خبرنامہ نمبر 6611/2026
کوئٹہ، 02 اگست :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی ہرنائی کے ضلعی جنرل سیکرٹری شہید ملک شینگل کے خاندان سے کیے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنا دیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید ملک شینگل کے فرزند جنید خان اور بھائی ملک اجمل خان کو محکمہ زراعت میں تعیناتی کے احکامات جاری کرتے ہوئے تقرری کے آرڈرز ان کے حوالے کر دیے اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کی عزت، کفالت اور بحالی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت جاری رکھی جائے گی شہید ملک شینگل کے اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مشکل وقت میں ان کے خاندان کا سہارا بن کر نہ صرف وعدہ پورا کیا بلکہ شہداء کے اہل خانہ کی دلجوئی کی ایک بہترین مثال بھی قائم کی۔
خبرنامہ نمبر 6612/2026
کوئٹہ، 02 اگست :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گانوں کے ذریعے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے والے نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے معروف لوک گلوکار گل میر جمالی کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ مدعو کر کے ان سے ملاقات کی ملاقات کے دوران گل میر جمالی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کو اپنی زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی روایتی انداز میں محبت بھرے گیت پیش کیے۔ فنکار نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں گانا بھی سنایا جسے میر سرفراز بگٹی نے سراہتے ہوئے ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کی تعریف کی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے لوک فنکار صوبے کی ثقافت، روایات اور مثبت تشخص کے حقیقی سفیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی فن اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایسے باصلاحیت افراد کی سرپرستی جاری رکھی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے گل میر جمالی کے خلوص، محبت اور فن سے وابستگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فن لوگوں کے دلوں کو جوڑنے اور معاشرے میں مثبت پیغام عام کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ثقافتی ورثے کے فروغ اور مقامی فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اس موقع پر گل میر جمالی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی محبت، شفقت اور حوصلہ افزائی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملاقات ان کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ اپنی آواز کے ذریعے بلوچستان کی ثقافت اور محبت کے پیغام کو مزید فروغ دیتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقے نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے لوک گلوکار گل میر جمالی نے سوشل میڈیا پیج کوئٹہ نیوز نیٹ ورک پر اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر چیف منسٹر سیکرٹریٹ کی جانب سے گلوکار گل میر جمالی کو مدعو کیا گیا۔
خبرنامہ نمبر 6613/2026
لورالائی، یکم اگست ؛ورلڈ پاپولیشن ڈے: محکمہ بہبودِ آبادی لورالائی کے زیر اہتمام میگا سیمینار، تولیدی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور ذمہ دار والدین کے شعور کو فروغ دینے پر زور
ورلڈ پاپولیشن ڈے کے موقع پر سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی بلوچستان اور ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات کے تحت، روز کنسلٹنگ (Riz Consulting) اور پی ایس آئی (PSI) کے تعاون سے ضلعی محکمہ بہبودِ آبادی لورالائی نے ضلعی پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر نسرین گل کی سربراہی میں انسٹیٹیوٹ آف نرسنگ، ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں ایک میگا آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔سیمینار کا مقصد عوام میں آبادی سے متعلق مسائل، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت، ماں اور بچے کی بہتر صحت، پیدائش میں مناسب وقفے، ذمہ دار والدین اور پائیدار ترقی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ تقریب میں ڈاکٹرز، نرسنگ طلبہ، اساتذہ، طبی عملہ، محکمہ بہبودِ آبادی کے افسران و اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈاکٹر زرینہ خان تھیں، جبکہ ڈاکٹر نگہت، ڈاکٹر صادقہ خان، ڈاکٹر فضیلہ، ڈاکٹر زرمینہ خان، مسز ڈاکٹر نجم اور ڈاکٹر سکینہ نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت اور زچہ و بچہ کی بہتر نگہداشت صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام تک درست معلومات پہنچانے اور بہتر رہنمائی فراہم کرنے میں طبی ماہرین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ضلعی پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ڈاکٹر نسرین گل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی سے متعلق آگاہی، ذمہ دار والدین اور صحت مند خاندانوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں شعور اجاگر کرنے اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔سیمینار کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ منتظمین نے مہمانِ خصوصی، مقررین، اساتذہ، طلبہ اور تمام شرکاء کا کامیاب سیمینار کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر محکمہ بہبودِ آبادی لورالائی، روز کنسلٹنگ (Riz consulting) اور پی ایس آئی (PSI) کے درمیان باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی خدمت، بہبودِ آبادی، تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی مہم آئندہ بھی مؤثر انداز میں جاری رکھی جائے گی۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے مشترکہ پروگرام عوام میں شعور بیدار کرنے، صحت مند خاندانوں کے فروغ اور ایک خوشحال، متوازن اور پائیدار معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خبرنامہ نمبر 6614/2025
نصیرآباد2 اگست:ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت تحصیل گنداخہ کے مقام باغ ہیڈ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ایکسین ایریگیشن غلام محمد بادینی محکمہ ایریگیشن کے دیگر افسران و عملہ اور قبو ڈسٹری کے زمینداروں نے شرکت کی اجلاس میں قبو ڈسٹری کے ٹیل اینڈ تک آبپاشی کے پانی کی منصفانہ، شفاف اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئےاس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ قبو ڈسٹری سے باغ ہیڈ تک کھیرتھر کینال کے تمام واٹر کورسز کو 48 گھنٹوں کے لیے بند رکھا جائے گا، تاکہ پانی کی روانی میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرتے ہوئے پانی بلا تعطل قبو ڈسٹری کے ٹیل اینڈ تک پہنچ سکے۔مزید برآں یہ بھی طے پایا کہ قبو ڈسٹری کے بالائی حصے میں واقع 13 واٹر کورسز کو ہر ہفتے 72 گھنٹوں کے لیے بند رکھا جائے گا اس اقدام کا مقصد ہفتہ وار بنیادوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور ٹیل اینڈ کے آبادگاروں کو ان کا جائز حق فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خانکی سے باغ ہیڈ تک کھیرتھر کینال پر قائم تمام غیر قانونی واٹر کورسز اور غیر قانونی پائپوں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری رکھا جائے گا تاکہ پانی کی چوری کا خاتمہ کیا جا سکے اور نہری پانی کی فراہمی کو شفاف بنایا جا سکے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اُستامحمد محمد رمضان پلال نے کہا کہ ٹیل اینڈ کے آبادگاروں کو ان کا جائز حق دلانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے انہوں نے واضح کیا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے محکمہ ایریگیشن مقامی زمینداروں اور دیگر متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور ہر آبادگار کو اس کا مقررہ حصہ بروقت فراہم ہو۔
خبرنامہ نمبر 6615/2026
کوئٹہ، 2 اگست:محکمہ اسکول ایجوکیشن بلوچستان نے موسمِ گرما کی تعطیلات میں توسیع سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کو جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محکمہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔محکمہ کے مطابق زیرِ گردش نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی یا سرکاری حیثیت نہیں، لہٰذا والدین، اساتذہ، طلبہ اور عوام الناس اس پر یقین نہ کریں اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کریں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن نے ہدایت جاری کی ہے کہ پہلے سے جاری کردہ سرکاری شیڈول کے مطابق سمر اور ونٹر زون کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے پیر، 3 اگست 2026 سے معمول کے مطابق دوبارہ کھلیں گے۔محکمہ نے تمام ڈائریکٹرز آف ایجوکیشن (اسکولز)، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور اس سرکاری وضاحت کو اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں تک فوری طور پر پہنچائیں، تاکہ جعلی نوٹیفکیشن کے باعث کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
خبرنامہ نمبر 6616/2026
کراچی2 اگست: گورنر بلوچستان، جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ انہیں بلوچستان کے عوام کو یہ خوشخبری دیتے ہوئے بےحد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ جیری ویزا کورئیر سروس بہت جلد باضابطہ طور پر کوئٹہ سے اپنی خدمات کا آغاز کرنے جا رہی ہے جو ان کی خصوصی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ گورنر مندوخیل نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں جیری ویزا کورئیر سروس کا قیام بلوچستان میں عوامی سہولیات کی فراہمی، بین الاقوامی روابط کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان خیالات کا انہوں نے کراچی میں جیری ویزہ کورئیر سروس کے سربراہ اکرم ولی اور جہانداد خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اس نئی سہولت کے آغاز سے بلوچستان کے عوام کو دنیا کے 50 سے زائد ممالک، جن میں یورپ، امریکہ، ایشیا اور دیگر خطے شامل ہیں، کیلئے کورئیر اور ویزا دستاویزات کی ترسیل کی سہولت مقامی سطح پر میسر آئیگی۔ اس سے قبل کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع کے شہریوں کو ان خدمات کے حصول کیلئے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا جس سے انہیں اضافی وقت، سفری اخراجات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ اب درخواست گزار اپنے ویزا اور دیگر متعلقہ دستاویزات کوئٹہ میں ہی جمع کرا سکیں گے جہاں سے انہیں متعلقہ سفارت خانوں اور قونصل خانوں تک محفوظ اور منظم انداز میں پہنچایا جائیگا۔ اس اقدام سے شہریوں کو نہ صرف بہتر سہولت میسر آئیگی بلکہ انکے قیمتی وقت اور اخراجات میں بھی نمایاں بچت ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اقدام صوبے کے عوام، طلبہ، تاجروں اور بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کیلئے انتہائی مفید ثابت ہوگا اور بلوچستان کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مزید مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کریگا۔







