7th-July-2026

خبرنامہ نمبر5960/2026
زیارت ، 7 جولائی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی دہشت گردی کے حالیہ واقعے کے بعد مانگی ڈیم اور زیارت کے متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے، شہداء کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت، زخمیوں کی عیادت اور سیکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے بغیر بلٹ پروف عام گاڑی میں بذریعہ سڑک زیارت پہنچ گئے وزیراعلیٰ بلوچستان کو آئی جی پولیس نے زیارت میں مانگی ڈیم واقعہ اور مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، اراکین صوبائی اسمبلی سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام اور مقامی انتظامی افسران نے شرکت کی آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے مانگی ڈیم واقعہ، دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن، سیکیورٹی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جاری آپریشن کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے، ریاست دشمن عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا کوئی موقع نہ دیا جائے اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں مزید موثر، تیز اور فیصلہ کن انداز میں جاری رکھیں زیارت روانگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی بھی صورت عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کوئی بلوچستانی مشکل، مصیبت یا دہشت گردی کا شکار ہوگا، وہ خود وہاں پہنچیں گے کیونکہ عوام کے دکھ درد میں شریک ہونا صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور ریاستی ذمہ داری بھی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالات یقیناً چیلنجنگ ہیں، لیکن حکومت کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ زیارت صرف ایک سرکاری دورے پر نہیں بلکہ شہداءکے اہلخانہ کے غم میں شریک ہونے، زخمیوں کی دلجوئی کرنے اور اپنی پولیس، لیویز، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ حکومت ہر محاذ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کو مسترد کر دیا ہے اور آج پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے زیارت میں جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر سپوتوں نے آخری سانس تک بے مثال جرات، استقامت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے شہداءپیکیج کو مزید بہتر بنایا ہے اور شہداء کے بچوں کی تعلیم، کفالت، فلاح و بہبود اور روشن مستقبل کی مکمل ذمہ داری ریاست اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے بچوں کو یہ احساس نہیں ہونے دیا جائے گا کہ وہ ریاست کی سرپرستی سے محروم ہیں اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب ان کے جوان وسائل کی محدود دستیابی کے باوجود بلٹ پروف گاڑیوں کے بغیر دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہیں تو ان کا ضمیر انہیں بلٹ پروف گاڑی میں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسی یقین کے ساتھ بغیر بلٹ پروف گاڑی کے آپریشنل علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اپنے جوانوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ وہ ان کی قربانیوں، مشکلات اور جنگ میں برابر کے شریک ہیں وزیراعلیٰ نے سیاسی قیادت، سماجی طبقات اور عوام سے اپیل کی کہ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں پر سیاست کرنے کے بجائے قومی اتحاد کا مظاہرہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت یا سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے زیارت میں امن و امان سے متعلق منعقدہ بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور ان کے تمام سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زرغون، مانگی ڈیم اور دیگر حساس علاقوں میں جاری آپریشن کو مزید موثر بنایا جائے، ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم رکھی جائے اور دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا کوئی موقع نہ دیا جائے وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان حکومت، بلوچستان پولیس، لیویز، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام تک اپنی کارروائیاں پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5961/2026
کوئٹہ 7 جولائی۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع موسیٰ خیل میں واقع زمری۔پلاسین روڈ ایک نہایت اہم بین الصوبائی شاہراہ ہے لہٰذا اس منصوبے پر تعمیراتی کام ہر صورت آئندہ دس روز کے اندر دوبارہ شروع کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے زمری۔پلاسین روڈ منصوبے کے حوالے سےمنعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان ایس ای موسیٰ خیل سرکل عبدالرازق مندوخیل ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع موسیٰ خیل جانداد ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی کنسلٹنٹس کنٹریکٹرز اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کو منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت تکنیکی مسائل فنڈز کی فراہمی تعمیراتی رکاوٹوں اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی بریفنگ کے بعد صوبائی وزیر نے منصوبے پر انتہائی سست رفتار پیش رفت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے لیے حکومت کی جانب سے فنڈز پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں اس کے باوجود کام کا تعطل اور سست روی کسی صورت قابل قبول نہیں میر سلیم احمد کھوسہ نے متعلقہ کنٹریکٹر کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ آئندہ دس دن کے اندر تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے جبکہ متعلقہ ایگزیکٹوانجینئر کو منصوبے کی روزانہ کی بنیاد پر مو¿ثر نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دس روز بعد سیکریٹری مواصلات و تعمیرات کے دفتر میں پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائی جائےانہوں نے کہا کہ زمری۔پلاسین روڈ نہ صرف ضلع موسیٰ خیل بلکہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے درمیان آمدورفت تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے ایک اہم شاہراہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس منصوبے میں مزید تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گیصوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دے رہی ہے ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر غفلت یا ناقص کارکردگی کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر کسی قسم کی سستی یا نااہلی برداشت نہیں کی جائے گی اور صوبے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5962/2026
گوادر، 7 جولائی۔رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شاہد علی، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ عبدالرزاق اور دیگر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران گوادر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں، ان کو درپیش چیلنجز، فنڈز کی دستیابی اور فشرمین کالونی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے بتایا کہ جی ڈی اے اولڈ ٹاون بحالی منصوبے کے تحت متعدد ترقیاتی اسکیموں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں پرانی عیدگاہ کے اطراف گلیوں کی بلیک ٹاپنگ مکمل کی گئی ہے، جبکہ ماڈل محلہ منصوبے پر جلد کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سربندر فشنگ جیٹی مول سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے ٹینڈرنگ کے مراحل میں ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ میرین ڈرائیو کازوے، آئی سی ٹی بلڈنگ اور دیگر اہم منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ کازوے منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم بعض ترقیاتی منصوبوں کے لیے رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں فنڈز مختص نہ ہونے کے باعث ان کی بروقت تکمیل کو چیلنجز درپیش ہیں۔اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمٰن نے یقین دہانی کرائی کہ وہ جی ڈی اے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کے حصول کی خاطر صوبائی اور وفاقی حکومت سے بھرپور رابطے کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ان کی وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال سے بات چیت ہو چکی ہے اور جلد ہی ان سے ایک اہم ملاقات بھی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ترقیاتی منصوبوں پر کام بلا تعطل جاری رکھے، فنڈز کے اجراء کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔اجلاس میں ماڈل محلہ میں سیوریج لائنوں کی تنصیب اور ٹی ٹی سی کالونی میں ڈرینج سسٹم کی بہتری سے متعلق تجاویز بھی زیر غور آئیں، جن پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے مثبت پیش رفت اور عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔مزید برآں، گوادر، سربندر اور پشکان کے بنیادی مراکز صحت (BHUs) کی مرمت، بحالی اور وہاں دستیاب سہولیات میں بہتری لانے کے لیے بھی مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں فشرمین کالونی کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی قابضین سے اراضی واگزار کرانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے جلد مشترکہ آپریشن شروع کیا جائے گا۔ اراضی واگزاری کے بعد پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا تاکہ مستحقین کو ان کے حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5963/2026
کوئٹہ 7 جولائی ۔ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بابر خان کی زیرِ صدارت ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع کچھی بولان ضلع سبی ضلع نصیر آباد ضلع جعفرآباد اور ضلع صحبت پور میں محکمہ کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں چیف انجینئر سبی زون زبیر احمد کھوسہ چیف انجینئر نصیر آباد زون محمد بشیر ناصر ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پی اینڈ ڈی کے حکام اور متعلقہ ایگزیکٹو انجینئرز نے شرکت کی اجلاس کے دوران ان اضل میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تحت مختلف سڑکوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا متعلقہ حکام نے منصوبوں کی فزیبلٹی تخمینہ لاگت تکنیکی پہلووں اور مجوزہ مدتِ تکمیل کے حوالے سے جامع بریفنگ دی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ڈپارٹمنٹل سب کمیٹی نے مختلف نئے روڈ انفراسٹرکچر منصوبوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق متعدد اسکیموں کی منظوری کی سفارش کی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منظور شدہ منصوبوں پر جلد از جلد عملی کام کے آغاز کے لیے تمام قانونی انتظامی اور تکنیکی تقاضے بروقت مکمل کیے جائیں گے اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی.۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5964/2026
جعفرآباد 7جولائی ۔: سیکریٹری ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس بلوچستان سید ظفر علی شاہ بخاری کی خصوصی ہدایات اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس ساوتھ زون محمد زمان کی نگرانی میں ڈاٹریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ اینٹی نارکوٹکس آفیسر ضلع جعفرآباد کی ٹیم نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر زیرو پوائنٹ، کوئٹہ روڈ، ڈیرہ اللہ یار کے قریب کامیاب کارروائی کی۔کارروائی کے دوران 6 کلو گرام چرس برآمد کر لی گئی، جبکہ منشیات کی ترسیل میں استعمال ہونے والی ایک موٹر سائیکل بھی قبضے میں لے لی گئی۔متعلقہ حکام نے واقعہ کا مقدمہ ایف ائی ار FIR درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ڈاٹریکٹر جنرل ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی نارکوٹکس حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے میں منشیات کے خاتمے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں-
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5965/2026
کوئٹہ 7جولائی ۔ ا نٹرنیشنل اوورسیز اکنامک کوریڈور کے ڈائریکٹر جنرل، سیاسی، قبائلی و سماجی رہنما میر عثمان گورگیج نے ہنہ اوڑک اور زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس افسران، اہلکاروں اور شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں میر عثمان گورگیج نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، تاہم قوم کے اتحاد، سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور عوام کے تعاون سے ان کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا چاہتی ہیں، لیکن محب وطن پاکستانی ایسی ہر سازش کو یکجہتی اور قومی اتحاد سے ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنی پولیس، پاک افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد میں ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔میر عثمان گورگیج نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک علاقے یا قوم کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی، عوامی تعاون اور ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ شہدائ کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی اور ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5966/2026
کوئٹہ، 7 جولائی ۔ ڈی آئی جی اسپیشل برانچ، طاہر علاوالدین کاسی نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری، اشفاق احمد کے ہمراہ بلوچستان کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر بدر لائن کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہیں ہیڈ کوارٹر کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرایا گیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات، انتظامی امور اور پیشہ ورانہ استعداد کا جائزہ لیاگیا۔ دورے کے موقع پر افسران نے بلوچستان کانسٹیبلری کی بیرکس، ڈسپنسری اور ڈاگ سینٹر کا خصوصی معائنہ کیا۔ اس دوران متعلقہ افسران نے انہیں مختلف شعبوں کی کارکردگی، دستیاب سہولیات، انتظامی اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر اےڈیشنل آئی جی کمانڈنٹ بلوچستان پولیس کانسٹیبلری اشفاق احمد نے بیرکس میں رہائشی سہولیات، صفائی ستھرائی، نظم و ضبط اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈسپنسری کے دورے کے دوران طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور اہلکاروں کو بروقت اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔بعد ازاں وفد نے بلوچستان کانسٹیبلری کے ڈاگ سینٹر کا دورہ کیا جہاں تربیت یافتہ کتوں کی استعداد، تربیتی نظام اور آپریشنل تیاریوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نے ڈاگ سینٹر کے عملے کے پیشہ ورانہ تربیت کے معیار کو سراہا، انہوں نے جانوروں کی صحت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینے، تربیتی شیڈول کو موثر بنانے اور آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر محکمے کے اعلی افسران اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ ان اقدامات سے محکمے کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پی/کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارے کے تمام شعبوں کی استعداد کار میں مزید بہتری لانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔دورے کے اختتام پر ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نے بلوچستان کانسٹیبلری کی مجموعی کارکردگی اور نظم و ضبط کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کی کمانڈ اور افسران اسے طرح اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5967/2026
گوادر 7جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کا نیو ٹاون ہاوسنگ اسکیم کے حوالے سے اہم پیغام نیو ٹاون ہاوسنگ اسکیم میں غیر قانونی قبضوں اور ناجائز تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ تمام الاٹیز جن کے پلاٹس پر ناجائز قبضہ یا تجاوزات قائم ہیں، یا جن کی دستاویزات نامکمل یا گم ہیں، وہ 31 جولائی تک اپنی متعلقہ دستاویزات ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرائیں۔ ضلعی انتظامیہ اصل اور قانونی الاٹیز کے حقوق کے تحفظ اور قانون کی موثر عملداری کے لیے پرعزم ہے۔اپنی شکایات درج ذیل کمپلین نمبر پر درج کرائیں، یا واٹس ایپ نمبر پر وائس میسج بھیج دیں۔0864210027،03370853455
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5968/2026
نصیرآباد7جولائی ۔ : کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت ممکنہ مون سون بارشوں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی آئی جی کامران نواز، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن مدثر ظفر کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ، ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی، عبدالعزیز بزدار، امان اللہ گاجانی، عابد علی پہنور، فرخ شہزاد، عابد حسین رند، ڈویڑن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں 2007، 2010، 2012 اور 2022 کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ ماضی میں نصیرآباد ڈویژن دریائی اور بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں سے شدید متاثر ہوتا رہا ہے، لہٰذا وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں نصیرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع میں پیشگی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ ایس ایس پیز کے ہمراہ ضلعی سطح پر اجلاس منعقد کرکے ہنگامی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دیں، سیلابی گزرگاہوں کی صفائی، ایریگیشن مشینری کی فعالیت، حساس یونین کونسلز میں موک ایکسرسائز، ادویات، خوراک اور دیگر امدادی سامان کی دستیابی، محفوظ مقامات کی نشاندہی اور عوام کی بروقت منتقلی کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ممکنہ سیلاب کے دوران ایریگیشن سمیت تمام متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ برقرار رکھا جائے، جہاں حفاظتی کٹس لگانے کی ضرورت ہو ان مقامات کی نشاندہی کی جائے، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ این جی اوز کی فہرستیں مرتب کرے، جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ضلعی ٹیمیں تشکیل دے کر مشینری اور وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اور فوری امدادی کارروائیاں موثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5969/2026
قلات 7جولائی ۔سنئیر ممبر بورڈآف ریونیوبلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ریونیو ریکارڈ درست رکھنے اور درخواست گزاروں کو سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات شروع کردیے گئے ہیں قلات انتظامیہ نے ریونیوافسران کو سختی سے احکامات جاری کردیے ہیں کہ وہ دفتر آنے والے سائلیں کیساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں اور انکے مسائل فوری حل کریں تاکہ عوام کو کوئی مشکل پیش نہ آئے اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر قلات اسد سمالانی کے زیر صدارت محکمہ ریو نیو اسٹاف کا اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں تحصیلدار حاجی عبدالغفار لہڑی ریڈر اسسٹنٹ کمشنر بابو ثناء اللہ محمدحسنی طارق مرتضی پٹواری صدر پٹواری شفیق الرحمن مینگل پٹواری محمدخالد پٹواری معزاحمد پٹواری محمدکاشف پٹواری نعیم احمد نے شرکت کی۔اجلاس کے شرکاء نے اسسٹنٹ کمشنر کو ریو نیو معامات ریکارڈ اور اپنے کام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر اسد سمالانی نے کہا کہ تمام اسٹاف اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں اپنے تمام ریونیو ریکارڈ درست رکھیں درخواست گزاروں سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں اور انکے مسائل فوری حل کریں تاکہ عوام کو کوئی مشکل پیش نہ آئےانہوں نے کیا کہ ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمددرانی کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ قلات عوامی مسائل کے حل کے لیئے تمام تروسائل بروے کار لارہی ہے اراضیات کے ریکارڈ کو محفوظ اورشفافیت سے مالی نظم وضبط برقراررکھنا ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5970/2026
حب 7 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر حب کی زیر صدارت ضلع بھر کے کمرشل بینکوں کی سکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس حب، میجر 147 ونگ فرنٹیئر کور، ضلع میں قائم تمام کمرشل بینکوں کے نمائندگان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے کمرشل بینکوں کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کو مزید موثر، مربوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حب نے بینک انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام بینکوں میں تربیت یافتہ، مستعد اور پیشہ ور سکیورٹی گارڈز کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے، ضرورت کے مطابق گارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور انہیں جدید سکیورٹی تقاضوں کے مطابق باقاعدہ ریفریشر ٹریننگ فراہم کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری، موثر اور بروقت ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تمام بینکوں میں اندرونی و بیرونی حصوں کی مکمل نگرانی کے لیے اعلیٰ معیار کے جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، جو ہر وقت فعال رہیں اور ان کی ریکارڈنگ محفوظ رکھی جائے۔ بینکوں کے داخلی و خارجی راستوں، پارکنگ ایریاز، اے ٹی ایم بوتھس اور دیگر حساس مقامات کی موثر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔شرکاءکو ہدایت کی گئی کہ ایمرجنسی رسپانس پلان پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کا مربوط نظام برقرار رکھا جائے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو فراہم کی جائے۔اجلاس میں بینکوں کی سکیورٹی کے لیے جدید اور معیاری اسلحہ، حفاظتی آلات اور دیگر ضروری سکیورٹی سامان کی دستیابی، سکیورٹی سے متعلق تمام اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) پر سختی سے عملدرآمد اور وقتاً فوقتاً ان کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس حب اور میجر 147 ونگ فرنٹیئر کور نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بینکوں کی سکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر بینکوں کے نمائندگان نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور فرنٹیئر کور کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اجلاس میں جاری کردہ ہدایات پر موثر عملدرآمد کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5971/2026
موسیٰ خیل7 جولائی ۔ڈپٹی کمشنر و چیئرمین ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی، عبدالرزاق خجک کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کنٹریکٹ اساتذہ کی بھرتی کے لیے (فیز IV) کے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا عمل مکمل کیا گیا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کے تمام ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پر کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنی تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ دستاویزات جمع کروائیں، جبکہ کمیٹی نے امیدواروں کی جانب سے دائر کیے گئے اعتراضات کو بھی غور سے سنا۔ڈپٹی کمشنر و چیئرمین ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی عبدالرزاق خجک اور دیگر ممبران نے تمام امیدواروں کی اسناد کی جانچ پڑتال کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہے اور تمام تر تقرریاں شفافیت کے اصولوں کے تحت کی جا رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی تعلیم دوست پالیسی کا مقصد تعلیمی شعبے میں بہتری لانا اور نوجوانوں کو روزگار کے شفاف مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے میرٹ کی پاسداری ناگزیر ہے، اور ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں حکومتِ بلوچستان کے ویژن کے مطابق بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5972/2026
گوادر7جولائی ۔ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق عوام کو دہلیز پر معیاری، بروقت اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) شادوبند اور گھٹی ڈور کا مانیٹرنگ و سہولت کاری کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈاکٹر مرشد دشتی نے طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سینٹرز، ماں و بچے کی صحت (MNCH) سینٹر، ٹیلی ہیلتھ کلینک، ادویات کے دستیاب ذخیرے، صفائی کی صورتحال اور مجموعی طبی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے، انہیں معیاری علاج اور ضروری ادویات بروقت فراہم کی جائیں، جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات، زچہ و بچہ کی صحت اور دیگر بنیادی طبی خدمات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر دونوں بنیادی مراکز صحت کو ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات بلا تعطل میسر رہیں۔ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ضلع گوادر کے تمام بنیادی مراکز صحت میں طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا، عملے کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی جاری رہے گی اور عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5973/2026
لورالائی7جولائی ۔بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ نے یونیسیف کے تعاون سے پیرینٹنگ منتھ کے سلسلے میں ایک سیمینار اور واک کا انعقاد کیا، جس کا مقصد والدین میں بچوں کی متوازن پرورش، صحت مند غذائیت اور مثبت تربیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔سمینار میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز لورالائی ڈویژن و ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ ، سے ڈی سی جنرل نواز علی۔اسسٹنٹ کمشنر ڈرگ اور اسسٹنٹ کمشنر میختر اسرار احمد ،ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی فرحان کاکڑ ،سے ڈی ایس محیب اللہ کاکڑ ،بی آر ایس پی کے ملیریا کوآرڈینیٹر اسحاق خان موسی خیل ،جو این ایچ سی آر کے محمود خان موسی خیل ،ایس او ایم این سی ایچ پروگرام محمد عثمان موسی خیل ،لیڈی ہیلتھ ورکرز ،پیرا میڈیکس سمیت محکمہ صحت کے افسران، عملے اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔سمینار ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر نقیب ماما نے پراجیکٹ کے بارے میں مکمل بریفینگ دی جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ۔اے سی میختر اسرار احمد مندوخیل ،ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی فرحان کاکڑ ،ہیڈ آف پیڈز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر حنیف دمڑ۔انچارج ڈسٹرکٹ میڈیسن سٹور ڈاکٹر منان ملازئی،۔یشنل پروگرام کے اکاوئنٹ سپروائزر ضیاء غلزئی ،بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی آفیسر شہزادہ خان ناصر ،ایس او ایم این سی ایچ پروگرام محمد عثمان موسی خیل اور مولوی ظریف خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے اللہ کا ایک عظیم نعمت ہے اور اسے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اچھی شعور دینا اور اچھے اخلاق کا مالک بنا بھی ہمارے زمہ داریوں میں شامل ہے مقررین نے کہا ہے کہ تمام اداروں کے درمیان رابطہ سازی قائم ہونا اور ایک دوسرے کے تجربات سے فایدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بچوں کو پیدائش کے فورا بعد دودھ دینا اور پیدا ہونے سے پہلے ماو¿ں کو اچھی خوراک دینا بہت ضروری ہے۔ان سے قبل ایک پی آئی سنٹر سے ہسپتال تک ایک شعوری واک کا بھی اہتمام کیا گیا جسکا مقصد شعور و اگائی پیدا کرنا تھا۔لورالائی۔7جولائی 2026بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ نے یونیسیف کے تعاون سے پیرینٹنگ منتھ کے سلسلے میں ایک سیمینار اور واک کا انعقاد کیا، جس کا مقصد والدین میں بچوں کی متوازن پرورش، صحت مند غذائیت اور مثبت تربیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔سمینار میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز لورالائی ڈویژن و ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ ، سے ڈی سی جنرل نواز علی۔اسسٹنٹ کمشنر ڈرگ اور اسسٹنٹ کمشنر میختر اسرار احمد ،ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی فرحان کاکڑ ،سے ڈی ایس محیب اللہ کاکڑ ،بی آر ایس پی کے ملیریا کوآرڈینیٹر اسحاق خان موسی خیل ،جو این ایچ سی آر کے محمود خان موسی خیل ،ایس او ایم این سی ایچ پروگرام محمد عثمان موسی خیل ،لیڈی ہیلتھ ورکرز ،پیرا میڈیکس سمیت محکمہ صحت کے افسران، عملے اور دیگر شرکاء نے شرکت کی۔سمینار ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر نقیب ماما نے پراجیکٹ کے بارے میں مکمل بریفینگ دی جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مقبول احمد کاکڑ۔اے سی میختر اسرار احمد مندوخیل ،ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی فرحان کاکڑ ،ہیڈ آف پیڈز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر حنیف دمڑ۔انچارج ڈسٹرکٹ میڈیسن سٹور ڈاکٹر منان ملازئی،۔یشنل پروگرام کے اکاوئنٹ سپروائزر ضیاءغلزئی ،بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی آفیسر شہزادہ خان ناصر ،ایس او ایم این سی ایچ پروگرام محمد عثمان موسی خیل اور مولوی ظریف خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے اللہ کا ایک عظیم نعمت ہے اور اسے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اچھی شعور دینا اور اچھے اخلاق کا مالک بنا بھی ہمارے زمہ داریوں میں شامل ہے مقررین نے کہا ہے کہ تمام اداروں کے درمیان رابطہ سازی قائم ہونا اور ایک دوسرے کے تجربات سے فایدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بچوں کو پیدائش کے فورا بعد دودھ دینا اور پیدا ہونے سے پہلے ماوں کو اچھی خوراک دینا بہت ضروری ہے۔ان سے قبل ایک پی آئی سنٹر سے ہسپتال تک ایک شعوری واک کا بھی اہتمام کیا گیا جسکا مقصد شعور و اگائی پیدا کرنا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5974/2026
ہرنائی7جولائی ۔ : ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ہرنائی میں گزشتہ چار روز سے جاری پرامن دھرنا بالآخر رنگ لے آیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے عوامی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے مکمل تعاون کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں ہسپتال میں طویل عرصے سے متوقع جدید بلڈ بینک وارڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے اس افتتاحی تقریب کی سب سے منفرد اور خوبصورت بات یہ تھی کہ روایتی پروٹوکول کو توڑتے ہوئے، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر سیف اللہ خان مری نے کسی وزیر، مشیر یا اعلیٰ شخصیت کے بجائے اس جدید وارڈ کا افتتاح ایک تھیلیسیمیا کے مریض معصوم بچے کے ہاتھوں کروایا۔ انتظامیہ کا یہ اقدام نہ صرف دلوں کو چھو گیا بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ہسپتال غریبوں، بے سہاروں اور حقیقی حقداروں کا ہے۔ اس موقع پر دھرنا کمیٹی اور عوام نے ایم ایس کے اس مخلصانہ جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔بلڈ بینک فعال ہونے سے اب ہرنائی کے غریب محنت کشوں اور عام عوام کو کسی بھی ہنگامی حالت یا حادثے کی صورت میں خون کی فراہمی کے لیے دیگر دور دراز شہروں اور کوئٹہ کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہسپتال میں ہی خون کی بروقت دستیابی سے قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے گا، جو کہ طویل عرصے سے یہاں کا ایک سنگین مسئلہ تھا۔نوجوانان دھرنا کمیٹی نے بلڈ بینک کے قیام اور اسے فوری فعال کرنے پر ہسپتال انتظامیہ خصوصاً ایم ایس ڈاکٹر سیف اللہ خان مری کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ہسپتال کے دیگر مسائل کو بھی اسی طرح ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5975/2026
کوئٹہ 7جولائی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ محمد انور کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ معاوضہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہنہ وڑک اور حالیہ دیگر واقعات کے متاثرین سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران شہداء اور زخمیوں کی تفصیلات پیش کی گئیں اور متاثرہ خاندانوں کو حکومتی پالیسی کے مطابق معاوضے کی فراہمی کے حوالے سے پیش رفت پر غور کیا گیا۔اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنے اپنے اداروں کی جانب سے ضروری معلومات اور رپورٹس پیش کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے معاوضوں کے کیسز کو جلد از جلد مکمل کرکے تمام قانونی و انتظامی کارروائی بروقت یقینی بنائی جائے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5976/2026
کوئٹہ 7جولائی۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت کوئٹہ میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیموں پر کام کی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق، اسسٹنٹ کمشنر صدر، اسسٹنٹ کمشنر سریاب، متعلقہ تحصیلداران، سیٹلمنٹ آفیسر، محکمہ C&W، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر کیو ڈی اے کی اراضی پر قائم غیر قانونی جھونپڑیوں اور تجاوزات کے خاتمے اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں، سرکاری اراضی کو تجاوزات سے واگزار کرایا جائے اور منصوبوں میں حائل رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل سے جہاں ترقی و خوشحالی میں تیزی آئے گءوہی دوسری جانب عوام کو سہولیات میسر آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5977/2026
گوادر، 7 جولائی۔چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ شاہد علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ عبدالرزاق اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران گوادر پورٹ کی آپریشنل اور تجارتی سرگرمیوں، حکومت پاکستان کی جانب سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے فروغ کے لیے حالیہ اقدامات، گوادر شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، مستقبل کی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پروگراموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے چیئرمین گوادر پورٹ کو شہر میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت گوادر میں پانی کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور سوڈ ڈیم سے شہر کے مختلف علاقوں کو باقاعدگی سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ تقریباً 30 سے 40 لاکھ گیلن پانی شہریوں کو فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق شادی کور ڈیم کو بھی ہفتہ وار بنیادوں پر آپریشنل کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پانی کی فراہمی کے آپریشنل اور مینٹیننس اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی گرانٹ موجودہ ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے، جس کے باعث مستقبل میں مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔چیئرمین گوادر پورٹ، جو وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر برائے پانی و بجلی بحران کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں، نے کہا کہ پانی کے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے جلد ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اس معاملے کو صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ درپیش مالی اور انتظامی مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال گوادر میں پانی اور بجلی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حکومت گوادر کے لیے پانی اور بجلی کے مستقل حل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میرانی ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کے پائپ لائن منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ گوادر کے لیے 50 میگاواٹ بجلی کے ایک علیحدہ منصوبے کی بھی منظوری ہو چکی ہے۔ملاقات میں گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے ملازمین کے لیے ایک رہائشی منصوبہ شروع کرنے کی تجویز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد جی پی اے ملازمین کو مناسب قیمتوں پر موزوں اور معیاری رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے نے اس منصوبے کے لیے ہر ممکن تعاون اور ادارہ جاتی معاونت کی یقین دہانی کرائی جبکہ اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیت میر ارشد کلمتی نے بھی چیئرمین جی پی اے کی اپنے ملازمین کیلئے رہائشی منصوبہ کی آئیڈیا کو سراہا اور اراضی کی فراہمی سمیت ہرطرح کی تعاون کی یقین دہانی کی۔چیئرمین گوادر پورٹ نے امید کا اظہار کیا کہ ان دونوں منصوبوں کی تکمیل کے بعد گوادر کی مستقبل کی پانی اور بجلی کی ضروریات مستقل بنیادوں پر پوری ہو سکیں گی، جس سے نہ صرف شہریوں کو ریلیف ملے گا بلکہ بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی مزید فروغ حاصل ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5978/2026
کوئٹہ7 جولائی۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر سے مضر صحت اور زہریلی سبزیوں کا مکمل خاتمہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا مشن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیوریج کے آلودہ پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیاں عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں جس کے پیشِ نظر ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتِ عالیہ کے فیصلے اور متعدد بار جاری کی گئی وارننگز کے باوجود اگر کوئی شخص سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت جاری رکھتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ مضر صحت سبزیوں کی تلفی کے حالیہ جاری آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے یا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے زمینداروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند قوم کے لیے صحت بخش خوراک ناگزیر ہے اور زہریلی سبزیوں کی خرید و فروخت کی کوئی گنجائش نہیں۔دریں اثنائ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی آپریشن ٹیموں نے پولیس کے تعاون سے کوئٹہ کے سی پیک روڈ پر بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 36 ایکڑ رقبے پر سیوریج کے آلودہ پانی سے کاشت کی گئی گوبھی، پودینہ، دھنیا، چقندر اور سلاد کی فصلوں کو ٹریکٹروں کے ذریعے تلف کر دیا۔کارروائی کے دوران ان کھیتوں کو فراہم کیے جانے والے آلودہ پانی کے ذرائع بھی منقطع کر دیے گئے تاکہ مستقبل میں دوبارہ ایسی غیر قانونی کاشت نہ کی جا سکے۔ ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق خصوصی آپریشن عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کوئٹہ بھر میں ایسے مقامات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کا خدشہ موجود ہے اور جہاں بھی خلاف ورزی سامنے آئے گی وہاں فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اپنے گلی محلوں میں اگر کہیں سیوریج کے آلودہ پانی سے سبزیوں کی کاشت یا مضر صحت خوراک کی تیاری و فروخت کی اطلاع ہو تو فوری طور پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی کرکے عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5979/2026
کوئٹہ۔7جولائی ۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق شہید رازق بگٹی کے خدمات کے اعتراف میں جی پی او چوک کوئٹہ کا نام تبدیل کرکے اسے شہید رازق بگٹی کے نام سے منسوب کیا گیاہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5980/2026
کوئٹہ، 7 جولائی ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن، پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیرِ آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقہ زیارت میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن بلوچستان پولیس کے افسران و جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے افسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے 15 دہشت گردوں کو نشانِ عبرت بنایا۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے صوبے کا امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت اور ہمارے ادارے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوشیں کر رہے ہیں۔ ان شائ اللہ جلد ہمارے ملک اور صوبے میں امن و سلامتی کا سورج طلوع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام، سیاسی جماعتیں اور سیکیورٹی ادارے ایک صف میں کھڑے ہو کر مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا ان مخصوص حالات میں ہمیں تمام سیاسی اختلافات بالا طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔ میر محمد صادق عمرانی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداءکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5981/2026
نصیرآباد7جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، وریندر لعل کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات اور درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی، میڈیسنز سانس فرنٹیئرز MSF کے نمائندگان منظور شیرازی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایم ایس ایف کی جانب سے ضلع نصیرآباد میں نئے صحت پروگراموں کے جلد آغاز سے متعلق آگاہ کیا گیا اجلاس کے دوران ماں اور بچے کی صحت، زچگی کے دوران سہولیات، اور نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت (نیونیٹل کیئر) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم ایس ایف صحت کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے، اور امید ظاہر کی کہ ادارہ مستقبل میں بھی حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر صحت کے نظام میں بہتری لانے کے لیے اپنا مثبت اور موثر کردار جاری رکھے گا انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون کو فروغ دیں اور جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5982/2026
بارکھان، 7 جولائی ۔ایس پی بارکھان عبد الحق کا سود خوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا اعلانسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) بارکھان عبد الحق نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں سود خوری جیسے غیر قانونی اور معاشرتی ناسور کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز اور موثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، سود خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایس پی بارکھان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کوئی فرد یا گروہ سود کے نام پر ناجائز رقم وصول کر رہا ہو یا اصل رقم سے زائد رقم کا مطالبہ کرے تو متاثرہ شہری فوری طور پر قریبی تھانے یا پولیس کنٹرول روم سے رابطہ کریں تاکہ بروقت قانونی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سود خوری ایک سنگین جرم اور معاشرتی برائی ہے، جس کے خاتمے کے لیے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ شہری بلا خوف و خطر ایسی سرگرمیوں کی اطلاع پولیس کو دیں تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس عبد الحق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بارکھان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، جبکہ ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5983/2026
کوئٹہ۔ 7 جولائی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے صوبے میں علم کے فروغ کے وژن کے تحت صوبے بھر کے تمام اضلاع کے طلباء کے لئے شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپس پروگرام بھرپور انداز سے جاری ہے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے اسکالرشپس پروگرام کے ذریعے ضلع چاغی سے 10 طلبہ اور طالبات کو برائے تعلیمی سال 2025/26 شہید بےنظیر بھٹو فلی فنڈڈ سکالرشپس پروگرام کے تحت ڈسٹرکٹ ٹاپرز کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے یہ اقدام اس امر کا واضح عکاس ہے کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے طول و عرض سے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو ان کے روشن مستقبل کے لیے یکساں اور مساوی مواقع فراہم کر رہی ہے طلباءکی جانب سے (بیف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی کے میرٹ کے فروغ کے وژن پر احسن انداز سے عمل درآمد یقینی بنانے کو سراہا جارہا ہے سی ای او( بیف ) خالد ماندائی نے اس موقع پر منتخب ہونے والے طلباءو طالبات کے اساتذہ اور والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے بہتر مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5984/2026
چمن 7جولائی ۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن عزیز اللہ کاکڑ نے چمن شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی گیس کی دکانوں کا دورہ کیا اور گیس کی دستیابی، سرکاری نرخوں پر فروخت اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ ایل پی جی گیس سرکاری مقررہ نرخوں کے مطابق فروخت کی جائے اور مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مناسب قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جبکہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر5985/2026
اسلام آباد7 جولائی:۔وزیراعظم یوتھ پروگرام (PMYP)، پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی (PMAS-AAUR) نے پاکستان میں مونگ پھلی کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، دیہی کاروبار اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ شراکت داری کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ”کلائمیٹ ریزیلینٹ پینٹ ویلیو چین ڈویلپمنٹ فار رورل انٹرپرائز اینڈ اکنامک گریجویشن پراجیکٹ” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں تینوں اداروں کے درمیان شراکت داری کے معاہدے پر باضابطہ دستخط بھی کیے گئے۔ تقریب میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان بھی موجود تھے۔ یہ تین سالہ منصوبہ پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کی مالی معاونت اور بارانی زرعی یونیورسٹی کی تکنیکی رہنمائی میں ابتدائی طور پر ضلع راولپنڈی کے گوجر خان اور ضلع اٹک کے فتح جنگ میں نافذ کیا جائے گا۔ منصوبے کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو فروغ دینا، مونگ پھلی کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن، دیہی صنعت کاری، روزگار کے نئے مواقع، تحقیق، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور مارکیٹ روابط کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں نمایاں بہتری لانا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم، جدید مہارتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو روایتی ڈگریوں کے ساتھ تکنیکی اسناد، پیشہ ورانہ سرٹیفیکیشن اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ نوجوان عالمی منڈی میں مؤثر انداز میں مسابقت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے NAVTTC اور چین کے ممتاز اداروں کے اشتراک سے 21 جدید تکنیکی شعبوں میں تربیتی پروگرام متعارف کرائے ہیں، جبکہ تقریباً 50 پاکستانی جامعات کو چینی جامعات کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تعلیمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت جدید زرعی ٹیکنالوجیز میں 10 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے، جبکہ چین کی معروف زرعی یونیورسٹی پاکستانی جامعات کے ساتھ مشترکہ تحقیقی مراکز بھی قائم کرے گی۔ رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ زیتون کی صنعت میں حاصل ہونے والی کامیابی کی طرز پر مونگ پھلی کے شعبے میں جدید اقدامات کسانوں کی آمدنی بڑھانے، زرعی کاروبار کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، جنوبی کوریا، یورپ، امریکہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے جدید مہارتوں کا حصول ناگزیر ہے۔ پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ شراکت داری تحقیق، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور کمیونٹی کی ترقی کو یکجا کرتے ہوئے پاکستان کی دیہی معیشت میں مثبت تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ PPAF نے اپنے قیام سے اب تک 150 اضلاع میں 164 سے زائد شراکت دار اداروں کے ذریعے لاکھوں افراد کو مالی شمولیت، روزگار، کاروباری فروغ، ہنر مندی اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے پروگراموں سے مستفید کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی نئی پانچ سالہ حکمت عملی میں MSMEs، ویلیو چین ڈویلپمنٹ، کاروباری سرگرمیوں اور معاشی شمولیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین کے تعاون سے جاری GRASP پروگرام کے ذریعے ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مضبوط بنایا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔ نادر گل بڑیچ نے بتایا کہ مونگ پھلی ویلیو چین منصوبے کے تحت آئندہ تین برسوں میں تقریباً دو ہزار کسانوں، MSMEs اور بنیادی پیداوار کنندگان کو تربیت فراہم کی جائے گی، یونیورسٹی کے مونگ پھلی پراسیسنگ یونٹ کو جدید ویلیو ایڈیشن مرکز میں تبدیل کیا جائے گا، معیاری بیج کی پیداوار کا نظام قائم ہوگا، فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، خواتین کی قیادت میں قائم کاروباروں سمیت 40 تک MSMEs کی معاونت کی جائے گی، خواتین اور نوجوانوں کی کم از کم 40 فیصد شمولیت یقینی بنائی جائے گی، جبکہ نوجوانوں کی قیادت میں زرعی اسٹارٹ اپس، برانڈنگ، پیکیجنگ، مالی معاونت اور مارکیٹ روابط کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اس موقع پر کہا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی طریقہ کار کے ذریعے پاکستان کی مونگ پھلی ویلیو چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری تحقیق کو عملی میدان سے جوڑے گی، جس کے نتیجے میں کسان جدید زرعی ٹیکنالوجیز اپنائیں گے، اپنی پیداوار میں اضافہ کریں گے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی موجودگی میں پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے درمیان شراکت داری کے معاہدے پر باضابطہ دستخط اور دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ جامعات، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون کی نئی مثال قائم کرے گا اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، تحقیق، جدت، نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں، ویلیو چین کی مضبوطی اور پاکستان کی پائیدار دیہی معاشی ترقی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
خبر نامہ نمبر5986/2026
زیارت 07 جولائی:۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائی، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور بحالی امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے منگل کے روز بذریعہ سڑک عام گاڑی میں زیارت پہنچ گئے۔ وزیر اعلیٰ نے بلٹ پروف گاڑی کے بجائے عام گاڑی میں سفر کرتے ہوئے متعلقہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیکیورٹی صورتحال پر حکام سے بریفنگ حاصل کی وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کو مقامی عوام نے جرات، اعتماد اور عوامی قیادت کی علامت قرار دیتے ہوئے بھرپور سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں وزیر اعلیٰ کی جائے وقوعہ پر آمد سے نہ صرف عوام کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کے غیر متزلزل عزم کا بھی واضح پیغام گیا ہے مقامی لوگوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی متاثرہ علاقے میں موجودگی نے عوام میں اعتماد پیدا کیا ہے اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ عوام نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں سے علاقے میں امن و استحکام مزید مضبوط ہوگا۔
خبر نامہ نمبر5987/2026
کوئٹہ7 جولائی:۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے زیارت میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس کے افسران اور جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے نہ صرف 15 دہشتگردوں کو عبرت کا نشان بنایا بلکہ پورے علاقے کو ایک بڑی تبائی سے بھی بچایا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم قومی اتحاد و اتفاق سے تمام تخریب کاروں اور دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے حکومتی کوششوں میں بھرپور تعاون کریں۔ گورنر جعفر خان مندوخیل نے تمام پولیس افسران اور جوانوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
خبر نامہ نمبر5988/2026
کوئٹہ 7جولائی:۔حکومت بلوچستان کے رائز (RISE) پروگرام کے تحت ضلع خاران، واشک اور پنجگور کے 60 مستحق گھرانوں میں روزگار کے لیے کاروباری اثاثہ جات تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس اقدام کا مقصد مستحق خاندانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا، غربت میں کمی لانا اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانا ہے۔ تقریب میں سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس حکومت بلوچستان محمد خالد سربراہ مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ کمشنر رخشان ڈویژن، ڈپٹی کمشنرز خاران، واشک اور پنجگور، متعلقہ محکموں کے افسران، سول سوسائٹی، میڈیا نمائندگان اور مستحق خاندانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر 60 مستحق گھرانوں میں سلائی و کڑھائی مشینیں، موٹر سائیکلیں، بائیو فلوک یونٹس، زرعی و کاروباری آلات اور دیگر روزگار سے متعلق اثاثہ جات تقسیم کیے گئے تاکہ وہ اپنے خاندانوں کے لیے مستقل ذریعہ معاش قائم کر سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس محمد خالد نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں، خواتین اور کم آمدنی والے طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائز پروگرام کے ذریعے مستحق خاندانوں کو معاشی استحکام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پائیدار روزگار کے مواقع بھی میسر آ رہے ہیں، جس سے صوبے میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رائز پروگرام حکومت بلوچستان کا ایک اہم فلاحی منصوبہ ہے، جس کے تحت شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر مستحق خاندانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے ذریعے نہ صرف کاروباری اثاثے فراہم کیے جا رہے ہیں بلکہ فنی تربیت، رہنمائی اور مالی معاونت بھی دی جا رہی ہے تاکہ مستحق افراد اپنے کاروبار کو کامیابی سے آگے بڑھا سکیں۔تقریب کے اختتام پر مستفید ہونے والے خاندانوں نے حکومت بلوچستان اور رائز پروگرام کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاونت ان کے لیے باعزت روزگار اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

خبر نامہ نمبر5989/2026
ضلع چمن7جولائی:۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات پر عوامی پارک اور لینڈ فل سائٹ کی منتقلی سے متعلق اجلاس منعقد کیا گیا ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں عوامی پارک اور لینڈ فل سائٹ کی منتقلی سے متعلق مختلف تجاویز اور امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی پارک کے قیام کو یقینی بنانے اور لینڈ فل سائٹ کی مناسب مقام پر منتقلی کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد، ماحولیاتی تحفظ اور شہری سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور اس سلسلے میں سفارشات جلد از جلد مرتب کر کے پیش کی جائیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی مفاد کے تحفظ، ماحولیات کی بہتری اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے اقدامات جاری رکھیں گے۔
خبر نامہ نمبر5990/2026
چمن7جولائی:۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ضلعی انتظامیہ اور یونیسیف (UNICEF) کے نمائندوں کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع چمن میں تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی، اور بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات، تعلیمی معیار میں بہتری، شراکت داری کو فروغ دینے اور ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تعلیم کے شعبے کی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور یونیسیف سمیت تمام شراکت دار اداروں کے تعاون سے اسکولوں میں بہتر تعلیمی ماحول، جدید سہولیات اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور ضلعی انتظامیہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ چمن کے بچوں کو روشن اور بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے ضلع چمن میں تعلیمی شعبے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر5991/2026
کوئٹہ 7جولائی:۔بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین محمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، عبیداللہ گورگیج، فضل قادر مندوخیل، صفیہ بی بی اور زابد علی ریکی نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے اسپیشل آڈٹ اور اس پر Compliance کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی سراج لہڑی اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال چیئرمین بلوچستان بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان ڈائریکٹر اسکولز اختر کھیتران بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے آڈٹ اعتراضات اور محکمانہ کارکردگی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی بحث کی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ نصاب (Curriculum) کے شعبے میں 180 سے زائد ملازمین کی موجودگی اور ان کو دی جانے والی بھاری تنخواہوں کے باوجود پرائیویٹ اداروں سے سلیبس کے کتب کے لیے خدمات حاصل کرنا اور ان کو سالانہ کروڑوں کی رقم میں حصہ دینا عجیب بات ہے۔ جو کہ 2006 سے ان کو دیئے جا رہے ہیں۔رکن کمیٹی غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ اگر کسی ایک سال کا ریکارڈ دستیاب نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام متعلقہ افراد کو سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے انہیں بدستور تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔ چئیرمین نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں نصاب سازی کے شعبے میں باصلاحیت اور قابل افراد کو تعینات کیا جاتا ہے، کمیٹی اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جون اور جولائی کے مہینے تک بھی اسکولوں میں درسی کتب دستیاب نہیں ہیں۔ چئیرمین نے دعویٰ کیا کہ شواہد کے ساتھ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ان کتابوں کی معیار بھی تسلی بخش نہیں ہیں۔چئیرمین نے کہا کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ کی توجہ اس جانب دلائی تھی کہ انکے حلقے میں اب تک بیشتر حلقوں میں طلبہ کو درسی کتب دستیاب نہیں ہیں، جبکہ اب مڈ ٹرم امتحانات کا وقت بھی قریب آ چکا ہے۔ زابد علی ریکی نے مزید کہا کہ بعض ٹھیکیدار کتب کی ترسیل کے دوران غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں وہ پورے ڈسٹرکٹ کے بجائے کتب ایک جگہ پر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔کمیٹی نے بروقت درسی کتب کے اسکولوں میں ترسیل نہ کرنے والے آفیسران کے خلاف انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں سال اسکولوں میں طلبہ کے اندراج (Enrollment) میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کتب کی طلب میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ضلعی تعلیمی افسران (DEOs) کےPOL فنڈز میں اضافہ کرنے کے بجائے کمی کی گئی ہے، اور سوال اٹھایا کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ ضلعی افسران اپنے اضلاع میں تمام اسکولوں کی Monitoring نہیں کر سکتے۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ آڈٹ کو ریکارڈ مہیا نہ کرنے کی معاملے کی مکمل انکوائری کر کے رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے تاکہ اسے مزید کارروائی کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان کے سامنے اٹھایا جا سکے۔اجلاس کے دوران ایک آڈٹ پیرا پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیپوٹیشن الاؤنس کی ادائیگی روک دی گئی ہے، تاہم اس مد میں واجب الادا رقوم کی ریکوری تاحال عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ کمیٹی نے اس معاملے پر محکمہ تعلیم سے مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ تعلیم کی اس کاوش کو سراہا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے درسی کتب کے معیار اور مواد میں یکسانیت لانے کے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طلبہ تک بروقت اور معیاری درسی کتب کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
خبر نامہ نمبر5992/2026
ضلع چمن 7جولائی:۔اسسٹنٹ کمشنر چمن عزیز اللہ کاکڑ نے چمن شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی گیس کی دکانوں کا دورہ کیا اور گیس کی دستیابی، سرکاری نرخوں پر فروخت اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ ایل پی جی گیس سرکاری مقررہ نرخوں کے مطابق فروخت کی جائے اور مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مناسب قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جبکہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر5993/2026
ضلع چمن7جولائی:۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن عزیز اللہ کاکڑ نے چمن شہر کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی گیس کی دکانوں کا دورہ کیا اور گیس کی دستیابی، سرکاری نرخوں پر فروخت اور مجموعی صورتحال کا جائزہ بھی لیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ ایل پی جی گیس سرکاری مقررہ نرخوں کے مطابق فروخت کی جائے اور مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر5994/2026
موسیٰ خیل07جولائی:۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے (Old RHC) اور ایم سی ایچ کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، طبی سہولیات اور مراکز میں جاری خدمات کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ عملے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور عوام کو معیاری، بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔دورے کے دوران ای پی آئی (EPI) سائٹ کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں آئی ایل آر (ILR) کی مینٹیننس، کولڈ چین سسٹم، ویکسین کے محفوظ ذخیرے، اسٹاک رجسٹر اور دستیاب ویکسین کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ضلعی ناظم صحت نے ہدایت کی کہ کولڈ چین کے تمام اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے، ویکسین کا ریکارڈ درست رکھا جائے اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع موسیٰ خیل میں صحت کی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنانے، عملے کی کارکردگی میں بہتری لانے اور عوام کو بہترین طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایسے نگرانی کے دورے باقاعدگی سے جاری رہیں گے۔

خبر نامہ نمبر 2026/5995
زیارت07 جولائی:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زیارت کراس پہنچ کر دھرنے کے شرکاء سے براہِ راست ملاقات کی، ان کے مطالبات اور تحفظات تفصیل سے سنے اور مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مظاہرین کے مطالبات پر غور اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی، جبکہ دھرنے کے نمائندہ وفد کو تفصیلی مذاکرات اور مطالبات پیش کرنے کے لیے چیف منسٹر سیکرٹریٹ مدعو کر لیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کے جائز مطالبات کو قانون، میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے گا اس موقع پر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دشمن بلوچستان پر دو طرف سے حملہ آور ہے، ایک جانب معصوم شہریوں کو قتل کر رہا ہے اور دوسری جانب لوگوں کا روزگار متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اس سب کا الزام بھی ریاستی اداروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ پوری قوم اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تاکہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب ہے اور اختلافات یا شکایات کا حل صرف مذاکرات، باہمی اعتماد اور آئینی و قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن، بھائی چارے اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں وزیراعلیٰ کی یقین دہانی اور مثبت پیش رفت کے بعد مظاہرین نے زیارت کراس پر جاری دھرنا ختم کرنے اور شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد آمدورفت معمول پر آ گئی۔

خبر نامہ نمبر5996/2026
لسبیلہ7جولائی:۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ کی زیر صدارت ای پی آئی (EPI) ٹاسک فورس کمیٹی کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں بچوں کی حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی صورتحال اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرلسبیلہ ڈاکٹرقمررونجھو،ایم ایس DHQ,ہسپتال اوتھل ڈاکٹر اویس واجد،عالمگیر بلوچ،اسسٹنٹ ڈی سی آفس عبدالرزاق رونجھو،جمیل احمد اور محمد اسلم برہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ صحت کے نمائندوں کی جانب سے ای پی آئی کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بچوں کو مختلف مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے لگائی جانے والی ویکسینز کے اہداف اور اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج احمد بلوچ نے بچوں کی صحت اور حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ بچوں کو باقاعدگی سے ویکسین فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ انہیں مختلف مہلک اور وبائی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے محکمہ صحت کے آفیسران کو ہدایت کی کہ وہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دیں تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں کے کورس سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے ٹیموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور عوامی شعور بیدار کرنے پر بھی زور دیا۔
خبر نامہ نمبر5997/2026
تربت 7 جولائی:۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفس کیچ میں محکمانہ ترقی پانے والے پولیس افسران کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایس پی کیچ، کیپٹن (ر) زوہیب محسن تھے۔تقریب کے دوران اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) سے سب انسپکٹر (SI) اور ہیڈ کانسٹیبل سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) کے عہدوں پر ترقی پانے والے پولیس افسران کو نئے رینک لگائے گئے۔ ایس پی کیچ نے ترقی پانے والے افسران کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس پی کیچ، کیپٹن (ر) زوہیب محسن نے کہا کہ پولیس سروس میں محکمانہ ترقی محض عہدے کا اضافہ نہیں، بلکہ یہ ذمہ داریوں میں اضافے کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی پانے والے افسران اپنی نئی ذمہ داریوں کو مزید محنت، دیانت داری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھائیں۔ایس پی کیچ نے مزید کہا کہ ایک بہترین پولیس افسر کا معیار عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، قانون کے نفاذ میں غیر جانبداری اور فرائض کی ادائیگی میں احساسِ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی کی انجام دہی میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کو بروقت، موثر اور معیاری پولیسنگ کی سہولیات میسر ہوں۔تقریب کا اختتام افسران کی پیشہ ورانہ عزم کی تجدید اور دعا کے ساتھ ہوا۔

خبر نامہ نمبر 2026/5998
کوئٹہ07 جولائی:_وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گرد ایک جانب معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب معاشرے میں انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت، عوام اور سیکیورٹی ادارے متحد ہو کر ان کے تمام عزائم ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن بلوچستان کے عوام پر اپنا نظریہ بندوق کے زور پر مسلط نہیں کر سکتا اور نہ ہی ریاست اپنے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں کا بدلہ لیا جائے گا اور قانون کے مطابق دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت پوری قوت، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے زیارت میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت، فاتحہ خوانی اور اظہارِ ہمدردی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداء پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ حکومت شہداء کے خاندانوں کی کفالت، بچوں کی تعلیم، فلاح و بہبود اور ہر ممکن معاونت کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور انہیں ہرگز تنہا نہیں چھوڑا جائے گا انہوں نے کہا کہ انہیں شہداء کے اہل خانہ کے دکھ، غم اور جذبات کا مکمل احساس ہے۔ ایک ذمہ دار عوامی نمائندے کی حیثیت سے وہ اس سانحے پر شدید رنجیدہ ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں لڑنے والے پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کو جدید اسلحہ، بہتر سازوسامان اور تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ مزید مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں حکومت کے عزم، نیت اور استقامت میں کوئی کمزوری نہیں آئے گی۔ وسائل کے حوالے سے چیلنجز اپنی جگہ موجود ہو سکتے ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، پائیدار امن اور صوبے کی ترقی کے لیے حکومت کا عزم غیر متزلزل ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل، عوام کے تعاون اور سیکیورٹی فورسز کی بہادری سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور شہداء کی عظیم قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/5999
کوئٹہ 07 جولائی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع زیارت کے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ہے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے ایس پی زیارت کو معطل کر دیا ہے، جبکہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور جامع تحقیقات کے لیے چیئرمین سی ایم آئی ٹی محمد علی کاکڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ بلوچستان نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی میں چیئرمین سی ایم آئی ٹی کے علاوہ سیکریٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایس اینڈ جی اے ڈی)، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی جانب سے نامزد کردہ ایک سینئر ڈی آئی جی پولیس اور جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے نامزد کردہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو بطور ارکان شامل ہوں گے۔ کمیٹی دہشت گرد حملے سے قبل، دورانِ حملہ اور بعد کے تمام واقعات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور واقعے سے متعلق تمام حقائق اور حالات کا تعین کرے گی۔ کمیٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی تیاری، تعیناتی، ردعمل، کمانڈ اینڈ کنٹرول، باہمی رابطہ کاری اور مجموعی سیکیورٹی انتظامات کا بھی مکمل جائزہ لے گی نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی یہ بھی تعین کرے گی کہ آیا کسی افسر یا ادارے کی جانب سے غفلت، فرائض میں کوتاہی، آپریشنل خامی، کمانڈ اینڈ کنٹرول میں کمزوری یا رابطہ کاری میں ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو قابل اطلاق قوانین اور قواعد کے مطابق ان کے خلاف تادیبی، انتظامی، فوجداری یا دیگر قانونی کارروائی کی سفارش کی جائے گی کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ مانگی ڈیم سمیت صوبے بھر کی اہم عوامی تنصیبات اور حساس انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری، درمیانی مدت اور طویل المدتی سیکیورٹی اقدامات تجویز کرے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پالیسی، ادارہ جاتی اور آپریشنل اصلاحات پر بھی سفارشات مرتب کرے گی محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے تحت انکوائری کمیٹی کو مکمل اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کسی بھی ادارے سے ریکارڈ طلب کر سکے گی، متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو طلب کرے گی، گواہوں کے بیانات قلمبند کرے گی، جائے وقوعہ کا معائنہ کرے گی، ماہرین کی رائے حاصل کرے گی اور ضرورت پڑنے پر تکنیکی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر سکے گی تاکہ تحقیقات کو ہر لحاظ سے مؤثر اور جامع بنایا جا سکے نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ حکومت بلوچستان کو پیش کرے گی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غفلت، نااہلی یا ذمہ داری سے انحراف کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر بلاامتیاز عمل درآمد جاری رہے گا اور جو بھی افسر یا اہلکار اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس افسوسناک واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے مؤثر اصلاحاتی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *