خبرنامہ نمبر6741/2026
کوئٹہ، 6 اگست۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت علی لہڑی کی قیادت میں ٹرانسپورٹرز اور آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ملاقات کی ملاقات میں صوبے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش مسائل، قومی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال، تجارتی سرگرمیوں اور مال برداری کے نظام کو مزید موثر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات خان، اسپیشل سیکرٹری داخلہ عبدالسلام خان اچکزئی، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عمران زرکون اور ایڈیشنل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ محمد فریدون خان بھی موجود تھے وفد میں آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر نواب مینگل سمیت ممتاز ٹرانسپورٹرز میر دولت خان لہڑی، انجمن تاجران کے نمائندے رحیم کاکڑ، نور احمد کاکڑ، حاجی یاسین مینگل، نور اللہ ترین، حاجی محمد ابراہیم بنچاری، آغا داد اللہ، حاجی خلیل، طاہر احمد مینگل اور آغا بھی شامل تھے وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ٹرانسپورٹرز تاجران اور گڈز ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل، شاہراہوں پر نقل و حمل کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق مختلف انتظامی امور سے آگاہ کیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ صوبے اور ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اس شعبے کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مسائل مرحلہ وار حل کیے جائیں گے اور متعلقہ محکموں کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو بھرپور انداز میں کام کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ، پرامن اور فعال بنانا نہ صرف عوام بلکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل مشاورت کے ذریعے ایسے اقدامات کرے گی جن سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں وفد نے مسائل کے حل اور ٹرانسپورٹر برادری کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6742/2026
حب 6 اگست ۔صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ کی خصوصی ہدایات سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی رہنمائی اور ایگزیکٹو انجینئر روڈز ضلع حب عبدالوہاب زہری کی زیر نگرانی مین دریجی روڈ مامو ہوٹل تا ساکران 2.50کلو میٹر کی تعمیر کا کام کامیابی کے ساتھ ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا گیا ہےمذکورہ سڑک کی بروقت تکمیل محکمہ مواصلات و تعمیرات کی موثر منصوبہ بندی بہترین انتظامی صلاحیت اور اعلیٰ معیار کے تعمیراتی کام کا واضح ثبوت ہے سڑک کی تکمیل سے علاقے کے مکینوں کو محفوظ آسان اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی جبکہ آمدورفت میں آسانی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور سماجی و معاشی ترقی میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گےمحکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام کے مطابق منصوبے کو مقررہ معیار اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا گیا ہے جبکہ تعمیراتی کام کے دوران شفافیت اور معیار پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ عوام کو دیرپا اور معیاری انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکےاس موقع پر محکمہ کے حکام نے کہا کہ صوبائی وزیر میر سلیم احمد کھوسہ کے وڑن اور سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کی موثر رہنمائی کے باعث محکمہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہےانہوں نے کہا کہ ضلع حب میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اسی جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گامحکمہ مواصلات و تعمیرات ضلع حب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ضلع حب کی ترقی خوشحالی اور عوامی سہولیات میں مزید اضافہ ہو اور حکومت بلوچستان کے ترقیاتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6743/2026
کوئٹہ،6 اگست ۔صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان پولیس کے افسران اور جوانوں نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں اور ان خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔یومِ شہداء پولیس کی تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک حساس صوبہ ہے جہاں دہشت گردی سمیت مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم بلوچستان پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کے ذریعے قیامِ امن میں کلیدی کردار ادا کیا ہےاور بلوچستان پولیس کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس کیا جائےگا۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی اور ہر مشکل گھڑی میں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہدائ کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھی جائیں گی۔وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ شہدائ کا احترام ہم سب پر فرض ہے کیونکہ انہی کی قربانیوں کی بدولت آج امن قائم ہے۔ انہوں نے بلوچستان پولیس کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے باہمی تعاون سے بلوچستان کو امن ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6744/2026
گوادر6 اگست ۔: صوبائی حکومت کے وژن کے مطابق طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے ساتھ عملی اور فنی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے محکمہ تعلیم گوادر، ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (ESP)، یونیسف (UNICEF) اور یورپی یونین کے اشتراک سے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل گوادر میں قائم اسکل ایجوکیشن ہیلتھ کیئر سینٹر میں طالبات کی طبی و تکنیکی تربیت کا پہلے مرحلے اختتام پذیر ھوگیا اس پروگرام کے تحت 120 طالبات ٹریننگ مکمل کر کے پاس آوٹ ھوئے ہیں جبکہ دوسرا مرحلہ کااغاز ھوگیا ھے میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حفیظ بلوچ نے کہا اس پروگرام کے تحت جماعت ہفتم سے جماعت نہم تک کی طالبات کو آٹھ ماہ پر مشتمل جامع تربیتی کورس کرایا جا رہا ہے، جس میں ابتدائی طبی امداد (First Aid)، ایمرجنسی رسپانس، صحت و حفاظت (Health & Safety)، مریض کی بنیادی نگہداشت اور دیگر عملی طبی مہارتوں کی باقاعدہ تعلیم دی جائے گی تربیت میں تیھوری(Theory) اور عملی (Practical) دونوں پہلوو¿ں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے تاکہ طالبات حقیقی ہنگامی حالات میں بروقت، موثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں پروگرام کے مطابق آٹھ ماہ کی تربیت مکمل ہونے کے بعد امتحان بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ کے زیرِ اہتمام لیا جائے گا، جبکہ کامیاب طالبات کو باقاعدہ سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے، جو ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مستقبل کے تعلیمی و عملی سفر میں معاون ثابت ہوں گے پہلے مرحلے میں 120 طالبات کامیابی کے ساتھ اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں نئے طلبہ و طالبات کی تربیت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت نوجوان نسل کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، صحت کے شعبے میں بنیادی مہارتیں فراہم کرنے اور خود اعتمادی کے ساتھ معاشرے کی خدمت کے لیے تیار کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین بلوچ اور ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے پروگرام منیجر عادل نودزئی نے اس موقع پر کہا کہ تعلیمی اداروں میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ طبی اور تکنیکی مہارتوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکل ایجوکیشن ہیلتھ کیئر پروگرام نہ صرف طالبات کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ انہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانیں بچانے اور معاشرے کی موثر خدمت کے قابل بھی بنائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم، یونیسف اور یورپی یونین کی مشترکہ کاوشیں بلوچستان کے تعلیمی نظام میں مثبت اور دیرپا تبدیلی کی بنیاد رکھ رہی ہیں، جہاں طلبہ و طالبات کو صرف نصابی تعلیم ہی نہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے ضروری مہارتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں اس نوعیت کے ہیلتھ کیئر سینٹرز نوجوان نسل کو صحت عامہ، ایمرجنسی مینجمنٹ اور انسانی خدمت کے جذبے سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ضلع گوادر کے دیگر اسکولوں میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ و طالبات اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔عوامی حلقوں نے بھی صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ضلع گوادر کی تمام تحصیلوں کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اسکل ایجوکیشن ہیلتھ کیئر سینٹرز قائم کیے جائیں گے، تاکہ نوجوان نسل کو معیاری تعلیم کے ساتھ عملی طبی مہارتیں بھی میسر آئیں اور ایک صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6745/2026
کوئٹہ، 6 اگست: ڈپٹی کمشنر/چیئرمین ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی کوئٹہ نے قیمتوں کے کنٹرول اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کی روک تھام ایکٹ، 1977 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ضلع کوئٹہ اور کنٹونمنٹ ایریا میں اشیائے ضروریہ کی نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ کرتے ہوئے آئندہ احکامات تک مقرر کر دی ہیں۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 20 کلوگرام آٹے کی ہول سیل قیمت 2580 روپے جبکہ ریٹیل قیمت 2640 روپے مقرر کی گئی ہے۔ چاول ڈبل اسٹیم 320 روپے فی کلو، باسمتی سپر چاول 300 روپے فی کلو، ٹوٹا چاول 150 روپے فی کلو، سیلہ چاول 270 روپے فی کلو اور پرانا سیلہ چاول 320 روپے فی کلو مقرر کیے گئے ہیں۔ دال چنا 250 روپے فی کلو، دال مونگ 350 روپے فی کلو، دال ماش 450 روپے فی کلو اور دال مسور 300 روپے فی کلو فروخت ہوگی۔ پاکستانی بیسن 290 روپے فی کلو جبکہ ایرانی بیسن 230 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ چینی کی ہول سیل قیمت 141 روپے فی کلو اور ریٹیل قیمت 145 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق 700 سے 800 گرام سادہ بریڈ 170 روپے، میٹھی بریڈ 180 روپے، 350 سے 400 گرام میٹھی بریڈ 110 روپے، سادہ بریڈ 100 روپے، رسک ( پاپے ) 380 روپے فی کلو اور 450 گرام فروٹ کیک 400 روپے فی کیک مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح مٹن(چھوٹا گوشت) 2000 روپے فی کلو، بیف( ہڈی سمیت گائے کا گوشت ) 1050 روپے فی کلو اور بیف( بغیر ہڈی گائے کا گوشت ) 1200 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 310 گرام نان/روٹی کی قیمت 40 روپے فی نان مقرر کرتے ہوئے ڈبل روٹی کی فروخت پر سختی سے پابندی عائد کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مکس دودھ ( 50 فیصد گائے اور 50 فیصد بھینس ) کی ڈیری فارم قیمت 200 روپے فی لیٹر اور ریٹیل قیمت 220 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ گائے کے دودھ کی ڈیری فارم قیمت 150 روپے فی لیٹر اور ریٹیل قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دہی کی قیمت 230 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جبکہ پھل، سبزیوں، انڈوں، زندہ مرغی اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں مارکیٹ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرے گی۔ علاوہ ازیں سادہ، میٹھے، نمکین، ناریل اور ادرک والے بسکٹ کی قیمت 800 روپے فی کلو جبکہ 450 گرام سادہ کیک کی قیمت 350 روپے فی کیک مقرر کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تمام دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ نرخ نامے نمایاں جگہ پر آویزاں کریں، مقررہ قیمتوں سے زائد وصولی یا کم وزن پر اشیائ فروخت نہ کریں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائی گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6746/2026
کوئٹہ 6 اگست۔وزیراعلی بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی کی زیرِ نگرانی مندوخیل اسٹریٹ نمبر 2 میں غیر قانونی بورنگ کی اطلاع پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔کارروائی کے دوران غیر قانونی بور کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا جبکہ اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے واضح کیا ہے کہ شہر میں غیر قانونی بورنگ، سرکاری قوانین کی خلاف ورزی اور زیرِ زمین پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، تاکہ آبی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6747/2026
قلات6اگست ۔ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی نے امن وامان کی صورتحال کےپیش نظر شہریوں کے لئےاہم سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کردی ہے ڈپٹی کمشنرآفس قلات سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے جان ومال کے تحفظ اورامن وامان برقراررکھنے کیلئے 7اگست سے 12اگست تک اور13اگست سے15اگست اور20.21.25.26اگست کو شام 10بجے سے صبح سات بجےتک کرفیو کانفاذہوگا۔عوام الناس کوسختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ اوقات میں اپنے گھروں سے بایر نہ نکلیں اوراپنے اہلخانے کی حفاظت کیلئے ذمہ دارقانون پسندشہری کی حیثیت سے سیکیورٹی ایس اوپیز پر عمل کریں کرفیو کے خلاف ورزی کی صورت میں لوگ اپنے نقصان کے خود ذمہ دارہونگے۔۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6748/2026
کوئٹہ ، 6 اگست :۔انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہرنے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چائیے کہ صوبے میں امن و استحکام اور پارئیدار امن کے قیام کے لیے اب تک 1195پولیسآفیسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ان گمنام ہیروز نے اپنا خون دیگر ہمیں جینے کا حق دیا موت تو برحق ہے۔ مگر ہمارا عزم ہے کہ بیگناہ لوگوں کے دشمنوں اور ان کےعزائم کو بھی خاک ملاتے رہیں گے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امن و استحکام خود بخود حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ان شہیدوں کی قربانی ہوتی ہے جو ہمیشہ اپنی جان ہتھیلی پے رکھ کر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداءپولیس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں مہمان خصوصی صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءللہ لانگو ، آئی جی ایف سی (نارتھ) عاطف مجتبی، جی او سی 41 ڈیو میجر جنرل ممتاز علی، اسپیکر صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی ،صوبائی وزیرخزانہ میر شعیب نوشیروانی ،صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی میر ظہور احمد بلیدی ،صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید دورانی ، صوبائی وزیر ہیلتھ بخت محمد کاکڑ ، ممبر صوبائی اسمبلی میر علی مدد جتک ، ایڈیشنل آئی جی پولیس بلوچستان جاوید علی مہر ، ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز شہزاد اکبر ، ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اشفاق احمد ، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز حسن اسد علوی ،ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علا الدین، اے آئی جیز سمیت شہدائکے لواحقین سمیت سول اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔آئی جی پولیس بلوچستا ن محمد طاہر نے کہا کہ آج کے دن شہادت کا عظیم رتبہ پانے والے بلوچستان پولیس کے بہادر شہداءکوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں شہداءپولیس ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرسکتیں۔ جن کی جرات اور بہادری کی داستانیں ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں۔ بلوچستان پولیس اپنے فرائض کے حوالے سے ہمیشہ سے پرعزم ہے۔ روز بروز ہمارا عزم مزید پختہ ہوتا جارہا ہے اور ہم دہشت گردی کو جڑسے ا کھاڑ نے اور امن کے قیام کے لئے ہمہ وقت بر سرِ پیکار ہیں۔ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کٹھن حالات میں کام کر رہی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان پولیس کے کئی بہادر افسران اور جوان شہید ہوئے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کی جنگ ہے۔ اور اس میں ہم سب ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ہم سب مل کر لڑ رہے ہیں ہم اپنے شہداء کے مقدس لہو کا بدلہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سب دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہدا کو نہ بھلے ہیں اور نہ ہی کبھی اپنے شہداءکی قربانیوں کو نہیں بھولے گے۔ بلوچستان پولیس اپنے قیام سے آج تک امن کی علمبردار رہی ہے ہمارے جوان ہمہ وقت جرائم اور خصوصا ً دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیا ر رہتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری صفوں میں حامد شکیل ،فیاض سنبل ،ساجد مہمند اور مبارک شاہ جیسے جری اور بہادر اہلکاروں سمیت کئی شہید ہونے والے جوانوں نے اپنی جان کانذرانہ دے کر اس ملک کا پرچم اور ہمارا سر فخر سے بلند کیا۔انہوں نے کہا کہ میں ان شہداءکے خاندانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے ، شوہر ، بھائی اور باپ کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا مگر صبر اور فخر کے ساتھ سربلند رکھا ان کی عزت ، فلاح و بہبود ، تعلیم ، صحت اور روزگار کے تمام تر معاملات ہماری اولین ترجیح ہیں ہم ان خاندانوں کے ساتھ نہ صرف ہمدردی بلکہ عملی تعاون کے پختہ عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں پر فخر ہے کہ جنہوں نے ہمارے سکون کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے ہم نے تما م فرنٹ لائنز پر دہشت گردوں کا بہادری اور جرات مندی سے مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ شہداء کے خاندانوں کی کفالت کو یقینی بنائیں گے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی کے ناسور کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفت غیور نے کمانڈنٹ کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ وہ خودکش حملے میں شہید ہوئے اور ایک بہادر، فرض شناس اور پیشہ ور پولیس افسر تھے، جن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مانگی کے شہداءنے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں اور شہداءکے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے ویلفیئر فنڈ اور شہداءپیکیج کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ شہادت ہماری خواہش ہے، پاکستان ہماری پہچان ہے اور سبز ہلالی پرچم ہماری شان ہے۔آئی جی پولیس بلوچستان نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے اب تک (1195) پولیس آفسران و جوانوں نے جامِ شہا دت نوش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم ان بہادر آفیسروں اور جوانوں کی قربانیوں کا اعتراف کر رہے ہیں ان قربانیوں کا ہی ثمر ہے کہ بلوچستان کےہر شہری خود کو پہلے سے زیا دہ محفوظ سمجھتا ہے۔ بلوچستان پولیس نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ شہدا ئکے خاندانوں کی ہر سطح پر ممکن معاونت ہوسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6749/2026
کوئٹہ 6اگست،وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر وزیراعظم ڈلیوری یونٹ (PMDU) میں موصول ہونے والی شکایت پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کوئٹہ امیر حمزہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علمدار روڈ پر واقع شیر علی مٹن شاپ کا معائنہ کیا۔کارروائی کے دوران دکاندار سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں سے زائد قیمت وصول کرتا پایا گیا، جس پر اسے گرفتار کر کے متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ واضح رہے کہ کوئٹہ کی ایک شہری کی جانب سے پی ایم یو ڈی پر شکایت درج کی گئی تھی کہ مذکورہ دکان مالک سرکاری پرائس لسٹ کے برعکس مہنگے داموں گوشت فروخت کررہاہے جس پر ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ دکان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی اس موقع پر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں ناجائز منافع خوری اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6750/2026
کوئٹہ 6.اگست۔وزیراعلی بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی صدارت میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تحصیلدار سٹی، تحصیلدار صدر، ڈیجیٹلائزیشن سسٹم آفیسران، جی آئی ایس (GIS) کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈیجیٹلائزیشن سسٹم میں لائیو ہونے والے مختلف موضوعات، بالخصوص میوٹیشن کے عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تمام تحصیلداروں اور متعلقہ افسران نے اپنی رپورٹس پیش کیں اور نظام کو مزید موثر، شفاف اور تیز بنانے کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور ضروری اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6751/2026
کوئٹہ 6اگست ۔ صوبائی حکومت کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) کوئٹہ محمد امیر حمزہ کی زیرِ صدارت 14 اگست یومِ آزادی کے سلسلے میں سرکاری و نجی عمارتوں کی سجاوٹ اور چراغاں کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محکمہ تعلیم، پی ٹی سی ایل، این ٹی سی، سرینا ہوٹل، مختلف بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) نے شرکاءکو حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کے مطابق اپنی اپنی عمارتوں کو قومی پرچموں، برقی قمقموں اور دیگر تزئینی سامان سے آراستہ کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ یومِ آزادی قومی جوش و جذبے، حب الوطنی اور شایانِ شان انداز میں منایا جا سکے اور شہر بھر میں جشنِ آزادی کا خوبصورت ماحول نمایاں ہو۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6752/2026
کوئٹہ 6اگست۔معزز بلوچستان ہائی کورٹ کی ہدایات اور کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کی جانب سے قائم خصوصی سب کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں جوائنٹ روڈ کی توسیع سے قبل موجود دکانوں کی تعداد اور ان کی موجودہ حیثیت کے تعین کے حوالے سے اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کوئٹہ حافظ محمد طارق کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی)، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے چیف انجینئر اور چیف آرکیٹیکٹ، پاکستان ریلوے، بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو (BTEB)، تحصیلدار سٹی، جی آئی ایس اسپیشلسٹ (بورڈ آف ریونیو) اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جوائنٹ روڈ کے مشترکہ سروے (Joint Visit)، مختلف محکموں کی رپورٹس، ریکارڈ، نقشہ جات، لیز آرڈرز، الاٹمنٹ آرڈرز اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خصوصی کمیٹی نے دکانوں سے متعلق اپنی رپورٹ مکمل کر لی، جسے معزز بلوچستان ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق مقررہ طریقہ کار کے تحت پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کے ریکارڈ کی تصدیق اور باہمی تعاون کے عمل کو بھی حتمی شکل دی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6753/2026
جیکب آباد:6اگست ۔ سندھ اور بلوچستان کے درمیان جیکب آباد کے متنازعہ سم نالے کی گتھی سلجھانے کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کے احکامات کی روشنی میں بلوچستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ڈپٹی کمشنر آفس جیکب آباد کا دورہ کیا، جہاں ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی کی سربراہی میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ بلوچستان کے وفد میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین،سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ،اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ، سب ڈویژنل افسران امان اللہ گاجانی، عابد علی کھوسہ، امتیاز علی کھوسہ اور دیگر افسران شریک تھےاجلاس میں سندھ ایریگیشن حکام نے متنازعہ جیکب آباد سم نالے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے بلوچستان کا موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلاب سے بلوچستان ٍکے اضلاع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، اس لیے مین حیردین ڈرینج میں سندھ کا مزید اضافی پانی شامل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، انہوں نے کہا کہ تحفظات دور کیے بغیر بلوچستان اپنی حدود میں متنازعہ سم نالے کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ تعمیراتی کام بلوچستان کی سرحد کے قریب پہنچنے کے باوجود سندھ حکام نے تاحال بلوچستان سے این او سی حاصل نہیں کیا جو بے اعتمادی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مین حیردین ڈرینج بلوچستان کے اپنے پانی کے اخراج کی بھی مکمل گنجائش نہیں رکھتا، ایسے میں سندھ کا اضافی پانی بلوچستان کے اضلاع کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ سندھ حکام پہلے ہی آر بی او ڈی کے مقام پر ڈرینج سسٹم کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکام کو بلوچستان کے تمام تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا اور بین الصوبائی گفت و شنید کے بعد ہی بلوچستان کی حدود میں کام کروایا جائے گا،اس وقت تک متنازعہ سم نالے کا تعمیراتی کام بند رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6754/2026
کوئٹہ، 6 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واشک اور مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف جاری قومی مہم کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے غیر ملکی سرپرست اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے پرامن ماحول کو سبوتاڑ کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شب و روز مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے ان کارروائیوں میں پیشہ ورانہ مہارت، بروقت انٹیلی جنس اور موثر حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کا ناسور کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کا مشترکہ چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، عوامی تعاون اور اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں، مگر ان کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جاری قومی کوششوں میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ صوبے میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کے دفاع، سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6755/2026
کوئٹہ، 6 اگست ۔ معاونِ وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے واشک اور مستونگ میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں شاہد رند نے کہا کہ 5 اور 6 اگست 2026 کو بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں “ردالفتنہ-3” کے تحت دو مو¿ثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ “فتنہ الہندوستان” کے 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو ضلع واشک میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے کامیاب کارروائی کی، جس کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے انہوں نے کہا کہ 6 اگست کو ضلع مستونگ میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ دہشت گردوں کا ٹھکانہ بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا معاونِ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “عزمِ استحکام” کے قومی وژن کے تحت ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور صوبے میں دیرپا امن، استحکام اور ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6756/2026
کراچی، 6 اگست۔: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBOIT) کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) میں کراچی کی کاروباری برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلیو اکانومی، سمندری وسائل، بحری حیات اور آبی زراعت کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بالخصوص بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں جھینگے کی فارمنگ کے وسیع مواقع، سرمایہ کاری کے امکانات اور اس شعبے کی ترقی کے لیے جدید طریقہکار پر بھی گفتگو ہوئی۔ وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کا طویل ساحلی خطہ بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے غیر معمولی استعداد رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے آبی زراعت اور سمندری وسائل کی پائیدار ترقی کو یقینی بنا کر نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں AquaVision Consultants (Private) Limited کے ڈائریکٹرز آصف رشید اور عادل امجد نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں جھینگے کی فارمنگ اور دیگر آبی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نجی شعبے کی موثر شمولیت کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Karachi, August 6: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade (BBOIT), Bilal Khan Kakar, met with members of Karachi’s business community at the Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industry (FPCCI) to discuss opportunities for investment and sustainable development in Balochistan’s maritime sector.The meeting featured detailed discussions on the promotion of the blue economy, sustainable utilization of marine resources, marine biodiversity, and aquaculture. Particular focus was placed on the vast potential for shrimp farming along Balochistan’s coastline, investment opportunities in the sector, and the adoption of modern practices to enhance its growth and productivity.Speaking on the occasion, Vice Chairman Bilal Khan Kakar said that Balochistan’s extensive coastline offers exceptional potential for the development of the blue economy. He emphasized that stronger collaboration between the public and private sectors could accelerate the sustainable development of aquaculture and marine resources, create new employment opportunities, and contribute significantly to Pakistan’s economic growth.The meeting was attended by Asif Rashid and Adil Amjad, Directors of AquaVision Consultants (Private) Limited. Participants agreed on the importance of promoting investment in shrimp farming and other aquaculture initiatives across Balochistan’s coastal belt, encouraging the adoption of modern technologies, and strengthening private sector participation to unlock the region’s full economic potential.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6757/2026
کوئٹہ 6اگست ۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں مضرِ صحت، غیر معیاری اور ملاوٹی خوراک کے خلاف جاری کارروائیوں کے تحت کوئٹہ، ہرنائی، ڈیرہ اللہ یار اور حب میں مختلف فوڈ بزنس مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انسپیکشنز کے دوران مجموعی طور پر 21 خوراک کے مراکز کو جرمانہ، 29 فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ 2 فوڈ پروڈکشن یونٹس سیل کر دیے گئے۔ علاوہ ازیں ایک فوڈ پروڈکشن یونٹ کا فوڈ بزنس لائسنس اور پیکنگ مشین بھی ضبط کر لی گئی۔کوئٹہ میں اسپنی روڈ، ایئرپورٹ روڈ، نواں کلی، غوث آباد، سریاب روڈ، ملینیم مال، چوہڑ مل اسٹریٹ، مشین روڈ اور مغربی بائی پاس پر قائم بیکریز، کریانہ و جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، سویٹس و قلفی مینوفیکچرنگ یونٹس، واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس، بیف شاپس، آئس فیکٹریوں اور اچار شاپس سمیت متعدد خوراک کے مراکز کا معائنہ کیا گیا۔کارروائی کے دوران ایک اسنیکس مینوفیکچرنگ یونٹ کو نان فوڈ گریڈ رنگ کے استعمال، بغیر رجسٹریشن مصنوعات کی تیاری و پیکنگ، گمراہ کن لیبلنگ، ناقص صفائی اور عملے کی غیر حفظانِ صحت حالت پر سیل کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ کو بلوچستان فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2014 کی متعدد خلاف ورزیوں، صفائی کے ناقص انتظامات اور قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر سیل کیا گیا۔ مزید برآں ایک قلفی تیار کرنے والے یونٹ میں غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی پیکنگ، صفائی کے ناقص انتظامات اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پر یونٹ کا فوڈ بزنس لائسنس اور پیکنگ مشین ضبط کر لی گئی۔ معائنے کے دوران دیگر مراکز پر ناقص صفائی، ورکرز کی ذاتی صفائی نہ ہونا، آلودہ و زنگ آلود مشینری کا استعمال، گندے پانی کے ٹینک، نکاسی آب کے ناقص انتظامات، واٹر ٹیسٹنگ رپورٹ کی عدم دستیابی، ایکسپائرڈ مصالحہ جات، چاکلیٹس، ساسز، خوردنی آئل اور دیگر اشیائ خورونوش کی فروخت، بغیر فوڈ بزنس لائسنس کاروبار اور نامناسب ذخیرہ کاری پر جرمانے عائد کیے گئے۔دودھ کی کوالٹی چیکنگ کے دوران سبزل روڈ پر موجود ملک شاپس سے دودھ کے نمونے حاصل کرکے موقع پر تجزیہ کیا گیا۔ ٹیسٹ کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 3 دودھ فروشوں کو جرمانہ کیا گیا جبکہ 10 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف کر دیا گیا۔ معمولی نقائص پر مزید 4 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔مذید برآں ہرنائی میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے کوئٹہ روڈ پر کریانہ و جنرل اسٹورز، بیکریوں اور دیگر مراکز کا معائنہ کیا جہاں 8 مراکز کو جرمانہ اور 5 اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ کارروائی کے دوران ایکسپائرڈ چائے، مصالحہ جات، بسکٹ، کیچپ، کیکس، چپس، ریوڑیاں اور دیگر اشیائے خورونوش برآمد ہوئیں، جبکہ بعض دکانوں میں خوراک کے ساتھ کھاد ذخیرہ کرنے جیسے خطرناک عمل پر بھی قانونی کارروائی کی گئی۔دوسری جانب حب میں مرکزی شاہراہ پر قائم واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس اور دیگر خوراک کے مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے صفائی، نکاسی آب اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر 2 واٹر پیوریفیکیشن پلانٹس کو جرمانہ جبکہ 6 فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ اسی طرح ڈیرہ اللہ یار میں بھی مختلف فوڈ بزنس یونٹس کا معائنہ کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6758/2026
گوادر/اورماڑہ: 6اگست ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایات کے مطابق عوام کو بہتر، موثر اور مربوط سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ ڈاکٹر ماہ نور برکت نے آل لائن ڈیپارٹمنٹس کے اہم اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں تحصیلدار اورماڑہ نور خان بلوچ سمیت محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، بلدیہ اورماڑہ، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ فشریز، کیسکو، لائیو اسٹاک، بی اینڈ آر، پولیس، اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مختلف سرکاری محکموں کے انتظامی ڈھانچے، بنیادی سہولیات، جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمت کی فراہمی، ادارہ جاتی کارکردگی اور بین المحکماتی رابطہ کاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر اورماڑہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے بروقت حل، سرکاری منصوبوں کی شفاف اور معیاری تکمیل اور محکمہ جاتی ہم آہنگی کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول اورماڑہ کا دورہ کیا، جہاں جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کرتے ہوئے معیار اور رفتار کا جائزہ لیا۔ بعدازاں انہوں نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گزی لین، اورماڑہ میں زیر تعمیر آئی ٹی لیب کا بھی دورہ کیا اور متعلقہ حکام کو منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ طلبہ جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اورماڑہ کا بھی دورہ کیا، جہاں طبی سہولیات، عملے کی حاضری، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور مجموعی انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ماہ نور برکت نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ عوامی فلاح، موثر گورننس، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعلیمی و طبی اداروں کی بہتری اور تمام محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ تحصیل اورماڑہ میں عوام کو بہتر، شفاف اور معیاری سرکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6759/2026
گوادر:6اگست ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے کے دور دراز علاقوں میں عوام کومعیاری، بروقت اور موثر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت بلوچستان عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر یاسر طاہر نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق بلوچ کے ہمراہ بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) فقیر آباد اور سیول ڈسپنسری ہر بیلار کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے طبی عملے کی حاضری، ادویات کے دستیاب ذخیرے، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے دونوں مراکز صحت میں ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مزید ادویات بھی فراہم کیں اور متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈاکٹر یاسر طاہر نے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے مرکز کا بھی معائنہ کیا، جہاں بچوں کی ویکسینیشن کے ریکارڈ، کولڈ چین سسٹم اور فیلڈ میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہر بچے تک حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت رسائی کو یقینی بنایا جائے اور معمول کی ویکسینیشن مہم کو مزید موثر اور فعال بنایا جائے تاکہ بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر یاسر طاہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان شعب صحت کی بہتری، بنیادی مراکز صحت کی فعالیت، ادویات کی بلاتعطل فراہمی، حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید موثر بنانے اور عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع گوادر کے تمام صحت مراکز کی باقاعدہ نگرانی، شفاف مانیٹرنگ اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6760
کوئٹہ6 اگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبے کی مجموعی شرحِ خواندگی میں %7 فیصد اضافہ اور سات لاکھ اڑسٹھ ہزار بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں واپس لانا محکمہ تعلیم بلوچستان کی ایک قابلِ فخر کامیابی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے تعلیمی پروگرام کے تحت صوبےبھر میں دس دانش اسکولوں کے قیام سے تعلیمی انقلاب برپا ہو جائیگا جس سے بڑے پیمانے پر معیاری تعلیم کے فروغ اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی راہ ہموار ہو جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے ہیلتھ کیئر اسکلز ٹریننگ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ والے ٹاپ ٹین لرنرز کی شاندار کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں پچاس پچاس ہزار روپے نقد رقم دینے کا اعلان کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت بلوچستان ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسکولز اور یونیسف کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، میر عاصم کرد گیلو، رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ، پارلیمانی سیکرٹری برکت رند، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز، وائس بولان میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر شبیر لہڑی، سیکرٹری تعلیم لال جان جعفر، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، یونیسیف سے سحرش ناگی, شازیہ، افتخار شاہ، نقیب اللہ خلجی اور نوراللہ وطن دوست موجود تھے ۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہیلتھ کیئر اسکلز ٹریننگ نمایاں کارکردگی پر، یونیسف، محکمہ تعلیم اور بولان میڈیکل یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی (اسکلز ڈیولپمنٹ) وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نے ہیلتھ اینڈ میڈیکل کے شعبوں میں مختلف ڈپلومہ پروگرامز متعارف کرائے ہیں جن کے نہایت حوصلہ افزا اور شاندار نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ میری خواہش اور بھرپور کوشش ہے کہ کوئٹہ شہر کے مضافات میں کچ روڈ کے قریب ایک ہزار بیڈز پر مشتمل جدید ہسپتال اور ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جائے جہاں نوجوانوں کو ہیلتھ کیئر، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکلز ڈیولپمنٹ کو ہمارے تعلیمی نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل عملی صلاحیتوں اور جدید مہارتوں سے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی اور وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی نے بھی خطاب کیا ۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ہیلتھ کئیر سکلز ٹریننگ میں ٹاپ ٹین لرنرز میں سرٹیفکیٹ اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے ۔
خبر نامہ نمبر 2026/6761
کوئٹہ6 اگست: ـچیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز صوبائی سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے 14 ایجنڈے شامل تھے۔ اجلاس میں محکمے کے آفیسرز کو مختلف گریڈ میں ترقی کی سفارش کی گئی۔ اجلاس میں بی ایس ایس اور بی سی ایس کے 143 آفیسران کو پی بی ایس 19گریڈ سے 20، 18 سے 19, 17 سے 18گریڈ اور 16 سے 17 میں ترقی کی سفارش کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6762
تربت6اگست :کمشنر مکران ڈویژن قادر بخش پرکانی کی زیرِ صدارت کمشنر آفس تربت میں بلیدہ زمیندار الیکشن کمیٹی کے وفد کے مطالبات اور علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی، اربن ڈوپلمٹ پروجیکٹ کے ایکسیئن شعیب سعید، محکمہ زراعت کے آفیسر عارف کریم، بہرام بلوچ ، ایریگیشن بلیدہ کا ایکسیئن انجینئر بیبگر ، ڈی ایس پی نزیر احمد سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلیدہ سے آئے ہوئے زمیندار الیکشن کمیٹی کے وفد نے علاقے کے مختلف مسائل اور مشکلات سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔زمینداروں نے اجلاس میں بتایا کہ بلیدہ میں زرعی شعبے سے وابستہ افراد اور مزدوروں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ زرعی مزدوروں کے حوالے سے سیکیورٹی اور چیکنگ کے معاملات بھی ان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ زمینداروں اور مزدوروں کو درپیش مسائل کا عملی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے تاکہ زرعی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔اجلاس میں بلیدہ میں یوریا کھاد کی عدم دستیابی اور ڈسٹری بیوٹر نہ ہونے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ زمینداروں نے بتایا کہ یوریا کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور زرعی پیداوار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ اور محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بلیدہ میں یوریا کھاد کی فراہمی اور تقسیم کے معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے اور زمینداروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔اجلاس کے دوران بلیدہ میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ زمینداروں کے وفد نے علاقے میں امن و امان سے متعلق مسائل کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔کمشنر مکران نے ایس ایس پی کیچ اور متعلقہ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی روک تھام اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔وفد نے بلیدہ میں تعینات مقامی سول انتظامیہ کے عملے کی جانب سے ڈیوٹی پر حاضری اور سرکاری امور کی انجام دہی سے متعلق بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ کمشنر مکران نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام سرکاری ملازمین اپنی جائے تعیناتی پر موجود رہیں اور عوام کو سرکاری خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتی جائے۔اجلاس میں میناز تا بیڈک زیرِ تعمیر پل کے منصوبے سے متعلق بھی زمینداروں اور مقامی افراد کے تحفظات زیرِ بحث آئے۔ وفد نے منصوبے کے حوالے سے بعض معاملات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے سٹی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ پل کے منصوبے سے متعلق مقامی لوگوں کے تحفظات اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے اور متعلقہ معاملات کو جلد حل کیا جائے تاکہ منصوبے کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔کمشنر مکران نے اجلاس میں واضح کیا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور زمینداروں، شہریوں اور دیگر طبقات کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ بلیدہ کے زمینداروں کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے اور آئندہ اجلاس میں اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6763
گوادر6اگست: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے کے ہر بچے، بالخصوص طالبات، کو معیاری، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے حکومت بلوچستان عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) گوادر زراتون بلوچ نے تحصیل پسنی اور تحصیل اورماڑہ کے مختلف سرکاری تعلیمی اداروں کا تفصیلی دورہ کرکے تدریسی، انتظامی اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلمت میں اساتذہ، اسکول انتظامیہ اور یونین کونسل کے چیئرمین کے ہمراہ اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ادارے کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت اور اسکول میں حفاظتی باؤنڈری وال کی عدم موجودگی کو اہم مسائل قرار دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان مسائل کی فوری نشاندہی کرتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں تاکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔بعدازاں گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول پنجگ، اورماڑہ کا معائنہ کیا گیا، جہاں حال ہی میں تعمیر ہونے والے دو نئے کلاس رومز میں دروازوں اور کھڑکیوں کی تنصیب نہ ہونے کے باعث تدریسی سرگرمیوں میں درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کرکے کلاس رومز کو تدریس کے لیے قابلِ استعمال بنایا جائے۔اسی سلسلے میں گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کوہِ بن، اورماڑہ کے دورے کے دوران معلوم ہوا کہ کلاس رومز کی شدید کمی کے باعث طالبات کھلے آسمان تلے اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے کمروں کی تعمیر تک طالبات کے لیے فوری طور پر عارضی محفوظ شیلٹر فراہم کرنے اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زراتون بلوچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان شعبۂ تعلیم کی ترقی، سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی معیار کی بہتری اور طالبات کو محفوظ و سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع گوادر کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کی بروقت نشاندہی، مؤثر نگرانی اور مرحلہ وار حل کو یقینی بنا کر حکومت کے تعلیمی اصلاحاتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ دوردراز علاقوں کے طلبہ و طالبات بھی معیاری تعلیم کی سہولیات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6764
لورالائی6اگست:ـ ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت ضلعی انٹیلی جنس رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد، میجر کامران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل مینگل، انٹیلی جنس اداروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے و سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی خدشات، حساس سرکاری تنصیبات کے تحفظ اور آئندہ قومی ایام کے موقع پر حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ انٹیلی جنس اداروں نے ممکنہ خطرات سے متعلق تازہ ترین رپورٹ پیش کی، جس کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے، پولیس نفری، اسلحہ اور دیگر وسائل کا ازسرِ نو جائزہ لینے، فرنٹیئر کور کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے، حساس تنصیبات پر مشترکہ مشقوں کے انعقاد اور ضلع بھر کی اہم سرکاری تنصیبات کا سیکیورٹی آڈٹ جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس میں غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے اس عمل کو مزید مؤثر بنانے، بھنگ کی غیر قانونی کاشت کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے، اسمگلنگ کے خلاف مربوط آپریشن جاری رکھنے، معدنیات کی محفوظ ترسیل یقینی بنانے اور دور دراز علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور مشینری کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیافورم نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر دھماکہ خیز مواد کی نقل و حمل اور بلاسٹنگ پر عائد پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے آئندہ احکامات تک یوریا کھاد کی فروخت، نقل و حمل اور ترسیل پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں غیر قانونی اسلحہ فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے اور ان کے کاروبار کے مکمل خاتمے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔اجلاس میں عدالتی افسران، عدالتوں، ہسپتالوں، یونیورسٹی، کالجوں، اسکولوں اور دیگر حساس سرکاری اداروں کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ قومی ایام کے موقع پر تمام تعلیمی اداروں کو جامع سیکیورٹی پلان مرتب کرنے اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مسلسل رابطہ رکھنے کی بھی تاکید کی گئی فورم نے فیصلہ کیا کہ مناسب سیکیورٹی پلان، مطلوبہ حفاظتی انتظامات اور ذمہ داری کے حلف نامے کے بغیر کسی بھی ریلی، جلوس یا بڑے عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ تفریحی مقامات پر غیر ضروری عوامی اجتماعات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی
اجلاس میں تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے سیکیورٹی انچارجز کو دہشت گردوں کی جانب سے سرکاری گاڑیوں، ایمبولینسوں یا دیگر سرکاری نوعیت کی گاڑیوں کے بھیس میں حساس مقامات تک رسائی کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں اور تمام سرکاری دفاتر میں سخت چیکنگ، شناخت کی تصدیق اور معیاری حفاظتی طریقہ کار پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں
اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ قومی تقریبات، کھلی کچہریوں، عوامی شکایات کے ازالے اور دیگر عوامی رابطہ سرگرمیوں میں عوامی نمائندوں کی محدود شرکت سے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ فورم نے اس سلسلے میں عوامی نمائندوں کی فعال شرکت کو ناگزیر قرار دیا
اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر لورالائی، کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت معلومات کے تبادلے اور مربوط کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ضلع میں پائیدار امن و امان برقرار رہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ریاستی رٹ مزید مضبوط ہو۔








