاویزات پر مشتمل کیسز کی منظوری دے دی گئی، جبکہ نامکمل دستاویزات کی بنا پر بعض کیسز مسترد کر دیے گئے۔ اس موقع پر چند نئے کیسز بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے جن کی باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔اسسٹنٹ کمشنرز نے ہدایت کی کہ تمام کیسز کو قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف اور منصفانہ طریقے سے نمٹایا جائے تاکہ جائز سرکاری ملازمین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے اور سرکاری ریکارڈ کی درستگی یقینی بنائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1665/2026
نصیرآباد۔وزیراعلی ٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار کی سربراہی میں نصیراباد کی تحصیل میرحسن خان کھوسہ میں عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا اور شہریوں نے اپنے اپنے مسائل سے آگاہ کیا کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی میر بہادر خان کھوسہ دیگر تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی مختلف شعبہ جات کے نمائندوں کی موجودگی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ شہریوں کے مسائل کا موقع پر ہی جائزہ لے کر ان کے حل کی عملی راہ ہموار کی جا سکے کھلی کچہری میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، سرکاری عمارتوں کی مرمت، روزگار کے مواقع، ریونیو ریکارڈ، امن و امان سے متعلق شکایات پیش کیں کئی درخواست گزاروں تعلیم کے شعبے سے متعلق شکایات پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اسی طرح صحت کے مسائل پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو دیہی مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی اور عملے کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی امن و امان کے حوالے سے ڈی ایس پی سرکل چھتر اور متعلقہ ایس ایچ اوز کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے، گشت میں اضافہ کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے واضح کیا کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر محکمے کی کارکردگی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن (ر) ذوالفقار علی کرار نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنا اور عوام کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کو عبادت سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور ایسے عوامی اجتماعات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے آخر میں شہریوں نے کھلی کچہری کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ عملی اقدامات کے ذریعے مسائل کے مستقل حل کو یقینی بنایا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر1666/2026
جعفرآباد۔ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ موسم بہار کی شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ھے، اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر آفس کے احاطے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی نے پودے لگا کر مہم کا افتتاح کیا گیا۔تقریب میں پی پی ایچ آئی کے ڈی ایس ایم فیصل اقبال کھوسہ، ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات ثاقب خان سمیت دیگر ضلعی افسران نے شرکت کی اور پودے لگا کر شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جعفرآباد حضور بخش بگٹی نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی گئی کہ ضلع بھر کے سکولوں، کسانوں، سرکاری دفاتر، شاہراہوں اور نہروں کے کناروں پر ہزاروں پودے لگانے اور عوام میں تقسیم کرنے کے اہداف کو یقینی بنایا جائے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بڑھتی ہوئی گرمی پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ عمل ماحول کو بہتر بنانے، آلودگی میں کمی اور آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تقریب کے دوران مختلف اقسام کے سایہ دار اور پھلدار پودے لگائے گئے جبکہ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ان کی نگہداشت کو یقینی بنائیں تاکہ علاقہ سرسبز و شاداب بن سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا کہ بلوچستان حکومت کی ہدایات کے مطابق شجرکاری سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1667/2026
کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل نادرا بلوچستان کوئٹہ ریجن نوید جان صاحبزادہ نے 44ویں کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں ہزاروں شہریوں نے ان لائن شرکت کیا فون کالز اور میسجز کے ذریعے اپنی شکایات اور مسائل براہِ راست ڈی جی نادرا کے سامنے رکھےڈی جی نادرا نوید جان صاحبزادہ نے شہریوں کی شکایات سننے کے بعد موقع پر موجود افسران کو فوری طور پر احکامات جاری کیے کہ شناختی کارڈ، ب فارم اور دیگر اہم دستاویزات سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں انہوں نے واضح ہدایات دیں کہ شہریوں کو غیر ضروری طور پر دفاتر کے چکر نہ لگوائے جائیں اور ہر شکایت کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائےڈی جی نادرا نے نادرا افسران کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اور کہا کہ بدانتظامی، تاخیر، غیر ذمہ داری یا عوام سے ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گاان کا کہنا تھا کہ نادرا ایک عوامی ادارہ ہے اور عوام کی خدمت اس کی اولین ذمہ داری ہےانہوں نے کہا کہ نادرا میں شفافیت، احتساب اور فوری سروس ڈیلیوری کو یقینی بنایا جائے گا شہریوں کو باعزت اور بروقت سہولیات فراہم کرنا ادارے کی بنیادی پالیسی ہے ڈی جی نادرا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کھلی کچہریوں کے ذریعے عوام اور ادارے کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں گے اور ہر سطح پر کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گاڈی جی نادرا کے مطابق مستقبل میں بھی اس طرح کی کھلی کچہریوں کا انعقاد تسلسل کے ساتھ کیا جائے گا تاکہ عوام کو درپیش مسائل براہِ راست سنے جائیں اور موقع پر ہی ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں عوامی حلقوں نے ڈی جی نادرا کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے نادرا میں سروس ڈیلیوری بہتر ہوگی اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم ہو سکے گا۔
خبرنامہ نمبر 1668/2026
کوئٹہ: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کی ریسکیو فورس نے ماسٹر کالونی، سریاب روڈ کوئٹہ میں 29 گھنٹے پر محیط مسلسل سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کے بعد ڈوبنے والے بچے کی لاش برآمد کر لی۔25 فروری 2026 کو صبح تقریباً 11:10 بجے پی ای او سی، پی ڈی ایم اے بلوچستان کو ایم ای آر سی کنٹرول روم کی جانب سے ماسٹر کالونی سریاب روڈ پر ڈوبنے کے واقعے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس کو فوری طور پر روانہ کیا گیا جو 11:32 بجے موقع پر پہنچ گئی۔ابتدائی ٹیم نے موقع کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وسیع علاقہ سیوریج کے آلودہ پانی اور کچرے سے بھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے سرچ آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر دستی آلات اور ہُکس کے ذریعے تلاش کا عمل شروع کیا۔اسی دوران ریسکیو بوٹ بمعہ بوٹ موٹر اور ضروری آلات روانہ کیے گئے جو تقریباً دوپہر 2:00 بجے موقع پر پہنچے اور باقاعدہ سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ریلیف کمشنر / ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے بلوچستان جناب جہانزیب خان غوریزئی کی ہدایت پر ڈائریکٹر ریسکیو جناب نوید احمد اور ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو اصغر علی جمالی کو موقع پر تعینات کیا گیا تاکہ آپریشن کی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔آپریشن کو تیز کرنے کے لیے پی ڈی ایم اے بلوچستان نے اضافی وسائل تعینات کیے جن میں ایکسکیویٹرز، ٹریکٹرز اور ہیوی ڈیوٹی ڈی واٹرنگ پمپس شامل تھے۔ ریلیف کمشنر / ڈی جی پی ڈی ایم اے نے موقع کا دورہ کرتے ہوئے ڈی واٹرنگ آپریشن شروع کرنے کے لیے کھدائی کی ہدایت جاری کی۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ریلیف کمشنر / ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کمشنر کوئٹہ جناب شاہزیب خان کاکڑ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ جناب مہراللہ بادینی کے ہمراہ موقع کا دوسرا دورہ بھی کیا اور جاری آپریشن کا جائزہ لیا۔26 فروری کی صبح تقریباً 6:45 بجے دو ہیوی ڈیوٹی ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے پانی نکالنے کا عمل شروع کیا گیا جبکہ ریسکیو بوٹ کے ذریعے تلاش کا عمل بھی جاری رہا۔ ریلیف کمشنر / ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمیشنر کوئٹہ اور ڈپٹی کمیشنر کوئٹہ نے دوپہر تقریباً 2:00 بجے تیسرا دورہ کر کے آپریشن کی نگرانی کی۔بالآخر پی ڈی ایم اے ریسکیو فورس اور اتھارٹی کے متعلقہ شعبہ جات کی انتھک اور مربوط کوششوں کے بعد 29 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد بچے کی لاش برآمد کر لی گئی، جسے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔یہ کامیاب آپریشن پی ڈی ایم اے بلوچستان کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم، اور مضبوط باہمی ادارہ جاتی ہم آہنگی کا مظہر ہے، جہاں ہر شعبے نے اپنی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا کی۔
خبرنامہ نمبر 1669/2026
چمن 26 فروری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی وژن کے مطابق چمن میں رمضان المبارک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں معیار حفظان صحت کے مطابق غذائی اجناس اور دیگر ضروری اشیاء کی ارزان نرخوں پر فراہمی کیلئے وزیر اعلیٰ نے باقاعدہ ایک متعارف کرایا ہے جس میں عوام اپنے شکایات اور متعلقہ دکانداروں کی مکمل ایڈریس کیساتھ جمع کر سکتے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف دینے کی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔








