6th-October-2026

خبر نامہ نمبر8600/2026
کوئٹہ، 06 اکتوبر ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں سیکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو مزید موثر اور جدید بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، پولیس اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے سیکیورٹی صورتحال، پولیسنگ کے نظام، محکمانہ اصلاحات اور سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بلوچستان میں سیکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوئٹہ انٹیگریٹڈ سیکیورٹی پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور کے تحت شہر میں 2,900 کیمرے نصب کیے جائیں گے، جن کے ذریعے سیکیورٹی نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ کے تحت کوئیک رسپانس فورس کے نئے اسٹیشنز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر ردعمل کو یقینی بنایا جاسکے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے ذریعے سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔ اجلاس کو بلوچستان پولیس میں جاری اصلاحات اور محکمانہ خود احتسابی کے عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کے مرتکب 871 پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جاچکا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کے ساتھ تعینات 1,005 پولیس اہلکاروں کی خدمات واپس محکمہ پولیس کے حوالے کردی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے، پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر ملک اور صوبے کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس کو دہشت گردی کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت، ضروری آلات اور تمام مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کو دہشت گردی کے خلاف میدان میں اتارا ہے تو مکمل سرپرستی بھی کریں گے۔ صوبائی حکومت اپنی بہادر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیسنگ کے نظام میں اصلاحات کا مقصد ادارے کو مزید مضبوط، جوابدہ اور عوام دوست بنانا ہے۔ محکمانہ نظم و ضبط اور احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ فرائض میں غفلت اور غیر حاضری کی حوصلہ شکنی کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے محدود وسائل کو بہتر انتظام اور ترجیحات کے تحت عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پاکر دستیاب وسائل عوام کی بنیادی ضروریات اور فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے اس عام آدمی کے لیے کام کرنا ہے جو سردی میں ٹھٹھرتا اور گرمی میں جھلستا ہے۔ حکومت کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کا محور عام شہری کا تحفظ، سہولت اور معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8601/2026
کوئٹہ، 6 اکتوبر۔ بلوچستان میں صحت کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن عالمی توجہ کا مرکز بن گئی صوبے کی ڈیجیٹل ہیلتھ پالیسی اور اصلاحات کو 26 ممالک کی شرکت والی بین الاقوامی کانفرنس میں نمایاں کیا گیا ہے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منعقدہ ڈی ایچ آئی ایس ٹو ایشیا پیسیفک کانفرنس میں بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل اور صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا گیا کانفرنس میں مختلف ممالک کے نمائندگان، ماہرین صحت اور ترقیاتی شراکت دار شریک ہوئے صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور بلوچستان میں صحت کے شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، صحت کے اعدادوشمار کے موثر استعمال، رپورٹنگ کے نظام میں بہتری اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے حوالے سے صوبائی اقدامات کو اجاگر کیا اس موقع پر اوسلو یونیورسٹی، ناروے کی جانب سے بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات اور صحت کے نظام کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات کو سراہا گیا۔ بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ تجربے کو صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی ایک مثال کے طور پر بھی پیش کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی فورم پر بلوچستان کی ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کو ملنے والی پذیرائی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنا باعث اطمینان ہے۔ اوسلو یونیورسٹی سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے بلوچستان کی اصلاحات کی پذیرائی حوصلہ افزا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ تجربے کو بین الاقوامی فورم پر پیش کیا جانا صوبے کی اصلاحاتی کاوشوں کا اعتراف ہے صحت کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن جدید اور موثر گورننس کی جانب اہم پیش رفت ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نظام کے ذریعے صحت کے شعبے میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کا مقصد ٹیکنالوجی کو عوامی صحت کی خدمات میں عملی بہتری کا ذریعہ بنانا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ڈیٹا اور بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8602/2026
بارکھان/رکنی 6 اکتوبر۔ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن کوہ سلیمان ڈویژن رکھنی ڈاکٹر سلیم زرکون نے گورنمنٹ ہائی سکول بارکھان، گورنمنٹ ہائی سکول کوڈی موڑ گورنمنٹ ہائی سکول رکنی اور دیگر ملحقہ سکولوں کا اچانک دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا اور طلباءسے نصابی سوالات پوچھ کر ان کے تعلیمی معیار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے طلباءکی کاپیاں اور اسباق بھی چیک کیے۔ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن نے اساتذہ اور طلباء کے حاضری رجسٹرز کا بھی معائنہ کیا اور سکول ریکارڈ کو باقاعدگی سے مکمل رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہیڈ ماسٹرز اور سکول عملے سے ملاقات کرکے تدریسی و انتظامی امور کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے سکول کی عمارت، کلاس رومز، صحن اور صفائی ستھرائی کی صورتحال بھی دیکھی اور سکول انتظامیہ کو تعلیمی ماحول مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ڈاکٹر سلیم زرکون نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اساتذہ اپنی حاضری یقینی بنائیں اور طلباء کی بہتر تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ علاقے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8603/2026
نصیرآباد 6 0اکتوبر استا محمد۔ ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پالال کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر استا محمد ماریہ شمعون کی سربراہی میں کلسٹر انسپیکشن کمیٹی گنداخہ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گنداخہ کے کلسٹر کا تفصیلی معائنہ کیامعائنے کا مقصد کلسٹر کے تحت مختلف اسکولوں کے لیے خریدے گئے ریڈنگ و رائٹنگ میٹریل فرنیچر، تدریسی معاونت کے سامان اور دیگر ضروری تعلیمی اشیائ کی مقدار، معیار اور دستیابی کا جائزہ لینا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ طلباء کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خریدا گیا سامان مقررہ معیار اور منظور شدہ ضروریات کے عین مطابق ہواس موقع پر کلسٹر انسپیکشن کمیٹی کے اراکین نے اسکول میں موجود خریدے گئے سامان کا موقع پر باریک بینی سے معائنہ کیا اور سامان کی تعداد، معیار، حالت اور استعمال کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا کمیٹی نے کلسٹر سے متعلق دستیاب ریکارڈ، خریداری کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی چیک کیے تاکہ تمام معاملات میں شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکےکمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کلسٹر کے تحت آنے والے تمام اسکولوں میں تعلیمی سامان اور فرنیچر کی منصفانہ، ضرورت کے مطابق اور شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر اسکول کے طلباء اور اساتذہ کو یکساں طور پر سہولیات میسر آسکیں اور تعلیمی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جا سکےاس موقع پر کمیٹی نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ فراہم کردہ تعلیمی سامان کو طلباءکی تعلیمی ضروریات کے مطابق بروئے کار لایا جائے اور اس کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے شفاف اور موثر استعمال، تعلیمی معیار میں بہتری اور طلباء کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ایسے معائنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8604/2026
نصیرآباد6 0اکتوبر جھل مگسی۔ ڈپٹی کمشنر جھل مگسی سید رحمت اللہ شاہ کی ہدایات کی روشنی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جھل مگسی عبدالغفور جمالی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گنداواہ کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتال میں دستیاب ادویات مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ادویات کے اسٹاک کا باریک بینی سے جائزہ لیااس موقع پر سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق آرائیں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو ہسپتال میں موجود مختلف اقسام کی ادویات ان کے اسٹاک کی موجودہ صورتحال مریضوں کو ادویات کی فراہمی اور علاج معالجے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو دستیاب وسائل کے مطابق طبی سہولیات اور ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہےایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالغفور جمالی نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران و طبی عملے سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتال میں ادویات کے اسٹاک کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے تاکہ کسی بھی ضروری دوا کی قلت پیدا نہ ہو اور مریضوں کو بروقت ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑےانہوں نے محکمہ صحت کے افسران اور طبی عملے پر زور دیا کہ دور دراز علاقوں سے علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کی خدمت کو مقدس فریضہ سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ حسنِ سلوک ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے مریضوں کو بہتر سے بہتر طبی امداد ضروری ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گیایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری ہسپتالوں میں طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ ہسپتالوں کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی نگرانی کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8605/2026
گوادر 6 0اکتوبر ۔کو چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) عبداللہ خان نے گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کا دورہ کیا۔دورے کے موقع پر ڈائریکٹر منیر احمد بانا نے گوادر پورٹ کی فعال کاری، اس کی آپریشنل ترقی اور تجارت و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے امکانات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔اس موقع پر بی آر اے اور جی پی اے کے درمیان باہمی رابطہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کے مختلف پہلوو¿ں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے تجارت میں سہولت، ادارہ جاتی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور گوادر کی وسیع تر اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ادارے مل کر تجارت دوست ماحول کی فراہمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور گوادر کو اقتصادی گیٹ وے کے طور پر مزید مستحکم بنانے کے لیے موثر تعاون جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8606/2026
گوادر06 اکتوبر ۔ ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات ضلع گوادر اسداللہ نے تمام ٹرانسپورٹرز، ٹھیکیداران، آرا مشین مالکان، لکڑی کے کاروبار سے وابستہ افراد اور عوام الناس کو آگاہ کیا ہے کہ حکومت بلوچستان، محکمہ داخلہ کے حکم نامہ نمبر 1898 مورخہ 26 ستمبر 2026ء کے تحت دفعہ 144 ضابطہ فوجداری 1898 کے تحت صوبے میں لکڑی اور دیگر جنگلاتی پیداوار کی غیر مجاز نقل و حمل، ترسیل اور منتقلی پر پابندی عائد کردی گئی ہے لہذا ضلع گوادر کی حدود میں تمام متعلقہ افراد حکومتی احکامات کی مکمل پابندی یقینی بنائیں اور لکڑی یا کسی بھی قسم کی جنگلاتی پیداوار کی غیر مجاز نقل و حمل، ترسیل یا منتقلی سے مکمل اجتناب کریں۔ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات نے واضح کیا کہ پابندی کے دوران محض کسی پاس، پرمٹ یا اجازت نامے کی پیشکش کی بنیاد پر ضبط شدہ گاڑی یا لکڑی کی رہائی کا استحقاق حاصل نہیں ہوگا۔ کسی غیر معمولی صورتحال، عوامی مفاد یا سرکاری ضرورت کے تحت استثنیٰ صرف محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی تحریری منظوری کے بعد قابلِ عمل ہوگا انہوں نے کہا کہ حکومتی حکم نامے اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف بلوچستان فاریسٹ ایکٹ 2022، بلوچستان فاریسٹ رولز 2024، دفعہ 144 ضابطہ فوجداری 1898، دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی لکڑی، دیگر جنگلاتی پیداوار اور نقل و حمل کے ذرائع کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات نے تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی احکامات اور جنگلاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورتِ دیگر خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8607/2026
پسنی 06 اکتوبر ۔گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن (GPE) اور یونیسیف (UNICEF) کے تعاون سے پرووینشل انسٹیٹیوٹ فار ٹیچر ایجوکیشن (PITE) بلوچستان کے زیرِ اہتمام خواندگی اور عددی مہارتوں کے فروغ کے لیے 16 روزہ اساتذہ تربیتی پروگرام پسنی میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا تربیتی ورکشاپ میں پسنی سے 31 اساتذہ نے شرکت کی، جہاں ماسٹر ٹرینرز نذیر باہوٹ اور حاکم حکیم نے شرکاء کو جدید تدریسی طریقہ کار، خواندگی، عددی مہارتوں اور موثر تعلیمی حکمتِ عملیوں کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے جس میں گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول اورماڑی محلہ پسنی کے ہیڈ ماسٹر سخیداد، لرننگ کوآرڈینیٹر موسیٰ امیت، مرکزی چیئرمین PWOD پرویز سفر اور سماجی کارکن میر سلمان کلمتی نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے اور طلبہ میں بنیادی تعلیمی مہارتوں کے فروغ کے لیے اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کی اہمیت پر زور دیا اور پروگرام کے کامیاب انعقاد پر منتظمین، ماسٹر ٹرینرز اور اساتذہ کی کاوشوں کو سراہا۔تربیتی پروگرام کا مقصد اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، جدید تدریسی طریقہ کار سے آگاہی اور طلبہ میں پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کتاب کی مہارتوں کو موثر انداز میں بہتر بنانا تھا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8608/2026
گوادر 06 اکتوبر ۔ ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات ضلع گوادر اسداللہ نے عوام الناس، مقامی آبادی، شکاریوں، اور دیگر متعلقہ افراد کو خبردار کیا ہے کہ باہر سےانے والے پرندوں سمیت جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار، جال بچھانے، پھندے لگانے، پکڑنے، نقل و حمل اور خرید و فروخت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ موسمی نقل مکانی کے دوران بڑی تعداد میں مہاجر پرندے بلوچستان کے ساحلی علاقوں، آبی ذخائر، جھیلوں اور قدرتی مساکن کا رخ کرتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے نگرانی اور کارروائی مزید موثر بنائی جا رہی ہے ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات نے واضح کیا کہ بلوچستان وائلڈ لائف (پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 2014ء اور اس کے تحت نافذ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ محفوظ انواع کے شکار یا انہیں نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی انہوں نے عوام الناس اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات سے تعاون کریں اور غیر قانونی شکار یا جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں کیونکہ جنگلی حیات ہمارا قیمتی قدرتی ورثہ ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8609/2026
گوادر 6 0اکتوبر ۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کے چیئرمین عبداللہ خان اور ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ جس میں ضلع گوادر میں ٹیکس بیس کی توسیع اور محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیئرمین بی آر اے نے کہا کہ تمام اہل کاروبار اور سروس فراہم کرنے والوں کو قانون کے تحت رجسٹر کرکے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے بی آر اے اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان قریبی رابطہ کاری، ڈیجیٹل نظاموں کے استعمال، ٹیکس دہندگان کو سہولتوں کی فراہمی اور کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ڈپٹی کمشنر گوادر نے ٹیکس انتظامیہ کی مضبوطی اور بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز (بی ایس ٹی ایس) اور پروفیشنل ٹیکس کے تحت محصولات میں اضافے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دونوں فریقین نے ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانے، صوبائی ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8610/2026
ہرنائی6 اکتوبر ۔ ضلعی ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) ہرنائی، غلام حیدر ترین نے ضلع کے مختلف سرکاری اسکولوں کا اچانک دورہ کیا۔ سرپرائز وزٹ کا مقصد اسکولوں میں تعلیم و تربیت کے معیار، اساتذہ و طلبہ کی حاضری اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔دورے کے دوران ڈی ای او ہرنائی نے کلاس رومز میں جا کر تدریسی عمل (Teaching and Learning Process) کا بچشمِ خود معائنہ کیا اور طلبہ سے تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق سوالات بھی کیے تاکہ ان کے تعلیمی معیار کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسکول کے حاضری رجسٹرز کی پڑتال کرتے ہوئے اساتذہ اور طلبہ کی روزمرہ حاضری کا باریک بینی سے جائزہ لیا ?مختلف اسکولوں کے سربراہان (Heads of Institutions) سے گفتگو کرتے ہوئے غلام حیدر ترین نے واضح اور سخت ہدایات جاری کیں کہ بچوں کو معیاری اور جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم کی فراہمی میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو پابندی وقت اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی تاکہ ضلع ہرنائی کے بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ اور روشن بنایا جا سکے۔ڈی ای او ہرنائی نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے اور اسکولوں کی کارکردگی کو مزید فعال کرنے کے لیے اس طرح کے سرپرائز وزٹس کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8611/2026
گوادر۔ 6 اکتوبرگوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہری خدمات کو مزید موثر بنانے کے لیے اپنے مشینری و ٹرانسپورٹ فلیٹ میں چھ نئے جدید لوڈر رکشوں کا اضافہ کر دیا۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے نئے لوڈر رکشے واٹر، باغبانی اور میونسپل ونگ سمیت متعلقہ شعبوں کے حوالے کر دیے۔اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد پی ڈی واٹر میرجان بلوچ، ڈائریکٹر فنانس عبدالشکور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر میونسپل سروسز یحییٰ واڈیلہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ظریف احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹر جنرل نے نئے رکشوں کا معائنہ کیا، جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر میونسپل ونگ یحییٰ واڈیلہ نے ان کی ٹیسٹ ڈرائیو بھی کی۔نئے لوڈر رکشے پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال و مرمت، پائپ اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل، شہر کی صفائی، کچرے اور ملبے کی منتقلی، سیوریج و ڈرینج لائنوں کی صفائی اور دیگر میونسپل امور میں استعمال ہوں گے۔اسی طرح شعبہ باغبانی میں یہ گاڑیاں پارکس، گراونڈز، گرین بیلٹس اور شاہراہوں پر شجرکاری، پودوں کی دیکھ بھال، پانی دینے اور باغبانی کے سامان کی ترسیل کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔جی ڈی اے کے ٹرانسپورٹ افیسر حاجی شکیل احمد کے مطابق کم سائز اور بہتر نقل و حرکت کے باعث لوڈر رکشے شہر کی گلیوں اور مختلف فیلڈ مقامات تک رسائی کے لیے موزوں ہیں۔ ان کے اضافے سے متعلقہ شعبوں کی فیلڈ آپریشنل استعداد اور شہری خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور روزمرہ کے چھوٹے و درمیانے درجے کے کام زیادہ تیزی سے انجام دیے جا سکیں گے۔نئے لوڈر رکشوں کا مشینری فلیٹ میں اضافہ جی ڈی اے کی جانب سے گوادر میں صاف ستھرے، سرسبز اور بہتر شہری ماحول کے قیام اور شہریوں کو موثر سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8612/2026
گوادر 06 اکتوبر ۔ محکمہ زراعت ضلع گوادر کے دفتر میں ڈپٹی ڈائریکٹر توسیع مقبول احمد کی زیرِ صدارت زراعت کی بہتری، مختلف زرعی مسائل کے حل اور فیلڈ سرگرمیوں کی موثر رپورٹنگ کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شماریات اور رواں ماہ ریٹائر ہونے والے محمد عمر جمالی سمیت محکمہ زراعت کے افسران اور فیلڈ اسٹاف نے شرکت کی اجلاس میں ضلع گوادر کی مختلف تحصیلوں، یونین کونسلز اور دیگر زرعی علاقوں میں درپیش مسائل، زرعی سرگرمیوں اور فیلڈ سے متعلق اعداد و شمار کی بروقت فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے زرعی شعبے کی بہتری، کسانوں کو درپیش مشکلات کے ازالے اور متعلقہ حکام تک مسائل کی موثر نشاندہی کے لیے مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر توسیع مقبول احمد نے نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شماریات کی تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے ضلع بھر کے زرعی علاقوں سے درست، جامع اور بروقت اعداد و شمار مرتب کریں گے، تاکہ زرعی مسائل کی موثر نشاندہی اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو سفارشات پیش کی جا سکیں انہوں نے کہا کہ Statistics شعبہ زراعت کی منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے فیلڈ سے درست معلومات کے حصول اور بروقت رپورٹنگ کے نظام کو مزید مو¿ثر بنایا جائے گا اجلاس میں رواں ماہ ریٹائر ہونے والے محمد عمر جمالی کی محکمہ زراعت کے لیے طویل عرصے تک انجام دی جانے والی خدمات کو بھی سراہا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر توسیع اور فیلڈ اسٹاف نے ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور محکمہ کے لیے تعاون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کے محکمہ زراعت کے افسران و اہلکاروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور تعاون کا سلسلہ برقرار رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبر نامہ نمبر8613/2026
کوئٹہ، 06 اکتوبر: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت بلوچستان کو ترقی کے لیے کسی ایک شعبے یا ایک بڑے منصوبے پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی پوری معیشت کو متحرک کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ ہمارا ہدف ایسا معاشی ماحول تشکیل دینا ہے جہاں مقامی کاروبار آگے بڑھیں، نوجوان روزگار کے بجائے روزگار پیدا کرنے کی طرف آئیں اور سرمایہ کار بلوچستان کو ایک قابلِ اعتماد کاروباری مقام سمجھیں۔ اپنے دفتر میں کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے غیر معمولی معاشی امکانات ہیں۔ معدنیات سے لے کر ساحلی معیشت، زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، سیاحت اور ٹیکنالوجی تک ہر شعبے میں نئے کاروباری ماڈلز کی گنجائش موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان امکانات کو فائلوں اور رپورٹس سے نکال کر قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ کی ترجیح صرف سرمایہ کاری لانا نہیں بلکہ سرمایہ کاری کو کامیاب بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاروں کو درست معلومات، بروقت رہنمائی اور اداروں تک آسان رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8614/2026
6 اکتوبر استامحمد۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے بہتر سے بہتر مواقع اور سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے موثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اسی سلسلے میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے تحت مستحق، ہونہار اور اہل طلباء و طالبات کو ملک کے معروف اور معیاری تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اسکالرشپ پروگرام جاری ہےاس حوالے سے ضلعی انتظامیہ استامحمد کے زیر اہتمام میونسپل کارپوریشن ہال استامحمد میں BEEF اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار منعقد ہوا جبکہ بوائز ڈگری کالج استامحمد کے طالب علموں نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک کے شرکت کی سیمینار میں چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد خان نے دیگر متعلقہ حکام کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے خصوصی شرکت کی اس موقع پر انہوں نے طلباء و طالبات اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو BEEF اسکالرشپ پروگرام کے طریقہ کار اہلیت درخواست جمع کرانے کے مراحل تعلیمی سہولیات اور دیگر اہم امور کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کیسیمینار میں ڈپٹی کمشنر ا±ستامحمد محمد رمضان پلال اسسٹنٹ کمشنر استامحمد ماریہ شمعون، پرنسپل بوائز ڈگری کالج استامحمد پرنسپل گرلز ڈگری کالج استامحمد مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریسز، اساتذہ گرلز و بوائز ڈگری کالج کے طلباء و طالبات اور دیگر متعلقہ افراد نے بھرپور شرکت کی چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد خان نے شرکاءکو اسکالرشپ پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات اور تعلیم دوست پالیسی کے تحت صوبے کے ہونہار اور مستحق طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ایسے طلباءو طالبات جو تعلیمی میدان میں نمایاں صلاحیت رکھتے ہیں لیکن مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہیں انہیں ملک کے دیگر صوبوں میں قائم معیاری اور معروف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیںانہوں نے بتایا کہ BEEF اسکالرشپ پروگرام کے تحت مقررہ معیار پر پورا اترنے والے طلباءو طالبات کو تعلیمی اخراجات میں مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے جبکہ بلوچستان کے متعدد طلباء و طالبات اس وقت بھی ملک کے مختلف صوبوں میں قائم معروف تعلیمی اداروں میں BEEF اسکالرشپ کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت فی طالب علم سالانہ 84 ہزار روپے تک مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پی ایچ ڈی کرنے کے خواہشمند طلباء و طالبات بھی BEEF کے ذریعے دستیاب سہولیات سے استفادہ کرسکتے ہیںخالد خان نے کہا کہ طلباء و طالبات اپنی تعلیمی قابلیت اور اہلیت کے مطابق BEEF اسکالرشپ پروگرام سے بھرپور استفادہ کریں انہوں نے بتایا کہ کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کرنے والے اہل طلباء و طالبات بھی مقررہ طریقہ کار اور شرائط کو پورا کرتے ہوئے اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہداء کے بچے بھی BEEF کے ذریعے 16 سال تک اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور ان کے تعلیمی اخراجات BEEF برداشت کرے گاچیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF نے ضلع استامحمد کے تعلیمی اداروں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اپنے اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو BEEF اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور ہونہار طلباء و طالبات اس اہم تعلیمی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ کے لیے اہلیت، درخواست دینے کے طریقہ کار اور دیگر ضروری معلومات BEEF کے متعلقہ آن لائن پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں لہٰذا طلباءو طالبات مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی درخواستیں جمع کرائیںخالد خان نے ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی جانب سے آگاہی سیمینار کے انعقاد اور انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی موثر کاوشوں کے باعث سیمینار میں طلباء اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کی بھرپور شرکت ممکن ہوئی، جس سے BEEF اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں مدد ملیاس موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی تعلیم دوست پالیسیوں اور نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ہونہار اور مستحق طلباءو طالبات کے لیے BEEF اسکالرشپ پروگرام ایک اہم اور قابلِ تحسین اقدام ہے انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سیمینار میں شریک طلباء و طالبات، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان کو اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے تفصیلی اور جامع آگاہی فراہم کیڈپٹی کمشنر نے تعلیمی اداروں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ BEEF اسکالرشپ پروگرام کی معلومات زیادہ سے زیادہ طلباء و طالبات تک پہنچائیں اور انہیں درخواست دینے کے طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کریں تاکہ ضلع استامحمد کے زیادہ سے زیادہ ہونہار اور مستحق طلباء و طالبات اس اہم تعلیمی سہولت سے مستفید ہوسکیںسیمینار کے اختتام پر طلباء و طالبات اور اساتذہ نے BEEF اسکالرشپ پروگرام کے حوالے سے مختلف سوالات کیے جن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر BEEF خالد خان نے تفصیلی جوابات فراہم کیے اور شرکاء کو اسکالرشپ کے حصول کے لیے مقررہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی ہدایت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8615/2026
قلات06اکتوبر۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی احکامات پر ضلع قلات میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) اسکالرشپس کے حوالے سے آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔
آگاہی سیشن ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم قلات و خالق آباد کے افسران، مختلف کالجز کے پرنسپلز، اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز و ہیڈ مسٹریسز سمیت طلباءو طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیشن کے دوران BEEF کی آن لائن کوئٹہ ٹیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے ڈپٹی کمشنر قلات اور محکمہ تعلیم کے افسران کو ضلع قلات میں گزشتہ دس سال کے دوران BEEF اسکالرشپس سے مستفید ہونے والے طلباء و طالبات کی تعداد ڈسٹرکٹ کے ٹاپرز اور اسکالرشپس کی تفصیلات سے متعلق بریفنگ دی۔
BEEF اسکالرشپ کی آنن لائن ٹیم نے طلباء و طالبات کو اسکالرشپ کے معیار، درخواست جمع کرانے کے طریقہ کار، اہلیت، اقلیتی اور خصوصی افراد کے لیے مختص اسکالرشپ کوٹہ سمیت دیگر اہم امور کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قلات انجینئر عائشہ زہری نے کہا کہ تعلیم نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، اور حکومت بلوچستان مستحق اور باصلاحیت طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔ BEEF اسکالرشپ پروگرام کا مقصد مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم ہونے والے باصلاحیت طلباء و طالبات کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات BEEF اسکالرشپس کے معیار اور درخواست دینے کے طریقہ کار کو سمجھتے ہوئے بروقت درخواستیں جمع کرائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلباء اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ BEEF اسکالرشپس کے حوالے سے طلباءو طالبات میں بھرپور آگاہی پیدا کریں اور انہیں درخواست کے عمل میں رہنمائی فراہم کریںڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلع قلات کے طلباء و طالبات میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، انہیں تعلیمی مواقع اور مناسب رہنمائی فراہم کرکے وہ ملک و صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, October 06: Vice Chairman Balochistan Board of Investment and Trade (BBoIT), Bilal Khan Kakar, has said that under the leadership of Chief Minister Mir Sarfraz Bugti, the provincial government is striving to mobilize the entire economy of Balochistan rather than relying on any single sector or a major project for development. “Our goal is to create an economic environment where local businesses can grow, young people move towards creating employment opportunities rather than seeking jobs, and investors consider Balochistan a reliable business destination.”
Speaking to business personalities at his office, he said that Balochistan’s greatest strength lies in its exceptional economic potential. From minerals to the blue economy, agriculture, livestock, fisheries, tourism and technology, there is room for new business models in every sector. “The need is to transform these opportunities from files and reports into practical and viable projects.”
Bilal Khan Kakar said that the priority of the Board of Investment and Trade is not merely to attract investment but to make investment successful. For this purpose, it is essential to provide investors with accurate information, timely guidance and easy access to government institutions.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8616/2026
کویٹہ 6 اکتوبر۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بلوچستان کے زیرِ اہتمام ہنگامی حالات میں صنفی بنیاد پر تشدد (Gender-Based Violence in Emergencies) کے حوالے سے بلوچستان فریم ورک کے اجراء کی تقریب کانفرنس ہال پی ڈی ایم اے بلوچستان کوئٹہ میں منعقد ہوئی ہے۔تقریب کی صدارت ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان نوید احمد شیخ نے کی جبکہ پروگرام میں متعلقہ سرکاری اداروں، اقوام متحدہ کے ادارے UNFPA، آسٹریلین ایڈ اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندگان اور ماہرین نے شرکت کی۔تقریب کا بنیادی مقصد قدرتی آفات، ہنگامی صورتحال اور دیگر بحرانی حالات کے دوران خواتین اور لڑکیوں سمیت متاثرہ افراد کو صنفی بنیاد پر تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر نظام اور مربوط حکمتِ عملی وضع کرنا ہے۔تقریب میں “From Preparedness to Protection — Together for a Safer, More Resilient Balochistan” کے عنوان سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ آبادی کے تحفظ، بالخصوص خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق اور سلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ آفات اور ہنگامی حالات میں خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، بروقت تحفظ، اداروں کے درمیان رابطے اور موثر امدادی نظام ناگزیر ہیں۔ تقریب میں بلوچستان کے لیے GBViE فریم ورک کو ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کے موثر نفاذ پر زور دیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8617/2026
گوادر 06 اکتوبر ۔ چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے گوادر ایمبولینس سروس کے انچارج نسیم بلوچ سے ملاقات کی، جس کے ملاقات میں گوادر پورٹ کی جانب سے ایک ایمبولینس گوادر ایمبولینس سروس کے حوالے کی گئی اس موقع پر نسیم بلوچ نے چیئرمین گوادر پورٹ کو ایمبولینس سروس کی ضروریات، دستیاب سہولیات اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی ہنگامی طبی خدمات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ہنگامی حالات میں مریضوں کی بروقت منتقلی اور طبی امداد کی فراہمی کے حوالے سے درپیش ضروریات بھی آگاہ کیا چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کہا کہ ہنگامی حالات میں بروقت طبی امداد کی فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ گوادر پورٹ کی جانب سے فراہم کردہ ایمبولینس سے شہریوں کو ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کی بروقت منتقلی میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ گوادر ایمبولینس سروس کو ضرورت کے مطابق تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایمبولینس کا موثر استعمال اور شہریوں کو بروقت ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8618/2026
گوادر /پسنی: اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے فش فیکٹری کا اچانک معائنہ کیا، جہاں فیکٹری کے مختلف حصوں، مزدوروں کو فراہم کردہ سہولیات، اجرت کے ریکارڈ، صفائی و ستھرائی، ماحولیاتی اجازت ناموں اور دیگر قانونی و انتظامی دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔معائنے کے دوران فیکٹری میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن میں کم عمر بچوں سے مزدوری کرانا، مزدوروں کو مقررہ اجرت سے کم معاوضہ دینا اور مرد و خواتین مزدوروں کے معاوضے میں واضح فرق شامل تھا۔اس موقع پر فیکٹری میں صفائی و ستھرائی کے مطلوبہ انتظامات کا فقدان بھی پایا گیا، جبکہ فیکٹری انتظامیہ ماحولیاتی قوانین کے تحت درکار ضروری اجازت نامہ اور CSR سے متعلق مطلوبہ دستاویزات و ریکارڈ بھی پیش نہ کر سکی۔صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل اور سامنے آنے والی خلاف ورزیوں پر فیکٹری کے لوڈنگ پورشن کو موقع پر سیل کر دیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے واضح کیا کہ چائلڈ لیبر، مزدوروں کو مقررہ اجرت سے کم معاوضہ دینے، صحت و صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد میں کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے فیکٹری انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام قانونی و انتظامی تقاضے مکمل کیے جائیں اور مزدوروں کے حقوق، مقررہ اجرت، صحت و صفائی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ صنعتی و تجارتی اداروں کی نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا اور قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر86192026
پسنی: اسسٹنٹ کمشنر پسنی خسرو دلاوری نے آئس فیکٹری کا اچانک معائنہ کیا اور فیکٹری کے مختلف حصوں، برف کی تیاری کے عمل اور صفائی و ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
معائنے کے دوران برف کی تیاری کے مقام پر صفائی و ستھرائی کے ناقص انتظامات پائے گئے، جبکہ وہاں پان، شیکر گٹکا، پان پراگ اور دیگر اشیاء بھی موجود تھیں۔ فیکٹری میں موجود واٹر ٹینک کی صفائی کے انتظامات بھی تسلی بخش نہیں تھے اور پانی کے ٹینک میں صفائی کا فقدان پایا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر پسنی نے صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئس فیکٹری کو موقع پر سیل کر دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فیکٹریوں میں صفائی و ستھرائی، حفظانِ صحت اور دیگر قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ عوام کو فراہم کی جانے والی برف اور دیگر اشیائے خورونوش کے معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی و تجارتی مراکز کی نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ عوام کو معیاری اور صحت بخش اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8620/2026
لورالائی6اکتوبر ۔ ایم ایس ٹیچنگ۔ہسپتال لورالائی ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی نے رات گئے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا اچانک دورہ کیا اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، صفائی و ستھرائی، عملے کی حاضری اور مریضوں کی دیکھ بھال کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا دورے کے دوران ایم ایس نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور زیرِ علاج مریضوں سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات، ادویات، علاج معالجے اور دیگر ضروری سہولیات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں اور متعلقہ طبی عملے کو مریضوں کی بہتر دیکھ بھال اور بروقت علاج یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی نے ایمرجنسی شعبے کا بھی تفصیلی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے موجود مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کی اور ایمرجنسی میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور دیگر عملے سے بھی ضروری امور کے بارے میں معلومات حاصل کیںاس موقع پر ایم ایس نے ہدایت کی کہ ہسپتال آنے والے مریضوں کو بروقت، معیاری اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس و دیگر ملازمین اپنی ذمہ داریاں پوری محنت، خلوص اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں ایم ایس نے مزید کہا کہ ہسپتال آنے والا ہر مریض ہماری اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام ملازمین اپنی ڈیوٹی پر بروقت حاضر ہوں اور فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری یا مریضوں کے علاج میں لاپرواہی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی دورے کے دوران ہسپتال میں صفائی و ستھرائی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایم ایس نے صفائی کے عملے کو ہدایت کی کہ ہسپتال کے تمام وارڈز، ایمرجنسی، راہداریوں اور دیگر شعبہ جات میں صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور مریضوں کو صاف، محفوظ اور صحت بخش ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جائے ڈاکٹر نقیب اللہ نیازی نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال لورالائی میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، عملے کی حاضری، صفائی و ستھرائی اور ہسپتال کے نظم و ضبط کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے گی تاکہ عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ مریضوں کی مشکلات کے فوری ازالے اور طبی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، جبکہ مریضوں کی خدمت میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8621/2026
لورالائی 6اکتوبر ۔ای پی آئی کانفرنس ہال لورالائی میں ای پی آئی ویکسینیٹرز کے دوسرے شیڈول کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان کی زیرِ نگرانی منعقد ہوا، جس میں ای پی آئی پروگرام کی کارکردگی ویکسینیشن اہداف، فیلڈ سرگرمیوں اور مختلف علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر شاہ زمان حمزہ زئی، ڈویڑنل پولیو آفیسر ڈاکٹر حنیف لونی، ایم این ای آفیسر سید رفیع اللہ شاہ، ڈی ایس وی گل نواز خان ناصر، اے ایس وی عادل الیاس، سینئر ویکسنیٹرز اور بازار کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایریا انچارجز نے شرکت کی۔ماہانہ جائزہ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ افسران اور ویکسنیٹرز نے اپنی اپنی کارکردگی اور پیش رفت رپورٹس پیش کیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ای پی آئی پروگرام کے تحت بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی بروقت فراہمی ویکسینیشن کوریج میں بہتری، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حصول سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیااس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فہیم خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کے وژن کے مطابق محکمہ صحت کے تمام اداروں کو فعال، مو¿ثر اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے قابل بنانا ہمارا مشن ہے، جس کے لیے محکمہ صحت کے ہر افسر اور ملازم کو اپنی ذمہ داری پوری تندہی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کا پروگرام بچوں کو مختلف خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور صحت مند معاشرے کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے ای پی آئی پروگرام سے وابستہ تمام اہلکار اپنے فرائض میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی نہ برتیں اور مقررہ اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ڈاکٹر فہیم خان نے تمام ملازمین کو ہدایت کی کہ اپنی حاضری اے آئی (AI) پر مبنی حاضری نظام کے ذریعے یقینی بنائیں اور محکمہ صحت کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریوں اور اہداف کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت، غیر حاضری یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی، لہٰذا تمام ملازمین اپنی ڈیوٹی پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہ کریں انہوں نے مزید کہا کہ ای پی آئی پروگرام کے اہداف اور مقاصد کا حصول، بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی، ماں اور بچے کی صحت میں بہتری اور زچہ و بچہ کی اموات میں کمی لانا محکمہ صحت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے فیلڈ میں کام کرنے والی تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری ذمہ داری سے انجام دیں اور دور دراز علاقوں تک بھی حفاظتی ٹیکہ جات کی سہولیات کی موثر رسائی یقینی بنائیں اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ای پی آئی پروگرام کو مزید موثر بنانے، ویکسینیشن کوریج میں اضافہ کرنے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی اور ماہانہ بنیادوں پر جائزہ جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8622/2026
لورالائی، 6 اکتوبر ۔ ایڈیشنل کمشنر لورالائی ڈویژن اعجاز احمد جعفر کی زیرِ صدارت ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں لورالائی ڈویژن کے مختلف اضلاع میں امن و امان سکیورٹی صورتحال، انتظامی امور اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس میں ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع، ڈی ایس پی کلیم اللہ مندوخیل، ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل، ڈپٹی کمشنر ہرنائی، ڈپٹی کمشنر دکی، ڈپٹی کمشنر زیارت سمیت آئی بی، ایم آئی، سی ٹی ڈی، ایکسائز، پولیس، ایف سی اور دیگر انٹیلیجنس و سکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان اور سکیورٹی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات، موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز سے اجلاس کو آگاہ کیااجلاس کے دوران علاقائی امن و امان کی مجموعی صورتحال، سکیورٹی انتظامات، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں، حساس مقامات کی سکیورٹی اور BISA پورٹل پر ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کا جامع جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اضلاع میں سکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات، پولیس گشت، نگرانی کے نظام اور مختلف حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی ایڈیشنل کمشنر اعجاز احمد جعفر نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور موثر کارروائیاں یقینی بنائی جائیں جبکہ امن و امان کو متاثر کرنے والے عناصر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائےاجلاس میں فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی مسلسل اور موثر نگرانی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےاجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن اور ضروری معلومات کی تکمیل کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ مدارس سے متعلق مطلوبہ معلومات اور ریکارڈ کو مکمل اور بروقت اپ ڈیٹ رکھا جائے تاکہ انتظامی و سکیورٹی نظام کو مزید موثر بنایا جا سکےشرکاءکو قومی شاہراہوں، اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی سکیورٹی مزید مو¿ثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اہم شاہراہوں پر پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے اور داخلی و خارجی راستوں سمیت حساس مقامات پر نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائےاجلاس میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گرانفروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ بازاروں اور تجارتی مراکز میں باقاعدگی سے چیکنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائےایڈیشنل کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ سکیورٹی افسران پر زور دیا کہ باہمی رابطوں اور اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی حکمت عملی اور موثر حفاظتی اقدامات اختیار کیے جائیںانہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام اضلاع کے انتظامی و سکیورٹی افسران اپنے اپنے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں، عوامی شکایات اور سکیورٹی سے متعلق اطلاعات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے مربوط نظام فعال رکھا جائےاجلاس کے اختتام پر ایڈیشنل کمشنر اعجاز احمد جعفر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لورالائی ڈویڑن میں امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم کے سدباب کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور موثر رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8623/2026
کوئٹہ 06اکتوبر۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم محمد حسنی نے بنیادی مرکز صحت (BHU) نوحصار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرکز صحت میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، انتظامی امور اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے مرکز صحت میں زیرِ علاج اور موجود مریضوں سے ملاقات کی اور ان سے علاج معالجے کی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور طبی عملے کے رویے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔مریضوں نے مرکز میں دستیاب سہولیات کے حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کو آگاہ کیا۔اسسٹنٹ کمشنر نے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کی حاضری بھی چیک کی جبکہ ادویات کے اسٹاک اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مرکز صحت کے مختلف حصوں کا دورہ کرتے ہوئے صفائی ستھرائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم محمد حسنی نے طبی عملے کو ہدایت کی کہ مریضوں کو بہتر، بروقت اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے مرکز صحت میں صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور صفائی ستھرائی کے نظام کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت دیہی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان مراکز میں عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی اور طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8624/2026
گوادر06 اکتوبر 2026: چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے میر عبدالغفور کلمتی ٹیچنگ ہسپتال گوادر کا دورہ کیا، جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالحفیظ بلوچ اور ہسپتال کے دیگر عملے نے ان کا استقبال کیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور علاج معالجے کی صورتحال کا جائزہ لیا چیئرمین گوادر پورٹ نے ڈائلیسس سینٹر کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں دستیاب سہولیات، مشینری اور مریضوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت اور ان کی خیریت دریافت کی جبکہ سینٹر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فوری فراہمی کی ہدایت کی چیرمین نورالحق بلوچ نے ہسپتال کے تھیلیسیمیا سینٹر کا بھی دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے تھیلیسیمیا سینٹر کے لیے دو ایئر کنڈیشنرز فوری طور پر فراہم اور نصب کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پر چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے کہا کہ ڈائلیسس اور تھیلیسیمیا سینٹرز میں مریضوں کے علاج کا سلسلہ کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایم ایس ڈاکٹر عبدالحفیظ بلوچ کو ہدایت کی کہ دونوں مراکز کے لیے درکار مشینری، طبی آلات اور دیگر ضروری سامان کی مکمل فہرست فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ ضروری سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی ضروریات اور درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کیا جائے گا اور گوادر کے عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
(پریس ریلیز)
کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (B-TEVTA) آفس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر نور محمد بی-ٹیوٹا کے ڈائریکٹرز سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران صوبائی وزیر کو بی ٹیوٹا کی موجودہ کارکردگی، صوبہ بھر میں جاری فنی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ دورانِ گفتگو ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر (TTC) خاران کو مکمل طور پر فعال بنانے اور مقامی ضروریات کے مطابق نئے ٹریڈز شامل کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی واضح ہدایت ہے کہ صوبے کے نوجوانوں کو جدید اور معیاری فنی تعلیم سے آراستہ کر کے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خاران کے نوجوانوں میں خود روزگاری کے فروغ کے لیے انٹرپرینیورشپ اور “قرضِ حسنہ اسکیم” بھی متعارف کرائی جائے گی تاکہ وہ اپنی تربیت کے بعد باوقار روزگار شروع کر سکیں۔اس موقع پر ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون نے صوبائی وزیر کو اتھارٹی کے نئے منصوبوں کے بارے میں بتایا اور یقین دہانی کرائی کہ مستقبل قریب میں مارکیٹ کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید جدید ٹریڈز اور ضروری فنی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
QUETTA (Press Release): Provincial Minister for Finance, Mir Shoaib Nosherwani, visited the head office of the Balochistan Technical Education and Vocational Training Authority (B-TEVTA), where he held a detailed meeting with Managing Director Abdul Kabeer Zarkoon. Head of the Public-Private Partnership (PPP) Unit Dr. Noor Mohammad, alongside B-TEVTA directors and other senior officials, were also present on the occasion.
During the meeting, the Provincial Minister was given a detailed briefing on B-TEVTA’s current performance, ongoing technical and vocational training programs across the province, and future strategic plans. Both sides reached a complete consensus on making the Technical Training Center (TTC) Kharan fully operational and introducing new skill trades aligned with local requirements.
Speaking at the occasion, Provincial Finance Minister Mir Shoaib Nosherwani stated that Chief Minister Balochistan has issued clear directives to equip the youth of the province with modern, high-quality technical education to create meaningful employment opportunities. He added that to promote self-employment among the youth of Kharan, an entrepreneurship initiative alongside a “Qarz-e-Hasna” (interest-free loan) scheme will be introduced, enabling trained youth to establish their own dignified livelihoods.
Managing Director B-TEVTA Abdul Kabeer Zarkoon briefed the Finance Minister on the authority’s upcoming projects. He assured that modern, market-driven training programs will be introduced in the near future to better align local skill sets with domestic and international employment demands.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8625/2026
گوادر06 اکتوبر 2026: چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی BRA عبداللہ خان نے گوادر پورٹ اتھارٹی کا دورہ کیا، جہاں انہیں گوادر پورٹ کی فعالیت، آپریشنل ترقی اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر ڈائریکٹر گوادر پورٹ اتھارٹی منیر احمد بنّا نے چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی کو گوادر پورٹ کی موجودہ آپریشنل صورتحال، بندرگاہ کی فعالیت میں پیش رفت اور مستقبل میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن دی ملاقات میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان باہمی رابطہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کے مختلف پہلووں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے، اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے اور گوادر کی وسیع تر معاشی استعداد سے استفادہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے ملاقات میں گوادر پورٹ کی تجارتی و اقتصادی اہمیت، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے ذریعے معاشی مواقع کو مزید وسعت دینے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8626/2026
شاہرگ : انتظامی امور کی بہتری اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے تحصیل شاہرگ کا دورہ کرتے ہوئے مختلف سرکاری اداروں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلی ہمبو شاہرگ اور رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) شاہرگ کی کارکردگی اور انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا۔گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلی ہمبو شاہرگ کے معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے تدریسی و غیر تدریسی عملے کی حاضری کا رجسٹر چیک کیا اور کلاس رومز کا دورہ کر کے طالبات سے ان کی تعلیم اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ طالبات کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اساتذہ پر زور دیا کہ اسکول میں طالبات کی بہترین نشوونما اور معیاری تعلیم کے لیے سازگار اور پرامن ماحول فراہم کیا جائے۔بعد ازاں، اسسٹنٹ کمشنر نے رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) شاہرگ کا دورہ کیا۔ تفتیش کے دوران انہوں نے میڈیکل و پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری، ہسپتال میں ادویات کے ذخائر اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے فارمیسی کا معائنہ کرتے ہوئے بنیادی اور ضروری ادویات کی دستیابی کی تصدیق کی اور ہسپتال کے مختلف وارڈز میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز میں غفلت یا غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر صحت اور تعلیم جیسی بنیاد سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس طرح کے سرپرائز وزٹس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8627/2026
گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت نیو ٹاون میں غیر قانونی قبضوں، ناجائز تجاوزات اور اصل الاٹیز کے معاملات سے متعلق سماعت منعقد ہوئی۔ سماعت میں پروجیکٹ ڈائریکٹر نیو ٹاون ڈاکٹر عبدالشکور اور نائب تحصیلداران سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔سماعت کے دوران مجموعی طور پر پانچ کیسز پیش کیے گئے، جن میں 10 فریقین نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے اصل الاٹیز اور قابضین کا موقف تفصیل سے سنا اور فریقین کو ہدایت کی کہ وہ باہمی افہام و تفہیم اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے معاملات حل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران سے تعاون کریں۔
اس موقع پر دونوں فریقین کو اپنے معاملات کے حل کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی اور واضح کیا گیا کہ مقررہ مدت کے دوران فریقین ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں باہمی رضامندی سے معاملات طے کرنے کی کوشش کریں۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ اصل الاٹیز کے حقوق کا تحفظ، غیر قانونی قبضوں اور ناجائز تجاوزات کا خاتمہ اور سرکاری و نجی املاک کا قانونی تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مقررہ مدت کے دوران افہام و تفہیم سے مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور غیر قانونی قبضوں و ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام معاملات میں شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کارروائی یقینی بنائی جائے تاکہ اصل الاٹیز کے حقوق کا تحفظ اور نیو ٹاون میں اراضی سے متعلق مسائل کا مستقل اور قانونی حل ممکن بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8628/2026
سیوی 6 اکتوبر۔کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت کمپلینٹ ریڈریسل کمیٹی (CRC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈویڑنل ڈائریکٹر تعلیم سمیت ضلعی تعلیمی افسران اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ایک امیدوار کے کیس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے امیدوار کی جانب سے پیش کیے گئے دستاویزات، تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور کیس سے متعلق تمام پہلووں کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے اراکین نے دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کی روشنی میں کیس پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس میں کیس سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، جسے مقررہ طریقہ کار کے تحت بلوچستان ہائی کورٹ کو بھجوا دیا جائے گا۔ کمشنر سیوی ڈویڑن عرفان اللہ خان نے اجلاس میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق تمام معاملات کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8629/2026
سیوی 6 اکتوبرکمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت محکمہ زراعت کی پروگریس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں سیوی ڈویڑن سے محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کی جانب سے جاری مختلف ترقیاتی و زرعی سرگرمیوں، جاری منصوبوں اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری سرگرمیوں اور پیش رفت کے حوالے سے کمشنر سیوی ڈویڑن کو بریفنگ دی۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے افسران کو ہدایت کی کہ زرعی شعبے کی ترقی، کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل اور محکمہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کی موثر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مقررہ معیار کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ زراعت صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل اور زرعی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مختلف امور پر بھی غور کیا گیا۔ واضح رہے کہ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت ڈویژن کے تمام محکموں کی کارکردگی اور پیش رفت کا مرحلہ وار پروگریس ریویو لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمام محکموں کے اجلاس ون بائی ون روزانہ کی بنیاد پر منعقد کیے جائیں گے، جن میں متعلقہ محکموں کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8630/2026
سیوی 6 اکتوبر۔ کمشنر سیوی ڈویژن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت محکمہ جنگلات کی پروگریس ریویو میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں کنزرویٹر فاریسٹ زاہد رند، ڈی ایف او سید طارق شاہ سمیت محکمہ جنگلات کے دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں سیوی ڈویڑن میں محکمہ جنگلات کی جانب سے جاری مختلف سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں، شجرکاری، جنگلات کے تحفظ اور محکمے کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران نے کمشنر سیوی ڈویژن کو اپنے اپنے شعبوں سے متعلق پیش رفت اور جاری اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمشنر عرفان اللہ خان نے افسران کو ہدایت کی کہ جنگلات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے موثر اقدامات کو مزید تیز کیا جائے۔انہوں نے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور محکمانہ امور میں شفافیت و ذمہ داری کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ کمشنر نے کہا کہ جنگلات کا تحفظ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے جنگلات کی حفاظت اور زیادہ سے زیادہ شجرکاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس میں محکمہ جنگلات کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل اور مختلف محکمانہ امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ واضح رہے کہ کمشنر سیوی ڈویڑن عرفان اللہ خان کی زیرِ صدارت ڈویڑن کے تمام محکموں کی کارکردگی اور پیش رفت کا مرحلہ وار پروگریس ریویو لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تمام محکموں کے اجلاس ون بائی ون روزانہ کی بنیاد پر منعقد کیے جائیں گے، جن میں متعلقہ محکموں کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8631/2026
سیوی 6 اکتوبر۔گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول سیوی میں گزشتہ روز یومِ اساتذہ نہایت عقیدت و احترام اور پروقار انداز میں منایا گیا۔ تقریب میں اساتذہ کرام اور طلباء نے شرکت کی اور اساتذہ کے عظیم مقام، تعلیمی و تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکول کے پرنسپل محمد عارف بیگ و دیگر نے اساتذہ کے عظیم مقام اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ان کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ استاد ایک نسل کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ طلباء کی کردار سازی اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مقررین نے طلبا پر زور دیا کہ وہ اپنے اساتذہ کا ہمیشہ احترام کریں، ان کی رہنمائی سے بھرپور استفادہ کریں اور علم و اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر کامیابی کی منازل طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ استاد کی عزت اور علم کا حصول ایک مہذب، باشعور اور کامیاب معاشرے کی بنیاد ہے۔ تقریب کے دوران اساتذہ کی گراں قدر خدمات کو سراہا گیا جبکہ طلباء کو بھی تعلیم کے حصول، نظم و ضبط اور اساتذہ کے احترام کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8632/2026
تربت 6 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ضلع کیچ میں قائم کرش پلانٹس کے مالکان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کرش پلانٹس کی رجسٹریشن، ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد، ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی، ڈپٹی چیئرمین ضلع کونسل کیچ میر باہڈ جمیل دشتی، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت شعیب ناصر، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات طارق علی اور ضلع کیچ کے کرش پلانٹس کے مالکان نے شرکت کی۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات طارق علی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ ماحولیات کے ریکارڈ کے مطابق ضلع کیچ میں 12 کرش پلانٹس رجسٹرڈ ہیں، جبکہ بعض پلانٹس تاحال غیر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے رجسٹریشن کی صورتحال اور ماحولیاتی قوانین و ضوابط پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس کو آگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ، شہریوں کی صحت اور صاف ماحول کا قیام ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کرش پلانٹس سے پیدا ہونے والی گرد و غبار اور دیگر ماحولیاتی اثرات کے تدارک کے لیے تمام مالکان کو متعلقہ قوانین اور ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام کرش پلانٹس کی قانونی حیثیت اور رجسٹریشن کا جائزہ لیا جائے گا اور غیر رجسٹرڈ یا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پلانٹس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کرش پلانٹس مالکان پر زور دیا کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ CSR کے تحت عوامی فلاح و بہبود میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایمبولینسز کی مرمت و بحالی، سرکاری اسکولوں کی تعمیر و مرمت، مستحق طلبہ کے لیے اسکالرشپس، سرکاری ہسپتالوں کی بہتری اور دیگر عوامی مفاد کے منصوبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔اجلاس کے اختتام پر کرش پلانٹس مالکان نے ضلعی انتظامیہ کی ہدایات اور تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد اور CSR کے تحت عوامی فلاحی منصوبوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ماحولیاتی تحفظ، عوامی مفاد اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مو¿ثر اشتراک کو مزید فروغ دے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8633/2026
ژوب 05 اکتوبر۔عالمی یومِ اساتذہ پر ژوب میں پروقار تقریب، سو سے زائد اساتذہ میں شیلڈز تقسیمعالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر محکمہ تعلیم ژوب کی جانب سے گورنر بلوچستان کے مالی تعاون سے گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول ژوب میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع بھر سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سو سے زائد اساتذہ کو شیلڈز دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان کے فرزند بیرسٹر شیخ امیر خان مندوخیل تھے۔ تقریب میں ڈویڑنل ڈائریکٹر لعل جان موسیٰ خیل، ڈائریکٹر یونیورسٹی کالج ڑوب بیوٹمز ڈاکٹر عبدالسلام لودھی، پرنسپل ماڈل اسکول تازہ خان ناصر، ڈی او ای وزیر خان ناصر، وائس پرنسپل عبدالغفار مندوخیل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شائستہ خان مندوخیل، تحصیلدار جمیل الرحمن، سابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالطیف مندوخیل، صدر ایپکا ملک صحبت خان مندوخیل، پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر نورالامین سمیت محکمہ تعلیم کے افسران، پروفیسرز، اساتذہ تنظیموں کے نمائندگان، ہیڈماسٹرز، سینئر اساتذہ، ایس بی کے اور کنٹریکٹ اساتذہ، سماجی رہنماو¿ں اور صحافیوں نے شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں مہمانوں کو روایتی پگڑیاں پہنائی گئیں۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شیخ موسیٰ خان مندوخیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ڑوب کے تقریباً دو ہزار اساتذہ میں سے سو سے زائد اساتذہ کو بہترین کارکردگی کی بنیاد پر شیلڈز دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تقریباً چالیس ہزار جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں تقریباً بیس ہزار بچے زیرِ تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس بی کے اور کنٹریکٹ اساتذہ کی تعیناتی کے بعد دور دراز علاقوں کے کئی غیر فعال اسکول دوبارہ فعال ہوئے ہیں۔ ضلع میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی یومِ اساتذہ منانے کا مقصد تعلیم جیسے مقدس شعبے سے وابستہ اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ اساتذہ نامساعد حالات کے باوجود اپنی تدریسی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں اور معاشرے میں علم و شعور کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ ملکی ترقی کا دارومدار تعلیم کے فروغ پر ہے، جبکہ اساتذہ نئی نسل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اساتذہ کو درپیش مسائل کے حل اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔گورنر بلوچستان کے فرزند بیرسٹر شیخ امیر خان مندوخیل نے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ استاد صرف تعلیم دینے والا نہیں بلکہ نئی نسل کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا ذمہ دار بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان نے مختلف ادوار میں صوبے اور بالخصوص اپنے حلقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کیے ہیں اور مستقبل میں بھی شعبہ تعلیم کی ترقی کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سو سے زائد اساتذہ میں شیلڈز جبکہ مہمانوں اور شرکاء میں یادگاری تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8634/2026
تربت: 6 اکتوبر ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد کی سربراہی میں محکمہ تعلیم کے افسران کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع کیچ میں محکمہ تعلیم کی مجموعی صورتحال، کنٹریکٹ آسامیوں کے اشتہار، سرکاری اسکولوں کو درپیش مسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ تابش علی بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی، اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اصغر علی، ڈی ڈی او شیرجان بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد نے ڈپٹی کمشنر کو ضلع میں محکمہ تعلیم کی مجموعی صورتحال، کنٹریکٹ آسامیوں کے اشتہار کے عمل اور مختلف سرکاری اسکولوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اساتذہ و دیگر عملے کی ضروریات، اداروں میں دستیاب سہولیات اور درپیش انتظامی مسائل کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضلعی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں محکمہ تعلیم کی کنٹریکٹ آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، اس لیے ضلع کیچ میں بھی ضروری آسامیوں کو بروقت مشتہر کیا جائے تاکہ مقامی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان میرٹ کی بنیاد پر ان مواقع سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو بھرتی کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضلع کے تمام سرکاری اسکولوں میں دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کا جائزہ لے کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی، بجلی، صفائی، چاردیواری، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی طلبہ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے ان مسائل کے حل کے لیے موثر اور بروقت اقدامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے افسران پر زور دیا کہ وہ اداروں کے مسائل کی بروقت نشاندہی، باہمی رابطہ کاری اور عملی اقدامات کے ذریعے انتظامی امور کو مزید موثر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے اور ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں متعلقہ محکمے کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی تاکہ ضلع کیچ میں معیار اور سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ملاقات کے اختتام پر محکمہ تعلیم کے افسران نے ضلع میں بہتری، مسائل کے حل اور نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنے بھرپور تعاون اور موثر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8635/2026
6 اکتوبر نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایاز حسین جمالی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر حبیب اللہ پندرانی منظور شیرازی سمیت محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع نصیرآباد کے مختلف ہسپتالوں، بنیادی مراکز صحت اور دیگر طبی مراکز میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری ادویات کی دستیابی اور صحت کے مراکز کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے واضح کیا کہ عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ضلع بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کی بروقت اور یقینی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے ہدایت کی کہ جو ڈاکٹرز یا پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے جائیں ان کے خلاف محکمانہ ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے اور غیر حاضری کے ایام کی تنخواہوں میں کٹوتی کو یقینی بنایا جائے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں میں کی جانے والی کٹوتیوں کی مکمل تفصیلات ڈسٹرکٹ اکاوٹس آفیسر سے حاصل کرکے کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں، تاکہ حاضری کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکےڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام بنیادی مراکز صحت اور دیگر طبی مراکز میں ضروری ادویات کی وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو ادویات کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مراکز میں صفائی ستھرائی طبی آلات کی دستیابی اور فعال حالت، ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی موجودگی اور مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائےانہوں نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکز صحت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں، اس لیے ان مراکز کی کارکردگی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ متعلقہ افسران باقاعدگی سے صحت مراکز کے دورے کرکے صورتحال کا جائزہ لیں اور کسی بھی کمی یا مسئلے کی فوری نشاندہی کرکے اس کے ازالے کے لیے موثر اقدامات کریں
اجلاس میں ضلع بھر کے طبی مراکز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور محکمہ صحت کے امور میں شفافیت و جوابدہی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر بھی غور و خوض کیا گیا
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر8636/2026
6 اکتوبر نصیرآباد۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل و فیمیل، منظور شیرازی سمیت محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں ضلع نصیرآباد میں تعلیمی نظام کی مجموعی صورتحال سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری تدریسی سرگرمیوں طلباءو طالبات کی تعداد غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی تنخواہوں میں کٹوتی اور محکمہ تعلیم کو درپیش دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیااجلاس کے دوران افسران کی جانب سے مختلف اسکولوں میں اساتذہ اور طلباءکی حاضری، تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل اور اسکولوں میں فراہم کی جانے والی تدریسی سہولیات کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کو بریفنگ دی گئی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بروقت اور یقینی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید اور معیاری تعلیم کے فروغ کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ تعلیم ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اساتذہ معاشرے میں انتہائی اہم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پوری ایمانداری لگن اور محنت کے ساتھ انجام دیںانہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اسکولوں میں سازگار تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ تعلیمی اداروں کے باقاعدگی سے دورے کریں اساتذہ اور طلباءکی حاضری کی موثر نگرانی کریں اور جہاں کہیں بھی کمی یا کوتاہی سامنے آئے اسے فوری طور پر دور کیا جائےانہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں طلباء کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا بھی محکمہ تعلیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے اس سلسلے میں والدین، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے افسران باہمی تعاون کے ذریعے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریںڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور افسران و ملازمین اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے ادا کریں تاکہ ضلع نصیرآباد میں تعلیمی نظام کو مزید موثر اور بہتر بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر8637/026
کوئٹہ 6 اکتوبر: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ صوبے میں کیڈٹ کالجز کی تعداد بڑھانے کے بجائے موجودہ کیڈٹ کالجز کے معیار اور کارکردگی کو ملک کے بہترین کیڈٹ کالجز کے معیار کے مطابق لانے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مزید طلبہ کیلئے گنجائش پیدا کرنے اور ان پر تعلیمی فیس کا اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ہماری ترجیح موجودہ کیڈٹ کالجز کے اساتذہ اور زیرِ تعلیم کیڈٹس کو بہتر سہولیات، معیاری تعلیم اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ کیڈٹ کالجز کی تمام انتظامی، تدریسی اور بنیادی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے کیڈٹ کالجز کے بورڈ آف گورنرز کا 19وین اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. کیڈٹ کالجز کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی (آن لائن)، وزیراعلیٰ کی مشیر ربابہ بلیدی، رکن صوبائی اسمبلی دستگیر بادینی، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ایڈیشنل سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی رحمت چنگیزی، تمام کیڈٹ کالجز کے پرنسپل صاحبان، فنانس اور پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے سمیت آفتاب بزدار بھی موجود تھے. مذکورہ اجلاس میں بلوچستان کے بارہ کیڈٹ کالجز سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ کیڈٹ کالجز کی کارکردگی، درپیش مشکلات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم کیڈٹ کالجز کے اساتذہ اور اسٹاف کو ملک کے بہترین کیڈٹ کالجز کے معیار کے مطابق بہترین سہولیات فراہم کرینگے تاکہ وہ پوری دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ ملک کے ممتاز کیڈٹ کالجز کی طرز پر جدید اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیے جائینگے جن میں جِمز اور کھیلوں کیلئے معیاری گراؤنڈز شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کانووکیشن ہالز تعمیر کیے جائیں گے جبکہ طلبہ اور اسٹاف کیلئے موثر ٹرانسپورٹ اور فول پروف سکیورٹی کے انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں گے۔ گورنر مندوخیل نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو بھی ہدایت کی وہ کیڈٹ کالج کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ ایک کیڈٹ کالج کو جس مقصد کے تحت بنایا جاتا ہے اسی ٹارگٹ کو پورا کرنے کیلئے ہمیں تمام دستیاب وسائل کو متحرک کیے جا رہے ہیں تاکہ کیڈٹ کالج کا اپنا امتیاز برقرار رہے۔ گورنر مندوخیل نے اپنے بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں اور خاص طور پر کیڈٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مزید کلاس رومز، ہاسٹل کا قیام، اسپورٹس کمپلیکس، سیکورٹی کے انتظامات اور میڈیکل سہولیات فراہم کرنے میں بھی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی. ہم آج کے بورڈ آف گورنرز کی پیشرفت کو مزید آگے بڑھائیں گے تاکہ تمام کیڈٹ کالجز کی دیرپا ترقی مستقل بنیادوں پر آگے بھی جاری و ساری رہیں۔

خبرنامہ نمبر8638/026
سوراب ۔سوشل میڈیا پر سوراب بازار سے ڈن کراس تک زیر تعمیر روڈ کے حوالے سے سامنے آنے والی خبر کا ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے متعلقہ افسران و عملے کو موقع پر جا کر کام کا تفصیلی معائنہ کرنے اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دیں ڈپٹی کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے عملے نے آج سوراب بازار تا ڈن کراس روڈ کا موقع پر دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا معائنے کے دوران غیر ضروری مواد کو موقع سے ہٹایا گیا جبکہ استعمال ہونے والے تعمیراتی مواد کے معیار کو بھی چیک کیا گیا محکمہ کے عملے نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سڑک کی تعمیر مقررہ ڈیزائن، اور منظور شدہ معیار کے مطابق ہو اور کسی بھی صورت غیر معیاری یا ناقص مواد کے استعمال کی اجازت نہ دی جائے ڈپٹی کمشنر سوراب صاحبزادہ نجیب اللہ نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں تاکہ عوام کو معیاری اور پائیدار سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

خبرنامہ نمبر8639/026
تربت۔ مکران ڈویژن میں پہلی مرتبہ فیلو آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (FCPS) پارٹ ون کے امتحانات تربت میں قائم کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ریجنل آفس میں منعقد ہوئے، جن میں 20 ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ امتحانات دو روز تک جاری رہیں گے۔ ملک بھر میں ایف سی پی ایس پارٹ ون کے امتحانات 13 امتحانی مراکز پر آن لائن اور سخت نگرانی میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
تربت میں قائم امتحانی مرکز میں امتحانات کے انتظامات اور نگرانی کے لیے سی پی ایس پی کے آئی ٹی ڈائریکٹر شہزاد عابد، ریجنل ڈائریکٹر سی پی ایس پی و پرنسپل مکران میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر افضل خالق سمیت دیگر ماہرین موجود رہے۔ امتحانات کے دوران آن لائن نظام کے تحت شفافیت اور امتحانی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی پی ایس پی کے ریجنل ڈائریکٹر و پرنسپل مکران میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر افضل خالق نے کہا کہ تربت میں ایف سی پی ایس پارٹ ون کے امتحانات کا انعقاد مکران کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سہولت کے باعث مکران کے ڈاکٹرز کو امتحانات میں شرکت کے لیے کراچی اور کوئٹہ جیسے دور دراز شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا، جس سے ان کے وقت، سفری اخراجات اور دیگر مشکلات میں کمی آئے گی۔پروفیسر ڈاکٹر افضل خالق نے امید ظاہر کی کہ تربت میں قائم ایف سی پی ایس امتحانی مرکز اپنی سرگرمیاں کامیابی سے جاری رکھے گا اور مستقبل میں پارٹ ٹو کے امتحانات کے انعقاد کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مکران میں اعلیٰ طبی تخصص کے امتحانات کی سہولت سے خطے میں طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع کو مزید فروغ ملے گا۔سی پی ایس پی کے آئی ٹی ڈائریکٹر شہزاد عابد نے کہا کہ بلوچستان میں کوئٹہ کے بعد تربت دوسرا مرکز ہے جہاں ایف سی پی ایس پارٹ ون کے امتحانات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکران کے دور افتادہ علاقوں میں امتحانی مرکز کے قیام سے پنجگور، گوادر، تربت اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز اپنے علاقے میں رہتے ہوئے امتحانات میں شرکت کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بہتر انتظامات کے ساتھ ایف سی پی ایس پارٹ ٹو کے امتحانات بھی تربت میں منعقد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔امتحانات کے دوران مکران میڈیکل کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عابد علی، ماہر امراض اطفال ڈاکٹر مصباح منیر، ماہر امراض نسواں پروفیسر ڈاکٹر یاسمین گل اور ماہر نفسیات ڈاکٹر شعیب کاشانی سمیت دیگر متعلقہ ماہرین نے نگرانی کے فرائض انجام دیے۔ تربت میں ایف سی پی ایس پارٹ ون کے امتحانی مرکز کے قیام سے مکران ڈویژن کے ڈاکٹرز کو اعلیٰ طبی تخصص کے امتحانات اپنے علاقے میں دینے کی سہولت میسر آگئی ہے، جسے طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

خبرنامہ نمبر8640/026
سنجاوی6ستمبر 2026
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سمالن سنجاوی میں گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن تحصیل سنجاوی کے زیراہتمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع زیارت کے صدر محمد نور دمڑتھے۔
تقریب کی صدارت گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سمالن سنجاوی کے ہیڈ ماسٹر محمد یوسف دمڑ نے کی۔
تقریب میں ڈسٹرکٹ افیسر ایجوکیشن زیارت عبدالمالک تاج، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر سنجاوی عبدالخالق نیازی، مختلف ہائی سکولوں، مڈل سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز، پرائیویٹ سکولوں کے پرنسپلز، جی ٹی اے زیارت کے ضلعی عہدیداران، جی ٹی اے تحصیل سنجاوی کے جنرل سیکرٹری محمد سلیم کاکڑ وعہدیداران، ڈی ایس پی محبوب علی، ایس ایچ او سنجاوی امجد علی والدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اشخاص نے شرکت کی۔تقریب سے محمد نور دمڑ، عبدالمالک تاج، محمد یوسف دمڑ، عبدالرحمان حقانی، الفیصل سکول کے پرنسپل نعمت اللہ دمڑ، یونائیٹڈ سکول کے پرنسپل شمس اللہ دمڑ، مولوی عین الدین اور عبدالجلیل نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی خدمات اور معاشرے میں ان کے اہم کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر اساتذہ کی تعلیمی و معاشرتی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

خبرنامہ نمبر8641/026
کوئٹہ: 06 اکتوبر 2026ء
صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی نے جھالاوان ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی و علاقائی صورتحال، سیاسی سرگرمیوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے عوامی مسائل کے حل، سیاسی رابطوں کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا اس موقع پر صوبے میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

خبرنامہ نمبر8642/026
کوئٹہ 6 اکتوبر2026۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر اور میونسپل مجسٹریٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر عمران زیب نے بروری روڈ پر غیر قانونی تجاوزات کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔کارروائی کے دوران بروری روڈ پر سڑک اور فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات کو ہٹا دیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف امر اور میونسپل مجسٹریٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن ڈاکٹر عمران زیب نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ سڑک اور فٹ پاتھ پر دوبارہ کسی قسم کا تجاوزات قائم نہ کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ خلاف ورزی کی صورت میں سامان ضبط کرنے کے ساتھ گرفتاری اور دکانوں کو سیل کرنے سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی عوامی شکایات اور غیر قانونی تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے پیش نظر کی گئی۔ دکانداروں کو تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت اور سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ بروری روڈ پر تجاوزات کے خلاف مزید کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔

خبرنامہ نمبر8643/026
بارکھان06 اکتوبر 2026۔
ڈویژنل ڈائریکٹر آف سکولز کوہ سلیمان ڈویژن محمد سلیم زرکون نے آج گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گڈائی رکھنی کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے سکول میں جاری تدریسی عمل اور تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کلاس رومز کا معائنہ کیا اور اساتذہ و طالبات کی کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر ہیڈ مسٹریس محترمہ سحر مبین نے ڈویژنل ڈائریکٹر کو سکول کی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے سکول کو درپیش مسائل، جن میں چار دیواری، واش رومز کی کمی اور سٹاف کی کمی شامل ہے، کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ڈویژنل ڈائریکٹر سلیم زرکون نے تمام مسائل غور سے سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے اور سکول کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر8644/026
کوئٹہ 6 اکتوبر2026: پاک ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 11ویں اجلاس کے دوران گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو صوبے بھر کے تاجروں، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کی بھرپور نمائندگی کے اعتراف میں گولڈ میڈل پیش کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ گورنر جعفرخان مندوخیل خود بھی خاندانی طور پر کاروباری پس منظر رکھتے ہیں اور تاجر برادری کے مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، کاروباری مواقع میں اضافے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور تاجر و صنعتکار برادری کے مسائل کو متعلقہ اور ذمہ دار فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کیلئے فعال کردار ادا کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، تجارت و صنعت کی ترقی اور کاروباری برادری کیلئے نئے مواقع پیدا کرنے کی خاطر مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے پاک ایران جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران کا گورنر بلوچستان کو صوبے بھر میں گولڈ میڈل کیلئے منتخب کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم بلوچستان اور بالخصوص کوئٹہ کو تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنائیں گے۔ اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام متعلقہ اور بااختیار اداروں اور حکام کو اپنے اپنے دائرہ کار میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

خبرنامہ نمبر8645/026
بارکھان/رکھنی، 06 اکتوبر 2026ء
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن “خوشحال بلوچستان” کے تحت صوبہ بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔اسی تسلسل میں کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن مجیب الرحمٰن قمبرانی کی خصوصی ہدایت پر ایڈیشنل کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار کی زیر صدارت کمشنر آفس رکھنی میں زیر تعمیر رکھنی ماڈل بازار اور مین بازار کے تعمیراتی کاموں کا ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر رکھنی فہد حسین عمرانی، ایگزیکٹیو انجینئر روڈز فضل محمد زرکون، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر زبیر خان، کنسلٹنٹ انجینئر عبداللہ خان اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے رکھنی ماڈل بازار اور مین بازار میں جاری ترقیاتی کاموں بشمول سڑکوں کی تعمیر، نکاسی آب اور دیگر شہری سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ایڈیشنل کمشنر کوہ سلیمان ڈویژن عبدالباسط بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل اور معیار پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رکھنی شہر کی تعمیر و ترقی کو موجودہ ضروریات تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ مستقبل کی آبادی میں اضافے اور شہری ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ رکھنی کو کوہ سلیمان ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے شایان شان ایک جدید، منظم اور مثالی شہر بنایا جائے گا۔

خبرنامہ نمبر8646/026
کوئٹہ 06اکتوبر۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) حافظ محمد طارق کے زیرِ صدارت ریلوے کی اراضی، اس پر قائم تعمیرات کے جائزے اور میٹروپولیٹن پراپرٹیز سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پاکستان ریلوے کے حکام، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسران اور محکمہ ریونیو کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی اراضی اور اس پر موجود تعمیرات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ، اراضی کی موجودہ صورتحال اور ملکیتی امور پر غور کیا گیا۔اس موقع پر میٹروپولیٹن پراپرٹیز سے متعلق ریکارڈ اور دیگر متعلقہ امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریوینیو) نے متعلقہ حکام کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور تمام امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

خبرنامہ نمبر8646/026
کوئٹہ06اکتوبر2026:
زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں کمیشن کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کوئٹہ زون نے مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر مذکورہ حملے کے بعد سےلیکر اب تک اٹھائے گئے اقدامات اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی، من گھڑت اور گمراہ کن خبروں کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق پیش رفت رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک ایسے 50 پیجز کو ضروری قانونی کاروائی کر کے بلاک کردیا گیا ہے. علاوہ ازیں ڈائریکٹر پی ٹی اے کوئٹہ زون نے کمیشن کے استفسار پر بتایا کہ واقعہ سے متعلق جعلی، من گھڑت اور نفرت انگیز سوشل میڈیا پیجز کی مسلسل نگرانی اور اس طرح کے پیجز کو فوری بلاک کرنے سے متعلق مجاز اتھارٹی Web Analysis Division، پی ٹی اے اسلام آباد ہے۔ جس پر تحقیقاتی کمیشن نے ڈائریکٹر WAD، پی ٹی اے اسلام آباد کو ہدایت جاری کی کہ وہ آئندہ سماعت پر ویڈیو لنک کے ذریعے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اس معاملے پر اقدامات سے متعلق کمیشن کو تفصیلی بریفنگ دیں۔ تحقیقاتی کمیشن نے مزید کارروائی اگلی سماعت تک ملتوی کر دی۔

خبر نامہ نمبر 2026/8647
تربت6 اکتوبر:_ یونیورسٹی آف تربت کوالٹی سرکل کا آٹھواں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ڈاکٹر ریاض احمد نے کوالٹی ایشورنس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل گورننس اور یونیورسٹی کے پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان (2026-2030) پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں رواں سال کے اختتام تک یونیورسٹی کے تمام تدریسی و انتظامی امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر ریاض احمد نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز اور جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان کو مدنظر رکھتے ہوئے کوالٹی سرکل کے سیکرٹریٹ اور کیو ای سی آفس کو جدید آفس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔ تربت یونیورسٹی کو خطے کا صف اول کا تعلیمی ادارہ بنانے اور طلبہ کی پیشہ ورانہ و تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اجلاس میں متعدد دور رس فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں 2027 سے تمام تعلیمی پروگراموں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کورسز کا آغاز، فارغ التحصیل طلبہ کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے ایلومینائی اینڈ پلیسمنٹ آفس کا قیام اور طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی لانے کے اقدامات شامل ہیں۔اجلاس میں ای گورننس کے نفاذ اور میرٹ وشفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یونیورسٹی کی تمام پالیسیوں، فیصلوں اور عوامی مفاد کی معلومات کو ویب سائٹ پر جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مزید برآں، ادارہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کے تحت تربت یونیورسٹی ڈیجیٹل سروسز متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، جس کے تحت دیگر اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو جدید آئی ٹی سروسز فراہم کیے جائیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے جامعہ تربت میں کوالٹی ایشورنس کو یقینی بنانے پر کیو ای سی ٹیم اور کوالٹی سرکل کے ارکان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد اپنے طلبہ کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور جامعہ تربت کو ایک معیاری اور جدید ترین لرننگ ہب بنانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *