خبر نامہ نمبر6033/2026
اسلام آباد 09 جولائی:۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والی صدارتی ایوارڈ یافتہ ممتاز سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار عظمیٰ یعقوب کو وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے لیے فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اپنی نئی ذمہ داریوں کے تحت خواتین، ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کو وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے مختلف منصوبوں اور مواقع سے مستفید کرنے کے لیے خصوصی کردار ادا کریں گی اس سلسلے میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے عظمیٰ یعقوب کو تقرر نامہ پیش کیا اور ان کے سماجی خدمات کے وسیع تجربے کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ نوجوانوں، بالخصوص خواتین اور محروم طبقات کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے حکومتی وژن کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گی۔ عظمیٰ یعقوب اس وقت ملک کے معروف سماجی ادارے فورم فار ڈیگنیٹی انیشی ایٹوز (FDI Pakistan) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ ادارہ انسانی حقوق، خواتین کی تولیدی صحت، نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق اور دیگر پسماندہ طبقات کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے بلوچستان سمیت ملک بھر میں سرگرم عمل ہے۔ اس کے علاوہ عظمیٰ یعقوب اپنی مدد آپ کے تحت محمد یعقوب فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کی معاونت، غریب اور مستحق بچیوں کی شادیوں کے لیے امدادی پروگراموں اور فلاحی سرگرمیوں کی بھی سرپرستی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں، متاثرین کی بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ بلوچستان کی پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی کی تشکیل میں بھی ان کا کلیدی کردار رہا، جس کے اعتراف میں حکومت بلوچستان کی جانب سے انہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی طرف سے حسنِ کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔ سماجی، فلاحی اور انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں نے وزیر اعظم یوتھ پروگرام میں عظمیٰ یعقوب کی بطور فوکل پرسن تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ مختلف شخصیات نے امید ظاہر کی کہ عظمیٰ یعقوب اپنے وسیع تجربے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سماجی خدمات کی بدولت خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کو قومی ترقی کے عمل میں مؤثر انداز میں شامل کرنے، ان کی استعداد کار بڑھانے اور انہیں حکومتی مواقع سے مستفید کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
خبر نامہ نمبر6034/2026
کوئٹہ09 جولائی :۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا ہے کہ خضدار کے افسوسناک واقعہ کے بعد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال خضدار میں غیر تسلی بخش طبی انتظامات، انتظامی غفلت اور ناقص کارکردگی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سرمد سعید خان کو بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ (BEEDA) 2011 کے تحت فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر عوام کو صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کسی بھی قسم کی غفلت یا نااہلی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے اداروں میں جوابدہی اور شفافیت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جو افسر یا اہلکار اپنے فرائض میں کوتاہی کا مرتکب پایا جائے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے میں اصلاحات، بہتر انتظامی نظام اور مؤثر نگرانی کے ذریعے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے احتساب کا عمل بلا تعطل جاری رہے گا۔
خبر نامہ نمبر6035/2026
صحبت پور9جولائی:۔ ڈپٹی کمشنر صحبت پور، فریدہ ترین کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اور جامع اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر میں تعلیمی شعبے کی مجموعی صورتحال درپیش مسائل اور معیارِ تعلیم میں بہتری کے لیے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کے دوران سرکاری تعلیمی اداروں میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص بی ایس ڈی آئی BSDI کے تحت چھٹیوں کے دوران ہونے والے تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام ترقیاتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور مقررہ مدت کے اندر ان کی تکمیل یقینی بنائی جائے، تاکہ تعلیمی اداروں کے کھلنے سے قبل تمام ضروری سہولیات مکمل ہو جائیں اور طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ جاری ترقیاتی کاموں کی خود نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعمیراتی منصوبے معیار کے مطابق اور بروقت مکمل ہوں انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اسکولوں میں تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جائےاجلاس میں پی ٹی ایس ایم سی PTSMC کے تحت زیرِ تعمیر کلاس رومز کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تعمیراتی کام میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کی جائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ شعبہ تعلیم حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ضلع صحبت پور میں تعلیمی نظام کی بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پیش رفت سے متعلق باقاعدگی کے ساتھ رپورٹس جمع کرائی جائیں، تاکہ تعلیمی نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور فعال بنایا جا سکے
خبر نامہ نمبر6036/2026
کوئٹہ 09 جولائی:۔ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر حکومت بلوچستان میر سیف اللہ کھیتران نے پائیدار فلاحی اقدامات کے ذریعے شمولیتی تعلیم کے فروغ اور معذور افراد کے لئے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔کمک پروگرام کے تحت، محکمہ سماجی بہبود کے ایک اہم اقدام ہے۔ حکومت بلوچستان، محکمہ سماجی بہبود کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے کہ معذور افراد کو وہ تعلیمی، مالی اور ادارہ جاتی مدد ملے جو انہیں اپنے تعلیمی عزائم کو آگے بڑھانے اور معاشرے میں فعال شراکت دار بننے کے لئے درکار ہے۔ کمک پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی سکالرشپ محض مالی امداد نہیں بلکہ انسانی صلاحیت، خود انحصاری اور مستحق طلبا کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ ان خیالا ت کااظہار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (این یوایم ایل) میں اپنی اعلی تعلیم میں معاونت کے لئے، معذور طالب علم عبدالصبور کو سکالرشپ کا چیک پیش کرنے کے دوران ڈی جی سوشل ویلفیئر میر سیف اللہ کھیتران نے کہا کہ تعلیم بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ ہر فرد کو، جسمانی صلاحیت سے قطع نظر، اسے سیکھنے، بڑھنے اور سبقت حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ بلوچستان بھر میں معذور افراد کے لئے جامع تعلیم، ہنر کی ترقی اور سماجی بااختیار بنانے کے اقدامات کو بڑھاتا رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کمک پروگرام ایک جامع معاشرے کی تعمیر کے محکمے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر شہری کی قدر ہو، عزت کی جائے اور اسے کامیابی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معذور طلبا کی مدد کرنا ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے اور پائیدار اور مساوی ترقی کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔میر سیف اللہ کھیتران نے سکالرشپ حاصل کرنے پر عبدالصبور کو مبارکباد دی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے عزم اور علمی کامیابیاں بہت سے دوسرے معذور طلبا کو اعتماد اور وقار کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیں گی۔ڈائریکٹر جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ محکمہ سماجی بہبود تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے مشن میں ثابت قدم ہے کہ کوئی بھی مستحق طالب علم معذوری یا مالی مجبوریوں کی وجہ سے سیکھنے کے مواقع سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم، استعداد کار میں اضافے اور جامع فلاحی پروگراموں کے ذریعے معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لئے انتھک محنت کرتا رہے گا، جس سے وہ بلوچستان اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بامعنی کردار ادا کر سکیں گے۔
خبر نامہ نمبر6037/2026
نصیرآباد9جولائی :۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے نصیرآباد ڈویژن کے نوجوانوں کو محکمہ مواصلات و تعمیرات (بی اینڈ آر) میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ بی اینڈ آر میں بھرتیوں کے عمل کے دوسرے روز جونیئر کلرک اور اکاؤنٹس کلرک کی آسامیوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کمیٹی کے چیئرمین چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد زون بشیر ناصر کی سربراہی میں منعقد ہوئے۔ انٹرویو کمیٹی میں ایڈمن آفیسر امان اللہ بنگلزئی، سپرنٹنڈنگ انجینئرز فدا حسین کھوسہ اور ارسلا خان رند، کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ شیر اللہ کھوسہ، محمد اقبال مری، محمد اکرم عمرانی اور غلام اسحاق مستوئی شامل تھے۔ اس موقع پر چیف انجینئر بشیر ناصر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد خان کھوسہ کے سیاسی وژن اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے ساتھ سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی ہدایات کے مطابق نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج جونیئر کلرک کی شارٹ لسٹ میں شامل 20 جبکہ اکاؤنٹس کلرک کی آسامی کے لیے 23 امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ان کے انٹرویوز لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی بھرپور کوشش ہے کہ محکمہ کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل شفافیت اور میرٹ کے مطابق حقدار امیدواروں کا انتخاب یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں وہ محکمہ اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکیں اور محکمہ کی کارکردگی اور مورال مزید بہتر ہو۔
خبر نامہ نمبر6038/2026
جعفرآباد9جولائی : ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات، تعلیمی اداروں میں جاری تعمیراتی کاموں، درپیش مسائل اور ان کے حل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد، RTSM کی پیش رفت، فیلڈ اسٹاف کی کارکردگی اور ترقی کی نگرانی، PTSMCs کی موجودہ صورتحال، محکمہ تعلیم کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں اور یونیسیف کے تعاون سے جاری منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت کی کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت محکمہ تعلیم کی تمام جاری اسکیموں کو مقررہ معیار کے مطابق اسکولوں کے کھلنے سے قبل مکمل کیا جائے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو تدریسی سرگرمیوں کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی فعالیت سے قبل تمام درپیش مسائل کا بروقت تدارک یقینی بنایا جائے، گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تعلیمی نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسران اساتذہ کی حاضری، تدریسی عمل اور تعلیمی معیار کی مؤثر نگرانی کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور خوش اسلوبی سے انجام دیں۔
خبر نامہ نمبر6039/2026
جعفرآباد9جولائی :۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا تمام سرکاری طبی مراکز میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی قلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور دور دراز علاقوں سے علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ مایوس ہو کر واپس نہ جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں محکمہ صحت سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور ضلع بھر میں عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، طبی مراکز کی کارکردگی،ادویات کی دستیابی، ڈاکٹرز و عملے کی حاضری اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام طبی مراکز میں طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے، ڈاکٹرز اور عملہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کریں، جبکہ مریضوں کو بروقت، معیاری اور بلاامتیاز علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر6040/2026
òموسیٰ خیل 09 جولائی :۔ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ممکنہ مون سون بارشوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایس پی پولیس کلیم اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر موسیٰ خیل نجیب اللہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر درگ اظہرالدین متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان نے شرکت کیاجلاس کے دوران شرکاء نے مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال، برساتی نالوں کی صفائی، اور ہنگامی حالات میں ریسکیو آپریشنز کے لیے دستیاب وسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے الرٹ رہیں گے اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں گے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا کہ انسانی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں میں پیشگی انتظامات مکمل کیے جائیں اور ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کے لیے مشینری اور عملے کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مون سون کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے باہمی تعاون کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں۔ضلعی انتظامیہ نے عوام الناس کی سہولت کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز بھی جاری کر دیے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی اطلاع دینے یا امداد کے حصول کے لیے شہری درج ذیل نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں:
فوکل پرسن (ڈپٹی کمشنر آفس):
03327889538 /03118004865
کنٹرول روم: 0828611103
03338176465/03456119399
خبر نامہ نمبر6041/2026
نصیرآباد:9جولائی :۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی سے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی کی قیادت میں محکمہ ایریگیشن کے وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ اور ایگزیکٹو انجینئر کینال فرید احمد پندرانی شامل تھے، جبکہ ملاقات کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل اور اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے کمشنر کو پٹ فیڈر کینال اور کیرتھر کینال میں زرعی پانی کی فراہمی سے متعلق درپیش مسائل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ سے بلوچستان کے حصے کے مطابق پانی کی عدم فراہمی کے باعث کینال سسٹم کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی کاوشوں سے پٹ فیڈر کینال میں پانی کے شارٹ فال پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ کیرتھر کینال کے لیے بھی بلوچستان کے حصے کا پانی حاصل کرنے کی عملی کوششیں جاری ہیں۔ اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا واحد گرین بیلٹ ہے جہاں کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے، اس لیے زرعی پانی کی بلا تعطل فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے پیش نظر کمشنر سکھر ڈویژن اور کمشنر لاڑکانہ ڈویژن سے رابطے کرکے کینالوں میں پانی کے اضافے کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں بین الصوبائی روابط بھی جاری ہیں۔ انہوں نے محکمہ ایریگیشن کے افسران کو ہدایت کی کہ کینال سسٹم کی بحالی، تمام نہروں اور ان کی ذیلی شاخوں میں منصفانہ بنیادوں پر پانی کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ کاشتکاروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خبر نامہ نمبر6042/2026
اوتھل 9جولائی:۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لسبیلہ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ ہاشمی کی زیر صدارت EPI کی ماہانہ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں لسبیلہ کے تمام ویکسینیٹرز نے شرکت کی اجلاس میں ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ویکسینیٹرز کو ہدایات جاری کی گئی کہ وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں اور شہریوں کے ساتھ رابطہ مہم بڑھائیں اور روٹین ویکسینیشن کے حوالے سے عوام میں آگاہی دیں DHO لسبیلہ ڈاکٹر فرید اللہ شاہ ہاشمی نے کہا کہ لاپرواہی اور غفلت برتنے والوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی کسی بھی ویکسینیٹر کی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ ویکسینیٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او لسبیلہ ڈاکٹر قمر رونجہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو روٹین کی ویکسین حفاظتی ٹیکوں کا کورس ضرور مکمل کروائیں تاکہ پھول جیسے بچے موذی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں انہوں نے کہا کہ عوام کو چائیے کہ وہ محکمہ صحت کی آنیوالی ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔
خبر نامہ نمبر6043/2026
لسبیلہ 9جولائی :۔اسسٹنٹ کمشنر بیلہ نصیب اللہ بڑیچ کی زیرِ صدارت اے سی آفس اور تحصیلدار آفس کے اسٹاف کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں دفتری امور، عوامی خدمات کی بہتری، سرکاری فرائض کی بروقت انجام دہی، نظم و ضبط اور انتظامی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری، ذمہ داری اور خوش اخلاقی کے ساتھ انجام دیں، سرکاری امور کو مقررہ وقت کے اندر نمٹائیں اور عوام کو بروقت، شفاف اور معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر6044/2026
اوتھل 9جولائی :۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج بلوچ نے کے-الیکٹرک اوتھل آفس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منیجر اوتھل بیلہ، جناب ناصر عالم، ڈپٹی منیجر جناب عابد شبیر، اور اسسٹنٹ منیجر ٹیکنیکل، انجینئر مشرف شیخ سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران اےڈی سی نے شہر میں بجلی کی مجموعی صورتحال، آپریشنل امور، اور بجلی سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے جاری آپریشنز کا جائزہ لیا اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف امور پر کے-الیکٹرک ٹیم سے گفتگو کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیلڈ ٹیموں کو درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت اور آپریشنل معاملات کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔یہ دورہ انتہائی خوشگوار اور پیشہ ورانہ ماحول میں منعقد ہوا، جو ضلعی انتظامیہ اور کے-الیکٹرک کے درمیان مؤثر رابطے، باہمی تعاون، اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
خبر نامہ نمبر6045/2026
نصیرآباد9جولائی :۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے کہا ہے کہ مون سون سیزن کے آغاز سے قبل پیشگی حفاظتی اقدامات کرنا ناگزیر ہے تاکہ ممکنہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے انہوں نے ہدایت کی کہ متعلقہ محکمے گزشتہ برسوں کے تجربات اور پیش آنے والے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع مؤثر اور قابلِ عمل حکمت عملی ترتیب دیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج مون سون کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ایس ایس پی، اسسٹنٹ کمشنرز محکمہ ایریگیشن پی ایچ ای، لوکل گورنمنٹ ہیلتھ مواصلات و تعمیرات C&W اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران گزشتہ سالوں میں ہونے والی بارشوں سے پہنچنے والے نقصانات، درپیش مسائل اور حفاظتی اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اس موقع پر مختلف محکموں کی جانب سے اپنی تیاریوں دستیاب وسائل اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات پر بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، تاہم بروقت منصوبہ بندی پیشگی اقدامات اور محکموں کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کو فعال بنایا جائے، حساس علاقوں کی نشاندہی کر کے وہاں خصوصی اقدامات کیے جائیں، اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری و عملہ ہمہ وقت تیار رکھا جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ریسکیو سروسز محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے الرٹ رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے
خبر نامہ نمبر6046/2026
استامحمد9جولائی :۔ کیرتھر کینال میں زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور کمانڈ ایریا کے حصے کا پانی چوری کرنے والوں کے خلاف محکمہ ایریگیشن نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد غیرقانونی پائپس اکھاڑ دیے اور پانی چوری میں استعمال ہونے والی مشینری و دیگر سامان ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی اور سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ کی ہدایات کی روشنی میں ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق سندھ سے کیرتھر کینال میں بلوچستان کے حصے کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جبکہ دستیاب پانی میں سے بھی بعض عناصر مشینری کے ذریعے غیرقانونی طور پر پانی چوری کر رہے ہیں، جس کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ چیف انجینئر قربان علی جتوئی اور سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ ایگزیکٹو انجینئر غلام محمد بادینی اور دیگر افسران سرکاری امور میں مداخلت اور زرعی پانی چوری میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں، جبکہ پانی چوری میں استعمال ہونے والی مشینری بھی ضبط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمانڈ ایریا کے کاشتکاروں کو ٹیل تک پانی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور محکمہ ایریگیشن کے انجینئرز اس مقصد کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں، جبکہ سرکاری امور میں رکاوٹ ڈالنے اور پانی چوری کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رہے گی۔
خبر نامہ نمبر6047/2026
کوئٹہ9جولائی :۔انٹرنیشنل اوورسیز اکنامک کوریڈور کے ڈائریکٹر جنرل، سیاسی، قبائلی و سماجی رہنما میر عثمان گورگیج نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے موجود بیرونی سرپرستی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم پاکستان دشمن عناصر اور دہشت گرد نیٹ ورکس بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گرد تنظیمیں معصوم شہریوں، مزدوروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتی ہیں، لیکن ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔میر عثمان گورگیج نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا محب وطن صوبہ ہے اور یہاں کے عوام نے ہمیشہ وطن عزیز کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام آج بھی پاک افواج، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس بریفنگ میں دہشت گردی سے متعلق جو مؤقف اور معلومات قوم کے سامنے رکھی گئیں، وہ انتہائی اہم ہیں، اور دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جانی چاہییں تاکہ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
خبر نامہ نمبر6048/2026
کوئٹہ 9 جولائی:۔صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے سیوریج کے پانی سے کاشت کی جانے والی مضرِ صحت سبزیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ہدایات اور ڈائریکٹر آپریشنز و ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ہیڈکوارٹرز کی نگرانی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے سبزل (CPEC) روڈ، کوئٹہ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے تقریباÇ 22 ایکڑ رقبے پر سیوریج کے آلودہ پانی سے کاشت کی گئی بند گوبھی کی فصل تلف کر دی۔کارروائی کے دوران ٹیموں نے موقع پر تفصیلی جائزہ لیا جس سے ثابت ہوا کہ مذکورہ فصل غیر ٹریٹ شدہ سیوریج کے پانی سے سیراب کی جا رہی تھی، جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2014 کے تحت مذکورہ فصل کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر تلف کر دیا گیا۔علاوہ ازیں عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹیموں نے کاشت کے لیے استعمال ہونے والے سیوریج کے پانی کی فراہمی کے تمام راستے بھی بند کر دیے تاکہ مستقبل میں اس غیر قانونی عمل کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔کارروائی کے دوران بعض کاشتکاروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم فوڈ سیفٹی ٹیموں نے قانون کے مطابق پیشہ ورانہ انداز میں آپریشن کامیابی سے مکمل کیا۔اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا ہے کہ عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات، بلوچستان فوڈ اتھارٹی ایکٹ اور متعدد بار جاری کی جانے والی تنبیہات کے باوجود اگر کوئی شخص سیوریج کے پانی سے سبزیاں کاشت کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے، سرکاری فرائض میں مداخلت کرنے یا فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا مقصد صرف خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور صحت مند خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کریں اور محفوظ خوراک کے فروغ کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ صحت دشمن عناصر کی بروقت اور بھرپور حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے۔
خبر نامہ نمبر6049/2026
کوئٹہ9 جولائی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معروف کالم نگار، ادیب، دانشور اور چیئرمین ادبی و ثقافتی تنظیم ”آئینہ اسلام آباد” ملک فدا الرحمٰن (شفقÏ پتنیان) کے انتقال پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم کی وفات سے ادب، صحافت اور فکری حلقے ایک باوقار اور مخلص شخصیت سے محروم ہوگئے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک فدا الرحمٰن نے اپنی تحریروں، علمی خدمات اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت سوچ، قومی شعور اور ادبی اقدار کے فروغ میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور علمی و ادبی حلقوں میں ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے مرحوم کے اہل خانہ، عزیز و اقارب، دوستوں اور شاگردوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خبر نامہ نمبر6050/2026
موسی خیل09 جولائی:۔ ڈپٹی ڈائریکٹرزراعت توسیعی شمس الحق ،ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن خدا نور زراعت افیسرز اسد محمد یوسف زراعت سٹاف کے ہمراہ یونین کونسل سرہ خواہ میں مختلف زمینداروں سے ملاقاتیں کیں اور زمیندار عجب خان کے فارم پہ پہنچے ان کے باغ میں موجود آڑو، بادام، اور الوچہ کے درختوں کا تفصیلی معائنہ کیا جس میں درختوں کی پیدوار، ان کی خوراک، اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کے مختلف طریقوں سے زمیندار کو اگاہی دی اس کے ساتھ ساتھ زیتون کی کاشت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور زراعت توسیع کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراء ڈپٹی ڈائریکٹرزراعت توسیعی نے باقی زمینداروں کے کھیتوں کا بھی معائنہ کیا ان کے مسائل سنے اور فصلات کو لاحق مسائل کے حل کے لئے مفید مشورے دئیے زمینداروں کو حکومت بلوچستان کی طرف سے میسر کسان کارڈ کے حوالے سے آگاہی دی ڈپٹی ڈائریکٹر شمس الحق نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کا زراعت کی ترقی کا ایک وژن ہے جس کو عملی جامہ ہم سب نے پہنانا ہے ہماری کوشش جاری ہے زمیندار ہمارا ساتھ دیں اس موقع پہ زمینداروں نے ہم ممکن تعاون کا یقین دلایا اور زراعت سٹاف کا شکریہ ادا کیا،
خبر نامہ نمبر 2026/6051
کوئٹہ9 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں منعقدہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کا اجلاس دہشت گردی کے مکمل خاتمے، پائیدار امن کے قیام اور بلوچستان کے روشن مستقبل کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت ہے۔ اجلاس میں قومی اور صوبائی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ ریاست دشمن عناصر، ان کے سہولت کاروں اور پاکستان کے خلاف سرگرم تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے مکمل ہم آہنگی اور یکسوئی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، سرحدی سلامتی اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی اور بدامنی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ یہ عزم پوری قوم کی آواز ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تمام ریاستی ادارے متحد اور پرعزم ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات، قربانی اور قومی عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے، ملکی سرحدوں کے دفاع اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قربانیوں اور کامیاب کارروائیوں کی بدولت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج، پولیس، لیویز، فرنٹیئر کور، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کے افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن کے دفاع کی ایک درخشاں تاریخ رقم کی ہے۔ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان کا امن، استحکام اور قومی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کار بلوچستان کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے دشمن ہیں۔ ایسے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ریاست پوری قوت اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے باشعور عوام نے ہمیشہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسترد کیا ہے اور آئندہ بھی اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، معدنی وسائل، گوادر کی ترقی، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کو نقصان پہنچانے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔ امن ہی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مزید تیز کرے گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں قومی اور صوبائی سیاسی و عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے تمام ادارے مکمل اتحاد، مربوط حکمت عملی اور قومی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6052
کوئٹہ9 جولائی:ـمعاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے معروف کالم نگار، ممتاز ادیب، دانشور اور چیئرمین ادبی و ثقافتی تنظیم “آئینہ اسلام آباد” ملک فدا الرحمٰن (شفقؔ پتنیان) کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم کی وفات سے صحافت، ادب اور فکری حلقے ایک باوقار، صاحبِ علم اور بااصول شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔شاہد رند نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ملک فدا الرحمٰن نے اپنی زندگی قلم، فکر اور شعور کی آبیاری کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دار کالم نگار تھے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے قومی ہم آہنگی، سماجی شعور اور مثبت اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی علمی بصیرت، متوازن طرزِ تحریر اور ادبی خدمات ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نے ادبی و ثقافتی تنظیم “آئینہ اسلام آباد” کے پلیٹ فارم سے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوان نسل میں مطالعہ و تحقیق کے رجحان کو پروان چڑھانے میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی خدمات ادب اور صحافت کے میدان میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ معاون وزیر اعلیٰ نے مرحوم کے اہلِ خانہ، صحافتی برادری، ادبی حلقوں اور تمام سوگواران سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6053
سنجاوی09جولائی:ـ سانحہ زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سنجاوی فٹبال گراو¿نڈ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔نماز جنازہ میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، سیاسی و قبائلی عمائدین، سول و عسکری حکام سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہداءکو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی سبی پرویز احمد عمرانی، ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی اور ایس پی زیارت عبدالمالک بھی موجود تھے۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سرکاری اعزاز سلامی پیش کیا، جبکہ شرکاءنے شہداءکی بلندی درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔نماز جنازہ کے بعد شہداءکے جسدِ خاکی آبائی علاقوں زندرہ،کلی زڑگئ،زیارت شہر اور کان بنگلہ زیارت کو روانہ کر دیے گئے، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا دیا گیا ۔
خبر نامہ نمبر 2026/6054
نصیرآباد9جولاءی: کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے نہری نظام، خریف سیزن کے دوران آبپاشی کے انتظامات اور ٹیل تک زرعی پانی کی منصفانہ فراہمی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیاگیا، جس میں رکن بلوچستان اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی عبدالمجید بادینی نےخصوصی طورپرشرکت کی ، چیف انجینئر کینالز انجینئر قربان علی جتوئی، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی سمیت محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ افسران اجلاس میں شریک ہوئے اجلاس میں چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے پٹ فیڈر کینال، اوچ مانجھوٹی کینال اور کیرتھر بیرون کینال کی موجودہ صورتحال، پانی کی دستیابی، واٹر کورسز کی بندش، نہری نظام کی بہتری اور خریف سیزن کے دوران پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ آبپاشی نہری نظام کو مؤثر انداز میں چلانے، پانی کے ضیاع کی روک تھام، غیر قانونی پانی چوری کے سدباب اور تقسیم کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ خریف سیزن کے دوران نہروں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ ہیڈ سے ٹیل تک تمام کاشتکاروں کو ان کے مقررہ حصے کے مطابق پانی فراہم کیا جا سکے۔ اجلاس میں بالخصوص ضلع جعفرآباد کے ٹیل ایریاز کو پانی کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ٹیل کے آبادگاروں کو ان کا جائز حق دلانے کے لیے جامع لائحہ عمل پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا، جبکہ پانی کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بے ضابطگی کی صورت میں متعلقہ افسران فوری کارروائی کریں گے۔ اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا زرعی مرکز ہے اور یہاں کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے، اس لیے پانی کی منصفانہ تقسیم اور بروقت فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام افسران فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں، نہری نظام کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کریں اور پانی کی تقسیم میں مکمل شفافیت برقرار رکھیں تاکہ کسی بھی علاقے یا کاشتکار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، لہٰذا محکمہ آبپاشی کے افسران اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں تاکہ خریف سیزن کے دوران کسی بھی علاقے میں پانی کی قلت پیدا نہ ہو اور بالخصوص ٹیل کے کاشتکاروں کو ان کا جائز حق ہر صورت مل سکے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نہری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور منظم بنایا جائے گا، پانی چوری اور ضیاع کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور خریف سیزن کے دوران نصیرآباد ڈویژن، خصوصاً ضلع جعفرآباد کے ٹیل ایریاز تک زرعی پانی کی بلاتعطل فراہمی ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6055
تربت9 جولائی:ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت بی ایس ڈی آئی (BSDI) پروگرام فیز ٹو کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ بی اینڈ آر، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت متعلقہ محکموں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام محکموں کے نمائندوں نے اپنے اپنے زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ پیش رفت،درپیش امور اور تکمیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ بی ایس ڈی آئی پروگرام فیز ٹو کے تحت جاری تمام ترقیاتی اسکیموں کو ہر صورت 31 جولائی تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوامی مفاد کے منصوبوں کو مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی عمل کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ضلع کیچ میں پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی جاری رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری پر بھی زور دیا گیا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6056
استامحمد9 جولائی:۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن سیکریٹری ایریگیشن اور صوبائی وزیر لائیوسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی سربراہی میں کھیرتھر کنال کے بیرونِ حدود قائم غیر قانونی واٹر کورسز کے خلاف بھرپور اور مؤثر آپریشن کیا گیاآپریشن کے دوران متعدد غیر قانونی واٹر کورسز کو مسمار کرکے بند کر دیا گیا، جن میں مختلف واٹر کورسزز شامل ہیں واٹر کورس خان محمد خان جمالی واٹر کورس میر محمد ولد باجی خان واٹر کورس سفر خان واٹر کورس سائیں دادا عمرانی واٹر کورس عطر خان پلال واٹر کورس لعل محمد جتک واٹر کورس لعل بخش جتک واٹر کورس ولی محمد برڑو واٹر کورس فضل محمد ولد عبداللہ ناوڑہ واٹر کورس عبداللہ ناوڑہ واٹر کورس محمد عمر بروہی واٹر کورس ہوت خان واٹر کورس لعل بخش ناوڑہ واٹر کورس اللہ ہندہ چانڈیو واٹر کورس محمد بچل لہڑی واٹر کورس بدل خان لہڑی واٹر کورس محمد پناہ اس آپریشن میں ایگزیکٹو انجینئرکھیرتھر کنال غلام محمد بادینی ایس ڈی او اپر زیشان جمالی ایس ڈی او لوئر عابد علی سیال، اسسٹنٹ کمشنر استامحمد رمضان اشتیاق، سب انجینئر ریاض میمن سب انجینئر صدام علی بوہڑ سمیت پولیس کی بھاری نفری نے حصہ لیاضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کھیرتھر کنال سے پانی کی غیر قانونی تقسیم ناجائز کنکشنز اور بیرونِ حدود واٹر کورسز کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے نہری پانی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنانے، کاشتکاروں کے جائز حقوق کے تحفظ اور پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے ایسے آپریشنز آئندہ بھی بلاامتیاز اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے
خبر نامہ نمبر 2026/6057
لسبیلہ 9جولائ: محکمہ زکوٰۃ و مذہبی امور کے اثاثہ جات اور ملازمین کی بورڈ آف ریونیو میں منتقلی پر اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں حکومت بلوچستان کی جانب سے محکمہ مذہبی امور اور محکمہ زکوٰۃ بلوچستان کو ختم کیے جانے کے بعد، ان کے اثاثہ جات اور انتظامی امور کو بورڈ آف ریونیو میں منتقل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کی سربراہی میں ضلعی سطح کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیر صدارت ڈی سی آفس اوتھل میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حکومت کے احکامات کی روشنی میں درج ذیل امور پر تفصیلی غور کیا گیا:محکمہ زکوٰۃ کے تمام سرکاری اثاثہ جات اور پراپرٹی کی بورڈ آف ریونیو کو باقاعدہ حوالگی گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کے ملازمین* کی محکمہ مال میں منتقلی اور ان کے نئے انتظامی طریقہ کار کو حتمی شکل دیناشامل ہےاجلاس میں ضلعی کمیٹی کے ارکان سوشل ویلفیئر آفیسر عبدالصمد رونجھو، محکمہ زکوٰۃ کے سپرنٹنڈنٹ محمد رفیق رونجھو، اسسٹنٹ خزانہ آفیسر محمد انور رونجھو اور ڈی سی آفس کے سپرنٹنڈنٹ سلیم اللہ رونجھونے شرکت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج احمد بلوچ نے ہدایت جاری کی کہ _“حکومت بلوچستان کے احکامات کے مطابق اثاثہ جات کے ریکارڈ اور ملازمین کے کوائف کی منتقلی کے عمل کو شفاف، مربوط اور تیز رفتار بنایا جائے تاکہ انتظامی امور میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منتقلی کا عمل مقررہ مدت میں مکمل کر کے رپورٹ بورڈ آف ریونیو بلوچستان کو ارسال کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6058
موسیٰ خیل09جولائی:ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی زیرِ صدارت ضلعی ماہانہ جائزہ اجلاس MRM منعقد ہوااجلاس میں DSO عبدالروف، IHHN ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مجیب الرحمان، PPHI کے M&E آفیسر عمران بزدار، DSV گل داد، WHO کے TSA نعمت اللہ، IHHN کے M&E آفیسر احسان لاشاری، DSEO محیب اللہ، ASV شیر زمان سمیت ضلع بھر کے تمام ویکسینیٹرز نے شرکت کی اجلاس میں بچوں کی ویکسینیشن کوریج، زیرو ڈوز بچوں اور ڈراپ آؤٹ کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیاویکسینیٹرز کو ہدایت کی گئی کہ زیرو ڈوز بچوں کی فوری نشاندہی کریں اور انہیں بروقت حفاظتی ٹیکے لگانے کو ترجیح دیں اجلاس میں گزشتہ ماہ کی کوریج، خامیوں اور مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ زیرو ڈوز اور ڈیفالٹر بچوں کی صورتحال، NEIR ایپ پر حاضری، بچوں کے انرولمنٹ اسٹیٹس اور پولیگون کوریج پر بھی بات کی گئی۔
مزید ہدایت کی گئی کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ویکسینیشن کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ٹیم ورک اور محنت بڑھائی جائے۔ ڈیٹا کی درستگی یقینی بنائی جائے اور تمام رپورٹس بروقت مکمل جمع کروائی جائیں اجلاس میں کمیونٹی میں حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت پر مؤثر آگاہی پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ والدین کا اعتماد بڑھے اور ضلع میں کوریج میں اضافہ ہو سکے اجلاس کے اختتام پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے تمام ویکسینیٹرز کو ہدایت کی کہ دی گئی ہدایات پر مکمل عمل کریں، زیرو ڈوز اور ڈیفالٹر بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر کور کریں اور ضلع موسیٰ خیل میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بہتر بنانے کے لیے بھرپور محنت کریں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6059
قلات9 جولائی: ـایس ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ کی ہدایات کی روشنی میں ڈی ایس پی خالق آباد عبدالقادر لانگو کی نگرانی میں ایس ایچ او خالق آباد علی اصغر نیچاری اور ایڈیشنل ایس ایچ او فیاض احمد شاہوانی نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کامیاب کارروائی کرتے ہوئے زیرِ تعمیر فٹسال گراؤنڈ سے چوری ہونے والا سامان برآمد کر لیا اور تین ملزمان کو گرفتار کر لیا.پولیس کے مطابق تھانہ خالق آباد کی حدود میں واقع نیو کمپلیکس میں زیرِ تعمیر فٹسال گراؤنڈ سے نامعلوم افراد تعمیراتی سامان چوری کرکے فرار ہوگئے تھے۔ مخبرِ خاص کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے چوری میں ملوث ملزمان کو گرفتارکرلیا کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ فٹسال گراؤنڈ کا کارپٹ اور دیگر تعمیراتی سامان برآمد کر لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ خالق آباد میں ایف آئی آر نمبر 11/2026 درج کرکے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 380 اور 34 کے تحت مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے،جبکہ مزید تفتیش جاری ہے.ایس ایس پی قلات سید زاہد حسین شاہ نے خالق آباد پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے پولیس ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ ضلع قلات میں امن و امان کی فضا کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6060
تربت9 جولائی: ـحکومتِ بلوچستان کے محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے سیکرٹری عبدالرؤف بلوچ نے میونسپل کارپوریشن تربت کے میئر بلخ شیر قاضی کو عوامی خدمات اور بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے نمایاں کردار ادا کرنے پر تعریفی سرٹیفکیٹ سے نواز دیا۔سرٹیفکیٹ میں میئر بلخ شیر قاضی کی مثالی قیادت، عوامی خدمت، بلدیاتی اداروں کو مؤثر بنانے، شہری سہولیات کی بہتری، اور میونسپل سروسز کی فراہمی میں نمایاں کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔تعریفی سرٹیفکیٹ میں ان کی خدمات بالخصوص تربت شہر میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات، بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی کاوشوں، شہری ترقی کے فروغ، اور قومی و بین الاقوامی سطح پر لوکل گورنمنٹ کی مؤثر نمائندگی کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔سرٹیفکیٹ میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ میئر بلخ شیر قاضی مستقبل میں بھی عوامی خدمت، بلدیاتی نظام کی بہتری اور پائیدار شہری ترقی کے لیے اپنی خدمات اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6061
چمن9 جولائی:ـچمن سے تعلق رکھنے والے اے ٹی ایف کے بہادر پولیس اہلکار محمد سلیم اچکزئی جو زیارت کے علاقے کچھ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے تھے، ان کی میت گزشتہ روز کلی سرہ غڑگئی سے برآمد ہوئی۔ شہید اہلکار کی نمازِ جنازہ اور تدفین چمن مردہ کاریز کے قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی شہید پولیس اہلکار محمد سلیم کے والد محمد صادق نے کہا کہ انکو اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چمن فدا بلوچ، ضلعی انتظامیہ کے افسران، پولیس اہلکاروں، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی اور فضا سوگوار نظر آ رہی تھی۔ شرکاء نے شہید پولیس اہلکار کی وطن کے لیے دی گئی قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر سپوت قوم کا فخر ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ملک و قوم کے امن کو یقینی بنانے میں عظیم کردار ادا کیا۔دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔







