خبرنامہ نمبر6639/2026
کوئٹہ، 4 اگست۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کا غیر قانونی اقدام بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا اقدام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے خطے کے امن و استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کے اظہار، ان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرانے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، جنہیں پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح، اصولی اور غیر متزلزل ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصوابِ رائے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال، جبر، محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے کشمیری عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کشمیر کے معاملے پر متحد ہے اور کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنائیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل تک اپنی ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6640/2026
کوئٹہ، 4اگست وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پولیس کے شہداء قوم کا عظیم سرمایہ اور پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں جنہوں نے وطن کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وفا، بہادری اور فرض شناسی کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ انہوں نے کہا کہ شہدائ کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں اور قوم ان عظیم قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان پولیس گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور جرائم کے خلاف صفِ اول میں برسرِپیکار ہے۔ پولیس کے بہادر افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر امن کے قیام، ریاست کی رٹ کے استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور دہشت گرد عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔میر سرفراز بگٹی نے بالخصوص زیارت کے شہدائے پولیس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم سپوتوں نے دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جرات، استقامت اور حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیارت کے شہدائ کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور حکومت بلوچستان ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں اور صبر کو سلام پیش کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے شہدائ کے ورثائ کی عزت، فلاح و بہبود اور مالی معاونت کو ریاستی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ شہدائ کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال، بچوں کی تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان پولیس فورس کی استعدادِ کار میں اضافے، جدید تربیت، جدید اسلحہ، حفاظتی سازوسامان، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ پولیس ہر قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹ سکے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہدائ کی قربانیاں اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم دہشت گردی، انتہا پسندی اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف اپنی جدوجہد کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن کے قیام، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہدائے پولیس کا مقدس مشن ہر قیمت پر پای تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یومِ شہدائے پولیس ہمیں اپنے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو یاد رکھنے، ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ شہدائ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ حکومت بلوچستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام متحد ہو کر امن دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6641/2026
کوئٹہ: 4اگست ۔ صوبائی وزیر کموڈیٹی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ سے زیارت، ہرنائی اور سنجاوی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے وفود اور عوامی نمائندوں نے ان کے دفتر میں ملاقات کی ملاقات کے دوران وفود نے اپنے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ضروریات سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا اس موقع پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سائلین نے بھی اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل پیش کیے، جنہیں صوبائی وزیر حاجی نور محمد دمڑ نے توجہ اور ہمدردی سے سنا صوبائی وزیر نے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے اور جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی انہوں نے بعض مسائل کے حوالے سے متعلقہ حکام کو فوری طور پر ضروری کارروائی اور پیش رفت کی ہدایات بھی جاری کیں حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل اور ان کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔ زیارت، ہرنائی اور سنجاوی سمیت اپنے حلقے کے دور دراز علاقوں کے عوام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتا ہوں اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6642/2026
کوئٹہ: 4اگست ۔صوبائی وزیر کموڈیٹی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے 5 اگست، یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی اقدامات کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے اور ان کی آواز دبانے کی کوشش ہیں، جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ضروری ہے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حقِ خودارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کرے انہوں نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6643/2026
کوئٹہ4 اگست۔: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی کا راستہ بلوچستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کے باعث بلوچستان ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اپنے دفتر میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن، استحکام اور ترقی کی ضمانت ہے۔ امن کے قیام سے سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جس کے مثبت اثرات عوام کی زندگیوں پر نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی صوبے کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مخلصانہ اور موثر اقدامات کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت سرمایہ کار دوست پالیسیوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فروغ پا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta, August 4: Vice Chairman of the Balochistan Board of Investment and Trade, Bilal Khan Kakar, has said that the path to Pakistan’s sustainable development and economic prosperity passes through Balochistan. He emphasized that, owing to its abundant natural resources, strategic geographical location, and vast investment opportunities, Balochistan has the potential to play a pivotal role in the country’s economic growth.Speaking to various delegations at his office, he said that peace and stability in Balochistan are not only essential for the province but also serve as a guarantee of peace, stability, and development across Pakistan. He noted that the improving law and order situation has strengthened investor confidence, boosted business activities, and created new employment opportunities, with positive impacts becoming increasingly evident in the lives of the people.Bilal Khan Kakar stated that Chief Minister of Balochistan, Mir Sarfraz Bugti, is making sincere, effective, and result-oriented efforts to place the province on the path of development, prosperity, and sustainable stability. He added that the provincial government is giving special attention to investor-friendly policies, improving infrastructure, promoting industrial development, ensuring the effective utilization of mineral resources, and implementing public welfare initiatives. These efforts, he said, are creating a more conducive environment for investment in Balochistan.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6644/2026
استامحمد4اگست ۔ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر استامحمد رمضان اشتیاق اور ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن غلام محمد بادینی نے محکمہ ایریگیشن کے افسران و عملے کے ہمراہ قبو ڈسٹری پر پانی کی منصفانہ تقسیم اور ٹیل اینڈ تک بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اور موثر آپریشن کیا اس سلسلے میں قبو ڈسٹری کے تمام واٹر کورسز کو عارضی طور پر بند کیا گیا تاکہ پانی کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ بغیر کسی رکاوٹ کے ٹیل اینڈ تک پہنچ سکے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایریگیشن کے افسران رات گئے تک موقع پر موجود رہے اور پانی کی ترسیل کی مسلسل نگرانی کرتے رہے ان مشترکہ اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں رات 12 بجے قبو ڈسٹری کے آخری سرے باغ ٹیل تک پانی کامیابی سے پہنچا دیا گیا جس سے علاقے میں پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے عوام کو فوری ریلیف فراہم ہوا ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اس موقع پر کہا کہ ٹیل اینڈ کے عوام کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور پانی کی منصفانہ تقسیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی واٹر کورسز ناجائز مداخلت اور پانی کی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ ہر علاقے کو اس کا جائز حصہ فراہم کیا جا سکے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایریگیشن نے زمینداروں اور عوام کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی پانی کی منصفانہ تقسیم اور ٹیل اینڈ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسی جذبے کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6645/2026
حب 4اگست ۔ کمشنر لسبیلہ ڈویژن محترمہ سائرہ عطاءنے مون سون شجرکاری مہم 2026ءکے سلسلے میں لیڈا (LEDA) کے دفتر کے احاطے میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر لسبیلہ ڈویڑن محترمہ سائرہ عطاءنے کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں کمی اور آنے والی نسلوں کو صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت قدرت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور سرسبز و شاداب ماحول کے فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے متعلقہ اداروں اور عوام پر زور دیا کہ وہ مون سون شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور ان کی نگہداشت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور سرسبز مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6646/2026
گوادر، 4اگست ۔سندھ بلوچستان جشنِ آزادی کپ 2026 بنام شہید ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ فٹبال ٹورنامنٹ کے سلسلے میں بابائے بزنجو فٹبال اسٹیڈیم گوادر میں ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن گوادر کے صدر میر ارشد کلمتی کے زیرِ اہتمام جاری فٹبال ٹورنامنٹ کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے بھرپور جوش و خروش سے جاری ہیں ٹورنامنٹ میں کھیلے گئے اہم میچ میں شاہد میموریل فٹبال کلب کراچی نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی ایف اے حب کو صفر کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر کامیابی اپنے نام کر لی۔ شائقینِ فٹبال کی بڑی تعداد نے میچ سے بھرپور لطف اٹھایا اور دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی میچ کے مہمانِ خصوصی چیئرمین ضلع کونسل گوادر شئے مختار بلوچ تھے، جن کا اسٹیڈیم آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز سے تعارف کرایا گیا، جبکہ انہوں نے میچ کے آغاز سے قبل کھلاڑیوں سے مصافحہ بھی کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شئے مختار بلوچ نے کہا کہ کھیل نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما، مثبت سوچ، نظم و ضبط، برداشت اور اتحاد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ منفی رجحانات سے محفوظ رہتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں انہوں نے کہا کہ جشنِ آزادی کپ کو شہید ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ کے نام سے منسوب کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ شہید ذاکر بلوچ نے بطور انتظامی افسر گوادر اور اس کے عوام کی بے لوث خدمت کی، جن کی خدمات اور قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے چیئرمین ضلع کونسل نے ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن گوادر کے صدر میر ارشد کلمتی کی کھیلوں کے فروغ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور ضلع میں فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معیار کے منظم اور بڑے اسپورٹس ایونٹس نہ صرف نوجوان ٹیلنٹ کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ گوادر کا مثبت تشخص بھی نمایاں کرتے ہیںجبکہ چیئرمین ضلع کونسل شئے مختار بلوچ نے فاتح ٹیم، رنر اپ ٹیم اور میچ آفیشلز کے لیے نقد انعامات کا بھی اعلان کیا تقریب میں چیئرمین میونسپل کمیٹی پسنی نور احمد کلمتی، سیاسی و سماجی شخصیت میر انور عبدالرحمن اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6647/2026
لورالائی4جولائی ۔تحصیل میختر) بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی زونل فوڈ سیفٹی ٹیم نے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے میختر بازار میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 15 فوڈ کاروباروں کا معائنہ کیا، 6 مراکز پر جرمانے عائد کیے جبکہ 6 فوڈ کاروباروں کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔کارروائی سے قبل اسسٹنٹ کمشنر تحصیل میختر اسرار احمد مندوخیل سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ملاقات کی، جس میں ملاوٹ، غیر معیاری، ممنوعہ اور مضر صحت اشیائلءخورونوش کے خلاف مشترکہ کارروائیاں مزید مو¿ثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔معائنے کے دوران چار جنرل اسٹورز سے ممنوعہ گٹکا، چھالیہ، ایکسپائرڈ بسکٹ کیکس، چاکلیٹس، کینڈیز، بچوں کی مصنوعات اور غیر معیاری مشروبات برآمد ہونے پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ تمام ممنوعہ و ایکسپائرڈ اشیاء موقع پر ہی ضبط کرکے تلف کر دی گئیں اسی طرح قومی شاہراہ پر واقع دو ریسٹورنٹس کو ناقص صفائی، غیر معیاری اسٹوریج، گندے برتن، ذاتی صفائی کے فقدان اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا علاقہ مکینوں نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے ایسے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6648/2026
گوادر 4 اگست ۔:گوادر میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے ریلی 05 اگست 2026 بروز بدھ صبح 11:00 بجے ظہور شاہ ہاشمی چوک سے شروع ہو کر جی ڈی اے پارک پر اختتام پذیر ہوگی ریلی میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے ۔ریلی کے شرکاء کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور بھارت کے غیر قانونی و غاصبانہ اقدامات کے خلاف اپنے بھرپور عزم کا اظہار کریں گے اس سلسلے میں گوادر کےتمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلی میں بھرپور شرکت کرکے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا عملی اظہار کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6649/2026
نصیرآباد4اگست ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں محکمہ ریونیو کے ملازمین کی ترقیوں سے متعلق پروموشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں ایس اینڈ جی اے ڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ،سینئر اکاونٹس آفیسر نصیرآباد عجب خان مندوخیل عبدالصمد کھوسہ اور شیر اللہ کھوسہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیئر پٹواریوں کو قانون گو کے عہدے پر ترقی دینے کے لیے تمام قانونی تقاضوں اور قواعد و ضوابط کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر کمشنر نصیرآباد ڈویژن و کمیٹی کے چیئرمین کمشنر صلاح الدین نورزئی نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن نے کہا کہ ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ صرف انہی سینیئر پٹواریوں کو ترقی دی جائے جو قواعد کے مطابق اس کے حقدار ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف ملازمین میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ہوگا بلکہ وہ مزید جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ عوامی خدمت اور مفاد عامہ کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6650/2026
گوادر4 اگست ۔: پرنسپل ووکیشنل ٹریننگ سینٹر گوادر عبدالصمد شاہی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے وژن پر موثر انداز میں عمل پیرا ہے۔ حکومت مختلف فنی و تکنیکی تربیتی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ خود روزگاری کے مواقع سے بھی بھرپور استفادہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر گوادر میں نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ ملکی و صوبائی معیشت میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں۔انہوں نے بتایا کہ ادارے میں کمپیوٹر (آفس مینجمنٹ)، ریفریجریشن اینڈ ائیر کنڈیشننگ، جنرل الیکٹرک اور موٹر وائنڈنگ سمیت مختلف شعبوں میں سیشن 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 88 نوجوانوں کو عملی اور تکنیکی مہارتوں کی تربیت دی گئی۔ ان تربیتی پروگراموں کا مقصد صنعتوں کی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا، نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے ان کا کہنا ہے کہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم معاشی خودمختاری، غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ حکومت بلوچستان ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے تاکہ نوجوان قومی ترقی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے صوبے کی سماجی و معاشی خوشحالی میں اپنا موثر حصہ ڈال سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6651/2026
گوادر4 اگست ۔: وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترقیاتی وژن اور عوامی فلاحی پالیسی کے تحت، ادارہ? ترقیات گوادر کی نگرانی میں اولڈ ٹاو¿ن بحالی منصوبے کے تحت گوادر کے تاریخی اور قدیم تعلیمی ادارے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوادر کی تعمیر، توسیع، بحالی اور تزئین و آرائش کا جامع منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔یہ منصوبہ اہلِ گوادر کے دیرینہ مطالبے اور معیاری تعلیمی سہولیات کی عوامی خواہش کی عملی تعبیر ہے، جس کا مقصد طالبات کو محفوظ، جدید اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے تاریخی تعلیمی ورثے کا تحفظ بھی ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سکول کی عمارت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو چکی ہے اور طالبات کو معیاری تعلیم کے لیے بہتر سہولیات میسر آ گئی ہیں منصوبے کے تحت موجودہ کلاس رومز کی مکمل بحالی، نئے کلاس رومز کی تعمیر، کثیرالمقاصد ہال، جدید لائبریری، لینڈ اسکیپنگ، دو نئے داخلی گیٹس، انتظامی بلاک کی مرمت و تزئین، زیرِ زمین واٹر اسٹوریج ٹینک، معیاری فرنیچر، بجلی اور پلمبنگ کے جدید نظام، بجلی کا ٹرانسفارمر، سولرائزیشن، چار دیواری، ٹف ٹائل ورک اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی شامل ہے، جس سے تعلیمی ماحول اور بنیادی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے یہ منصوبہ صرف ایک سکول کی بحالی نہیں بلکہ گوادر میں تعلیم دوست پالیسی، خواتین کی تعلیم کے فروغ، تاریخی ورثے کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے حکومتی عزم کا عملی مظہر ہے۔ حکومت بلوچستان اس عزم پر کاربند ہے کہ نوجوان نسل، بالخصوص طالبات کو جدید اور معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کر کے انہیں قومی ترقی میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے، جبکہ اولڈ ٹاون گوادر کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے ایک جدید، خوبصورت اور ترقی یافتہ شہری مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6652/2026
کوئٹہ 4اگست۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ نے انتظامیہ کی ٹیم کے ہمراہ چہلم کے جلوسوں اور مجالس کے روٹس کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران انہوں نے سکیورٹی انتظامات، ٹریفک پلان اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا تاکہ عزاداروں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے فل پروف انتظامات کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ چہلم کے دوران مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6653/2026
کوئٹہ 4اگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ کی نگرانی میں فاطمہ جناح روڈ، شاہ وکشاہ روڈ، لیاقت بازار اور پرنس روڈ پر آپریشن کرتے ہوئے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔آپریشن کے دوران ہوٹلوں اور دکانداروں کی جانب سے سرکاری اراضی پر رکھا گیا سامان قبضے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ عوامی آمدورفت اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات بھی ختم کر دی گئیں۔.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6654/2026
لورالائی4اگست ۔یومِ شہداءکے موقع پر ضلع لورالائی کی کلی شبوزئی میں بلوچستان پولیس کے بہادر سپوت، شہید انسپکٹر جاندار شبوزئی شہید کے گھر ایک پروقار اور باوقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں پولیس حکام، ضلعی انتظامیہ، سیاسی و مذہبی رہنماوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔تقریب میں ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ، ڈپٹی کمشنر لورالائی حسیب شجاع، ایس ایس پی لورالائی ڈاکٹر فہد احمد، جمعیت علمائے اسلام ضلع لورالائی کے ضلعی سینئر نائب امیر مفتی محمد ابراہیم، نائب امیر مولانا محمد عاصم، نائب امیر مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، سیکرٹری اطلاعات ملک امان اللہ ناصر، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا سیف اللہ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری قاری سنزر خان رحمی، مولانا صادق خوستی، ملک داد محمد، ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر عطاء اللہ کاکڑ، سید محمد ہوتک سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔شرکاءنے شہید انسپکٹر جاندار شبوزئی کی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جدوجہد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے وطن اور عوام کے تحفظ کی روشن مثال قائم کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پولیس کے شہداء پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اس موقع پر حکومتِ بلوچستان کی جانب سے دوسڑکہ تھانے کو شہید انسپکٹر جاندار شبوزئی کے نام سے منسوب کرنے کے فیصلے کو تاریخی اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف شہید کی خدمات کا اعتراف ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی وطن کی خاطر قربانی دینے والے بہادر سپوتوں کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی تقریب کے دوران شہید کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ بلوچستان پولیس اور پوری قوم اپنے شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ شرکاءنے شہداءکے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور خصوصی دعا بھی کی۔ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان پولیس کے جوان امن و امان کے قیام کے لیے شب و روز خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ شہدائ کی عظیم قربانیاں فورس کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداءکی یاد کو زندہ رکھنا اور ان کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن معاونت کرنا بلوچستان پولیس کی اولین ذمہ داری ہےڈپٹی کمشنر حسیب شجاع اور ایس ایس پی ڈاکٹر فہد احمد نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جدوجہد پوری قوت سے جاری رہے گی اور شہداء کے مشن کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ شہید انسپکٹر جاندار شبوزئی سمیت بلوچستان پولیس اور ملک کے تمام شہدائ کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور پاکستان کو ہمیشہ امن و سلامتی کا گہوارہ بناے
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6655/2026
دکی4 اگست ۔تحصیل دکی میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام کی زیرِ صدارت ایوننگ ریویو اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بہادر خان لونی، نائب تحصیلدار اکرام اللہ خان، این سٹاپ ڈاکٹر عبد الحمید، ایم اینڈ ای آفیسر ای پی آئی پیر محمد، ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان، سی سی او سعید احمد، آئی ایس ڈی کوآرڈینیٹر صدام حسین، یو سی ایم اوز اورلائن ڈپارٹمنٹ کے مونیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ٹیموں کی فیلڈ کارکردگی، بچوں کی کوریج، مس شدہ بچوں اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر عبدالسلام نے ہدایت کی کہ مہم کے باقی مراحل میں کسی بھی بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے محروم نہ رکھا جائے، مس شدہ بچوں کو فوری طور پر کور کیا جائے، والدین میں آگاہی مزید موثر بنائی جائے اور تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون، موثر نگرانی اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے مہم کی کامیابی کو یقینی بنائیں تاکہ ضلع دکی کو پولیو سے محفوظ بنانے کا قومی ہدف حاصل کیا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6656/2026
دکی 4 اگست .۔ اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال کی ہدایت پر نائب تحصیلدار اکرام اللہ خان نے دکی بازار کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں جنرل اسٹورز، بیکرز اور تندوروں کا معائنہ کرتے ہوئے پرائس کنٹرول، سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد، صفائی کی صورتحال، اشیائے خوردونوش کے معیار اور تجاوزات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ تمام اشیائے ضروریہ مقررہ سرکاری نرخوں پر فروخت کی جائیں، نرخنامے نمایاں جگہ پر آویزاں کیے جائیں، صفائی کے بہترین انتظامات برقرار رکھے جائیں اور بازار کی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات فوری طور پر ختم کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ناجائز منافع خوری، سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی، کم وزن روٹی کی فروخت، غیر معیاری اشیائ کی فروخت اور تجاوزات کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر دکی محمد اکرم حریفال کی ہدایات کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنے، بازاروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قانون پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایسے معائنے باقاعدگی سے جاری رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6657/2026
نصیرآباد:4اگست ۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ، سب ڈویژنل آفیسر ڈرینج عابد علی کھوسہ اور امتیاز علی کھوسہ کے ہمراہ جعفرآباد اور صحبت پور کے سنگم پر واقع آر ڈی 110 کے مقام پر مین حیردین ڈرینج سسٹم کا دورہ کیا اور نور واہ کے ذریعے جیکب آباد سم نالے کو مین حیردین ڈرینج سسٹم میں ڈالنے کا تفصیلی جائزہ لیا جیکب آباد کے متنازعہ سم نالے سے متعلق بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر ایس ای ایریگیشن مدثر ظفر کھوسہ نے سندھ ایریگیشن حکام کی جانب سے نور واہ کے ذریعے متنازعہ سم نالے کا پانی شامل کرنے کی صورتحال کے متعلق آگاہ کیا، جس پر کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شگاف کو فوری طور پر پر کیا جائے تاکہ سندھ نور واہ کے ذریعے پانی مین حیردین ڈرینج میں شامل نہ کرسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیکب آباد کے متنازعہ سم نالے کے معاملے پر کمشنر لاڑکانہ ڈویژن سے مسلسل رابطے میں ہیں اور کسی صورت متنازعہ سم نالے کو جعفرآباد اور صحبت پور کے سنگم پر واقع مین حیردین ڈرینج میں شامل نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ یہ بلوچستان کے تین اضلاع کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تحفظات اور شکایات کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے لیے نصیرآباد ڈویژن کی ٹیم سندھ کے متعلقہ حکام سے مشاورت کرے گی اور حکامِ بالا کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنا کر اس معاملے سے متعلق خدشات کا موثر خاتمہ کیا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6658/2026
استامحمد4اگست ۔ ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے ایکسین بلڈنگز یاسین چانڈیو کے ہمراہ ضلع میں زیرِ تعمیر پری فیبریکیٹڈ (Prefabricated) ہاوسز کا تفصیلی دورہ کیا اس موقع پر ایس ڈی او بلڈنگز عاشق علی بوہڑ بھی موجود تھے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے جاری تعمیراتی کام کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت تعمیراتی معیار استعمال ہونے والے میٹریل اور تکمیل کے شیڈول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تعمیراتی سرگرمیاں طے شدہ معیارات کے مطابق انجام دی جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گیبریفنگ کے دوران متعلقہ حکام نے آگاہ کیا کہ ضلع استامحمد میں باہر سے تعینات سرکاری افسران کی رہائش کے لیے مجموعی طور پر آٹھ پری فیبریکیٹڈ ہاوسز تعمیر کیے جا رہے ہیں یہ ہاوسز جدید طرزِ تعمیر کے حامل ہوں گے اور ان میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ افسران کو ایک محفوظ آرام دہ اور معیاری رہائشی ماحول میسر آ سکے۔ ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ ان ہاوسز کی بروقت تکمیل سے نہ صرف افسران کو بہتر رہائش میسر آئے گی بلکہ اس کے نتیجے میں سرکاری امور کی انجام دہی میں بھی بہتری آئے گی اور عوامی خدمات کی فراہمی مزید موثر اور تیز ہو سکے گی انہوں نے متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل مقررہ وقت کے اندر یقینی بنائی جائے اور تعمیر کے ہر مرحلے میں معیار شفافیت اور رفتار کو برقرار رکھا جائے مزید برآں انہوں نے کہا کہ منصوبے کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کو بروقت دور کر کے اس اہم منصوبے کو جلد از جلد فعال بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6659/2026
حب 4اگست ۔کمشنرلسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنےانتظامی افسر کی حیثیت سے کمشنر کاچارج سنھبالتے ہی سرکاری محکموں کا دورہ شروع کردیا ہے کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی حب کا دورہ کیاصنعتی شعبے کی ترقی کیلئےلیڈاانڈسٹریل ماسٹرپلان کے حوالے سےایم ڈی لیڈا لیاقت علی کاشانی سے لیڈاکانفرنس ہال میں بریفنگ لی کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہاکہ انڈسٹریلائزیش کے عمل کو تیزکرنے اورٹیکس ریونیو جنریشن کے حوالے سے لیڈاکلیدی اہمیت اختیارکرچکا یےایم ڈی لیڈانے ادارے کی منیجمنٹ ذمہ داریوں صنعتی اداروں کو درپیش مسائل ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایشوز سے آگاہ کیا کمشنر کوبریفنگ میں بتایاگیا کہ ساحلی پٹی گڈانی میں صنعتی شعبے کی ترقی کیلئےماسٹرپلان کی کنسلٹنسی پر کام جاری ہے کراچی سے نزدیک ترین لیڈا کا انڈسٹریل اسپیشل اکنامک زون اورگڈانی سائٹ انفراسٹرکچر سہولیات اورسیکورٹی کے حوالے سے موزوں ترین ہے لیڈااسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کار گہری دلچسپی رکھتے ہیں لیڈا انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات فراہم کرکے سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہمی کیلئے تیارہے تاہم وفاقی حکومت کی جانب سےپراجیکٹ کی ضروریات کیلئے مطلوبہ فنڈزکی عدم فراہمی سے پراجیکٹ کی تکمیل میں وقت لگ سکتاہے ایم ڈی لیڈانے کمشنر کو بتایا کہ لیڈاانڈسٹریل زون میں صنعتی شعبے کی ضروریات کے پیش نظر گریڈاسٹیشن منصوبے پر کام جاری ہےایم ڈی لیڈا نے بریفنگ میں بتایا کہ بلوچستان کو ایف بی آرکی جانب سے 200بلین ٹیکس ریونیوشیئرملا ہے وزیراعلی بلوچستان سرفرازبگٹی اورچیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایت پر لیڈا ضلع حب میں بندصنعتوں کے حوالے سے پالیسی مرتب کرچکی ہے بند صنعتوں کی بحالی سے روزگار کے نئے مواقع ہیدااورٹیکس جنریشن میں اضافہ ہوگاکمشنر نے لیڈامنیجمنٹ کی انڈسٹریلائزیشن ترقیاتی پروگرام کی افادیت سراہتے ہوکیا کہ ضلع حب معدنی وسائل کے ساتھ صنعتی شعبے میں نمایاں مقام حاصل چکاہےریونیوجنریشن اورمقامی ہنرمندخواتین کو صنعتی شعبے کی جانب راغب کرنے کیلئے ایسے منصوبے تشکیل دئیے جائیں جس سے صوبے کے وسائل میں اضافہ ہو اور سرمایہ کاروں کا رجحان صنعتی ضلع میں سرمایہ کاری کی جانب مبذول ہو اس سلسلے میں حکومت سرمایہ کاروں کو فول پروف سیکیورٹی اور ہرممکن تعاون فراہم کریگی
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6660/2026
کوئٹہ 4 اگست۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بلوچستان کے دور افتادہ اضلاع کے عوام کو فضائی سفر کی سہولیات اور خدمات فراہم کرنے پر ساوتھ ایئر پاکستان کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ صوبے کیلئے قابل اعتماد فضائی رابطے بہت ضروری ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کوئٹہ ٹو ژوب روٹ پر ساوتھ ائیر پروازیں شروع کرنے، ژوب سے ملتان اور اسلام آباد تک فضائی رابطے بڑھانے پر زور دیا۔ زمینی سفر میں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہتر ہوائی سفر کی سہولیات و مواقع فراہم کرنے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساوتھ ائیرلائن پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایئروائس مارشل ریٹائرڈ اعجاز ملک کی قیادت میں ساوتھ ایئر پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیف کمرشل آفیسر سراج انور قاضی اور ریجنل ہیڈ عبدالستار اچکزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفد نے گورنر کو ان کے فلائٹ آپریشنز، حفاظتی معیارات، مسافروں کی خدمات اور مستقبل کے توسیعی منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے محفوظ، آرام دہ اور سستی ہوائی سفر کے عزم کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ساوتھ ایئر لائن کے حکام پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کے مزید اضلاع کو ملانے کیلئے فعال کردار ادا کریں کیونکہ صوبے کی معاشی و سماجی ترقی و خوشحالی کیلئے فضائی رابطوں کو مزید بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ساوتھ ایئر پاکستان کے وفد نے گورنر کے تعاون کی فراہمی اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ایئر لائن اپنی خدمات کو دیگر بڑے شہروں تک وسعت دینے کیلئے کام جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6661/2026
کوئٹہ، 4 اگست۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت بلوچستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران بجٹ میں شامل ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تکمیل کو یقینی بناتے ہوئے اپنے مقررہ ترقیاتی اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے۔ حکومت نے ایک جانب غیر ترقیاتی اخراجات میں 28 ارب روپے کی بچت کی جبکہ دوسری جانب 2,966 ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے ترقیاتی وسائل کے موثر، شفاف اور نتیجہ خیز استعمال کی نئی مثال قائم کی۔ یہ بات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی، جس میں گزشتہ اور رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے گزشتہ مالی سال کی کارکردگی رپورٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو پیش کی، جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مقررہ ہدف مکمل طور پر حاصل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تکمیل یقینی بنائی گئی، جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات میں 28 ارب روپے کی بچت کے ساتھ 2,966 ترقیاتی منصوبے پائی تکمیل تک پہنچائے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران 2,280 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے موثر مانیٹرنگ اور سخت نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ترقیاتی اہداف کے کامیاب حصول پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات، چیف سیکرٹری، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس، موثر مانیٹرنگ اور مضبوط نگرانی کے نظام کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ترقیاتی وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی پر خرچ کی جائے گی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، رفتار اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ کی موثر نگرانی سے بدعنوانی اور کرپشن کی موثر روک تھام ممکن ہوگی اور ترقیاتی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر ضلع اور ہر شہری تک پہنچائے جائیں گے وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی اہداف بھی مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے تاکہ بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کی نئی منزلوں کی جانب مزید تیزی سے گامزن کیا جا سکے اجلاس میں صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب احمد نوشیروانی، میر محمد صادق عمرانی، سردار فیصل خان جمالی نے بھی شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6662/2026
کوئٹہ، 4 اگست۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے مسئے زئی و مئے زئی اور گلستان کو میونسپل کمیٹیوں کا درجہ دینے کے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت بلوچستان نے تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کرنے کے بعد دونوں نئی میونسپل کمیٹیوں کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے منگل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور رکن صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی نے ملاقات کی۔ اس موقع پر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے مسئے زئی و مئے زئی اور گلستان کی نئی میونسپل کمیٹیوں کے قیام کے باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجرا پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی میونسپل کمیٹیوں کے قیام سے مقامی سطح پر شہریوں کو بہتر بلدیاتی اور میونسپل سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ اس اقدام سے مقامی ترقی اور عوامی مسائل کے حل میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان دیگر ایسے علاقوں میں بھی بلدیاتی اداروں کے قیام اور اپ گریڈیشن کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھیں گے جہاں اس کی ضرورت موجود ہے اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بلدیاتی نظام کو مزید مو¿ثر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل سروسز کی بہتری کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور قواعد و ضوابط کے مطابق مقررہ معیار پر پورا اترنے والے بلدیاتی اداروں کو مرحلہ وار اپ گریڈ کیا جائے گا وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے رکن صوبائی اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی مسئے زئی و مئے زئی اور گلستان کی میونسپل کمیٹیوں کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے تھے، جنہیں آج عملی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے دیگر ایسے علاقوں میں بھی، جہاں رائج قوانین اور مقررہ معیار کے مطابق شرائط پوری ہوتی ہوں، عوامی ضروریات کے پیش نظر بلدیاتی اداروں کا موثر اور مضبوط نظام قائم کیا جائے تاکہ شہریوں کو مقامی سطح پر بہتر اور معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6663/2026
کوئٹہ4 اگست۔ صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں گزشتہ دو برس کے دوران تاریخی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی بلکہ صوبہ پہلی مرتبہ 114 فیصد ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی سطح تک پہنچا، جو بلوچستان کی بڑھتی ہوئی استعدادِ کار کا واضح ثبوت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کارکردگی سے متعلق منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم بھی موجود تھے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سالانہ پیش رفت رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گزشتہ ڈھائی سال کے ترقیاتی پروگرام، حاصل ہونے والی کامیابیوں، ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور ریگولیٹری ریفارمز کو جامع انداز میں مرتب کیا گیا ہے تاکہ عوام اور متعلقہ اداروں کو صوبے کی ترقیاتی کارکردگی سے آگاہ کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران محکمہ نے پی ایس ڈی پی کو مکمل طور پر آٹومیٹ کیا ہے۔ اب ترقیاتی منصوبوں کی آن لائن سبمیشن، خودکار منظوری کے مراحل، ڈیٹا انٹیگریشن اور دیگر تمام متعلقہ امور ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی موبائل ایپ بھی تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے پی اینڈ ڈی کے افسران اور متعلقہ حکام کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی سائٹ پر جا کر اس منصوبے کی مکمل معلومات فوری طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً تمام ترقیاتی منصوبوں کی یونین کونسل کی سطح تک جیو ٹیگنگ بھی مکمل کی جا چکی ہے، جس سے منصوبوں کی نگرانی مزید موثر ہوئی ہے۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر ترقیاتی منصوبوں کی فیزیبلٹی کمزور ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے تھے، تاہم اب ماہرین کی خدمات حاصل کرکے ڈیٹا اینالیسز کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ صوبائی شماریاتی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لانچ کیا گیا ہے جبکہ 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں پر مبنی رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے، جس میں گزشتہ 13 برس کے دوران بلوچستان کی ترقی، اس کے رجحانات اور عوام تک پہنچنے والے فوائد کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ کا مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ طویل عرصے سے غیر فعال تھا، جسے دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ ٹیموں نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کے دورے کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 378 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل، فنڈز کے درست استعمال اور عوام تک حقیقی فوائد کی فراہمی کا بھی مسلسل جائزہ لیا جائے صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر 6 ہزار 728 ترقیاتی اسکیمیں شامل تھیں، جن میں 3 ہزار 758 جاری منصوبے جبکہ 2 ہزار 970 نئی اسکیمیں تھیں۔ ان منصوبوں کے لیے 249 ارب روپے کا ترقیاتی حجم مختص کیا گیا تھا، تاہم موثر منصوبہ بندی اور انتظامی اصلاحات کے باعث 283 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو 114 فیصد فنڈز کے استعمال کے برابر ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں وفاقی بیوروکریسی اور دیگر حلقوں کا تاثر تھا کہ بلوچستان اپنی ترقیاتی فنڈز کی استعدادِ کار کو 50 سے 70 فیصد سے آگے نہیں لے جا سکتا، لیکن موجودہ حکومت کی اصلاحات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقیاتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس استعداد کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے 206 ارب روپے کی صوبائی پی ایس ڈی پی منظور کی گئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز محکمہ مواصلات و تعمیرات کو مختص کیے گئے ہیں، اس کے بعد محکمہ آبپاشی جبکہ تیسرے نمبر پر محکمہ تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تاہم موجودہ حکومت نے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اسے ترقیاتی ترجیحات میں تیسرے نمبر پر پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اسکولوں کی اپ گریڈیشن، مسنگ سہولیات کی فراہمی، واش پروگرام کے ذریعے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم کے لیے درکار تمام وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کے تعلیمی ادارے مکمل سہولیات سے آراستہ ہوں۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ترقیاتی منصوبہ بندی، منصوبوں کی تیاری، ان کی جانچ پڑتال، منظوری اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران منصوبوں کی تیاری، اپریزل اور منظوری کے نظام میں نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں جبکہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد اور فنڈز کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 249 ارب روپے کے مقابلے میں 283 ارب روپے خرچ کیے گئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس اور بالخصوص مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ کو موثر اور فعال بنایا گیا۔ پی اینڈ ڈی کے آٹومیشن سسٹم کے تحت تمام پی سی ون مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیے گئے ہیں۔ اب کسی بھی منصوبے کی ہارڈ کاپی تیار نہیں ہوتی بلکہ تمام مراحل آن لائن مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے منصوبہ بندی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور موثر بنایا گیا ہے۔ زاہد سلیم نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ایم اینڈ ای ونگ نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ متعلقہ محکموں کو خامیوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئیں۔ 30 جون تک 45 منصوبوں پر اصلاحی کارروائی باقی تھی، تاہم تازہ ترین جائزے کے مطابق ان میں سے 40 منصوبوں پر ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ اب صرف پانچ منصوبے ایسے رہ گئے ہیں جن پر اصلاحی اقدامات ہونا باقی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں مکمل ہونے والی 3 ہزار 20 ترقیاتی اسکیموں کی تصدیق کے لیے انہیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے گراونڈ ویری فکیشن کے لیے بھیجا گیا۔ ابتدائی طور پر 32 منصوبوں میں خامیاں سامنے آئیں، تاہم تازہ ترین جائزے کے مطابق صرف ایک منصوبہ، جو پنجپائی کا ہے، نامکمل پایا گیا، جسے مزید کارروائی کے لیے سی ایم آئی ٹی اور اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے پہلی مرتبہ بلوچستان کے 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں کا تجزیہ کیا ہے اور دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ، کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی تیار کیا ہے تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جا سکے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کا جامع ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت محکمہ کے پاس 2 لاکھ 39 ہزار امیدواروں کا ضلع وار، صنفی اور تعلیمی بنیادوں پر مکمل ریکارڈ موجود ہے، جس کی مدد سے روزگار اور لائیولی ہڈ پروگرامز کو زیادہ موثر اور ہدفی بنیادوں پر تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ بے روزگاری میں کمی لانے اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں مدد مل سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6664/2026
کوئٹہ 4اگست ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں صوبے بھر میں عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل، غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی واپسی کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر متعلقہ سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے تمام آفیسران کو ہدایت کی کہ عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت حاضر رہیں اور اپنے محکموں کو عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مزید متحرک کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی اہم صوبائی ترجیحات میں شامل ہیں اور ان کی فراہمی کو مزید فعال بنایا جائے، اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیکشن کے تحت 516 منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا گیا ہے، مانیٹرنگ کو مزید موثر بنا کر باقی منصوبوں کی جلد تکمیل یقینی بنائی جائے۔ بی ایس ڈی آئی کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں کل 4,047 ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تھے جن میں سے تقریباً 90 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں زرعی انکم ٹیکس کی کلیکشن کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تاکہ محاصل کی شفاف وصولی اور محکموں کی مالی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔چیف سیکرٹری نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے کنٹرول کے حوالے سے بھی سخت نگرانی کی ہدایت کی تاکہ منظم طریقے سے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ صوبے میں پچھلے ماہ میں 53 کھلی کچہریاں منعقد کی جا چکی ہیں جن میں 953 شکایات درج ہوئیں۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ آفیسران کو ہدایت کی کہ درج شدہ شکایات کا جلد ازالہ کریں اور متاثرہ افراد کو بروقت جوابدہی فراہم کریں۔ صوبائی سطح پر بارودی مواد اور مخصوص فرٹیلائزرز کی فروخت، نقل و حمل پر 15 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس دوران حفاظتی قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مختلف اضلاع میں آفیسران کی رہائش کے لیے پری فَیب (prefab) ہاو¿سز تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اس سے سروس ڈلیوری میں بہتری اور آفیسرز کی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ان تعمیراتی منصوبوں، خاص طور پر پری فَیب ہاوسز اور سرکاری عمارتوں میں پلانٹیشن کی جائے تاکہ ماحولیاتی بہتری، شجرکاری اور گریننگ کو فروغ ملے۔ چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ صوبائی مشینری متحدہ طور پر عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے اور ہر ضلع میں عوامی مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت حکومتی کارکردگی کی اہم نشانی ہے اور اس پر مسلسل مانیٹرنگ جاری رہے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6665/2026
لسبیلہ، 04 اگست ۔کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاءنے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی سرکاری محکموں کے دوروں کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (لیڈا) کا دورہ کیا، جہاں انہیں لیڈا کانفرنس ہال میں منیجنگ ڈائریکٹر لیاقت علی کاشانی نے ادارے کی کارکردگی، صنعتی ترقی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔کمشنر سائرہ عطائ نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں صنعت کاری کے عمل کو تیز کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس ریونیو میں اضافے کے لیے لیڈا کلیدی اہمیت کا حامل ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی ترقی نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ بلوچستان کی معاشی سرگرمیوں کو بھی مزید مستحکم بنائے گی۔ایم ڈی لیڈا لیاقت علی کاشانی نے کمشنر کو ادارے کی انتظامی ذمہ داریوں، صنعتی اداروں کو درپیش مسائل، جاری ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم امور سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ساحلی پٹی گڈانی میں صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے ماسٹر پلان کی کنسلٹنسی پر کام جاری ہے، جبکہ کراچی سے قریب ہونے کے باعث لیڈا اسپیشل اکنامک زون اور گڈانی سائٹ انفراسٹرکچر، محل وقوع اور سیکیورٹی کے اعتبار سے سرمایہ کاری کے لیے موزوں ترین مقام ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ لیڈا اسپیشل اکنامک زون میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں اور لیڈا سرمایہ کاروں کو بنیادی انفراسٹرکچر اور تمام ضروری سہولیات فراہم کرکے سازگار کاروباری ماحول مہیا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے منصوبے کی ضروریات کے مطابق فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث بعض ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے ایم ڈی لیڈا نے بتایا کہ صنعتی شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیڈا انڈسٹریل زون میں گریڈ اسٹیشن کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے 200 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو شیئر ملا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ضلع حب میں بند صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے جامع پالیسی بھی مرتب کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند صنعتوں کی بحالی سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ٹیکس ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے لیڈا کی جانب سے صنعت کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلع حب معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ریونیو جنریشن میں اضافے، مقامی ہنرمند خواتین کو صنعتی شعبے کی جانب راغب کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایسے منصوبے تشکیل دیے جائیں جو صوبے کے وسائل میں اضافے اور مقامی معیشت کی مضبوطی کا سبب بنیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو فول پروف سیکیورٹی، سازگار کاروباری ماحول اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ ضلع حب کو صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا ایک مضبوط مرکز بنایا جا سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6666/2026
چمن4اگست ۔ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی باعزت اور منظم وطن واپسی کا عمل جاری، تمام انتظامات قانون کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں: ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی باعزت، منظم اور محفوظ وطن واپسی کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس سلسلے میں چمن ہولڈنگ کیمپ میں تمام متعلقہ ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں سے منتقل کیے جانے والے افراد کو چمن ہولڈنگ کیمپ میں رجسٹریشن، شناخت کی تصدیق، قانونی کارروائی، طبی معائنہ اور دیگر ضروری انتظامی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد متعلقہ اداروں کی نگرانی میں انہیں بابِ دوستی کے راستے افغانستان منتقل کیا جاتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے اس عمل کو منظم، شفاف اور قانون کے مطابق یقینی بنانے کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ تمام انتظامی امور خوش اسلوبی سے مکمل ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6667/2026
سیوی 4 اگست ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ونگ کمانڈر کرنل شہریار، چیئرمین ایم سی سردار محمد خان خجک، اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر قادر ہارون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور مختلف محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا ہے، لہٰذا یومِ آزادی پاکستان کو قومی جذبے، اتحاد اور شایانِ شان انداز میں منایا جائے گا۔ انہوں نے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی کہ وہ 14 اگست کے حوالے سے اپنی اپنی سطح پر خصوصی تقریبات، آگاہی پروگرام اور قومی جذبے کو اجاگر کرنے والی سرگرمیوں کا انعقاد یقینی بنائیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالستار لانگو کو ہدایت دی کہ ضلع بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں یومِ آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں، جن میں ملی نغمے، تقاریر، ٹیبلوز، قومی ملی یکجہتی پر مبنی پروگرام اور مختلف مقابلے شامل ہوں تاکہ طلبہ میں حب الوطنی کے جذبے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے میونسپل اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ شہر میں صفائی ستھرائی، خوبصورتی اور سجاوٹ کے بہترین انتظامات کیے جائیں جبکہ تمام سرکاری دفاتر پر قومی پرچم لہرایا جائے انہوں نے مزید بتایا کہ 14 اگست کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہسپتال اور ڈسٹرکٹ جیل کے دورے بھی کیے جائیں گے تاکہ وہاں موجود افراد کو بھی قومی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے۔ اجلاس میں حالیہ امن و امان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، ادارہ جاتی نظم و ضبط برقرار رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر ضلعی سطح پر ایک بھرپور ریلی کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں تمام سرکاری محکموں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی، مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں اور شہریوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر سیوی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ قومی دنوں کی تقریبات کو کامیاب بنانے، امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے باہمی تعاون اور موثر رابطہ یقینی بنایا جائے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر6668/2026
پنجگور۔ 4 اگست ۔ یونیورسٹی آف مکران میں چائنیز ایمبیسیڈر اسکالرشپ کے تحت 125 مستحق طلبا و طالبات میں اسکالرشپ لیٹرز تقسیم کردیے گئے۔یونیورسٹی آف مکران، پنجگور میں چائنیز ایمبیسیڈر اسکالرشپ کے تحت مستحق طلبا و طالبات میں اسکالرشپ لیٹرز تقسیم کرنے کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ یہ اسکالرشپ چائنیز ایمبیسیڈر کی جانب سے یونیورسٹی آف مکران کو فراہم کیا گیا، جبکہ یونیورسٹی آف مکران نے اسے اپنے شفاف Need-Based Scholarship Program کے تحت مالی طور پر مستحق طلبا و طالبات میں تقسیم کیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر سادات بلوچ نے منتخب طلبا و طالبات میں اسکالرشپ لیٹرز تقسیم کیے۔ اس موقع پر ڈین یونیورسٹی آف مکران ڈاکٹر محمد یونس بلوچ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز عطا مہر موجود تھے۔وائس چانسلر یونیورسٹی آف مکران نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف مکران ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کوئی بھی باصلاحیت طالب علم صرف مالی مشکلات کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے چائنیز ایمبیسیڈر کی جانب سے فراہم کی گئی اس گرانقدر اسکالرشپ کو پاک چین دوستی، باہمی اعتماد اور تعلیمی تعاون کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو سراہا۔وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی آف مکران میں پہلی مرتبہ باقاعدہ Need-Based Scholarship Program کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت مالی طور پر مستحق طلبا و طالبات کی معاونت کے لیے ایک منظم اور شفاف نظام وضع کیا گیا ہے۔ چائنیز ایمبیسیڈر اسکالرشپ کو بھی اسی پروگرام کے تحت تقسیم کیا گیا تاکہ یہ سہولت حقیقی مستحق طلبا و طالبات تک پہنچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت 125 مستحق طلبا و طالبات کا انتخاب مکمل شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ Need-Based Scholarship Committee نے کیا۔ کمیٹی میں یونیورسٹی آف مکران کے نمائندوں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور بیرونی ماہرینِ تعلیم بھی شامل تھے، جنہوں نے میرٹ اور مالی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مستحق طلبا کا انتخاب کیا۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اس اسکالرشپ کی رقم طلبا و طالبات کی ٹیوشن فیس میں ایڈجسٹ کی جائے گی، جس سے مستحق طلبا اپنی تعلیم بلا تعطل جاری رکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی کوشش ہے کہ ہر طالب علم کو مساوی تعلیمی مواقع میسر آئیں اور کوئی بھی طالب علم مالی مسائل کے باعث اپنی تعلیم ادھوری نہ چھوڑے۔وائس چانسلر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹی آف مکران نہ صرف ضرورت مند طلبا کی مالی معاونت کے لیے اقدامات کر رہی ہے بلکہ ہر سمسٹر میرٹ اسکالرشپ پروگرام بھی باقاعدگی سے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت نمایاں تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات کو ان کی اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر اسکالرشپس دی جاتی ہیں۔ اس طرح یونیورسٹی ایک جانب مستحق طلبا کی معاونت کو یقینی بنا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب علمی میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبا کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر میر سادات بلوچ نے چائنیز ایمبیسیڈر اسکالرشپ کیلئے چائنہ گورنمنٹ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تعلیمی تعاون سے نہ صرف مستحق طلبا کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعلیمی روابط بھی مزید مستحکم ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی مستقبل میں بھی قومی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے مزید اسکالرشپ پروگرام متعارف کرانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 6669/2026
سیوی 4 اگست ۔ڈپٹی کمشنر سیوی میجر (ر) الیاس کبزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ونگ کمانڈر کرنل شہریار، ایس ایس پی سیوی عبدالحمید، اسسٹنٹ کمشنر سیوی منصور علی شاہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، حالیہ سیکیورٹی حالات، حساس مقامات کی حفاظت اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میجر (ر) الیاس کبزئی نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی، بروقت رابطے اور موثر انٹیلیجنس شیئرنگ کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی بروقت روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع بھر میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنایا جائے، حساس تنصیبات، سرکاری املاک اور عوامی مقامات پر نگرانی سخت کی جائے جبکہ گشت، چیکنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات میں مزید بہتری لائی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت امن و امان کے قیام اور عوام کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دیتے رہیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبر نامہ نمبر 2026/6670
کوئٹہ 4 اگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے آج گورنر ہاؤس کوئٹہ میں آل پولٹیکل پارٹیز کے نمائندوں، قبائلی عمائدین اور ضلع موسیٰ خیل کے مقامی معززین نے ملاقات کی اور حالیہ انتظامی تبدیلیوں پر اپنے تحفظات سے گورنر بلوچستان کو آگاہ کیا۔ وفد نے کہا کہ یونین کونسل اور موضع راڑہ شم اور اندرپوڑ کو ڈسٹرکٹ موسیٰ خیل سے نکال کر ڈسٹرکٹ بارکھان میں شامل کر دئے گئے ہیں۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ علاقے تاریخی طور پر ان کے ضلع موسیٰ خیل کے حصے ہیں۔ آباد قبائل کے درمیان مختلف قبائلی دشمنیاں بھی ہیں جن سے خون ریزی پیدا ہو سکتی ہے۔ گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ان کے اعتراضات اور تحفظات کو بڑی توجہ اور غور سے سنا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے تحفظات متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے تاکہ اس کا پائیدار حل نکل سکے۔ وفد میں سابق ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان، سردار اسد الزمان شاہ غرشین، سابق صوبائی وزیر مولوی محمد سرور موسیٰ خیل، سردار دلاور خان ایسوٹ، حاجی امیر زمان، ضلع چیئرمین عالم خان، وائس چیئرمین رحمت خان، ملک عید محمد، رحمت خان شموزئی، ملک عطاء محمد چیئرمین یونین کونسل اندرپوڑ شامل تھے ۔
خبر نامہ نمبر 2026/6671
کوئٹہ 4 اگست: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے بلوچستان کے دور افتادہ اضلاع کے عوام کو فضائی سفر کی سہولیات اور خدمات فراہم کرنے پر ساؤتھ ایئر پاکستان کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ صوبے کیلئے قابل اعتماد فضائی رابطے بہت ضروری ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کوئٹہ ٹو ژوب روٹ پر ساؤتھ ائیر پروازیں شروع کرنے، کوئٹہ ٹو سکھر، کوئٹہ ٹو ملتان، ژوب ٹو ملتان اور اسلام آباد تک فضائی رابطے بڑھانے پر زور دیا۔ علاؤہ ازیں کوئتہ ٹو تربت اور گوادر پروازوں میں اضافہ کریں ۔ زمینی سفر میں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہتر ہوائی سفر کی سہولیات و مواقع فراہم کرنے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساؤتھ ائیرلائن پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایئروائس مارشل ریٹائرڈ اعجاز ملک کی قیادت میں ساؤتھ ایئر پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیف کمرشل آفیسر سراج انور قاضی اور ریجنل ہیڈ عبدالستار اچکزئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفد نے گورنر کو ان کے فلائٹ آپریشنز، حفاظتی معیارات، مسافروں کی خدمات اور مستقبل کے توسیعی منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے محفوظ، آرام دہ اور سستی ہوائی سفر کے عزم کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ساؤتھ ایئر لائن کے حکام پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کے مزید اضلاع کو ملانے کیلئے فعال کردار ادا کریں کیونکہ صوبے کی معاشی و سماجی ترقی و خوشحالی کیلئے فضائی رابطوں کو مزید بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ساؤتھ ایئر پاکستان کے وفد نے گورنر کے تعاون کی فراہمی اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ایئر لائن اپنی خدمات کو دیگر بڑے شہروں تک عنقریب وسعت دینے کیلئے کام جاری رکھے گی۔
خبرنامہ نمبر2026/6672
ژوب 4 اگست: ڈپٹی کمشنر ژوب محمد عارف زرکون کی زیرِ صدارت قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہم کے دوران حاصل ہونے والے اہداف، ٹیموں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور آئندہ کی حکمتِ عملی پرتفصیلی غور کیا گیااجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید عالم، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر فرید احمد خان، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈویژنل و ضلعی نمائندوں، محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور پولیو پروگرام سے وابستہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ صحت اور پولیو پروگرام کے ذمہ داران نے دوسرے روز کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں پولیو ٹیمیں مقررہ مائیکرو پلان کے مطابق گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اجلاس میں روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والے اہداف، باقی رہ جانے والے بچوں تک رسائی فیلڈ میں درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر محمد عارف زرکون نے ہدایت کی کہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے اور تمام ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، جذبے اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، عالمی ادارۂ صحت اور دیگر شراکت دار ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں اجلاس میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی، حساس علاقوں میں حفاظتی انتظامات اور مہم کی مؤثر نگرانی کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں موجود تمام ٹیموں کو مکمل تحفظ اور ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مہم بلا تعطل جاری رہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ضلع ژوب میں قومی انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے اور ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر مہم کی پیش رفت کا جائزہ لے کر کسی بھی خامی کو فوری طور پر دور کیا جائے گا۔
خبر نامہ نمبر 2026/6673
کوئٹہ 04اگست:۔وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی مسلسل نگرانی و خصوصی احکامات کے تحت ضلع بھر میں چہلم حضرت امام حسینؓ کے مجالس و جلوس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوگئے۔ضلعی انتظامیہ کے افسران، اہلکاروں اور خصوصی ٹیموں نے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے تمام جلوسوں، مجالس اور روٹس کی مسلسل نگرانی کی۔اسسٹنٹ کمشنر (صدر) محمد یوسف ہاشمی نے اسپیشل مجسٹریٹ کے ہمراہ ہزارہ ٹاؤن میں جلوسوں کی نگرانی کی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) مصور احمد اچکزئی نے سیف سٹی کنٹرول روم سے سیکیورٹی صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کی۔ اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) محمد امیر حمزہ نے اپنی انتظامی ٹیم کے ہمراہ شہر بھر میں مجالس، جلوسوں، داخلی و خارجی راستوں اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ضلعی انتظامیہ نے عوام، علمائے کرام، منتظمینِ مجالس، رضاکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون اور مؤثر انتظامات کے باعث چہلم کے تمام پروگرام خیریت اور پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6674
کوئٹہ 4 اگست: صوبائی وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری خزانہ عارف اچکزئی، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی مجموعی کارکردگی، صوبائی محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے، واجبات کی بروقت وصولی اور ریونیو انتظامات سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اس موقع پر بی آر اے کے آڈٹ یونٹ کو مزید فعال بنانے اور اس کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ تمام کاروباری اداروں، کمپنیوں اور سروس پرووائیڈرز کے ٹیکس معاملات میں شفافیت، احتساب اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں صوبے بھر میں ریکوری کے عمل کو مزید تیز کرنے اور بلوچستان کے سروسز سیکٹر میں ٹیکس نیٹ ورک کو وسعت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں ہوٹل مالکان، صنعتی اداروں، فیکٹریوں اور مختلف ٹھیکیداروں کے ذمے واجب الادا ٹیکس اور دیگر مالی واجبات کی جلد از جلد اور مؤثر وصولی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ صوبائی محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ریکوری اور مانیٹرنگ کا نظام صرف چند شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے پورے بلوچستان تک توسیع دی جائے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت ملے، محصولات میں اضافہ ہو اور ریونیو نظام مزید مؤثر، شفاف اور جامع بنایا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گوادر اور حب جیسے اہم معاشی و صنعتی مراکز میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے دفاتر کو مزید فعال اور مستحکم بنایا جائے تاکہ مقامی سطح پر ٹیکس وصولی، مانیٹرنگ اور ریونیو سے متعلق کارروائیاں بروقت اور مؤثر انداز میں انجام دی جا سکیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ صوبائی حکومت مالیاتی نظم و ضبط، شفاف ٹیکس نظام اور محصولات میں اضافے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ریونیو اہداف کے حصول، ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد، واجبات کی بروقت وصولی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ بلوچستان کو مالی طور پر مزید مستحکم اور خود کفیل بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے کو درپیش تمام انتظامی، مالی اور تکنیکی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے وسائل میں اضافہ، افرادی قوت کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے عملے کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ادارے کی مجموعی استعداد کار میں اضافے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں تاکہ اتھارٹی صوبے میں ریونیو وصولی کے اہداف کے حصول اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھرپور کردار ادا کر سکےوزیر خزانہ نے مزید ہدایت کی کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مؤثر رابطہ کار کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس وصولی کے طریقہ کار کو وقتاً فوقتاً ایف بی آر کے مؤثر اور جدید نظام سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ٹیکس انتظامیہ مزید مضبوط، مربوط اور مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے۔انہوں نے بی آر اے کے افسران اور عملے کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافے پر خصوصی زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انہیں ملک کے معیاری تربیتی اداروں میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے تاکہ ٹیکس چوری اور ٹیکس سے بچنے والے افراد، کاروباری اداروں، صنعتی یونٹس اور دیگر سروس فراہم کنندگان کی مؤثر نشاندہی کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے صوبائی وزیر خزانہ نے مزید ہدایت کی کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے سالانہ ریونیو اہداف کے بروقت اور مؤثر حصول کے لیے ٹیکس اور آڈٹ کے شعبوں میں اعلیٰ صلاحیتوں، تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ادارے کی کارکردگی، استعداد اور ریونیو وصولی کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/6675
تربت4اگست:ـجامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 پر عملدرآمد کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے وی سی سیکرٹریٹ میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، رجسٹرار گنگزار بلوچ، کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد اور شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہناز اسلم نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مختلف پروگراموں کے لیے ایکریڈیٹیشن کے عمل کو مزید تیزکرنے کے علاوہ نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو شامل کرنے سے متعلق کئی اہم فیصلے کیے گئے، تاکہ ان ڈگری پروگرامز میں قومی تعلیمی ترجیحات اور ایچ ای سی کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔اسی تناظر میں شرکاء نے موجودہ نصاب اور تدریسی طریقہ کار کو دورحاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے شروع کئے گئے مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لائبریری ریسورسز، ڈیجیٹل کلاس رومز، آئی ٹی سہولیات اور ایکریڈیٹیشن کونسل کو درکار دستاویزات کے علاوہ سینئر فیکلٹی کی ضرورت کا بھی تفصیل سےجائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وائس چانسلر نے درپیش چیلنجزسے بہتر طور پر نمٹنے، طلبہ کی پریکٹیکم تربیت کے معیار کو بہتر کرنے اور مقامی اسکولوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لئے مکمل تعاون اور رہنمائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے ارکان کو آگاہ کیا کہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کے زیرصدارت جامعہ تربت کے حالیہ سینیٹ اجلاس میں جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 کو بے حد سراہا گیا۔وائس چانسلر نے بتایا کہ سینیٹ ممبران نے اس پلان کو معیاری اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم کے علاوہ بامقصد اور جدید ترین تحقیقی سرگرمیوں کی جانب ایک واضح روڈ میپ قرار دیا۔
اجلاس کے آغاز میں شعبہ تعلیم کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہناز اسلم نے اجلاس کو اپنے شعبے میں موجود وسائل اور درپیش چیلنجز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6676
نصیرآبادڈویژن04اگست:ـ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان کی زیر صدارت ای پی آئی کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، بچوں کی ویکسینیشن مہم اور محکمہ صحت کی ماہانہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، محکمہ صحت کے ضلعی افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کو عوامی مفاد میں جاری طبی خدمات اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگانا محکمہ صحت کی اولین ذمہ داری ہے، ویکسینیشن کے اہداف ہر صورت مکمل کیے جائیں، دور دراز علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6677
ضلع چمن 4اگست:ـڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ضلع چمن میں جاری ای پی آئی (Expanded Programme on Immunization) کی ریفریشر ٹریننگ کا دورہ کیا اور تربیتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے زیرِ تربیت ویکسینیٹروں سے ملاقات کی، ان سے تربیت کے مختلف پہلوؤں، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور فیلڈ میں درپیش مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر ٹریننگ فراہم کرنے والے ماسٹر ٹرینر نے ریفریشر ٹریننگ کے اغراض و مقاصد، نصاب، تدریسی طریقۂ کار اور حفاظتی ٹیکہ جات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ کاری بچوں کو مہلک اور قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے، لہٰذا تمام ویکسینیٹرز اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت، پیشہ ورانہ مہارت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام کو مزید مؤثر، فعال اور عوام دوست بنایا جائے، مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور دور دراز علاقوں تک معیاری ویکسینیشن خدمات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان بچوں کی صحت کے تحفظ اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اور اس مقصد کے حصول میں تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مؤثر رابطے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/6678
ضلع چمن04اگست:ـ شہداء کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی اور شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر ایس پی چمن نے کہا کہ شہداء پولیس کی لازوال قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ بلوچستان پولیس اپنے شہداء کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن معاونت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قیامِ امن کے لیے شہداء کے مشن کو پوری دیانت، بہادری اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی۔
خبر نامہ نمبر 2026/6679
ضلع چمن چار اگست: ـملک بھر کی طرح ضلع چمن میں بھی 4 اگست یومِ شہداء پولیس نہایت عقیدت، وقار اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں پولیس تھانہ سٹی چمن میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں شہداء پولیس کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی، ملکی سلامتی، امن و استحکام اور پولیس فورس کی کامیابی و سربلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ضلع چمن اعتزاز عارف نے پولیس تھانہ سٹی چمن میں قائم یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ اور بچوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی، انہیں تحائف اور نقدی پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان پولیس اپنے شہداء کے خاندانوں کی عزت، فلاح و بہبود اور ہر ممکن معاونت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ بعد ازاں شہداء کی قبروں پر حاضری دی گئی، فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔تقریب میں ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او سرکل چمن اشفاق احمد مغل، ایس ایچ اوز، لائن آفیسر، دفتر کے افسران، پولیس اسٹاف اور دیگر افسران و اہلکاروں نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ضلع چمن اعتزاز عارف نے کہا کہ یومِ شہداء پولیس ہمیں ان عظیم جانبازوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن عزیز، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قیامِ امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء پولیس ہمارا فخر، ہمارا سرمایہ اور ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان پولیس شہداء کے اہلِ خانہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن فلاح و بہبود کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس فورس شہداء کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دیانت، جرات، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی اور ملک و قوم کے امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔







