خبرنامہ نمبر6680/2026
کوئٹہ، 5 اگست۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنی جانب سے اور اہلِ بلوچستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ایک غیرقانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی اقدام تھا، جس کا مقصد کشمیری عوام کی شناخت، حقوق اور تاریخی حیثیت کو متاثر کرنا تھا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اہلِ بلوچستان بھارت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا موثر نوٹس لے، کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرے اور بھارت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباو بڑھائے انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ جس عزم اور مستقل مزاجی سے پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آیا ہے، اسی جذبے کے ساتھ یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کی ہر سطح پر اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان اور اہلِ بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے ہیں اور ان کے جائز حقوق کے حصول تک اپنی بھرپور اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6681/2026
کوئٹہ5 اگست.حکومت بلوچستان نے بلوچستان پریزنز اینڈ پریزنرز کریکشنل سروس ایکٹ، 2026 کے تحت صوبے کے جیل نظام کو مزید موثر، شفاف، جوابدہ اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اہم اختیارات ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ کو تفویض کر دیے ہیں۔اس سلسلے میں چیف انسپکٹر آف پریزنز و اسپیشل سیکرٹری داخلہ عبدالسلام خان اچکزئی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو انسپیکٹنگ اتھارٹیز مقرر کر دیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے تحت کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز اپنے متعلقہ اضلاع کی جیلوں اور دیگر حراستی مراکز کے باقاعدہ اور اچانک معائنے کر سکیں گے تاکہ قیدیوں کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم، صفائی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ معائنے کے دوران نشاندہی کی جانے والی خامیوں کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ معائنہ رپورٹس سات ورکنگ دنوں کے اندر متعلقہ حکام کو پیش کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے جیل اصلاحات کے وڑن کے مطابق جیلوں کو محض سزا کے مراکز کے بجائے اصلاح، بحالی اور انسانی وقار کے تقاضوں سے ہم آہنگ اداروں میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ اس سے قیدیوں کی فلاح و بہبود، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، جیل انتظامیہ میں شفافیت، احتساب اور موثر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی حکومت بلوچستان کی جانب سے کیے گئے یہ انتظامی اقدامات صوبے میں جیل اصلاحات کے عمل کو موثر بنانے اور اصلاحی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمب6682/2026
بارکھان، 5 اگست ۔ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمن کاکڑ نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ بازار میں دکانوں کی کٹنگ کے معاملے پر مکمل شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی، جبکہ کسی بھی دکاندار کے ساتھ ناانصافی یا امتیازی سلوک ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بات انجمن تاجران رحیم آغا گروپ کے ضلعی صدر فرید اللہ کھیتران کی سربراہی میں دکاندار مالکان سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں رکھنی بازار میں دکانوں کی کٹنگ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ملاقات کے دوران دکانداروں نے بعض دکانوں کی کٹنگ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ چند مقامات پر کٹنگ غیر منصفانہ انداز میں کی گئی ہے۔ اس پر ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تمام معاملات کا ازسرِنو جائزہ لے کر قانون اور میرٹ کی بنیاد پر منصفانہ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی قسم کے سیاسی دباو¿ یا سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر سعید الرحمن کاکڑ نے اسسٹنٹ کمشنر بارکھان کو ہدایت جاری کی کہ وہ ریونیو عملے اور متعلقہ دکانداروں کے ہمراہ تمام دکانوں کی دوبارہ پیمائش اور جانچ پڑتال کریں اور آئندہ روز صبح 10 بجے تک تفصیلی رپورٹ پیش کریں، تاکہ حقائق کی روشنی میں شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ فیصلہ کیا جا سکے۔اس موقع پر دکانداروں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شفاف تحقیقات اور بلاامتیاز انصاف کی یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام معاملات قانون اور میرٹ کے مطابق حل کیے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6683/2026
سوراب: 5 اگست۔ یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ 05 اگست کشمیری عوام کے لیے ایک دردناک دن کی یاد دلاتا ہے، جب ان کے بنیادی حقوق پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کرے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو آزادی، امن اور کامیابی عطا فرمائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6684/2026
لسبیلہ 5،اگست ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءکی ہدایت پر تینوں اضلاع لسبیلہ آواران حب میں5 اگست”یومِ استحصالِ کشمیرکے موقع پرتعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں کشمیری عوام سےاظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم اجاگر کرنے کےلئے خصوصی پروگرامزممعقد کئے جارہے ہیں پرچم کشاءتقریبات کے موقع پرمقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت اور بھارتی اقدام کےخلاف صبح کے وقت ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گءضلعی انتظامیہ کی زیرنگرانی سرکاری اسکولوں میں آگاہی پروگرامز سیمینارزکوئزمقابلوں ٹیبلوز اور تقریری مقابلوں کاانعقاد جاری ہے کمشنرلسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطائ کا کہنا ہے کہ یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ڈویژن بھر میں کشمیر کاز،حقِ خودارادیت اور بھارتی غاصبانہ پالیسیوں پرمباحثے اورطلباء کےمابین تقریبری مقابلے منعقدکروائے جارہے ہیں اتظامیہ کی زیرنگرانی سرکاری سطح پر سیاسی و سماجی شخصیات کی قیادت میں یکجہتی واک کی کاہتمام کیاجارہا ہے تاکہ دنیا کوباورکرایا جائے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کیطرح لسبیلہ ڈویژن(بلوچستان) کے عوام بھی کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6685/2026
جعفرآباد5اگست ۔جعفرآباد: ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی ہدایت پر یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حضور بخش بگٹی، اسسٹنٹ کمشنر دھیرج کالرہ، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن احمد نواز جتک، مختلف ضلعی محکموں کے سربراہان و نمائندگان، سول سوسائٹی اور اقلیتی برادری کے افراد نے شرکت کی۔ شرکائ نے ہاتھوں میں قومی اور کشمیری پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ بینرز پر یومِ استحصالِ کشمیر سے متعلق نعرے درج تھے۔ ریلی شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی واپس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچی۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ بھارت ظلم و جبر کے باوجود کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کر سکا، ہم کشمیری عوام کی جرات، بہادری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا، ان شاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرکے امن، وقار اور اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6686/2026
بارکھان 5 اگست۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول بارکھان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بارکھان تھے، جبکہ تقریب میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نوید لطیف، پرنسپل حاجی میر ہزار خان کھیتران، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، ڈسٹرکٹ لائیوسٹاک آفیسر ڈاکٹر امیر جان کھیتران، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر پائند خان کھیتران، دیگر ضلعی افسران، اساتذہ کرام، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل حاجی میر ہزار خان کھیتران اور ڈسٹرکٹ لائیوسٹاک آفیسر ڈاکٹر امیر جان کھیتران نے کہا کہ 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور بھارتی اقدامات کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا۔تقریب کے اختتام پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول سے یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں شرکاءے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ شرکاءنے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے آزادی کشمیر کے حق میں نعرے لگائے اور بھارتی مظالم کی مذمت کی۔اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک ان کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6687/2026
نصیرآباد5اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کے احکامات کی روشنی میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خلیل احمد کی سربراہی میں ایک بھرپور یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی میں مختلف ضلعی محکموں کے افسران اساتذہ کرام طلباء و طالبات سول سوسائٹی کے نمائندگان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہوئی اور مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی اللہ ہو چوک پہنچی جہاں سے واپس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر کشمیری عوام کے حق میں نعرے درج تھے شرکاءکی جانب سے کشمیر بنے گا پاکستان اور پاک آرمی زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے جس سے فضا گونج اٹھی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ اور دیگر مقررین نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا انہوں نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن بھارت نے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا جس کے بعد سے وہاں کے عوام مسلسل ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں.مقررین نے کہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے.ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی، کشمیری عوام کی آزادی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6688/2026
صحبت پور5اگست۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین کی قیادت میں ایک پروقار اور بامقصد آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا اس ریلی کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور عالمی برادری کی توجہ بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرانا تھا ریلی میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان ضلعی انتظامیہ کے افسران سول سوسائٹی کے نمائندگان اساتذہ طلبہ و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاءنے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے درج تھے جبکہ شرکاء نے کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے نعرے بھی بلند کیے ریلی کا آغاز ڈپٹی کمشنر آفس صحبت پور سے ہوا جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی مین چوک صحبت پور پہنچی جہاں اس کا اختتام ہوا اس موقع پر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی تسلط اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے ریلی کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آزادی پاکستان کی ترقی و خوشحالی امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی بعد ازاں شجرکاری مہم کے تحت ایک پودا بھی لگایا گیا تاکہ ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اس موقع پر شرکاءکو زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی تلقین بھی کی گئی ڈپٹی کمشنر صحبت پور محترمہ فریدہ ترین نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہر فورم پر کھڑے رہیں گے اور ان کے جائز حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6688/2026
قلات 5اگست۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی شرکاءنے کشمیری بھائیوں کے حق میں اور ہندوستانی بربریت کےخلاف نعرے بازی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قلات شاہنواز بلوچ نے ریلی شرکاءسے خطاب کرتے ہوِئے کہا کہ آج کے دن بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے غیرقانونی خاتمے کو یاد رکھا جائے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا جائے ہم من و عن کشمیری عوام کیساتھ ہیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کو ایک مقبوضہ علاقہ بنا دیاجو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی تھی بلکہ انسانی حقوق ہامالی کی لہر کا آغاز تھااس دن کو منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی بھارتی ظلم و جبر کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں ۔ پاکستان سمیت تمام باشعور انسان ان کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ تقریب میں کشمیری عوام کیساتھ اظہار یک جہتی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت اور تحریکِ آزادی کو سلام پیش کیا گیا۔ریلی شرکاءنے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مجبور کریں کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دے ریلی میں تمام محکموں کے سربراہان سیاسی و سماجی شخصیات سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے موثرانتظامات کیئے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6689/2026
گوادر 5 اگست ۔: ضلعی انتظامیہ و سول سوسائٹی کے زیر اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر رومیل نیعم جان نے کی ریلی میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سیاسی و سماجی شخصیات، سول سوسائٹی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ریلی کے شرکاءنے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھا مقررین نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کرے ریلی میں شرکاءنے کشمیری شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کشمیری عوام کے آزادی کی جدوجہد کو سلام پیش کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6690/2026
استامحمد5اگست ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کے احکامات کی روشنی میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک بھرپور یکجہتی ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد اسماعیل لاشاری اسسٹنٹ کمشنر استامحمد محمد رمضان اشتیاق اور ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن نے مشترکہ طور پر کیریلی میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران سماجی رہنماوں اساتذہ کرام معززینِ شہر صحافی برادری اور دیگر مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی شرکاءنے کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کشمیر بنے گا پاکستان پاک فوج زندہ باد اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے ریلی کا آغاز ڈپٹی کمشنر آفس سے ہوا جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی میونسپل کارپوریشن پہنچی اور بعد ازاں واپس ڈپٹی کمشنر آفس پر اختتام پذیر ہوئی اس موقع پر ایس پی استامحمد حافظ معاذ الرحمٰن و دیگر نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی یاد دلاتا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام طویل عرصے سے اپنے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان کے عوام ان کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے آخر میں کشمیری بھائیوں کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6691/2026
بارکھان 5اگست ۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گدائی رکنی میں 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ہیڈ مسٹریس سحر مبین کی زیرِ نگرانی ایک آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات نے بھرپور شرکت کی۔آگاہی سیشن کے دوران طالبات کو 5 اگست 2019 کے پس منظر، مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخی و آئینی حیثیت، اور کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کے عزم سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر امن، انصاف، انسانی حقوق اور عالمی برادری کی ذمہ داری کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ہیڈ مسٹریس سحر مبین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ امن، بھائی چارے، محبت، برداشت اور انسانیت کے احترام جیسے اعلیٰ اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔تقریب کے اختتام پر کشمیر کے عوام کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ طالبات نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت اور پائیدار امن کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6692/2026
سوراب: 5 اگست – وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اور ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان علی بلیدی کی قیادت میں شاندار یکجہتی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں اسسٹنٹ کمشنر سوراب شئے اکبر علی، مختلف ضلعی محکموں کے افسران، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاءنے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہو کر شہر کے مختلف راستوں سے گزری اور دوبارہ ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ یوم استحصال کشمیر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کی تجدید کا دن ہے اور پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6693/2026
سوراب5 اگست ۔ وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) سوراب کی زیر قیادت یوم استحصال کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سوراب میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں طلبہ نے یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے تقاریر، ملی نغمے، خوبصورت ٹیبلوز اور مختلف خاکے پیش کیے، جن کے ذریعے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور ان کی جدوجہد آزادی کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ یوم استحصال کشمیر ہمیں کشمیری عوام کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان ہر محاذ پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6694/2026
ہرنائی .5 اگست۔ ‘یومِ استحصالِ کشمیر’ کی مناسبت سے ضلع ہرنائی میں ایک باوقار اور پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط، غصب شدہ حقوق اور نہتے کشمیریوں پر جاری مظالم کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار اور احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ سیمینار کی صدارت ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے کی۔ تقریب میں ایس پی ہرنائی انجینئر عبدالحفیظ جھکرانی، اسسٹنٹ کمشنر اسرار احمد، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر غلام حیدر سمیت تمام ضلعی محکموں کے سربراہان، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور علاقائی معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا عملًا ثبوت دیا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کی یکطرفہ، غیر قانونی اور غیر آئینی منسوخی پر سخت تنقید کی اور اسے عالمی قوانین کا استہزاء قرار دیا مقررین کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے اس غاصبانہ قدم کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کی تاریخی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ خصوصیت کو سلب کرنا ہےبھارت اس جغرافیائی اور سیاسی ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی میں آبادیاتی (Demographic) تناسب کو تبدیل کر کے کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی زمین پر اقلیت میں بدلنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہےمقررین نے واضح کیا کہ بھارت کے ان مظالم سے کشمیریوں کی جذبہِ حریت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت کا سلسلہ اس وقت تک بلا تعطل جاری رہے گا جب تک اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق کشمیری اپنا بنیادی حقِ خودارادیت حاصل نہیں کر لیتے سیمینار کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام سے کامل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب کے آخر میں شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی، وادیِ کشمیر کی جلد آزادی، معرکہِ حق میں جانیں قربان کرنے والے تمام شہداء اور بالخصوص پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے رقت آمیز دعائے خیر کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6695/2026
سوراب5 اگست ۔وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ کی زیرنگرانی یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ضلع سوراب کے مختلف گرلز اسکولوں کی طالبات نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سوراب میں ایک شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں طالبات نے یوم استحصال کشمیر کی اہمیت اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے تقاریر، ملی نغمے، ٹیبلو اور دیگر خوبصورت خاکے پیش کیے، جنہیں شرکائنے بے حد سراہا۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پاکستان کا ہر شہری ان کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ تقریب کا مقصد نئی نسل میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا، کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرنا اور قومی جذبے کو فروغ دینا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6697/2026
کوئٹہ، 5 اگست۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے کشمیر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما حسن بنا نے یہاں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال، کشمیری عوام کی جدوجہدِ حق خودارادیت اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر حسن بنا نے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے موقف اور اقدامات کو سراہا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ایک بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت فراہم کیے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کی ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کشمیری عوام نے بے مثال قربانیاں دے کر آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا ہے اور ان کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دلانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6698/2026
کوئٹہ، 5 اگست ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان و چیف آف بگٹی میر سرفراز بگٹی سے آل پارٹیز موسیٰ خیل کے ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد نے چیف آف غرشین سردار سید اسد زمان غرشین کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد میں سابق ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل، سابق صوبائی وزیر مولانا غلام سرور، یونین کونسل اندرپڑ اور یونین کونسل راڑاشم کے نمائندوں سمیت مختلف قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماوں نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے ضلع موسیٰ خیل کو درپیش عوامی، انتظامی اور ترقیاتی مسائل سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور ضلع کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، مواصلاتی ڈھانچے کی بہتری اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفد کی تجاویز اور سفارشات کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت بلوچستان صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں اور متوازن ترقی کے وڑن پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین اور مقامی قیادت سے مسلسل مشاورت کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو زیادہ موثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام بھی ترقی کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کر سکیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔ دستیاب وسائل کو مو¿ثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے مرحلہ وار تمام پسماندہ علاقوں کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال ضلع واشک کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج دیا گیا تھا، جبکہ رواں سال حکومت کی خصوصی توجہ صوبے کے دیگر پسماندہ اضلاع کے ساتھ ساتھ موسیٰ خیل کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر مرکوز ہوگی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام قبائل اور عوام ہمارے اپنے ہیں، اور حکومت بلاامتیاز ہر علاقے کی ترقی، خوشحالی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے کسی بھی ضلع یا علاقے کو ترقی کے سفر میں پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا ملاقات کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ عمران زرکون اور اسٹاف آفیسر سید احمد شاہ غرشین بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6699/2026
کوئٹہ، 5 اگست۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بلوچستان صوبائی اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا قرارداد وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، فیصل خان جمالی اور پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی قرارداد میں 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35(A) کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنے کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ آرٹیکل 370 مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت، اپنا آئین، اپنا پرچم اور داخلی خودمختاری فراہم کرتا تھا جبکہ آرٹیکل 35(A) ریاست کے مستقل باشندوں کو سرکاری ملازمت، جائیداد اور سکونت کے خصوصی حقوق دیتا تھا۔ ان دفعات کے خاتمے کے ذریعے بھارت نے کشمیری عوام کی شناخت، آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی ہے ایوان نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو زمینوں کی خریداری اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، محاصروں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی جائز امنگوں کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور قانونی حمایت جاری رکھے گا اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا قرارداد میں 5 اگست کو ہر سال “یومِ استحصالِ کشمیر” کے طور پر منانے کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک بھر میں اس دن مختلف تقریبات کے ذریعے عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا ایوان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر موثر اور فعال سفارتکاری کے ذریعے مزید بھرپور انداز میں اٹھایا جائے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی بھی تشکیل دی جائے قرارداد کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم قربانیوں، ثابت قدمی اور جدوجہدِ آزادی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو ظلم و جبر سے جلد نجات عطا فرمائے اور انہیں آزادی، امن اور انصاف کی نعمت سے سرفراز کرے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6700/2026
کوئٹہ، 5 اگست۔ صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنی جانب سے اور اہلِ بلوچستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ایک غیرقانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی اقدام تھا، جس کا مقصد کشمیری عوام کی شناخت، حقوق اور تاریخی حیثیت کو متاثر کرنا تھا انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ اہلِ بلوچستان بھارت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس مناسبت سے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا موثر نوٹس لے، کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرے اور بھارت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباو¿ بڑھائے انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل یک زبان ہوکر مطالبہ کرتی ہے کہ جس عزم اور مستقل مزاجی سے پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آیا ہے، اسی ولولے کے ساتھ یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھیں گے میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر اس عزم کا مصمم اظہار کرتا ہے کہ پاکستان اور اہلِ بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے رہیں گے اور ان کے جائز حقوق کے حصول تک اپنی بھرپور حمایت اور کا وشیں جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6701/2026
کوئٹہ 5 اگست ۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیرِ آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ 5 اگست 2019ءکو بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے غیر قانونی اقدام کیا تھا، انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کے اثرات آج بھی پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور اسے دو وفاقی یونین ٹیریٹریز، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارت نے اپنی طاقت سے اس اقدام کو قومی یکجہتی، بہتر حکمرانی اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، جبکہ پاکستان اور کشمیری قیادت نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تاریخی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، میر محمد صادق عمرانی نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام شروع دن سے کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، یومِ استحصال کشمیر عالمی برادری کے لیے سفارتی پیغام ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6702/2026
کوئٹہ: 5 اگست۔صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ 5 اگست یومِ استحصال کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق کیے گئے یکطرفہ اقدامات نے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی اصولوں پر کئی سوالات کھڑے کیے، جس کے باعث اس دن کو یومِ استحصال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔اپنے ایک بیان میں نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں مستقل امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی پاسداری کریں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مختلف بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے بارہا تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق شہری آزادیوں، اظہارِ رائے، نقل و حرکت اور دیگر بنیادی حقوق سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس عالمی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہیں۔نسیم الرحمن خان ملاخیل نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی فورم پر بھرپور انداز میں اجاگر کرے اور سفارتی سطح پر موثر اقدامات جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے اور یہ حمایت آئندہ بھی جاری رہنی چاہیے۔انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست یومِ استحصال اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6703/2026
قلعہ عبداللہ5اگست ۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر قلعہ عبداللہ میں جشنِ آزادی پاکستان کی تقریبات کی تیاریوں اور مون سون بارشوں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ سردار عبداللہ خان، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ جعفر خان ترین، ڈی سی سپرنٹنڈنٹ محمد شفیق خان اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں 14 اگست یومِ آزادی کی تقریبات کو قومی جذبے اور شایانِ شان انداز میں منانے کے لیے کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر قومی پرچم کشائی، سرکاری عمارتوں کی سجاوٹ، صفائی مہم، شجرکاری، تعلیمی اداروں میں خصوصی پروگراموں، ریلیوں، قومی تقریبات اور عوامی آگاہی مہم کے انعقاد سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ یومِ آزادی قومی اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینے کا اہم موقع ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی تعاون اور موثر رابطے کے ذریعے تقریبات کو کامیاب بنایا جائے تاکہ عوام بھرپور انداز میں قومی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔اجلاس میں مون سون بارشوں کے پیش نظر ممکنہ ہنگامی صورتحال، نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی، نالوں کی صفائی، سڑکوں کی بحالی، ٹریفک کی روانی، ریسکیو اقدامات اور دیگر حفاظتی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اپنی مشینری، عملے اور ضروری وسائل کو ہمہ وقت تیار رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، لہٰذا تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ذمہ داری، مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت ردِعمل کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جشنِ آزادی کی تقریبات بھرپور قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جائیں گی، جبکہ مون سون بارشوں سے پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ رہیں گے تاکہ شہریوں کو ہر ممکن سہولت، تحفظ اور بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6704/2026
چمن 5 اگست ۔یومِ استحصالِ کشمیر: ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی قیادت میں اظہارِ یکجہتی ریلی، کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی قیادت میں ڈی سی کمپلیکس چمن سے ایک عظیم الشان اظہارِ یکجہتی ریلی نکالی گئی، ریلی میں ڈی ایس پی اشفاق احمد قبائلی عمائدین، مشران، مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سیاسی و سماجی شخصیات، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے “کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے لگائے اور ایسے بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر کی مذمت درج تھی۔ ریلی شہر کے مختلف شاہراہوں سے گزری اور کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا اور پاکستان کا ہر شہری ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور انسانی حمایت ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کی آزادی تک پاکستان، بالخصوص ضلع چمن کے عوام، ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ان کے جائز حقِ خود ارادیت کے لیے ہر ممکن اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ ریلی کے اختتام پر شرکائنے کشمیری عوام کی آزادی، امن اور انصاف کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6705/2026
گوادر: 5اگست۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے مطابق دور دراز علاقوں کے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی بلوچستان کی نگرانی کا عمل موثر انداز میں جاری ہے۔اسی سلسلے میں ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی گوادر ڈاکٹر مرشد دشتی نے ایم اینڈ ای آفیسر صابر حیاتان کے ہمراہ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یو) شادوبند اور گھٹی ڈور کے تفصیلی مانیٹرنگ دورے کیے۔دوروں کے دوران طبی و پیرامیڈیکل عملے کی حاضری، او پی ڈی رجسٹر، ای پی آئی سائٹ، ٹیلی ہیلتھ کلینک، ادویات کے دستیاب ذخیرے، مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر دونوں مراکز صحت کو ضروری ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ مقامی آبادی کو علاج معالجے کی سہولیات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈاکٹر مرشد دشتی نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ مریضوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں، ادویات کی بروقت فراہمی، حفاظتی ٹیکہ جات، ٹیلی ہیلتھ سروسز اور دیگر بنیادی طبی سہولیات کو مزید مو¿ثر بناتے ہوئے عوام کو بہترین صحت خدمات فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری، بنیادی مراکز صحت کو فعال بنانے اور دور افتادہ علاقوں تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ پی پی ایچ آئی بلوچستان انہی حکومتی پالیسیوں کے تحت عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری صحت خدمات فراہم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6706/2026
چمن 5اگست ۔گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول چمن میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیاگورنمنٹ بوائز ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول چمن میں 5 اگست، یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک پروقار تقریب اور اظہارِ یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں اساتذہ اور طلبہ نے مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور حقِ خود ارادیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔بعد ازاں سکول کے احاطے میں اظہارِ یکجہتی ریلی نکالی گئی، جس میں شرکائ نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور پاکستان کی سلامتی، استحکام اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6707/2026
چمن5اگست ۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام محکموں کے افسران نے اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی، جاری منصوبوں، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں BSDI فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت ضلع بھر میں سرکاری اسکولوں، بنیادی مراکز صحت (BHUs)، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر مکمل ہونے والے اور زیرِ تکمیل ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں ضلع چمن میں نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان موثر رابطہ، قانونی تقاضوں پر عملدرآمد اور حکومتی ہدایات کے مطابق مربوط اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ قانون کی عملداری برقرار رہے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی موثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس میں یومِ آزادی 14 اگست کی تقریبات اور تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت جاری کی کہ آج ہی سے تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جائیں، عمارتوں کی صفائی، تزئین و آرائش، روشنیوں اور دیگر انتظامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں تاکہ ضلع بھر میں یومِ آزادی قومی جذبے، جوش و خروش اور بھرپور انداز میں منایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کے اختتام پر تمام اداروں پر زور دیا کہ باہمی رابطے، موثر ہم آہنگی اور ذمہ دارانہ انداز میں فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سرکاری خدمات کی فراہمی اور ضلع میں جاری ترقیاتی و انتظامی امور کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6708/2026
گوادر5اگست ۔ :ضلعی لائیو اسٹاک آفیسر ڈاکٹر صابر علی بلوچ نے کہا ھے موجودہ صوبائی حکومت کے وژن عوام دوست پالیسی کے تحت محکمہ امورِ حیوانات مویشیوں کی صحت کے تحفظ، بیماریوں کی بروقت روک تھام اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں ضلع گوادر میں مویشیوں کی بیماریوں کے تدارک، علاج، حفاظتی ویکسینیشن، ذبح خانوں کی باقاعدہ نگرانی اور مویشی پال حضرات کو ویٹرنری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ صحت مند مویشیوں کے ذریعے گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ اور دیہی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اس سلسلہ میں محکمہ امور حیوانات ضلع گوادر نے جولائی 2026 کے دوران مویشیوں کی بیماریوں کے تدارک، علاج، ویکسینیشن اور ذبح خانوں کی نگرانی کے حوالے سے پیش رفت اور موثر اقدامات کیے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ماہ جولائی کے دوران ضلع بھر کے امور حیوانات ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، فیلڈ وزٹس اور موبائل کیمپس کے ذریعے مجموعی طور پر 15,262 مویشیوں کا علاج کیا گیا۔ ان میں بھیڑ، بکریاں، گائے، اونٹ، پولٹری اور دیگر جانور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر 6,542 جانوروں کو متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ویکسین بھی لگائی گئی ضلعی آفیسر امور حیوانات کے رپورٹ کے مطابق سرکاری ذبح خانوں میں 1,038 جانوروں کا معائنہ کیا گیا تاکہ عوام کو صحت مند اور معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے افسر محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ گوادر کا کہنا ہے کہ مویشی پال حضرات کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، جانوروں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی کے لیے فیلڈ سرگرمیاں باقاعدگی سے جاری رکھی جائیں گی۔ محکمہ نے مویشی پال افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ جانوروں میں کسی بھی بیماری کی صورت میں فوری طور پر قریبی ویٹرنری مرکز یا محکمہ لائیو اسٹاک کے عملے سے رابطہ کریں تاکہ بروقت علاج اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6709/2026
نصیرآباد5 اگست ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی ہدایت پر تحصیلدار ڈیرہ مراد جمالی معظم جتوئی نے ڈی سی آفس نصیرآباد یونس رضا عمرانی کے ہمراہ ضلع میں سرگرم مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے دفاتر کا تفصیلی اور جامع معائنہ کیا جن اداروں کا دورہ کیا گیا ان میں بی آر ایس پی (BRSP) انڈس ہسپتال ٹی کے ایف (TKF) اسلامک ریلیف، منزل آرگنائزیشن اور برائٹ اسٹار شامل ہیںمعائنے کے دوران ہر ادارے کی مجموعی کارکردگی جاری و مکمل شدہ منصوبوں کی نوعیت عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے ثمرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس کے ساتھ ساتھ عملے کی حاضری پیشہ ورانہ اہلیت ذمہ داریوں کی تقسیم اور دفاتر میں ریکارڈ کی دستیابی و درستگی کو بھی جانچا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام امور منظم اور شفاف انداز میں انجام دیے جا رہے ہیں حکام نے این او سی (NOC) کی قانونی حیثیت رجسٹریشن کے تقاضوں اور حکومتی پالیسیوں و ہدایات پر عملدرآمد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اس موقع پر متعلقہ اداروں کے ذمہ داران سے تفصیلی بریفنگ لی گئی ان سے جاری منصوبوں کی پیش رفت، فنڈز کے استعمال اور درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی گئی انہیں سختی سے ہدایت کی گئی کہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر حکومتی قواعد و ضوابط، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے تحت انجام دی جائیں مزید برآں نان لوکل ملازمین کی تعیناتیوں کا خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ مقامی افراد کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں حکام نے واضح کیا کہ مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی سطح پر ان کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی بھرتیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور مقامی کوٹہ کی پاسداری پر زور دیا گیادورے کے دوران یہ بھی ہدایت کی گئی کہ تمام این جی اوز اپنی سرگرمیوں کی باقاعدہ رپورٹس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ان کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی ممکن ہو سکے حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ این جی اوز کے ساتھ موثر رابطہ اور تعاون کو یقینی بنائے گی تاکہ عوامی فلاح کے منصوبے بہتر انداز میں مکمل ہوں اور ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6710/2026
چمن 5اگست ۔ چمن سکاوٹس کے کمانڈنٹ برگیڈیئر ضرار کی زیرِ سرپرستی چمن سٹی تھانے میں قائم پولیس شہداءیادگار پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔تقریب کے دوران برگیڈیئر ضرار نے پولیس شہداءیادگار پر حاضری دی، سلامی پیش کی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے درجاتِ بلندی، مغفرت اور ملک میں دیرپا امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وطن کے امن، سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔تقریب میں ایس ڈی پی او/ڈی ایس پی اشفاق احمد سمیت چمن سکاوٹس اور پولیس کے افسران و اہلکاروں نے شرکت کی اور شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6711/2026
جھل مگسی5 اگست۔ ضلعی انتظامیہ جھل مگسی کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر جھل مگسی نعمان منیر بلوچ اور اسسٹنٹ کمشنر ارباب خان مگسی کی قیادت میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے سرکٹ ہاوس گنداواہ میں سیمینار اور ریلی کا اہتمام کیا گیا تقریب میں دیگر آفیسران ،چیئرمین میونسپل کمیٹی گنداواہ مشتاق احمد ترین،ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر عابد علی سومرو، ایس ڈی او ایریگیشن فرخ شہزاد کھوکھر، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ جھل مگسی محمد طاہر لہڑی، سول سوسائٹی اساتذہ کرام اور اسکولوں کے طلباءی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا بعد ازاں طلباءاپنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست 2019 کے بعد جموں کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے بھارت کا یہ رویہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بھارت بین الاقوامی اداروں کو کشمیر میں جانے کی اجازت دے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے کھرے ہو کر سامنے آئیں کشمیریوں کے حقوق ختم کرنا بھارت کی خام خیالی ہے بھارت کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کا یہ ڈھونگ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد فوج بھارتی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے پانچ سال قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے کشمیریوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر بھارت ایوان میں کشمیری عوام کے حقوق پر قدغن ڈالی گئی انھوں نے کہا کہ آج پاکستانی قوم اپنے مظلوم نہتے بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یوم استحصال منا رہی ہے اس دن کو منانے کا مقصد پوری دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کبھی بھی اپنے بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گا دریں اثنا ئکشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے فلک شگاف نعروں کی گونج میں ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6712/2026
گوادر5 اگست سندھ بلوچستان جشن آزادی کپ 2026 بنام شہید ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ فٹبال ٹورنامنٹ زیر اہتمام صدر ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن گوادر میر ارشد کلمتی کا آخری کوارٹر فائنل میچ گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) فٹبال ٹیم اور گوادر سٹی فٹبال ٹیم کے درمیان بابائے بزنجو فٹبال اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جس میں گوادر پورٹ اتھارٹی نے یکطرفہ اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گوادر سٹی کو 4-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا میچ کے آغاز سے ہی گوادر پورٹ اتھارٹی کی ٹیم نے جارحانہ انداز اپنایا اور پورے مقابلے کے دوران کھیل پر اپنی مکمل گرفت برقرار رکھی۔ جی پی اے کے کھلاڑیوں نے شاندار ٹیم ورک اور عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار خوبصورت گول اسکور کیے، جبکہ گوادر سٹی کی ٹیم دفاعی دباو سے نہ نکل سکی اور کوئی گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ میچ کے مہمان خصوصی بنک الحبیب کے منیجر شکیل بانا تھے، جن کا تعارف دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور منتظمین سے کرایا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں معاشرے کو مثبت سمت فراہم کرتی ہیں اور نوجوانوں کو صحت مند، باصلاحیت اور باکردار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن گوادر کے صدر میر ارشد کلمتی کی جانب سے علاقے میں کھیلوں کے فروغ اور اتنے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر میں کھیلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی نے فاتح اور رنر اپ ٹیموں کے علاوہ میچ آفیشلز اور دیگر منتظمین کے لیے نقد انعامات کا بھی اعلان کیا۔ اس موقع پر سابق فٹبالرز، شہر کے معززین، کھیلوں سے وابستہ شخصیات اور شائقینِ فٹبال کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود تھی، جنہوں نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6713/2026
گوادر 05 اگست ۔ضلعی انتظامیہ گوادر کی ہدایت کی روشنی میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول شمبے اسماعیل میں یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب ہیڈمسٹریس محترمہ بلقیس سلیمان کی سربراہی میں منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی ڈی ای او محترمہ فرزانہ ریاض، سمیت اساتذہ کرام اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی تقریب میں طالبات نے تقاریر، ملی نغمے اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا اور یومِ استحصالِ کشمیر کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پروگرام کے اختتام پر تمام طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے نقد انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ کشمیر کے عوام کی آزادی، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6714/2026
لورالائی، 5 اگست۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع کی قیادت میں قومی پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران، اہلکاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب میں ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر علی نواز سمیت دیگر سرکاری افسران بھی موجود تھے۔ قومی پرچم کشائی کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا، جبکہ شرکاء نے ملکی سلامتی، استحکام اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے خصوصی دعائیں کیں بعد ازاں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ریلی نکالی گئی جو ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہوکر شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزری۔ ریلی کے شرکاء نے قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کی حمایت، حقِ خودارادیت کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر محمد حسیب شجاع نے کہا کہ 5 اگست 2019 جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے یکطرفہ اقدامات کیے، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں اور کشمیری عوام کو درپیش مسائل کی جانب مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے جائز حقوق کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھے گا۔تقریب سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔ مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکےتقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، قومی یکجہتی، افواجِ پاکستان کی کامیابی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاءے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا یہ رشتہ ہمیشہ مضبوط رہے گا اور ان کی جائز جدوجہد کی ہر ممکن حمایت جاری رکھی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6715/2026
لورالائی، 5 اگست۔: یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) لورالائی فوزیہ درانی کی ہدایت اور نگرانی میں ضلع بھر کے تمام سرکاری گرلز مڈل اسکولوں میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کی مذمت کی گئی۔تقریبات میں طالبات نے یومِ استحصالِ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تقاریر، مباحثوں اور آگاہی پروگراموں میں بھرپور حصہ لیا۔ مقررین نے 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ اس موقع پر اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور اس کے عوام کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گےڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل ) لورالائی فوزیہ درانی کی زیرِ نگرانی کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں اساتذہ اور طالبات نے بھرپور جوش و خروش سے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے قومی پرچم، بینرز، فلیکس، پلے کارڈز اور چارٹس اٹھا رکھے تھے، جن پر کشمیر کی آزادی، کشمیری عوام کی حمایت اور قومی یکجہتی سے متعلق نعرے اور پیغامات درج تھے۔ شرکاءنے کشمیر کے حق میں اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے نعرے بھی بلند کیے۔تقریب کے اختتام پر ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (فیمیل) لورالائی میڈم فوزیہ درانی نے پروگرام کے کامیاب انعقاد اور یومِ استحصالِ کشمیر کی مناسبت سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی اساتذہ میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ انہوں نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل میں مسئلہ کشمیر سے متعلق شعور اجاگر کرنا قومی ذمہ داری ہے اور تعلیمی ادارے اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6716/2026
خاران:5 اگست ۔ ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بین المحکمہ جاتی امور اور عوامی خدمات کی بہتری سے متعلق مختلف ایجنڈوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران عمر سنان جمالی، ایس پی خاران صدورو لاشاری، ایکسیئن بلڈنگ قاضی بلال احمد، ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حاجی امان اللہ شاہوانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالرزاق کبدانی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیر احمد بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مختیار احمد ڈومکی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر مشتاق مہیم، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی نور احمد کبدانی سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں، واپڈا کے واجبات، ریکوری اور دیگر اہم انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن سے بڑی تعداد میں شہری مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی ایسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے گی جس سے زیادہ سے زیادہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ڈپٹی کمشنر خاران نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب جان نوشیروانی، BSDI کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی تمام واٹر سپلائی اسکیموں کو شمسی توانائی (سولر سسٹم) پر منتقل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی وڑن کے تحت صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات سے وابستہ شعبوں میں جدید سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6717/2026
دکی، 5 اگست ۔حکومتِ بلوچستان کے وژن اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ دکی کے زیرِ اہتمام یومِ استحصالِ کشمیر قومی جذبے، جوش و خروش اور بھرپور یکجہتی کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں ریلی، سیمینار اور دعائیہ تقریب سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے کی تقریبات کا آغاز کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی سے ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، اہلکاروں، سیاسی و سماجی شخصیات، طلبہ اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر کشمیری عوام کی حمایت، حقِ خودارادیت اور بھارتی اقدامات کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاءے کشمیر کے حق میں اور کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے نعرے بھی بلند کیےبعد ازاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تھل چوٹیالی عبدالسلام شاہوانی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اپنے اصولی موقف کے مطابق ہر سیاسی، سفارتی اور اخلاقی فورم پر جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ حمایت آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گی۔دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کی جانب مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔مقررین نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی منصفانہ جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھیں گے۔تقریب کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہداء کے درجات کی بلندی، کشمیری عوام کی جلد آزادی، پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کے ساتھ بھرپور یکجہتی اور حمایت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6718/2026
خضدار 5 اگست ۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی زیرِ صدارت 14 اگست یومِ آزادی پاکستان کی تقریبات کے انتظامات اور تیاریوں کے حوالے سے اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر میٹنگ ہال خضدار میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی قلات سکاوٹ کے میجر اسرار اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ اسسٹنٹ کمشنر وڈھ اکبر علی مزار زئی ایکسین بی اینڈ ار خضدار سلیم رزاق عمرانی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر خضدار ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر خضدار عابد حسین بلوچ ایکسین روڈز قاضی عتیق الرحمن ایکسین سجاد صاحب ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ ائی صدام حسین ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک افیسر ڈاکٹر محمد انور زہری ڈسٹرکٹ سپورٹ افیسر میڈم رقیہ عبید ڈپٹی کمشنر خضدار کے ایڈمن افیسر محمد مراد گزوزءاور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں یومِ آزادی کی تقریبات کو شایانِ شان، منظم اور قومی جذبے کے ساتھ منانے کے لیے مختلف انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سرکاری و نجی عمارتوں پر لائٹنگ اور اہم شاہراہوں عوامی مقامات کو قومی پرچموں اور سبز ہلالی پرچم کے رنگوں سے سجانے، پرچم کشائی، قومی ترانے، ملی نغموں، تقاریر، طلبہ کے پروگرامز کھیلوں کے مقابلے فٹ بال کرکٹ والی بال بیڈمنٹن اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے حوالے سے امور زیرِ غور آئے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ 14 اگست کی تقریبات کے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور اس قومی دن کو بھرپور جوش و جذبے، نظم و ضبط اور وقار کے ساتھ منانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں پاکستان کی آزادی کی قدر، قومی یکجہتی، اتحاد اور ملکی ترقی کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تمام ادارے باہمی رابطے اور تعاون کو یقینی بناتے ہوئے تقریبات کو کامیاب بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔اجلاس میں امن و امان، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی ستھرائی، بجلی و دیگر ضروری سہولیات سمیت یومِ آزادی کی تقریبات کو کامیاب بنانے کے لیے دیگر انتظامی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6719/2026
نصیرآباد: 5اگست ۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت انٹیگریٹڈ ڈیویلپمنٹ پیکیج برائے ڈیرہ مراد جمالی(مربوط ترقیاتی پیکج) کےپیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے سب ڈویژنل افسران عابد علی پہنور، سجاد علی عمرانی سمیت دیگر متعلقہ افیسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں پروجیکٹ کوآرڈینیٹر صالح شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انٹیگریٹڈ ڈیویلپمنٹ پیکیج برائے ڈیرہ مراد جمالی کے تحت شرقی سائیڈ پر 22 کلومیٹر بلیک ٹاپ سڑکیں، 26 کلومیٹر نئی واٹر سپلائی لائنیں مختلف قطر کی پائپ لائنوں سمیت، ایک پمپنگ اسٹیشن، دو واٹر ٹینک، دو اسٹوریج ٹینک، 30 ہزار گیلن گنجائش کا اوور ہیڈ ٹینک اور 23 کلومیٹر سے زائد جدید سیوریج سسٹم تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ سات سولرائزڈ پمپنگ اسٹیشن بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اجلاس میں منصوبے کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی شرقی سائیڈ پر تقریباً 2 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری پروجیکٹ عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا، اس لیے تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بالخصوص پینے کے صاف پانی، سیوریج نظام اور نالوں کی گریڈنگ پر خصوصی توجہ دی جائے، منصوبے کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ترقیاتی کام بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کی توقعات پر پورا اترا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6720/2026
سیوی 5 اگست۔یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی قیادت میں ایک شاندار یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں ضلعی و انتظامی افسران، مختلف محکموں کے نمائندگان، اقلیتی برادری، سول سوسائٹی، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاءنے ہاتھوں میں قومی اور کشمیری پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ ریلی کے دوران “کشمیر بنے گا پاکستان”، “پاکستان زندہ باد” اور “کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی” کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرے۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور اس کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھیں گے اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6721/2026
سیوی 5 اگست ۔کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) کے ذریعے میرٹ پر منتخب ہونے والے 9 نئے نائب تحصیلداروں میں تقرری کے احکامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے تمام افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ دیانتداری، میرٹ، قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا شعار بنائیں۔ کمشنر سیوی ڈویژن نے اپنے خطاب میں کہا کہ نائب تحصیلدار ریونیو انتظامیہ کا بنیادی ستون ہیں اور ان پر عوام کے جان و مال کے تحفظ، زمینوں کے ریکارڈ کی درستگی، ریونیو امور اور انصاف کی بروقت فراہمی جیسی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے افسران جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، شفافیت کو فروغ دیں اور عوام کے مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوان اور باصلاحیت افسران کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ایک مو¿ثر، جدید اور عوام دوست ریونیو نظام قائم کیا جا سکے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ نئے تعینات ہونے والے نائب تحصیلداروں کو 16 ماہ پر مشتمل جامع پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی۔ تربیتی پروگرام کے پہلے 6 ماہ میں پٹواری کے ساتھ عملی تربیت، جمعبندی، فرد، انتقال، گرداوری، فصلوں کے معائنہ، فیلڈ میپ، سرکاری اراضی کے تحفظ، ریونیو وصولی اور GIS-Based Land Information Management System (LIMS) کی عملی تربیت شامل ہوگی۔ اس کے بعد 4 ماہ ریونیو کورٹ میں عدالتی امور، اسسٹنٹ کلیکٹر کے فرائض اور سب رجسٹرار کے دفتر میں رجسٹریشن کے عملی مراحل سکھائے جائیں گے، جبکہ 2 ماہ قانونگو کی ذمہ داریوں، پٹوار سرکل کے انتظام اور سالانہ ریکارڈ کی تیاری کی تربیت دی جائے گی۔ مزید برآں 3 ماہ کی خصوصی تربیت مرکزِ سہولیات میں دی جائے گی جہاں ڈ
یجیٹل فرد، ڈیجیٹل انتقال، کیڈسٹرل میپس اور جدید لینڈ ریکارڈ سسٹم سے متعلق عملی مہارت فراہم کی جائے گی، جبکہ آخری ایک ماہ کوئٹہ میں بورڈ آف ریونیو کے زیر اہتمام ریونیو قوانین، AIT ایپلی کیشن اور MS Office Automation کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر کمشنر سیوی ڈویژن اسداللہ فیض نے نئے افسران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی تربیت کامیابی سے مکمل کرکے عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی اور قانون کی بالادستی کے فروغ میں موثر کردار ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6722/2026
کوئٹہ: 5اگست۔یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کے زیرِ اہتمام کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پروقار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرنا اور بھارت کے غیر قانونی و یکطرفہ اقدامات کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنا تھا۔ریلی کی قیادت حریت رہنما حسن بنہ، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ، اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی اور چیف میونسپل آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن نذر زہری نے کی۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے افسران، مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین، سول سوسائٹی کے نمائندگان، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہوئی اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتے ہوئے دوبارہ ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم، کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی پر مبنی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ پورے راستے میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور نعرے لگائے گئے۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل تک اپنی حمایت سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔مقررین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں، بھارتی مظالم کا سدباب کریں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ریلی کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کے شہداءکے درجات کی بلندی، کشمیری عوام کی آزادی اور پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6723/2026
تربت 5 اگست ۔: یونیورسٹی آف تربت میں یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے تقریب کاانعقاد کیا گیا اس سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے خلاف اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ملک کی دیگر جامعات کی طرح یونیورسٹی آف تربت میں بھی 5 اگست 2026 کو یوم استحصال کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں تدریسی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا اور سنگین خلاف ورزی تھی۔ اس یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدام کو کشمیریوں، پاکستانیوں اور عالمی برادری نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ مقررین کا کہناتھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام پر ظلم و بربریت کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ بھارت کے اسی ناپاک اقدام اور غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف حکومت پاکستان نے 2020 سے 5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی تاریخی شناخت کو غصب کرنا ہی پورے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت اس بات کی مکمل حمایت کرتی ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان کے اس مضبوط اور پائیدار موقف کی بدولت ہی امریکہ سمیت متعدد عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کر چکی ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6724/2026
کوئٹہ اگست۔یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ کی جانب سے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارت کے غیر قانونی و غاصبانہ اقدامات کو اجاگر کرنے کے لیے شہر کی مختلف شاہراہوں، اہم چوراہوں اور عوامی مقامات پر خصوصی بینرز، بل بورڈز اور فلرز آویزاں کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر جاری اس آگاہی مہم کے تحت جناح روڈ، زرغون روڈ، ایئرپورٹ روڈ، سریاب روڈ، بروری روڈ، لیاقت بازار، منان چوک، علمدار روڈ، کاسی روڈ اور دیگر اہم مقامات پر کشمیر سے متعلق خصوصی پیغامات اور بینرز نصب کیے گئے۔بینرز اور بل بورڈز پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی اور پاکستان کے غیر متزلزل مو¿قف کو اجاگر کیا گیا، جبکہ شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے فلرز بھی تقسیم کیے گئے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد یومِ استحصالِ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرنا، کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب مبذول کرانا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور اس کے عوام کشمیری بھائیوں کی منصفانہ جدوجہدِ آزادی کی ہمیشہ اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6725/2026
کوئٹہ، 5 اگست۔ ضلع ہرنائی میں میسرز سردار عثمان خان جوگیزئی کول کمپنی کی کوئلہ کان میں پیش آنے والے المناک حادثے، جس میں 34 کان کن جاں بحق ہوئے تھے، کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ مائنز ایکٹ 1923ئکی دفعہ 21 کے تحت قائم کردہ کورٹ آف انکوائری کے چیئرمین کی سربراہی میں 4 اگست کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تحقیقات کے طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورٹ آف انکوائری کی کمیٹی جلد متاثرہ کان کا تفصیلی معائنہ کرے گی اور حادثے سے متعلق تمام دستیاب شواہد، ریکارڈ اور حقائق اکٹھے کیے جائیں گے تاکہ حادثے کی وجوہات اور ذمہ دار عوامل کا تعین کیا جا سکے۔کورٹ آف انکوائری نے اس سلسلے میں عوام اور متعلقہ افراد سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کے پاس حادثے سے متعلق معلومات موجود ہیں یا جو اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں، وہ 10 اگست سے 20 اگست 2026 تک دفتری اوقات میں چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان کے دفتر، لنگ سریاب روڈ کوئٹہ، میں حاضر ہو کر اپنا بیان قلم بند کرا سکتے ہیں۔حکام کے مطابق تحقیقات کو شفاف اور جامع بنانے کے لیے تمام متعلقہ شواہد اور گواہیوں کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مو¿ثر اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6726/2026
کوئٹہ۔ 5 اگست ۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس موسی خیل میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر موسی خیل عبدالرزاق خجک اور ایس پی تھے۔تقریب میں مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی افسران، انجمن تاجران، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پرموسی خیل پولیس کے چاک و چوبند دستے نے قومی پرچم کو سلامی پیش کی۔پرچم کشائی کے بعد 5اگست یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ضلع موسیٰ خیل میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، جس میں ایس پی موسیٰ خیل سمیت تمام محکموں کے ضلعی افسران، سرکاری ملازمین، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ انہوں نے کشمیر کی حمایت اور بھارتی مظالم کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ریلی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس سے شروع ہوئی اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی واپس ڈپٹی کمشنر کمپلیکس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر ضلع بھر کی سرکاری عمارات پر پاکستان اور کشمیر کے پرچم بھی آویزاں کیے گئے، جبکہ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے کہا کہ 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کے اظہار کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں اس وعدہ خلافی کی یاد دلاتا ہے جو کشمیری عوام کے ساتھ کی گئی اور ان کے بنیادی حقوق کو پامال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق پر شب خون مارا بلکہ بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمان گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر، تشدد، محاصرے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ثابت قدم ہیں۔عبدالرزاق خجک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی قربانیوں، عزم اور حوصلے کی لازوال داستان ہے، بھارت طاقت کے زور پر کشمیری عوام کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ کشمیریوں کی جدوجہد ایک جائز اور اصولی مقصد کے لیے ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6727/2026
پنجگور۔5 اگست ۔: یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ پنجگور کے زیرِ اہتمام پنجگور میں ایک پروقار احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) عطاءاسد بلوچ نے کی۔اس موقع پر ریلی میں ضلع بھر کے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان و افسران، سول سوسائٹی، اساتذہ، تاجروں اور زندگی کے مختلف شعبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس دوران شرکائنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی جارحیت اور غاصبانہ تسلط کے خلاف اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں پیغامات درج تھے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ 5 اگست بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت غیر قانونی طور پر ختم کیے جانے کے اقدام کے خلاف یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان کا ہر شہری اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو ہر ممکن اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا –
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6728/2026
کوئٹہ 5 اگست ۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں خوراک کے بہتر معیار کو یقینی بنانے کیلئے جاری خصوصی مہم کے دوران کوئٹہ، خضدار، ہرنائی، ڈیرہ مراد جمالی، لورالائی اور کچلاک میں کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر متعدد خوراک کے مراکز کو جرمانہ، 29 اصلاحی نوٹسز جاری جبکہ ایک دودھ کی دکان اور ایک غیر قانونی سرکہ و مشروبات تیار کرنے والے یونٹ کو سیل کر دیا۔کارروائیوں کے دوران بیکنگ یونٹس، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، سپر اسٹورز، پیزا پوائنٹس، جوس و آئس کریم شاپس اور دیگر فوڈ بزنسز کا تفصیلی معائنہ کیا گیا، جبکہ کوئٹہ کے اسپنی روڈ، بروری روڈ، کاسی روڈ اور میکانگی روڈ سمیت مختلف علاقوں میں صفائی، خوراک کے معیار، اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔کچلاک میں خفیہ اطلاع پر ڈائریکٹر آپریشنز فخرالدین مری کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے غیر قانونی شربت، سرکہ اور جوس تیار کرنے والے غیر رجسٹرڈ یونٹ پر کامیاب چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران یونٹ کو موقع پر سیل کر دیا گیا جبکہ غیر معیاری شربت، سرکہ اور جوس کی بڑی مقدار قبضے میں لے لی گئی۔ مزید یہ کہ مصنوعات پر گمراہ کن لیبلنگ، جعلی معلومات اور غلط پتے کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا۔ تیار شدہ مشروبات کے نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خضدار میں دودھ فروشوں کے خلاف ہدفی کارروائی کی گئی۔ جدید ملک اینالائزر کے ذریعے دودھ اور دہی کے نمونوں کی جانچ کے دوران ملاوٹ اور سکمڈ ملک کی آمیزش ثابت ہونے پر ایک دودھ کی دکان سیل، دو دودھ فروشوں کو جرمانے جبکہ پانچ فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ کارروائی کے دوران سکمڈ ملک پاوڈر، اس کے خالی تھیلے، غیر معیاری دہی، ناقص صفائی، کھلے برتنوں میں دودھ کی ذخیرہ اندوزی اور حشرات کی موجودگی جیسے سنگین نقائص بھی سامنے آئے۔ہرنائی میں بھی فوڈ سیفٹی ٹیم نے دودھ کے نمونوں کی جانچ کے دوران ایک ملک سیمپل میں 30 فیصد جبکہ دوسرے میں 23 فیصد پانی کی ملاوٹ اور ایک سیمپل میں سکمڈ ملک کی آمیزش ثابت ہونے پر دو مراکز کو جرمانے کیے جبکہ چار فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی فخرالدین مری کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں ہر قیمت پر جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر معیاری خوراک و مشروبات تیار کرنے والوں کے لیے بلوچستان میں کوئی رعایت نہیں، قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں معائنوں اور کریک ڈاون کو مزید موثر اور تیز بنا رہی ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6729/2026
قلات 5اگست ۔یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم قلات کی جانب سے مختلف گرلز اور بوائز سکولوں میں پروقار تقریبات کا انعقاد کیاگیا تقریبات ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نثاراحمدنورزئی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن ثناءاللہ ثناء پرنسپل گورنمنٹ ماڈل داود ہائی سکول غلام مصطفی بنگلزئی سینیئر ہیڈ مسٹریس گرلز ہائیر سیکنڈری سکول صائمہ امین کے زیر نگرانی منعقد ہوئے۔تقریبات میں طلبائ طالبات نے تلاوت کلام پاک حمد ونعت شریف یوم استحصال کشمیر کے مناسبت سے اردو انگریزی تقاریر ٹیبلوز ملی نغمے پیش کئے۔محکمہ تعلیم کے آفیسران کی جانب سے تقریبات میں حصہ لینے والے طلبائ وطالبات کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گءتقریبات سے خطاب کرتے ہوے محکمہ تعلیم قلات کے سربراہان نے کہاکہ 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق، امن اور باوقار زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔تعلیم کا شعبہ نوجوان نسل میں امن، انصاف، انسانی حقوق اور باہمی احترام کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے۔ اس موقع پر ضلع قلات کے تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور امن، برداشت اور انسانی وقار کے عالمی اصولوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔مقررنین نے کہا کہ ہم دعاگو ہیں کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو، تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے، اور مسائل کا حل بات چیت اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6730/2026
گوادر: 5اگست ۔اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان کی صدارت میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شمبے اسماعیل میں ایک باوقار اور پ±روقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد بھارت کے غیر قانونی اور جابرانہ تسلط کے شکار مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار، ان کی تاریخی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا تھا۔تقریب اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان کی قیادت اور ہیڈ مسٹریس بلقیس سلیمان کی نگرانی میں منعقد ہوئی، جس میں محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ کرام، طالبات، والدین اور پی ٹی سی/ایم سی کے اراکین نے بھرپور شرکت کیاس موقع پر طالبات نے مسئلہ کشمیر، حب الوطنی، قومی یکجہتی اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر مدلل تقاریر پیش کیں، ملی نغمے اور ٹیبلو پیش کیے، جبکہ مختلف سرگرمیوں کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی دلی وابستگی اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حقِ خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی ہر سطح پر سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کی تاریخی، قانونی اور انسانی اہمیت سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے فروغ میں اپنا موثر کردار ادا کیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات میں نقد انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی جلد آزادی، کشمیری عوام کے امن، سلامتی اور خوشحالی، پاکستان کی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6731/2026
قلعہ سیف اللہ: 5اگست ۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ساگر کمار کی خصوصی ہدایت پر یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر ضلع بھر میں اظہارِ یکجہتی کے پروگرام منعقد کیے گئے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم کی زیرِ نگرانی اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران کے تعاون سے مسلم باغ شہر میں مختلف ریلیاں نکالی گئیں۔ ریلیوں میں سول سوسائٹی کے ممبران، اساتذہ، طلبہ، وکلا اور علاقے کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے نعرے درج تھے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پوری قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی مکمل حمایت کرتی ہے۔آخر میں کشمیری شہدائکے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6732/2026
کوئٹہ 5آگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر ضلعی سریاب میں تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن، 8 افراد گرفتار تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایت پر سب ڈویڑن (سریاب) میں اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) مصور احمد اچکزئی کی نگرانی میں میونسپل کارپوریشن کوئٹہ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مشترکہ تعاون سے تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا۔آپریشن کے دوران مین سریاب روڈ سے کسٹم چوک، موسیٰ کالونی، چکی شاہوانی، ایسٹرن بائی پاس، بکرا پھڑی اور چالو باوڑی کے علاقوں میں قائم سخت اور عارضی تجاوزات کو ہٹا دیا گیا۔ان کارروائی کے دوران بار بار سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے 8 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر تجاوزات قائم کرنے والوں کو آئندہ دوبارہ تجاوزات نہ کرنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی مزید تیز اور تسلسل سے جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6733/2026
سیوی 5 اگست ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی سیوی (MCKRU) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ممتاز علی بلوچ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ بھی انکے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران یونیورسٹی میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات، تحقیقی و تدریسی ماحول، باہمی ادارہ جاتی تعاون اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔وائس چانسلر پروفیسر ممتاز علی بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کو یونیورسٹی کی تعلیمی پیش رفت، جاری ترقیاتی منصوبوں، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبہ جات پر گفتگو کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کی ضروریات اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے یونیورسٹی کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میر چاکر خان رند یونیورسٹی خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ یونیورسٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ تعلیمی و ترقیاتی اقدامات مزید موثر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ ضلعی انتظامیہ اور میر چاکر خان رند یونیورسٹی کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6734/2026
لسبیلہ5اگست ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاء کے زیر صدارت ضلع لسبیلہ کے سرکاری محکموں کا تعارفی اجلاس منعقدہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر حمیرابلوچ نے ضلع میں جاری بی ایس ڈی آءکے تحت ترقیاتی منصوبوں محکموں پر پیشرفت اورسی ایس آرکے تحت سیلاب متاثرہ سکولوں کی بحالی سے متعلق انتظامیہ کی کوششوں سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر نے بریفنگ میں بتایا کہ ضلع کے تمام اسکولز کےلئے ےفرنیچرزاورسولرائزیشن کامنصوبہ بی ایس ڈی آءکے تحت شروع کیا ہے تمام شلٹر لیس اسکولوں کیئے عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں ایجوکیشن سیکٹر کوخصوصی ترجیح دی جارہی ہے تمام۔بند اسکولز آپریشنل ہوچکے ہیں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس امن وامان برقراررکھنے کے حوالے سے کام۔کررہی ہے ڈسٹرکٹ رینٹ اسسمنٹ کمیٹی اور ڈسٹرکٹ کمپنسیشن کمیٹی فعال ہےکمشنر لسبیلہ ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر کی کاوشوں کو سراہا اورکہا کہ ہم نےپہلی تعارفی میٹنگ اوربریفنگ میں ترقیاتی اسکیمات کے زیرالتوارہنے اور محکمانہ ایشوزکےحوالے سےڈسٹرکٹ ہیڈزاورمتعلقہ محکموں کے مجازافسران کے مابین کوآرڈیشن کی کمی محسوس کی ہے افسران ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل ہروگریس مکمل کروائیں ہم ماہانہ پروگریس لینگےہراسکیم کی انسپکشن کی جائیگی تاکہ لسبیلہ ڈویژن کے لوگ تبدیلی محسوس کرسکیں کمشنرنے افسران پرواضح کیا کہ افسران کو سروسزڈیلیوری کرناہوگی کمشنر آفس افسران کی معاونت کیلئے ہمیشہ کھلارہیگا ہم سب نے ملکرلسبیلہ ڈویژن کیلئے کام کرنا ہے عوام کےمسائل حل کرنے کی جانب بڑھنا ہوگا جوانتظامی ذمہ داری ہمیں ملی یے کسی بھی محکمے کے افسر کی جانب سے جائے تعیناتی سے غیر حاضری یاکوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ کمشنرلسبیلہ ڈویژن سائرہ عطائنے سرکاری محکموں کے افسران کواحکامات جاری کیں کہ وہ ایسی اسکیمات مرتب کریں جن کے ثمرات سے کمیونٹی مستفید ہوافسران کمیونٹی ڈیولپمنٹ کی اسکیمات موثر حکمت عملی سے مرتب کریں چیف سیکرٹری کی واضح ہدایات ہیں ترقیاتی منصوبے اجتماعی مفاد میں بنائے جائیں کمشنرنے فردافرداتمام افسران سےاپنے اہنے محکموں۔کے جاری منظورشدہ ترقیاتی منصوبوں کی فزیکل فنانشل پروگریس مجموعی کارکردگی اورمحکمہ خزانہ کے افسر سے ملازمین کی سروسز امورسے متعلق آگاہی حاصل کی کمشنر لسبیلہ ڈویڑن نے ہنگول کی ساحلی پٹی پر میرین لائف کے تحفظ کیلئے گجہ نیٹ اورٹرالرزکی روک تھام کیلئے مﺅثرحکمت عملی اپنانے اورکوآرڈیشن کمیٹی قیام کی احکامات جاری کیں تاکہ چھوٹے مچھلیوں اورجھینگوں کی نسل کشی روکنے کیلئے میکانزم بنایاجائے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سراج کریم بلوچ اورتمام سرکاری محکموں کے افسران کے الیکٹرک منیجمنٹ کے ذمہ داران شریک ہوئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6735/2026
کوئٹہ5 اگست۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام کے تحت صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ، ہونہار اور مستحق طلباءکے تعلیمی کیرئیر کے بہتر تسلسل کے لئے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بیف) کے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے شہید بے نظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت بلوچستان کے باصلاحیت طلباءکا واپڈا کالج تربیلہ ہری پور خیبر پختونخواہ میں میں میرٹ پر داخلہ بلوچستان کے ذہین طلباء کی تعلیم کے میدان میں اہم کامیابی ہے ادارہ واپڈا کیڈٹ کالج تربیلا، ہری پور، خیبرپختونخوا میں زیر تعلیم بلوچستان کے ہونہار طلباء کو میرٹ کے ذریعے شاندار کامیابی پر فخر کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہے چیف ایگزیکٹو آفیسر بیف خالد ماندائی نے منتخب ہونے والے تمام باصلاحیت طلباءکو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی آپ کی لگن، علمی فضیلت اور بلوچستان کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ منتخب ہونے والے طلباء کے نام اور ولدیت درج ذیل ہے شیریار ولد جنگول،ضلع لورالائی بلوچستان،زبیر احمد ولد عبد الوہاب بازئی، ضلع کوئٹہ بلوچستان، محمد عمر ولد محمد اعجاز عظیم ضلع کوئٹہ بلوچستان، امان خان ولد عالمگیرضلع پشین بلوچستان، محمد احمد بازئی ولد محمد اجمل بازئی،ضلع کوئٹہ بلوچستان،محمد زمران خان ولد محمد ایمل بازئی ضلع کوئٹہ بلوچستان،مزمل خان ولدعبدالعزیز ضلع لورالائی بلوچستان،ایان احمد آصف ولدآصف خان ضلع لورالائی بلوچستان، بشیر خان ولد فتح خان ضلع زیارت بلوچستان، ضیاء الحق بھائی مختیار احمدضلع ڈیرہ بگٹی بلوچستان کے نام میرٹ پر مبنی اسکالرشپ پروگرام کے لئے منتخب ہوئے ہیں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پائیدار اور میرٹ پر مبنی اسکالرشپ پروگراموں کے ذریعے میرٹ، شفافیت کو فروغ دینے اور بلوچستان بھر کے باصلاحیت طلباءکی مدد کے لیے ادارہ اپنی مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ رواں دواں ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6736/2026
سیوی 5 اگست ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی سیوی (MCKRU) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ممتاز علی بلوچ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ بھی انکے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران یونیورسٹی میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات، تحقیقی و تدریسی ماحول، باہمی ادارہ جاتی تعاون اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وائس چانسلر پروفیسر ممتاز علی بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کو یونیورسٹی کی تعلیمی پیش رفت، جاری ترقیاتی منصوبوں، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبہ جات پر گفتگو کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کی ضروریات اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی نے یونیورسٹی کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میر چاکر خان رند یونیورسٹی خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ یونیورسٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ تعلیمی و ترقیاتی اقدامات مزید موثر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ ضلعی انتظامیہ اور میر چاکر خان رند یونیورسٹی کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6737/2026
اوتھل5اگست ۔ ضلعی انتظامیہ لسبیلہ کی جانب سے ضلع ہیڈکوارٹر اوتھل کے گورنمنٹ ماڈل اسکول میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سےاسسٹنٹ کمشنر اوتھل آفتاب احمد لاسی کی قیادت میں ایک ریلی نکالی گئی۔جس میں چیئرمین ایم سی اوتھل سید سومار شاہ،وائس چیئرمین وسیم احمد لاسی،DDOایجوکیشن اوتھل محمد اطہر قریشی،چیف آفیسر محمد خان دودا،پرنسپل گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول اوتھل، سمیت اساتذہ اور طلبائنے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ریلی کا مقصد کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور ان کی جدوجہد کی حمایت کرنا تھا۔ ریلی میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنرآفتاب احمد لاسی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور ان کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لے۔ریلی کے شرکائنے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے یکجہتی کے نعرے درج تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس طرح کی تقریبات کا مقصد نئی نسل میں کشمیر کاز کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6738/2026
موسیٰ خیل 5اگست۔یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر درگ میں ریلی کا انعقادموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر درگ اظہر الدین کی قیادت میں ‘یومِ استحصالِ کشمیر’ کے حوالے سے ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔یہ ریلی تحصیل کمپلکس سے شروع ہوئی اور شہر کے مختلف حصوں سے ہوتی ہوئی درگ اڈے پر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں سرکاری عہدیداروں، قبائلی عمائدین، علمائے کرام، تاجر برادری، اساتذہ اور تمام مکاتبِ فکر کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاءنے مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ اقدامات کے خلاف آواز بلند کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6739/2026
جیکب آباد5اگست ۔ . متنازعہ جیکب آباد سم نالے کے معاملے پر بلوچستان کے سخت تحفظات کے بعد اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے سندھ حکام سے ملاقات کرکے متنازعہ سم نالے کا مشترکہ معائنہ کیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے وفد نے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی کو دوٹوک انداز میں آگاہ کیا کہ مین حیردین ڈرینیج سسٹم جیکب آباد کے اضافی پانی کا دباو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر سم نالے کا پانی اس میں شامل کیا گیا تو صحبت پور، جعفرآباد اور استا محمد جیسے اضلاع کو 2010ء کے سپر فلڈ جیسی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت بہتر اور محفوظ حل تلاش کرنے کے لیے بلوچستان سے مشاورت اور باقاعدہ این او سی حاصل کرے تاکہ سرحدی اضلاع کے عوام کے خدشات دور کیے جا سکیں۔ اس پر ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان حکومت کی این او سی کے بغیر متنازعہ سم نالے پر کسی قسم کا تعمیراتی کام دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا۔ اجلاس اور معائنے میں ایس ایس پی صحبت پور خلیل احمد ایگزیکٹو انجینئر جیکب آباد معظم علی، اسسٹنٹ کمشنر جعفرآباد دھیرج کالرہ اور سب ڈویژنل آفیسر عابد علی کھوسہ بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6740/2026
حب 5 اگست – کمشنر لسبیلہ محترمہ سائرہ عطا نے آج ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری، حب کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران کمپنی انتظامیہ کی جانب سے کمشنر لسبیلہ کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، صنعتی سرگرمیوں، پیداواری اہداف، ماحولیاتی تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور سماجی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز ریجنل آفس حب، جناب ابراہیم بازئی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائنز اینڈ منرلز ریجنل آفس حب، انجینئر ناصر شیخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔کمشنر لسبیلہ نے فیکٹری کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور کمپنی کی جانب سے مقامی روزگار کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں کو سراہا۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔دورے کے اختتام پر محترمہ سائرہ عطا اور ڈائریکٹر ابراہیم بازئی نے کمپنی کی شجرکاری مہم میں شرکت کی اور پودے لگا کر “سرسبز پاکستان” کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمشنر نے کہا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔کمپنی انتظامیہ نے کمشنر لسبیلہ کے دورے اور رہنمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿







