5th-November-2026

خبرنامہ نمبر9675/2026
کوئٹہ، 5 نومبر ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے کم سن شطرنج ماسٹر عبدالرحمٰن نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان اور کم سن شطرنج ماسٹر کے درمیان شطرنج کا دوستانہ مقابلہ بھی ہوا۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے عبدالرحمٰن کی ذہانت، صلاحیتوں اور شطرنج کے کھیل میں مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام سے نوازا۔ ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ کم سن شطرنج ماسٹر عبدالرحمٰن کا تعلق کوئٹہ کے ایک غریب گھرانے سے ہے اور ان کے والد بے روزگار ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بچے کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اس کے خاندان کی معاشی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ان کے والد کو ملازمت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شطرنج جیسے ذہنی کھیل بچوں اور نوجوانوں میں غور و فکر، حکمت عملی، صبر و تحمل اور بروقت فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ بلوچستان کے بچوں میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں مناسب مواقع اور سرپرستی فراہم کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جاسکتا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے باصلاحیت بچوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وسائل کی کمی کسی باصلاحیت بچے کی ترقی اور کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9676/2026
استامحمد5نومبر۔ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی کی خصوصی کاوشوں اور بھرپور دلچسپی کے باعث ضلع ا ستامحمد میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سرکاری اداروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے واضح رہے کہ ضلع استامحمد ایک نیا قائم ہونے والا ضلع ہے جہاں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری محکموں کے دفاتر اور انتظامی عمارتوں کی تعمیر بھی وقت کی اہم ضرورت ہےاس سلسلے میں ضلع میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی تعمیر کا کام پہلے ہی تیزی سے جاری ہے جبکہ ریسکیو 1122 کی عمارت اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر کی تعمیر بھی عمل میں لائی جا رہی ہے ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف ضلعی انتظامی ڈھانچے کو استحکام حاصل ہوگا بلکہ مختلف سرکاری محکموں کو اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دینے کے لیے مستقل اور موزوں دفاتر بھی میسر آئیں گے، جس سے عوام کو سرکاری امور کی انجام دہی میں سہولت حاصل ہوگی۔صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی نے ان ترقیاتی منصوبوں کے معیار، شفافیت اور مقررہ مدت کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے سردارزادہ ضرار خان جمالی کی سربراہی میں ایک خصوصی مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی ہے جو مختلف ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدگی سے دورہ کرکے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیتی ہے اور پیش رفت، معیار اور درپیش مسائل سے متعلق صوبائی وزیر کو آگاہ کرتی ہے۔اسی سلسلے میں آج مانیٹرنگ ٹیم کے سربراہ سردارزادہ ضرار خان جمالی نے ٹیم کے ہمراہ زیر تعمیر ریسکیو 1122 کی عمارت اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی اور باریک بینی سے معائنہ کیا اور عمارتوں کے مختلف حصوں، تعمیراتی معیار اور کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ تمام منصوبوں میں تعمیراتی معیار اور متعلقہ تکنیکی تقاضوں کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور تعمیر ہونے والی عمارتیں پائیدار اور معیاری ہوں انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی غفلت ناقص میٹریل کے استعمال یا غیر ضروری تاخیر کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا مانیٹرنگ ٹیم ان منصوبوں کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ضلع استامحمد میں جاری ترقیاتی عمل کو شفافیت، معیار اور مقررہ مدت کے مطابق مکمل کیا جا سکے ان منصوبوں کی تکمیل سے ضلع کے انتظامی و سرکاری ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور عوام کو بہتر سرکاری خدمات کی فراہمی میں نمایاں مدد ملے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9677/2026
کوئٹہ 5 نومبر۔صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ صوبے کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز جیسے فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کمی اور آبی وسائل کے ضیاع سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے صنعتی اخراج پر قابو پانے، شجرکاری مہمات کو فروغ دینے اور شہری علاقوں میں ماحولیاتی بہتری کے لیے جدید اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے مزید کہا کہ عوامی شمولیت کے بغیر ماحولیاتی اہداف کا حصول ممکن نہیں، لہٰذا شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات کو وسعت دی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے تعاون سے ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آئندہ نسلوں کے لیے ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر وفود نے صوبائی مشیر کو اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا صوبائی مشیر نے ان کے مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9678/2026
بارکھان5 نومبر ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان کی زیرِ صدارت BSDI فیز تھری کے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ اجلاس بارکھان: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کے تحت ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت BSDI فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے منصوبوں پر کام کی پیش رفت، درپیش مسائل اور تکمیل کی صورتحال کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور تعمیراتی معیار کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور انہیں مقررہ مدت میں معیاری انداز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9679/2026
جعفرآباد5نومبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ڈیرہ اللہ یار ضلع جعفرآباد میں جاری سولرائزیشن اور اضافی تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر سب ڈویژنل آفیسر محمد صدیق زہری نے ڈپٹی کمشنر کو منصوبے کے تعمیراتی عمل، اب تک ہونے والی پیش رفت اور جاری کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیاری میٹریل کے استعمال اور تعمیراتی کاموں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ سرکاری اداروں میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے ساتھ عوام کو بھی بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے کہاکہ تمام ترقیاتی عمل انجینئر اپنی نگرانی میں مکمل کروائیں کام کے معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا حکومت عوام کے وسیع تر مفاد میں اقدامات کر رہی ہے ضروری ہے کہ سرکاری منصوبوں سے عوام استفادہ حاصل کر سکیں عوامی مفاد میں جاری ترقیاتی امور کو بہتر معنوں میں مکمل کروائیں تاکہ ان کے دور رس نتائج برامد ہو سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9680/2026
شمالی ڈیرہ بگٹی 5 نومبر ۔و: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے پولیو مہم کے تیسرے روز کی ایوننگ پروگریس میٹنگ ڈپٹی کمشنر شمالی ڈیرہ بگٹی ریاض خان داوڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کوہِ سلیمان ڈاکٹر مہر دین کھیتران، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) ڈاکٹر وکیل شیرانی، ڈاکٹر گل بگٹی، این اسٹاپ (N-STOP) پولیو افسران اور دیگر متعلقہ عملے نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران پولیو مہم کے تیسرے روز کی کارکردگی، فیلڈ ٹیموں کی پیش رفت اور مقررہ اہداف کے حصول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ریاض خان داوڑ نے مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران اور پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں اور پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9681/2026
جھل مگسی5نمبر۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ کی زیرِ صدارت ضلعی ریونیو امور اور سرکاری محصولات کی وصولی کے حوالے سے ریونیو افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تحصیلدار جھل مگسی ارباب خان مگسی تحصیلدار گنداواہ اقبال سولنگی نائب تحصیلدار میرپور سلیمان خان جویہ سمیت متعلقہ پٹواریوں اور دیگر ریونیو عملے نے شرکت کی اجلاس کے دوران ضلع بھر میں ریونیو سے متعلق جاری امور سرکاری محصولات کی وصولی گردآوری کے عمل اور مختلف ریونیو رپورٹس کی تیاری و پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ڈپٹی کمشنر سید رحمت اللہ شاہ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ریونیو میٹنگز کا باقاعدگی سے انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ درپیش مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیںانہوں نے ہدایت کی کہ اے آئی ٹی AIT انکم ٹیکس اور کاشتکاری سے متعلق رپورٹس مکمل معلومات اور درست اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کرکے مقررہ وقت پر پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر سے اجتناب کیا جائے اور تمام متعلقہ ریکارڈ کو بھی باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ سرکاری محصولات کی وصولی اور گردآوری کے عمل کو مزید موثر اور منظم بنایا جائے، جبکہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام ریونیو افسران اور اہلکار اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری دیانت داری محنت اور تندہی سے ادا کریں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریونیو امور میں شفافیت نظم و ضبط اور عوامی سہولت کو ترجیح دی جائے اور سرکاری واجبات کی وصولی کے عمل میں تسلسل برقرار رکھا جائے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے کارکردگی اور پیش رفت سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے ضلعی انتظامیہ کو پیش کی جائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9682/2026
گوادر 5 نومبر ۔ عالمی یومِ آگاہی سونامی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ ، محکمہ تعلیم اور رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل (RCDC) کے اشتراک سے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گوادر میں سونامی سے بچاو اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے آگاہی سیشن منعقد کیاگیا سیشن میں ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن وہاب مجید، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر RCDC عبداللہ عثمان اور ار سی ڈی کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری نیاز ابراہیم نے طلبہ اور اساتذہ کو سونامی کے ممکنہ خطرات، قدرتی انتباہی علامات، بروقت انخلاء اور ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے ضروری حفاظتی تدابیر سے آگاہ کیا مقررین نے کہا کہ گوادر سمیت بلوچستان کی ساحلی پٹی پر آباد آبادیوں کے لیے سونامی سے متعلق شعور و آگاہی ناگزیر ہے سمندر کے اندر زلزلے کے جھٹکوں کے بعد سطحِ آب میں غیر معمولی ہلچل اور ریل گاڑی یا جیٹ طیارے جیسی تیز گڑگڑاہٹ کی آواز سونامی کی ممکنہ قدرتی انتباہی علامات میں شامل ہیں۔ ایسی علامات محسوس ہونے پر فوری طور پر محفوظ اور بلند مقامات کی جانب منتقل ہو جانا چاہیے اور سمندر کے پانی کا اچانک غیر معمولی طور پر پیچھے ہٹنا یا سمندر کی سطح میں غیر معمولی تبدیلی سونامی کی ممکنہ قدرتی علامات ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں کسی سرکاری اعلان کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر ساحل سے دور اور بلند محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا چاہیے۔سیشن میں شرکاءکو بتایا گیا کہ سونامی کی صورت میں محفوظ انخلاء کے راستوں کی پیشگی نشاندہی، ہنگامی منصوبہ بندی، خاندان کے افراد کے لیے رابطے کا طریقہ کار، ضروری سامان کی تیاری اور سرکاری ہدایات پر عمل درآمد انسانی جانوں کے تحفظ میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سونامی کی لہروں کے دوران ساحل، بندرگاہوں اور ساحلی نشیبی علاقوں سے دور رہنا اور خطرہ مکمل طور پر ختم ہونے تک محفوظ مقام پر قیام کرنا ضروری ہے مقررین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے آگاہی پروگراموں کا انعقاد طلبہ اور اساتذہ کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ یہ شعور گھروں اور پوری ساحلی علاقوں کے لوگوں تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے انہوں نے کہا کہ سونامی سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے بروقت آگاہی، قدرتی انتباہی علامات کی پہچان اور فوری و منظم انخلاء بنیادی حفاظتی اقدامات ہیں، کیونکہ قدرتی آفات کے دوران بروقت فیصلہ اور درست اقدام قیمتی انسانی جانیں بچا سکتا ہے۔سیشن کے دوران شرکاء کو سونامی کے ممکنہ خطرات، قدرتی انتباہی علامات، حفاظتی تدابیر اور ہنگامی حالات میں محفوظ انخلاء سے متعلق معلوماتی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس کے ذریعے شرکاء کو سونامی سے بچاو کے عملی اقدامات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے موثر آگاہی فراہم کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9683/2026
جعفرآباد5نومبر۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے فلاحی اداروں کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈیرہ اللہ یار میں منعقدہ فری آئی میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا،اس موقع پر انہوں نے ایک آنکھوں سے متاثرہ خاتون کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر کیمپ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ تقریب میں سیاسی و قبائلی رہنما میر مٹھا خان بادینی، محکمہ صحت کے افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے فری آئی میڈیکل کیمپ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور منتظمین سے کیمپ میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، مریضوں کے معائنے، آنکھوں کے امراض کی تشخیص اور مفت تقسیم کی جانے والی ادویات کے حوالے سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ فلاحی اداروں کی جانب سے مستحق اور غریب مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، ایسے فری میڈیکل کیمپس سے ان افراد کو خصوصی فائدہ پہنچتا ہے جو مہنگے علاج اور ادویات کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے، فلاحی اداروں اور محکمہ صحت کے باہمی تعاون سے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کیمپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے منتظمین کی خدمات کو قابلِ تعریف قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9684/2026
جعفراباد5نومبر۔ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم کے افسران سمیت متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع جعفرآباد میں تعلیمی نظام کی بہتری، تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل اور جاری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور اقدامات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،جبکہ آر ٹی ایس ایم (RTSM) کی پیشرفت، فیلڈ اسٹاف کی کارکردگی اور ترقیاتی امور کی نگرانی، پی ٹی ایس ایم سی ایس (PTSMCs) کی موجودہ صورتحال اور تعلیمی اداروں میں جاری تعمیراتی اسکیموں پر بھی غور کیا گیا۔اس کے علاوہ یونیسیف کے تعاون سے جاری منصوبوں کی پیشرفت، ضلع کے کالجز کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں ضلع جعفرآباد کے پانچ کنٹریکٹ اساتذہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ تعلیم کے شعبے سے متعلق دیگر اہم مسائل اور انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے تعلیمی نظام کی بہتری، سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے متعلقہ افسران کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کرنے کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر9685/2026
کوئٹہ5 نومبر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کے زیر صدارت اپ لفٹنگ آف رکھنی ٹاون و ری ماڈلنگ آف رکھنی بازار منصوبے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں چیف انجینئر لورالائی ڑوب زون زبیر احمد کھوسہ ایس ای بارکھان و موسیٰ خیل عبدالرازق مندوخیل ایگزیکٹیو انجینئر بارکھان انجنیر فضل کریم ٹیکنیکل ایڈوائزر احسان اللہ دوتانی متعلقہ کنسلٹنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھےاجلاس کے دوران منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے تعمیراتی سرگرمیوں درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیابریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام جاری ہے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے رکھنی ٹاون کی اپ لفٹنگ اور بازار کی ری ماڈلنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کے بعد رکھنی کو بطور ڈویژنل ہیڈکوارٹر خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ہےاس تناظر میں شہر کی بنیادی سہولیات سڑکوں نکاسی آب بازاروں اور شہری ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ رکھنی شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور معیار کو یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو یہ واضح ہدایات دیں کہ جہاں جہاں انھیں کام کے لیے مواقع حاصل ہیں وہاں پوری رفتار کے ساتھ کام کو تیز کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ٹیم ورک کے ساتھ کام کرنا ہے تاکہ یہ اہم نوعیت کا منصوبہ اپنے وقت مقررہ پر مکمل ہو سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی یہ اولین ترجیع ہے رکھنی شہر کو دور حاضر کے جدید سہولیات سے ہم آہنگ کریں جس کے کشادہ سڑکیں موثرسٹریٹ لائیٹس معیاری بائی پاس کے علاوہ مرکزی بازار میں دکانوں اور ریڑھی بانوں کے لیے الگ اور منظم جگہ فراہم کی جائے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رکھنی شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمند تعبیر کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9686/2026
گوادر 5 نومبر ۔: عالمی یومِ آگاہی سونامی کے موقع پر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں خصوصی آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد طالبات میں سونامی کے ممکنہ خطرات، اسباب، قدرتی انتباہی علامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی تدابیر سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا تقریب کے آغاز میں طالبات کو ایک معلوماتی ڈاکومنٹری دکھائی گئی، جس میں سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلوں اور ان کے نتیجے میں سونامی کی لہریں پیدا ہونے کے سائنسی عمل کو تفصیل سے سمجھایا گیا۔اس موقع پر کالج کی پرنسپل نے اپنے خطاب میں دنیا کے مختلف ممالک، بالخصوص انڈونیشیا اور جاپان میں آنے والی تباہ کن سونامی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے بچاو کے لیے بروقت آگاہی، پیشگی تیاری اور حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے انہوں نے مکران کی ساحلی پٹی کی جغرافیائی اور ارضیاتی حساسیت کا ذکر کرتے ہوئے 1945 کے تباہ کن مکران ساحلی زلزلے اور اس کے نتیجے میں آنے والی سونامی کے تاریخی واقعے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سمیت ساحلی علاقوں میں قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں اور عوام میں حفاظتی شعور کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تقریب میں کالج کے فیکلٹی ممبران نے بھی سونامی کے سائنسی اسباب، ممکنہ اثرات اور حفاظتی حکمت عملیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ طالبات کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس ہونے، سمندر کا پانی اچانک پیچھے ہٹنے اور سمندر سے غیر معمولی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دینے جیسی قدرتی انتباہی علامات سے آگاہ کیا گیا۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ ایسی صورتحال میں بلا تاخیر ساحل سے دور محفوظ اور بلند مقامات کی جانب منتقل ہوں اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9687/2026
کوئٹہ5 نومبر صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید کے حوالے سے وارنٹ گرفتاری کی خبر جھوٹ پر مبنی ہے: ترجمان اسپورٹس ڈپارٹمنٹ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9688/2026
کوئٹہ 5نومبر۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے کمیٹی کے مختلف ایجنڈا پوائنٹس پر پیش کی گئی پیشرفت، امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور متعلقہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات، مشتبہ افراد کی پروفائلنگ، فورتھ شیڈول کی اپ ڈیٹ، جوائنٹ رسپانس سینٹرز، مدارس کی رجسٹریشن، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں، تعلیمی اداروں اور صحت مراکز کی فعالیت سمیت دیگر اہم امور زیرِ بحث آئے۔اجلاس میں ایس ایس پی ایڈمن دوستین ،ڈی ایس پی سی ٹی ڈی سید شیبر شاہ ،ڈپٹی ڈائریکٹر سے این ایف کاشف مشتاق کے علاو¿ہ اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ اور ایکسائز،کسٹم،نادرا،اسپیشل برانچ،ایف ائی اے ،ایف سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موجود تھے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی (DIC) کے اجلاس ماہانہ بنیادوں پر منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ بیسا (BISA) ڈیش بورڈ پر شکایات اور متعلقہ سرگرمیوں کا ڈیٹا باقاعدگی سے اپ لوڈ کرنے کے عمل کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی پروفائلنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ عمل محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس پر کام جاری ہے۔اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل 120 مشتبہ افراد کے نام پہلے ہی بیسا ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ڈیٹا کی تصدیق اور درستگی کے لیے سی ٹی ڈی کے ساتھ مزید رابطہ کاری کی جائے گی۔جوائنٹ رسپانس سینٹر (JRC) کے قیام کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ مرکز 30 جنوری 2025 کو قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت ضلعی پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو، کسٹمز، ایکسائز، نادرا، ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی اور فرنٹیئر کور کو اپنے فوکل پرسنز نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاسوں کی تعداد اور ان میں زیرِ بحث اہم امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اجلاسوں میں امن و امان، سیکیورٹی خدشات، نجی سیکیورٹی گارڈز اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد سے متعلق معاملات پر غور کیا جاتا ہے۔مدارس کے ضوابط اور رجسٹریشن کے حوالے سے اسپیشل برانچ کی جانب سے فراہم کردہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی فہرست کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ اسپیشل برانچ 96غیر رجسٹرڈ مدارس کی جغرافیائی نشاندہی پر مشتمل تازہ ترین فہرست فراہم کرے، جبکہ بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) کو مدارس کی رجسٹریشن کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی۔ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے حوالے سے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف موثر کارروائیاں کریں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کی تفصیلی رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو جمع کرائیں۔اسی طرح تخریب کارانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنے والے اسکول اساتذہ سے متعلق ایجنڈا پوائنٹ پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کوئٹہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی۔محکمہ تعلیم کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ مسلسل غیر حاضری پر 46 اساتذہ کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جبکہ ضلع کوئٹہ میں 152 غیر فعال اسکولوں میں سے 125 اسکولوں کو دوبارہ فعال بنا دیا گیا ہے۔جبکہ مستونگ میں 410اسکول فعال ہیں۔جوکہ تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے اہم پیشرفت ہے۔صحت کے شعبے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کے اجلاس میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضلع میں 52 بنیادی مراکزِ صحت (BHUs)، 5 دیہی مراکزِ صحت (RHCs)، 6 زچہ و بچہ مراکز (MCHs) اور 3 ڈسپنسریاں فعال ہیں۔ اجلاس میں صحت مراکز کی فعالیت برقرار رکھنے اور عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔سرکاری اور نجی ہاسٹلز کے معائنے اور نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں اسپیشل برانچ کے نمائندے کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ تمام سرکاری و نجی ہاسٹلز کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر ہاسٹل میں مقیم افراد اور رجسٹرڈ الاٹیز کی مکمل فہرست موجود ہو۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تخریب کار عناصر کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف اقدامات اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی روک تھام سے متعلق امور بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھے۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، کسٹمز اور پولیس کو ضروری اقدامات اٹھانے اور اپنی کارروائیوں کی پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں مجموعی طور پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اور ضلعی انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں طے شدہ اہداف پر موثر عمل درآمد یقینی بنائیں، باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط کریں اور مانیٹرنگ کمیٹی کے تمام ایجنڈا پوائنٹس پر پیشرفت کی رپورٹس باقاعدگی سے فراہم کریں تاکہ امن و امان کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9689/2026
گوادر5 نومبر ۔ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر و اسپیشل ایجوکیشن مکران ڈویڑن محمد عیسیٰ کی خصوصی ہدایات پر میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال گوادر میں معذوری سرٹیفکیٹس کے اجراء کے لیے ماہانہ میڈیکل اسسمنٹ بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال گوادر نے کی اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر گوادر میر جان، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد حسن، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فاروق، میڈیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر شے سعید اور سوشل ویلفیئر آفیسر میڈیکل سوشل سروسز سینٹر گوادر عبیداللہ سمیت متعلقہ عملے نے شرکت کی اجلاس میں معذوری سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے موصولہ درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور درخواست گزاروں کے طبی معائنے و جانچ پڑتال کے بعد 22 افراد کے معذوری سرٹیفکیٹس کے اجرائ کی منظوری دی گئی، جبکہ ایک درخواست مسترد کر دی گئی محکمہ سوشل ویلفیئر کے مطابق اجلاس میں مجموعی طور پر 27 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 23 درخواست گزار میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہوئے ۔اجلاس میں گیا کہ ضلع گوادر میں خصوصی افراد کو معذوری سرٹیفکیٹس کے اجراءکا عمل آسان، شفاف اور موثر بنانے کے ساتھ انہیں متعلقہ سرکاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی محکمہ سوشل ویلفیئر و اسپیشل ایجوکیشن ضلع گوادر، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر مکران ڈویڑن کی ہدایات کے تحت خصوصی افراد کی فلاح و بہبود، حقوق کے تحفظ اور انہیں حکومتی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9690/2026
نصیرآباد5نومبر۔کمشنر نصیر آباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت ڈیرہ مراد جمالی ٹاون الاٹمنٹ سپروائزری کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندرلعل کمیٹی کے ممبران ڈویژنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ زاہد حسین بگٹی عبدالصمد کھوسہ شریک تھے اجلاس میں گذشتہ سپروائزری کمیٹی میں لئے گئے فیصلوں پہ عمل درامد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سروے کے اب تک کے کام کا جائزہ لیا گیا۔ ہاوس ہولڈ اور ڈسٹرکٹ کمیٹی کو ہدایات جاری کی گءکہ سروے کاکام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس تناسب سے سرکاری دفاترز رہائش گاہوں سفید پلاٹس عوام کے مکانات دکانات عبادت گاہوں قبرستان اور دیگر اراضی کے حوالے سے سروے کے جامع رپورٹ جمع کروائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جن جن محکموں کی کالونیاں قائم ہیں ان کی بھی رپورٹ مرتب کی جائیں تاکہ الاٹمنٹ کی پالیسی کے تحت ان محکموں کے نام الاٹمنٹ کی جائیں اور حکام بالا کے احکامات اور سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9691/2026
چمن 5نومبر۔ شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد یوسف نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔اس سلسلے میں ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر محمد اویس، اسسٹنٹ کمشنر عزیز اللہ خان کاکڑ تحصیلدار احمد خان اور ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر پولیو اشرف خان نے شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد یوسف سے ملاقات کی اور انہیں جاری انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔اس موقع پر مولانا حافظ محمد یوسف نے کہا کہ ان کے والد گرامی شیخ الحدیث الحاج مولانا عبدالغنی نوراللہ مرقدہ نے بھی بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کے حق میں باقاعدہ فتویٰ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات یا تحفظات کی صورت میں افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے انتظامیہ اور مستند ڈاکٹرز سے رجوع کیا جائے اور درست معلومات حاصل کی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں پولیو کے 50 سے زائد کیسز رپورٹ ہونا پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے، لہٰذا پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے معاشرے کے ہر فرد، بالخصوص والدین اور علماءکرام کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔مولانا حافظ محمد یوسف نے کہا کہ موجودہ انسدادِ پولیو مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی، اس دوران والدین اپنی قومی و دینی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9692/2026
چمن 5نومبر۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اجلاس، امن و امان اور بین المحکمہ جاتی رابطہ کاری سمیت ضلعی امور کا جائزہ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت آج ڈپٹی کمشنر آفس چمن میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چمن اسکاوٹس، 40 ایف ایف، ضلعی پولیس، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس، ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن، اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، انٹیلی جنس بیورو (IB)، کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)، اسپیشل برانچ اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع چمن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات، مختلف سرکاری محکموں کے مابین باہمی رابطہ کاری، انتظامی امور اور عوامی مفاد سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ اداروں کے درمیان موثر تعاون، بروقت معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے درپیش انتظامی و سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور سرکاری امور کی موثر انجام دہی کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع چمن میں امن و امان کے استحکام، انتظامی بہتری اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 9693/2026
سیوی 5 نومبر ۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ایس پی سیوی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر ملک بہادر خان بنگلزئی، چیئرمین میونسپل کمیٹی سردار محمد خان خجک سمیت تمام محکموں کے افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں و افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور شہری مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ بلوچستان سپشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے فیز ون اور ٹو کی تکمیل کے بعد فیز تھری پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اگر کسی شہری یا متعلقہ فریق کو کوئی شکایت یا تجویز ہو تو وہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے فورم پر پیش کرے تاکہ مسائل کا بروقت ازالہ اور منصوبوں پر شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سرد موسم کے باعث ان دنوں سیوی میں آبادی اور لوگوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مختلف سرد علاقوں اور دیگر اضلاع سے لوگوں کی بڑی تعداد یہاں منتقل ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی کے موثر انتظامات اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ باہر سے آنے والے ہر فرد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس یا ڈپٹی کمشنر آفس کو اطلاع دی جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے باہر سے آئے ہوئے مزدوروں اور دیگر عملے کے شناختی کارڈز کی تصدیق اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد ان کا مستند ڈیٹا مرتب کرکے ایس ایس پی آفس اور ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کروایا جائے۔ اس کے علاوہ داخلی و خارجی راستوں کی موثر نگرانی، خالی گھروں اور عمارتوں کی چیکنگ اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی موجودگی سے متعلق معلومات متعلقہ حکام کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں سیوی بازار اور الہ آباد روڈ پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا باعث بننے والی تجاوزات کے خلاف آئندہ ہفتے سے باقاعدہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاکہ بازار اور اہم شاہراہوں کو تجاوزات سے پاک کرکے ٹریفک کی روانی اور شہری سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔ آخر میں ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ ضلع میں پائیدار امن، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے، موثر حکمت عملی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کے قیام اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر9694/2026
کوئٹہ 5نومبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک سرکلر کے مطابق ضلع ویسٹ کوئٹہ کے تمام مدارس کو بذریعہ ہذا نوٹس ضلع کوئٹہ ویسٹ میں قائم تمام دینی مدارس کے منتظمین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اندرونِ سات (07) یوم بلوچستان چیریٹی اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) کے تحت باقاعدہ رجسٹریشن کرائیں اور دفتر میں ضروری دستاویزات کے ہمراہ تشریف لائیں۔بصورتِ دیگر غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر 9695/026
سیوی 5 نومبر 2026؛
ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی صدارت میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے آخری روز کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی سیوی عبدالحمید، محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی، اے کے یو کے افسران و نمائندگان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، مانیٹرز، یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پولیو مہم کے تمام دنوں کی مجموعی کارکردگی، یونین کونسلز کی سطح پر حاصل کردہ اہداف، بچوں کی ویکسینیشن کوریج اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر یو سی ایم اوز نے اپنی اپنی یونین کونسلز کی تازہ ترین پیش رفت اور ویکسینیشن ڈیٹا کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے مہم کے دوران پولیو ٹیموں، ویکسینیٹرز، مانیٹرز اور متعلقہ اداروں کی مجموعی کارکردگی اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ٹیموں نے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دینے کے لیے بھرپور محنت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے فیلڈ میں کام کرنے والے ویکسینیٹرز اور دیگر عملے کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، تاہم مہم کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار کی درستگی بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے ڈیٹا کی درستگی کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام یو سی ایم اوز اور متعلقہ افسران آج شام تک اپنے اپنے علاقوں کا مکمل ڈیٹا دوبارہ چیک کرکے اس کی درستگی یقینی بنائیں اور تصدیق شدہ اعداد و شمار بروقت ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیے جائیں۔ کسی بھی قسم کی غلط رپورٹنگ، نامکمل معلومات یا اعداد و شمار میں تضاد کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مہم کے دوران رہ جانے والے بچوں، زیرو ڈوز اور مسڈ چلڈرن کے ریکارڈ کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے تاکہ حقیقی کوریج اور رپورٹ شدہ ڈیٹا میں یکسانیت برقرار رہے۔ انہوں نے محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او، آئی ایس ڈی، اے کے یو اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران پر زور دیا کہ مہم کے بعد بھی پولیو کے خاتمے کے لیے نگرانی اور رابطہ کاری کا عمل جاری رکھا جائے۔اجلاس میں ایس ایس پی سیوی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے تعاون کو بھی اہم قرار دیا گیا اور پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی انتظامات اور ٹیموں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کے حوالے سے مشترکہ کاوشوں کو سراہا گیا۔

خبرنامہ نمبر9696/026
جعفرآباد۔۔۔۔ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ ریونیو کے افسران، تحصیل داران اور عملہ مال نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تحصیل داران اور متعلقہ عملے نے سرکاری واجبات کی وصولی کے حوالے سے اپنی اپنی تحصیلوں کی صورتحال اور پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری واجبات کی وصولی ہر صورت یقینی بنائی جائے، ضلع جعفرآباد میں خریف سیزن کی گرداوری کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، لہٰذا اب سرکاری واجبات کی وصولی میں کسی قسم کا عذر یا اعتراض ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے تمام تحصیل داران اور عملہ مال کو سختی سے ہدایت کی کہ زمینداروں سے سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری واجبات کی ادائیگی سے روگردانی کرنے والے زمینداروں کو باقاعدہ سرکاری نوٹسز جاری کیے جائیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری واجبات کی بروقت اور مکمل وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9697/026
اوتھل:کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرِ صدارت افغان مہاجرین کے انخلاء سے متعلق امور اور ڈویژن لسبیلہ کو درپیش اہم انتظامی، سیکیورٹی اور امن و امان کے مسائل کے حوالے سے ایک اہم ترین اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی (DIG) پولیس لسبیلہ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر ضلع لسبیلہ اور ایس پی (SP) پولیس ضلع لسبیلہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔لسبیلہ ڈویژن میں مقیم افغان مہاجرین کی مجموعی تعداد، ان کی موجودہ لوکیشنز، رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
غیر قانونی تارکین کی نشاندہی ڈویژن کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی فوری اور مؤثر نشاندہی کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ مانیٹرنگ مزید تیز کرنے کی ہدایت۔کی گئ ۔حکومتی گائیڈ لائنز پر عمل کرتے ہوئے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت کی وضع کردہ پالیسی اور متعلقہ ہدایات پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانا۔امن و امان اور سیکیورٹی چیلنجز ڈویژن لسبیلہ خصوصاً حب اور آر سی ڈی شاہراہ پر امن و امان کو برقرار رکھنے، اسمارٹ پولیس چیکنگ اور انتظامی سیکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ۔کیاگیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان کو کڑی ہدایات جاری کیں کہ ڈویژن بھر کے شہری۔وں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف حکومتی پالیسی کے تحت بلا امتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، اور تمام متعلقہ محکمے آپسی کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط بنائیں۔

خبرنامہ نمبر9698/026
کوئٹہ5 نومبر2026: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی صوبے کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے زراعت اور دیگر معاشی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے متلاشی ہونے کی بجائے دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے جبکہ گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی میں جدید ڈیجیٹل ای لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔ انہوں نے ای لائبریری کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل وسائل تک رسائی نوجوانوں میں فکری وسعت، ریسرچ اور علم کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔ گورنر بلوچستان نے ان خیالات کا اظہار بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS) کوئٹہ کے زیرِ اہتمام نئے داخل ہونے والے طلباء و طالبات کے اعزاز میں منعقدہ اورنٹیشن اور وائٹ کوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی، فیکلٹی ممبرز، طلباء و طالبات اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ ماضی میں اکیڈمک ڈگریوں کی اہمیت زیادہ تھی تاہم موجودہ دور میں پریکٹیکل مہارتوں اور اسکلز ڈیولپمنٹ کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز مکمل کرنے والے نوجوان اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ نوجوانوں کیلئے جاپان، چین اور دیگر ممالک میں اسکالرشپ کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ انہوں نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی مالی معاونت میں موجودہ حکومت اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیز کو درپیش مشکلات کے حل اور تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ سینیٹ اور سنڈیکیٹ جیسے ادارے یونیورسٹیوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان میں شامل انتہائی پڑھے لکھے تجربہ کار اور ماہرین اور سینئر شخصیات اپنی اعلیٰ بصیرت اور اجتماعی دانش سے تعلیمی اداروں کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی بہتری کیلئے کی جانے والی انتھک کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آچکے ہیں اور سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اور اسکورنگ میں ڈبل اضافہ ہوا ہے۔گورنر بلوچستان نے پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندی کے باعث 100 سے زائد پی ایچ ڈی اسکالرز کے صوبہ چھوڑنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینئر پروفیسرز اور ریسرچرز کو جاب سیکورٹی اور مناسب معاوضہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے صوبائی کابینہ کی منظوری اور باہمی مشاورت سے جلد اقدامات کیے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مستحق طلبہ مالی مشکلات اور فیس ادائیگی کی استطاعت نہ رکھنے کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی کو مستحق طلبہ کی فیسوں میں رعایت دینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ فیس کم کرنے اور طلبہ کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے حامی رہے ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے تاہم انسان خود اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ایک عظیم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو مختلف بحرانوں سے نکالنے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی تعاون حاصل رہا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کی کوششوں کو بھی سراہا۔
وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی نے کہا کہ آج ہم سب کیلئے فخر اور اعزاز کا دن ہے کیونکہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نے بیک وقت کئی اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی ہدایات پر شروع کیے گئے شارٹ اور لانگ پروفیشنل کورسز کیلئے اب تک 20 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جو صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کی تاریخ میں ایک منفرد کامیابی ہے۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید تعلیم، ڈیجیٹل سہولیات، پریکٹیکل مہارتوں اور مالی معاونت کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائیگا تاکہ وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو روشن کر سکیں بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔

خبرنامہ نمبر9699/026
رکھنی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور صوبائی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کے مطابق رکھنی ماڈل بازار کو خوبصورت، منظم اور جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی سے واپڈا آپریشن، آر ای ڈی (R.E.D) اور پلاننگ ٹیم کے نمائندگان نے ملاقات کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت بھی شریک ہوئے۔
ملاقات میں رکھنی ماڈل بازار کے جاری ترقیاتی منصوبے سے متعلق تکنیکی مسائل، بجلی کی تنصیبات اور دیگر ضروری امور کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ ٹیموں نے مسائل کے حل اور کام میں باہمی رابطہ کاری بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں سڑکوں کے میڈینز اور اطراف میں شہری شجرکاری کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا اور اس کے خدوخال کو حتمی شکل دی گئی۔ طے کیا گیا کہ متعلقہ محکمے باہمی مشاورت سے شجرکاری کے لیے مناسب مقامات، پودوں کے انتخاب اور ان کی دیکھ بھال کے انتظامات یقینی بنائیں گے۔کمشنر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ رکھنی ماڈل بازار کو خوبصورت، منظم اور منصوبہ بندی کے مطابق ترقی دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے میں حائل تکنیکی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور تمام متعلقہ محکمے رابطے کے ساتھ کام کریں، تاکہ ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق اور بروقت مکمل کیا جائے-

خبرنامہ نمبر9700/026
سوراب05 نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کی فعالیت اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کے بعد اناری اسکول کو فعال کر دیا گیا ہے جہاں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری یقینی بناتے ہوئے تدریسی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر شروع کر دی گئی ہیں اسکول میں اساتذہ کی موجودگی اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت سے تعلیمی ماحول بحال ہو گیا ہے اسکول کی فعالیت اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کو عوامی حلقوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اسی طرح ضلع بھر کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اساتذہ اور طلبہ کی حاضری یقینی بنا کر تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے بچوں کو ان کی دہلیز پر معیاری تعلیم کی سہولیات میسر آ سکیں۔

خبرنامہ نمبر9701/026
سوراب05 نومبر 2026: ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے سوشل میڈیا پر نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے موسم سرما کی تعطیلات کے دوران فیسوں کی وصولی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف نجی اسکولوں کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے طلبہ اور اساتذہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور تعطیلات کے دوران فیسوں کی وصولی اسکولوں کے کرایوں، بجلی کے بلوں، اساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر متعلقہ امور پر ان کی آراء معلوم کیں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ سوراب کے تمام بڑے نجی تعلیمی اداروں کا دورہ کرکے طلبہ اور اساتذہ کی آراء حاصل کریں گے جس کے بعد تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سنجیدہ اور مناسب فیصلہ کیا جائے گا اس دوران انہوں نے اسکولوں میں صفائی تعلیمی ماحول اور دیگر سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور طلبہ سے ملاقات کی۔*

خبرنامہ نمبر9702/026
قلات:ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری کے خصوصی احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر قلات ندیم اکرم کا شہر کے مختلف بینکوں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ندیم اکرم نے مختلف بینکوں کے منیجرز سے ملاقات کی اور بینکوں میں نقد رقوم (کیش) کی دستیابی، صارفین کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور دیگر امور سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر انہوں نے بینکوں کی جانب سے دکانداروں کو فراہم کردہ ٹرانزیکشن ڈیوائسز اور ٹرانزیکشن ٹیکس کی کٹوتی سے متعلق بھی معلومات حاصل کیں۔
اسسٹنٹ کمشنر نے بینک منیجرز کو ہدایت کی کہ ملازمین، پنشنرز، تاجروں اور دیگر کاروباری حضرات کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے بینکوں میں نقد رقوم کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے، تاکہ شہریوں کو لین دین اور دیگر بینکاری امور کی انجام دہی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خبرنامہ نمبر9703/026
زیارت 5 نومبر 2026:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ انتظامیہ زیارت کے افسران نے بی ایس ڈی آئی سکیمات کے سلسلے میں رگ بور کا دورہ کیا دورے کے دوران افسران نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اور معیار کے مطابق مکمل کیا جائے

خبرنامہ نمبر9704/026
تربت 5 نومبر 2026: جامعہ تربت نے یونیسیف اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر آگاہی سیشن کا انعقاد کیا۔ سیشن میں جامعہ تربت کے فیکلٹی ممبران، طلبہ اور گرین یوتھ موومنٹ کلب سمیت مختلف اسٹوڈنٹ کلبزاور سوسائٹیز کے ممبران نے شرکت کی۔ سیشن میں لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے ڈاکٹر حمید بلوچ اور ڈاکٹر عزیز احمد، یونیسیف کے صوبائی فیلڈ کوآرڈینیٹر فراز گچکی اور فیکلٹی آف سائنس، انجینئرنگ اینڈ آئی ٹی کے ڈین ڈاکٹر حنیف الرحمٰن نے بطور کلیدی مقررین شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے طلبہ اور نوجوانوں کے کردار اور ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیشن میں جامعہ تربت کے فیکلٹی ممبران ڈاکٹر عبدالقیوم، ڈاکٹر غلام جان اور ثمینہ فقیر نے بھی خطاب کیا۔ سیشن کا مقصد طلبہ میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور انہیں پانی کے ناقص انتظام، جنگلات کی کٹائی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ترغیب دی گئی۔ مقررین نے موسمیاتی تبدیلی کے اسباب، اس کی روک تھام کے طریقوں اور ماحول اور روزمرہ زندگی پر اس کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ سیشن کے اختتام پر کوئز مقابلہ منعقد ہوا اور کامیاب طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ جامعہ کے ترجمان کے مطابق سیشن کے بعد مہمان مقررین نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ وائس چانسلر نے ایک مفید اور بامقصد پروگرام کے انعقاد پر منتظمین کی کاوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ تربت اپنی قومی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہی ہے اور جامعہ تربت کے مختلف کلبز اینڈ سوسائٹیز موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پر عزم ہیں اور اس سلسلے میں گرین اینڈ کلین کیمپس مہم پر عمل پیرا ہیں۔

خبرنامہ نمبر9705/026
چمن 5 نومبر 2026:
شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد یوسف نے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ اس موقع پر ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر محمد اویس، اسسٹنٹ کمشنر عزیز اللہ خان کاکڑ، تحصیلدار احمد خان اور ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر پولیو اشرف خان نے ان سے ملاقات کی۔ مولانا حافظ محمد یوسف نے کہا کہ ان کے والد گرامی شیخ الحدیث الحاج مولانا عبدالغنی نوراللہ مرقدہٗ نے بھی پولیو سے بچاؤ کے قطروں کے حق میں باقاعدہ فتویٰ دیا تھا۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ افواہوں اور بے بنیاد شکوک و شبہات سے گریز کرتے ہوئے مستند معلومات پر اعتماد کریں اور اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنانے کے لیے جاری مہم میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں پولیو کے 50 سے زائد کیسز کا رپورٹ ہونا خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے، لہٰذا پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی تعاون ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ انسدادِ پولیو مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی۔

خبرنامہ نمبر9706/026
چمن 5 نومبر 2026:
چمن: اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ نے ایس ایچ او اور تحصیلدار احمد خان کے ہمراہ جوڈیشل لاک اَپ چمن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لاک اَپ کی مجموعی صورتحال، انتظامی امور اور دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے لاک اَپ رجسٹر کا معائنہ کیا اور حوالات میں بند ملزمان سے ملاقات کرکے ان کے حالات، مسائل اور دستیاب سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے عمارت کی ضروری مرمت اور بہتری کے حوالے سے بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لاک اَپ میں ضروری سہولیات کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور عمارت کی مرمت کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ انتظامی امور کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

خبرنامہ نمبر9707/026
ڈیرہ بگٹی5نومبر 2026:
شمالی ڈیرہ بگٹی: انسدادِ پولیو مہم (SNID نومبر 2026ء) کے تیسرے روز کی ایوننگ ریویو میٹنگ ڈپٹی کمشنر ریاض احمد داوڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جبکہ ڈاکٹر وکیل شیرانی نے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔
اجلاس میں ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کوہِ سلیمان ڈاکٹر مہر دین کھیتران، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اسلم بزدار، این ایس ٹی او پی آفیسر ڈاکٹر گل بگٹی، ڈی پی او ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ہارون بگٹی (بذریعہ ویڈیو لنک)، ڈی ایس وی مرزا علی، یو سی ایم اوز اور مانیٹرز نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ اس موقع پر یو سی ایم اوز نے مہم کے انتظامی اعداد و شمار پیش کیے، جبکہ مانیٹرز نے فیلڈ میں درپیش مسائل، ٹیموں کی کارکردگی اور بہتری کے لیے تجاویز سے آگاہ کیا۔

خبرنامہ نمبر9708/026
بارکھان5 نومبر 2026:
بارکھان: عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضلعی ناظمِ صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان اور ایم سی ایچ سنٹر کا اچانک دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے ڈینٹل وارڈ، ڈائلیسس یونٹ، ایمرجنسی اور ایم سی ایچ سنٹر سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے لائف سیونگ ادویات کی دستیابی، طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، ڈیوٹی روسٹر اور مریضوں کی دیکھ بھال کے انتظامات بھی چیک کیے۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری فرائض میں غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری پابندی اور دیانت داری سے ادا کرے۔ضلعی ناظمِ صحت نے کہا کہ اچانک دوروں کا مقصد ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانا، عملے کی حاضری یقینی بنانا اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

خبرنامہ نمبر9709/026
لسبیلا:کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے آج ضلع لسبیلہ کے صدر مقام اوتھل میں جاری ترقیاتی منصوبے “کنسٹرکشن آف پری فیبریکیٹڈ اکوموڈیشن، اوتھل” کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایکسیئن بلڈنگ ضلع لسبیلہ نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں، تعمیراتی کام کی پیش رفت، معیار اور مجموعی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے منصوبے پر جاری کام کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کام کے معیار پر خصوصی توجہ دینے اور تمام تعمیراتی مراحل میں منظور شدہ ڈیزائن اور تکنیکی معیار کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مفاد کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، لہٰذا متعلقہ محکمے منصوبوں کی مسلسل نگرانی اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/9710
ضلع قلات5نومبر:ـضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ اعلامیے میں تمام محکموں کے سربراہان کو احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر انجینئر عائشہ زہری کی سربراہی میں مورخہ 6 نومبر بوقت 11:00 بجے دن بمقام ڈسٹرکٹ کونسل ہال کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیاہے. لہذا تمام محکموں کے سربراہان اپنے تمام اسٹاف کے ہمراہ کل ہونے والے کھلی کچہری میں اپنی شرکت یقینی بنائیں ۔
خبر نامہ نمبر 2026/9711
چمن5نومبر:انسدادِ پولیو مہم کے چوتھے روز اسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن عزیز اللہ خان کاکڑ نے ایم ایس نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال چمن ڈاکٹر محمد اویس تحصیلدار احمد خان کے ہمراہ مختلف فیلڈ ٹیموں کا دورہ کیا اور جاری پولیو مہم کی کارکردگی، انتظامات اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ پولیو افسران اور ورکرز کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور انہیں دورانِ ڈیوٹی کسی بھی صورت تنہا نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے پولیو سے انکاری والدین سے بھی ملاقات کی اور انہیں پولیو کے موذی مرض کے خطرات، حفاظتی قطروں کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرتے ہوئے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ کیا۔بعدازاں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیو آفیسرز متعلقہ افسران اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مہم کی مجموعی پیش رفت، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی، سیکیورٹی انتظامات اور پولیو سے انکاری والدین کے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے مہم کی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ہدایت کی کہ پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر صورت پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں، کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے اور پولیو سے انکاری والدین کو مؤثر آگاہی اور مشاورت کے ذریعے رضامند کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو مہم کی مؤثر نگرانی، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی بہتر بنانے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انسدادِ پولیو مہم کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9712
بارکھان5نومبر:عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضلعی ناظمِ صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال بارکھان اور ایم سی ایچ سنٹر کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے ڈینٹل وارڈ، ڈائلیسس یونٹ، ایمرجنسی اور ایم سی ایچ سنٹر سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے لائف سیونگ ادویات کی دستیابی، طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، ڈیوٹی روسٹر اور مریضوں کی دیکھ بھال کے انتظامات بھی چیک کیے۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری فرائض میں غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری پابندی اور دیانت داری سے ادا کرے۔
ضلعی ناظمِ صحت نے کہا کہ اچانک دوروں کا مقصد ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانا، عملے کی حاضری یقینی بنانا اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/9713
رکھنی5نومبر:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور کمشنر کوہِ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی خصوصی ہدایات پر ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ صحت ڈاکٹر مہر دین کھیتران نے رکھنی میں لورالائی روڈ پر قائم نجی کلینکس اور میڈیکل اسٹورز کا اچانک معائنہ کیا۔دورے کے دوران نجی کلینکس کے لائسنس اور رجسٹریشن کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر مہر دین کھیتران نے کلینک مالکان کو ہدایت کی کہ وہ 15 روز کے اندر اپنے اداروں کی رجسٹریشن اور ضروری لائسنس مکمل کروائیں، بصورت دیگر مقررہ مدت کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے میڈیکل اسٹورز کے معائنے کے دوران کٹ ریٹ ادویات کی موجودگی کا بھی نوٹس لیا اور مالکان کو ہدایت کی کہ ایسی ادویات فوری طور پر اسٹورز سے ہٹائی جائیں اور غیر قانونی ادویات کی خرید و فروخت سے گریز کیا جائے۔ڈویژنل ڈائریکٹر صحت نے کلینکس میں صفائی ستھرائی بہتر بنانے، حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ 15 روز بعد دوبارہ معائنہ کیا جائے گا اور احکامات پر عمل نہ کرنے والے کلینکس اور میڈیکل اسٹورز کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/9714
بارکھان/رکھنی5 نومبر:ـڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت اور ضلعی ناظمِ صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کی معاونت سے بی ایچ یو رکھنی میں انسدادِ پولیو مہم نومبر 2026ء کے کیچ اَپ ڈے کے حوالے سے ایوننگ ریویو میٹنگ (ERM) منعقد ہوئی۔اجلاس میں کیچ اَپ ڈے کے دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مہم کے دوران رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد عمرانی، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر ناصر خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور کوئی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہے۔

خبر نامہ نمبر 2026/9715
کوئٹہ05نومبر:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت جاری انسدادِ پولیو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ افسران نے شرکت کی اور مہم کی پیش رفت، زیرو ڈوز، انکاری والدین اور رہ جانے والے بچوں کی کوریج سے متعلق رپورٹ پیش کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ کل مہم کے آخری روز تمام ٹیمیں پوری لگن، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیں۔ گھر گھر رسائی یقینی بناتے ہوئے تمام انکاری والدین (رفیوزل) کو کور کیا جائے اور کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔انہوں نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے آخری روز 100 فیصد کوریج ہر صورت یقینی بنائی جائے، تمام متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود رہیں اور مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *