خبرنامہ نمبر1578/2026
کوئٹہ24 فروری۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کا اپنا اسٹریٹجک محل وقوع اسے پورے خطے کیلئے اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کا ایک اہم تجارتی مرکز بنا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ موجودہ وفاقی وزیر تجارت کا تعلق بلوچستان سے ہے جو صوبے کی معیشت، زراعت اور سرحدی تجارت کو فروغ دینے کے ماہر ہیں اور ہمارے پاس ان کی بصیرت سے مستفید ہونے کا بہترین موقع ہے لہٰذا ضروری ہے کہ صوبے بھر کے تاجروں اور زمینداروں کی معاونت اور نئی معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کیلئے فوری طور پر ٹھوس عملی اقدامات کریں تاکہ ہم صوبے میں غربت اور بیروزگاری جیسے اہم مسائل پر قابو پا سکیں۔ یہ بات انہوں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے ساتھ گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں ملاقات کے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان بلوچستان کے راستے ایران سے منسلک ہے اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے بہت روشن امکانات ہیں۔ ہم بلوچستان کے منسلک لینڈ روٹ کا بھرپور فائدہ اٹھا کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے۔ بلوچستان میں آج بھی تجربہ کار سیاسی شخصیات اور معیشت کے ماہرین موجود ہیں جن کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھا کر م صوبہ کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کے مطابق صوبے بھر میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا موجودہ حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے. صوبے کے دور افتادہ اضلاع میں بہت زیادہ پسماندگی ہے. ہمیں عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانے کیلئے تمام پالیسیوں اور منصوبوں کا محور و مرکز مفاد خلق کو بنانا ہوگا. پورے خطے کا تیزی سے بدلتا ہوا سیاسی و معاشی منظرنامہ ہم سے بحیثیت قوم دانشمندانہ فیصلے لینے کا متقاضی ہے کیونکہ عوام دوست پالیسیوں اور منصوبوں سے ہم بآسانی اپنے ملک و قوم کو سیاسی و معاشی بحرانوں سے نکال سکتے ہیں. وقت آپہنچا ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے حقیر ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی سوچ واپروچ کو اختیار کریں اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر سب کو ساتھ لے جانے کی پالیسی اختیار کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1579/2026
کوئٹہ24 فروری ۔ رمضان المبارک کے دوران عوام کو معیاری اور محفوظ اشیائ خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی معائنہ ٹیمیں صوبہ بھر میں متحرک ہیں۔اس سلسلے میں صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی یف اے کی ہدایت پر مختلف اضلاع میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف موثر کریک ڈاون کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ایک بیکنگ یونٹ کو سیل جبکہ متعدد ملک شاپس سمیت 28 مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔علاوہ ازیں 50 سے زائد دکانداروں کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ وہ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں کارروائیاں کوئٹہ، پنجگور، ڈیرہ اللہ یار، لورالائی، دکی اور خاران میں انجام دی گئیں جبکہ دیگر اضلاع میں بھی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔جرمانہ کیے گئے مراکز میں جنرل اسٹورز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ کارنرز، پکوڑا و سموسہ شاپس اور دودھ و دہی کی دکانیں شامل تھیں۔ کارروائیوں کے دوران زائد المیعاد اور پابندی عائد مصنوعات کی بڑی مقدار ضبط کر کے موقع پر تلف کر دی گئی۔اتھارٹی حکام نے دکانداروں کو خبردار کیا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام کو معیاری اشیاء کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ فوڈ سیفٹی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1580/2026
لورالائی. 24فروری ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایت پر رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے ضلعی انتظامیہ متحرک۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم آور اے ڈی سی نور علی کاکڑ نے لورالائی کے مرکزی بازار اور سستا بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد، اشیائے خوردونوش کے معیار، وزن کی درستگی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور دکانداروں کو مقررہ نرخنامے نمایاں آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے سستا بازار میں خریداری کرنے والے شہریوں سے قیمتوں اور اشیاء کی دستیابی کے بارے میں دریافت کیا، جس پر شہریوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ رمضان المبارک کے دوران ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ سستی اور معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور صفائی کے موثر انتظامات ہر صورت یقینی بنائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1581/2026
جعفرآباد24فروری۔ضلع جعفرآباد میں ڈپٹی کمشنر خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عائشہ بگٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، کلسٹر ہیڈز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران میل و فیمیل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں تدریسی عمل، درپیش مسائل، گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد، RTSM کی پیشرفت، فیلڈ اسٹاف کی کارکردگی، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی، ٹائم اسکیل کیسز، اسکول عمارتوں کی حالت، PTSMCs کی فعالیت، غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے کے اقدامات، تعلیم کے شعبے میں جاری ترقیاتی اسکیموں اور یونیسیف کے تعاون سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا جبکہ کالجز کو درپیش مسائل بھی زیر بحث آئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، تمام افسران اسکولوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ یقینی بنائیں، اساتذہ کی حاضری اور تدریسی معیار پر خصوصی توجہ دیں، غیر حاضر عملے کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے تاکہ ضلع جعفرآباد میں تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1582/2026
لورالائی 24فروری ۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ سے سابق صوبائی وزیر میر طارق محمود کھتران نے ان کے آفس میں ملاقات کی، جس میں علاقے کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے دوران تعلیم، صحت، سڑکوں کی بہتری اور نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔اس موقع پر کمشنر ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے اور لورالائی ڈویژن میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کی مضبوطی خطے کی پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔میر طارق محمود کھتران نے کمشنر لورالائی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر انہیں ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ معاشی استحکام بھی ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی مشاورت اور مربوط حکمت عملی سے لورالائی ڈویژن کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ہمہ جہت ترقی کیلئے مشترکہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1583/2026
نصیرآباد24فروری۔محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیر اہتمام ضلع نصیرآباد میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ کی سربراہی میں داخلہ مہم اور شجرکاری مہم کے حوالے سے ایک اہم خصوصی سیشن منعقد کیا گیا جس میں ضلع بھر کے تمام ڈی ڈی اوز اور کلسٹر ہیڈز نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی، کمیونٹی رابطہ کاری، داخلہ مہم میں عملی اقدامات اور شجرکاری سرگرمیوں کو موثر بنانے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈویژنل ڈائریکٹر (ایڈمن) نصیرآباد ڈویژن اعجاز علی ساسولی نے جامع اور مدلل انداز میں شرکاءکو ذمہ داریوں اور اہداف سے آگاہ کیا جس سے افسران کو عملی رہنمائی حاصل ہوئی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حفیظ اللہ کھوسہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ داخلہ مہم کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہر بچے کو تعلیم کے دائرے میں لانا ضروری ہے، افسران کمیونٹی اور والدین سے موثر رابطہ قائم کریں، گھر گھر آگاہی مہم چلائیں اور سکول سے باہر بچوں کے اندراج کو ترجیح دیں، جبکہ شجرکاری مہم کو ماحولیاتی تحفظ اور تعلیمی اداروں کی خوبصورتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے تمام سکولوں میں پودے لگانے اور ان کی نگہداشت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ بعد ازاں بیورو آف کریکولم اینڈ ایکسٹینشن سینٹر بلوچستان کی جانب سے نئے نصاب 2022–23 کے حوالے سے آگاہی و تربیتی سیشن بھی منعقد کیا گیا جس میں ڈی ڈی اوز اور کلسٹر ہیڈز کو نصاب کے موثر نفاذ، تدریسی معیار میں بہتری اور تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے عملی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا جبکہ افسران نے نئے نصاب کے نفاذ میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1584/2026
نصیرآباد24فروری ۔ حکومت بلوچستان کے احکامات پر محکمہ ریونیو بلوچستان کی جانب سے نصیرآباد ڈویژن میں عارضی بنیادوں پر پٹواریوں کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں انٹرویوز کا عمل جاری رہا، کمیٹی کے دیگر رکن اکاونٹنٹ آفیسر امجد بہرانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تمام امیدواران فرداً فرداً کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے جہاں ان کے کاغذات اور کوائف کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس موقع پر کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ میرٹ کی بنیاد پر نصیرآباد ڈویژن کے لیے 69 امیدواروں سے انٹرویو لیا جا رہا ہے تاکہ اہل اور حقدار افراد کا شفاف انتخاب یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ فیمیل اور معذور افراد کے لیے کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے اور حکومتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی تعیناتیوں کے بعد نصیرآباد ڈویژن میں ریونیو ریکارڈ کے لیے پٹواریوں کی کمی پوری ہو جائے گی اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1585/2026
لورالائی ، 24 فروری ۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے گزشتہ روز کوئٹہ روڈ پر سردار یعقوب ناصر کے بنگلے کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے لورالائی پولیس کے کانسٹیبل حبیب اللہ ناصر کی عیادت کی۔ڈی آئی جی لورالائی رینج نے زخمی اہلکار کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لورالائی پولیس کے بہادر جوانوں کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں اور محکمہ پولیس اپنے ہر جوان کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے زخمی کانسٹیبل حبیب اللہ ناصر کے حوصلے اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بھی پولیس اہلکاروں کا جذبہ اور عزم قابلِ تحسین ہے۔ڈی آئی جی جنید احمد شیخ نے زخمی اہلکار کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی اور ہدایت جاری کی کہ علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ پولیس اپنے جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا۔اس موقع پر انہوں نے زخمی اہلکار کے بلند حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔لورالائی پولیس اپنے بہادر جوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی حفاظت و فلاح کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1586/2026
بارکھان 23 فروری ۔جناب ڈپٹی کمشنر بارکھان عبداللہ کھوسو کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بارکھان خادم حسین بھنگر نے ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک، نائب تحصیلدار بارکھان اور ایس ایچ او بارکھان کے ہمراہ بارکھان شہر کی مرکزی بازار کا تفصیلی اور اچانک دورہ کیا۔ دورے کا مقصد شہریوں کو معیاری اور سرکاری نرخوں کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانا، صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ لینا اور گرانفروشی کی روک تھام تھا۔دورانِ دورہ مختلف دکانوں، سبزی و فروٹ مارکیٹ اور کریانہ اسٹورز کا معائنہ کیا گیا۔ انتظامی ٹیم نے اشیائے خوردونوش کے معیار، وزن اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کا بغور جائزہ لیا۔ متعدد دکانوں پر نرخنامہ نمایاں جگہ پر آویزاں نہ ہونے اور مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی کی شکایات سامنے آنے پر متعلقہ دکانداروں کو موقع پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ بعض کو سخت تنبیہ جاری کی گئی کہ آئندہ خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر خادم حسین بھنگر نے دکانداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور ناقص اشیائ کی فروخت کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ سرکاری نرخنامہ نمایاں مقام پر آویزاں کریں، صفائی ستھرائی کے بہتر انتظامات یقینی بنائیں اور اشیائے خوردونوش کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔دورے کے دوران بازار میں صفائی کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ناقص صفائی والے مقامات پر دکانداروں اور متعلقہ عملے کو فوری بہتری لانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ انتظامیہ نے خبردار کیا کہ صفائی کے ناقص انتظامات عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس حوالے سے غفلت برتنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ بارکھان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کو معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی، قیمتوں پر کنٹرول اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے ایسے دورے تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے تاکہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے اور بازاروں میں حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1587/2026
لورالائی 24فروری ۔کمشنر لورالائی ڈویژن، ولی محمد بڑیچ نے ڈویژنل پبلک اسکول میں جاری میٹرک کے سالانہ امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا، جس میں امتحانات کے انتظامات، طلبائکی سہولیات اور شفاف امتحانی عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔دورے کے دوران کمشنر نے امتحانی ہال میں موجود تمام سہولیات کا معائنہ کیا، جس میں ہال میں صفائی و ستھرائی، مناسب روشنی، ، سکیورٹی انتظامات اور دیگر بنیادی سہولیات شامل تھیں کا جائزہ لیا۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے طلباء کے لیے ہر امتحانی مرکز کو مکمل طور پر پرامن، محفوظ اور نقل سے پاک رکھنے پر خصوصی زور دیا۔اس موقع پر انہوں کمشنر نے متعلقہ عملے اور افسران کو سخت ہدایت کی کہ امتحانات میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی ہرگز برداشت نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کی شفافیت اور نظم و ضبط ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس حوالے سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔کمشنر کی بارعب موجودگی اور سخت نگرانی نے امتحانی عمل میں سنجیدگی، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ معیار کو مزید یقینی بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ تمام مراکز میں حکومتی پالیسی کے مطابق مکمل اقدامات کرے تاکہ طلباء بلا کسی خلل اور پریشانی کے اپنے امتحانات میں حصہ لے سکیں۔کمشنر نے کہا کہ ڈویژن کے تمام طلباءکو بہترین تعلیمی اور امتحانی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ہر ممکن انتظامات کو بروقت اور موثر طریقے سے یقینی بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1588/2026
لورالائی، 24فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی احکامات پر کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کے دفتر میں ماہِ رمضان المبارک کے دوران سستا بازاروں کے قیام اور عوام کو بہتر ریلیف فراہم کرنے، خاص طور پر گراں فروشی سے نجات دلانے کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر بوری ندیم اکرم اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ نے شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر بارکھان، ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک، ڈپٹی کمشنر دکی اور متعلقہ اضلاع کے چیف آفیسرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش سرکاری نرخ ناموں کے مطابق فراہم کرنے، سستا بازاروں میں سہولیات کی بہتری، صفائی ستھرائی، سیکیورٹی اور پرائس کنٹرول کے موثر اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ سستا بازاروں میں اشیائکی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی کمشنر نے مزید کہا کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت فرائض سرانجام دیں تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت میسر آ سکے۔ افسران خود بازاروں کا دورہ کریں، عوام سے رائے لیں اور سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 1589/2026
کوئٹہ، 24 فروری ۔بلوچستان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے یہ اہم فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں سیف سٹی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت صوبے کے اہم شہروں میں جدید ترین کیمروں کی تنصیب، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کو مرحلہ وار فعال کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مرکزی شاہراہوں، حساس تنصیبات، سرکاری و نجی اہم عمارات اور عوامی مقامات کی چوبیس گھنٹے موثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ منصوبے میں حائل تمام انتظامی، تکنیکی اور مالی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار مالی و تکنیکی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی تاکہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو سکے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بعد بلوچستان جدید سیف سٹی سسٹم متعارف کرانے والا دوسرا صوبہ ہوگا جو امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور شہری سہولیات کی بہتری کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک مینجمنٹ، ہنگامی حالات میں فوری رسپانس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی رابطے میں بھی نمایاں بہتری آئے گی وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی مزید موثر اور نتیجہ خیز بنائی جا سکے گی اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1590/2026
کوئٹہ 24فروری ۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران سے مشیر بلدیات نوابزادہ امیر حمزہ زہری نے منسٹر پی ایچ آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی عمل، انتظامی امور اور عوامی مفاد سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات جاری رکھے گی۔ اس موقع پر صوبے میں امن و استحکام، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور بین المحکماتی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ عوامی خدمت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اجتماعی کاوشوں سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔ مشیر امیر حمزہ زہری نے اس موقع پر کہا کہ باہمی مشاورت اور مضبوط رابطہ کاری کے ذریعے صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے اور مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور عوامی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1591/2026
کوئٹہ24فروری ۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) نے بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 (BSTS Act 2015) کے تحت محصولات کی موثر نگرانی اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد کو مزید منظم اور فعال بنانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔اتھارٹی کے مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض سروس فراہم کنندگان کی جانب سے رجسٹریشن، بروقت ٹیکس ادائیگی اور ریٹرنز جمع کرانے کے معاملات میں تاخیر یا عدم تعمیل پائی گئی ہے، جس کے باعث قانون کے تحت نگرانی کے اقدامات کو مزید مو¿ثر بنایا جا رہا ہے۔اس ضمن میں رجسٹرڈ سروس فراہم کنندگان کے ریکارڈ اور ٹیکس ادائیگیوں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ جہاں بھی واجبات یا عدم تعمیل کی نشاندہی ہوگی، وہاں بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت فراہم کردہ اختیارات کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان اقدامات میں نوٹسز کا اجرا، واجبات کی وصولی، بینک اکاونٹس کی اٹیچمنٹ اور ضروری صورت میں کاروباری مراکز کی عارضی بندش شامل ہو سکتی ہے۔بلوچستان ریونیو اتھارٹی اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا نہیں بلکہ ٹیکس قوانین پر یکساں اور منصفانہ عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صوبے کے محصولات میں اضافہ ہو اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل مستحکم ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1592/2026
ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے بطور گرانٹ اِن ایڈ منظور کر لیے ہیں۔ یہ منظوری کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کی جانب سے چیف سیکریٹری بلوچستان کو ارسال کردہ تفصیلی نوٹ اور موثر پیروی کے نتیجے میں عمل میں آئی۔یہ لائبریری، جو 18 -2017میں قائم ہوئی، ضلع خضدار کی واحد عوامی لائبریری ہے اور روزانہ 400 سے زائد طلبہ و طالبات یہاں مطالعہ کے لیے آتے ہیں۔ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے علاوہ جھالاوان میڈیکل کالج کے طلبہ بھی اس علمی مرکز سے استفادہ کرتے ہیں۔ محدود نشستوں اور وسائل کے باوجود طلبہ کا بڑھتا ہوا رجحان اس ادارے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ نے لائبریری کی پائیدار فعالیت کے لیے ایک اینڈومنٹ فنڈ کے قیام کی تجویز دی تھی تاکہ اس کی سالانہ آمدن سے کتب کی خریداری، ڈیجیٹل نظام کی دیکھ بھال، یوٹیلیٹی اخراجات اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت جیسے امور مستقل بنیادوں پر انجام دیے جا سکیں۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی منظوری اسی وژن کی تکمیل کی جانب ایک عملی قدم ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل احمد بلوچ کی مسلسل دلچسپی اور سرگرم کردار قابلِ تحسین ہے۔ وہ ڈویژن میں تعلیمی اداروں کی بہتری، طلبہ کو سازگار ماحول کی فراہمی اور عوامی فلاحی منصوبوں کے فروغ کے لیے ہمہ وقت متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ خضدار لائبریری کے لیے فنڈ کی منظوری کو عوامی و تعلیمی حلقوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے علم دوستی اور نوجوانوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری سے تعبیر کیا ہے۔مقامی طلبہ اور شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اینڈومنٹ فنڈ کے قیام سے لائبریری کے انتظامی و مالی مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہوں گے اور خضدار میں علمی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1593/2026
سبی 24 فروری ۔ کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے محکمہ سماجی بہبود سبی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر امجد لاشاری نے انہیں محکمہ کی مجموعی کارکردگی اور فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ضلع میں تقریباً 1100 معذور افراد محکمہ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جن کی مالی و سماجی معاونت کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمک فنڈ کے ذریعے بھی خصوصی افراد کی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر ٹریننگ سینٹر کے دو کمروں کی مرمت، ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کی سولرائزیشن اور کمیونٹی ہال کی تعمیر سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے کمشنر کو آگاہ کیا گیا۔ کمشنر سبی ڈویژن اسد اللہ فیض نے دورے کے موقع پر معذور افراد میں ویل چیئرز تقسیم کیں جبکہ ایک خاتون خصوصی فرد کو الیکٹرک ویل چیئر بھی فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد معاشرے کا اہم اور قابل احترام حصہ ہیں اور ان کی بحالی و خودمختاری کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ سماجی بہبود اب فعال انداز میں کام کر رہا ہے جو خوش آئند اور قابل تحسین ہے۔کمشنر نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں خصوصی افراد کے لیے مخصوص کوٹہ موجود ہے تاہم آگاہی کی کمی کے باعث اکثر لوگ درخواست نہیں دیتے۔ اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔کمشنر سبی نے شجرکاری مہم کے تحت پودا بھی لگایا اور کہا کہ سرسبز و خوشحال ماحول معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 1594/2026
لورالائی 24فروری ۔ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے چارج سنبھالتے ہی لورالائی شہر میں مختلف مساجد کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے مساجد پر تعینات پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی، ان کی ڈیوٹی کے حوالے سے بریفنگ لی اور انہیں سکیورٹی سے متعلق اہم ہدایات جاری کیں۔ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد نے کہا کہ مساجد میں عبادات کے دوران عوام الناس کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ الرٹ رہیں، مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں اور داخلی و خارجی راستوں کی موثر نگرانی یقینی بنائیں۔ انہوں نے مساجد کی سکیورٹی پر تعینات جوانوں کے کردار اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔بعد ازاں ایس ایس پی لورالائی نے پولیس تھانہ صدر صادق علی شہید پولیس اسٹیشن کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے سکیورٹی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریکارڈ، نفری اور گشت کے نظام کا معائنہ کیا اور افسران و اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں کہ جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر1595/2026
کوئٹہ، 24 فروری:سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے بی اے مال تا نواں کلی بائی پاس روڈ منصوبے کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری کاموں کا جائزہ لیا اس موقع پر چیف انجینئر کوئیٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی، ایس ای کوئیٹہ زون انجینئر میر محمد کھوسہ اور ایگزیکٹو انجینئر روڈز کچلاک ڈویژن قاضی ثنائاللہ سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر قاضی ثنائاللہ نے نواں کلی بائی پاس روڈ منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے تاہم روڈ کے شولڈرز اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا کام باقی ہے انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں محکمہ لوکل گورنمنٹ سے رابطہ کیا جا چکا ہے اور اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا کام لوکل گورنمنٹ کے سپرد کر دیا گیا ہےجبکہ شولڈرز کی تکمیل بھی جلد عمل میں لائی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے اس موقع پر کہا کہ نواں کلی بائی پاس روڈ ہنہ اوڑک اور ملحقہ علاقوں کے لیے نہایت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اس سڑک کی تکمیل سے شہریوں کو آمد و رفت میں نمایاں سہولت میسر آئی ہے اور شہر کو جانے والے ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی واقع ہوئی ہےانہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوامی فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہےانہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ کی منظوری اور ہدایات کی روشنی میں باقی ماندہ کام کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ سڑک کو محفوظ پائیدار اور خوبصورت بنایا جا سکے اور کوئیٹہ شہر کے عوام اس اہم منصوبے سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کر کے عوام کے لیے سہولیات کو یقینی بنایا.
خبرنامہ نمبر1596/2026
چمن 24فروری :رمضان صیام کے مقدس مہینے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے خوردونوش کی مقررہ نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ کاکڑ نے آج شہر کے مختلف بازاروں اور مارکیٹوں کا تفصیلی دورہ کیا اس دوران انہوں نے قصائیوں نانبائیوں درزیوں جنرل اسٹورز اور دیگر اشیائ کی دکانوں میں قیمتوں معیار صفائی ستھرائی ایس او پیز اور سیفٹی پریکاشنز پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر حفظانِ صحت کے اصولوں، سرکاری نرخ ناموں کی نمایاں آویزاں کرنے، مقررہ قیمتوں پر فروخت، وزن اور معیار کی جانچ پڑتال اور دیگر متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اے سی چمن نے دکانداروں کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے اور بازاروں کی نگرانی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر1597/2026
چمن 24 فروری : چمن میں تعینات ہونے والے نئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چمن عتیق الرحمن سے انکے آفس میں آج پریس کلب کے وفد سینئیر صحافی سعید علی اچکزئی جلال اچکزئی عبدالخالق اچکزئی، عبدالباسط اچکزئی ظفرخان اچکزئی اور ثاقب ناز نے ملاقات کی۔ملاقات میں ضلع میں امن و امان جرائم کی روک تھام، ٹریفک نظام، منشیات کے خلاف کارروائیوں عوامی مسائل کے حل اور شہر کی مجموعی صورتحال سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران ایس پی چمن عتیق الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں قانون کی بالادستی اور جرائم کی روک تھام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور میڈیا کا باہمی تعاون نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ میڈیا عوام اور پولیس کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ پریس نمائندگان نے بھی اپنی آرائ اور تجاویز پیش کرتے ہوئے ایس پی چمن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مثبت اور ذمہ دارانہ صحافت کے ذریعے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے ایس پی کی قیادت میں ضلع میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ ایس پی چمن عتیق الرحمن نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دروازے عوام اور صحافی برادری کے لیے ہر وقت کھلے ہیں، اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر حاجی عطائ اللہ اچکزئی بھی موجود تھے جنھوں نے چمن پریس کلب کے صحافیوں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ صحافیوں نے ہر وقت بنیادی مسائل کی مثبت نشاندہی کی ھے.
خبرنامہ نمبر1598/2026
کوئٹہ۔ محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق اینٹی ٹیررسٹ فورس (انسداد دہشت گردی فورس) کیلیے مجوزہ بنیادی تنخواہوں پر 40 فیصدسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) الاؤنس منظور کرلیا گیا ہے جس کا اطلاق یکم مارچ 2026 سے ہوگا۔
خبرنامہ نمبر1599/2026
چمن: ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت پولیو اور محکمہ صحت کےافسران کیساتھ پوسٹ پولیو اور روٹین امونائئزیشم پرفارمینس ریویو اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں پولیو اور محکمہ صحت کے افسران شریک تھے اجلاس میں ڈی سی چمن کو گزشتہ انسداد پولیو مہم اور روٹین ایمونائئزیشن اچیومینٹس پرفارمینس درپیش چیلنجز اور آنے والے انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کےحوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اور تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی چمن نے کہا کہ پولیو اور محکمہ صحت کے افسران اس بات کو ذہن نشین کرائیں کہ پولیو وائرس کی مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے ہم انفرادی اور اجتماعی طور مل کر اپنے خدمات ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دیں گے انہوں نے کہا کہ آنے والے انسداد پولیو مہم کے دوران 5 سال تک کی بچوں کو ہر حال میں پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اور اس حوالےسے پولیو ٹیموں کے افسران اور اہلکاران کسی قسم کی مصلحت پسندی اور نرمی کا مظاہرہ نہیں کریں بصورت دیگر تمام متعلقہ افسران و اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ پولیو مرض کا خاتمہ پولیو کی ویکسین پلانے ہی سے ممکن ہے کیونکہ ایک پولیو مرض لاحق ہونے کے بعد پولیو کی تدارک اور علاج ناممکن ہے لہذا بچوں کو پہلے ہی سے پولیو ویکسین پلائی جائیں تاکہ ہم اپنی ضلع سے پولیو کی خاتمے کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
خبرنامہ نمبر1600/2026
گوادر/جیوانی: وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تحصیلدار جیوانی اعظم خان گچکی کی رہنمائی میں پرائس کنٹرول کمیٹی کی ٹیم نے رمضان پیکج بازار کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران اشیائے خوردونوش کی دستیابی، معیار اور سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ ٹیم نے مختلف اسٹالز کا معائنہ کرتے ہوئے دکانداروں کو ہدایت کی کہ عوام کو مقررہ قیمتوں پر معیاری اشیائ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔تحصیلدار اعظم خان گچکی نے اس موقع پر کہا کہ ضلعی انتظامیہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات بروئے کار لا رہی ہے اور پرائس کنٹرول میکانزم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو سستی اور معیاری اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ گرانفروشی یا ناجائز منافع خوری کی شکایات فوری طور پر انتظامیہ تک پہنچائیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1601/2026
کوئٹہ 24فروری۔شہر میں گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی کی خصوصی ہدایات پر سب ڈویژن سریاب کے مختلف علاقوں، بوسہ منڈی، چالو باوڑی اور اطراف میں بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس سلسلے میں اسپیشل مجسٹریٹ سریاب عزت اللہ کی نگرانی میں کی گئی کارروائیوں کے دوران سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی اور زائد قیمتیں وصول کرنے پر 18 دکانداروں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ 10 دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق پرائس کنٹرول مہم کے تحت روزانہ کی بنیاد پر بازاروں کا معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب ہو سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی اس مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس تسلسل سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے بھی روزانہ کی کارروائیوں کو عوامی مفاد میں اہم قدم قرار دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے تمام دکانداروں کو متنبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخنامے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر1602/2026
تربت: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر پارلیمانی سیکریٹری برائے ماہی گیری حاجی برکت رند کی جانب سے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ کے علاقے مند بلو میں رمضان پیکج کے تحت 300 غریب اور مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔تقریب کے دوران مقررین نے کہا کہ ماہِ رمضان صبر، ہمدردی، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ نادار اور مستحق لوگوں کی دل کھول کر مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کا خیال رکھنا ہماری دینی اور سماجی ذمہ داری ہے اور حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات قابلِ تحسین ہیں جو مستحق خاندانوں کی دہلیز تک سہولت پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔اس موقع پر مستحق افراد نے راشن وصول کرتے ہوئے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے راشن کی فراہمی عوام دوستی، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے کی عکاس ہے۔مستحقین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف کمزور اور نادار طبقات کی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ایسے فلاحی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔
خبرنامہ نمبر1603/2026
گوادر/پسنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست ویژن اور ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر نگرانی اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے وزیراعلیٰ بلوچستان راشن اسکیم کے تحت تحصیل پسنی اور اس کے نواحی علاقوں میں مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے ڈیلی گھوٹ، سالاچ، شادی کور اور سندھی پسہو سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مستحقین میں شفاف طریقے سے راشن کی تقسیم کے عمل کی خود نگرانی کی۔ راشن پیکجز میں آٹا، چاول، دالیں، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں تاکہ مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اسسٹنٹ کمشنر خسرو دلاوری نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ راشن کی تقسیم کے عمل میں مکمل شفافیت، میرٹ اور مستحقین کے احترام کو یقینی بنایا جائے، جبکہ کسی بھی شکایت کی فوری ازالہ کے لیے موقع پر ہی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مستحق خاندانوں سے بات چیت بھی کی اور حکومتی اقدامات سے متعلق ان کی آرائ معلوم کیں۔ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے، بالخصوص رمضان المبارک کے دوران مستحق طبقات کی معاونت اولین ترجیح ہے۔مقامی افراد نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے فلاحی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
خبرنامہ نمبر1603/2026
دکی: حکومت بلوچستان کی وژن کے مطابق تحصیل تھل چوٹیالی بمقام نانا صاحب زیارت میں عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر ضلع دکی محمد نعیم ، کمانڈر 87 ونگ کرنل شاہد بلال، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، ڈی ایس پی حاجی علی محمد شادوزئی اور لائن ڈپارٹمنٹ کے سربراہان نے شرکت کی۔کھلی کچہری کی تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا، جس کے بعد عوام نے مختلف مسائل کی نشاندہی کی۔ عوام نے امن و امان، پانی کی فراہمی، سڑکوں کی حالت، صحت کی سہولتوں، نیٹ ورک کے مسائل اور دیگر بنیادی ضروریات کے حوالے سے اپنی شکایات اور تجاویز پیش کیں۔ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان نے اس موقع پر عوامی مسائل کو بغور سنا اور موقع پر ہی کچھ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے فوری طور پر چند اہم مسائل کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات دیں۔ دیگر مسائل جن میں پیچیدگیاں تھیں، ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بلوچستان عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اور اس قسم کی کھلی کچہریاں عوام کی شکایات کو براہ راست سننے کا ایک ذریعہ ہیں تاکہ ان مسائل کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، عوامی مسائل کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت تمام محکموں کو ہدایات دے گی تاکہ ان مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1604/2026
کوئٹہ 24 فروری: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں پولیس گاڑی پر دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 5 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا۔ اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے شہدائ کی مغفرت اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ گہری یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔
خبرنامہ نمبر1605/2026
کوئٹہ، 24 فروری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں پولیس گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس اہلکار شہید ہوگئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس بزدلانہ حملے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدائ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ وطن کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر اہلکار قوم کا فخر ہیں۔ انہوں نے شہدائ کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ملک کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں تاہم ایسی مذموم کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ پوری قوم اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ شہدائ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ قومی عزم کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
خبرنامہ نمبر1606/2026
پشین 24 فروری: ڈپٹی کمشنر پشین منصور احمد قاضی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر پشین محمد جان بلوچ نے شہر کے مرکزی بازار کا اچانک دورہ کرتے ہوئے مختلف کریانہ، سبزی، پھل اور اشیائے خوردونوش کی دکانوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 26 دکانیں چیک کی گئیں جہاں سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے، مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی اور صفائی کے ناقص انتظامات پر 22 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 2 دکانداروں کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ سرکاری نرخ نامے نمایاں مقام پر آویزاں کریں اور عوام سے کسی بھی صورت زائد قیمت وصول نہ کریں، بصورت دیگر مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور پرائس کنٹرول و اینٹی ہورڈنگ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے تاکہ ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر1607/2026
موسیٰ خیل 24 فروری :ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے آج (حالیہ پولیو مہم) کے دوران بہترین مانیٹرنگ اور مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک سادہ پروقار تقریب منعقد کی گئی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مانیٹرنگ کا عمل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ مہم کے دوران جس محنت اور لگن سے مانیٹرنگ کو یقینی بنایا گیا وہ قابلِ ستائش ہے۔ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک معذور سے پاک مستقبل دینے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مہم کی نگرانی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ تعریفی اسناد دینے کا مقصد افسران کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ نگرانی کا کام جاری رکھیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو مہم کے دوران تعاون کریں تاکہ ضلع موسیٰ خیل کو پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔
خبرنامہ نمبر 1607/2026
سبی 24 فروری:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں ضلعی انتظامیہ سبی کی جانب سے سرکٹ ہاؤس سبی میں خصوصی افراد، بیواؤں اور مستحقین میں رمضان پیکج کے تحت راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ اور ڈویژنل ڈائریکٹر سماجی بہبود امجد لاشاری موجود تھے۔ راشن کی تقسیم کے تمام عمل کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ نے کی اور مستحقین میں شفاف اور منظم طریقے سے راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) الیاس کبزئی نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق مستحق اور نادار افراد تک بروقت اور باعزت انداز میں امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کا مقصد معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بھی ماہِ صیام کی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں عوامی ریلیف کے اقدامات کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ سبی بھی حکومتی وژن کے تحت عوامی خدمت، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناتے ہوئے ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ راشن تقسیم کا یہ سلسلہ ضلع سبی کے تمام علاقوں میں جاری رہے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو مستفید کیا جا سکے۔ خصوصی افراد اور دیگر مستحقین نے راشن کی فراہمی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سبی کا شکریہ ادا کیا۔
خبرنامہ نمبر 1608/2026
پشین24 فروری: ڈپٹی کمشنر پشین منصور احمد قاضی کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر پشین محمد جان بلوچ نے یاروں کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے دو غیر قانونی شیشہ پوائنٹس سیل کر دیے۔ کارروائی کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور بغیر اجازت کاروبار چلانے پر فوری ایکشن لیا گیا اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ماہِ رمضان کے دوران عوامی مفاد، امن و امان اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتظامیہ نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







