8th-July-2026

خبرنامہ نمبر6000/2026
کوئٹہ 8 جولائی ۔صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمان خان ملاخیل نے زیارت میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی کو خراج تحسین جبکہ ہنہ اوڑک واقعے میں بے گناہ شہریوں کی شہادت ہر بے حد افسوس کا اظہار کیا ہے صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے زیارت میں فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے تحفظ پر معمور پولیس افیسران و اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک عمل ہے امن و امان کی بحالی اور ملکی دفاع کی خاطر پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جو قابل تحسین عمل ہے انھوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے سیکیورٹی اداروں اور صوبےکے غیور عوام کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک تمام ممکنہ اقدامات اور سرگرمیاں پوری طاقت سے جاری رہیں گے صوبائی مشیر نے کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک کلی ببری میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت آور انسانی جانوں کے ضیاع پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی، سوگوار لواحقین کے لیے صبر جمیل اور واقعے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6001/2026
کوئٹہ8 جولائی ۔سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس ضلع پشین ضلع برشور ضلع قلعہ عبداللہ اور کوہیٹہ سٹی میں محکمہ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا واضح رہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کے خصوصی ہدایات اور سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے زیر نگرانی روزانہ کی بنیاد پر ڈی ایس سی کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ صوبے ان اسکیموں کو جلد از جلد شروع کیا جائے اجلاس میں چیف انجینئر کوئیٹہ زون عبدالرحیم بنگلزئی ایس سی کوئیٹہ سٹی اظہر جان ایس سی پشین سرکل وسیم حیدر ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی اینڈ ڈی کے حکام اور متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران ان اضلاع میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف سڑکوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے منصوبوں کی فزیبلٹی تخمینہ لاگت تکنیکی پہلووں اور مجوزہ مدتِ تکمیل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی نے مختلف نئے روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق متعدد اسکیموں کی منظوری کی سفارش کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ منصوبوں پر جلد از جلد عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی انتظامی اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں گے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6002/2026
لسبیلہ8جولائی ۔ ضلع لسبیلہ میں مون سون اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ نے کی۔اجلاس می سرکاری محکموں، ضلع بھر میں سرگرمِ عمل فلاحی تنظیموں این جی اوز UNWFP آزاد فاوئنڈیشن کی ڈسٹرکٹ کوارڈینٹر پروگرام کوارڈینیٹر WANG اورمرک کے فوکل پرسنر امان ڈسٹرکٹ مینیجر NRSP ،ڈسٹرکٹ فیلڈ سپروائزر اوراسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل۔گورنمنٹ ،فیلڈاسسٹنٹ ایگریکلچر ،FAOکے سلیمان بلوچ، سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے قدرتی آفات اور بالخصوص مون سون کے سیزن کے دوران اپنے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور اب تک کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج احمد بلوچ نے تمام سماجی تنظیموں کی کارکردگی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام NGOs کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط ہونا چاہیے۔مون سون یا کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں انسانی جانوں کے تحفظ اور بروقت امداد کے لیے ضلعی انتظامیہ اور فلاحی اداروں کے مابین مضبوط کوآرڈینیشن ناگزیر ہے، تاکہ مل کر ایک بہتر اور موثر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں اور فلاحی اداروں نے سیلاب اور مون سون کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور الرٹ رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6003/2026
قلات 8جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر منیراحمددرانی کے زیر صدارت سرکاری ملازمین کے عمر درستگی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ پولیس محکمہ تعیلم محکمہ بی اینڈ آر محکمہ صحت محکمہ لائیو اسٹاک کے ملازمین کے کیسسز کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان محکموں کے مجموعی طورپر22 کیسز دیکھے گئے۔ سرکاری ملازمین کے قومی شناختی کارڈ سروس بک تنخواہ سلپ اور تعلیمی اسناد میں عمر کی فرق کو درست کرنے کے لیئے ملازمین کی اصل دستاویزات چیک کئے گئے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے تمام متاثرہ ملازمین کے اصل دستاویزات کا بغور جائزہ لیا اور انکے عمر کی درستگی کے لیئے اہم فیصلے کیئے۔ڈپٹی کمشنر منیر احمددرانی نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے مسائل فوری حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ذمہ داران ملازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں اور انکے مشکلات کم کرنے کے لیئے بھرہور کردار اداکریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6004/2026
ہرنائی8جولائی ۔ : گزشتہ شب ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے زیارت کچ میں نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد اغوا کیے جانے والے اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) کے غازی جوان ملک سیف اللہ خان عبدالانی کو مسلح افراد نے بے دردی سے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ شہید جوان کا جسدِ خاکی آبائی علاقے کلی سرکان پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ شہید کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاوں کلی سرکان کے قبرستان میں ادا کرنے کے بعد، انہیں پولیس کے چاک و چوبند دستے کی سلامی اور مکمل سرکاری و فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ہر آنکھ نم اور فضا انتہائی سوگوار تھی۔ گزشتہ رات زیارت کچ کے مقام پر نامعلوم مسلح عناصر اور اے ٹی ایف کے جوان ملک سیف اللہ خان عبدالانی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد مسلح افراد انہیں اغوا کر کے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے اور بعد میں انہیں فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ وطنِ عزیز کی مٹی پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس بہادر سپوت کی آخری رسومات میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیاسی قیادت نے بھرپور شرکت کر کے پسماندگان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ شہید ملک سیف اللہ خان عبدالانی کی نمازِ جنازہ میں ضلع بھر سے سیاسی، سماجی، قبائلی شخصیات اور پولیس افسران سمیت شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ملک عبدالسلام ترین (چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل ہرنائی) انجینئر عبدالحفیظ جکھرانی (سپرنٹنڈنٹ آف پولیس / ایس پی ہرنائی محمد سلیم ترین (ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی) ملک حبیب اللہ ترین (ڈی ایس پی ہرنائی) محمد عمر رند (ایس ایچ او تھانہ سٹی ہرنائی) تدفین کے موقع پر ہرنائی پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدِ خاکی کو گارڈ آف آنر (سرکاری سلامی) پیش کیا، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شہید کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ملک و ملت کے لیے ان کی قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نمازِ جنازہ اور تدفین کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو اور تعزیتی پیغامات میں ضلعی حکام اور معززین کا کہنا تھا کہ ملک سیف اللہ خان عبدالانی کی شہادت ضلعی امن اور دفاعِ وطن کے لیے ایک عظیم قربانی ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کو سبوتاڑ کرنے والے عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور فورسز کے جوانوں کے حوصلے اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے پست نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں، شرکائے جنازہ نے شہید کے درجات کی بلندی، الٰہی حضور میں ان کی شہادت کی قبولیت اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی اجتماعی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6005/2026
موسیٰ خیل 8جولائی ۔ ماہِ والدین کے حوالے سے آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد، بچوں کی بہتر پرورش اور غذائیت پر زورمحکمہ صحت ڈائریکٹوریٹ آف نیوٹریشن بلوچستان اور یونیسیف کے تعاون سے ماہِ والدین کے سلسلے میں ایم سی ایچ ہال، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس موسیٰ خیل میں ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس کا مقصد والدین میں بچوں کی بہترین پرورش، متوازن غذائیت، ماں اور بچے کی صحت، اور ابتدائی عمر میں مناسب نگہداشت کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھاسیمینار میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی سید امان شاہ، ضلعی نیوٹریشن کوآرڈینیٹر شیر باز خان، مانیٹرنگ آفیسر پی پی ایچ آئی عمران بزدار، ماہرِ اطفال ڈاکٹر یاسین قیصرانی، لیڈی ہیلتھ سپروائزر آمنہ بی بی اور ضلع بھر سے تعلق رکھنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک، پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانا، حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت تکمیل، صفائی ستھرائی اور والدین کی موثر رہنمائی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی عمر میں بچوں کی مناسب دیکھ بھال ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کی بنیاد ہے۔سیمینار کے اختتام پر ماہِ والدین کے حوالے سے آگاہی واک بھی منعقد کی گئی، جس میں شرکاء نے بھرپور شرکت کی۔ واک کا مقصد عوام میں بچوں کی بہتر پرورش، مناسب غذائیت، ماں اور بچے کی صحت اور صحت مند معاشرے کے قیام کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ والدین کی بروقت رہنمائی، غذائیت سے متعلق آگاہی اور معیاری صحت کی سہولیات کے فروغ کے ذریعے ایک صحت مند، مضبوط اور روشن نسل کی تعمیر کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6006/2026
نصیرآباد8جولائی ۔ : وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے سلسلے میں اقدامات جاری ہیں۔چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان،صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور صوبائی سیکرٹری بابر خان کی ہدایات کی روشنی میں بی اینڈ آر نصیرآباد میں چیف انجینئر مواصلات و تعمیرات نصیرآباد زون بشیر ناصر کی سربراہی میں اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر کی آسامیوں کے لیے انٹرویوز منعقد کیے گئے۔ کمیٹی میں ایڈمن آفیسر امان اللہ بنگلزئی، سپرنٹنڈنگ انجینئرز فدا حسین کھوسہ، ارسلا خان رند، کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ شیراللہ کھوسہ، محمد اقبال مری اور محمد اکرم عمرانی شامل تھے، جبکہ اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر عابد علی پہنور اور غلام اسحاق مستوئی بھی موجود تھے۔ چیف انجینیئر بشیر ناصر نے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر کے 37 امیدوار شارٹ لسٹ کے انٹرویوز لیے گئے ہیں اور حکومت کے وڑن کے مطابق مکمل شفافیت، میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر مستحق اور لائق امیدواروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔نئے امیدواروں کی تعیناتی کے بعد مزید بہتر معنوں میں عوامی خدمات سرانجام دی جاسکیں گی اور لکھے پڑھے نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم کیا جا سکے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6007/2026
کوئٹہ 7 جولائی ۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسشن کے زیر اہتمام افسران اور اہلکاروں کا تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جہاں شرکائ کو اسٹیج پر اپنی ابتدائی کارکردگی اور سیکھنے کے نتائج پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔محمکہ ایکسا ئز کے افسران نے کہا کہ اس جدید تربیتی پروگرام کا مقصد افسران اور اہلکاروں کو تحقیق پر مبنی جدید طریقہ کار، جدید ڈیٹا بیس مینجمنٹ، اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے فرائض مزید موثر انداز میں انجام دے سکیں۔تربیت کے دوران حاصل ہونے والی جدید معلومات اور تکنیکی مہارتوں کو عملی فیلڈ آپریشنز میں بروئے کار لا کر نہ صرف محکمانہ کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ اہلکاروں کی انفرادی صلاحیتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ انسدادِ منشیات پیشہ ورانہ معیار کو مزید بلند کرنے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ جاتی ترقی کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6008/2026
تربت.8 جولائی ۔:ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے گورنمنٹ انٹر کالج ناصرآباد کے طلبہ کے ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی اور کالج کو درپیش مختلف مسائل، خصوصاً کئی ماہ سے تعطل کا شکار تعمیراتی منصوبے سے متعلق تفصیلی آگاہ کیا۔ طلبہ نے بتایا کہ کالج کی عمارت کا تعمیراتی کام کئی ماہ سے رکا ہوا ہے جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار بھی منظرِ عام سے غائب ہے، جس کے باعث طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے طلبہ کی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کو فوراً طلب کر لیا اور سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ناصرآباد کالج کی زیرِ تعمیر عمارت کا کام ہر صورت ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کام میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کیچ نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا، جبکہ کالج کو درپیش دیگر بنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسرآسکے۔طلبہ نے ان کے مسائل پر فوری توجہ بروقت کارروائی اور مثبت یقین دہانی پر ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کا موثر اور فعال کردار قابلِ تحسین ہے، جس سے عوام میں اعتماد اور امید کی نئی فضا قائم ہوئی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6009/2026
کوئٹہ، 8 جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج، بلوچستان پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے وزیراعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پاکستان کے امن، ترقی اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم اور مذموم سازش ہیں، تاہم ریاستی ادارے، حکومت اور عوام مکمل اتحاد اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ دشمن کے ہر ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان کے امن، ترقی اور عوامی اعتماد کو متزلزل کرنے کی ہر کوشش پہلے بھی ناکام ہوئی ہے اور آئندہ بھی ناکام ہوگی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں نے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کو موثر جواب دیا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے محافظ ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے امن اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداءپوری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں، جن کی عظیم قربانیاں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ خاران اور دالبندین میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی بلوچستان کے امن، عوام کے مستقبل اور جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی جان اور شان ہے اور اس کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر سازش کو عوام اور ریاست کے باہمی اتحاد سے ناکام بنایا جائے گا۔ حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ، پائیدار امن کے قیام اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد، ان کے سہولت کار اور سرپرست جہاں کہیں بھی ہوں گے، انہیں قانون کی گرفت میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری قوت، قومی یکجہتی اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6010/2026
کوئٹہ، 8 جولائی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وژن اور میرٹ کے فروغ کے عزم کے تحت بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) نے ضلع چمن کے میٹرک امتحانات 2025 کے نمایاں طلبہ و طالبات کے لیے “شہید بینظیر بھٹو ڈسٹرکٹ ٹاپرز ٹیلنٹ اسکالرشپس” کا اعلان کر دیا ہے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور معیاری تعلیم کے فروغ کے وڑن کے تحت ضلع چمن کے میٹرک امتحانات 2025 میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ٹاپ 10 طلبہ و طالبات، جن میں پانچ طالبات اور پانچ طلبہ شامل ہیں، کو شہید بینظیر بھٹو ڈسٹرکٹ ٹاپرز ٹیلنٹ اسکالرشپس دی جائیں گی انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ذہین اور باصلاحیت طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی، تعلیمی میدان میں صحت مند مقابلے کے رجحان کو فروغ دینا اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ خالد ماندائی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ صوبے بھر میں میرٹ، شفافیت اور مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے تاکہ نوجوان نسل اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر صوبے اور ملک کی ترقی میں مو¿ثر کردار ادا کر سکے اعلان کردہ نتائج کے مطابق ضلع چمن کے مرد طلبہ میں محمد حمزہ نے پہلی، حبیب الرحمن نے دوسری، ارسلان خان نے تیسری، اورنگزیب نے چوتھی جبکہ محمد اجمل نے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح طالبات میں مہوش نے پہلی، ثانیہ نے دوسری، دیا کماری نے تیسری، انوشہ نے چوتھی جبکہ حرم بی بی نے پانچویں پوزیشن حاصل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے کامیاب طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ مستقبل میں بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق صوبے کے باصلاحیت طلبہ و طالبات کی سرپرستی اور تعلیمی معاونت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ بلوچستان کا ہر ہونہار طالب علم اپنی تعلیمی استعداد کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6011/2026
کوئٹہ: 8 جولائی ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کی سنجیدہ کوششوں سے “انڈس ریور سسٹم اتھارٹی IRSA ” نے بلوچستان کے لیے متعینہ پانی کے حصول کے لیے حکومت سندھ کو فوری خط لکھ دیا۔ IRSA کے سیکرٹری محمد خالد ادریس رانا کی جانب سے 29 جون 2026 کو جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ خریف سیزن 2026 کے آغاز سے ہی بلوچستان کو اپنے کینال سسٹم میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ خط کے مطابق IRSA بلوچستان کا متعینہ پورا پانی کا حصہ بشمول راستے کے نقصانات جاری کر رہا ہے۔ تاہم سندھ آبپاشی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بلوچستان کا حصہ آگے جاری نہیں کیا جا رہا۔ سیکرٹری IRSA نے خط میں صوبائی وزیر آبپاشی بلوچستان میر محمد صادق عمرانی سے 29 جون کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا بھی حوالہ دیا۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر بلوچستان کا جائز پانی جاری نہ کیا گیا تو کمانڈ ایریا کے کسان شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے جس سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ IRSA نے سندھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرکے بلوچستان کو اس کے پانی کا جائز حق دلائے تاکہ کسانوں کی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6012/2026
کوئٹہ 8جولائی ۔بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین پی اے سی رحمت صالح بلوچ، زابد علی ریکی، فضل قادر مندوخیل، غلام دستگیر بادینی اور حاجی میر محمد خان لہڑی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان شجاع علی، سیکرٹری صنعت و تجارت محمد خالد سرپرہ، اسپیشل سیکرٹری بلوچستان اسمبلی سراج لہڑی، ایم ڈی لیڈا لیاقت کاشانی سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں دبئی ایکسپو 2020 میں بلوچستان پویلین اور بلوچستان انویسٹمنٹ کانفرنس کے حوالے سے سال 2021-22 کے اسپیشل آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ بلوچستان نے یہ خصوصی آڈٹ اس وقت کے وزیراعلی بلوچستان کے حکم پر کیا۔ آڈٹ کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا منصوبے پر عملدرآمد کے دوران قواعد و ضوابط، مالیاتی اصول، خریداری کے طریقہ کار، داخلی کنٹرول، شفافیت اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق تمام قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کیا گیا یا نہیں۔ آڈٹ بین الاقوامی آڈٹنگ معیارات (INTOSAI) کے مطابق کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ دبئی ایکسپو 2020 میں بلوچستان پویلین کے انعقاد کی ذمہ داری اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر لیڈا (LIEDA) کو سونپی گئی تھی، جنہوں نے ساحلی ترقی و ماہی گیری، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور توانائی کے محکموں کے اشتراک سے اس ایونٹ کا انعقاد کیا۔ اس مقصد کے لیے حکومت بلوچستان نے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کی جبکہ مجموعی اخراجات تقریباً 15 کروڑ 72 لاکھ 69 ہزار روپے رہے۔آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 13 کروڑ 97 لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کا کنٹریکٹ بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ رولز 2014 کے تقاضوں کے برعکس Competitive Bidding کے بغیر مذاکراتی طریقہ کار کے ذریعے دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق نہ تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری حاصل کی گئی اور نہ ہی مذاکراتی ٹینڈرنگ اختیار کرنے کی وجوہات اور قانونی جواز تحریری طور پر ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے، جبکہ وفاقی حکومت جولائی 2021 میں ہی بلوچستان حکومت کو دبئی ایکسپو میں شرکت سے آگاہ کر چکی تھی۔آڈٹ حکام نے مزید بتایا کہ اس معاملے کی نشاندہی متعلقہ محکمہ کو اپریل 2022 میں کی گئی تھی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی محکمانہ اکاونٹس کمیٹی (DAC) کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ آڈٹ نے سفارش کی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔اجلاس کے دوران چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے ہدایت دی کہ اس وقت کے سیکرٹری، ایم ڈی لیڈا اور تمام متعلقہ افسران کو طلب کیا جائے تاکہ ان کا موقف سنا جا سکے اور حقائق کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے پروگرام آخری وقت میں منعقد کیے جاتے ہیں جس کے باعث مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے معاملات کا مکمل احتساب ضروری ہے۔کمیٹی کے رکن زابد علی ریکی سمیت دیگر اراکین نے کہا کہ موجودہ سیکرٹری دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر موقف پیش کر رہے ہیں، تاہم اس وقت کے تمام متعلقہ افسران کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونا ہوگا تاکہ ہر پہلو کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ حاجی محمد خان لہڑی، فضل قادر مندوخیل اور غلام دستگیر بادینی نے بھی رائے دی کہ اس وقت کے ذمہ دار حکام کو طلب کیا جائے تاکہ کمیٹی اس اسپیشل آڈٹ کی تمام پہلوﺅں کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے۔کمیٹی نے واضح کیا کہ دبئی ایکسپو 2020 سے متعلق آڈٹ پیراز میں نامزد متعدد متعلقہ افسران آج کے اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ وہ خواہ صوبے سے باہر یا کسی دوسرے صوبے میں تعینات ہوں، انہیں آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے گا۔ کمیٹی نے متعلقہ افسران کو 15 روز کا وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر اپنا موقف، ریکارڈ اور وضاحت کمیٹی کے سامنے پیش کریں، جس کے بعد معاملے پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر متعلقہ آفیسرز کمیٹی کی میٹنگ میں پیش نہیں ہوئے تو کیس نیب یا اینٹی کرپشن کے حوالہ کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6013/2026
نصیرآباد8جولائی ۔: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل نے آج ڈویژ نل ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی کا دورہ کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی اور ایم ایس ایف آرگنائزیشن کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ایم ایس ایف کی جانب سے شعبہ صحت میں کارکردگی کا جائزہ لیا اور ایم ایس ایف کی زیر نگرانی مختلف وارڈز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ان وارڈز میں ایم سی ایچ وارڈ، آئسولیشن وارڈ، نرسری وارڈ، آئی پی ڈی وارڈ، آئی ٹی ایف سی وارڈ، اے ٹی ایف سی وارڈ، لیبارٹری اور واٹر فلٹریشن پلانٹ شامل ہیں۔ اس موقع پر ایم ایس ایف کے سربراہ نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر نے ایم ایس ایف کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیااس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ہسپتال میں ادویات کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور دستیاب ادویات کی مکمل تفصیل نمایاں طور پر بورڈ پر درج کی جائے تاکہ مریضوں کو بروقت آگاہی حاصل ہو سکے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ادویات کی دستیابی کے حوالے سے پینافلیکس بھی آویزاں کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے بی ایس ڈی آئی کے تحت زیرِ تعمیر ڈیجیٹل مردہ خانہ کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ منصوبے کو قبل از وقت مکمل کیا جائےاس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے ہسپتال کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا جن میں ہسپتال اور رہائشی بنگلوں کی مرمت اور بیچلر ہاسٹل کی تعمیر شامل ہیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے جامع اور واضح تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی,
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6014/2026
نصیرآباد: 8جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل سے ڈیرہ مراد جمالی میں واقع گرودوارہ کے نمائندہ وفد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی وفد نے ڈپٹی کمشنر کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناوں کا اظہار کیا.ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بھائی چارے کو مزید مستحکم بنانا، اور ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر سے بہتر بنانے جیسے اہم نکات شامل تھے وفد نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا اور اپنے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائیاس موقع پر ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام شہریوں کو بلاامتیاز بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع میں مذہبی رواداری، ہم آہنگی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ایک پرامن اور مثالی معاشرے کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اقلیتی برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6015/2026
جعفرآباد:8جولائی ۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے نیو بس اڈے کے زیرِ تعمیر منصوبے کا دورہ کرکے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک نے انہیں منصوبے کی پیش رفت، تعمیراتی معیار اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو پی سی ون کے مقررہ معیار کے مطابق اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیو بس اڈہ عوامی فلاح و بہبود کا ایک اہم منصوبہ ہے جس سے نہ صرف جعفرآباد کے شہری بلکہ دیگر اضلاع اور علاقوں سے آنے والے مسافر بھی بہتر سفری سہولیات سے مستفید ہوں گے، اس لیے تعمیراتی کام کے معیار اور رفتار پر خصوصی توجہ دی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6016/2026
گوادر: 8جولائی ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ نے مونڈی میں قائم غیر قانونی تجاوزات اور قبضوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے فیلڈ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فشرمین کالونی کی جاری ڈیمارکیشن کے عمل کا بھی معائنہ کیا۔دورے کے دوران نائب تحصیلدار حاجی جاوید، پولیس، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) اور محکمہ ریونیو کے متعلقہ افسران و اہلکار بھی موجود تھے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مونڈی میں قائم تمام غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کا بلاامتیاز خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فشرمین کالونی اور بلوچستان ایمپلائز کالونی کی سرکاری اراضی کو ناجائز قبضوں سے واگزار کرانے کے لیے کارروائی تیز کی جائے تاکہ اصل الاٹیز کے حقوق کا تحفظ اور سرکاری اراضی کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گی اور اس ضمن میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6017/2026
نصیرآباد:8جولائی ۔چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے ایریگیشن آفس نصیرآباد کا دورہ کیا، جہاں سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے انہیں پٹ فیڈر کینال، کیرتھر کینال اور زرعی پانی کی فراہمی سے متعلق درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی، سب ڈویژنل آفیسران امان اللہ گاجانی، محمد امین عمرانی، محمد سلیم بہرانی، مراد بخش مری، سید امجد شاہ، ڈپٹی کلکٹر شاہنواز علی، سب انجینئر وسیم احمد بہرانی، بابو غلام قادر کھوکھر، ہیڈ کلرک نثار احمد چھلگری سمیت دیگر افسران اور عملہ بھی موجود تھا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے کہا کہ بلوچستان کے نہری نظام میں پانی کی شدید قلت کے باعث محکمہ ایریگیشن اور کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم سندھ سے بلوچستان کے حصے کا پانی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیرتھر کینال میں اس وقت نصف سے بھی کم پانی فراہم ہو رہا ہے، جبکہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ سندھ کے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ بلوچستان کے کاشتکاروں کو ان کے حصے کا زرعی پانی بروقت اور یقینی طور پر فراہم کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6018/2026
نصیرآباد: کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے نصیرآباد ڈوی ژ ن کے کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں اہم اقدامات کرتے ہوئے پٹ فیڈر کینال میں زرعی پانی کی قلت اور بلوچستان کے حصے کے پانی کی فراہمی کے مسئلے پر کمشنر سکھر ڈویژن اور کمشنر لاڑکانہ ڈویژن سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بلوچستان کی نہروں کو مقررہ حصے کے مطابق پانی کی فراہمی کی ضرورت سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں پٹ فیڈر کینال میں فوری طور پر 300 کیوسک پانی کا اضافہ کر دیا گیا، جبکہ بلوچستان کے مزید حصے کے پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔کمشنر صلاح الدین نورزئی نے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے کمشنرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بین الصوبائی رابطوں اور باہمی تعاون سے بلوچستان کے کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کے حل میں مدد مل رہی ہے اور زرعی پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6019/2026
قلا 8جولائی ۔ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ ومحکمہ صحت کے افسران نےلشمانیاس کی وبائ کو چیلنج سمجھ کراقدامات تیزکردیے ہیں ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کےطبی ماہرین نےضلع قلات میں لیشمانیاسس کی وباءکے روک تھام کیلئےمربوط حکمت عملی پرکام شروع کردیاہےایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال قلات ڈاکٹر نصر اللہ لانگو نے ڈاکٹر بدرانصاری ڈائریکٹر ملیریا VBD حکومت بلوچستان کے تعاون سے اس بیماری کےپھیلاو کو کنٹرول کرنے کے لیے متااثرہ مریضوں کوعالمی معیار کے گلوکین ٹاِئم انجکشن فراہم کئے وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورچیف سیکرٹری شکیل قادرخان بلوچستان کے دوردرازعلاقوں میں صحت عامہ کے سہولیات فراہمی کے وژن پرعملدرآمدشروع کردیایےڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال قلات میں قائم لیشمانیاس سنٹرمیں زیرعلاج 11مریضوں کاGlucantime انجیکشن سے علاج کیا گیاڈپٹی کمشنر قلات منیراحمد درانی نے محکمہ صحت کے طبی ماہرین کو سختی سےہدایات جاری کی۔ہیں کہ لشمانیاس کی وبا پر قابو پانے کے لیے فعال اندازاختیارکیاجائےاور متاثرہ مریضوں کے بروقت علاج کو یقینی بنایاجائے روزانہ کی بنیاد پر ضلعی انتظامیہ کو وباء کی روک تھام کیلئےصورتحال سے آگاہ رکھاجائےاس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی ڈی سی قلات منیراحمد درانی کا کہنا ہیکہ لشمانیس کی وباء ترقی پزیرممالک میں صحت عامہ کے شعبے میں چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے بلوچستان کےدوردرازپہاڑی علاقوں میں ریائش پزیرکمیونٹی تعلیمی پسماندگی اورآگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ابتداءمرحلے میں اس مہلک مرض کی اثرات سے ناواقف ہوتے ہیں تاہم گلوکین ٹائم انجکشن کی بروقت فراہمی سے اس بیماری کی روک تھام ممکن ہوتی ہےوزیراعلی بلوچستان کی ہدایات پر گلوکین ٹاِئم انجکشن کی دستیابی ممکن بنادی گءہےجوبلوچستان کے دوردرازعلاقوں میں صحت عامہ کے شعبے کے حوالے سےاہم پیشرفت تصورکیجارہی یےواضح رہے کہ بلوچستان کے سردعلاقوں میں پھیلنے والی اس وبائ کی بنیادی وجویات کا جاننے کیلئےمزید تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6020/2026
لورالائی، 8 جولائی ۔ کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایت پر مون سون بارشوں کے پیشِ نظر میونسپل کمیٹی لورالائی نے ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے جامع ایمرجنسی پلان تشکیل دے دیا ہے۔اس سلسلے میں چیئرمین میونسپل کمیٹی لورالائی طاہر خان ناصر کی زیر صدارت چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ، چیف سینیٹری انسپکٹر نقیب اللہ موسیٰ خیل اور تمام سپروائزرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مون سون سیزن کے دوران شہریوں کو بہترین بلدیاتی سہولیات کی فراہمی اور نکاسی آب کے موثر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی محب اللہ خان بلوچ نے کہا کہ کمشنر لورالائی ڈویژن کی ہدایات کی روشنی میں میونسپل کمیٹی کا تمام عملہ ہائی الرٹ رہے گا اور مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں میونسپل کمیٹی کی تمام مشینری کو مکمل طور پر فعال رکھنے ایمرجنسی ڈیوٹی روسٹر مرتب کرنے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے امدادی و صفائی کی سرگرمیوں کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام سپروائزرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے زونز میں چوکنگ پوائنٹس، برساتی نالوں، نالیوں اور دیگر نکاسی آب کے نظام کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے صفائی کے عمل کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ بارش کے پانی کی روانی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔اجلاس کو بتایا گیا کہ میونسپل کمیٹی لورالائی کو جدید سکشن یونٹ بھی آئندہ چند روز میں دستیاب ہو جائے گا، جسے مون سون سیزن کے دوران نکاسی آب کے عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔دریں اثنا، میونسپل کمیٹی لورالائی نے شہریوں کی آگاہی کے لیے واضح کیا ہے کہ جو علاقے میونسپل کمیٹی کی حدودِ اختیار میں شامل نہیں ہیں، وہاں کے مکین نکاسی آب اور دیگر بلدیاتی امور کے سلسلے میں اپنے متعلقہ یونین کونسل سیکرٹری کے دفتر سے رابطہ کریں۔ ان علاقوں میں اریاگی، واپڈا گریڈ، بخمہ محلہ، خان صدیق گلی، اصغر لون، بہادر ہسپتال، کٹوی کیمپ، بخاری اسکیم، پٹھان کوٹ، باور، ناصر آباد اور دیگر ملحقہ علاقے شامل ہیں۔میونسپل کمیٹی لورالائی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مون سون کے دوران صفائی ستھرائی برقرار رکھنے، نالیوں اور برساتی گزرگاہوں میں کچرا پھینکنے سے اجتناب کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا نکاسی آب سے متعلق مسئلے کی فوری اطلاع متعلقہ عملے کو دے کر انتظامیہ سے تعاون کریں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6021/2026
نصیرآباد: 8جولائی ۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل کی زیر صدارت ضلع میں پولیو مہم کے حوالے سے ماہوار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کیاجلاس کے دوران ضلع بھر میں حالیہ پولیو مہم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا متعلقہ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مہم کے دوران ٹیموں کی فیلڈ کارکردگی، بچوں کی کوریج، مسڈ کیسز، ہائی رسک یونین کونسلز اور درپیش چیلنجز پر خصوصی توجہ دی گئی اس موقع پر ٹیموں کو درپیش مسائل، سیکیورٹی صورتحال، والدین کے تعاون، آگاہی مہم اور محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے انسدادی اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ پولیو مہمات کو مزید موثر، منظم اور کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں انہوں نے زور دیا کہ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، مائیکرو پلاننگ کو موثر بنانے، ہائی رسک علاقوں پر خصوصی توجہ دینے اور کسی بھی بچے کے رہ جانے کی صورت میں فوری فالو اپ یقینی بنایا جائے انہوں نے مزید کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے والدین میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم کو مزید تیز کیا جائے تاکہ ہر بچے کو بروقت حفاظتی قطرے پلائے جا سکیں اور ضلع کو پولیو فری بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6022/2026
گوادر: 8جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت بلوچستان رائز (RAISE) پروگرام کے تحت جوائنٹ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کی سالانہ کارکردگی، اہداف، مالی معاونت، کاروباری مواقع اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل شے مختار، راہیز پروگرام کے ڈسٹرکٹ منیجر زبیر ہوت، متعلقہ محکموں کے افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ منیجر راہیز پروگرام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان کے فنڈنگ سے بلوچستان رائز پروگرام، بی آر ایس پی (BRSP) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں، خواتین اور مقامی کاروباری افراد کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرکے روزگار کے مواقع میں اضافہ، غربت میں کمی اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے دو بنیادی اجزا ہیں۔ پہلے جز میں سماجی ترقی، کمیونٹی کی استعدادکار میں اضافہ اور دیگر سماجی سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ دوسرے جز میں انٹرپرائز ڈویلپمنٹ کے تحت کاروباری افراد کو گرانٹس، مالی معاونت، قرضوں اور کاروباری رہنمائی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر میں ہر سال مختلف کاروباری منصوبوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جن کے لیے پانچ لاکھ روپے سے لے کر دو کروڑ روپے تک کی گرانٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح تجربہ کار کاروباری افراد کو آسان شرائط پر قرضے بھی دیے جاتے ہیں، جبکہ دو کروڑ روپے تک کی مالی معاونت کے لیے SECP میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس وقت ضلع میں 30 کاروباری منصوبوں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے بریفنگ کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ گوادر جیسے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ضلع میں صرف 30 کاروباری منصوبے کافی نہیں، بلکہ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ نوجوانوں، خواتین اور ہنر مند افراد کو اس سے مستفید کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو۔انہوں نے ہدایت کی کہ پروگرام کے تحت میرٹ، شفافیت اور موثر آگاہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق اور باصلاحیت افراد حکومتی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ گوادر کے نوجوانوں کو کاروباری مواقع، ہنر مندی اور خود روزگار کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف بھی حاصل ہوں گے۔ڈپٹی کمشنر نے خواتین کی معاشی خودمختاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کشیدہ کاری، فشریز، کھجور (ڈیٹس) پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، زراعت اور دیگر مقامی صنعتوں سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں خصوصی توجہ دی جائے تاکہ خواتین اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر راہیز پروگرام کے حکام نے مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت، مالی معاونت، کاروباری سرگرمیوں اور آئندہ اہداف سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار بھی شرکاء کے ساتھ شیئر کیے، جبکہ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ حکومتِ بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے مطابق ایسے تمام پروگراموں کی موثر نگرانی جاری رکھے گی تاکہ گوادر کے نوجوان، خواتین اور کاروباری طبقہ زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے اور ضلع کی معاشی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6023/2026
کوئٹہ8جولائی ۔ نظامت ایگری کلچر ریسرچ کے ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان سروس ٹرائبیونل کے فیصلے کی روشنی میں جمعہ خان ترین ( BPS-20) نے بطور ڈائریکٹر جنرل ایگری کلچر ریسرچ بلوچستان دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر6024/2026
کوئٹہ 8 جولائی ۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہدیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کیلئے ہمیں ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات و مواقعوں تک یکساں رسائی فراہم کر سکے۔ واضح وژن اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے بغیر دیہاتوں اور بڑے شہروں کے درمیان فاصلے بڑھتے جائیں گے اور مساوی ترقی کا خواب ادھورا رہ جائیگا۔ اس سلسلے میں تمام پالیسی میکرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کا کردار بہت اہم ہے۔ ہم ان پائے جاتے والے فاصلوں کو مٹانے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ تعلیم قسم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ تعلیم صرف ذاتی فائدہ نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ انفراسٹرکچر کسی بھی متوازن ترقیاتی منصوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قومی شاہراہیں تعمیر کر کے ہم دیہی علاقوں کے عوام کو بڑی معاشی و تجارتی منڈیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔ یہ کسانوں اور تاجروں کو نئے مواقع تک رسائی، لاگت کو کم کرنے اور ہمارے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے قابل بنائیگا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ مساوی ترقی صرف ایک خواب نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشی اور سماجی ضرورت ہے۔ جب ہم دیہی علاقوں کو اٹھاتے ہیں تو پورے صوبے کو اٹھاتے ہیں۔ جب ہم تعلیم میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ہم ترقی کی نئی راہیں کھولتے ہیں، ہم مل کر آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ہمیں مفاد خلق کو تمام پالیسیوں اور منصوبوں کا محور و مرکز بنانا ہوگا اور اسی میں یہ ہمارے مشترکہ اور کامیاب مستقبل کی کلید ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر6025/2026
کوئٹہ 8 جولائی:۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کیلئے ہمیں ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات و مواقعوں تک یکساں رسائی فراہم کر سکے۔ واضح وژن اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے بغیر دیہاتوں اور بڑے شہروں کے درمیان فاصلے بڑھتے جائیں گے اور مساوی ترقی کا خواب ادھورا رہ جائیگا۔ اس سلسلے میں تمام پالیسی میکرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کا کردار بہت اہم ہے۔ ہم ان پائے جاتے والے فاصلوں کو مٹانے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ تعلیم قسم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ تعلیم صرف ذاتی فائدہ نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ انفراسٹرکچر کسی بھی متوازن ترقیاتی منصوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قومی شاہراہیں تعمیر کر کے ہم دیہی علاقوں کے عوام کو بڑی معاشی و تجارتی منڈیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔ یہ کسانوں اور تاجروں کو نئے مواقع تک رسائی، لاگت کو کم کرنے اور ہمارے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے قابل بنائیگا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ مساوی ترقی صرف ایک خواب نہیں ہے بلکہ یہ ایک معاشی اور سماجی ضرورت ہے۔ جب ہم دیہی علاقوں کو اٹھاتے ہیں تو پورے صوبے کو اٹھاتے ہیں۔ جب ہم تعلیم میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ہم ترقی کی نئی راہیں کھولتے ہیں، ہم مل کر آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ہمیں مفاد خلق کو تمام پالیسیوں اور منصوبوں کا محور و مرکز بنانا ہوگا اور اسی میں یہ ہمارے مشترکہ اور کامیاب مستقبل کی کلید ہے۔
خبر نامہ نمبر6026/2026
گوادر8جولائی:۔ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، دستیابی، معیار، صفائی کی صورتحال اور پرائس کنٹرول اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور مارکیٹ میں سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل جان نعیم، اسسٹنٹ کمشنر طارق امام بلوچ، ڈی ایس پی پولیس چاکر بلوچ، تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ، نائب تحصیلدار پسنی عبدالرحمن، انجمن تاجران، سول سوسائٹی، انڈسٹری، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ شہریوں کا معاشی استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ناجائز منافع خوری، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام دکاندار نمایاں مقام پر سرکاری نرخنامے آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں پر اشیائے ضروریہ فروخت کرنا ہر صورت یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں، مقدمات کے اندراج اور دیگر قانونی کارروائی سمیت زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں عوامی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ محکموں کی مشترکہ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر ضلع بھر کی مارکیٹوں، بازاروں اور تجارتی مراکز میں خصوصی کریک ڈاؤن اور معائنہ مہم جاری رکھیں گی تاکہ صارفین کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں چکن، مٹن، بیف، دودھ، آٹا، چینی، کوکنگ آئل، گروسری، سبزیوں، پھلوں، مچھلی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ سرویلنس کو مزید مؤثر بنایا جائے اور قومی و سرکاری نرخوں کے مطابق قیمتوں کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک آفیسر سے گوشت اور دودھ کی قیمتوں اور معیار کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں، جبکہ محکمہ زراعت کے افسر سے سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی، قیمتوں اور مارکیٹ کی صورتحال پر بریفنگ لی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جانوروں کے ذبح کے لیے ویٹرنری ڈاکٹر کا صحت کا سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا اور اس سلسلے میں خصوصی انسپیکشن مہم چلائی جائے گی تاکہ شہریوں کو معیاری اور صحت بخش گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں ٹرانسپورٹ کرایوں، بنیادی اشیائے خورونوش کی بلا تعطل فراہمی، مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی روک تھام اور مختلف تحصیلوں میں یکساں اور منصفانہ پرائس میکانزم پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ گوادر کے ساتھ ساتھ جیوانی، پسنی اور اورماڑہ میں بھی مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری نرخنامے جاری کیے جائیں گے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں صفائی، خوراک کے معیار اور حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کی باقاعدہ جانچ کی جائے۔ جو ریسٹورنٹس یا فوڈ پوائنٹس مقررہ اصولوں اور حفظانِ صحت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مفاد کے تحفظ، شفاف مارکیٹ نظام، مناسب قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مافیا، ناجائز منافع خور یا عوام کا استحصال کرنے والے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی تاکہ ضلع گوادر میں منصفانہ، شفاف اور عوام دوست تجارتی ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر6027/2026
گوادر8جولائی:۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت بلوچستان رائز (RAISE) پروگرام کے تحت جوائنٹ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کی سالانہ کارکردگی، اہداف، مالی معاونت، کاروباری مواقع اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل شے مختار، راہیز پروگرام کے ڈسٹرکٹ منیجر زبیر ہوت، متعلقہ محکموں کے افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ منیجر راہیز پروگرام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان کے فنڈنگ سے بلوچستان رائز پروگرام، بی آر ایس پی (BRSP) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں، خواتین اور مقامی کاروباری افراد کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرکے روزگار کے مواقع میں اضافہ، غربت میں کمی اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے دو بنیادی اجزا ہیں۔ پہلے جز میں سماجی ترقی، کمیونٹی کی استعدادکار میں اضافہ اور دیگر سماجی سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ دوسرے جز میں انٹرپرائز ڈویلپمنٹ کے تحت کاروباری افراد کو گرانٹس، مالی معاونت، قرضوں اور کاروباری رہنمائی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر میں ہر سال مختلف کاروباری منصوبوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جن کے لیے پانچ لاکھ روپے سے لے کر دو کروڑ روپے تک کی گرانٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح تجربہ کار کاروباری افراد کو آسان شرائط پر قرضے بھی دیے جاتے ہیں، جبکہ دو کروڑ روپے تک کی مالی معاونت کے لیے SECP میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس وقت ضلع میں 30 کاروباری منصوبوں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے بریفنگ کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ گوادر جیسے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ضلع میں صرف 30 کاروباری منصوبے کافی نہیں، بلکہ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ نوجوانوں، خواتین اور ہنر مند افراد کو اس سے مستفید کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو۔انہوں نے ہدایت کی کہ پروگرام کے تحت میرٹ، شفافیت اور مؤثر آگاہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستحق اور باصلاحیت افراد حکومتی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ گوادر کے نوجوانوں کو کاروباری مواقع، ہنر مندی اور خود روزگار کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف بھی حاصل ہوں گے۔ڈپٹی کمشنر نے خواتین کی معاشی خودمختاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کشیدہ کاری، فشریز، کھجور (ڈیٹس) پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، زراعت اور دیگر مقامی صنعتوں سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ خواتین اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر راہیز پروگرام کے حکام نے مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت، مالی معاونت، کاروباری سرگرمیوں اور آئندہ اہداف سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار بھی شرکاء کے ساتھ شیئر کیے، جبکہ ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ حکومتِ بلوچستان کے ترقیاتی وژن کے مطابق ایسے تمام پروگراموں کی مؤثر نگرانی جاری رکھے گی تاکہ گوادر کے نوجوان، خواتین اور کاروباری طبقہ زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے اور ضلع کی معاشی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔

خبر نامہ نمبر6028/2026
گوادر8جولائی:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام کو دہلیز پر معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے وژن پر عملدرآمد کے سلسلے میں پی پی ایچ آئی گوادر کی جانب سے بنیادی مراکز صحت کی نگرانی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مرکز صحت (BHU) گنز اور بنیادی مرکز صحت (BHU) پیشکان کا تفصیلی مانیٹرنگ دورہ کیا، جہاں انہوں نے طبی خدمات کی فراہمی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، زچہ و بچہ صحت (MNCH) مراکز، توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے مراکز، ویکسین کی دستیابی اور کولڈ چین کے انتظامات، ادویات کے سرکاری ذخیرے اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی معائنہ کیا۔انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو معیاری، بروقت اور بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ادویات کا ریکارڈ مکمل رکھا جائے، حفاظتی ٹیکہ جات کی دستیابی برقرار رکھی جائے اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق خدمات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور حکومت بلوچستان کی صحت عامہ سے متعلق پالیسی کے مطابق بنیادی مراکز صحت کی مسلسل نگرانی، طبی عملے کی کارکردگی کا جائزہ اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع گوادر کے تمام بنیادی مراکز صحت میں خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور عوام کو مؤثر، شفاف اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مانیٹرنگ کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر6029/2026
گوادر8 جولائی:۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات پر جی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے فشرمین کالونی کی سرکاری اراضی کی حد بندی (Demarcation) کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ڈیمارکیشن کا عمل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ کی نگرانی میں ریونیو اسٹاف، نائب تحصیلدار حاجی جاوید، جبکہ جی ڈی اے کی جانب سے ایگزیکٹو انجینئر غلام محمد، جی ڈی اے سروے ٹیم اور انفورسمنٹ عملے کی موجودگی میں شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود رہی تاکہ حد بندی کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل کیا جا سکے۔موضع مونڈی میں واقع 200 ایکڑ اراضی پر مشتمل جی ڈی اے کے فشرمین کالونی کی سرکاری اراضی کے تعین کے لیے مختلف مقامات پر بینچ مارکس (Bench Marks) نصب کیے گئے اور سروے کے مطابق اراضی کی نشاندہی کا عمل شروع کیا گیا۔مشترکہ ٹیم نے حد بندی کے دوران سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات اور قبضوں کا بھی جائزہ لیا اور قابضین کو تنبیہ کی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر ازخود سرکاری اراضی خالی کر دیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن عمل میں لایا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ قابضین پر عائد ہوگی۔جی ڈی اے انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوادر شہر میں سرکاری اراضی کا تحفظ، ماسٹر پلان پر مؤثر عملدرآمد اور غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق، شفاف اور بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
خبر نامہ نمبر6030/2026
تربت8 جولائی:۔ میئر بلخ شیر قاضی میونسپل کارپوریشن تربت نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوشقلات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے میونسپل کارپوریشن کے زیر اہتمام جاری مرمتی کاموں اور اسکول کی سولرائزیشن کے منصوبے کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر میونسپل کارپوریشن کے انجینئرز بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جنہوں نے منصوبوں کی پیش رفت اور تکنیکی امور سے متعلق بریفنگ دی۔میئر بلخ شیر قاضی نے مرمتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ انجینئرز اور عملے کو ہدایت کی کہ تمام تعمیراتی سرگرمیاں اعلیٰ معیار کے مطابق مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں تاکہ طالبات کو جلد از جلد محفوظ، بہتر اور سازگار تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔انہوں نے کہا کہ اسکول میں طالبات اور تدریسی عملے کو بجلی کی غیر یقینی صورتحال اور شدید گرمی کے باعث پیش آنے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اسکول کے بجلی کے نظام کو مکمل طور پر سولر سسٹم پر منتقل کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت سولر پینلز، انورٹرز اور دیگر ضروری آلات کی خریداری اور تنصیب عمل میں لائی جائے گی۔میئر بلخ شیر قاضی نے کہا کہ تربت میں سال کے بیشتر مہینوں کے دوران شدید گرمی رہتی ہے، اس لیے طالبات اور تدریسی عملے کو بہتر تعلیمی ماحول اور گرمی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسکول کی سولرائزیشن کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے اور میونسپل کارپوریشن تربت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔میئر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مرمتی کام میں معیاری تعمیراتی سامان استعمال کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔دورے کے اختتام پر میونسپل کارپوریشن کے انجینئرز نے میئر کو یقین دلایا کہ مرمتی کام اور سولرائزیشن منصوبہ مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ طالبات کو جدید اور بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/6031
کوئٹہ8 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خضدار میں ممتاز قبائلی رہنماء اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ ہولڈر میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی بزدلانہ اور ناقابلِ برداشت کارروائی قرار دیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن دشمن عناصر بلوچستان کے امن، استحکام اور عوامی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم رکھتے ہیں، تاہم حکومت، عوام اور سیکیورٹی اداروں کے غیرمتزلزل عزم کے سامنے دہشت گرد اپنے ناپاک مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میر شفیق الرحمان مینگل نے جس بہادری، جرات اور ثابت قدمی کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے اور دہشت گردوں کے سامنے نہ جھکنے کے قومی عزم، حوصلے اور جرات کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دلیر اور محب وطن افراد دہشت گردی کے خلاف قوم کے حوصلے کو مزید مضبوط کرتے ہیں وزیراعلیٰ نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی میں ملوث کسی بھی فرد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، قبائلی عمائدین، سیاسی قیادت اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور اسی قومی اتحاد کی بدولت امن دشمن عناصر کے تمام مذموم عزائم ہر قیمت پر ناکام بنائے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ، ریاست کی رٹ کے قیام اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گی.
خبر نامہ نمبر 2026/6032
گوادر 8جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کی ٹیم نے اورماڑہ ٹاؤن کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز کا تفصیلی دورہ کیا۔
دورے کے دوران ٹیم نے اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخناموں کے مطابق فروخت، معیار، دستیابی، صفائی کی صورتحال اور مجموعی مارکیٹ نظم و ضبط کا تفصیلی جائزہ لیا۔ مختلف دکانوں، کریانہ اسٹورز، سبزی و فروٹ شاپس، قصاب خانوں اور دیگر کاروباری مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے سرکاری نرخناموں کی نمایاں آویزاں ہونے کی بھی جانچ کی گئی۔
تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخناموں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنائیں، معیاری اشیائے خوردونوش مناسب قیمتوں پر فروخت کریں اور صارفین کے ساتھ خوش اخلاقی اور دیانت داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناجائز منافع خوری، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، ناقص و غیر معیاری اشیاء کی فروخت اور سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو معیاری اور ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور منصفانہ تجارتی ماحول کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ اسی سلسلے میں ضلع بھر میں پرائس کنٹرول اور مارکیٹ مانیٹرنگ کی کارروائیاں باقاعدگی سے جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *